Baaghi TV

Tag: لاڑکانہ

  • پیپلز پارٹی کا مستقبل روشن ہے،آصف زرداری

    پیپلز پارٹی کا مستقبل روشن ہے،آصف زرداری

    نواب شاہ ۔سابق صدر آصف زرداری نے ووٹ کاسٹ کر دیا
    سابق صدر آصف علی زرداری نے پولنگ اسٹیشن گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول ایل بی او ڈی کالونی میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا،آصف علی زرداری کاووٹر لسٹ میں سلسلہ نمبر 41,گھرانہ نمبر 11 ہے ، آصف علی زرداری کی پولنگ اسٹیشن آمد پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے، ووٹ کے وقت آصف علی زرداری کے سیکیورٹی پر مامور عملے نے پولنگ اسٹیشن و پولنگ بوتھ کو اپنے سیکیورٹی حصار میں لے رکھا تھا،سابق صدر آصف علی زرداری لوگوں کے نعروں کا جواب دیتے رہے،پولنگ اسٹیشن کے باہر پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالوں نے سابق صدر آصف علی زرداری کو دیکھ کر جئے بھٹو کے پرجوش نعرے لگائے.

    اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ پیپلز پارٹی کلین سوئپ کرے گی، پیپلز پارٹی کا مستقبل روشن ہے، پیپلز پارٹی نے عوام دوست منشور دیا ہے،پیپلز پارٹی کے سوا کسی جماعت نے عوام دوست منشور نہیں دیا

    قبل ازیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی نوڈیرو کے مچھی مارکیٹ محلہ میں قائم گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول تھری میں ووٹ کاسٹ کر دیا،اس موقع پر بلاول کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام سے درخواست ہے کہ ووٹ کے لئے باہر نکلیں اور اپنا ووٹ کاسٹ کریں،

    واضح رہے کہ عام انتخابات، پاکستان بھر میں پولنگ کا عمل جاری ہے ووٹ حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں، ملک بھر میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں ، پولنگ کا عمل شام پانچ بجے تک جاری رہے گا.

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

    ووٹ صرف اصل شناختی کارڈ پر ہی ڈالا جا سکے گا، الیکشن کمیشن

    نتائج کب تک آئیں گے، اس پر کوئی حتمی وقت دینا ممکن نہیں، الیکشن کمیشن حکام

  • این اے 194، تحریک انصاف کے امیدوار سیف اللہ ابڑو بلاول کے حق میں دستبردار

    این اے 194، تحریک انصاف کے امیدوار سیف اللہ ابڑو بلاول کے حق میں دستبردار

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بلاول ہاؤس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو سے ملاقات ہوئی

    سیف اللہ ابڑو این اے 194 کے انتخابات سے دستبرداری کا اعلان کردیا، سیف ابڑو نے بلاول بھٹو سے ملاقات میں کہا ساتھ مل کر شیر کا راستہ روکیں گے۔بلاول زرداری این اے 194 لاڑکانہ سے امیدوار ہیں اور انکے مدمقابل پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو تھے جو آج بلاول کی حمایت میں دستبردار ہو گئے ہیں.این اے 194 سے جے یو آئی کے رہنما بھی بلاول کے مدمقابل ہیں

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈر کی جانب سے ان کے حق میں دستبردار ہونے پر ردعمل سامنے آیا ہے، بلاول بھٹو زرداری نے ایکس پر اپنی پوسٹ کے ذریعے پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈر سینیٹر سیف اللہ ابڑو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ این اے 194 پر پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر سینیٹر ابڑو کی جانب سے حمایت کرنے پر ان کا مشکور ہوں،ملک بھر میں پی ٹی آئی کارکنان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کو روکنے کا واحد راستہ 8 فروری کو پی پی پی ہے، میں تمام پارٹیوں کے سیاسی کارکنوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنا ووٹ انتھائی سمجھداری سے دیں، اس طرح ہم الیکشن کے دن سرپرائز دے سکتے ہیں،

    دوسری جانب پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ماڈل ٹاؤن میں جامعۃ المنتظر آمدہوئی، بلاول بھٹو زرداری کی جامعۃ المنتظر کے پرنسپل آیت اللہ سید ریاض حسین نجفی سے ملاقات ہوئی،بلاول بھٹو زرداری سے جامعۃ المنتظر کے مہتمم اعلی علامہ محمد افضل حیدری اور ناظم اعلی علامہ سید مرید حسین نقوی کی ملاقات ہوئی،بلاول بھٹو زرداری سے منیر حسین گیلانی، علامہ غلام باقر گھلو اور علامہ سید صفدر حسین نقوی نے بھی ملاقات کی، بلاول بھٹو زرداری نے امیرالمومنین حضرت علی کے یوم ولادت کی مناسبت سے کیک کاٹا، بلاول بھٹو زرداری نے امیرالمومنین حضرت علی کے یوم ولادت کے موقع پر دعائے خیر کی، بلاول بھٹو زرداری نے جامعۃ الکوثر کے سربراہ علامہ شیخ محسن علی نجفی کے بلندی درجات کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی، بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ اسلم گل، امجد ایڈووکیٹ، ذوالفقار علی بدر، فیصل میر، شہلا رضا، خدیجہ حسن، احسن رضوی، چوہدری ریاض، رانا اشعر ودیگر موجود تھے.

     پرانے سیاستدان عوامی خدمت کے بجائے ذات کیلئے سیاست کررہے ہیں

     آصفہ بھٹو زرداری نے کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری پہنچ کر خطاب کیا،

    الیکشن والے دن بلاول کو ووٹ دیں ،اور اس کو کامیاب بنائیں

  • ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،بلاول

    ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے “عوامی معاشی معاہدہ” کا اعلان کردیا

    پی پی پی چیئرمین بلاول زرداری نے بیگم نصرت بھٹو آڈیٹوریم میں “عوامی معاشی معاہدہ” کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے تنظیمی عہدیداروں اور کارکنان کے ساتھ ساتھ میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس انقلابی دستاویز کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں، جو قوم کو درپیش تمام چیلنجز پر قابو پانے اور ملک کو ترقی، خوشحالی اور سربلندی کی راہ پر گامزن کرنے کی چابی ہے۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا کے ذریعے “عوامی معاشی معاہدہ” کا مسودہ پوری قوم کو پڑھ کر سنایا:
    عوامی معاشی معاہدہ
    معاشی بحران
    اس وقت ہمارے ملک میں جو بلند ترین سطح کی مہنگائی اور مکمل اور جزوی بے روزگاری دیکھنے میں آرہی ہے وہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے ۔ غربت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے ۔ ہمارے محنت کش پہلے سے کئی زیادہ کام کر رہے ہیں لیکن ان کی حقیقی آ مدنی کم سے کم تر ہوتی جا رہی ہے ۔ ہمارے شہری اور خصوصی طور پر ایسے شہری جن کا تعلق غریب طبقے سے ہے وہ غیر محفوظ ہیں اور ہمارے نوجوان اپنے موجودہ حالات کے بارے میں شدید عدم تحفظ اور اپنے مستقبل کے بارے میں ا تنی غیر یقینی کیفیت سے کبھی دو چار نہیں رہے ہیں ،غذائی اشیاءکی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے ۔ صرف پانچ سال قبل آٹے کے دس کلو گرام کے بیگ کی قیمت 400 روپے سے کم تھی ۔ آ ج اسی بیگ کی قیمت 1400 روپے سے زیادہ ہوچکی ہے ۔ اسی طرح گزشتہ پانچ سال کے دوران دودھ ، خوردنی تیل اور دالوں کی قیمتوں میں بالترتیب 113 فیصد، 217 فیصد اور 353 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہانہ 50 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لئے بجلی کے نرخوں میں 277 فیصد کا ضافہ ہوا ہے ۔ اسی مدت کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں 195 فیصد اضافہ ہوا ہے ،آٹھ سال قبل ایک غریب گھرانہ جس کی مشترکہ آمدنی ماہانہ 35000 ہوا کرتی تھی وہ اپنی اس انتہائی محدود آ مدنی میں بھی آٹے ، خوردنی تیل ، دودھ اور دوسری غذائی اشیاء کی اچھی خاصی مقدار خرید سکتا تھا تا کہ اس کے خاندان کے تمام افراد پیٹ بھر کر غذا حاصل کر سکیں ، دوکمروں کی مکانیت کے گھر میں رہ سکیں ، بچوں کو اسکول بھیج سکیں ، دکھ، بیماری اور تھوڑی بہت سیر و تفریح کے لئے کچھ رقم پس انداز کرسکیں ۔ آج کی مہنگائی کے دور میں ایک خاندان کو ان تمام بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کم از کم 70000 روپے ماہانہ کی ضرورت ہوگی ۔ اخراجات زندگی میں اس اضافے اور اجرتوں کی حقیقی قدر میں ایسی کمی اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ہے اور یہ سرا سر ناقابل قبول ہے ،مہنگائی ، بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غربت اور مسلسل عدم استحکام اور معاشی ترقی کی گرتی ہوئی شرح کے ماحول میں نئے مواقع روزگار کا پیدا ہونا دشوار تر ہوگیا ہے جس کی وجہ سے غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد غیر رسمی شعبے میں انتہائی کم اجرت والی نوکریوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں ۔ ہماری آ بادی کے دس فیصد غریب ترین افراد صرف 14500 روپے ماہانہ کی قلیل ترین اجرت پر کام کرنے پر مجبورہیں ،آج پاکستان کی آبادی کے 93 ملین افراد جو کہ ہماری کل آبادی کے 40 فیصد ہیں خط غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ اوران میں سے 15 ملین افراد وہ ہیں جو 2018 اور 2023 کے پانچ سال کے د وران خط غربت سے نیچے گئے ہیں ،اگر ایک جانب ہم ایک تاریخی معاشی بحران کا شکار ہوچکے ہیں تو دوسری جانب ہم ایک شدید ترین ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی تباہی کا شکار ہیں جو نہ صرف ہماری معیشت کے لئے ناقابل برداشت مسائل پیدا کر رہی ہے بلکہ ہم میں سے ہر ایک کی زندگی اور خوشحالی کے لئے شدید خطرات پیدا کر رہی ہے ۔ شدید ترین سیلاب یا مہیب خشک سالی جو پہلے 100 سال میں ایک دفعہ وقوع پذیر ہوتے تھے اب اس ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے بار بار وقوع پزیر ہورہے ہیں ۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر واقع براعظم اینٹارٹیکا کے بعد قدرتی برف کا سب سے بڑا ذخیرہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں ہے ۔ سائنسدانوں نے قدرتی برف کے اس ذخیرے کو ‘‘ تیسرے قطب ’’ (Third Pole) کے نام سے تعبیر کیا ہے ۔ پاکستان اس نئے ماحولیاتی بحران کی صف اول میں ہے ۔ سائنسی اندازوں کے مطابق پاکستان میں رہنے والے 24.1 ملین افراد پہلے مرحلے میں تباہ کن سیلابوں اور ان سیلابوں کے بعد کبھی نہ ختم ہونے والی طویل خشک سالی سے دو چار ہونے کے خطرے میں ہیں ۔ جب کہ اس عالمی موسمیاتی بحران کی ذمہ داری پاکستان پر 1 فیصد سے بھی کم ہے ،ہمیں اپنی ترقیاتی ترجیحات میں بڑے پیمانے پر اور مکمل اصلاحات لانی ہوں گی ۔ ہمیں موسمیاتی بحران کا مقابلہ کرنے ، بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت پیدا کرنے اور توانائی کے ذرائع تبدیل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی ہوگی ۔ اور یہ سب ہمیں اس انداز سے کرنا ہوگا جس کے نتیجے میں معاشی ترقی میں سب کی شمولیت ہو ، جس سے ماحول دوست مواقع روزگار پیدا ہوں اور جس سے نہ صرف ماحولیاتی بحران کا مقابلہ ہو سکے بلکہ ہم روز افزوں مہنگائی ، بے روزگاری اور غربت کا بھی مقابلہ کرسکیں ،ہمیں عام محنت کشوں ، خواتین ، مردوں اور نوجوانوں کو مرکزیت دینی ہوگی اور دانش مندی کے ساتھ مزید سرمایہ کاری کرنی ہوگی ۔ صوبوں ، مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کو زیادہ با اختیار بنانا ہو گا اور کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا ۔

    ہمارے 10 وعدے
    اجرت پر کام کرنے والوں کی حقیقی آمدنی کو دوگنا کرنا ۔
    ۔ کم سے کم اجرت میں ہر سال حقیقی معنوں میں 8 فیصد اضافہ کرنا،تاکہ ہم ایک گزارے کے قابل اجرت کی سطح تک پہنچ سکیں ۔
    ۔ سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری میں دو گنا اضافہ کرکے مواقع روزگار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ،تاکہ بے روزگاری اور جزوی بے روزگاری میں کمی کی جاسکے ۔
    ۔ مقامی شہریوں کی ضرورتوں کے مطابق سرمایہ کاری اور مواقع روز گار پیدا کرنا۔
    ۔صوبائی اور مقامی سطحوں پر سماجی اور پیداواری شعبوں میں سرکاری اور نجی شعبے میں اشتراک ( پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ)
    ۔ نجی ملکیت کے مکانوں کی تعمیر میں کثیر اضافے کی بنیاد پر غریب طبقے کے مکانات کی تعمیر کے لئے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ۔
    ۔ زراعت اور چھوٹے کاروبار میں سرمایہ کاری اور اصلا حات کو فروغ دینا ۔

    گرین نیو ڈیل (Green New Deal )
    موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچاؤ

    ۔ سرکاری شعبے ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے شعبے اوربیرونی براہ راست سرمایہ کاری میں ماحولیاتی تبدیلی سے منسلک سرمایہ کاری کی جائے گی ۔
    ۔ سڑکوں اورشاہراہوں ، مواصلات ، صحت ، آبپاشی ، زراعت میں پاکستان کے سرکاری شعبے کے انفرا اسٹرکچر کی سرمایہ کاری میں موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے بچاؤ پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔
    ۔ یہ سرمایہ کاری معاشی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر فروغ ، نئے مواقع روزگار پیدا کرنے اور موسمیا تی تبدیلی کے نقصانات سے محفوظ رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی ۔

    ملکی ذرائع سے پیدا ہونے والی گرین انرجی
    ۔ قابل استطاعت نرخوں پر الیکٹرسٹی تک رسائی ہر شہری کا حق ہے ۔
    ۔ بجلی کے موجودہ نرخوں اور تقسیم کا نظام ناکام ہو چکا ہے اور ہمارے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتا ۔
    ۔ ہم بجلی کے موجودہ بحران سے نجات پانے کے لئے ملکی ذرائع اور قابل تجدید توانائی کی بنیاد پر پائیدار حل مہیا کریں گے ۔
    ۔ ہم اپنے شہریوں کے لئے قومی الیکٹرسٹی گرڈ سے علیحدہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پورے پاکستان میں گرین انرجی پارک تعمیر کرکے ان کی گرین انرجی کی ضروریات پوری کریں گے ۔
    ۔ انرجی کے پیداواری نظام میں تبدیلی کو تیز تر کرنے کے لئے ہم غریب ترین گھرانوں کو ہر ماہ 300 یونٹ تک بجلی مفت فراہم کریں گے ۔ اس پروگرام میں درکار سرمایہ ہم کاربن کریڈٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کریں گے ۔

    تعلیم سب کے لئے
    ۔ ہم اسکول جانے کی عمر تک کے تمام بچوں اور بچیوں کے لئے آئین کی شق 25 A کے الفاط اوراصل روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے سب بچوں کی اسکولوں میں تعلیم کو یقینی بنائیں گے۔
    ۔ ہم گھروں سے زیادہ سے زیادہ 30 منٹ کے سفری فاصلے پر معیاری پرائمری اسکولوں کے قیام اور زیادہ سے زیادہ 60 منٹ کے سفری فاصلے پر معیاری مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کے قیام کو یقینی بنائیں گے ۔
    ۔ دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں رہنے والے طلبا کو تعلیمی وظائف دئیے جائیں گے ۔
    ۔ پاکستان کے ہر ضلع میں کم از کم ایک یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔

    سب کے لئے علاج کی سہولت
    ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی قوم کے لئے اس کے شہریوں کی اچھی صحت سب سے زیادہ اہم ہے ۔ اس مقصد کے لئے ہم سندھ کے صحت کے شعبے میں کی جانے والی پیش رفت کا دائرہ پورے ملک تک وسیع کریں گے ۔
    ۔ ہم پورے ملک میں پرائمری سطح کے علاج معالجے کی مفت سہولتیں اور مفت دوائیں مہیا کریں گے ۔
    ۔ بنیادی صحت کے مراکز کو پوری طرح اور ہمہ وقت موثر کیا جائے گا ۔
    ۔ سرکاری شعبے اور سرکاری نجی شعبے کے اشتراک سے چلنے والے اسپتالوں میں دائمی نوعیت کے امراض ، امراض قلب ، جگر اور گردوں کے امراض کا مفت علاج فراہم کیا جائے گا ۔

    مکان ایک حق
    غریبوں ، بے زمینوں اور محنت کشوں کے لئے رہائشی مکانات کی فراہمی ۔
    ۔ تمام صوبوں اور علاقوں کے دیہی اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں رہائشی سہولتیں مہیا کرنے کی اسکیمیں جن کو پانچ مرلہ اسکیم اور سیلاب متاثرین کے لئے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے کامیاب ماڈل کی طرز پر تعمیر کیا جائے گا ۔
    ۔ ہر بے گھر خاندان کو رہنے کے لئے گھر فراہم کیا جائے گا ۔
    ۔ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والے کم از کم تیس لاکھ مکان تعمیر کئے جائیں گے جن کی قانونی ملکیت خاتون خانہ کے نام ہوگی ۔
    ۔ کچی آبادیوں کو ریگیولرائز کیا جائے گا اور مکینوں کو قانونی ملکیت دی جائے گی ۔
    ۔ کچے کے علاقوں کے رہنے والوں کو قانونی طور پر دی گئی زمینوں کا مالک بنایا جائے گا ۔
    ۔ مکانات کی تعمیر کے لئے قرضوں کی فراہمی ، نچلے متوسط طبقے اور محنت کشوں کے لئے رہن پر رہائشی قرضہ جات کی فراہمی کے لئے سرکاری اور نجی شعبے کو متحرک کیا جائے گا ۔

    غربت مٹاؤ ۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں توسیع
    ۔ ایسے مزیدافراد کو جو موجودہ مہنگا ئی ، بیروزگاری اور غربت کی وجہ سے غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے ہیں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کرنے کے لئے اس پروگرام کو مزید توسیع دی جائے ۔ غربت کی بنیاد پر دی جانے والی براہ راست مالی اعانت کے علاوہ بھی ہم پروگرام میں مندرجہ ذیل جہتوں کا اضافہ کریں گے :
    ۔ وسیلہ حق (WEH) پروگرام جو کہ غریب خواتین کو چھوٹے قرضے فراہم کرے گا تاکہ وہ اپنے چھوٹے کاروبار کو توسیع دے کر غریبی کے چنگل سے باہر نکل سکیں ۔ہم نے صوبہ سندھ میں پیپلز پاورٹی ایلیوئیشن پروگرام سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے اشتراک سے کامیابی کے ساتھ چلایا ہے اور بہت اچھے نتائج حاصل کئے ہیں ۔
    ۔ وسیلہ تعلیم (WET) پروگرام جو کہ خاندان کے ہر مستحق بچے کو خاندان میں مستحق بچوں کی تعداد سے قطع نظر نقد مالی امداد فراہم کرے گا ۔ یہ نقد مالی امداد اس بات سے مشروط ہوگی کہ امداد حاصل کرنے والے بچے کی اسکول میں حاضری کم از کم 70 فیصد ہو ۔
    اسکول کی حاضری کو سہ ماہی بنیاد پر جانچا جائے گا ۔
    ۔ وسیلہ روزگار (WER) پروگرام جو پروگرام میں شامل ہر خاندان کے ایک منتخب باصلاحیت فرد کو پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرے گا ۔ منتخب ہونے والے افراد کو ان کے ذاتی حالات اور ان کے اپنے ضلع میں اپنا روزگار خود پیدا کرنے کے مواقع کے لحاظ سے ایک سال کی پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی ۔
    ۔ وسیلہ صحت (WES) پروگرام جو پروگرام میں رجسٹر ہونے والے خاندانوں کو بیماریوں کے علاج میں ہونے والے کثیر اخراجات سے تحفظ فراہم کرے گا ۔

    خوشحال کسان ۔ خوشحال پاکستان
    زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں زرعی شعبے اور بالخصوص چھوٹے کسانوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنی چاہئیے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہم مندرجہ ذیل اقدامات کریں گے :
    ۔ ہاری کسان کارڈ میں رجسٹریشن کے ذریعے عورتوں اور مردوں ، چھوٹے کسانوں ، کسان اور ہاریوں اور زرعی مزدوروں کو ان کی بحیثیت کسان شناخت دینا ۔
    ۔ مندرجہ ذیل اشیاءکے حصول کے لئے کسان کارڈ کے ذریعے رعایت فراہم کرنا ۔
    ۔ بہترین اقسام کے بیج
    ۔ ڈی اے پی اور یوریا کھاد جیسی ان پٹ ۔
    ۔ فصلوں کی مارکٹنگ ۔
    ۔ زمین کی بہتری اور آبپاشی کے لئے درکار پانی کا انتطام ۔
    ۔ مویشیوں کی افزائش کے سلسلے کی خدمات ۔
    ۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ کے لئے بہترین طریقہ کار کی فراہمی ۔
    ۔ فصلوں کا انشورنس ۔
    ۔ زرعی پیداوار میں تنوع کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے مختلف اجناس کی امدادی قیمتوں کو یقینی بنانا ۔
    ۔ Tenancy اور لیبر قوانین میں اصلاحات، تاکہ زراعت میں مزید سرمایہ کاری ہوسکے اور ترقی کے عمل میں ہر ایک شریک ہوسکے ۔

    مزدور کو محنت کاصلہ
    ۔ ہمارے غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو نہ تو روزگار کا تحفط حاصل ہے اور نہ ہی سماجی تحفظ تک رسائی حاصل ہے ۔ ان تک یہ سہولتیں پہنچانے کے لئے :
    ۔ ان کی محنت کے مطابق اجرت کی ضمانت، جو کہ آگے چل کر سب کو گزارے کے قابل اجرت فراہم کرسکے ۔
    ۔ مزدور کارڈ میں رجسٹریشن کے ذریعے مزدوروں کو جن میں غیر رسمی شعبے کے مزدور ، خود روزگار حاصل کرنے والے مزدور اور زرعی مزدور شامل ہوں سماجی تحفظ فراہم کرنا جس کے تحت وہ:
    ۔ اپنے بچوں کی اسکول کی فیسیں ادا کرسکیں گے ۔
    ۔ اپنے لئے اور اپنے افراد خاندان کے لئے ہیلتھ انشورنس حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ اولڈ ایج بینیفٹ حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ معذوری کے بینیفٹ حاصل کرسکیں گے ۔

    جوان مستقبل
    دنیا بھر میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں نوجوانوں کی تعداد کا تناسب سب سے زیادہ ہے ۔ آ بادی کے اس تناسب کو کام میں لانے اور ملک کی ورک فورس میں ان کی بلا رکاوٹ شمولیت کے لئے ہم نوجوان کارڈ (Youth Card) متعارف کروائیں گے جس کے ذریعے ؛
    ۔ تعلیم یافتہ ، مستحق نوجوان مرد اور خواتین ملازمت حاصل کرنے کی مدت میں ایک سال تک وظیفہ حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے قرضے حاصل کرسکیں گے ۔
    ۔ نجی اور سرکاری شعبے میں انٹرن شپ اور تربیتی ملازمتوں کے لئے روابط قائم کرسکیں گے ۔
    ۔ تمام شعبوں میں نوجوانوں کی قیادت میں نئے کاروبار کا آغاز کرسکیں گے جس کے لئے ہم ضروری انفارمیشن ٹیکنالوجی کا انفرا اسٹرکچر مہیا کریں گے تاکہ نوجوان ملک بھر میں تیز ترین رابطے قائم کرسکیں ۔
    پورے ملک میں یوتھ سینٹر قائم کئے جائیں گے تاکہ لائبریریوں اور ڈیجیٹل لائیبریریوں تک مفتWiFiکے ذریعے رسائی ہوسکے ۔ ان مراکز میں کھیلوں ، ثقافتی سرگرمیوں ، تفریحی سرگرمیوں ، پیشہ ورانہ تربیت ، صلاحیتوں اور مختلف زبانیں سیکھنے کی کلاسیں ، کیریر اور ملازمتوں کے حصول میں سپورٹ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔

    بھوک مٹاؤ
    غذائی عدم تحفظ سے نمٹنے کے لئے ہمارا عزم ہے کہ ہم رعایتی قیمتوں پر صحت بخش غذائی اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہم غذائی اشیاءکی اندرون ملک پیداوار میں اضافہ کریں گے ، مقامی پروڈیوسر کو سبسڈی فراہم کریں گے اور خواتین کو ان کے اپنے کاروبار کے ذریعے مارکٹ معیشت سے منسلک کریں گے ۔
    اس کے علاوہ ہم :
    ۔ انسانی حقوق کی بنیاد پر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے غذائی حقوق کا قانون منظور کروائیں گے ۔ اس قانون کے تحت ہر مستحق خاندان رعایتی قیمتوں پر ضرورت کی غذائی اشیاءخرید سکے گا ۔
    ۔ ہم حاملہ اور پہلی بار کی زچگی کی خواتین کے لئے 1000 دنوں کی مدت پر مشتمل صحت بخش غذائی پروگرام متعارف کروائیں گے تاکہ سٹنٹنگ (stunting ) ، ویسٹنگ (wasting) اور کم عمر بچوں کی اموات کی شرح میں کمی لائی جا سکے ۔
    ۔ تمام اسکول جانے والے بچوں کو مفت کھانا فراہم کریں گے ۔

    یہ سب ہم کس طرح سر انجام دیں گے ؟
    PTI , PML (N) اور مشرف دور کی کھپت (consumption) میں اضافہ کرکے معاشی ترقی حاصل کرنے کی حکمت عملی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے تناسب کو دنیا میں سب سے کم سطح پر لاکھڑا کیا ہے اور آج ہم اپنے آپ کو مہنگائی ، بیروزگاری ، غربت اور ماحولیاتی تبدیلی کے شدید ترین بحرانوں کی زد میں پاتے ہیں ۔
    اس کے علاوہ سرکاری شعبے میں سرمایہ کاری شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور کے 12 فیصد کی بلند سطح سے گر کر2023 میں صرف 2 فیصد کی سطح تک آچکی ہے ۔
    سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے ہم طویل مدت کی پائیدار اور مشترکہ ترقی کے سفر کا آغاز کریں گے جو پاکستانی نوجوانوں کے لئے روزگار کے بےشمار نئے مواقع پیدا کرے گا ۔ سرمایہ کاری کے ہمارے منصوبوں کی دو جہتیں ہوں گی ۔ ایک جانب تو ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کے دور کا نیا آغاز کریں گے جس کا کامیاب تجربہ ہم سندھ میں پہلے ہی کر چکے ہیں ۔ دوسری جانب ہم موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے تبدیل شدہ حکمت عملی کے منصوبوں میں بہت بڑی سرمایہ کاری کریں گے ۔ہم عوامی میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کے لئے درکار مالی وسائل کو حاصل کرنے کے لئےکئی طریقے عمل میں لائیں گے ۔۔ ہم وفاق میں اٹھارویں ترمیم کے باوجود 17 نئی قائم کی جانے والی وزارتوں کو ختم کرکے 328 بلین سے زیادہ رقم ہر سال بچائیں گے ۔ ہم اشرافیہ کو دی جانے والی بے مقصد سبسیڈیز کو ختم کریں گے ۔ اس وقت ان سبسیدیز کے ذریعے اشرافیہ کو ہر سال 1500 بلین کا فائدہ پہنچایا جارہا ہے ۔ یہ پس انداز کی ہوئی رقومات عوام کو سماجی تحفظ فراہم کرنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے عوام دوست منصوبوں پر خرچ ہوں گی ۔ زراعت اور مکانات کی تعمیر کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرکے ہم پاکستان کی ترقیاتی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں لائیں گے جس میں موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے والے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کو ترجیح دی جائے گی جس کے بعد ہم بین الاقوامی طور پر موسمیاتی تبدیلی سے مقابلے پر خرچ کی جانے والی رقومات سے زیادہ حصہ حاصل کرسکیں گے ۔ ان رقومات میں COP 27 میں متعارف کیا جانے والا Loss and Damage Fund اور مزید کئی دوسرے رعائتی نرخوں پر دئیے جانے والے قرض اور کاربن کریڈٹ شامل ہیں ۔ ملک میں سرمایہ کاری اور سماجی تحفظ کے نظام کو پائیدار طور پر ترقی دینے کے لئے ضروری ہے کہ ریونیو میں اضافہ کیا جائے ۔ دو دہائیوں پر مشتمل ریونیو کی وصولی میں تنزل اس بات کا متقاضی ہے کہ ریونیو جمع کرنے کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں ۔ تنزلی کے اس دور میں ہمیں صرف ایک روشن مثال ملتی ہے اور وہ صوبائی سطح پر ریونیو بورڈ تشکیل دینے کی پالیسی ہے جس میں سندھ کی کارکردگی سب سے بہتر رہی ہے ۔ ہم اشیاء پر وصول کئے جانے والے جنرل سیلز ٹیکس (GST on Goods) کی وصولی کو FBR کے بجائے صوبائی ریونیو بورڈز کے حوالے کریں گے جس سے نہ صرف پاکستان کے ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ اشیاء پر لاگو جنرل سیلز ٹیکس کو یکجا کرنے میں بہتری آئے گی ۔
    ہمارے یہ پروگرام اور یہ وعدے وہ واحد طریقےہیں جن سے ہم نہ صرف اپنے عوام کو مہنگائی ، بیروزگاری اورغربت کے لامتناہی سلسلے سے نجات دلا سکتے ہیں بلکہ موسمیا تی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل سے بھی موثر طور پر نمٹ سکتے ہیں ۔ ہمیں صرف طبقہ بالا کے مفادات کے لئے نہیں بلکہ ہم سب کی اجتماعی فلا ح و بہبود کے لئے اپنے عوام میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی .

    قبل ازیں بھٹو ہاؤس، نوڈیرو میں کارکنان اور عہدیداران کے اعزاز میں پیپلز پارٹی نے ظہرانہ دیا،ظہرانہ میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شرکت کی

    اس موقع پر بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسی جگہ کھڑا ہے جہاں ایک جانب معاشی بحران ہے تو دوسری جانب معاشرتی اور سیاسی بحران، جبکہ امن وامان کی صورتحال کے اثرات پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔اس وقت کسی کو کوئی فکر نہیں ہے کہ پاکستان کے عوام کتنی مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔اس بار ہم انشاء ﷲ ملک کو بچائیں گے، 8 فروری کو پاکستان کے عوام ایک نئی سوچ چنیں گے۔ ایک ایسی سوچ جو پورے پاکستان کو متحد کرکے نہ صرف ان تمام مسائل کا مقابلہ کرے گی بلکہ اس میں فتح بھی حاصل کرے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی اور دوسری سیاسی جماعتوں میں فرق یہ ہے کہ اگر ہم جدوجہد، قربانی اور خدمت کرتے ہیں تو عوام کیلئے کرتے ہیں جبکہ دوسرے سیاست دان صرف اور صرف اپنے لیئے سوچتے اور اپنے لیئے ہی کام کرتے ہیں

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عوام ساتھ دیں گے تو میں ملک کا نوجوان وزیر اعظم بنوں گا،ہم کابل جا کر چائے پی رہے تھے، ہم نے سوچا ہی نہیں پاکستان کو اس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا،کسی کو احساس نہیں کہ پاکستان کے عوام کتنی مشکل میں ہیں، انکو اندازہ نہیں اسلام آباد میں کئے گئے فیصلوں کا اثر کیا ہوتا ہے، اندازہ نہیں کہ انکے فیصلوں کی وجہ سے جو تاریخی مہنگائی، بے روزگاری، غربت اسوقت پاکستان میں ہے اسکا بوجھ ہر پاکستانی اٹھا رہا ہے، ہر پاکستانی تکلیف محسوس کر رہا ہے، غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے، امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان کی تاریخ میں جتنا آج معاشی بحران ہے اتنا پہلے کبھی نہیں تھا،اگر ایک شخص کو چوتھی بار مسلط کیا گیا تو عوام نقصان اٹھائیں گے،پیپلزپارٹی جمہوریت پریقین رکھتی ہے سازش ہورہی تھی ایک بار پھرون یونٹ قائم کیاجائے،ہم نے مل کے اس سازش کوناکام بنایا،ہم نےان تمام قوتوں کامقابلہ کیاجوعوام کےحق پرڈاکہ مارناچاہتی تھیں، سیلکٹڈ راج کو ہم نے پوری دنیا کے سامنے ایکسپوز کیا، تب سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی کی جدوجہد کر رہی ہے، پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، ہم نے تمام قوتوں کا مقابلہ کیا جو عوام کے حق پر ڈاکہ مارنے جا رہے تھے، ہم نے سازشوں کو ناکام بنایا ،آمرانہ دور میں پیپلز پارٹی ڈٹ کر کھڑی رہی، ہم نے امیر المومنین بننے کی سازش ناکام کی، جو سیلکٹڈ دور تھا اسکا بھی مقابلہ کیا، پیپلز پارٹی کے جیالوں نے مقابلہ کیا،

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

  • ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،بلاول

    ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پرانے سیاست دان آج بھی نفرت کی سیاست کر رہے ہیں

    بلاول بھٹو زرداری نے ضلع قمبر شہدادکوٹ کی تحصیل میروخان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستان میں وسائل موجود ہیں، مگر مشکل فیصلے لینے پڑیں گے، اٹھارہویں ترمیم کے بعد تقریبا 17 وزارتیں ہیں جو چل رہی ہیں جو کام نہیں کرتی، وفاق میں 17 وزارتیں بند کرنے سے سالانہ تین سو ارب بچا سکتے ہیں،یہ پیسہ پاکستان کے عوام پر خرچ کریں، سولر کے ذریعے بجلی مفت دیں،مزدور کارڈ کے ذریعے پیسے دیں تو مزدور کو تحفظ ملے گا،میں خود یہاں سے الیکشن لڑ رہا ہوں، جو بھی سیلاب آیا اس میں سب سے زیادہ متاثر علاقہ سندھ کا ہوتا ہے، صحت، انفراسٹرکچر، زراعت، گھر سب تباہ ہوجاتے ہیں، فلڈ روکنے کے لئے جو بند بنائے تھے، اس سیلاب میں پانی اس لیول تک پہنچا اب اسکو ڈبل کریں گے، قدرتی آفت بتا کر نہیں آتی، انفراسٹرکچر تباہ ہو جاتا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کام نہیں ہوا، کام کرتے ہیں لیکن آفت میں جو نقصان ہوتا اسکے ذمہ دار ہم نہیں، ہمیں ان کاموں کو ترجیح دینی ہو گی، حل یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت بنے تا کہ میگا پروجیکٹ مکمل کر لیں، بلدیاتی نظام میں بھی ہم بہتری لانا چاہتے ہیں، ہم نے لاڑکانہ شہر میں بلدیاتی نظام بہتر کیا،لاڑکانہ میں ہر گھر سے کچرہ اٹھایا جاتا ہے، ہم اس منصوبے کو قمبر شہداد پور سمیت سب علاقوں میں لے کر جائیں گے.

    پی ٹی آئی کارکنوں کو عدالت کو الزام دینے کے بجائے اپنے اندر جائزہ لینا چاہئے ،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جس نے نہ صرف کام کیا بلکہ عوام کی نمائندگی کی، قائد عوام نے اپنی زمین غریب کسان کو دی، مزدور کو دی،ن لیگ سیاست نہیں کرنا چاہتی اپنے مخالفین کو پچ سے آوٹ رکھنا چاہتی ہے، ن لیگ کی سیاست جمہوری نہیں رہی، ن لیگ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے،اب مقابلہ تیر اور شیر کا ہے، ہمارا ساتھ دیں،پنجاب میں ہمارے صوبائی امیدواروں کو تیر کے نشان سے محروم رکھا، چیف جسٹس چاہتے تو سیاسی فیصلہ دے سکتے تھے مگر انہوں نے روایت نہیں توڑی قاضی فائز عیسیٰ جب سے چیف جسٹس آف پاکستان بنے ہیں قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے فیصلے دیتے ہیں ،پی ٹی آئی کارکنوں کو عدالت کو الزام دینے کے بجائے اپنے اندر جائزہ لینا چاہئے ،پی ٹی آئی کے وکلا نے عدالت کو انٹراپارٹی الیکشن اور ارکان کو نکالنے کے ثبوت نہیں دیئے ،پی ٹی آئی کا عدالت پر سارا ملبہ ڈالنا ناانصافی ہے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ ایسی کوئی قوت نہیں جو الیکشن کو ملتوی کرنا چاہے گی ، 18 جنوری کو دادو اور نوشہرو فیروز میں جلسہ کروں گا، 19 جنوری کو رحیم یارخان میں ہمارا جلسہ ہوگا،سازشوں کو ناکام بنائیں گے اور وفاق میں بھی حکومت بنائیں گے.

    پیپلز پارٹی اگلی حکومت بناکرانشاء ﷲ 10 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کرے گی،بلاول
    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نےضلع قمبر شہدادکوٹ کی تحصیل میروخان میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اگلی حکومت بناکرانشاء ﷲ 10 نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کرے گی، ہم عوام کے ساتھ ملکر ایک ایسا عوامی بجٹ لائیں گے جس سے عوامی مسائل حل ممکن ہوگا۔بلاول زرداری کا کہنا تھا میں آپکا شکرگزار ہوں، 2008 سے لے کر آج تک پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا، شہید محترم بینظیر بھٹو کے لوگوں کا ساتھ دیا،میں نے فیصلہ لیا ہے کہ قمبر شہداد کوٹ سے میں نے خود الیکشن لڑنا ہے تا کہ میں خود عوام کی ذمہ داری لے سکوں اور انکا خیال کروں،ہم ملکر محنت کریں گے، آپ میرے نمائندے بن کر عوام کی خدمت کرتے رہیں، میرے اور عوام کے مابین ایک پل کا کردار ادا کرنا ہے، میرا پیغام عوام تک اور عوام کا پیغام مجھ تک پہنچانا ہے، مسائل بتائیں تا کہ حل نکال سکیں، میں چاہتا ہوں کہ جس طرح قائد عوام کے ساتھ کام کیامیرے ساتھ بھی کام کریں،کل پیپلز پارٹی کا عوامی معاہدہ کا لاڑکانہ میں فنکشن کر رہا ہوں، اس میں تفصیلا منشور ،ایجنڈہ بیان کروں گا،پیپلز پارٹی کا منشور گھر گھر لے کر جانا ہے اور عوام کو بتانا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں آئی تو عوام کی امیدوں پر پورا اتریں گے.

    بلاول نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کر دیا

    بلاول بھٹو صاحب چاہتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر اقتدار میں بٹھا دیا جائے

    عمران خان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ افسوسناک تھا،بلاول بھٹو

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    آج بھی کچھ قوتیں نہیں چاہتیں ذوالفقار بھٹو کو انصاف ملے،بلاول

    جو شخص تین بار فیل ہوا وہ چوتھی بار کیا تیر مارے کا ،بلاول بھٹو کا نواز شریف پر وار

    ہمارا مقابلہ سیاستدانوں سے نہیں بلکہ مہنگائی بھوک اور بے روزگاری سے ہیں،بلاول بھٹو

    بلاول بھٹو زرداری کی گڑھی خدا بخش میں شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گڑھی خدا بخش میں شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری دی،بلاول کے ہمراہ پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے بھی شہدائے جمہوریت کے مزارات پر حاضری دی، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے مزار پر فاتحہ خوانی کی، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مزار پر پھول چڑھائے،بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کے مزار پر بھی حاضری دی،بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہید میر مرتضی بھٹو اور شہید میر شاہنواز بھٹو کے مزارات پر بھی پھول چڑھائے، بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور نے شہدائے جمہوریت کے مزارات پر ملکی سلامتی اور معاشی استحکام کے لئے دعائیں کیں.

    نواز شریف پر مقدر کی دیوی مہربان،راستہ صاف،الیکشن،عمران خان اور مخبریاں

    پیپلز پارٹی کی ایک کارنر میٹنگ میں اپنے ہی جیالوں کو دھمکی

    سمیرا ملک نے آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا

    عام انتخابات، آصفہ انتخابی مہم چلانے کے لئے میدان میں آ گئیں

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    عام انتخابات، پاکستان میں موروثی سیاست کا خاتمہ نہ ہو سکا،

    bilawal

  • چائنیز کمپنی کے اراکین کی ریکی کرنیوالا دہشتگرد لاڑکانہ سے گرفتار

    چائنیز کمپنی کے اراکین کی ریکی کرنیوالا دہشتگرد لاڑکانہ سے گرفتار

    سی ٹی ڈی کی لاڑکانہ میں کاروائی،نوڈیرو روڈ پر ریڈیو اسٹیشن کے قریب سے کالعدم تنظیم کا سرگرم کارکن گرفتار کر لیا گیا

    ملزم کی شناخت نور حسین عرف لطیف ٹالانی ڈومکی کے طور پر ہوئی، ملزم کے پاس سے پانچ ڈیٹونیٹرز، میٹر وائر اور چار سو گرام بارودی مواد برآمد کیا گیا،ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم بلوچ ری پبلک گارڈ (بی آر جی) سے ہے، ملزم کے خلاف سی ٹی ڈی تھانہ پر مقدمہ درج کر لیا گیا،دوران تحقیقات ملزم کی نشاندہی پر دیگر ملزمان کے خلاف آپریشن کی تیاریاں جاری ہیں، سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ملزم اہم شخصیات کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، ملزم بلوچ ری پبلکن گارڈ سربراہ سے رابطے میں تھا، ملزم کا گروپ بیرون ملک بیٹھ کر بلوچستان اور سندھ میں ٹارگیٹ کلنگ، بم دھماکوں اور تخریب کاری کے متعدد واقعات میں ملوث ہے،

    گرفتار ملزم نے لاڑکانہ میں صفائی کرنے والی چائینیز کمپنی گینسو کے چائنیز اراکین کی مکمل ریکی کر رکھی تھی ،ملزم تین ماہ سے لاڑکانہ میں رہائش پذیر چائنیز کی ریکی کرتا رہا ،ملزم کو کارروائی کرنے سے پہلے گرفتار کر لیا گیا ،گرفتار ملزم 2018 میں ڈی سی چوک ڈیرا مراد جمالی موٹر سائیکل میں آئی ای ڈی نصب کر کے دھماکہ کر چکا ہے،ڈیرہ مراد جمالی دھماکے میں ملزم کے ساتھ دو دیگر ساتھی بھی موجود تھے ،ملزم 26 آگست 2018 کو ایف سی چیک پوسٹ مٹھڑی ایریا بلوچستان پر راکیٹ لانچر سے بھی حملہ کر چکا ہے ،ملزم نے ٹھیڑی بلوچستان روڈ کے ٹھیکیدار کو مارنے کے لیے مائین بم بھی مار کر شہری کو زخمی کر چکا ہے

    آڈیو لیک، کمیٹی تشکیل ، سات روز میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    آڈیو لیک،عمران خان کیخلاف سخت کاروائی کی قرارداد اسمبلی میں جمع

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

  • پودے لگانے کے نام پرکروڑوں روپے خرچ،گراؤنڈ پر کچھ نہیں،عدالت

    پودے لگانے کے نام پرکروڑوں روپے خرچ،گراؤنڈ پر کچھ نہیں،عدالت

    سندھ ہائیکورٹ میں ماحول کی بہتری کیلئے شجرکاری مہم شروع کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل صاحب حکومت نے لاڑکانہ میں شجرکاری مہم شروع کی تھی لاڑکانہ میں شجرکاری مہم میں نیم کے لاکھوں پودے لگانے کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے اب وہاں گراؤنڈ پر کچھ بھی نہیں ہے ،عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ نئی شجرکاری مہم پر آپ کو اندازہ ہے کہ کتنا خرچہ ہو سکتا ہے؟

    دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا اب شجرکاری مہم عدالت شروع کرائے، مچھر مار سپرے بھی عدالت کرائے؟ عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اتھارٹی کون ہے،عدلت نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو متعلقہ سیکرٹری سے رجوع کرنا چاہئے،

    سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسلام آباد میں گورنر بلوچستان کے سکواڈ کی گاڑی کا چالان کروا دیا ۔

    صحافیوں کو ہراساں کرنے کیخلاف ازخود نوٹس کیس،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    پولیس ملزمان کی ویڈیو کیوں نہیں بناتی؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا اظہار برہمی

    درخواست گزار مرتضیٰ کھوڑو نے کہا کہ میں نے چیف سیکرٹری سندھ کو بھی خط لکھا ہے چیف سیکرٹری کی جانب سے تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا،عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ آپ میئر کراچی کے پاس جائیں ،درخواست گزار نے عدالت میں کہا کہ چیف سیکرٹری، میئر کراچی کو ہدایت جاری کی جائیں کہ درخت لگائے جائیں عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی

  • جھوٹے وعدے نہیں کرتے،جو کہتے ہیں وہ پورا کرتے ہیں، بلاول

    جھوٹے وعدے نہیں کرتے،جو کہتے ہیں وہ پورا کرتے ہیں، بلاول

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نوجوانوں کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ نوجوان ہیں، ہمارے نوجوان ملک کے بھتر مستقبل کی ضمانت ہیں.

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان ہر چیلنج کا مقابلہ اور ہر شعبے میں قیادت کے لیے پرعزم ہیں،اب پاکستان کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکے گا،پورا یقین ہے، نوجوان نسل خوشحال، مضبوط اور ترقی پسند پاکستان کی تعمیر کے لیے ہر شعبے اور محاذ پر قیادت کی صلاحیت رکھتی ہے،پاکستان ایک خوش نصیب ملک ہے کہ اس کی 63 فیصد سے زائد آبادی 15 سے 33 سال کی عمر پر مشتمل ہے،پیپلز پارٹی نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ترقی اور خوشحالی کے لیے بروئے کار لانے اور انہیں مواقع دلوانے کے لیے کوئی موقع نہیں گنوایا،قائدِ عوام شہید بھٹو نے اپنے دورِ وزارتِ اعظمیٰ میں نوجوانوں کو جتنی نوکریاں دیں، اس سے قبل کبھی ایسا نہیں ہوا تھا

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ قائدِ عوام نے پاکستانی نوجواںوں کی ایک بڑی تعداد کو دوست ممالک میں بھی روزگار دلوایا تھا،شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے متعلق تو زبان زد عام تھا کہ "بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی،نوجوانوں کو گذشتہ تین دہائیوں میں آخری بار سب سے زیادہ نوکریاں اور روزگار کے مواقع صدر آصف علی زرداری کی زیرِ قیادت عوامی حکومت میں ملے،پیپلز پارٹی آج کے نوجوانوں کو درپیش مسائل اور مشکلاتوں سے مکمل طور آگاہ ہے،نوجوانوں کو تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کی بلاامتیاز فراہمی پاکستان پیپلز پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے نوجوان مایوس نہ ہوں، ہم سب مل جل کر محنت کریں  گے اور نوجونوں کے لیے معیاری تعلیم و روزگار کو یقینی بنائیں گے،ہم جھوٹے وعدے نہیں کرتے، جو وعدہ کرتے ہیں وہ پورا بھی کرکے دکھاتے ہیں

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

  • بلاول بھٹو کا سیلاب متاثرین کو 20 لاکھ گھر بنا کر دینے کا اعلان

    بلاول بھٹو کا سیلاب متاثرین کو 20 لاکھ گھر بنا کر دینے کا اعلان

    لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین و وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرین کو 20 لاکھ گھر بنا کر دینے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی : لاڑکانہ میں بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرین کو ان کیلئے بنائے گھروں کے مالکانہ حقوق کی اسناد تقسیم کیں اس موقع پر تقریب سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھاکہ سیلاب متاثرین کو 20 لاکھ گھر بناکر دیں گے، ایسےمضبوط گھر بناکردیں گے جنہیں سیلاب سےنقصان نہیں پہنچےگا، متاثرین کوگھروں کے مالکانہ حقوق دلائیں گے اور مالی مدد بھی کریں گے,20 لاکھ گھر بنانے میں وقت لگے گا جس کے گھر کا نقصان ہوا اس کو گھر اور مالکانہ حقوق دیے جائیں گے، ہمارے صوبے سے ایک انقلاب شروع ہورہا ہے، ہاؤسنگ منصوبہ ایسا بنارہےہیں کہ سیلاب آئے تو نقصان نہ ہو۔


    ان کا کہنا تھاکہ آج میں بے حد خوشی محسوس کررہا ہوں کیونکہ سیلاب متاثرین سے ان کے مکانات کی تعمیر اور مالکانہ حقوق کی فراہمی کا جو وعدہ ہم نے کیا تھا، وہ آج پورا ہوا۔ یہ نئے گھر اور مالکانہ حقوق متاثرین کیلئے ایک خوشگوار زندگی کا آغاز ہیں سیلاب متاثرین کو معاشی طور پر مضبوط بنائیں گے اس وقت پورے پاکستان میں معاشی مشکلات ہیں, مہنگائی اور بیروزگاری ہے غربت بڑھتی جارہی ہے اور ان مسائل کا حل پاکستان پیپلز پارٹی کی نظر میں صرف ایک ہی ہے کہ ہم نے عام آدمی, غریبوں کی مدد کرنی ہے.


    بلاول نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھنےوالوں کو اندازہ نہیں کہ عوام کتنے مشکل میں ہیں، قائدعوام نےسکھایا تھا کہ عوام کو روٹی،کپڑا اور مکان دلاناہے، یہ سفر سندھ بھر میں شروع ہورہا ہے، 5 ہزار گھروں کےمالکانہ حقوق دیےجارہے ہیں، اس قسم کے منصوبے بلوچستان، پنجاب اور کےپی کے عوام کو بھی دیں گے، الیکشن جیتنے کے بعد ایسے انقلابی اقدامات کریں گے۔


    بلاول کا کہنا تھاکہ دوسری جماعتیں سمجھتی ہیں کہ وہ امیر کو امیربنائیں گے، جب امیر کو امیر تر بناتےہیں تو وہ اپنا پیسہ بینک اکاؤنٹ میں ڈال کربھول جاتاہے، ہماری اوران کی سوچ میں فرق یہ ہےپیپلزپارٹی عوام دوست منصوبےلاتی ہے، ہم ریاست کا اثاثہ حکومت سے لے کر عوام کو دلارہےہیں۔

  • سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا ہو گا،خورشید شاہ

    سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا ہو گا،خورشید شاہ

    سابق صدر آصف علی زرداری سے سابق اپوزیشن لیڈر ،وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے زرداری ہاؤس میں ملاقات کی ہے،

    اس موقع پر صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ، ایم پی اے فرخ شاہ ،شازیہ عطاء مری، سینیٹر قرۃ العین مری، اعجاز جکھرانی و دیگر بھی موجود تھے،ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال، عام انتخابات، نگران حکومت پر بات چیت کی گئی ،رہنماؤں نے سابق صدر آصف علی زرداری کو سکھر کے دورے کی دعوت دی، آصف علی زرداری نے سکھر اور گھوٹکی کے دورے کی دعوت قبول کرلی

    دوسری جانب میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرسید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ ہر پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی پارٹی کے سربراہ کو لیڈر آف ہاؤس بنا سکے، ہماری کوشش ہے کہ بلاول بھٹو وزیر اعظم بنیں، پیپلز پارٹی اپنے نشان تیر سے الیکشن میں حصہ لے گی اور ہم کوشش کریں گے کہ دوسری پارٹیوں سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کریں ملکی معیشت خطرناک اژدھا بن چکی ہے اس معیشت کو درست کرنا بڑا چیلنج ہے سیاستدانوں کو ایک دوسرے کو اعتماد میں لینا ہوگا کیونکہ اعتماد ہوگا تو ہم اس خراب معیشت کو درست کرسکیں گے،ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پارٹی نے اپنا منشور پورا کیا ہو، اب بھی الیکشن سے پہلے ہم اپنا منشور دے دیں گے،

    سابق صدر آصف علی زرداری کی زرداری ہاؤس نواب شاہ میں وزراء، اراکین اسمبلی، پارٹی عہدیدران اور کارکنان سے ملاقاتیں ہوئیں،صدر آصف علی زرداری سے پی پی پی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو، صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، رمیش لال، نذیر خان بگھیو، نے ملاقات کی۔

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • لاڑکانہ،پانچ دن سے بجلی نہیں، آصف زرداری کا نوٹس

    لاڑکانہ،پانچ دن سے بجلی نہیں، آصف زرداری کا نوٹس

    لاڑکانہ میں 5 روز سے بجلی نہیں، شہریوں کی عید خراب، سابق صدر متحرک ہو گئے، شدید گرمی میں بجلی کی عدم فراہمی کا نوٹس لیتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری نے صوبائی وزیر توانائی کو بجلی بحالی کے کام کی خود نگرانی کرنے کی ہدایت کر دی

    سابق صدر آصف علی زرداری نے لاڑکانہ،دادو،شہدادکوٹ اور قمبر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی بندش کا نوٹس لے لیا. آصف زرداری نے وزیر توانائی سندھ کو ہدایت کی کہ فوری طور پر وفاقی سیکریٹری پاور ڈویژن سے رابطہ قاٸم کیا جائے لاڑکانہ سمت تمام متاثرہ اضلاع کی بجلی فوری بحال کی جائے

    وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ نے سیکریٹری پاورڈوژن سے رابطہ کیا، ترجمان کے مطابق وزیر توانائی سندھ ماثرہ جگہ پہنچ کر خود کام کی نگرانی کررہے ہیں،سی ای او سیپکو سمیت تمام افسران اور سیپکو اہکار متاثرہ جگہ پر موجود ہیں،وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ کا کہنا ہے کہ ٹرانسمیشن لاٸن کے پول گرجانے کی وجہ سے ترسیلی نظام میں خرابی ہوگٸی ہے جس کی وجہ سے لاڑکانہ، دادو اور دگر اضلاع میں بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے کام جاری ہے امید ہے آج شام تک تمام اضلاع میں بجلی بحال کردی جائے گی

    وزیر توانائی آج صبح خود سیپکو کے دفتر پہنچ گئے ،سی ای او سیپکو، افسران اور تمام اہلکاروں کو ہنگامی بنیادوں پر طلب کرلیا،

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ایک صارف کا کہنا تھا کہ لاڑکانہ: 27 جون 2023 سے تاحال بجلی بند ہے، اس قیامت خیز گرمی میں عوام سے تمام بنیادی سہولیات چھین لی گئیں ہیں، عوام کو ریلیف دینا جو کہ کسی بھی حکومت وقت کی اولین ترجیح ہوتی ہے جس میں سندھ حکومت مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے

    https://twitter.com/Samee237/status/1675026430965735424

    دوسری جانب وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ سکھر الیکٹرک پاور کمپنی کے 132 کے وی ٹاور،خراب موسم سے گرے ،14 گرڈ سٹیشن متاثر ہو ئے ، 7 گرڈ کل بحال کر دئے گئے 4 کو آج بحال کر دیا گیا ہے ٹاور گرنے سے لاڑکانہ اور دادو کے علاقوں میں سپلائی ایک چوتھائی ہے نئے ٹاور تیزی سے کھڑے ہوتے ہی گرڈ فوری بحال کر دئے جائیں گے

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    محبت کا ڈرامہ رچا کر لڑکی کی غیر اخلاقی تصاویر بنا کر بلیک میل کرنیوالا گرفتار

    جیل حکام خواتین قیدیوں کی عزتیں تارتارکرتے ہیں، پیدا ہونے والے بچوں کوقتل کردیا جاتا ہے،لاہورجیل سے خاتون قیدی کی ویڈیووائرل

    جیلوں میں قید خواتین کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے سفارشات پر مبنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش