Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور قیمتوں میں معمولی کمی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور قیمتوں میں معمولی کمی کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی اور پیٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی کے خلاف لاہورہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی گئی۔

    درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ اظہرصدیق نےدائرکی ، درخواست میں وفاقی حکومت اور متعلقہ وزارتوں کو فریق بنایا گیا ، موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حکومت پیٹرول پر 125 اورڈیزل پر 100 فی لیٹرلیوی ٹیکس وصول کررہی ہے،ڈیزل اورپیٹرول مہنگا ہونے سےکسان اور مزدور طبقہ براہ راست متاثر ہوا ہے بین الاقوامی مارکیٹ کے برعکس حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں انتہائی معمولی کمی کی گئی جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی، حکومت کے پاس پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی یا اضافے کا کوئی میکنزم نہیں ہے، لہذا عدالت ست استدعا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری لیوی کی وصولی کو روکاجائے، عدالت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور کمی پرمیکنزم طے کرنے کا حکم دے۔

  • لاہور ہائیکورٹ:بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ:بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج

    لاہور ہائیکورٹ نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے کی باپ کی اپیل خارج کردی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کردیا،عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002 میں ہوئی تھی جب کہ 2005 میں طلاق ہوگئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

    عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہےکہ خاتون نے 2019 میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کرسکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے، کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جاسکتا۔

    عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جب کہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا،لاہور ہائیکورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

  • شادی کے وقت کیے گئے وعدے بھی قانونی طور پر لازم قرار

    شادی کے وقت کیے گئے وعدے بھی قانونی طور پر لازم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کو 5 مرلہ گھر دینے سے متعلق ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی اپیل مسترد کر تے ہوئے قرار دیا ہے کہ شوہر نکاح نامے میں درج حق مہر کے علاوہ شادی کے موقع پر کیے گئے علیحدہ معاہدوں اور وعدوں کو پورا کرنے کا بھی پابند ہے۔

    جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے درخواست پر 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ شادی کے روز شوہر نے ایک الگ معاہد ے کے تحت بیوی کو 5 مرلہ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا، لہٰذا اس وعدے کی قانونی حیثیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ حق مہر بیوی کا قانونی اور شرعی حق ہے، اسے شوہر کا احسان یا صوابدیدی رعایت نہیں سمجھا جا سکتا قانون کی نظر میں حق مہر شوہر پر ایک قرض کی حیثیت رکھتا ہے جس کی ادائیگی لازم ہے، شادی کے دوران یا بعد میں حق مہر کا مطالبہ نہ کرنا خاتون کے اس حق سے دستبرداری تصور نہیں کیا جا سکتا عدالت نے مشاہدہ کیا کہ معاشرتی، خاندانی اور ثقافتی دباؤ کے باعث بہت سی خواتین اپنے حقوق کا فوری مطالبہ نہیں کرتیں، اس لیے خاموشی کو رضامندی یا حق سے دستبرداری نہیں سمجھا جا سکتا۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسلامی قانون کے تحت حق مہر زبانی، تحریری یا بعد میں بھی طے کیا جا سکتا ہے، جبکہ شوہر کو شادی کے بعد حق مہر میں اضافہ کرنے کی بھی اجازت ہے،خاندانی معاملات کا فیصلہ کرتے وقت عدالتیں صرف قانونی موشگافیوں تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معاشرتی حقائق اور فریقین کے جائز حقوق کو بھی مدنظر رکھتی ہیں۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کے حکم کو درست قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ شادی کے وقت کیے گئے تحریری وعدے اور معاہدے محض رسمی کارروائی نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری بھی بن سکتے ہیں، جن پر عمل درآمد ضروری ہے۔

  • سابقہ بیوی کے ساتھ جنسی زیادتی کیس میں عدالت کے اہم ریمارکس

    سابقہ بیوی کے ساتھ جنسی زیادتی کیس میں عدالت کے اہم ریمارکس

    لاہور ہائیکورٹ میں سابقہ بیوی کے ساتھ زیادتی کے کیس میں ریمارکس دیئے کہ حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کیسے ممکن ہے-

    لاہور ہائیکورٹ میں سابقہ بیوی کے ساتھ زیادتی کے کیس میں ملزم کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی، سماعت جسٹس اسجد جاوید نے کی دوران سماعت جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کی، جنہوں نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ واقعہ کب پیش آیا،تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم نے 23 دسمبر 2024 کو خاتون کو طلاق دی، جبکہ 17 اگست 2025 کو مبینہ طور پر سابقہ بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم دورانِ تفتیش گنہگار پایا گیا ہے۔

    ملزم کے وکیل عبدالجبار مغل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم نے سابقہ بیوی سے دوبارہ نکاح کر لیا تھا،اس پر جسٹس اسجد جاوید گھرال نے استفسار کیا کہ حلالہ کے بغیر دوبارہ نکاح کیسے ممکن ہوا،وکیل نے مؤقف اپنایا کہ ملزم نے درحقیقت طلاق نہیں دی تھی بلکہ خاتون نے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد ملزم نے رجوع کر کے دوبارہ نکاح کر لیا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر خاتون اب بھی ملزم کی بیوی ہے تو اسے عدالت میں پیش ہو کر اس کی تصدیق کرنی چاہیے۔

    پی ایس ایل 11 : آن لائن ٹکٹوں کی فروخت کا آغاز

    واضح رہے کہ ملزم کے خلاف ڈسکہ کے تھانے میں زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے، جبکہ عدالت نے مزید سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔

    ایرانی سپریم لیڈر نے امریکا سے کشیدگی کم کرنے کی تجاویز مسترد کردیں

  • مس کنڈکٹ کی بنیاد پر 3 سول ججز عہدوں سے برطرف

    مس کنڈکٹ کی بنیاد پر 3 سول ججز عہدوں سے برطرف

    لاہور ہائیکورٹ نے مس کنڈکٹ کی بنیاد پر 3 سول ججز کو عہدوں سے برطرف کر دیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کی منظوری کے بعد رجسٹرار کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہےنوٹیفکیشن کے مطابق سول جج لاہور نسیم اختر ناز کو عہدے سے برطرف کیا گیا ہے جب کہ سول جج راولپنڈی محمد اسلم کو بھی مس کنڈکٹ کے الزامات ثابت ہونے پر برطرف کر دیا گیا۔

    اسی طرح سول جج جہلم سرمد سلیم کو بھی عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا گیا ہے نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ سول جج سرمد سلیم ایک ماہ کی چھٹی لے کر بیرون ملک گئے تھے اور انہوں نے دوبارہ چارج سنبھالنے کے بجائے استعفیٰ ارسال کر دیا تھا۔

    عراقی کردوں نے ایران پر زمینی حملہ شروع کردیا، امریکی حکام کا دعویٰ

    اس معاملے پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سیشن جج جہلم کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی انکوائری میں یہ ثابت ہوا کہ سول جج نے چھٹیوں کے بعد دفتر کا چارج سنبھالے بغیر استعفا بھجوایا تھا جس کے بعد انتظامی کارروائی کرتے ہوئے انہیں عہدے سے برطرف کر دیا گیا۔

    وزیرِاعظم سے جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات

  • عدالت کے حکم پربزرگ خاتون کو بیٹے کی تحویل سے شوہر کے حوالے کردیاگیا

    عدالت کے حکم پربزرگ خاتون کو بیٹے کی تحویل سے شوہر کے حوالے کردیاگیا

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے بزرگ خاتون کو بیٹے کی کسٹڈی سے لے کر شوہر کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔

    لاہور ہائیکورٹ میں بیوی کی حوالگی کے لیے شوہر کی جانب سے بیٹے کے خلاف دائر انوکھے کیس کا فیصلہ سنایا گیا،فیصلہ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سنایا، سابق ڈی جی ایف آئی اے میاں محمد امین نے عدالت کو بتایا کہ ان کا بیٹا، جو ایس ایس پی سپیشل برانچ میں تعینات ہے، ان کی اہلیہ کو زبردستی اپنے پاس رکھے ہوئے ہے، عدالت میں بزرگ خاتون کو وہیل چیئر پر پیش کیا گیا تاکہ سماعت میں ان کی موجودگی یقینی بنائی جا سکے۔

    سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہتے ہیں تو بیٹے کو زبردستی ماں کو اپنے پاس رکھنے کا اختیار نہیں، آئین ہر شہری کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا بنیادی حق دیتا ہے۔

    مغربی کنارے کی یہودی بستی میں پہلی بار امریکی پاسپورٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان

    ایس ایس پی بیٹے نے مؤقف اختیار کیا کہ والدہ شدید بیمار ہیں اور وہ ان کی مکمل دیکھ بھال کر رہے ہیں عدالت نے بیلف کے ساتھ بدتمیزی پر برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ علاج کس اسپتال سے کرایا جا رہا ہے وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹر گھر آ کر معائنہ کرتا ہے جبکہ 2 ملازمین ہمہ وقت موجود رہتے ہیں، تاہم ملازم ڈاکٹر کا نام نہ بتا سکے۔

    دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے بزرگ خاتون کو بیٹے کی تحویل سے واپس شوہر کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں اور آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    قرض پروگرام کی چوتھی قسط ، آئی ایم ایف وفد جائزہ مذاکرات کیلئےپاکستان پہنچ گیا

  • بھارتی شہری نے اپنی اہلیہ کے پاکستان میں نکاح کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    بھارتی شہری نے اپنی اہلیہ کے پاکستان میں نکاح کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    بھارتی شہری کرنیل سنگھ نے پاکستان آنے کے بعد اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی اپنی اہلیہ سربجیت کور (نور فاطمہ) کے پاکستانی شہری سے نکاح کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    کرنیل سنگھ نے اس قانونی چارہ جوئی کے لیے پاکستان میں سابق رکن صوبائی اسمبلی مہندر پال سنگھ کو اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے اور ان کے ذریعے دائر درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ ان کی اہلیہ گزشتہ سال نومبر میں دس روزہ یاتری ویزے پر پاکستان آئی تھیں۔

    درخواست گزار کا الزام ہے کہ ان کی اہلیہ کو چند قابل اعتراض تصاویر کے ذریعے بلیک میل کیا گیا اور پھر دباؤ ڈال کر زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا، جس کے بعد ان کا نکاح ایک پاکستانی شہری سے کر دیا گیا،ہندو میرج ایکٹ کے مطابق محض مذہب کی تبدیلی سے پہلی شادی ختم نہیں ہوتی۔

    بھارتی حیدرآباد:رمضان کے دوران5 خصوصی پکوان ، جن کے بغیر سحری ممکن نہیں

    کرنیل سنگھ کا دعویٰ ہے کہ نور فاطمہ نے نکاح نامے میں خود کو طلاق یافتہ ظاہر کیا ہے جو کہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ ان کے پاس طلاق کی کوئی عدالتی ڈگری موجود نہیں اس بنیاد پر عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سربجیت کور عرف نور فاطمہ کا نکاح کالعدم قرار دیا جائے اور ویزے کی مدت ختم ہونے پر انہیں فوری طور پر ڈی پورٹ کرنے کا حکم جاری کیا جائےاس کے ساتھ ہی ان کے پاکستانی شوہر کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر بلیک میلنگ کے ذریعے یہ شادی کی۔

    دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اس درخواست پر کچھ قانونی اعتراضات بھی عائد کیے ہیں رجسٹرار آفس کا کہنا ہے کہ درخواست گزار نے جو پاور آف اٹارنی جمع کرایا ہے وہ محکمہ خارجہ سے تصدیق شدہ نہیں ہے اور نکاح کی منسوخی کے لیے براہ راست ہائی کورٹ کے بجائے متعلقہ نچلے فورم سے رجوع نہیں کیا گیا ان اعتراضات کے باوجود جسٹس فاروق حیدر نے اس کیس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا یہ درخوا ست مزید کارروائی کے لیے قابل قبول ہے یا نہیں۔

    دوستوں پراندھا دھند فائرنگ کے واقعہ کے بعد دوسرے فریق نے بھی درخواست دے دی

    بھارتی میڈیا کے مطابق سربجیت کور4 نومبر کو سکھ یاتریوں کے ایک جتھے کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں تاکہ گرو نانک دیو کے 555ویں جنم دن کی تقریب پراکاش پرَو میں شرکت کر سکیں ان کا ویزا 13 نومبر 2025 تک کارآمد تھا، لیکن ویزے کی میعاد ختم ہونے کے باوجود وہ واپس بھارت نہیں گئیں اور اسی دوران ننکانہ صاحب کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی تھی،سربجیت کور پہلے سے طلاق یافتہ تھیں اور ان کے دو بیٹے ہیں، جن کے والد کرنیل سنگھ ہیں اور وہ گزشتہ تین دہائیوں سے انگلینڈ میں مقیم ہیں۔

  • عدالت کے  حکم پر 4سال سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کو بازیاب کروا لیا گیا

    عدالت کے حکم پر 4سال سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کو بازیاب کروا لیا گیا

    پولیس نے عدالت کے حکم پر 4سال سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کو بازیاب کروا لیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ میں 4سال سے ساہیوال سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی ،چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حکم پر 4سال سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کو بازیاب کروالیا –

    آر پی او ساہیوال رانا ایاز سلیم نے لڑکی کو چیف جسٹس عالیہ نیلم کی عدالت میں پیش کردیا ،چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حکم پر لڑکی کی اہلخانہ سے ملاقات کرو ا ئی گئی ،لڑکی نے عدالت میں بیان دیا کہ میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے جس کے بعد عدالت نے لڑکی کو اس کے شوہر کے ساتھ بھجوادیا –

    ایرانی فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، چار افراد ہلاک

    جبکہ دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آر پی او ساہیوال کی کارکردگی کو سراہا ،واضح رہے کہ ساہیوال سے لڑکی کے اغوا کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کررکھی ہے-

    گزشتہ سماعت میں 4سال سے لاپتہ لڑکی عدم بازیابی پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا،انہوں نے آئی جی پنجاب کو حکم دیا تھا کہ بچیوں کے لاپتہ ہونے پر لاپرواہی نہیں ہونی چاہیے جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا تھا کہ یہ چار سال پرانا کیس ہے کل ہی فائل دیکھی ہے-

    چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا تھا کہ آپ بتائیں چار سال آپ کے تفتیشی نے کیا کچھ کیا ؟ جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ جب کیس شروع ہوا کچھ لوگوں کا ریمانڈ لیا گیا،پولیس نے کارروائی بھی کی تھی اب نئے سرے سے تفتیش کرتے ہیں-

    راولپنڈی کے 60 سالہ حکیم کی کم عمر لڑکی سے شادی،ویڈیو وائرل

    چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں جو چیزیں آپ بتا رہے وہ کیا بھی ہے یا صرف باتیں ہیں؟ایف آئی آر کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کو چار سال گزر گئے مگر کوئی اتا پتہ نہیں ،جب کوئی بچی مس ہوتی ہے تو پولیس کا مائنڈ سیٹ یہ ہوتا ہے کہ یہ خود ہی کہیں چل گئی ہے، بچیوں کے معاملے پر ایسا رویہ نہیں ہونا چاہیے –

    آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم اس کیس کی تفتیش دوبارہ سے شروع کرتے ہیں، ہم آپ کو اگلے منگل کا وقت دے رہےہیں یہ بچی بازیاب ہونی چاہیے
    آئی جی پنجاب نے کہا کہ تھوڑا سا مزید وقت دے دیں ہم ٹریس کرلیں گے ،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا چار سال کا وقت تھوڑا ہوتا ہے جو مزید وقت چاہیے
    بعد ازاں عدالت نے آئی جی سے 24 فروری تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کردی-

    ٹی 20 ورلڈ کپ: سیمی فائنل کا مشروط شیڈول جاری

  • بسنت فیسٹیول:لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    بسنت فیسٹیول:لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے محفوظ بسنت منانے کے حوالے سے تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس ملک اویس خالد نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کر دیا، عدالت نے مزید سماعت 11 فروری تک ملتوی کر دی،عدالت نے بسنت میں ریڈ وزن والے پارکوں میں میڈیکل سہولیات کیمپ قائم کرنے کا حکم دے دیا، بسنت کے فیسٹول کے دوران تمام فریقین عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے، ایمرجنسی صورتحال میں تمام سہولیات کو فعال رکھا جائے، اے ڈی سی جی نے تین اسپتال موبلائزڈ کرنے کی رپورٹ پیش کی۔

    فیلڈ مارشل نے مسئلہ کشمیر پرجس عزم کا اظہار کیا،وہ سچ کردکھایا

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق بسنت کے تہوار کو شہریوں کے لیے محفوظ بنانے کے مقصد سے لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے بھرپور آگاہی مہم شروع کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز کی ہدایت پر شہر بھر میں بسنت سیفٹی مہم زور و شور سے جاری ہے۔

    آگاہی مہم میں اسسٹنٹ کمشنرز، لاہور پولیس، ٹریفک پولیس، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں بھرپور انداز میں حصہ لے رہی ہیں۔ اندرون شہر کے علاوہ ٹھوکر نیاز بیگ، جلو موڑ، رائے ونڈ، صدر، کینٹ اور ماڈل ٹاؤن سمیت شہر کے تمام علاقوں میں مہم جاری ہے۔

    نواز شریف اورمریم نواز سے ایرانی سفیر کی ملاقات

    شہریوں کو پتنگ بازی کے دوران حفاظتی اقدامات اختیار کرنے، سیفٹی وائر کے استعمال اور دھاتی ڈور سے مکمل اجتناب کی تلقین کی جا رہی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کے لیے مختلف مقامات پر سیفٹی راڈز کی تنصیب اور تقسیم بھی کی جا رہی ہے۔

    تمام تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے آگاہی کیمپس قائم کیے گئے ہیں جن کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ مساجد کے پیش اماموں کے ذریعے بسنت سیفٹی ایس او پیز سے متعلق اعلانات بھی کروائے جا رہے ہیں جبکہ شہر کے اہم مقامات پر آگاہی بینرز اور پیغامات آویزاں کیے گئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے خطرناک اور کمزور عمارتوں کی چھتوں پر پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے سخت نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دھاتی ڈور اور دیگر غیر محفوظ سرگرمیوں سے دور رکھیں۔

    بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 سے صالح بھوتانی کامیاب قرار

    ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز نے واضح کیا ہے کہ بسنت کو خونی کھیل بنانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بسنت کے دوران ہوائی فائرنگ، اونچی آواز میں موسیقی اور خطرناک سرگرمیوں سے اجتناب کریں اور محفوظ بسنت منانے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

  • لاہور ہائیکورٹ میں مزید ججز کی تقرری، ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں مزید ججز کی تقرری، ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں عدالتی امور کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد ایڈیشنل ججز کی تقرری اور ایک ایڈیشنل جج کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں-

    وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدرِ مملکت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 193 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے لیے گیارہ ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری دے دی ہے،مقرر کیے گئے ججز میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وائیں، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چوہدری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس ابہر گل خان شامل ہیں، تمام ایڈیشنل ججز اپنی ذمہ داریاں حلف اٹھانے کی تاریخ سے سنبھالیں گے۔

    دکی :اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے سے 270 کلو منشیات چوری

    ایک اور نوٹیفکیشن میں صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکل 197 کے تحت لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدتِ ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری بھی دے دی ہے توسیع کا اطلاق ان کی موجودہ مدت کے اختتام کے بعد ہو گا،دونوں نوٹیفکیشنز پر وزارتِ قانون و انصاف کے سیکریٹری راجا نعیم اکبر کے دستخط ہیں اور انہیں گزٹ آف پاکستان کے پارٹ تھری میں شائع کرنے کے لیے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان مچل مارش پاکستان کے سرد موسم پر حیران