Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • بھارتی شہری نے اپنی اہلیہ کے پاکستان میں نکاح کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    بھارتی شہری نے اپنی اہلیہ کے پاکستان میں نکاح کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    بھارتی شہری کرنیل سنگھ نے پاکستان آنے کے بعد اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی اپنی اہلیہ سربجیت کور (نور فاطمہ) کے پاکستانی شہری سے نکاح کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    کرنیل سنگھ نے اس قانونی چارہ جوئی کے لیے پاکستان میں سابق رکن صوبائی اسمبلی مہندر پال سنگھ کو اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے اور ان کے ذریعے دائر درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ ان کی اہلیہ گزشتہ سال نومبر میں دس روزہ یاتری ویزے پر پاکستان آئی تھیں۔

    درخواست گزار کا الزام ہے کہ ان کی اہلیہ کو چند قابل اعتراض تصاویر کے ذریعے بلیک میل کیا گیا اور پھر دباؤ ڈال کر زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا، جس کے بعد ان کا نکاح ایک پاکستانی شہری سے کر دیا گیا،ہندو میرج ایکٹ کے مطابق محض مذہب کی تبدیلی سے پہلی شادی ختم نہیں ہوتی۔

    بھارتی حیدرآباد:رمضان کے دوران5 خصوصی پکوان ، جن کے بغیر سحری ممکن نہیں

    کرنیل سنگھ کا دعویٰ ہے کہ نور فاطمہ نے نکاح نامے میں خود کو طلاق یافتہ ظاہر کیا ہے جو کہ سراسر جھوٹ ہے کیونکہ ان کے پاس طلاق کی کوئی عدالتی ڈگری موجود نہیں اس بنیاد پر عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سربجیت کور عرف نور فاطمہ کا نکاح کالعدم قرار دیا جائے اور ویزے کی مدت ختم ہونے پر انہیں فوری طور پر ڈی پورٹ کرنے کا حکم جاری کیا جائےاس کے ساتھ ہی ان کے پاکستانی شوہر کے خلاف بھی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر بلیک میلنگ کے ذریعے یہ شادی کی۔

    دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے اس درخواست پر کچھ قانونی اعتراضات بھی عائد کیے ہیں رجسٹرار آفس کا کہنا ہے کہ درخواست گزار نے جو پاور آف اٹارنی جمع کرایا ہے وہ محکمہ خارجہ سے تصدیق شدہ نہیں ہے اور نکاح کی منسوخی کے لیے براہ راست ہائی کورٹ کے بجائے متعلقہ نچلے فورم سے رجوع نہیں کیا گیا ان اعتراضات کے باوجود جسٹس فاروق حیدر نے اس کیس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا یہ درخوا ست مزید کارروائی کے لیے قابل قبول ہے یا نہیں۔

    دوستوں پراندھا دھند فائرنگ کے واقعہ کے بعد دوسرے فریق نے بھی درخواست دے دی

    بھارتی میڈیا کے مطابق سربجیت کور4 نومبر کو سکھ یاتریوں کے ایک جتھے کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں تاکہ گرو نانک دیو کے 555ویں جنم دن کی تقریب پراکاش پرَو میں شرکت کر سکیں ان کا ویزا 13 نومبر 2025 تک کارآمد تھا، لیکن ویزے کی میعاد ختم ہونے کے باوجود وہ واپس بھارت نہیں گئیں اور اسی دوران ننکانہ صاحب کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی تھی،سربجیت کور پہلے سے طلاق یافتہ تھیں اور ان کے دو بیٹے ہیں، جن کے والد کرنیل سنگھ ہیں اور وہ گزشتہ تین دہائیوں سے انگلینڈ میں مقیم ہیں۔

  • عدالت کے  حکم پر 4سال سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کو بازیاب کروا لیا گیا

    عدالت کے حکم پر 4سال سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کو بازیاب کروا لیا گیا

    پولیس نے عدالت کے حکم پر 4سال سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کو بازیاب کروا لیا ہے-

    لاہور ہائیکورٹ میں 4سال سے ساہیوال سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی ،چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حکم پر 4سال سے لاپتہ ہونے والی لڑکی کو بازیاب کروالیا –

    آر پی او ساہیوال رانا ایاز سلیم نے لڑکی کو چیف جسٹس عالیہ نیلم کی عدالت میں پیش کردیا ،چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حکم پر لڑکی کی اہلخانہ سے ملاقات کرو ا ئی گئی ،لڑکی نے عدالت میں بیان دیا کہ میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے جس کے بعد عدالت نے لڑکی کو اس کے شوہر کے ساتھ بھجوادیا –

    ایرانی فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، چار افراد ہلاک

    جبکہ دوران سماعت چیف جسٹس عالیہ نیلم نے آر پی او ساہیوال کی کارکردگی کو سراہا ،واضح رہے کہ ساہیوال سے لڑکی کے اغوا کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کررکھی ہے-

    گزشتہ سماعت میں 4سال سے لاپتہ لڑکی عدم بازیابی پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا،انہوں نے آئی جی پنجاب کو حکم دیا تھا کہ بچیوں کے لاپتہ ہونے پر لاپرواہی نہیں ہونی چاہیے جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا تھا کہ یہ چار سال پرانا کیس ہے کل ہی فائل دیکھی ہے-

    چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا تھا کہ آپ بتائیں چار سال آپ کے تفتیشی نے کیا کچھ کیا ؟ جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ جب کیس شروع ہوا کچھ لوگوں کا ریمانڈ لیا گیا،پولیس نے کارروائی بھی کی تھی اب نئے سرے سے تفتیش کرتے ہیں-

    راولپنڈی کے 60 سالہ حکیم کی کم عمر لڑکی سے شادی،ویڈیو وائرل

    چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں جو چیزیں آپ بتا رہے وہ کیا بھی ہے یا صرف باتیں ہیں؟ایف آئی آر کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کو چار سال گزر گئے مگر کوئی اتا پتہ نہیں ،جب کوئی بچی مس ہوتی ہے تو پولیس کا مائنڈ سیٹ یہ ہوتا ہے کہ یہ خود ہی کہیں چل گئی ہے، بچیوں کے معاملے پر ایسا رویہ نہیں ہونا چاہیے –

    آئی جی پنجاب نے کہا کہ ہم اس کیس کی تفتیش دوبارہ سے شروع کرتے ہیں، ہم آپ کو اگلے منگل کا وقت دے رہےہیں یہ بچی بازیاب ہونی چاہیے
    آئی جی پنجاب نے کہا کہ تھوڑا سا مزید وقت دے دیں ہم ٹریس کرلیں گے ،چیف جسٹس نے کہا کہ کیا چار سال کا وقت تھوڑا ہوتا ہے جو مزید وقت چاہیے
    بعد ازاں عدالت نے آئی جی سے 24 فروری تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کردی-

    ٹی 20 ورلڈ کپ: سیمی فائنل کا مشروط شیڈول جاری

  • بسنت فیسٹیول:لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    بسنت فیسٹیول:لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے محفوظ بسنت منانے کے حوالے سے تمام حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس ملک اویس خالد نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کر دیا، عدالت نے مزید سماعت 11 فروری تک ملتوی کر دی،عدالت نے بسنت میں ریڈ وزن والے پارکوں میں میڈیکل سہولیات کیمپ قائم کرنے کا حکم دے دیا، بسنت کے فیسٹول کے دوران تمام فریقین عوام کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے، ایمرجنسی صورتحال میں تمام سہولیات کو فعال رکھا جائے، اے ڈی سی جی نے تین اسپتال موبلائزڈ کرنے کی رپورٹ پیش کی۔

    فیلڈ مارشل نے مسئلہ کشمیر پرجس عزم کا اظہار کیا،وہ سچ کردکھایا

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق بسنت کے تہوار کو شہریوں کے لیے محفوظ بنانے کے مقصد سے لاہور میں ضلعی انتظامیہ نے بھرپور آگاہی مہم شروع کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز کی ہدایت پر شہر بھر میں بسنت سیفٹی مہم زور و شور سے جاری ہے۔

    آگاہی مہم میں اسسٹنٹ کمشنرز، لاہور پولیس، ٹریفک پولیس، میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور، ریسکیو 1122 اور سول ڈیفنس کی ٹیمیں بھرپور انداز میں حصہ لے رہی ہیں۔ اندرون شہر کے علاوہ ٹھوکر نیاز بیگ، جلو موڑ، رائے ونڈ، صدر، کینٹ اور ماڈل ٹاؤن سمیت شہر کے تمام علاقوں میں مہم جاری ہے۔

    نواز شریف اورمریم نواز سے ایرانی سفیر کی ملاقات

    شہریوں کو پتنگ بازی کے دوران حفاظتی اقدامات اختیار کرنے، سیفٹی وائر کے استعمال اور دھاتی ڈور سے مکمل اجتناب کی تلقین کی جا رہی ہے۔ موٹر سائیکل سواروں کی حفاظت کے لیے مختلف مقامات پر سیفٹی راڈز کی تنصیب اور تقسیم بھی کی جا رہی ہے۔

    تمام تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنرز کی جانب سے آگاہی کیمپس قائم کیے گئے ہیں جن کی باقاعدہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ مساجد کے پیش اماموں کے ذریعے بسنت سیفٹی ایس او پیز سے متعلق اعلانات بھی کروائے جا رہے ہیں جبکہ شہر کے اہم مقامات پر آگاہی بینرز اور پیغامات آویزاں کیے گئے ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے خطرناک اور کمزور عمارتوں کی چھتوں پر پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ اس حوالے سے سخت نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے۔ والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو دھاتی ڈور اور دیگر غیر محفوظ سرگرمیوں سے دور رکھیں۔

    بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 سے صالح بھوتانی کامیاب قرار

    ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز نے واضح کیا ہے کہ بسنت کو خونی کھیل بنانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بسنت کے دوران ہوائی فائرنگ، اونچی آواز میں موسیقی اور خطرناک سرگرمیوں سے اجتناب کریں اور محفوظ بسنت منانے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

  • لاہور ہائیکورٹ میں مزید ججز کی تقرری، ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں مزید ججز کی تقرری، ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں عدالتی امور کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد ایڈیشنل ججز کی تقرری اور ایک ایڈیشنل جج کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں-

    وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدرِ مملکت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 193 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے لیے گیارہ ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری دے دی ہے،مقرر کیے گئے ججز میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وائیں، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چوہدری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس ابہر گل خان شامل ہیں، تمام ایڈیشنل ججز اپنی ذمہ داریاں حلف اٹھانے کی تاریخ سے سنبھالیں گے۔

    دکی :اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے سے 270 کلو منشیات چوری

    ایک اور نوٹیفکیشن میں صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکل 197 کے تحت لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدتِ ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری بھی دے دی ہے توسیع کا اطلاق ان کی موجودہ مدت کے اختتام کے بعد ہو گا،دونوں نوٹیفکیشنز پر وزارتِ قانون و انصاف کے سیکریٹری راجا نعیم اکبر کے دستخط ہیں اور انہیں گزٹ آف پاکستان کے پارٹ تھری میں شائع کرنے کے لیے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان مچل مارش پاکستان کے سرد موسم پر حیران

  • کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر  متعلقہ اداروں سےجواب طلب

    کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر متعلقہ اداروں سےجواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے آٹھویں جماعت کی طالبہ علایا سلیم کی درخواست پر سماعت کی، جو انہوں نے اپنی وکیل شیزا قریشی کی وساطت سے دائر کی تھی،عدالت نے وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کر لیا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے-

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثرات ڈال رہا ہے درخواست گزار کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیاد ی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کمسن بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔

  • جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع

    جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کے جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا-

    نوٹی فکیشن کے مطابق لاہور ہائیکورٹ اور پنجاب بھر کی ضلعی عدلیہ میں بائیو میٹرک تصدیق کے بعد ہی درخواستیں اور پٹیشنز دائر کی جا سکیں گی پنجاب بھر کی ضلعی عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے سے قبل بائیو میٹرک تصدیق کو لازم قرار دے دیا گیا ہے، اس فیصلے کے تحت درخواست گزار، مدعا علیہان اور دیگر تمام فریقین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق ضروری ہوگی تاکہ جعلی اور بوگس مقدمات کا راستہ روکا جا سکے۔

    عدالتی نظام میں شفافیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضمانتی بانڈ جمع کرانے والوں اور عدالت میں بیانات دینے والوں پر بھی بائیو میٹرک تصدیق لاگو کر دی گئی ہے اس اقدام کا بنیادی مقصد نقالی کی روک تھام اور عدالتی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کی نقول صوبہ بھر کے سیشن ججز سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بھجوا دی گئی تھیں۔

    کوہاٹ میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت

    گل پلازہ آتشزدگی ،مفتی تقی عثمانی کا سخت ردعمل، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت

    پاکستان کی ترقی تب ممکن ، جب چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر شریک ہوں، وزیراعظم شہباز شریف

  • جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری

    جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری

    اسلام آ باد:جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا، اجلاس کے اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی ہے لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس سردار اکبر علی کی مستقلی کی منظوری دی گئی ہےاسی طرح جسٹس سید احسن رضا، جسٹس ملک جاوید اقبال اور جسٹس محمد جواد ظفر کو بھی مستقل جج بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ‎
اسرائیل سے متعلق پاکستان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں، دفتر خارجہ

    جوڈیشل کمیشن اجلاس کے اعلامیے کے مطابق جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد اور جسٹس چوہدری سلطان محمود کی مستقلی کی بھی منظوری دی گئی ہے جبکہ جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل کو بھی مستقل جج مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج راجا غضنفر علی خان کو مستقل نہیں کیا جا سکا جب کہ ایڈیشنل جج طارق محمود باجوہ کو 6 ماہ کی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے پی ٹی آئی کے دو ممبران جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں مسلسل غیر حاضر ہو رہے ہیں۔

    چین نے امریکی و اسرائیلی سائبر سیکیورٹی سافٹ ویئر پر پابندی عائد کر دی

  • پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    لاہور ہائیکورٹ میں پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی-

    ایڈووکیٹ نبیل کاہلوں کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں 8 جنوری کو ہوگی،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی فروخت غیر آئینی اورقانونی طور پرمنسوخ قرار دی جا ئے۔

    درخواست گزارنے موقف اختیارکیا ہے کہ نجکاری کے عمل میں پی آئی اے کی اصل مالیت کونظراندازکرتے ہوئے اربوں روپے کی کم قیمت لگائی گئی، جوقومی مفاد کے منافی ہےپی آئی اے کے طیاروں اوراثاثوں کی مجموعی مالیت 460 ارب روپے سے زائد ہے، جسے نجکاری کے دوران مناسب قیمت پرنہیں رکھا گیا۔

    پی کے 79 ضمنی الیکشن میں ن لیگ امیدوار کی کامیابی درست قرار

    درخواست میں عدالت سے ی استدعا کی گئی ہے کہ نجکاری کے فیصلے کو معطل کیا جائے تاکہ قومی مفاد اور قانونی تقاضوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے دوسری جانب عدالت کے آئندہ سماعت میں دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکم نامہ جاری کیا جائے گا، جس سے پی آئی اے کی مستقبل کی نجکاری کے عمل پراثر پڑسکتا ہے۔

    ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے چند ادویات کی فروخت روک دی

  • 9 مئی کیس: خدیجہ شاہ نے  سزا کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    9 مئی کیس: خدیجہ شاہ نے سزا کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے 9 مئی کے کیس میں اپنی سزا کو چیلنج کر دیا ہے۔

    خدیجہ شاہ نے اپنے وکیل سمیر کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا کہ ان کا جناح ہاؤس کے قریب سپریم کورٹ کے جج کی اسکواڈ گاڑی کو آگ لگانے کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا، مجھے نہ تو انہیں ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا اور نہ ہی ضمنی بیانات میں ملوث کیا گیا جب کہ ان کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے کوئی شناختی پریڈ بھی نہیں کرائی گئی۔

    دوسری جانب، کوٹ لکھپت جیل کے اندر ہونے والے ٹرائل میں 51 ملزمان میں سے 21 کو بری کر دیا گیا، 12 کو اشتہاری قرار دیا گیا جب کہ خدیجہ شاہ ان 18 افراد میں شامل تھیں جنہیں سزا سنائی گئی، انہیں حال ہی میں 5 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی تھی۔

    سندھ میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے رینجرز کی خدمات طلب

    خدیجہ شاہ نے اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ کا مقدمہ صرف 9 مئی 2023 کے بعد ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر مبنی تھاتاہم ٹرائل کورٹ نے بغیر کسی قانونی بنیاد کے ان کا مکمل آن لائن ڈیٹا کھنگالا، اور الزامات کو ’ناقابلِ اعتبار، مبہم اور غیر پائیدار‘ قرار دیا۔

    اپیل میں زور دیا گیا ہے کہ فیصلہ محض ’قیاس آرائی‘ پر مبنی تھا اور اس میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا جو خدیجہ شاہ کو مبینہ جرم سے جوڑ سکےان کی قانونی ٹیم نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے 9 ستمبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں تمام الزامات سے بری کیا جائے۔

    فلسطینی صدر اقوام متحدہ اجلاس میں ویڈیو لنک پر خطاب کریں گے

    واضح رہے کہ خدیجہ شاہ نے 9 مئی ہنگامہ آرائی کے الزامات میں 23 مئی 2023 کو خود کو لاہور پولیس کے حوالے کردیا تھا، وہ کئی ماہ تک جیل میں قید رہیں اور سماعت کے لیے عدالت میں بھی پیش ہوتی رہیں آخر کار دسمبر 2023 میں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھاپولیس کا دعویٰ تھا کہ وہ 9 مئی کو کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر ہونے والے حملوں کے لیے اکسانے والے افراد میں سرفہرست تھیں اور انہیں دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت سرور روڈ پولیس میں درج ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں برآمد، وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی

  • پی آئی اے کی نجکاری لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج

    پی آئی اے کی نجکاری لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج

    قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کو لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے-

    ایڈووکیٹ نبیل جاوید کاہلوں نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا ہےکہ قومی ایئرلائن پی آئی اے اب منافع میں ہے تو اس کی نجکاری کیوں کی جارہی ہے؟ لاہور ہائیکورٹ فوری طور پر حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری سے روکے۔

    درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کو پہلے ہی پی آئی اے کی یونینز نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، پی آئی اے کی نجکاری کے لیے چار کنسورشیم نے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا تھا،چاروں کنسورشیم کے آفیشلز کے پی آئی اے ہیڈ آفس سمیت اہم تنصیبات کے دورے مکمل ہوچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نجکاری کمیشن (پی سی ) بورڈ نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی صدارت میں منعقدہ اپنے 237 ویں اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے لیے چار دلچسپی رکھنے والی پارٹیز کی پری کوالیفیکیشن کی منظوری دی تھی پی آئی اے کی نجکاری کے لیے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو بولی کھولی گئی تھی اور قومی ایئر لائن کے 60 فیصد حصص کی نجکاری کے لیے 85 ارب روپے کی خواہاں حکومت کو ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنی کی جانب سے صرف 10 ارب روپے کی بولی موصول ہوئی تھی،بعد ازاں دبئی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی گروپ نے حکومت کو 250 ارب روپے کے واجبات سمیت 125 ارب روپے سے زائد میں خریدنے کی پیشکش ارسال کی تھی۔

    النہانگ گروپ نے پی آئی اے کی خریداری کے لیے وزیر نجکاری، وزیر ہوا بازی اور وزیر دفاع سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بذریعہ ای میل پیشکش ارسال کی تھی،النہانگ گروپ نے حکومت کو پی آئی اے کے ملازمین کی چھانٹی نہ کرنے، تنخواہوں میں مرحلہ وار 30 سے 100 فیصد اضافے کی بھی پیشکش کی تھی۔