Baaghi TV

Tag: لاہور ہائی کورٹ

  • لاہور ہائی کورٹ نے شوکت خانم ٹرسٹ کا مؤقف مسترد کر دیا

    لاہور ہائی کورٹ نے شوکت خانم ٹرسٹ کا مؤقف مسترد کر دیا

    لاہور ہائی کورٹ نے شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کا مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نجی لیبارٹریاں اور صحت کے ادارے اپنی خدمات کی قیمتیں خود مقرر نہیں کر سکتے، اس کا حتمی اختیار پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے پاس ہے۔

    عدالت نے کہا کہ 2010ء کے ایکٹ کے تحت کمیشن کو یہ اختیار پہلے سے حاصل ہے اور ادارے اپنی خدمات پر 20 فیصد سے زائد منافع نہیں لے سکتے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ صحت کی خدمات کو تجارتی شے قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ انسانی زندگی کے حق سے جڑی ہوئی ہیں۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ کوئی بھی ادارہ اپنی خدمات کی قیمت صرف سرٹیفائیڈ چارٹرڈ یا کاسٹ اکاؤنٹینسی فرم سے طے کرا سکتا ہے، اور طے شدہ قیمت ہیلتھ کیئر کمیشن کی منظوری سے حتمی ہوگی۔

    چین نے امریکہ پر اضافی محصولات ایک سال کے لیے معطل کردیے

    چین نے امریکہ پر اضافی محصولات ایک سال کے لیے معطل کردیے

    جرمنی میں آن لائن فراڈ اور منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی، 18 گرفتار

  • پی ٹی آئی مینارِپاکستان جلسہ، اجازت پر پنجاب حکومت سے جواب طلب

    پی ٹی آئی مینارِپاکستان جلسہ، اجازت پر پنجاب حکومت سے جواب طلب

    لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کو مینارِ پاکستان پر جلسے کی اجازت کے معاملے پر پنجاب حکومت و دیگر سے جواب طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی 22 مارچ کو مینارِ پاکستان جلسے کی اجازت کے لیے تحریک انصاف کے نائب صدر اکمل خان باری کی درخواست پر سماعت لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے کی۔سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی 22 مارچ کو قانون اور آئین کے مطابق جلسہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ جلسہ منیار پاکستان پر کرنا چاہتے ہیں۔

    درخواست میں کہا گیا کہ انہوں نے عدالت کے حکم پر جلسے کی اجازت کے لیے ہوم سیکرٹری پنجاب کو درخواست دی۔ ہوم سیکرٹری نے ابھی تک ان کی درخواست پر فیصلہ نہیں کیا۔ ان کو پرامن جلسے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت مینار پاکستان پر 22 مارچ کو جلسے کی اجازت دے۔بعد ازاں عدالت نے صوبائی حکومت، ہوم سیکرٹری، آئی جی پنجاب پولیس اور ڈی سی لاہور سے کل جواب طلب کرلیا۔

    موبائل فونز کی درآمدات میں 13فیصد کمی

    دریائے سندھ پر 6 نہریں نہیں بننے دیں گے،سعید غنی

    جے یو آئی کے مرکزی رہنما حافظ حسین احمد انتقال کرگئے

  • چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ، جسٹس منصور علی شاہ کے تعینات کردہ افسران واپس

    چیف جسٹس کا بڑا فیصلہ، جسٹس منصور علی شاہ کے تعینات کردہ افسران واپس

    چیئرمین فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی اور چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے بڑا اقدام کرتے ہوئے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ڈیپوٹیشن پر تعینات پانچ جوڈیشل افسران کو واپس لاہور ہائی کورٹ بھجوا دیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے 5 ڈائریکٹرز کو واپس اپنے محکموں میں بجھوانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، پنجاب سے 5 جوڈیشل افسران کی خدمات لاہور ہائی کورٹ کو واپس کر دیں۔جوڈیشل افسران میں سیشن جج جزیلہ اسلم، ایڈیشنل سیشن جج عامر منیر، ڈاکٹر رائے محمد خان، راجہ جہانزیب اختر، اور سول جج شازیہ منور مخدوم شامل ہیں۔ نوٹی فکیشن میں جوڈیشل افسران کو قواعد کے تحت مقررہ وقت میں لاہور ہائی کورٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ نے بطور انچارج فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی لاہور ہائی کورٹ سے افسران کو ڈیپوٹیشن پر لیا تھا۔جسٹس منصور علی شاہ کے بعد فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کا انچارج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو بنایا گیا ہے۔

    بحریہ ٹاؤن کراچی کی تمام کمرشل پراپرٹی منجمد

    چین، روس اور ایران جوہری ہتھیاروں پر مذاکرات ، بیجنگ میزبان

    عمرایوب کوبلاول بھٹو پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے،شرجیل میمن

    تیل وگیس کی پیداوارمیں ہفتہ واربنیادوں پر اضافہ

    کم سن امریکی بچوں کی نازیبا وڈیوز بنانے والا ملزم کراچی سے گرفتار

  • پرویز الہیٰ پر پنجاب میں 32 مقدمات درج، پولیس رپورٹ

    پرویز الہیٰ پر پنجاب میں 32 مقدمات درج، پولیس رپورٹ

    لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی کیسز کی تفصیلات سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق ندیم نے چوہدری پرویز الٰہی کی درخواست پر سماعت کی۔ پنجاب پولیس کی جانب سے عدالت میں رپورٹ جمع کروا دی گئی۔سرکاری وکیل کے مطابق پرویز الہی پر پنجاب بھر میں 32 مقدمات ہیں۔ عدالت نے کہا کہ رپورٹس اگئی ہیں یہ کیس اب داخل دفتر کیا جاتا ہے۔ چوہدری پرویز الہیٰ کے وکیل نے استدعا کی کہ مھجے کچھ وقت دیں میں رپورٹ کو دیکھنے کے بعد دلائل دینا چاہتا ہوں۔ رپورٹ میں کچھ متضاد حقائق بیان کیے گئے ہیں۔

    عدالت نے کیس کی سماعت 10 مارچ تک ملتوی کر دی۔ درخواست میں حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔وکیل کے موقف کے مطابق درخواست گزار سابق وزیر اعلی اور سیاسی رہنما ہیں۔ درخواست گزار کیخلاف سیاسی بنیادوں پر مقدمات بنائے گئے ہیں۔ حکومتی ادارے درج کیسز اور انکوائریوں کی تفصیلات نہیں دے رہے۔ کسی نامعلوم کیس میں گرفتار کئے جانے کا خدشہ ہے۔ عدالت تمام کیسز اور انکوائریز کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دے۔

    دوسری جانب اینٹی کرپشن عدالت لاہور میں چوہدری پرویز الہیٰ سمیت دیگر کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مبینہ غیرقانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے پرویز الہی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کرلی۔ عدالت نے سماعت 25 مارچ تک ملتوی کردی۔جج کے ٹرانسفر کے باعث سماعت ڈیوٹی جج نے کی۔پنجاب اسمبلی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے مقدمے کا چالان اینٹی کرپشن نے جمع کروا رکھا ہے۔

    کراچی، چچا سے بھتہ مانگنے والا بھتیجا چار ساتھیوں سمیت گرفتار

    شریف اور پرویز الہی فیملی کےسابق وکیل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب تعینات

    سونا عوام کی پہنچ سے مزید دور ، قیمت میں بڑا اضافہ

    حکومت سندھ کی منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی

  • نگران حکومت نے قانون کے مطابق چیئرمین نادرا کو تعینات کیا، عدالت

    نگران حکومت نے قانون کے مطابق چیئرمین نادرا کو تعینات کیا، عدالت

    لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نگران حکومت نے قانون کے مطابق چیئرمین نادرا کو تعینات کیا۔

    لاہور ہائی کورٹ نے چیرمین نادرا کو عہدے سے ہٹانے کا سنگل بنچ کا حکم کالعدم قرار دینے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا، جسٹس چوہدری محمد اقبال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سولہ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ نگران حکومت نے قانون کے مطابق چیئرمین نادرا کو تعینات کیا، نگران حکومت نے قانون میں دیے گے اختیارات کے تحت چیئرمین نادرا کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔اس میں کہا گیا کہ منتحب وفاقی حکومت نے چیئرمین نادرا کی تعیناتی کا دوبارہ مارچ میں نوٹیفکیشن کیا، درخواست گزار نے منتحب وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کو چیلنج نہیں کیا تھا۔

    لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ منتخب وفاقی حکومت نے چیئرمین نادرا کو مستقل تعینات کرنے کا بھی ایک نوٹیفکیشن کیا تھا، وفاقی حکومت نے چیئرمین نادرا کی تعیناتی کے دو نوٹیفکیشن جاری کیے۔اس میں کہا گیا کہ درخواست گزار نے دونوں نوٹیفکیشن کا درخواست میں ذکر نہیں کیا، درخواست گزار کی درخواست کی بنیاد حقائق کے برعکس ہیں، عدالت وفاقی حکومت کی اپیل کو منظور کرتی ہے،عدالت سنگل بنیچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتی ہے۔

    سندھ بھر میں ان فٹ کمرشل گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز

    گھر میں سوئی ماں اور بیٹی پر ملزم تیزاب پھینک کر فرار

    وزیر داخلہ سندھ کا جج کی بے ضابطگیوں پر چیف جسٹس کو خط ارسال کرنے کا اعلان

    7 ماہ کی بچی سے زیادتی کے مجرم کو پھانسی کی سزا

    پیٹرولیم ڈیلرز کا پمپس بند کرنے کا عندیہ

  • نواز شریف کی صدارت میں انتظامی اجلاس کا اقدام عدالت میں چیلنج

    نواز شریف کی صدارت میں انتظامی اجلاس کا اقدام عدالت میں چیلنج

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی صدارت میں انتظامی اجلاس کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : درخواست ندیم سرور ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی، درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ نواز شریف نہ تو وزیر ہیں اور نہ وزیراعلیٰ ہیں، ان کے پاس کوئی انتظامی عہدہ نہیں ہے، نواز شریف انتظامی سطح پر کسی اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتے، درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ نوازشریف کو انتظامی سطح پر اجلاس کی صدارت سے روکنے کا حکم جاری کیا جائے۔

    آرمی چیف کی شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات

    الیکشن کی تیاریاں زوروں سے شروع،امیدوار متحرک

    وزیر اعظم کے سی پیک بارے مثبت ریمارکس،چین کا بھی خیر مقدم

  • پرویز الہی کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری،توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    پرویز الہی کی عدالتی حکم کے باوجود گرفتاری،توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور صدر پی ٹی آئی چوہدری پرویز الہی کو عدالتی حکم کے باوجود گرفتار کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں چوہدری پرویز الہٰی کو عدالتی حکم کے باوجود گرفتار کرنے کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس سلطان تنویر احمد نے چوہدری پرویز الہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی درخواست پر سماعت کی۔

    لاہور ہائی کورٹ نے آئی جی اسلام آباد، چیف کمشنر اور ایس پی آپریشنز کے پیش نہ ہونے پر افسوس کا اظہارِ کیا عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تینوں افسران پیش ہوئے اور نہ ہی جواب داخل کرایا، آئی جی اسلام آباد وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود پیش نہیں ہوئے،بعدازاں عدالت نے آئی جی اسلام آباد سمیت دیگر کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا –

    قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس سلطان تنویر احمد نے پرویز الہٰی کو بحفاظت گھر نہ پہچانے کے معاملے پر ایس ایس پی اسلام آباد کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا،عدالت نے 18 دسمبر کو ایس ایس پی اسلام آباد کو پیش ہونے یا پھر بذریعہ وکیل پیش ہونے کا حکم دیا تھا ،عدالت نے اپنے احکامات پر عمل نہ کرنے پر ایس ایس پی اسلام آباد سے توہین عدالت کی وضاحت طلب کی ۔

    یاد رہے کہ پرویز الہٰی کی اہلیہ قیصرہ الہی نے توہین عدالت کی درخواست ہائیکورٹ دائر کررکھی ہے۔

  • شہریار آفریدی سمیت 5 افراد کی فوجی تنصیبات پر حملے میں ضمانت منظور

    شہریار آفریدی سمیت 5 افراد کی فوجی تنصیبات پر حملے میں ضمانت منظور

    لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے پی ٹی آئی کے سابق وزیر شہریار آفریدی سمیت 6 ملزمان کی ضمانت منظور کر لی، جن پر 9 مئی کو مبینہ طور پر فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کا الزام تھا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صفدر سلیم شاہد اور جسٹس انوار الحق پنوں پر مشتمل ڈویژن بنچ نے شہریار آفریدی اور درخواست گزار نادیہ حسین، حیدر محمود خان، عصمت اللہ، بالاج خان اور شیر سکندر سمیت پانچ دیگر کی ضمانت منظور کی۔
    ان کے خلاف راولپنڈی کے آر اے بازار تھانے میں جی ایچ کیو میں توڑ پھوڑ اور شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار محترمہ نادیہ حسین کو نہ تو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں نامزد کیا گیا اور نہ ہی شناختی پریڈ میں ان کی شناخت کی گئی۔ افشاں خان نامی خاتون کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے یکم جون کو پہلے ہی ڈسچارج کر دیا ہے۔
    بنچ کے مطابق دو مشتبہ افراد شہر یار افریدی خان اور شیر سکندر کو نامزد کیا گیا تھا لیکن ان پر کوئی خاص الزام نہیں لگایا گیا تھا۔ انہوں نے مبینہ طور پر فوج کے خلاف نعرے لگائے۔ تاہم ایف آئی آر میں ان الزامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔اسی طرح، ملزمان، عصمت اللہ اور بالاج خان کو ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا تھا لیکن انہیں شناختی پریڈ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جس میں کوئی فوجی افسر موجود نہیں تھا۔
    شہر یار آفریدی کے ملوث ہونے پر بحث کرتے ہوئے بنچ نے بتایا کہ انہوں نے مبینہ طور پر فوج کی تنصیبات پر لوگوں کو حملے کے لیے اکسایا۔ جس پر وکیل صفائی نے دلیل دی کہ آفریدی کو ان الزامات پر ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔
    بینچ اس بات پر "حیران” تھا کہ مبینہ حملوں کے دوران "کسی شخص کو چوٹ نہیں آئی” اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا کوئی ریکارڈ شکایت کے ساتھ منسلک نہیں کیا گیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ چونکہ یہ مقدمہ اے ٹی اے کے دائرہ کار میں نہیں آتا اور ملزمان کے خلاف دائر دیگر جرائم قابل ضمانت ہیں، اس لیے ان کی ضمانت کی درخواستیں 100،000 روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی گئیں۔

  • ایک مقدمہ میں ضمانت ہوتی ہے تودوسرامقدمہ درج کرلیا جاتا ہے،عمران خان کی لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    ایک مقدمہ میں ضمانت ہوتی ہے تودوسرامقدمہ درج کرلیا جاتا ہے،عمران خان کی لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات اور ہراساں کرنے سے روکنے کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے دی گئی لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں وفاقی وزارت دفاع، داخلہ، قانون وانصاف، چاروں صوبوں کے آئی جیز، ڈی جی ایف آئی اے، الیکشن کمیشن، پیمراء، وفاقی وزیر داخلہ اور ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کو فریق بنایا گیا ہےدرخواست انتظار حسین پنجوتھہ ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی ہے۔

    17 ملٹری کورٹس کام کر رہیں،102 شرپسندوں کا ٹرائل ہو رہا،ڈی جی آئی ایس پی …

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کو سیاسی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ایک مقدمہ میں ضمانت ہوتی ہے تو دوسرا مقدمہ درج کرلیا جاتا ہے، درخواست گزار کو ایف آئی آرز کی کاپیاں بھی فراہم نہیں کی جاتیں، درخواست گزار کو معلوم نہیں کہ اس کے خلاف کہاں کہاں مقدمات درج کیے گئے ہیں-

    توشہ خانہ ریفرنس کیس ،عمران خان کی حفاظتی ضمانت کی درخواست خارج

    دخواست میں مزید کہا گیا کہ ایک ہی نوعیت کے معاملے پر متعدد فورمز پر کارروائیاں جاری ہیں، آئین کے آرٹیکل 10 اے کےتحت شفاف ٹرائل ہر شہری کا بنیادی حق ہے، شفاف ٹرائل کے لئے مقدمات کےاندراج کی معلومات اور ان تک رسائی ہر شہری کا قانونی حق ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت 9 مئی کے بعد درج مقدمات کی تمام تفصیلات فراہم کرنے اور درخواست گزار کو کسی بھی مقدمے یا طلبی کے نوٹس میں ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے۔

    فوجی عدالتوں میں سویلین کا ٹرائل،سپریم کورٹ کا بینچ پھر ٹوٹ گیا

  • اعتماد کےووٹ سےمتعلق لاہور ہائیکورٹ کےحکم کو درست تسلیم نہیں کرتا،ملک احمد خان

    اعتماد کےووٹ سےمتعلق لاہور ہائیکورٹ کےحکم کو درست تسلیم نہیں کرتا،ملک احمد خان

    لاہور: وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک احمد خان نے کہا ہےکہ وہ اعتماد کے ووٹ سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے حکم کو درست تسلیم نہیں کرتے۔

    باغی ٹی وی: ملک احمد خان نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے اراکین زیادہ تھے، اگر گنتی ہوتی توپھرفلور ٹیسٹ پاس ہوتا لیکن اسپیکر نے یس اور نوپرفیصلہ کردیا، یس اور نو کے ووٹ گننے کی ہماری درخواست بھی نہیں مانی گئی۔

    انہوں نے کہا کہ اعتمادکے ووٹ سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے حکم کو درست تسلیم نہیں کرتا، اس حکم میں گورنر کا اختیار سلب کیا گیا جو عدالت کا اختیار ہی نہیں تھا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ نہ لیے جانے پر شور شرابہ کیا تھا جس کے بعداسمبلی کا اجلاس ملتوی ہوگیا تھا۔

    عمران خان کی وزیراعلیٰ پرویز الہی سے ملاقات،سیاسی صورتحال پر گفتگو

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے سے زائد کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس میں پرویز الٰہی کی جانب سے اعتماد کا ووٹ نہ لیے جانے پراپوزیشن اور حکومتی ارکان نے شورشرابہ کیا۔

    حکومتی ارکان نے رانا ثنا اور عطاتارڑ کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ اپوزیشن اراکین نے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا اور ایجنڈے کے کاغذات حکومتی ارکان کی طرف پھینک دیئے۔

    بلوں کی منظوری کے دوران اپوزیشن کے ایوان میں اعتماد کا ووٹ لو کے نعرے لگائے۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر اسمبلی اجلاس 10 جنوری دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

    سندھ حکومت کا ہیریٹیج اور آثار قدیمہ کی حفاظت کیلئے فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ