Baaghi TV

Tag: لاہور

  • پی ٹی  آئی  رہنما  شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف  مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور:پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا –

    باغی ٹی وی : مقدمہ نمبر 23/373 سب انسپکٹر کی مدعیت میں تھانہ ریس کورس لاہور میں درج ہوا، ایف آئی آر کے متن کے مطابق شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری نے زمان پارک میں پریس کانفرنس کی،پریس کانفرس میں رش کے باعث کینال روڈ بلاک ہوگئی-

    ایف آئی آر کے مطابق رہنما پی ٹی آ ئی فواد چودھری نے اشتعال انگیز تقریر کی ، فواد چودھری نے عوام کو حکومت کے خلاف اکسایا،فواد چودھری نے شارع عام پر آمدورفت میں خلل ڈال کر جرم کا ارتکاب کیا-

    مقدمہ میں روڈ بلاک ، دھمکیوں ، اشتعال انگیز تقاریر سمیت دیگر دفعات شامل ہیں-

    دوسری جانب اس معاملے پر پی ٹی آئی رہنماوں کی جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا-

  • نیب ٹیم زمان پارک پہنچ گئی

    نیب ٹیم زمان پارک پہنچ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب ٹیم عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک نوٹس دینے پہنچ گئی

    نیب کی 2 رکنی ٹیم زمان پارک پہنچ گئی ، نیب ٹیم ممنوعہ فنڈنگ کیس میں نوٹس دینے زمان پارک آئی ہے،نیب ٹیم کو عمران خان کے گھر تک رسائی نہ مل سکی ،نیب ٹیم کو عمران خان کی سیکورٹی نے روک لیا، نیب ٹیم کو عمران خان سے نہیں ملنے دیا جا رہا ،. زمان پارک پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد موجود ہے

    https://twitter.com/mugheesali81/status/1632720636861730819

    نیب ٹیم سے صحافی نے سوال کیا کہ عمران خان کو نیب کی جانب سے کونسا نوٹس وصول کروایا گیا۔ نیب اہلکاروں نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے گریزکیا،

    قبل ازیں سابق وزیر اعظم عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں نیب نے طلب کر رکھا ہے، نیب راولپنڈی نے سابق وزیراعظم عمران خان کو 9 مارچ کو طلب کرنے کا نوٹس جاری کیا ہے قومی احتساب بیورو نے 8 نومبر 2022 کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے خلاف توشہ خانہ کیس کی تحقیقات شروع کی تھیں جس کے بعد کابینہ ڈویژن اور سرکاری توشہ خان سے عمران خان کے تحائف کا ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن، سرکاری توشہ خانہ کے افسران کا ابتدائی بیان بھی قلمبند کر لیا گیا ہے، ڈی جی نیب راولپنڈی توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں، واضح رہے سابق وزیر اعظم عمران خان پر توشہ خانہ کے تحائف لیتے ہوئے اشیاء کے کم ریٹ لگانے کا الزام ہے

    اس سے تو یہ ثابت ہوا کہ پلی بارگین کے بعد بھی ملزم کا اعتراف جرم تصور نہیں ہو گا،چیف جسٹس

    ، 25 کروڑ آبادی میں سے عمران خان ہی نیب ترامیم سے متاثر کیوں ہوئے؟

    ، نیب ترامیم کیس گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا اس کیس کو ختم ہونے میں وقت لگے گا،

  • صدر مملکت عارف علوی اور عمران خان کی ملاقات ختم

    صدر مملکت عارف علوی اور عمران خان کی ملاقات ختم

    صدر مملکت عارف علوی اور عمران خان کی ملاقات ختم ہو گئی

    ملاقات تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی عمران خان سے ملاقات کے لئے اسلام آباد سے لاہور زمان پارک آئے تھے،ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات کے بعد صدر مملکت واپس روانہ ہو گئے، ملاقات میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ،زمان پارک میں عمران خان کی دیگر پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں جاری ہیں تا ہم گزشتہ روز جب پولیس عمران خان کو گرفتار کرنے آئی تھی تو عمران خان پولیس کو زمان پارک میں نہ ملے، مبینہ طور پر عمران خان زمان پارک سے فرار ہو گئے تھے، بعد ازاں پولیس کی واپسی پر واپس آئے،

    زمان پارک میں تحریک انصاف کے کارکنان موجود ہیں ، خواتین کارکنان بھی موجود ہیں، زمان پارک میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے حوالہ سے چند مبینہ آڈیوز بھی سامنے آئی ہیں،

    زمان پارک فحاشی کا اڈہ بن گیا،یاسمین راشد کی ایک اور آڈیو لیک،تحریک انصاف کا گھناؤنا چہرہ سامنے آ گیا

    آڈیو لیک؛ زمان پارک میں عورتوں کے ساتھ زیادتی

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    توشہ خانہ گرفتاری سے بچنے کے لیے جیل بھرو تحریک کا شوشہ چھوڑا گیا 

    عمران خان وزیرآباد حملے کے بعد سے اب تک زمان پارک لاہور اپنی رہائشگاہ پر موجود تھے، عمران خان کی رہائشگاہ کی اطراف سیکورٹی بیریئر لگائے گئے تھے ، تحریک انصاف کی پنجاب میں حکومت ختم ہوئی تو نگران حکومت کا قیام عمل میں‌ آیا، اس دوران زمان پارک سے ہر تیسرے روز عمران خان کی متوقع گرفتاری کا شوشہ چھوڑا جاتا اور کارکنان کو زمان پارک بلا لیا جاتا ، کارکنان زمان پارک عمران خان کی رہائشگاہ کے اطراف میں جمع رہتے ہیں

  • عورت مارچ کی اجازت نہ دینے پر ڈپٹی کمشنر لاہور کی عدالت طلبی

    عورت مارچ کی اجازت نہ دینے پر ڈپٹی کمشنر لاہور کی عدالت طلبی

    لاہور ہائیکورٹ،عورت مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے کل ڈپٹی کمشنر لاہور اور ایس پی سیکیورٹی کو طلب کر لیا جسٹس انوار حسین کے عورت مارچ منتظمین کی درخواست پر سماعت کی،،درخواست گزار صباحت رضوی کی جانب سے عورت مارچ پر پابندی چیلنج کی گئی تھی ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی لاہور کا عورت مارچ پر پابندی فیصلہ غیر قانونی ہے،عورت مارچ میں خواتین کے حقوق کی تحفظ کی بات ہوتی ہے،پر امن مارچ پر پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے،عدالت عورت مارچ پر پابندی سے متعلق ڈی سی لاہور کا فیصلہ کالعدم قراردیا جائے،

    دوسری طرف عورت مارچ کے منتظمین کی تیاریاں بھی جاری ہیں اس سال عورت مارچ ناصر باغ کے قریب منعقد ہوگا جس میں سول سوسائٹی، ٹرانس جینڈر کمیونٹی سمیت خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم این جی اوز کے رہنما اور کارکنان شریک ہوں گے۔

    عورت مارچ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظاہرہ ان کا آئینی حق ہے، اس سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے، 8 مارچ کو ناصر باغ کے قریب مارچ کریں گے۔ عورت مارچ لاہور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک ایسے شہر میں جہاں بڑے ہجوم کو پی ایس ایل کے لیے جمع ہونے کی اجازت ہے، خواتین اور صنفی اقلیتوں کے پرامن اجتماع کو اجازت نہیں دی جا رہی،کیا کرکٹ میچز صنفی تشدد کے مسائل سے زیادہ اہم ہیں؟ لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کے باوجود لاہور انتظامیہ کا قابل مذمت اقدام ہے ہم آٹھ مارچ کو بتائی گئی جگہ پر ہی مارچ کریں گے، کئی برسوں سے ہم یہ پروگرام کرتے آ رہے ہیں ،پاکستانی خواتین اور خواجہ سراؤں کے کے حق کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے، ہر اس نظام کے خلاف لڑیں گے جو ان پر ظلم کرنا چاہتا ہے

    عورت مارچ نا منظور،مردان میں "مرد مارچ” کے نعرے

    مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

  • عمران خان کی  گرفتاری میں ناکامی پر مریم نواز کا ردعمل سامنے آگیا

    عمران خان کی گرفتاری میں ناکامی پر مریم نواز کا ردعمل سامنے آگیا

    لاہور: عمران خان کے وارنٹ گرفتاری اور گرفتاری میں ناکامی پر مریم نواز کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مریم نواز کا کہنا ہے کہ شیر بے گناہ بھی ہو تو بیٹی کا ہاتھ تھام کر لندن سے پاکستان آکر گرفتاری دیتا ہے اور گیڈر چور ہو تو گرفتاری سے ڈر کے دوسروں کی بیٹیوں کو ڈھال بنا کر چھپ جاتا ہے۔

    عمران خان قاتلانہ حملے کی کہانی جھوٹ پر مبنی ہے، رانا ثنااللہ

    عمران خان کو للکارتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ باہر نکلو بزدل آدمی، انہوں نے کہا کہ لیڈر اور گیڈر کا فرق جان گئی قوم-


    مریم نواز نے عمران خان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف سے درخواست کی کہ تھوڑی سی بہادری عمران خان کو ادھار دے دیں پلیز –


    جبکہ مریم نواز نے ہیش ٹیگ #عمران_گھبرانا_نہیں کا ستعمال کیا اور گیدڑ والی ایک تصویر بھی شئیر کی جس پر لکھا ہوا تھا کہ لیڈر نہیں گیدڑ-

    عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی سینئرقیادت کا ہنگامی اجلاس جاری

    واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد پولیس کی ٹیم وارنٹ گرفتاری لے کر زمان پارک پہنچی تھی تاہم اسلام آباد پولیس کے مطابق زمان پارک میں عمران خان نہیں ملے، افسران کو آگاہ کردیا ہے۔

  • اسلام آباد پولیس نے زمان پارک سے واپس جانے کی خبروں کی تردید کر دی

    اسلام آباد پولیس نے زمان پارک سے واپس جانے کی خبروں کی تردید کر دی

    اسلام آباد پولیس نے زمان پارک سے واپس جانے کی خبروں کی تردید کر دی-

    باغی ٹی وی: ایس پی سٹی اسلام آباد حسین طاہر کی سربراہی میں ٹیم لاہور پہنچی تھی۔ ایس پی سٹی حسین طاہر نے ٹیم کے ہمراہ زمان پارک پہنچ کر وارنٹ گرفتاری دکھائے اور نوٹس جمع کروا کر واپس روانہ ہوگئے تاہم اب اسلام آباد پولیس نے ان خبروں کی تردید کی ہے-

    عمران خان قاتلانہ حملے کی کہانی جھوٹ پر مبنی ہے، رانا ثنااللہ

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ پولیس ٹیم تاحال زمان پارک موجود ہے-

    آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان کا کہنا ہے کہ عدالت نے وارنٹ جاری کیا ہے ،پہلے عمران خان کی گرفتاری عمل میں لائی جاسکتی ہے،بجائے اس کےکہ کارکنوں کو مشتعل کرائیں،قانون پر عمل کریں ،دوسری جانب عدالت نے 7مارچ تک عمران خان کو گرفتارکرکے پیش کرنے کا کہا ہے-

    اسلام آباد پولیس عدالت کے حکم پر گرفتاری کیلئے ایس پی سٹی حسین طاہر کی سربراہی میں ٹیم لاہورزمان پارک پہنچی تھی، اسلام آباد عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کےلئے لاہور پولیس کومعاونت کیلئے درخواست دی تھی ،لاہور پولیس زمان پارک کے اطراف میں جمع ہونا شروع ہوگئی اور لوہے کے جنگلے بھی طلب کر لیے ہیں۔ زمان پارک میں کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    لاہور پولیس کی مزید نفری کو الرٹ کر دیا گیا جبکہ اینٹی رائٹ فورس کے جوان پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں تیار ہیں، واٹر کینن بھی تیار کر لیا گیا۔ زمان پارک کے باہر پولیس وین بھی پہنچ گئی۔

    عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی سینئرقیادت کا ہنگامی اجلاس جاری

    اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ عدالت نےعمران خان کی گرفتاری کا حکم دیا ہےمکمل قانونی تقاضے پورے کر کے عمران خان نیازی کو گرفتار کیاجائے گا،عمران خان نیازی کو گرفتار کرکے 7 مارچ کو پیش کیا جائے-

    ایس پی اسلام آباد حسین طاہر نے کہا کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کیلئے پہنچے ہیں ،عمران خان کوبولیں گے کہ عدالت میں آئیں ،عمران خان اگر عدالت نہیں آتے ہیں تو گرفتار کیا جائے گا،پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کررہے ہیں ہم نوٹس لے کر پہنچے ہیں-

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق لاہور پولیس کے تعاون سے تمام کارروائی مکمل کی جارہی ہے، عدالتی احکامات کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،اسلام آباد پولیس اپنی حفاظت میں عمران خان کو اسلام آباد منتقل کرے گی-

    ایشیا کپ 2023 سے متعلق بابر اعظم کا بیان سامنے آ گیا

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہے،عمران خان گرفتاری سے گریزاں ہیں، ایس پی صاحب کمرے میں گئے ہیں مگر وہاں عمران خان موجود نہیں-

  • اسلام آباد پولیس نوٹس جمع کروا کرعمران خان کی گرفتاری کے بغیر زمان پارک سے چلی گئی

    اسلام آباد پولیس نوٹس جمع کروا کرعمران خان کی گرفتاری کے بغیر زمان پارک سے چلی گئی

    لاہور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کے معاملے پر اسلام آباد پولیس کی ٹیم نوٹس جمع کروا کر زمان پارک سے چلی گئی۔

    باغی ٹی وی: ایس پی سٹی اسلام آباد حسین طاہر کی سربراہی میں ٹیم لاہور پہنچی تھی۔ ایس پی سٹی حسین طاہر نے ٹیم کے ہمراہ زمان پارک پہنچ کر وارنٹ گرفتاری دکھائے اور نوٹس جمع کروا کر واپس روانہ ہوگئے –

    عمران خان کے وارنٹس کی تعمیل ہو گئی ، شبلی فراز نے وارنٹس موصول کر لئے وصولی رپورٹ کے مطابق عمران خان گھر میں دستیاب نہیں ، وارنٹس کے جواب میں تمام لیگل پراسیس پر عمل کی یقین دہانی کروا دی گئی-

    اسلام آباد پولیس عدالت کے حکم پر گرفتاری کیلئے ایس پی سٹی حسین طاہر کی سربراہی میں ٹیم لاہورزمان پارک پہنچی تھی، اسلام آباد عمران خان کی ممکنہ گرفتاری کےلئے لاہور پولیس کومعاونت کیلئے درخواست دی تھی ،لاہور پولیس زمان پارک کے اطراف میں جمع ہونا شروع ہوگئی اور لوہے کے جنگلے بھی طلب کر لیے ہیں۔ زمان پارک میں کارکنوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    لاہور پولیس کی مزید نفری کو الرٹ کر دیا گیا جبکہ اینٹی رائٹ فورس کے جوان پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ میں تیار ہیں، واٹر کینن بھی تیار کر لیا گیا۔ زمان پارک کے باہر پولیس وین بھی پہنچ گئی۔

    اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ عدالت نےعمران خان کی گرفتاری کا حکم دیا ہےمکمل قانونی تقاضے پورے کر کے عمران خان نیازی کو گرفتار کیاجائے گا،عمران خان نیازی کو گرفتار کرکے 7 مارچ کو پیش کیا جائے-

    ایس پی اسلام آباد حسین طاہر نے کہا کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کیلئے پہنچے ہیں ،عمران خان کوبولیں گے کہ عدالت میں آئیں ،عمران خان اگر عدالت نہیں آتے ہیں تو گرفتار کیا جائے گا،پی ٹی آئی قیادت سے رابطہ کررہے ہیں ہم نوٹس لے کر پہنچے ہیں-

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق لاہور پولیس کے تعاون سے تمام کارروائی مکمل کی جارہی ہے، عدالتی احکامات کی تکمیل میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی،اسلام آباد پولیس اپنی حفاظت میں عمران خان کو اسلام آباد منتقل کرے گی-

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہے،عمران خان گرفتاری سے گریزاں ہیں، ایس پی صاحب کمرے میں گئے ہیں مگر وہاں عمران خان موجود نہیں-

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری کاکہنا ہےکہ عمران خان کی گرفتاری کی کوئی بھی کوشش حالات کو شدید خراب کردےگی، میں اس نااہل اورپاکستان دشمن حکومت کوخبردارکرناچاہ رہا ہوں،پاکستان کو مزید بحران میں نہ دھکیلیں اور ہوش سےکام لیں۔

    رہنما پی ٹی آئی حماد اظہر اور فواد چوہدری نے کارکنوں سے اپیل کی کہ تمام کارکن فوری طور پر زمان پارک پہنچیں،تحریک انصاف کے رہنما یاسمین راشد،فواد چوہدری،فرخ حبیب بھی زمان پارک پہنچ گئے جبکہ کارکنوں کی بڑی تعداد بھی زمان پارک موجود ہے-

    فرخ حبیب عمران خان کا جینا مرنا پاکستان میں ہے،عمران خان لاہور ہائی کورٹ اور اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہوئے ہیں،عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے،عمران خان کی ملک کے لیے خدمات ہیں ،یہ ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں ،کسی صورت حکومت کو عمران خان کی گرفتاری ممکن نہیں ہونے دیں گے، عدالت میں پیشی پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے-

    نگران صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر نے کہا کہ اسلام آباد پولیس عدالتی حکم پر عمران خان کو گرفتار کرنے آئی ہے ، پنجاب حکومت اسلام آباد پولیس کی آئین اور قانون کے مطابق معاونت کرے گی-

    ذرائع کے مطابق عمران خان کے لیے اڈیالہ جیل میں سیل تیار کیا جارہا ہے، عمران خان کو اڈیالہ جیل کے اسی سیل میں رکھا جائے گا جس میں 2019 میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کرکے رکھا گیا تھالاہور ائیرپورٹ پر خصوصی طیارے کو اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے۔

    دوسری جانب آئی جی اسلام آباد نے ایس ایس پی اسلام آباد سے رابطہ کیا اور انہیں عمران خان کو آج ہی گرفتار کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    زمان پارک میں میڈیا سےگفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ روز اتنے مقدمات میں پیش ہو، ان حکمرانوں نے ملک اور معیشت کو ڈبو دیا ہے، ان حکمرانوں کا واحد مقصد ملک میں فسادات کرنا ہے تاکہ انتخابات ملتوی ہو جائیں، عمران خان کی گرفتاری کا مقصد صرف ملک کے حالات خراب کرنا ہےحکومت فسطائیت کا مظاہرہ کر رہی ہے، حکومت ملک میں امن و امان کا مسئلہ کھڑا کرنا چاہتی ہے، حکومت پی ٹی آئی کےکارکنوں کو اشتعال دلانا چاہتی ہےحکومت عمران خان پرایک اورقاتلانہ حملہ کرانا چاہتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف اور محسن نقوی میں کوئی فرق نہیں، ہم عدالتوں میں قانون کےمطابق ڈیل کر رہےہیں، حکومت انتخابات سے فرار چاہتی ہے، عدالتیں ایک بھگوڑے کو نہیں بلا رہیں۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے نوٹس دیکھ لیا ہے، نوٹس میں گرفتاری کا حکم نہیں، وکلا سے مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، ہمارا سیاسی رد عمل بھی ہوگا لیکن بلاوجہ گھبرانےکی ضرورت نہیں عمران خان کی جان کو خطرہ تھا اور ہے، عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا،عین ممکن ہے ان پر دوبارہ قاتلانہ حملے کا پلان کیا جا رہاہو، عمران خان کے خطاب میں کل جارحیت نہیں تھی، عمران خان نے یکجہتی کی بات کی، عقل کے اندھے جو اس وقت کارروائیاں کرنے کی کوشش کر رہےہیں وہ زخم پرنمک پاشی کر رہےہیں، عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے بجائے مرہم رکھنےکی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت سیاسی اور معاشی بحران سے دوچار ہے، ملک کواس وقت سکیورٹی چیلنجز بھی درپیش ہیں، حقیقی اصولوں پرسمجھوتہ نہیں کریں گےہمیں صرف سکیورٹی کےتحفظات ہیں، کسی میں سمجھ داری ہے توہم خلا پرکرنےکےلیےتیارہیں لیکن اپنےبنیادی اصولوں سےنہیں ہٹیں گےحکومت انتخابات سےفرارچاہتی ہے30 اپریل کو پنجاب میں انتخابات ہونے ہیں، یہ حکومت گھبرا چکی ہے، پولیس اور حکومت دونوں کنفیوژ ہیں جب کہ پی ٹی آئی پرُسکون ہے اور متحد ہے۔

    خیال رہے کہ 28 فروری کو توشہ خانہ کیس میں عدم پیشی پر ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ظفر اقبال نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھےسیشن عدالت نے عمران خان کو گرفتار کرکے7 مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

    عدالت نے 28 فروری کو عمران خان کو عدالت میں پیش ہونے کا آخری موقع دے رکھا تھا کیونکہ عمران خان پر توشہ خانہ کیس میں فرد جرم عائد کی جانی تھی عمران خان نے سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ قرار دیا تھا۔

    عمران خان نے ٹرائل کورٹ کو کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرنے کی استدعا کی تھی لیکن عدالت نے عمران خان کی عدالت منتقل کرنے کی استدعا مسترد کی تھی۔ عمران خان 28 فروری کو جوڈیشل کمپلیکس میں پیش ہوئے تھے لیکن کچہری نہ گئے۔

  • عورت مارچ،حکومت کا اجازت سے انکار،منتظمین ڈٹ گئے

    عورت مارچ،حکومت کا اجازت سے انکار،منتظمین ڈٹ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آٹھ مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن کی مناسبت سے ملک بھر کے کئی شہروں میں تقریبات ہو تی ہیں، عورت مارچ کے نام سے بھی کئی شہروں میں پروگرام ہوتے ہیں تا ہم رواں برس پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں عورت مارچ کی درخواست سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے مسترد کر دی گئی جس پر عورت مارچ انتظامیہ نے احتجاج کیا ہے

    عورت مارچ کی آرگنائزنگ کمیٹی نے 8 مارچ کو ناصرباغ لاہور کے قریب مارچ کا فیصلہ کیا ہے منتظمین کا کہنا ہے عورت مارچ ان کا آئینی حق ہے اوروہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ڈی سی لاہور نے عورت مارچ کی آرگنائزنگ کمیٹی کو مال روڈ پر مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ، ڈپٹی کمشنر لاہور نے جماعت اسلامی سمیت دیگر تنظیموں کے احتجاج کے پیش نظر عورت مارچ کی انتظامیہ کو ایوان اقبال، ناصر باغ، الحمرا ہال سمیت مال روڈ پر مظاہرے کی اجازت دینے سے انکار کیا۔

    ٹرانس جینڈر کمیونٹی، خواتین کی این جی اوز اور سول سوسائٹی نے عورت مارچ کیلئے ڈپٹی کمشنر رافعہ حیدر کو درخواست دی تھی تا ہم انہوں نے اجازت دینے سے معذرت کر لی رافعہ حیدر کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اداروں کی رپورٹس میں عورت مارچ کے حوالے سے سکیورٹی خدشات ظاہر کئے گئے ہیں اس بنیاد پر عورت مارچ کی درخواست منظور نہیں کی۔

    عورت مارچ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظاہرہ ان کا آئینی حق ہے، اس سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے، 8 مارچ کو ناصر باغ کے قریب مارچ کریں گے۔ عورت مارچ لاہور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک ایسے شہر میں جہاں بڑے ہجوم کو پی ایس ایل کے لیے جمع ہونے کی اجازت ہے، خواتین اور صنفی اقلیتوں کے پرامن اجتماع کو اجازت نہیں دی جا رہی،کیا کرکٹ میچز صنفی تشدد کے مسائل سے زیادہ اہم ہیں؟ لاہور اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں کے باوجود لاہور انتظامیہ کا قابل مذمت اقدام ہے ہم آٹھ مارچ کو بتائی گئی جگہ پر ہی مارچ کریں گے، کئی برسوں سے ہم یہ پروگرام کرتے آ رہے ہیں ،پاکستانی خواتین اور خواجہ سراؤں کے کے حق کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے، ہر اس نظام کے خلاف لڑیں گے جو ان پر ظلم کرنا چاہتا ہے

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ میں عورت مارچ پر پابندی کا اقدام چیلنج کر دیا گیا ،درخواست گزار صباحت رضوی کی جانب سے عورت مارچ پر پابندی چیلنج کی گئی ،لاہو ر ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی لاہور کا عورت مارچ پر پابندی فیصلہ غیر قانونی ہے،عورت مارچ میں خواتین کے حقوق کی تحفظ کی بات ہوتی ہے،پر امن مارچ پر پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے،عدالت عورت مارچ پر پابندی سے متعلق ڈی سی لاہور کا فیصلہ کالعدم قراردیا جائے،

    عورت مارچ کو روکا جائے،وزیر مذہبی امور کے خط کے بعد بحث جاری

    عورت مارچ نا منظور،مردان میں "مرد مارچ” کے نعرے

    مرد دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو گھر سے نکال دیتا ہے،وزیراعظم

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

    عورت مارچ کے خلاف برقع پوش خواتین سڑکوں پر آ گئیں، بے حیائی مارچ نا منظور کے نعرے

    اسلام آباد: عورت مارچ اور یوم خواتین ریلی کے شرکا میں تنازع، عورت مارچ شرکاء نے دیکھتے ہی غلیظ نعرے اورپتھراو شروع کردیا

    عورت مارچ پر پتھراوَ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج

    حنا پرویز بٹ "عورت مارچ” کے حق میں کھڑی ہو گئیں

  • نیب نے عثمان بزدار کو 20 صفحات پر مشتمل سوالنامہ دے دیا

    نیب نے عثمان بزدار کو 20 صفحات پر مشتمل سوالنامہ دے دیا

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات انکوائری، نیب لا ہور کی کمبائنڈ انوسٹی گیشن ٹیم نے عثمان بزدار کو 20 صفحات پر مشتمل سوالنامہ دے دیا

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو آئندہ پیشی پر سوالنامہ مکمل کر کے ہمراہ لانے کی ہدایت کر دی گئی، عثمان بزدار نیب تفتیشی ٹیم کی سوالوں پر تسلی بخش جواب نہیں دے سکے،عثمان بزدار دوران سوالوں پر کہتے رہے معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق عثمان بزدار نے متعدد سوالوں ہر لاعلمی کا اظہار کیا بعض پر قانونی مشاورت کے لیے وقت مانگا،نیب نے عثمان بزدار کیخلاف مختلف محکموں سے ریکارڈ طلب کر رکھا ہے، عثمان بزدار کو آئندہ ہفتے پھر طلب کیے جانے پر غور کیا جا رہا ہے،

    عثمان بزدار کیخلاف نیب لاہور کو 10 ارب روپے کے اثاثے کرپشن سے بنانے کی شکایت ہے، عثمان بزدار کے وکیل کا کہنا ہے کہ نیب تفتیشی ٹیم سے مکمل تعاون کیا، سوالات مضحکہ خیز تھے،پوچھتے ہیں کیا اسپین میں بھی آپ نے جائیدادیں بنائی ہیں،سابق وزیراعلیٰ نے کہا الیکشن کمیشن کے روبرو تمام ریکارڈ جمع کروایا، دیکھ لیں نیب نے پوچھا کہ اپنے دور حکومت میں کتنی ٹرانسفر پوسٹنگ کیں،نیب کو کہا یہ ریکارڈ آپ متعلقہ سیکرٹریز سے منگوا سکتے ہیں،نیب نے وہ سوال کیے جن کا بالواسطہ یا بلاواسطہ عثمان بزدار سے کوئی تعلق نہیں، وکیل عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ نیب نے جو سوالنامہ دیا ہے وہ 13 سال میں بھی مکمل نہیں کیا جا سکتا،

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    وزیراعلیٰ پنجاب کی نیب میں طلبی،ترجمان پنجاب حکومت کا موقف آ گیا

    حمزہ شہباز کو جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ مریم اورنگزیب نے کیا بڑا انکشاف

    نیب قانون میں اپوزیشن کی جانب سے ترامیم کا مسودہ، قریشی نے کھری کھری سنا دیں، کہا تحریک انصاف کیلئے یہ ممکن نہیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

  • تحریک انصاف کے رہنماؤں کی نظر بندی کا نوٹفکیشن معطل

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کی نظر بندی کا نوٹفکیشن معطل

    ‏لاہور ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کی نظر بندی کا نوٹفکیشن معطل کردیا

    عدالت نے تمام رہنماؤں کو رہا کرنے کا حکم دے دیا ،جسٹس طارق سلیم نے شیخ تحریک انصاف کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 3 ایم پی او کے تحت نظر بند اور گرفتار ہونے والے رہنماؤں کو الگ الگ کٹیگری میں رکھیں، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ اگر ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ میں رضاکارانہ طور ہر گرفتاری دیتا ہوں، جب وہ اپنی مرضی سے کہتے ہین کہ وہ اپنی رضاکارانہ طور ہر گرفتاری واپس لیتے ہین تو اس صورتحال میں کیا ہوگا، سرکاری وکیل نے عدالت نے 15 منٹ کا وقت مانگ لیا کہا کہ 15 منٹ دے دیں مین چیک کرلیتا ہوں کون ایم پی او کے تحت اور کس کیخلاف مقدمات درج ہین،

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ جیل بھرو تحریک گرفتاری دینے والے رہنماوں کو نظربند کردیا گیا۔نظربندیوں کےاحکامات غیر قانونی طور پر جاری کئے گئے۔لاہور ہائیکورٹ تحریک انصاف کے نظر بند ہونے والے رہنماوں اور کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم دے ۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں نے جیل بھرو تحریک کے دوران گرفتاریاں دی تھیں جس کے بعد پنجاب حکومت نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو نظر بند کر دیاتھا ,سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عمران خان نے جیل بھرو تحریک معطل کرنے کا اعلان کیا تھا تحریکِ انصاف کی جیل بھرو تحریک 22 فروری کو لاہور سے شروع ہوئی تھی

    تحریک انصاف کے رہنماؤں کو جیل میں سہولیات دینے کا اعلان 

     تحریک انصاف کے رہنماء اور کارکن گرفتاری دیئے بغیر واپس روانہ 

    توشہ خانہ گرفتاری سے بچنے کے لیے جیل بھرو تحریک کا شوشہ چھوڑا گیا 

     گرفتار پی ٹی آئی رہنماوں کو دوسرے شہر منتقل کرنے کا فیصلہ

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    جیل بھرو تحریک،تحریک انصاف کا رہنما گرفتاری دینے کی بجائے بھاگ نکلا،ویڈیو

    تحریک انصا ف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو ڈسٹرکٹ جیل اٹک منتقل کیا گیا ہے جبکہ اسد عمر کو راجن پور ، محمد خان مدنی کو بہاولپور، ڈاکٹر مراد راس کو ڈی جی خان جیل منتقل کیا گیاہے ۔سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو بھکر جیل میں منتقل کیا گیا ہے لیہ جیل میں 24 کارکنان ، بھر میں 24 اور راجن پور جیل میں 25 کارکنان کو منتقل کیا گیا ہے