اوکاڑہ( علی حسین مرزا) تحصیل دیپالپور میں پٹرول پمپس سے پٹرول غائب عوام بے حال۔ وفاقی حکومت نے جب سے تیل کی قیمت کم کی ہے تب سے پیٹرول پمپ منافع خور مافیا کو یہ ہضم نہیں ہورہا لہذا آج دیپالپور کے کئی پٹرول پمپس پر پیٹرول نہیں مل رہا۔ مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ عوام نے باغی ٹی وی کی وساطت سے اجتجاج کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں کمی ہوئی ہے اور مزید پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا کوئی حکومتی اعلان نہیں تو پیٹرول پمپس مالکان کا عوام کو پیٹرول فروخت نہ کرنا بے وجہ ہے۔
Tag: قیمت
-

گوشت بھی عوام کی پہنچ سے دور
قصور
پتوکی حبیب آباد گہلن شیخم اور گردونواح میں عید سے پہلے ہی قصابوں نے لوگوں کی جیبوں پر ڈاکے ڈالنا شروع کر دیا انتظامیہ اور پرائس کنٹرول والوں نے آنکھیں بند کر لیں قصابوں نے من مرضی کے ریٹ لگا لیے کوٸی پوچھنے والہ نہیں پراٸس کنٹرول کمیٹیاں بھی ناکامتفصیلات کے مطابق پتوکی اور اسکے گردونواح میں بڑے گوشت کا سرکاری ریٹ 380 مقرر ہے جبکہ قصاب 450/500 سو روپے تک فروخت کرنے لگے ہیں چھوٹا گوشت 800 سے ایک ہزار روپے میں فروخت کرنے لگے ہیں جبکہ چکن کا ریٹ 280 روپے سے بھی تجاوز کر گیا عوام نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ان قصابوں کیخلاف سخت ایکشن لیا جائے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا مؤثر انتظام کیا جائے
-

اوکاڑہ، پیٹرول کی قیمت میں کمی لیکن کرائے کم نہ ہوسکے
اوکاڑہ(علی حسین مرزا) پیٹرول کی قیمت کم ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے تاحال کم نہ ہوسکے۔ باغی ٹی وی کے سروے کے دوران مختلف شہریوں نے بتایا ہے کہ پہلے پیٹرول 130 روپے فی لیٹر تھا جو کم ہوکر 80 روپے فی لیٹر ہوگیا۔ 50 روپے کی کمی کے باوجود بسوں، ویگنوں، رکشوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے ذرائع کے کرائے کم نہیں کیے جارہے بلکہ ناجائز منافع خوری کا بازار گرم ہے۔ شہریوں کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں کمی رمضان سے پہلے کی گئی لہذا رمضان میں پبلک کو ریلیف ملنا چاہیے تھا جو نہیں مل سکا۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کرائے میں کمی کرائی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
-

انڈوں کی مانگ اور قیمت میں دوڑ
قصور
انڈوں کی قیمت میں پھر اضافہ گھریلوں صارفین کے علاوہ رات کو گھر چلانے کیلئے گرم انڈے بیچنے والے غریب سخت پریشان جبکہ مرغی کے گوشت کے نرخوں میں کمی ہوئی
تفصیلات کے مطابق قصور میں انڈوں کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے پچھلے ماہ انڈے کی قیمت 260 روپیہ فی کریٹ یعنی 30 انڈے تھی جو بڑھ کر 290 فی کریٹ کر دی گئی مگر حالیہ سردی کی لہر کے پیش نظر انڈوں کی مانگ میں اضافے کے ساتھ ہی فی کریٹ 330 روپیہ ہو گئی ہے جس سے عام گھریلوں صارفین کیساتھ رات کو گرم انڈے بیچنے والے غریب افراد کی پریشانی میں شدید اضافہ ہوا ہے کیونکہ اس نئی قیمت کے حساب سے فی انڈہ 11 روپیہ مل رہا ہے جسے ابال کر 15 روپیہ میں فروخت کیا جاتا ہے ابال کر بیچنے میں لکڑی وغیرہ کا خرچ الگ سے ہے
حالانکہ مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں نمایا کمی واقع ہوئی ہے مگر مرغی کے انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے
