Baaghi TV

Tag: لالی وڈ

  • لالی وڈ اداکارہ اڑتالیس برس کی ہوگئیں

    لالی وڈ اداکارہ اڑتالیس برس کی ہوگئیں

    نوے کی دہائی میں‌پاکستان فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے والی اداکارہ نرما اڑتالیس برس کی ہو گئی ہیں.گزشتہ روز انہوں‌ نے اپنی اڑتالیسویں سالگرہ منائی. اداکارہ نے بطور ماڈل اپنے کیرئیر کی شروعات کی بعد ازاں ٹی وی ڈراموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے. نرما کو بڑی اور چھوٹی سکرین پر یکساں سراہا گیا. نرما کا شمار نوے کی دہائی کی ان اداکارائوں میں‌ہوتا ہے جن کو بہت زیادہ پسند کیا جاتاتھا.نرما کا بولڈ انداز اور ہہترین اداکاری شائقین کا دل جیت لیتی تھی. نرما نے سٹیج ڈراموں‌میں بھی کام کیا لیکن کافی برسوں سے وہ شوبز سے کنارہ کر

    چکی تھیں لیکن چند ماہ پہلے انہوں‌نے شوبز میں دوبارہ واپسی کی اور اس بار انہوں‌نے فلم یا ٹی وی کے کسی پراجیکٹ سے واپسی نہیں‌کی بلکہ انہوں‌نے سٹیج پر واپسی کی ہے ان کا اس وقت ایک سٹیج ڈرامہ چل رہا ہے. ان کے سٹیج کے مداح کافی خوش ہیں کہ انہوں‌نے شوبز میں واپسی کر لی ہے. یاد رہے کہ ان کی پہلی فلم بازیگر تھی اس کے بعد انہوں‌نے ڈریم گرل جیسی سپر ہٹ فلموں‌میں‌کام کیا. ان کا پہلا ڈرامہ رنجش تھا اس کے بعدانہوں دو چاند اور سرکار صاحب و دیگر ڈراموں‌میں کام کیا.نرما نے اپنے وقت کے بہترین ڈائریکٹرز اور ہیروز کے ساتھ کام کیا.نرما کا اصل نام عائشہ جہانگیر تھا اداکار اعجاز درانی نے ان کا نام عائشہ جہانگیر سے تبدیل کرکے نرما رکھ دیا تھا پھر نرما نام ہی شوبز میں ان کی پہچان بنا

  • غیرمعیاری فلموں کی تعداد جتنی بھی ہو انڈسٹری کو فائدہ نہیں ہوتا صنم سعید

    غیرمعیاری فلموں کی تعداد جتنی بھی ہو انڈسٹری کو فائدہ نہیں ہوتا صنم سعید

    اداکارہ صنم سعید جو ٹی وی کی بہترین اداکارہ ہیں انہوں‌ نے فلموں‌ میں بھی کام کیا ہے، ٹی وی پر تو انہیں‌ بہت پذیرائی ملی فلموں میں بھی انہیں‌پذیرائی ملی لیکن اُس طرح‌سے نہیں جس طرح‌ملنی چاہیے تھی. صنم بڑی سکرین پر ایک آدھ پراجیکٹ میں‌ ہی نظر آئیں. کافی عرصے سے صنم سکرین سے غائب ہیں حال ہی میں انہوں‌نے ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا کہ جو بھی فلمیں بنائی جائیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کا فلم انڈسڑی کو فائدہ ہو رہا ہے یا نہیں، ہاں ایک ہزار بھی غیر معیاری فلمیں‌بنا لی جائیں ان کا فلم انڈسٹری کو کسی طور فائدہ نہیں‌ہو گا.

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیشہ فلم کو اس حوالے سے دیکھیں‌ کہ اسکا معیار کیا ہے. اداکارہ نے مزید کہا کہ میں کبھی بھی کسی کے بارے میں‌بات نہیں‌ کرتی کون کیا کررہا ہے اس پر بھی توجہ نہیں دیتی یہی وجہ ہے کہ کوئی مجھ پر سوال نہیں اٹھاتا نہ ہی میرے بارے میں بات کرتاہے اور ویسے بھی میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں اسکو اس چیز میں‌برباد کردوں‌کہ دوسرا کیا کررہا ہے. صنم سعید نے ایک سوال کے جواب میں‌کہا کہ وقت بہت بڑا استاد ہے یہ بہت کچھ سکھا دیتا ہے لیکن اگر کوئی سیکھنا چاہے تو، میں‌بھی وقت سے بہت کچھ سیکھا اور جو وقت سکھاتا ہے اسے انسان کبھی نہیں‌بھولتا. اگر آپ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر جو کام کررہے ہیں اس بارے میں آگاہی حاصل کریں تجربے کریں.

  • سینئر اداکارہ دردانہ رحمن کے اعزاز میں  تقریب

    سینئر اداکارہ دردانہ رحمن کے اعزاز میں تقریب

    گزشتہ روز سینئر اداکارہ دردانہ رحمان کے اعزاز میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا. تقریب کا انعقاد پنجابی کمپلیکس میں کیا گیا. "کلچرل جرنلسٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان” کے زیر اہتمام ہونے والی اس تقریب میں شوبز انڈسٹری سے جڑی نامور شخصیات نے شرکت کی. تقریب میں علی شفقت ،رینا علی،شیزا جہاں،ناصر بیراج، شیر میانداد،صائمہ جہاں،میگھا،ماہم رحمن،عاصمہ لتا،مون پرویز،ساگر خان،احمد نوازاور دوسرے گلوکاروں گائیکی مظاہرہ کیا۔اداکارہ نادیہ علی ،صنم ناز ، سارہ خان ، شاہ رخ ،صنم ناز،حنا خان، الطاف شیرازی اور پپی کلیار نے گیتوں پر پرفارم کیا۔کامیڈین حسن عباس نے اپنے فن کامظاہرہ کیا۔اظہار خیال اور شرکت کرنے والوں میں اداکارشاہد حمید، غلام محی الدین ،سید نور،نشو بیگم ،حامد رانا،راشد

    محمود ،اشرف خان ،خالد بٹ ،امروزیہ ،شیبابٹ،حیدر سلطان ،اچھی خان ،ڈی جی پلاک ڈاکٹر صغریٰ صدف ، ڈائر یکٹر الحمرا نوید بخاری ،الطاف حسین،مسعود بٹ،چودھری اعجاز کامران،محمد پرویز کلیم،شہزاد رفیق،صفدر ملک،ملک بلو،جرار رضوی،جاوید رضا،حیدر راج ملتانی ،خواجہ سراگوری ،آغا قیصر،خلیق احمد ،غفار لہری ،محسن جعفر،ذیڈ اے زلفی اور دیگر شامل تھے۔فلمسٹار دردانہ رحمن کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ سے نوازا گیا. تقریب میں‌بطور مہمان خصوصی شرکت کرنے والوں نے ان کے فن پر بات کی.یاد رہے کہ سینئر فنکاروں کی حوصلہ افزائی کےلئے "کلچرل جرنلسٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان” اس قسم کی تقریبات کا اہتمام کرتی رہتی ہے.اس سے قبل فلم انڈسٹری کی نامور فنکارہ نغمہ بیگم کے ساتھ بھی ایک شام کا اہتمام کیا جا چکا ہے.

  • ووٹ کی طاقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے ثناءفخر

    ووٹ کی طاقت کو تسلیم کیا جانا چاہیے ثناءفخر

    لالی وڈ اداکارہ ثناءفخر کہتی ہیں کہ ووٹ ہی اصل طاقت ہے اس کااستعمال ٹھیک طریقے سے کیاجانا چاہیے اور اسمبلیوں میں ہر طبقے کی نمائندگی کرنے والا شخص ہونا چاہیے تاکہ ہر شعبے کے دیرینہ مسائل حل ہوں۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ جمہوری معاشروں میں ہمیشہ ایسے ہوتا ہے کہ عوام اپنے نمائندوں کو خود سلیکٹ کرتی ہے. ثناء نے کہا کہ عوام میں اب بہت حد تک شعور بیدار ہو چکا ہے اور شعور کو بیدار کرنے میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے.ہمارے ہاں لوگ بہت جذباتی ہیں وہ آج بھی ذات برادریوں کے نام پر ووٹ دیتے ہیں ان کے بڑے جن کو پسند کرتے تھے وہ بھی انہی کو پسند کرتے ہیں اور انہی کو

    ووٹ دیتے ہیں اور ذات برادری کو تو خاص کر بہت اہمیت دیتے ہیں. لیکن ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ووٹ ایک بہت بڑی طاقت ہے جس کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے.اور ایسے لوگوں کا اتنخاب کیا جانا چاہیے جو تعلیم یافتہ ہوں اور جنہیں قوم کے مسائل کا ادراک ہو اپنے علاقے کے مسائل کا علم ہو.ثناء کا کہنا ہےکہ حکومت کی ترجیحات تعلیم کا شعبہ ہر حال میں‌ہونا چاہیے پڑھے لکھے لوگوں کا ملک کی ترقی میں بہت اہم کردار ہو تا ہے . .یاد رہے کہ ثناء فخر نوے کی دہائی میں لالی وڈ میں قدم رکھا ان کریڈٹ پر سپر ہٹ فلمیں ہیں، ثناء فیشن آئی کون کے طور بھی جانی چایتی ہیں، آج کل ٹی وی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں.

  • درفشاں اور زارا نور کا عالیہ بھٹ کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ پر رد عمل

    درفشاں اور زارا نور کا عالیہ بھٹ کے حوالے سے بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ پر رد عمل

    شوبز سلیبرٹیز کیا کررہی ہیں کیا نہیں اس حوالے ان کے پرستار جانکاری رکھتے ہیں میڈیا یا سوشل میڈیا پر کوئی غلط خبر بھی چلا دی جائے تو وہ ایسے وائرل ہوجاتی ہے کہ متعلقہ سلیبرٹی کو تردیدیں کرنی پڑتی ہے. ایسا ہی ہوا عالیہ بھٹ کے ساتھ انہوں نے اپنے حاملہ ہونے کی خبر جب سوشل میڈیا پر شئیر کی تو مبارکبادوں کے ساتھ من گھڑت باتیں بھی ان کے ساتھ منسوب کی جانے لگیں کبھی ان کے اور کبھی ان کے شوہر رنیبر کے حوالے سے خبریں سننے کو ملتی رہیں.یہاں تک بھارتی میڈیا پر چلا کہ عالیہ بھٹ کے حاملہ ہونے کی وجہ رنبیر انکو لندن لینے جائیں گے عالیہ بھٹ کو اس حوالے سے صفائی دینی پڑی انہوں نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہے.اسی طرح‌ سے بھارتی میڈیا کی جانب سے الٹی سیدھی رپورٹنگ کی جا رہی ہے. یہ تک کہہ دیا گیا کہ بچے کی وجہ سے عالیہ کام سے بریک لیں گی. ہماری

    پاکستانی دو اداکارائوں نے بھارتی میڈیا کے غری ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر سوال اٹھائے اور کہا کہ ہم تو سوچتے تھے کہ ہمارے ہاں ہی ایسا ہوتا ہے لیکن بھارت میں بھی ایسا ہوتا ہے.زارا نو عباس نے کہا کہ کیوں‌لوگوں‌کو لگتا ہے کہ حاملہ ہونے والی لڑکیاں کام نہیں کر سکتیں.اسی طرح درفشاں نے بھی کہا کہ م شادی کر سکتے ہیں اور بچے بھی پیدا کر سکتے ہیں، شادی زندگی کا حصہ ہے، لوگوں کو خواتین کو کیریئر کے اہداف سے متعلق بتانے کی ضرورت نہیں۔ان دونوں اداکارائوں کی اس پوسٹ کو بہت سراہا جا رہا ہے.

  • پروڈیوسر جمشید ظفر کی نمازہ جنازہ ادا کر دی گئی

    پروڈیوسر جمشید ظفر کی نمازہ جنازہ ادا کر دی گئی

    فلمساز جمشید ظفر کے انتقال پر فلم انڈسٹری سے جڑے لوگ صدمے کا شکار ہیں. ان کے انتقال کی خبر ان کے دوستوں پر بجلی بن کر گری. کسی نے یقین کیا اور کسی نے نہیں.مرحوم کا نمازہ جنازہ ادا کرکے ان کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے. ان کے جنازے میں ہدایتکار سید نور، فلمساز مسعود بٹ ، غلام محی الدین ، سہیل ملک ، اعجاز کامران، شہزاد گل ، جان ریمبو، ایوب خاور و دیگر نے شرکت کی. ان کے نماز جنازہ میں صرف فلم انڈسٹری سے جڑے لوگوں نے ہی شرکت نہیں کی بلکہ سیاسی و سماجی حلقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی. ان کے جنازے میں موجود ہر آنکھ اشکبار تھی ہر کسی کا کہنا تھا کہ اس کا جمشید ظفر سے بہت اچھا تعلق تھا وہ بہت عاجز انسان تھے اور بہترین پرڈیوسر بھی تھے.
    یاد رہے کہ گزشتہ روز جمشید ظفر کا انتقال ہو گیا تھا وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے انہوں‌ نے نوے کی دہائی میں بہترین فلمیں‌ بنائیں ایسی فلمیں‌ کہ جنہوں نے فلم انڈسٹری کو مزید پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کیا. جمشید ظفر کے حوالے سے ان کے تمام ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ کام کے دوران بہت ہی نرم رویہ رکھتے تھے کبھی کسی پر غصہ نہیں‌ کرتے تھے اور دوستی تعلق کو نبھانا بھی بہت اچھی طرح‌ جانتے تھے. انہوں نے نہ صرف فلمیں بنائیں بلکہ جو فلمیں بنا رہے تھے ان کو مشکل پڑنے پر ان کی مدد بھی کرتے رہے.

  • جمشید ظفر نے فلم انڈسٹری اور فنکاروں کے لئے بہت کام کیا نشو

    جمشید ظفر نے فلم انڈسٹری اور فنکاروں کے لئے بہت کام کیا نشو

    ماضی کی نامور اداکارہ نشو نے کہا کہ میری جمشید ظفر سے بہت ملاقاتیں ہیں انہوں‌ نے پاکستان فلم انڈسٹری کو جو فلمیں‌ دیں‌ ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ان کا شاندار کام ان کو ہمیشہ زندہ رکھے گا.مجھے ان کے انتقال کی خبر نے نہایت ہی افسردہ کر دیا ہے. نشو نے مزید کہا کہ جمشید ظفر نہایت ہی فرینڈلی تھے، ذمہ دار شخص تھے وہ جانتے تھے کہ کام کیسے کرنا ہے اور اپنی ذمہ داریوں‌ کو کیسے نبھانا ہے. وہ جب پرڈیوسر ایسوسی ایشن کے صدر تھے انہوں نے اپنی ذمہ داریوں‌ کو ذمہ داری سے نبھایا انہوں نے فلم انڈسٹری کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا، ایسے اقدامات کئے کہ جس سے انڈسٹری کو سہارا ملے ان کے قدامات قابل غور بھی ہیں اور قابل فخر بھی ہیں.جمشید ظفر نے ایسی فلمیں بنائیں کہ جنہوں‌ نے فلم انڈسٹری کو سنبھالا دئیے ر کھا.آج ایک ایسا شخص دنیا سے چلا گیا ہے جو پاکستان فلم انڈسٹری کا پلر تھا.ان کا نعم البدل کوئی بھی نہیں‌ہو سکتا.
    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
    میرا ان سے صرف کام کی حد تک تعلق نہیں تھا میرے ان سے فیملی تعلقات تھے میرا بیٹا حمزہ پاشا اور جمشید ظفر کا بیٹا مومن آپس میں‌بہت دوست ہیں ہمارا ایک دوسرے کے گھروں میں بہت زیادہ آنا جانا تھا.ابھی چھ ماہ پہلے ہی تو ان کے بیٹے کی شادی میں‌ ہم شریک ہوئے. صرف ان کے ساتھ کام کرکے بہت کچھ سیکھنے کو نہیں‌ ملتا تھا بلکہ ان کی محفل میں‌ بیٹھ کر بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملتا تھا.

  • مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا جمشید نہیں‌ رہے ریمبو

    مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا جمشید نہیں‌ رہے ریمبو

    اداکار ریمبو کہتے ہیں‌ کہ جمشید ظفر انتقال کر گئے ہیں مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا ہے کوئی کہہ رہا جب کہ جمشید دنیا سے چلے گئے تو دل نہیں‌ مان رہا. وہ بیمار تھے مجھے اتنا تو پتہ تھا لیکن اتنی جلدی ہمیں چھوڑ جائیں گے آئیڈیا نہیں تھا. ریمبو نے کہا کہ ہم نے ایک ساتھ بہت زیادہ کام کیا کچھ نہیں تو دس فلمیں تو ایکساتھ کی ہی تھیں. اُس دور میں بننے والی فلمیں ساری تقریبا باہر کے ملک میں‌ بنتی تھیں ملک میں کم ہی فلمیں بنتی تھیں اور جمشید ظفر نے مجھے جس فلم میں‌ بھی لیا وہ میرے لئے یادگار بن گئی. وہ بہت زیادہ عاجز انسان تھے دھیمہ بولتے تھے عام فلمسازوں والی ان میں‌ کوئی بات ہی نہیں تھی.ان کو ہم نے کبھی یہ کہتے نہیں‌ سنا کہ وقت پر نہ آئے تو یہ کر دوں گا وہ کردوں گا. مجھے یاد ہے کہ میں اگر کبھی لیٹ بھی پہنچتا تھا میں‌ کیا کاسٹ کا کوئی بھی بندہ لیٹ پہنچتا تھا تو جمشید ظفر ڈانٹتے نہیں تھے نہ ہی کہتے تھے کہ تم لوگوں کی وجہ سے میرا نقصان ہو گیا ہے بلکہ وہ تو کہہ دیا کرتے تھے کوئی نہیں ہم کل یہ کام کر لیں گے. کبھی کسی آرٹسٹ کو ڈیٹ دینے میں اوپر نیچے ہو جاتی تو برہم نہیں‌ ہوتے تھے بلکہ کہتے تھے کوئی نہیں‌ مینج کر لیں‌ گے. ہم چند لوگوں‌ کا گروپ تھا جس میں بابر علی ، ریما ، صاحبہ اور میں ہم سب کے ساتھ وہ بہت محبت کرتے تھے.ہر وقت ہنستے مسکراتے رہتے تھے. جمشید ظفر نہایت ہی ملنسار تھے ان کے ساتھ تعلق کام کی حد تک نہیں تھا بلکہ ان کی فیملی کے ساتھ بھی ہمارا تعلق تھا.

  • فلموں‌میں نئے چہرے لائے جائیں ریشم

    فلموں‌میں نئے چہرے لائے جائیں ریشم

    نوے کی دہائی کی باصلاحیت اداکارہ ریشم کہتی ہیں انہیں ابھی تک کوئی پسند نہیں آیا یا کہہ سکتے ہیں کہ ابھی تک انہیں کوئی ایسا نہیں ملا کہ جس کے ساتھ وہ زندگی گزار سکیں۔ اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ابھی فی الحال شادی کا ارادہ نہیں لیکن اگر کوئی پسند آگیا تو شادی کرو لوں گی اور سب کو بتا کر شادی کروں گی۔ اداکارہ چونکہ فلمی ہیروئین ہیں اور فلموں پر گہری نظر رکھتی ہیں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فلموں میں نئے چہرے لانے کی ضرورت ہے لوگ ایک ہی طرح کے چہرے دیکھ دیکھ کر تھک گئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ سینما گھروں کا رخ بھی کم کم کررہے ہیں۔ انٹرنیشنل معیار کی فلمیں بنانے

    کےلئے معیاری کام کرنا ہو گا اور حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اربوں روپے کے فنڈز فراہم کرے تاکہ فلم انڈسٹری اپنے پائوں پر تو کھڑی ہو اور اچھی اور معیاری فلمیں بننے کا سلسلہ شروع ہو. ہمارے ہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے لیکن ایک ہی طرح کے چہرے دیکھ دیکھ کر لوگ بھی اکتاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ریشم نے یہ بھی کہا کہ اس وقت اچھا کام تو ہو رہا ہے لیکن بہتری کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ حکومت اور سرمایہ کار فی الحال سرمایہ لگانے کے لئے تیار نظر نہیں آرہے لیکن اس کے باوجود بہتر کام کرتے رہنے کے سلسلے کو رکنا نہیں چاہیے۔

  • عدالت نے میرا کے نکاح کو درست قرار دینے کے خلاف اپیل خارج کر دی

    عدالت نے میرا کے نکاح کو درست قرار دینے کے خلاف اپیل خارج کر دی

    اداکارہ میرا جو کچھ نہ کچھ ایسا بول دیتی ہیں کہ جس کی وجہ سے انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرا آج تک مانی ہی نہیں کہ ان کا نکاح عتیق الرحمان کے ساتھ کبھی ہوا تھا ان کے اس دعوے کو سیشن عدالت کی طرف سے جھوٹا قرار دیا جا چکا ہے۔ اداکارہ میرا نے سیشن عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی اپیل دائر کرنے کے بعد میرا یا انکا وکیل ایک بار بھی عدالت کے بلانے پر حاضر نہیں ہوا جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے ان کی دائرہ کردہ اپیل کو خارج کر دیا ہے۔فلمسٹار میرا کا کہنا ہے کہ عتیق الرحمان کے ساتھ ان کا نکاح بھی جھوٹا ہے اور جو تصاویر منظر عام پر لائی گئی ہیں وہ بھی جھوٹی ہیں۔یاد رہے کہ عتیق الرحمان نے میڈیا کے ساتھ میرا کے اور اپنے نکاح تک کی تصاویر شئیر کی تھیں

    جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میرا میرون رنگ کی ساڑھی زیب تن کئے ہوئے ہیں اور گلے میں پھولوں کا ہار ہے۔ہم آپ کو یاد دلاتے جائیں کہ سیشن عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اداکارہ ایسا ثبوت پیش نہ کرسکیں جس سے ثابت ہو کہ ان کا نکاح نہیں ہوا۔ایڈیشنل سیشن جج مظہر عباس نےفیصلے میں کہا تھا کہ میرا ایسے شواہد پیش نہیں کر سکیں جس سے ثابت ہو کہ انہوں نے عتیق الرحمان کے ساتھ شادی نہیں کی. دستاویزی شواہد نے بھی ثابت کیا کہ میرا نے عتیق الرحمان کے ساتھ شادی کی تھی یہاں تک کہ نکاح نامے پر میرا کے دستخط کو بھی میرا جھٹلا نہیں سکیں۔