Baaghi TV

Tag: لاس اینجلس

  • امریکہ میں تباہ کن آگ،12 ہزار عمارتیں راکھ کا ڈھیر،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    امریکہ میں تباہ کن آگ،12 ہزار عمارتیں راکھ کا ڈھیر،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    امریکی شہر لاس اینجلس میں حالیہ دنوں میں لگی آگ نے تباہی مچا دی ہے اور اب تک یہ دنیا کی سب سے بڑی آتشزدگیوں میں سے ایک بن چکی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، لاس اینجلس میں منگل سے شروع ہونے والی آگ تاحال بے قابو ہے، جس کے نتیجے میں شہر کی 12,000 سے زائد عمارتیں اور مکانات مکمل طور پر جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔حکام نے ابھی تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، تاہم اس تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔ آگ کی شدت اور اس کے پھیلاؤ کے پیش نظر، کم از کم 2 لاکھ افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پیسیفک پےلی سیڈس کا علاقہ خاص طور پر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ہالی وڈ کے بڑے نام اور ارب پتی شخصیات رہائش پذیر ہیں۔ آتشزدگی کے سبب کئی نامور ہالی وڈ سیلبریٹیز جیسے کم کارڈیشن، اپنے لاکھوں ڈالرز مالیت کے گھروں کو چھوڑ کر دیگر محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ اسی دوران، بعض علاقوں میں لوٹ مار کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

    موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکام نے پیلی سیڈس اور ایٹون کے علاقوں میں رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔ فائرفائٹرز نے شدید دباؤ کے باوجود آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں، اور ہوا کا دباؤ کم ہونے پر انہیں کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ریاست کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، گورنر نیوسم نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متاثرہ ریاست کا دورہ کرنے اور حالات کا خود جائزہ لینے کی دعوت دی ہے۔ گورنر نے کہا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، اور انہوں نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ آ کر ان مشکل حالات میں ریاست کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔آگ کے نتیجے میں ہونے والے اس بڑے پیمانے پر نقصان کے بعد شہر کی بازیابی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، اور اس دوران امدادی ٹیموں کی کوششیں اور عوامی تعاون انتہائی ضروری ہو گا۔

    پالیسیڈز فائر جمعہ کی رات مشرق کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا، جس کے بعد لاس اینجلس فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق فائر فائٹرز اب مینڈی وِل کینیئن کے علاقے میں آگ کو قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کپتان ایڈم وینگرپن نے سی این این کو بتایا، "آگ مینڈی وِل کینیئن کے علاقے میں ہے، اس لیے یہ 405 فری وے کے قریب آ رہی ہے۔””ہم نے شام 6 بجے کے قریب ریڈ فلیگ کی حالت سے نکل کر کچھ سکون محسوس کیا تھا، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم ان انتہائی ہوا کی حالت میں نہیں ہوتے، تب بھی آگ بہت تیزی سے اپنی سمت بدل سکتی ہے۔ اور ابھی یہ مشرق کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔”اس مشرق کی طرف بڑھنے سے، فائر فائٹرز اور طیارے بھی اس سمت میں منتقل ہو گئے ہیں۔ کپتان وینگرپن کے مطابق، 10 طیارے مینڈی وِل کینیئن کی طرف بھیجے گئے ہیں اور دو اضافی اسٹرائیک ٹیمیں بھی وہاں پہنچائی گئی ہیں۔

    ریڈ فلیگ وارننگ جو کہ تیز ہواؤں کے لیے جاری کی گئی تھی، آج شام ختم ہو گئی تھی، جس سے امید پیدا ہوئی کہ فائر فائٹرز بڑے آتشزدگیوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ مینڈی وِل کینیئن میں، "اب تک وہاں زیادہ ہوا نہیں ہے”، وینگرپن نے کہا، اور یہ بھی بتایا کہ اس علاقے کی آگ کی وجہ زمین کی بناوٹ ہے، نہ کہ انتہائی تیز ہوائیں۔

    کیلیفورنیا ڈپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن کے مطابق، آئی-405 فری وے پر کئی آف ریمپس بند کر دی گئی ہیں، کیونکہ پالیسیڈز فائر مغرب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ فری وے میٹرو لاس اینجلس کے مغربی حصوں کو آپس میں جوڑنے والا اہم راستہ ہے۔ ان بند ہونے والے آف ریمپس میں گیٹی سینٹر میوزیم جانے والا ریمپ شامل ہے، جو کہ جمعہ کی شام کے دوران ایویکوایشن آرڈر میں آ گیا تھا۔ میوزیم کے عملے نے سی این این کو بتایا کہ وہ صرف ایمرجنسی اسٹاف کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ایک اور آف ریمپ جو اسکیر بال کلچرل سینٹر کی طرف جاتا ہے، وہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اسکیر بال بھی ایک میوزیم اور لاس اینجلس کی اہم ثقافتی جگہ ہے۔

    جمعہ کی رات ایک نیا ایویکوایشن آرڈر جاری کیا گیا، جس میں آئی-405 فری وے کے حصوں اور اینسینو ریزرور پر ایویکوایشن کی ہدایات دی گئیں۔

    پریشان کن بات یہ ہے کہ آگ نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے اور کم از کم 10,000 سے زیادہ جائیدادوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    اب تک کی صورت حال یہ ہے:
    پالیسیڈز فائر: 21,317 ایکڑ، 8% قابو پایا گیا
    ایٹن فائر: 14,117 ایکڑ، 3% قابو پایا گیا
    کینیٹھ فائر: 1,052 ایکڑ، 50% قابو پایا گیا
    ہرسٹ فائر: 771 ایکڑ، 70% قابو پایا گیا
    لِڈیا فائر: 395 ایکڑ، 98% قابو پایا گیا
    آرچر فائر: 19 ایکڑ، 0% قابو پایا گیا
    آگ کی وجہ سے 10,000 سے زیادہ عمارتوں کے نقصان یا تباہ ہونے کا خدشہ ہے، جو ابتدائی تخمینہ ہے اور بڑھ بھی سکتا ہے۔

    کیلیفورنیا کے حکام وفاقی امداد اور ملک بھر سے امدادی ٹیموں کے ساتھ مل کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میکسیکو نے بھی آگ بجھانے والوں اور دیگر عملے کو لاس اینجلس بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ کینیڈا بھی امریکی حکام کے ساتھ اس بات پر بات چیت کر رہا ہے کہ کس طرح مزید مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔اب تک 12,000 سے زیادہ افراد، 1,150 فائر انجن، 60 طیارے اور 143 واٹر ٹینکرز آگ بجھانے کی کارروائیوں میں شریک ہیں۔

    وزیر اعلی کی ہدایت،محکمہ صحت کا چار سال کے منصوبے کا لائحہ عمل پیش

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

  • امریکہ، جنگلات میں آتشزدگی کی وجوہات کا انکشاف

    امریکہ، جنگلات میں آتشزدگی کی وجوہات کا انکشاف

    امریکی ریاست کیلی فورنیا میں حالیہ ایام میں جنگلات میں لگنے والی تباہ کن آگ کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق جنگل میں ہونے والی آتشزدگی کی سب سے اہم وجہ بجلی کی تاروں کا گرنا ہو سکتی ہے، جس کے ساتھ ساتھ وہاں پہلے سے موجود خشک ایندھن نے آگ کو تیز تر پھیلنے کا موقع دیا۔کیلی فورنیا میں آگ کی شدت میں اضافے کا ایک اور اہم عنصر ’’سانتا اینا ونڈز‘‘ کا چلنا ہے۔ یہ خشک اور گرم ہوائیں جو عام طور پر خزاں کے موسم میں چلتی ہیں، اس بار سرمائی مہینوں میں بھی چلیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہواؤں کا وقت تبدیل ہو چکا ہے اور اب یہ شمال مشرق سے آ کر کیلی فورنیا کی سرزمین کو خشک اور گرم بنا دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں شدید خشک سالی کا سامنا ہوتا ہے۔ سانتا اینا ونڈز کی رفتار میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ ہوائیں اب 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلنے لگیں ہیں، جس سے نہ صرف زمین خشک ہو گئی ہے بلکہ آتشزدگی کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

    ایک اور اہم وجہ جس نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی، وہ جنگل میں ایندھن کی بڑی مقدار تھی۔ گزشتہ دو موسموں میں ہونے والی نمی کی وجہ سے بڑی تعداد میں خود رو پودے اگ آئے تھے جو بعد میں شدید گرمی میں خشک ہو گئے، اور ان پودوں کی خشک حالت نے آگ کو بڑھاوا دیا۔ اس کے ساتھ ہی جنگلات میں بجلی کی لائنوں کی موجودگی نے بھی آگ لگنے کی رفتار کو تیز کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمِ سرما میں جنگلات میں لگنے والی آگ زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس موسم میں آگ تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس بار اس آگ کا پھیلاؤ غیر معمولی تھا کیونکہ عام طور پر اس وقت کے دوران کیلی فورنیا میں جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات کم ہوتے ہیں، مگر ان تمام عوامل کے جمع ہونے کے سبب جنگلوں میں آگ لگ گئی اور اس نے شہری علاقوں تک پہنچنا شروع کر دیا۔کیلی فورنیا میں جنگلات کی آتشزدگی کی شدت گزشتہ چار دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2001 کے بعد سے جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب تک تقریباً 60 ہزار چھوٹے بڑے آتشزدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    فائر سائنٹسٹ جون کیلے کا کہنا ہے کہ جنگلات کی آتشزدگی میں انسانوں کے پیدا کردہ عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے اور کیلی فورنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کا سامنا ہے جس کا براہ راست اثر آتشزدگی کے واقعات پر پڑ رہا ہے۔جون کیلے کا کہنا ہے کہ جب آبادی بڑھتی ہے تو بجلی کی فراہمی بڑھانے کے لئے مزید بجلی کی لائنوں کی ضرورت پڑتی ہے، اور یہ لائنیں جنگلات میں آگ لگنے کے امکانات کو بڑھاتی ہیں۔ مائیک فلینیگن، ایک ماہر محقق کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں کے سبب گرنے والی بجلی کی لائنیں جنگلات میں آگ بھڑکانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ 2016 اور 2017 میں کیلی فورنیا میں اسی طرح کی صورتحال پیدا ہوئی تھی جب بجلی کی لائنوں کی وجہ سے تباہ کن جنگلات کی آتشزدگی ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں پیسیفک گیس اینڈ الیکٹرک کمپنی کو 30 ارب ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنا پڑا تھا اور کمپنی دیوالیہ ہو گئی تھی۔یہ واقعات ایک بار پھر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جنگلات کی آتشزدگی کا مسئلہ محض قدرتی نہیں، بلکہ انسانی عوامل بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

    بنی گالہ منتقلی خواہش،حقیقتا ایسا کچھ نہیں،خواجہ آصف

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

  • لاس اینجلس میں  آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟

    لاس اینجلس میں آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟

    لاس اینجلس میں آگ نے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کروا دیا ہے، اور اب تک ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے انخلا کرنا پڑ چکا ہے۔ اس آتشزدگی کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ شہریوں کے لیے انخلا کی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں، اور شہر میں حالات انتہائی سنگین ہو چکے ہیں۔ اس سانحہ کا شکار ہونے والوں میں بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ اور ڈانسر نورا فتیحی بھی شامل ہیں، جنہوں نے خود اپنی انسٹاگرام سٹوری پر اس صورتحال سے آگاہ کیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، نورا فتیحی نے اپنی انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں اور دیگر افراد کو فوری طور پر اپنے علاقے سے نکلنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نورا نے ویڈیو میں کہا: "میں لاس اینجلس میں ہوں اور یہ جنگلاتی آگ واقعی پاگل پن ہے۔ میں نے پہلے کبھی ایسی چیز نہیں دیکھی۔ ہمیں پانچ منٹ پہلے انخلا کا حکم ملا۔ میں نے جلدی سے اپنا سامان پیک کیا اور یہاں سے نکل رہی ہوں۔ میں ایئرپورٹ کے قریب جا رہی ہوں کیونکہ میری آج فلائٹ ہے اور مجھے امید ہے کہ یہ کینسل نہ ہو۔ یہ صورتحال بہت ڈراؤنی ہے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ سب محفوظ رہیں۔”

    نورا فتیحی نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں اس آگ کی شدت کو ظاہر کرتے ہوئے مزید لکھا، "لاس اینجلس کی آگ بہت خطرناک ہے، دعا ہے کہ سب محفوظ رہیں۔”

    اس کے علاوہ، بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ پریانکا چوپڑا نے بھی جنگلاتی آگ کے متاثرین کے لیے اپنی تشویش ظاہر کی ہے اور فائرفائٹرز کی محنت اور قربانیوں کو سراہا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا، "رات بھر محنت کرنے والے فائرفائٹرز کا شکریہ، آپ کی خدمات قابل تعریف ہیں۔”

    لاس اینجلس کی جنگلاتی آگ نے اس وقت شہر کی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے، اور یہ صورتحال نہ صرف شہریوں بلکہ مشہور شخصیات کے لیے بھی پریشانی کا سبب بن چکی ہے۔ انخلا کی ہدایات کے باوجود، اس آگ کی شدت اور پھیلاؤ نے لاکھوں افراد کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے، اور سب دعا گو ہیں کہ اس قدرتی آفت کا خاتمہ جلد ہو تاکہ زندگی معمول پر آ سکے۔

    شہزادہ ولیم کا کیٹ مڈلٹن کی 43ویں سالگرہ پر خصوصی پیغام

    کراچی: ٹریفک حادثات، 4 موٹر سائیکل سوار جاں بحق، شہریوں نے ٹینکر کو آگ لگادی

  • لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر   تباہ

    لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر تباہ

    امریکی شہر لاس اینجلس میں لگی تاریخ کی بدترین آگ نے پورے علاقے میں تباہی مچادی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، اس آگ نے 6 ہزار سے زائد گھروں اور عمارتوں کو مکمل طور پر جل کر راکھ میں تبدیل کر دیا ہے اور 32 ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے ہوئے جنگلات اور وادیاں اجڑ چکی ہیں۔

    یہ آتشزدگی منگل سے شروع ہوئی تھی اور اب تک اس پر قابو پانے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس سانحے میں ہلاک افراد کی اصل تعداد کتنی ہوگی، لیکن آگ کی شدت کے پیش نظر بڑی تعداد میں جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ اس آتشزدگی کے باعث ڈیڑھ لاکھ افراد اپنے گھروں کو چھوڑ کر نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب، شہر کے خالی گھروں میں ڈکیتوں کی جانب سے لوٹ مار کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پولیس نے اب تک 20 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جو گھروں میں لوٹ مار میں ملوث تھے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ خشک اور تیز ہوائیں آگ کی شدت میں مزید اضافے کا سبب بن رہی ہیں، اور اگر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو یہ سانحہ امریکی تاریخ کے بدترین قدرتی آفات میں شامل ہو سکتا ہے۔

    صدر جو بائیڈن کا امدادی اعلان
    امریکی صدر جو بائیڈن نے لاس اینجلس میں آگ سے ہونے والی تباہی کے بعد متاثرہ علاقوں میں امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 6 ماہ تک وفاقی حکومت 100 فیصد اخراجات اٹھائے گی، جن میں متاثرہ علاقوں سے ملبہ ہٹانا، عارضی پناہ گاہوں کا قیام، اور ریسکیو ورکرز کی تنخواہوں کا انتظام شامل ہوگا۔ مزید یہ کہ، صدر بائیڈن نے تعمیراتی کام کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت کا بھی ذکر کیا ہے، جس کے لیے وہ کانگریس سے اپیل کریں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا گورنر کیلیفورنیا سے استعفیٰ کا مطالبہ
    اس دوران، امریکی سیاستدان اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گورنر کیلیفورنیا گیون نیوسم سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاس اینجلس کا خوبصورت ترین علاقے جل کر راکھ ہو گئے ہیں اور اس کی ذمہ داری ڈیموکریٹ گورنر نیوسم پر عائد ہوتی ہے۔

    ہالی وڈ کی مشہور شخصیات کے گھروں کو نقصان
    لاس اینجلس میں لگی آگ کا اثر صرف مقامی رہائشیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس سے ہالی وڈ کی معروف شخصیات کے گھروں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ مشہور اداکارہ اور گلوکارہ پیرس ہلٹن نے انسٹاگرام پر اطلاع دی کہ ان کا مالیبو میں واقع گھر آگ کی زد میں آ کر تباہ ہوگیا ہے۔ اسی طرح، اداکار اسپینسر پراٹ اور ہیڈی مونٹگ نے بھی اپنے گھروں کے جلنے کی خبر دی۔اس کے علاوہ، اداکارہ اینا فیرس کا گھر مکمل طور پر راکھ میں تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ گیت نگار ڈیان وارن نے بھی اپنے تقریباً 30 سال پرانے بیچ ہاؤس کے جلنے کی تصدیق کی۔ فلم "ٹاپ گن میورک” کے اسٹار مائلز ٹیلر اور ان کی اہلیہ کا 75 لاکھ ڈالر مالیت کا گھر بھی اس آگ کی نذر ہو چکا ہے۔

    لاس اینجلس کی اس آگ کی وجہ سے نہ صرف گھروں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ شوبز انڈسٹری کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ متعدد تقریبات منسوخ کر دی گئیں اور شہر کے شمالی علاقوں میں تیز ہواؤں کی وجہ سے پھیلنے والی آگ نے مشہور پیسیفک پیلیسیڈز جیسے علاقے میں مہنگے گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔اس آتشزدگی کی وجہ سے آسکر کی نامزدگیوں کی تاریخ کو بھی آگے بڑھا کر 19 جنوری کر دیا گیا ہے، جبکہ کئی فلموں کے پریمیئرز بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

    لاس اینجلس میں لگی اس تاریخ کی بدترین آگ نے نہ صرف لاکھوں افراد کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے وسیع اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ حکام اور امدادی ادارے اس آتشزدگی پر قابو پانے کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ کی مرکزی حکومت نے فوری امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    26 نومبر احتجاج،24 پی ٹی آئی کارکنان کی ضمانت مسترد

  • کیلیفورنیا میں بارشوں سے سیلابی صورتحال،17 افراد ہلاک

    کیلیفورنیا میں بارشوں سے سیلابی صورتحال،17 افراد ہلاک

    امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں بارشوں سے سیلابی صورتحال کے باعث 17 افراد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق کیلیفورنیا کے کچھ حصوں میں شدید طوفان کی زد میں آنے کے بعد کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور ایک بچہ لاپتہ ہے سیلاب کے باعث درخت اکھڑ گئے ہیں،نیشنل ویدر سروس نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں تک خراب موسم برقرار رہنے کی توقع ہے۔

    نئے مغربی ہواؤں کا سلسلہ، 13 جنوری سے کراچی میں سردی بڑھنے کا امکان

    بارشوں سے لاس اینجلس سمیت مختلف شہر متاثر ہوئے تاہم سانتا باربرا اور مونٹی سیٹو کے شہر سب سے زیادہ متاثر ہوئےدریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے سبب 50 ہزار سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔

    مقامی حکام کے مطابق، کیلیفورنیا کے بیکرز فیلڈ کے شمال میں، ٹولیئر کاؤنٹی میں ایک گرے ہوئے درخت کی وجہ سے متعدد گاڑیوں کے تصادم کے باعث دو موٹر سوار ہلاک ہو گئے

    پیر کے روز، وسطی کیلیفورنیا میں ایک پانچ سالہ لڑکا سیلابی پانی میں بہہ گیا اور لاپتہ ہے کیونکہ پولیس نے بچے کی تلاش "انتہائی موسمی حالات” کی وجہ سے روک دی تھی۔

    بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال کے باعث کئی اہم شاہراہیں بند کردی گئی ہیں، بعض مقامات پر گڑھے پڑ گئےامریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسٹوڈیو سٹی میں تودے گرنے کے حادثات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ڈالرکی قلت سےدالوں کے 6ہزارکنٹینرز بندرگاہوں پر پھنس گئے

    کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم نے پیر کو اعلان کیا کہ حالیہ موسم سرما کے طوفانوں میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعداد "گزشتہ دو سالوں میں جنگل میں لگنے والی آگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔”

    اپنی پریس کانفرنس میں، نیوزوم نے کیلیفورنیا کے رہائشیوں پر زور دیا کہ وہ "ہائیپر چوکس” رہیں کیونکہ سردیوں کے شدید موسم کے کئی دن آگے ہیں۔

    نیوزوم کی درخواست کے بعد، صدر جو بائیڈن نے کیلیفورنیا میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا، جس سے اس آفت سے نمٹنے کے لیے وفاقی تعاون میں توسیع کی گئی ہے-

    ٹریکر PowerOutage.us کے مطابق، منگل کی سہ پہر تک، کیلیفورنیا میں 163,000 سے زیادہ گھرانے اور کاروبار بجلی سے محروم رہے۔

    دوران پرواز مسافر طیارے کا دروازہ کھل،مسافروں میں خوف و ہراس

  • فہد مصطفی فیملی کیساتھ چھٹیاں منانے پہنچے لاس اینجلس

    فہد مصطفی فیملی کیساتھ چھٹیاں منانے پہنچے لاس اینجلس

    فہد مصطفی ان دنوں امریکہ میں اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیوں پر ہیں فہد کے ساتھ ان کی بیوی بچوں کے علاوہ عاصم اظہر اور فیضان شیخ بھی موجود ہیں ،ان سب کا کہنا ہے کہ سارا سال اتنی مصروفیت ہوتی ہے کہ اپنے اور فیملی کے لئے وقت ہی نہیں نکلتا اس لیے ضروری ہے کہ سال میں ایک مرتبہ پر سکون ماحول میں فیملی کے ساتھ یادگار وقت گزارا جائے ۔فہد مصطفی اور ان کے فیملی کے اس ٹوور کی تصاویر دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سب کتنا کوالٹی ٹائم گزار رہے ہیں۔

    فہد مصطفی نہ صرف ایک کامیاب اداکارہیں بلکہ ایک کامیاب ترین پرڈیوسر بھی ہیں،ان کے پروڈکشن ہاﺅس سے بننے والے ڈرامے شائقین خاصے پسند کرتے ہیں۔ ماہرہ خان کے ساتھ عید الاضحی پر ان کی فلم ” قائداعظم زندہ باد“ ریلیز ہو رہی ہے، اس فلم کے پوسٹر کے مطابق فہد پولیس والے کی وردی میں نظر آرہے ہیں فہد کے پرستار ان کو بڑی سکرین پر دیکھنے کےلئے بےتاب ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ یہ فلم تازہ ہوا کا جھوکا ثابت ہو گی ۔فلم کے ڈائریکٹر نبیل قریشہ ہیں جبکہ نبیل قریشی اور فضا علی مرزا نے کہانی لکھی ہے.

  • چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

    لاس اینجلس: زمین پر لائی گئی، چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق چاند کی مٹی کا یہ نمونہ نیل آرمسٹرانگ نے 20 جولائی 1969 کے روز اس وقت جمع کیا تھا کہ جب اس نے چاند پر پہلا قدم رکھا۔ اس لحاظ سے یہ چاند کی مٹی کا تاریخی نمونہ بھی ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    ’’بونہیمز‘‘ (Bonhams) نامی بین الاقوامی نیلام گھر کا دعویٰ ہے کہ یہ چاند کی مٹی کا وہ واحد نمونہ بھی ہے جسے قانونی طور پر نیلام کیا جاسکتا ہے کیونکہ چاند کی مٹی کے وہ تمام نمونے جو امریکی خلاء نورد آج تک زمین پر لائے گئے ہیں، انہیں امریکی ریاست اور عوام کی ملکیت قرار دیا جاتا ہے یعنی ان کی نجی طور پر خرید و فروخت یا نیلامی نہیں کی جاسکتی۔

    البتہ یہ نمونہ اس لحاظ سے مختلف ہے کیونکہ 1969 میں زمین پر لائے جانے کے کچھ سال بعد یہ غائب ہوگیا اور کچھ نامعلوم ہاتھوں سے ہوتا ہوا میکس ایری نامی ایک شخص تک پہنچ گیا وہ ایک نجی خلائی عجائب گھر کا شریک بانی بھی تھا لیکن 2002 میں اسے چوری شدہ نوادرات خریدنے اور بیچنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا اور اس کے پاس موجود تمام اشیاء سرکاری تحویل میں لے لی گئیں۔

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    2015 میں جب یہ چیزیں سرکاری طور پر نیلام کی گئیں تو ان میں چاند کی مٹی کا نمونہ بھی شامل تھا جسے اس کی موجودہ مالکن نینسی لی کارسن نے صرف 995 ڈالر میں وہاں سے خرید لیا اس کے اصلی یا جعلی ہونے کی تصدیق کےلیے نینسی نے یہ نمونہ ’’ناسا‘‘ کو بھجوا دیا، اور ناسا نے یہ کہہ کر اس نمونے کو واپس کرنے سے انکار کردیا کہ یہ ’’امریکی عوام کی ملکیت‘‘ ہے۔

    اس پر نینسی نے ناسا کے خلاف عدالت میں مقدمہ کردیا عدالت نے فیصلہ سنایا کہ نینسی نے یہ نمونہ مکمل طور پر قانونی طریقے سے، اور ’’نیک نیتی کے ساتھ‘‘ خریدا ہے، لہٰذا یہ ان ہی کی ذاتی ملکیت قرار دیا جاتا ہے اپنی اسی غیرمعمولی خاصیت کے باعث، چاند کی مٹی کا یہ نمونہ بہت مہنگے داموں نیلام ہونے کی توقع ہے۔

    بونہیمز کے مطابق، مٹی کے اس نمونے کی نیلامی 13 اپریل 2022 کے روز، امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوگی جبکہ بولی کا آغاز 8 لاکھ ڈالر سے کیا جائے گا۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب