Baaghi TV

Tag: لاہور ہائیکورٹ

  • لاہور ہائیکورٹ میں مزید ججز کی تقرری، ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    لاہور ہائیکورٹ میں مزید ججز کی تقرری، ایک ایڈیشنل جج کی مدت میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری

    وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میں عدالتی امور کو مؤثر بنانے کے لیے متعدد ایڈیشنل ججز کی تقرری اور ایک ایڈیشنل جج کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں-

    وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدرِ مملکت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 193 کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے لیے گیارہ ایڈیشنل ججز کی تقرری کی منظوری دے دی ہے،مقرر کیے گئے ججز میں جسٹس حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان، جسٹس سردار اکبر علی، جسٹس سید احسن رضا کاظمی، جسٹس ملک جاوید اقبال وائیں، جسٹس محمد جواد ظفر، جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد، جسٹس چوہدری سلطان محمود، جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس ابہر گل خان شامل ہیں، تمام ایڈیشنل ججز اپنی ذمہ داریاں حلف اٹھانے کی تاریخ سے سنبھالیں گے۔

    دکی :اسسٹنٹ کمشنر آفس کے مال خانے سے 270 کلو منشیات چوری

    ایک اور نوٹیفکیشن میں صدرِ مملکت نے آئین کے آرٹیکل 197 کے تحت لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج جسٹس طارق محمود باجوہ کی مدتِ ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی منظوری بھی دے دی ہے توسیع کا اطلاق ان کی موجودہ مدت کے اختتام کے بعد ہو گا،دونوں نوٹیفکیشنز پر وزارتِ قانون و انصاف کے سیکریٹری راجا نعیم اکبر کے دستخط ہیں اور انہیں گزٹ آف پاکستان کے پارٹ تھری میں شائع کرنے کے لیے پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ارسال کر دیا گیا ہے۔

    آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان مچل مارش پاکستان کے سرد موسم پر حیران

  • کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر  متعلقہ اداروں سےجواب طلب

    کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی درخواست پر متعلقہ اداروں سےجواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے آٹھویں جماعت کی طالبہ علایا سلیم کی درخواست پر سماعت کی، جو انہوں نے اپنی وکیل شیزا قریشی کی وساطت سے دائر کی تھی،عدالت نے وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کر لیا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے-

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثرات ڈال رہا ہے درخواست گزار کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیاد ی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کمسن بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔

  • جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع

    جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کے جعلی مقدمات کی روک تھام کے لیے تیار کردہ منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا-

    نوٹی فکیشن کے مطابق لاہور ہائیکورٹ اور پنجاب بھر کی ضلعی عدلیہ میں بائیو میٹرک تصدیق کے بعد ہی درخواستیں اور پٹیشنز دائر کی جا سکیں گی پنجاب بھر کی ضلعی عدالتوں میں مقدمات دائر کرنے سے قبل بائیو میٹرک تصدیق کو لازم قرار دے دیا گیا ہے، اس فیصلے کے تحت درخواست گزار، مدعا علیہان اور دیگر تمام فریقین کے لیے بائیو میٹرک تصدیق ضروری ہوگی تاکہ جعلی اور بوگس مقدمات کا راستہ روکا جا سکے۔

    عدالتی نظام میں شفافیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضمانتی بانڈ جمع کرانے والوں اور عدالت میں بیانات دینے والوں پر بھی بائیو میٹرک تصدیق لاگو کر دی گئی ہے اس اقدام کا بنیادی مقصد نقالی کی روک تھام اور عدالتی کارروائی میں شفافیت کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی منظوری کے بعد اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا، جس کی نقول صوبہ بھر کے سیشن ججز سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بھجوا دی گئی تھیں۔

    کوہاٹ میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت

    گل پلازہ آتشزدگی ،مفتی تقی عثمانی کا سخت ردعمل، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت

    پاکستان کی ترقی تب ممکن ، جب چاروں صوبے ترقی کی دوڑ میں برابر شریک ہوں، وزیراعظم شہباز شریف

  • جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری

    جوڈیشل کمیشن کا اجلاس: لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری

    اسلام آ باد:جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا، اجلاس کے اعلامیے کے مطابق جوڈیشل کمیشن نے لاہور ہائیکورٹ کے 11 ایڈیشنل ججز کو مستقل کرنے کی منظوری دیدی ہے لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج حسن نواز مخدوم، جسٹس ملک وقار حیدر اعوان اور جسٹس سردار اکبر علی کی مستقلی کی منظوری دی گئی ہےاسی طرح جسٹس سید احسن رضا، جسٹس ملک جاوید اقبال اور جسٹس محمد جواد ظفر کو بھی مستقل جج بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ‎
اسرائیل سے متعلق پاکستان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں، دفتر خارجہ

    جوڈیشل کمیشن اجلاس کے اعلامیے کے مطابق جسٹس خالد اسحاق، جسٹس ملک محمد اویس خالد اور جسٹس چوہدری سلطان محمود کی مستقلی کی بھی منظوری دی گئی ہے جبکہ جسٹس تنویر احمد شیخ اور جسٹس عبہر گل کو بھی مستقل جج مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج راجا غضنفر علی خان کو مستقل نہیں کیا جا سکا جب کہ ایڈیشنل جج طارق محمود باجوہ کو 6 ماہ کی توسیع دینے کی منظوری دی گئی ہے پی ٹی آئی کے دو ممبران جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں مسلسل غیر حاضر ہو رہے ہیں۔

    چین نے امریکی و اسرائیلی سائبر سیکیورٹی سافٹ ویئر پر پابندی عائد کر دی

  • پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    لاہور ہائیکورٹ میں پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی-

    ایڈووکیٹ نبیل کاہلوں کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ میں 8 جنوری کو ہوگی،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کی فروخت غیر آئینی اورقانونی طور پرمنسوخ قرار دی جا ئے۔

    درخواست گزارنے موقف اختیارکیا ہے کہ نجکاری کے عمل میں پی آئی اے کی اصل مالیت کونظراندازکرتے ہوئے اربوں روپے کی کم قیمت لگائی گئی، جوقومی مفاد کے منافی ہےپی آئی اے کے طیاروں اوراثاثوں کی مجموعی مالیت 460 ارب روپے سے زائد ہے، جسے نجکاری کے دوران مناسب قیمت پرنہیں رکھا گیا۔

    پی کے 79 ضمنی الیکشن میں ن لیگ امیدوار کی کامیابی درست قرار

    درخواست میں عدالت سے ی استدعا کی گئی ہے کہ نجکاری کے فیصلے کو معطل کیا جائے تاکہ قومی مفاد اور قانونی تقاضوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے دوسری جانب عدالت کے آئندہ سماعت میں دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکم نامہ جاری کیا جائے گا، جس سے پی آئی اے کی مستقبل کی نجکاری کے عمل پراثر پڑسکتا ہے۔

    ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے چند ادویات کی فروخت روک دی

  • 9 مئی کیس: خدیجہ شاہ نے  سزا کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    9 مئی کیس: خدیجہ شاہ نے سزا کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرتے ہوئے 9 مئی کے کیس میں اپنی سزا کو چیلنج کر دیا ہے۔

    خدیجہ شاہ نے اپنے وکیل سمیر کھوسہ کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اپنایا کہ ان کا جناح ہاؤس کے قریب سپریم کورٹ کے جج کی اسکواڈ گاڑی کو آگ لگانے کے واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا، مجھے نہ تو انہیں ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا اور نہ ہی ضمنی بیانات میں ملوث کیا گیا جب کہ ان کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے کوئی شناختی پریڈ بھی نہیں کرائی گئی۔

    دوسری جانب، کوٹ لکھپت جیل کے اندر ہونے والے ٹرائل میں 51 ملزمان میں سے 21 کو بری کر دیا گیا، 12 کو اشتہاری قرار دیا گیا جب کہ خدیجہ شاہ ان 18 افراد میں شامل تھیں جنہیں سزا سنائی گئی، انہیں حال ہی میں 5 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی تھی۔

    سندھ میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے رینجرز کی خدمات طلب

    خدیجہ شاہ نے اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ استغاثہ کا مقدمہ صرف 9 مئی 2023 کے بعد ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر مبنی تھاتاہم ٹرائل کورٹ نے بغیر کسی قانونی بنیاد کے ان کا مکمل آن لائن ڈیٹا کھنگالا، اور الزامات کو ’ناقابلِ اعتبار، مبہم اور غیر پائیدار‘ قرار دیا۔

    اپیل میں زور دیا گیا ہے کہ فیصلہ محض ’قیاس آرائی‘ پر مبنی تھا اور اس میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا جو خدیجہ شاہ کو مبینہ جرم سے جوڑ سکےان کی قانونی ٹیم نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے 9 ستمبر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں تمام الزامات سے بری کیا جائے۔

    فلسطینی صدر اقوام متحدہ اجلاس میں ویڈیو لنک پر خطاب کریں گے

    واضح رہے کہ خدیجہ شاہ نے 9 مئی ہنگامہ آرائی کے الزامات میں 23 مئی 2023 کو خود کو لاہور پولیس کے حوالے کردیا تھا، وہ کئی ماہ تک جیل میں قید رہیں اور سماعت کے لیے عدالت میں بھی پیش ہوتی رہیں آخر کار دسمبر 2023 میں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی نے انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھاپولیس کا دعویٰ تھا کہ وہ 9 مئی کو کور کمانڈر ہاؤس لاہور پر ہونے والے حملوں کے لیے اکسانے والے افراد میں سرفہرست تھیں اور انہیں دہشت گردی اور دیگر الزامات کے تحت سرور روڈ پولیس میں درج ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا۔

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں برآمد، وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی

  • پی آئی اے کی نجکاری لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج

    پی آئی اے کی نجکاری لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج

    قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کو لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے-

    ایڈووکیٹ نبیل جاوید کاہلوں نے گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا ہےکہ قومی ایئرلائن پی آئی اے اب منافع میں ہے تو اس کی نجکاری کیوں کی جارہی ہے؟ لاہور ہائیکورٹ فوری طور پر حکومت کو پی آئی اے کی نجکاری سے روکے۔

    درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کو پہلے ہی پی آئی اے کی یونینز نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، پی آئی اے کی نجکاری کے لیے چار کنسورشیم نے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا تھا،چاروں کنسورشیم کے آفیشلز کے پی آئی اے ہیڈ آفس سمیت اہم تنصیبات کے دورے مکمل ہوچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ نجکاری کمیشن (پی سی ) بورڈ نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری اور چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی کی صدارت میں منعقدہ اپنے 237 ویں اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے لیے چار دلچسپی رکھنے والی پارٹیز کی پری کوالیفیکیشن کی منظوری دی تھی پی آئی اے کی نجکاری کے لیے گزشتہ سال 31 اکتوبر کو بولی کھولی گئی تھی اور قومی ایئر لائن کے 60 فیصد حصص کی نجکاری کے لیے 85 ارب روپے کی خواہاں حکومت کو ریئل اسٹیٹ مارکیٹنگ کمپنی کی جانب سے صرف 10 ارب روپے کی بولی موصول ہوئی تھی،بعد ازاں دبئی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی گروپ نے حکومت کو 250 ارب روپے کے واجبات سمیت 125 ارب روپے سے زائد میں خریدنے کی پیشکش ارسال کی تھی۔

    النہانگ گروپ نے پی آئی اے کی خریداری کے لیے وزیر نجکاری، وزیر ہوا بازی اور وزیر دفاع سمیت دیگر متعلقہ حکام کو بذریعہ ای میل پیشکش ارسال کی تھی،النہانگ گروپ نے حکومت کو پی آئی اے کے ملازمین کی چھانٹی نہ کرنے، تنخواہوں میں مرحلہ وار 30 سے 100 فیصد اضافے کی بھی پیشکش کی تھی۔

  • لاہور ہائیکورٹ نے قیام پاکستان سے پہلے کا جائیداد کا تنازعہ حل کردیا

    لاہور ہائیکورٹ نے قیام پاکستان سے پہلے کا جائیداد کا تنازعہ حل کردیا

    لاہور ہائیکورٹ نے قیام پاکستان سے پہلے شروع ہونے والا جائیداد کا تنازع حل کردیا-

    جسٹس خالد اسحاق نے جمشید سمیت دیگر کی اپیل پر 29 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیاعدالت نے قرار دیا کہ غفوراں بی بی اپنی زندگی میں کبھی عدالت نہیں گئیں اور ان کی وفات کے بعد اولاد نے 21 برس تک خاموشی اختیار کیے رکھی، اچانک 2009 میں 1952 کے معاہدے کے خلاف دعویٰ دائر کردیا جو قانون کے مطابق قابل سماعت نہیں تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ 1945 میں کریم بخش کی بھارت کے موضع براس میں زمین تھی، قیام پاکستان سے پہلے کریم بخش کا انتقال ہوچکا تھا، ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی پاکستان ہجرت کر کے آئے، کریم بخش کی جائیداد بڑے بیٹے عبدالغفور کے نام ہوئی لیکن وہ قیام پاکستان کے وقت ہی جاں بحق ہو گئے۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عبدالغفور کی بیوہ اور بھائی نے 1948 کے سیٹلمنٹ اینڈ ری ہیبلیٹیشن آرڈیننس کے تحت بھارت کی زمین کے عوض پاکستان میں جائیداد مانگی جس پر 1952 میں کامونکی میں پراپرٹی الاٹ کی گئی اور اس معاہدے میں عبدالغفور کی بیوہ اور بھائی کو شریک کیا گیا، معاہدے میں بہن غفوراں بی بی کا ذکر نہیں تھا۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ غفوراں بی بی 1988 تک زندہ رہیں لیکن انہوں نے کبھی اس معاہدے کو چیلنج نہیں کیا، ان کے بھائی 1985 تک زندہ رہے اور پراپرٹی ان کی اولاد میں تقسیم ہو گئی، غفوراں بی بی کی اولاد نے پہلی بار 2009 میں دعویٰ دائر کیا جو ٹرائل کورٹ نے 2013 میں خارج کردیا، بعدازاں اپیلٹ کورٹ نے یہ دعویٰ منظور کرتے ہوئے بہن کی اولاد کے حق میں فیصلہ دیا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے سامنے تین سوالات تھے، کیا تاخیر سے دائر دعویٰ قابلِ سماعت ہے یا نہیں؟ کیا بھارت سے منتقل شدہ جائیداد پر شریعت کا قانون لاگو ہوتا ہے؟ اور کیا 1952 میں بہن کو حصہ نہ دینا درست تھا؟

    عدالت نے قرار دیا کہ تاخیر سے دائر دعویٰ قانون کے مطابق ناقابل سماعت ہے، 1952 کے معاہدے میں شریعت ایکٹ لاگو تھا اور بہن یا ان کی اولاد نے دہائیوں تک کوئی آواز نہ اٹھا کر دعویٰ کرنے کا حق کھو دیا، اس بنیاد پر ہائیکورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا بہن کی اولاد کے حق میں فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

  • سلیمان شہباز کیخلاف اندراج مقدمہ کا حکم معطل کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    سلیمان شہباز کیخلاف اندراج مقدمہ کا حکم معطل کرنے کا تحریری فیصلہ جاری

    لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز کے خلاف چیک سے متعلق مقدمہ درج کرنے کے حکم کو معطل کرنے سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا-

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے سیلمان شہباز کی درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل حکم نامہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق سلیمان شہباز کی کمپنی نے مدعی سے 17 لیپ ٹاپ خریدے، ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ درخواست گزار کی کمپنی نے مدعی کو 3 مختلف چیک دیے، جو باؤنس ہوگئے، مدعی نے درخواست گزار کو لیگل نوٹس بھجوایا، جس کے جواب میں درخواست گزار کی کمپنی نے کسی بھی لیپ ٹاپ کی وصولی سے انکار کیا اور جواب دیا کہ کمپنی کے ملازم نے فراڈ سے چیک چوری کیے، جس کا مقدمہ ملازم کیخلاف درج کروایا جاچکا ہے، درخواست گزار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔

    غزالہ جاوید نے مرحوم اداکارہ حمیرا اصغر کی والدہ کو کھری کھری سنادیں

    واضح رہے کہ 16 جولائی کو لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعظم شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز کے خلاف چیک باؤنس ہونے کے معاملے میں مقدمہ درج کرنے کے جسٹس آف پیس کے حکم کو معطل کر دیا تھا، اور پولیس و دیگر فریقین سے رپورٹ طلب کرلی تھی،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سلیمان شہباز کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کی تھی، جس میں انہوں نے ماتحت عدالت کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

    انڈیگو کی پرواز میں مسلم نوجوان کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو وائرل

  • لاہور ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی مقدمات میں  تحریری فیصلہ جاری

    لاہور ہائیکورٹ: بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی مقدمات میں تحریری فیصلہ جاری

    لاہور ہائیکورٹ نے9مئی کے 8 مقدمات میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

    عدالت نے پولیس اہلکاروں کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کے مطابق9مئی واقعات کا منصوبہ 4 مئی کو تیار کیا گیا اور پلان بانی پی ٹی آئی نے ہی بنایا تھابانی پی ٹی آئی کے کیس کی نوعیت شریک ملزمان سے مختلف ہے کیونکہ وہ ایک لیڈر تھے اور ان کے الفاظ اور بیانات سے ریاستی املاک کو نقصان پہنچا،عدالت نے قرار دیا کہ یہ دلیل قابل قبول نہیں کہ 9 مئی کو بانی پی ٹی آئی جیل میں تھے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ ریاستی اداروں اور حکومت کو دباؤ میں لانے کے لیے مجرمانہ طاقت کا استعمال کیا گیا،پراسیکیوشن کے پاس آڈیو، ویڈیو اور ان کا ٹرانسکرپٹ بطور ثبوت موجود ہے، جو بانی پی ٹی آئی کی مبینہ سازش اور کردار کی نشاندہی کرتا ہے، بانی پی ٹی آئی کی طرف سے ادا کیے گئے سازشی الفاظ اور تقاریر نے عوام کو بھڑکایا، جس کے نتیجے میں ریاستی اداروں پر حملے کیے گئے۔