Baaghi TV

Tag: لاڑکانہ

  • پی ٹی آئی کا لاڑکانہ میں سندھ حقوق مارچ پہنچنے سے پہلے اہم ویڈیو جاری

    پی ٹی آئی کا لاڑکانہ میں سندھ حقوق مارچ پہنچنے سے پہلے اہم ویڈیو جاری

    پی ٹی آئی کا لاڑکانہ میں سندھ حقوق مارچ پہنچنے سے پہلے اہم ویڈیو جاری کر دیا گیا

    پی ٹی آئی سندھ صدر سید علی زیدی نے ویڈیو ٹویٹ کر دی،”تیر کو توڑو گے، تو سندھ جوڑوگے” ویڈیو کا ٹائٹل ہے

    تیر کے پے در پے وار سے سندھ دھرتی لہو لہو ہے،سندھ کے سینے پر پیپلزپارٹی کے ظلمت کے تیر لگے ہوئے ہیں، پی ٹی آئی سندھ کو اس کے حقوق دلوائے گی تعلیم صحت صاف پانی دیگر بنیادی حقوق سے سندھ پیپلز پارٹی کی وجہ سے محروم ہے

    https://twitter.com/alihzaidipti/status/1498164836353511425?s=21

    پیپلز پارٹی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا اور لانگ مارچ کا آغاز ہو چکا ، دوسری جانب تحریک انصاف نے سندھ سے مارچ کا آغاز کیا جو کراچی کی طرف جا رہا ہے،تحریک انصاف کے مارچ سے وفاقی وزرا بھی خطاب کر رہے ہیں

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایک طرف سندھ حقوق دوسری طرف سرکاری مارچ ہے،آج لاڑکانہ جاوں گا، انتظامیہ پیپلزپارٹی کے جھنڈے اور بینرز لگا رہی ہے، مارچ میں شرکت کرنے والوں کو30،30ہزار روپے دیئے جارہے ہیں،وزیراعظم عمران خان آج شام6بجے قوم سے خطاب کرینگےوزیراعظم قوم کا درد جانتے ہیں،

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ سندھ کا نظام مفلوج ہے سندھ کے عوام چاہتے ہیں صوبے کے حالات بہتر ہوں،امن و امان کی صورتحال خراب ہے سندھ کے عوام بھی تبدیلی کے خواہاں ہیں

    سندھ حقوق مارچ کا قافلہ آج پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی ،جنرل سیکرٹری اسد عمر، پی ٹی آئی سندھ کے صدر سید علی زیدی کی قیادت میں جیک آباد سے اگلی منزل کی جانب روانہ ہو گا سندھ حقوق مارچ ، آج رتو ڈیرو، قمبر شہدادکوٹ سے ہوتا ہوا لاڑکانہ پہنچے گا.  یکم مارچ کو پی ٹی آئی کا مارچ خیرپور، نوشہروفیروز اور نواب شاہ میں پڑاؤ ڈالے گا، جس کے بعد مارچ کی اگلی منزل 2 مارچ کو سانگھڑ اور میرپورخاص ہوگی۔سندھ حقوق مارچ 3 مارچ کو عمر کوٹ، تھر پارکر اور بدین پہنچے گا اور وہاں رات قیام کے بعد 4 مارچ کو ٹنڈو محمد جام ، ٹنڈو الہٰ یار اور مٹیاری جائے گا۔مارچ یہاں سے اپنی اگلی منزل حیدرآباد 5 مارچ کو پہنچے گا، چھ مارچ کو پی ٹی آئی کا مارچ اختتامی مراحلے میں داخل ہوتے ہوئے جامشورو اور وہاں سے واپس کراچی آئے گا۔

  • سندھ :ڈاکٹر نوشین کی سنسنی خیز ڈی این اے رپورٹ :لاڑکانہ یونیورسٹی کے بڑوں نے بڑی بات کہہ دی

    سندھ :ڈاکٹر نوشین کی سنسنی خیز ڈی این اے رپورٹ :لاڑکانہ یونیورسٹی کے بڑوں نے بڑی بات کہہ دی

    لاڑکانہ: سندھ :ڈاکٹر نوشین کی سنسنی خیز ڈی این اے رپورٹ :لاڑکانہ یونیورسٹی کے بڑوں نے بڑی بات کہہ دی ،اطلاعات ہیں کہ ڈاکٹر نوشین کاظمی کی سنسنی خیز ڈی این اے رپورٹ پر لاڑکانہ یونیورسٹی کا بڑا ردِ عمل سامنے آ گیا ہے۔

    یونیورسٹی ذرائع کے مطابق چانڈکا میڈیکل کالج میں مبینہ طور پر خود کشی کرنے والی ڈاکٹر نوشین کاظمی کے کیس میں لمس یونیورسٹی کی جانب سے جاری ڈی این اے رپورٹ کو لاڑکانہ یونیورسٹی نے بدنیتی پر مبنی قرار دے دیا ہے۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اس رپورٹ کو ایک خاص انداز سے ڈیزائن کرکے واقعہ کا رخ موڑنے کی کوشش کی جارہی ہے

    ادھر اسی حوالے سے لمس یونیورسٹی کی فارنزک لیبارٹری نے رپورٹ پیش کی تھی کہ ڈاکٹر نوشین اور 2019 میں خود کشی کرنے والی ڈاکٹر نمرتا چندانی کے جسم اور کپڑوں سے ملنے والے خون کے نمونے میچ کر گئے، دونوں ایک ہی مرد کے ہیں۔

    یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لمس کی رپورٹ نے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، ڈاکٹر نوشین کیس میں عدالتی احکامات کے بغیر نمرتا کے سیمپلز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ غیر قانونی ہے۔

    لاڑکانہ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق ڈاکٹر نوشین کی رپورٹ سے نمرتا کیس کی جوڈیشل انکوائری پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے، بغیر عدالتی حکم کے کسی کیس کے سیمپلز دوسرے کیس سے میچ نہیں کیے جاتے، نہ ہی کوئی لیبارٹری اپنی رپورٹ میں کسی قسم کی سفارش کر سکتی ہے۔

    اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر نمرتا کیس میں انکوائری کے حکم کے 2 دن بعد ڈی این اے رپورٹ جاری کیا جانا لیبارٹری کی بد نیتی کو ظاہر کرتا ہے۔اجلاس نے الزام لگایا ہے کہ لیبارٹری جوڈیشل انکوائری پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے، اس لیے لمس یونیورسٹی انتظامیہ کو بھی جوڈیشل انکوائری میں شامل کیا جائے۔

  • لاڑکانہ :میڈیکل طالبہ نوشین ڈپریشن کی گولیاں لیتی تھی، کیمیکل رپورٹ میں انکشاف

    لاڑکانہ :میڈیکل طالبہ نوشین ڈپریشن کی گولیاں لیتی تھی، کیمیکل رپورٹ میں انکشاف

    لاڑکانہ :میڈیکل طالبہ نوشین ڈپریشن کی گولیاں لیتی تھی، کیمیکل رپورٹ میں انکشافا،اطلاعات کے مطابق لاڑکانہ میڈیکل کالج میں مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ نوشین کاظمی کی کیمیکل رپورٹ پولیس کو موصول ہوگئی ہے۔

    رپورٹ میں زہر خورانی کے شواہد نہیں ملے تاہم یہ ضرور سامنے آیا ہے کہ نوشین کاظمی اینٹی ڈپریشن گولیاں لیتی تھی، اب صرف موبائل فون کی فارنزک اور ڈی این اے رپورٹ آنا باقی ہے۔

    ایس ایس پی لاڑکانہ عمران قریشی نے جیو نیوز کو بتایا کہ نوشین کاظمی کے بھیجے گئے نمونوں میں زہر خورانی کے شواہد نہیں ملے تاہم خون کے نمونوں میں سکون آور گولیوں کے ذرات پائے گئے ہیں۔

    ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ نوشین کے اہلخانہ نے اس متعلق بتایا بھی تھا وہ سکون کے لیے گولیاں لیتی ہے اور نوشین کے اہلخانہ بھی اینٹی ڈپریشن گولیاں لیتے ہیں۔

    ایس ایس پی لاڑکانہ کے مطابق میڈیکل رپورٹ، تحریروں کے فارنزک اور کیمیکل رپورٹس مکمل ہوگئی ہیں اور اب تک کی تحقیقات سے لگتا ہے کہ یہ خود کشی تھی قتل نہیں۔

    ایس ایس پی لاڑکانہ عمران قریشی کے مطابق اب صرف ڈی این ای رپورٹ اور موبائل فون کی فارنزک رپورٹ آنا باقی ہے۔

  • نوشین کاظمی کی پراسرار موت،والد نے بڑا مطالبہ کر دیا

    نوشین کاظمی کی پراسرار موت،والد نے بڑا مطالبہ کر دیا

    نوشین کاظمی کی پراسرار موت،والد نے بڑا مطالبہ کر دیا
    نوشین کاظمی کی پراسرار موت کا معاملہ ، نوشین کاظمی کے والد ہدایت اللہ شاہ اور چچا نے پریس کانفرنس کی ہے جس میں انہوں نے نوشین کی روم میٹ طلبہ کو شامل تفتیش اور عدالتی انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا ہے

    پریس کانفرنس میں نوشین کاظمی کے والد اور چچا کا کہنا تھا کہ نوشین ایک سال تک روم میں الگ پردہ لگا کر رہتی تھی بچی نے درخواست دی تھی کہ مجھے ہم خیال طلباء سے رہنا دیا جائے
    بچی ایک سال کمرے کے اندر الگ چادر دے کر رہ رہی تھی انتظامیہ کہاں گم تھی،

    دوسری جانب پولیس ترجمان کے مطابق پنکھے سے نوشین کے فنگر پرنٹ ملے ہیں اور ان کی انگلیوں پر بھی مٹی کے نشان موجود تھے۔نوشین کاظمی کے کمرے سے دو نوٹ بھی ملے ہیں۔پولیس ترجمان کے مطابق ایک نوٹ پیڈ کے قریب اور ایک الماری سے ملا ہے اور دونوں میں تقریبا ایک ہی طرح کا پیغام ہے بیڈ سے ملنے والے نوٹ پر رومن میں تحریر ہے کہ میں خود اپنی مرضی سے ہیکنگ کرنے جا رہی ہے ہوں نہ کسی کے پریشر میں کر رہی ہوں

    مقتول بچی کے والد نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی ہے لڑکی کے والد کی میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ بیٹی نے کئی مرتبہ ہاسٹل وارڈن کو کمرے کی تبدیلی کی درخواست دی تھی جو منظور نہیں کی گئی، والد کا مزید کہنا تھا کہ پولیس تحقیقات اپنی جگہ لیکن بچی کے انتہائی قدم پر حیران ہیں، ایسے واقعات ہوتے رہے تو کون اپنی بچیوں کو پڑھنے بھیجے گا، والد,,بیٹی چاہتی تھی کہ وہ اپنے علاقہ کی لڑکیوں کے ساتھ روم میں رہے،ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کو رد کرتا ہوں، کیمیکل ایگزیمینیش رپورٹس کو بھی دیکھیں گے، بیٹی کی لاش کو رسی سے لٹکا اور پیر ٹیبل پر دیکھ کر ہی شک شبہات پیدا ہو گئے تھے،مقتول بچی کے چچا کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹی دین دار اور خوش تھی وہ خودکشی نہیں کر سکتی،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ واقعہ میں انتظامیہ کی نااہلی صاف ظاہر ہے،اساتذہ شاگردوں کے لیے والدین کی جگہ ہوتے ہیں لیکن اب تک بچی کی تعزیت کے لیے کوئی نہیں آیا ،دوسری جانب رکن سندھ اسمبلی پیر مجیب الحق نے اسمبلی میں نوشین کاظمی کی پراسرار ہلاکت پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔

    یاد رہے کہ چند دن پہلے بھٹو کی بستی میں ایک اور حوا کی بیٹی کو قتل کردیا گیا تھا ، اطلاعات ہیں کہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے چانڈکا میڈیکل کالج کی چوتھے سال کی طالبہ کی لاش 24 نومبر کی دوپہر کو گرلز ہاسٹل نمبر دو سے ان کے کمرے سے ملی۔پولیس عہدیدار کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی پولیس کے مطابق ہاسٹل نمبر دو کے کمرے سے نوشین کاظمی نامی لڑکی کی پھندا لگی لاش ملی طالبہ کا تعلق ضلع دادو سے تھا اور ان کے والدین کو اطلاع کردی گئی جب کہ طالبہ کی لاش کو تین گھنٹے گزر جانے کے باوجود پھندے سے نہیں اتارا گیا۔

    سپاف ضلع میرپورخاص کی جانب سے سندھ کے نائب صدر کی قیادت میں چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کی طالبہ نوشین کاضمی کی مبینہ خودکشی کے خلاف پریس کلب پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا احتجاجی مظاہرے میں ضلعی صدر مبارک علی، اطلاعات سیکرٹری مرتضیٰ مبیجو سميت کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی

    ايک اور پراسرار موت کا وہي لاڑکانہ کا چانڈکا کالج جہاں دو سال قبل نمرتا کماري کي لاش پنکھے سے لٹکي ہوئي ملي تھي اسي سے ملتا جلتا ايک اور واقعہ ہوا ہے 24 نومبر کو چانڈکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے نوشين کاظمي نامي طالبہ کي کمرے ميں پنکھے سے لٹکي لاش ملی

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    گھر میں گھس کر خاتون سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سابق پولیس ملازم گرفتار

  • بھٹوکی بستی میں میڈیکل کی طالبہ کا قتل:باپ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی

    بھٹوکی بستی میں میڈیکل کی طالبہ کا قتل:باپ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی

    کراچی :بھٹوکی بستی میں میڈیکل کی طالبہ کا قتل:باپ نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی،اطلاعات کے مطابق گرلز ہاسٹل میں مبینہ خودکشی کا معاملہ ابھی تک معمہ بنا ہوا ہے، ادھرمقتول بچی کے والد نے پوسٹ مارٹم رپورٹ مسترد کردی ہے

    لڑکی کے والد کی میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ بیٹی نے کئی مرتبہ ہاسٹل وارڈن کو کمرے کی تبدیلی کی درخواست دی تھی جو منظور نہیں کی گئی، والد کا مزید کہنا تھا کہ پولیس تحقیقات اپنی جگہ لیکن بچی کے انتہائی قدم پر حیران ہیں،

    مقتول بچی کے چچا کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹی دین دار اور خوش تھی وہ خودکشی نہیں کر سکتی،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ واقعہ میں انتظامیہ کی نااہلی صاف ظاہر ہے،

    بچی کے چچا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ شاگردوں کے لیے والدین کی جگہ ہوتے ہیں لیکن اب تک بچی کی تعزیت کے لیے کوئی نہیں آیا

    بچی کے والد کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات ہوتے رہے تو کون اپنی بچیوں کو پڑھنے بھیجے گا، والد,,بیٹی چاہتی تھی کہ وہ اپنے علاقہ کی لڑکیوں کے ساتھ روم میں رہے،

    مقتول بچی کے والد محترم ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کو رد کرتا ہوں، کیمیکل ایگزیمینیش رپورٹس کو بھی دیکھیں گے، بیٹی کی لاش کو رسی سے لٹکا اور پیر ٹیبل پر دیکھ کر ہی شک شبہات پیدا ہو گئے تھے،

    یاد رہے کہ چند دن پہلے بھٹو کی بستی میں ایک اور حوا کی بیٹی کو قتل کردیا گیا تھا ، اطلاعات ہیں کہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے چانڈکا میڈیکل کالج کی چوتھے سال کی طالبہ کی لاش 24 نومبر کی دوپہر کو گرلز ہاسٹل نمبر دو سے ان کے کمرے سے ملی۔

    پولیس عہدیدار کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی پولیس کے مطابق ہاسٹل نمبر دو کے کمرے سے نوشین کاظمی نامی لڑکی کی پھندا لگی لاش ملی۔

    طالبہ کا تعلق ضلع دادو سے تھا اور ان کے والدین کو اطلاع کردی گئی جب کہ طالبہ کی لاش کو تین گھنٹے گزر جانے کے باوجود پھندے سے نہیں اتارا گیا۔

    پولیس کا کہنا کہ فوری طور پر کہنا قبل از وقت ہے کہ طالبہ نے خودکشی کی یا پھر ان کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا، تاہم بظاہر واقعہ خودکشی کا لگتا ہے۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ طالبہ کے ورثا کے پہنچنے کے بعد کیس داخل کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جب کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ آنے اور واقعے کی ابتدائی تفتیش کے بعد ہی واقعے سے متعلق کچھ کہا جا سکے گا۔

    کچھ عرصہ قبل بھی چانڈکا میڈیکل کالج میں ایک طالبہ نے اسی طرح پراسرار طور پر خودکشی کرلی تھی۔

    گرلز ہاسٹل سے طالبہ کی لاش ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں طالبہ کو پھندے میں لٹکا دیکھا جا سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں طالبہ کو پھندے سے لٹکا دیکھا جاسکتا ہے

  • سب کہتے مگر کرتے کچھ نہیں، اسپتالوں میں گدھے،ڈی سی بادشاہ بنے ہوئے ہیں،سپریم کورٹ برہم

    سب کہتے مگر کرتے کچھ نہیں، اسپتالوں میں گدھے،ڈی سی بادشاہ بنے ہوئے ہیں،سپریم کورٹ برہم

    سب کہتے مگر کرتے کچھ نہیں، اسپتالوں میں گدھے،ڈی سی بادشاہ بنے ہوئے ہیں،سپریم کورٹ برہم

    سپریم کورٹ میں تھرپارکر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی .

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے خود سول اسپتال مٹھی کا دورہ کیا ،کوئی سہولت نہیں تھی ، آپریشن تھیٹر مارچری لگ رہا تھا اسپتال میں ایک ڈاکٹر تھا جس نے کہا رات کو بتایا گیا ہے کل آجانا ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں بہت برا حال ہے ،لوگ اللہ کے سہارے پڑے ہیں بجلی بھی 2 گھنٹے کیلئے آتی ہے ،پانی کیلئے بارش کا انتظار کرتے ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آر او پلانٹس پر کروڑوں روپے لگا دیئے جو سب خراب ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں صرف بھرتیاں ہورہی ہیں ،وہاں کوئی کام کرنے والا نہیں دس، پندرہ ہزار صحت کا عملہ ہوگا مگر کوئی نظر نہیں آتا ،تھر میں آپ کی اولاد نہیں آپ کے والد والدہ نہیں اس لیےآپ کو فکر ہی نہیں تھر سے تو مکمل لاتعلقی ہے ،سیکرٹری صحت نے عدالت میں کہا کہ نئے ڈاکٹرز کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے

    چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ کے وی آئی پیز جاتے ہیں ان کچھ اور طریقہ کار ہوتا ہے ،غریبوں کا برا حال کردیتے ہیں، انجکشن لے آو ،دوا لے آو تھر پارکر کے اسپتال میں بیٹھنے کی جگہ تک نہیں ایس آئی یو ٹی دیکھیں جاکر کیسے کام ہوتا ہے ڈیڈی کیشن ہے ڈیڈی کیشن یہ ہوتا ہے کام ، آپ کے منسٹرز تو آغا خان سے علاج کراتے ہیں انہیں کیا پرواہ ،آپ کے اسپتال تو اصطبل بنے ہوئے ہیں ،گھوڑے ہوتے ہیں وہاں ،آپ کی ہر رپورٹ میں یو این یو این لکھا ہے آپ کیا کررہے ہیں ہر جگہ لکھ دیا یو این نے کہا ہے ،یو این سے پیسے لیتے ہیں تو ان ہی کی بات کریں گے ،عدالتی معاون نے کہا کہ تھر میں 2018 میں 400 بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں کمیشن رپورٹ میں بتایا گیا ہے کچھ نہیں ہو رہا  . چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ انہیں انسان نہیں سمجھتے ؟ سیکریٹری لیول کے جتنے افسران ہیں سب مٹھی سول اسپتال جائیں علاج کیلئے ،چار پانچ گھنٹے لگیں گے کوئی بچ جائے تو بچ جائے،لاڑکانہ ، سکھر کسی بھی شہر میں چلے جائیں سرکاری اسپتالوں کا یہی حال ہے ،آپ کو پرواہ نہیں بچے مر رہے ہیں ، ہزاروں لاکھوں لیڈی ہیلتھ ورکرز رکھے ہیں کہاں ہیں ؟ اتنی بڑی فوج بنائی ہوئی ہے ہیلتھ کی کہاں ہے ؟

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تھر میں میڈیکل افسران کی 75 فیصد اسامیاں خالی ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو مطلب معلوم ہے 75 فیصد کا ؟جو وہاں بھرتی ہوتا وہاں سے ٹرانسفر کرالیتا ہے ،چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو وہاں جاکر رہنا پڑے گا آپ سے پہلے والوں نے بھی کچھ نہیں کیا،آپ کے بعد والے بھی کچھ نہیں کریں گے ،آپ نے ماوں اور بچوں کو مرنے دیا یہ سب آپ کے کھاتے میں لکھا جار ہا ہے آپ بری الذمہ نہیں ہیں ایک ہلاکت کی ذمہ داری بھی آپ پر عائد ہوتی ہے آپ سب سرکاری افسران جائیں تھرپارکر کے سرکاری اسپتال میں علاج کرائیں،ہم سب کا آرڈر کردیں گے تمام سیکریٹری وہاں علاج کرائیں، آپ سندھ کے کسی بھی شہر چلے جائیں لاڑکانہ میر پور خاص حیدر آباد چلے جائیں،یہ چھوٹے بچے کیوں مرتے ہیں کسی نے تحقیقات کی ہیں،ہمارے پاس آکر سب کہتے مگر کرتے کچھ نہیں ہیں،ایڈووکیٹ جنرل سندھ ایک ایک چیز ہماری دیکھ ہوئی ہے اسپتالوں میں گدھے بندھے ہوئے،لائٹ تک نہیں ہے دوائی،ایکسرے مشین وغیرہ کی سہولیات تو خواب ہیں،ایکسرے مشین ہی نہیں عملہ رکھا ہوا،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ گئے تھے یہ سب چیزوں کے گواہ ہیں،عدالت نے سیکریٹری صحت کو بولنے سے روک دیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وہاں ڈی سی اور دیگر لوگ تو بادشاہ بنے ہوئے ہیں عدالت نے سیکریٹری صحت سندھ کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی

    عدالت نے تھرپارکر میں تقررری پانے والوں کے تبادلہ روکنے کا حکم دے دیا ،سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالتی احکامات پر عمل نہیں ہوا ، سندھ حکومت نے اپنی بنیادی ذمہ داری بھی ادا نہیں کی ، سیکریٹری صحت نے عدالت کو یقین دہانی کروائی کہ خود جا کر اقدامات کروں گا ،عدالت نے کہا کہ تھرپارکر میں تعینات ڈاکٹرز اور عملے کا دوسرے ضلع میں تبادلہ نہ کیا جائے ، ڈاکٹرز کو کم از کم 3 سال سے قبل دوسرے ڈسٹرکٹ میں ٹرانسفر نہیں کیا جاسکتا ،عدالت نے لیڈی ہیلتھ ورکر اور صحت کے دیگر عملہ کو بھی فعال کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے حکم دیا کہ تھرپارکرکےاسپتالوں اور میڈیکل سینٹرز پر ادویات فراہمی کو یقینی بنایا جائے ، عدالت نے تھرپارکرکےاسپتالوں میں غیر حاضر اور غیر فعال ڈاکٹرز اور عملے کے خلاف کارروائی کا حکم بھی دیا

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

    عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    دفاعی اداروں کی جانب سے کمرشل کاروبار ،سیکریٹری دفاع کونوٹس جاری

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

  • بھٹو کی بستی میں‌ میڈیکل کالج میں طالبہ کو پھانسی دے دی گئی

    بھٹو کی بستی میں‌ میڈیکل کالج میں طالبہ کو پھانسی دے دی گئی

    لاڑکانہ :بھٹو کی بستی میں‌ میڈیکل کالج میں طالبہ کو پھانسی دے دی گئی ،اطلاعات کے مطابق بھٹو کی بستی میں ایک اور حوا کی بیٹی کو قتل کردیا گیا ہے ، اطلاعات ہیں کہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے چانڈکا میڈیکل کالج کی چوتھے سال کی طالبہ کی لاش 24 نومبر کی دوپہر کو گرلز ہاسٹل نمبر دو سے ان کے کمرے سے ملی۔

    پولیس عہدیدار کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی پولیس کے مطابق ہاسٹل نمبر دو کے کمرے سے نوشین کاظمی نامی لڑکی کی پھندا لگی لاش ملی۔

    طالبہ کا تعلق ضلع دادو سے تھا اور ان کے والدین کو اطلاع کردی گئی جب کہ طالبہ کی لاش کو تین گھنٹے گزر جانے کے باوجود پھندے سے نہیں اتارا گیا۔

    پولیس کا کہنا کہ فوری طور پر کہنا قبل از وقت ہے کہ طالبہ نے خودکشی کی یا پھر ان کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا، تاہم بظاہر واقعہ خودکشی کا لگتا ہے۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ طالبہ کے ورثا کے پہنچنے کے بعد کیس داخل کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جب کہ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ آنے اور واقعے کی ابتدائی تفتیش کے بعد ہی واقعے سے متعلق کچھ کہا جا سکے گا۔

    کچھ عرصہ قبل بھی چانڈکا میڈیکل کالج میں ایک طالبہ نے اسی طرح پراسرار طور پر خودکشی کرلی تھی۔

    گرلز ہاسٹل سے طالبہ کی لاش ملنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد افراد نے واقعے کی ویڈیوز اور تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں طالبہ کو پھندے میں لٹکا دیکھا جا سکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں طالبہ کو پھندے سے لٹکا دیکھا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب پولیس نے ہاسٹل کو سیل کردیا ہے اور شواہد اکھٹے کیے جارہے ہیں، پولیس کے مطابق فرانزک ٹیم کمرے سے شواہد اکٹھے کرچکی ہے ،نوشین کے خط کو بھی ہینڈ رائٹنگ ماہر سے چیک کروایا جائے گا جب کے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش کو ورثا کے حوالے کیا جائے گا ،ورثا سے ملاقات کے بعد ہی تعین کیا جاسکے گا کے نوشین نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا۔

    نوشین کاظمی کی پراسرار ہلاکت سے قبل ستمبر 2019 میں بھی اسی یونیورسٹی کے چانڈکا ڈینٹل کالج کے ہاسٹل سے بیچلرز ان ڈینٹل سرجری (بی ڈی ایس) کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا مہر چندانی کی لاش ملی تھی۔

    عوام الناس کا کہنا ہےکہ علاقے کی بدقسمتی ہے کہ عوامی لیڈراپنی سیاست چمکانے اوربچانے کے لیے توگھروں سے نکل پڑتےہیں لیکن کبھی انہوں نے ان علاقوں کی درسگاہوں کے متعلق خبرگیری نہیں کی جس کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں‌

     

     

  • معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    معصوم بچہ ویکسین نہ ملنے سے مر گیا لیکن بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔۔

    شکارپور کے گاؤں داؤد ابڑو کے رہائشی محنت کش صفدر ابڑو کا 10 سالہ بیٹا میر حسن ویکسین نہ ملنے پر کمشنر آفیس کے سامنے فرش پر تڑپ تڑپ کر زندگی کی بازی ہار گیا۔بچے کی موت پر غم سے نڈھال والد کا کہنا تھا کہ بچے کو شکارپور، سلطان کوٹ اور دیگر مقامات پر لے کر گئے لیکن داد رسی نہ ہو سکی۔ دوسری جانب اے آر وی سینٹر کے انچارج ڈاکٹر نور الدین قاضی کا کہنا تھا کہ شکارپور، جیکب آباد سمیت ڈویژن بھر میں ویکسین کی کمی ہے، ویکسین نہ ملنے سے مرض بگڑ چکا تھا اس نے اب دو دن ہی زندہ رہنا تھا کیوں کہ اس کا اثر10 سالہ میر حسن کے دماغ پر ہو چکا تھا۔

    ویسے تو دس سالہ میر حسن نے تو بڑے ہو کر بھی مر ہی جانا تھا . اسی لیے گزشتہ روز بلاول کو پریس کانفرنس میں خورشید شاہ کا رونا تو یاد رہا ۔ جمہوریت میں خطرے پڑ چکی ہے یہ بتانا تو یاد رہا ۔ مگر وہ یہ ضرور بھول گئے کہ ان کی اس لولی لنگڑی ، کرپٹ اور نکمی حکومت کی بدولت میر حسن جیسے بچوں کی زندگیا ں داو پر لگی ہوئی ہیں ۔ بلاول ہمیشہ بھول جاتے ہیں کہ سندھ میں ان کی بادشاہت دہائیوں سے چلتی آرہی اور اسی حکومت کی بدولت عوام کی زندگیاں خطرے میں ہیں ۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    لوگ کہتے ہیں کہ کیسا صوبہ اور کیسی حکومت ہے جہاں لوگ اس لئے مر جاتے ہیں کہ کتا کاٹ لے تو ہسپتالوں میں ویکسین نہیں ملتی۔ مگر لوگوں کو کیا پتہ جمہوریت کیا ہوتی ہے ۔ جمہوریت کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے خون دینا پڑتا ہے ۔کل کو جب بلاول اس ملک کے وزیر اعظم بنیں گے تب عوام کو پتہ چلے گا کہ جمہوریت بہترین انتقام کیوں ہے ۔ سندھ میں لبرل سیکولر ترقی پسند پروگریسو پیپلزپارٹی کی دہاییوں سے حکومت ہے۔ مگر سندھ اور سندھیوں کے حالات زندگی بدلنے میں پیپلز پارٹی بری طرح ناکام رہی ہے ۔ مگر تمام جیالے لیڈروں نے اپنی قسمت ضرور بدل لی ہے ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس کی دبئی میں پراپرٹی نہ ہو ۔ شاید ہی کوئی وزیر ہو جس پر کرپشن کا الزام نہ ہو ۔ معذرت کے ساتھ جس طرح پیپلز پارٹی نے بھٹو کا نام زندہ رکھا ہوا ہے اس سے تو بہتر تھا بھٹو پیدا ہوتے ساتھ ہی مر جاتا ۔ کیونکہ تھر میں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں ۔ مگر بھٹو زندہ رہتا ہے ۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    سندھ چاہے ایڈز زدہ ہو جائے مگر بھٹو اور بھٹو خاندان کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے ۔ کیونکہ جمہوریت کے لیے بھٹو خاندان نے قربانیاں دیں ہیں ۔ یہ صرف ان کا ہی حق ہے کہ سندھ پر وہ حکومت کریں ۔ چاہیے سندھی سسک سسک کر مرجائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ اس ملک کو فیصلہ کرنا ہوگا ۔ کب تک بھٹو ، شریف ، زرداری ، فضل الرحمان ، اچکزئی ، باچا خان ، ان جاگیرداروں اور وڈیروں کی اولادوں کی غلامیاں کرتے رہیں گے ۔ ان غلامی کی زنجیروں کو توڑیں اور ان خاندانوں اور لیڈروں کو نشان عبرت بنا دیں ۔ سندھیوں اور اس ملک کی غریب عوام کے پاس اب صرف کھونے کے لیے غلامی کی زنجیریں باقی رہ گئیں ہیں ۔ یہ غلامی کی زنجیریں توڑیں ۔ اور اس اشرفیہ کو غارت کردیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    یوٹیوب چینل سکرائب کریں

    https://www.youtube.com/c/superteamks

    فیس بک پروفائل

    https://www.facebook.com/sheikh.naveed.9

    ٹویٹر پر فالو کریں