Baaghi TV

Tag: لاہور

  • سموگ،لاہور کا پھر پہلا نمبر،محکمہ موسمیات نے سنائی بارش کی نوید

    سموگ،لاہور کا پھر پہلا نمبر،محکمہ موسمیات نے سنائی بارش کی نوید

    لاہور سمیت پنجاب میں اسموگ سے فضائیں زہرآلود ہو گئیں

    لاہور میں ائیرکوالٹی انڈیکس ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گیا،لاہور کا اے کیو آئی 1591 تک جا پہنچا ، دنیاکے آلودہ ترین شہروں میں آج بھی پہلا نمبر آ گیا،ملتان میں ایئر کوالٹی انڈیکس 559، فیصل آباد 405، پشاور 270، اسلام آباد 186 اور راولپنڈی میں اے کیو آئی 199 ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    دوسری جانب محکمہ موسمیات نے بارش کی نوید بھی سنائی ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے 16 نومبر تک لاہور، راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، تلہ گنگ، جہلم، فیصل آباد، گوجرانوالہ، میانوالی، خوشاب اور سرگودھا میں بارش کا امکان ہے،15 نومبر کو بھکر، لیہ اور ڈی جی خان میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، بارش سے سموگ میں کمی متوقع ہے۔

    ضلعی انتظامیہ لاہور نے مارکیٹس کو رات 8بجے بند کرانے اور آئوٹ ڈور ڈائننگ پر پابندی کی خلاف ورزیوں پر کارروائیاں کرتے ہوئے 3مقدمات درج کر لئے۔ضلعی انتظامیہ سموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر عملدرآمد کیلئے متحرک ہوگئی، رات گئے 46کارروائیوں میں 3 مقدمات کا اندراج، 5چھوٹی دکانوں کو آخری وارننگز جبکہ 41دکانیں سیل کی گئیں۔

    علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے اسموگ 5 سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے انتہائی خطرناک قرار دے دی ہے،پاکستان کے فضائی معیار کو دیکھتے ہوئے اقوام متحدہ نے اسموگ 5 سال سے کم عمر بچوں اور حاملہ خواتین کے لیے انتہائی خطرناک قرار دی ،پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے عبداللہ فاضل نے کہا کہ پنجاب میں اسموگ کی تشویشناک صورتحال کے باعث اسکول بند کرنا ضروری ہیں، زیادہ تر اسکول آن لائن کلاسز کی اہلیت نہیں رکھتے جس سے تقریباً 6 کروڑ بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

  • انتہائی خطرناک شوٹر و اجرتی قاتل  اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    انتہائی خطرناک شوٹر و اجرتی قاتل اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

    آرگنائزڈکرائم یونٹ ماڈل ٹاؤن اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے
    پنجاب میں دہشت کی علامت سمجھا جانے والا انتہائی خطرناک شوٹر و اجرتی قاتل اعظم خان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا، انسپکٹر عمران یوسف اور ان کی ٹیم ملزم برریمانڈجسمانی کو ساتھیوں کی گرفتاری اور برائے برآمد گی آلہ قتل علاقہ تھانہ کاہنہ لے جارہی تھی،نامعلوم ملزمان نے اپنےساتھی کو چھڑوانے کے لیے پولیس پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، ملزم کے ساتھیوں کی فائرنگ سے شوٹر اعظم خان شدید زخمی ہو گیا جس کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا جو کہ راستے میں ہی دم توڑ گیا، ہلاک ملزم قتل، اقدام قتل،ناجائز اسلحہ جیسی خطرناک وارداتوں میں ریکارڈ یافتہ تھا ،سال 2023 میں علاقہ تھانہ لیاقت آباد لاہور میں ملزم نے شہری طلحہ عرفان اور عمر بٹ کو سر میں فائر مار کر بے دردی سےقتل کر دیا تھا

    یاد رہے کہ ہلاک ملزم نے عرصہ 14 سال قبل کوٹ لکھپت کے علاقہ میں شہری فیاض حسین کو اندھا دھند فائرنگ کرکے ناحق قتل دیا تھا، شوٹر معمولی پیسوں کے عوض شہریوں کو زخمی اور قتل کردیتا ،ہلاک ملزم قتل کی وارداتیں کر کے خیبر پختونوں فرار ہو گیا تھا ، ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ ہلاک ہونے والے ملزم کے دیگر ساتھی اندھیرے کا فائده اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے جن کی گرفتاری کے لیے علاقہ میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

  • لاہور سمیت کئی شہروں میں سموگ کا راج برقرار

    لاہور سمیت کئی شہروں میں سموگ کا راج برقرار

    لاہور ہائیکورٹ ،تین سالہ بچی کی اسموگ کے تدارک کی درخواست جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی متفرق درخواست پر سماعت ہوئی

    وکیل درخواست گزار نے درخواست جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں بھیجنے کی استدعا کر دی ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایسی درخواستیں جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں زیر سماعت ہیں، عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست جسٹس شاہد کریم کی عدالت میں بھیج دی جائے،عدالت نے فائل چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو ارسال کردی ،عدالت نے درخواست کو جسٹس شاہد کریم کے پاس سماعت کے لیے بھیجوانے کی سفارش کی ،جسٹس عابد عزیز شیخ نے تین سالہ بچی امل سکھیرا کی درخواست پر سماعت کی،

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہےکہ معاملہ انتہائی اہم اور میڈیکل ایمرجنسی سے متعلق ہے، معاملہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کی جائے،

    دوسری جانب لاہور میں دھند کا راج برقرار ہے،بھارتی دارالحکومت دہلی پہلے اور لاہور دوسرے نمبر پر آ گیا،آلودہ ترین شہروں میں دہلی کا ائیر کوالٹی انڈیکس 1267 ریکارڈ کیا گیا جبکہ لاہورکی ہوا میں آلودگی کا تناسب 644 ریکارڈ کیا گیا،لاہور کے بعد ملتان کا دوسرے اور اسلام آباد کا تیسرا،جبکہ راولپنڈی کا چوتھا اور پشاور کا پانچوں کا نمبر پرشمار کیا گیا ہے،پنجاب کے میدانی علاقوں میں شدید دھند اور اسموگ کے باعث مختف موٹرویز بھی بند کردیے جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی۔

    انسداد سموگ کے حوالے سے پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں سموگ کا باعث بننے والے عوامل کے خلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہے۔ کیمروں کی مدد سے ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والی درجنوں گاڑیوں کو پکڑوایا گیا ہے۔ دھواں چھوڑتی گاڑی نظر آنے پر فورا فیلڈ فورسز کے ذریعے پکڑوایا جا رہا ہے، ترجمان کے مطابق دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو ای چالان جاری کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ آرٹیفشل انٹیلیجنس سسٹم کے ذریعے 300 سے زائد گاڑیوں کو ای چالان جاری کیے گئے ہیں۔ لاہور کے داخلی و خارجی راستوں اور اہم شاہراہوں پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ کوڑے کو آگ لگانے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، اور دھول، مٹی، ریت، اور گندگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں.

    جو سموگ آ گئی یہ جنوری تک رہےگی،مستقل پالیسی بنائیں،عدالت

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • محکمانہ احتساب میں مزید سختی ، پنجا ب پولیس کےچار اہلکارنوکری سے برطرف

    محکمانہ احتساب میں مزید سختی ، پنجا ب پولیس کےچار اہلکارنوکری سے برطرف

    لاہور: لاہور پولیس نے چیکنگ کے دوران شہری سے 85 ہزار روپے ہتھیانے والے چار اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کردیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور پولیس کے آپریشن ونگ نے محکمانہ احتساب میں مزید سختی کرتے ہوئے چار اہلکاروں کی نوکری ختم کردی ہےڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر ایس ایس پی آپریشنز نے بعد از انکوائری اہلکاروں کو برطرف کرنے کے آرڈر جاری کر دیئے ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق اہلکاروں کو انکوائری رپورٹ میں قصور وار ثابت ہونے پر ڈسمس کیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق نوکری سے ہٹائے جانے والوں میں ہیڈ کانسٹیبل محمد نواز، کانسٹیبل امتیاز احمد، حمیر الحسن اور نعمان ساجد شامل ہیں جنہوں نے پانچ نومبر کو خیبرپختونخوا کے ضلع چار سدہ کے رہائشی مصطفیٰ اور ادریس کو خریداری کے بعد بس اڈے سے حراست میں لیا اور چیکنگ کے بہانے نامعلوم مقام پر لے گئے تھے برخاست اہلکاروں نے مصطفی اور ادریس سے 85 ہزار روپے ہتھیائے جس کا انہوں نے دوران تفتیش اعتراف بھی کرلیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا ہے کہ عوام کو تنگ کرنے اور قانون شکنوں کی محکمہ میں کوئی جگہ نہیں ہے، لاہور پولیس خوداحتسابی کے تمام اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہے، افسر ہو یا اہلکار، اختیارات سے تجاوز کرنے پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے حکومت پنجاب کی اوپن ڈور پالیسی کے تحت لاہور پولیس کے تمام افسران روزانہ مسائل سنتے ہیں، لاہور پولیس سے متعلق شکایت کی سنوائی متعلقہ دفتر میں نہ ہو تو شہری میرے دفتر بلاجھجک آسکتے ہیں۔

    دوسری جانب نجاب پولیس میں کانسٹیبلز کی بھرتیوں کا ریکارڈ غائب کر دیا گیا ہے جس کا بھانڈا آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹ میں پھوڑا گیا ہے۔

    آڈیٹر جنرل کی جانب سے سال 2023-2024 کی آڈٹ رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ضلع ننکانہ صاحب میں 171 کانسٹیبل اور لیڈی کانسٹیبل کی بھرتیاں ہوئیں جس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریکارڈ موجود نہ ہونے سے بھرتی کے عمل کی شفافیت اور درستگی پر سوالیہ نشان ہے، ریکارڈ کی عدم موجودگی انتظامی غفلت کا نتیجہ ہے، متعلقہ شعبے کو ریکارڈ پیش کرنے بارے خطوط لکھے گئے لیکن اب تک ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔

    آڈٹ رپورٹ میں معاملے کے ذمہ داروں کیخلاف تادیبی کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی اور کہا گیا ہے کہ بھرتی کے عمل کا سارا ریکارڈ بھی آڈٹ آفس میں جمع کروایا جائے۔

  • پنجاب میں کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ

    پنجاب میں کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافہ

    پنجاب میں پانچ برسوں میں کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی و بدفعلی کے 5ہزار 6 سو 23 واقعات ہوئے ہیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق 2020 میں کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کے 1ہزار 82 واقعات رپورٹ ہوئے، 2021میں پنجاب میں کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کے 11سو 48 کیسسز درج ہوئے،2022 میں 1ہزار 1 سو 11 کیسسز سامنے آئے، 2023 میں کم عمر بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں اضافے کے بعد کیسسز کی سالانہ تعداد 12 سو 5 ہوگئی،2024 کے صرف دس ماہ میں 1ہزار 77 کم عمر بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا،5 ہزار 6 سو 23 کیسسز میں سے 4ہزار 6سو کیسسز چالان ہوئے،9سو 62 کیسسز مختلف وجوہات کی بنا پر کینسل ہوگئے

    پنجاب میں بدفعلی کے واقعات میں مسلسل اضافہ، نہ صرف ایک سماجی مسئلہ بن چکا ہے بلکہ یہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحہ فکریہ بھی ہے۔ حالیہ دنوں میں بدفعلی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے نہ صرف متاثرہ افراد کی زندگیوں کو اجیرن کر دیا ہے بلکہ پورے معاشرتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔پنجاب کے مختلف علاقوں میں بدفعلی کے واقعات کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان واقعات میں سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بیشتر کیسز میں متاثرہ افراد کے اہل خانہ یا قریبی رشتہ دار بھی ملوث ہیں، جو کہ معاشرتی اعتبار سے انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔

    پنجاب پولیس نے بدفعلی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔ جدید تفتیشی ٹیکنالوجی کا استعمال، متعین پولیس فورس اور عوامی آگاہی مہمات جیسے اقدامات شروع کیے گئے ہیں۔ تاہم، کئی افراد کا یہ ماننا ہے کہ اگر پولیس اور حکومت وقت پر سخت اور فوری کارروائی کرتی، تو ان واقعات کی روک تھام ممکن تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بدفعلی کے واقعات صرف قانونی یا انتظامی مسئلہ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک سماجی بیماری بن چکی ہے۔ ان واقعات کی سب سے بڑی وجہ معاشرتی بے راہ روی، غربت، تعلیم کی کمی اور ذہنی صحت کے مسائل ہیں۔ خاندانوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بچوں کو مناسب تربیت نہ دینا، اور اسکولوں میں اخلاقی تعلیم کی کمی بھی ان مسائل کی جڑ ہے۔

    یہ واقعات نہ صرف متاثرہ افراد کے لیے تکلیف دہ ہیں بلکہ یہ ان کے پورے خاندانوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بدفعلی کا شکار ہونے والے افراد کی بحالی اور انہیں انصاف دلانے کے لیے قانونی اور سماجی اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرہ افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری طور پر قوانین میں ترامیم کرے اور انہیں پناہ گاہ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • جو سموگ آ گئی  یہ  جنوری تک رہےگی،مستقل پالیسی بنائیں،عدالت

    جو سموگ آ گئی یہ جنوری تک رہےگی،مستقل پالیسی بنائیں،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں سموگ تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی،

    جسٹس شاہد کریم نے درخواستوں پر سماعت کی،عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ جنرل خالد اسحاق پیش ہوئے،جسٹس شاہد کریم نے کہاکہ میری نظر میں اس وقت سب سے اہم کیس سموگ کا ہے،ہم نے حکومت کے اچھے کاموں کی تعریف کی ہے، حکومت کو مستقل پالیسی لانا ہوگی ایسے کام نہیں چلے گا، اس بار ستمبر میں سموگ آئی، آئندہ سال اگست میں آئے گی،ٹرانسپورٹ سیکٹر 70سے 80فیصد آلودگی کا سبب ہے،وفاقی حکومت کو بھی اس معاملے میں آن بورڈ ہونا پڑے گا، بیجنگ کے تمام صنعتیں شہر سے باہر منتقل کیں،سموگ سے نمٹنے کیلئے 10سال کی پالیسی بنانا ہوگی، سوچنا پڑے گا لاہور کے اندر موجود انڈسٹری کا کیا کرنا ہے،جب عدالت کو پتہ چلتا ہے تو پھر کارروائی ہوتی ہے،لاہور میں بڑے تعمیراتی پراجیکٹس کو روکنا پڑے گا، جو سموگ آ گئی ہے یہ ختم نہیں ہوگی، جنوری تک رہےگی،یہ حکومت کے کرنے کے کام ہیں ہم مداخلت نہیں کرنا چاہتے، سپیڈو بسیں بہت زیادہ دھواں چھوڑتی ہیں۔

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق نے کہاکہ آئندہ سال شادیوں کے سیزن سے متعلق اقدامات کرنے جارہے ہیں،آئندہ سال شہریوں سے درخواست کریں گے کہ نومبر دسمبر میں شادیاں نہ رکھیں، حکومتی بجٹ سب سے زیادہ ماحولیات اور صاف پانی پر مختص کیا جارہا ہے،جسٹس شاہد کریم نے کہاکہ 2ماہ کی پالیسی کا فائدہ نہیں، حکومت لانگ ٹرم پالیسی بنائے،میں کوئی آرڈر نہیں کروں گا سب کچھ آپ پر چھوڑتا ہوں۔

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • عوام کو علاج کی بہترین سہولتوں کا کیا گیاوعدہ پوراکریں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب

    عوام کو علاج کی بہترین سہولتوں کا کیا گیاوعدہ پوراکریں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا عوام کو علاج کی بہترین سہولتیں دینے کا عزم،پنجاب بھر میں تمام مراکز صحت کی بیک وقت ری ویمپنگ کا ریکارڈ تکمیل کے قریب ،مراکز صحت کی بوسیدہ عمارتیں چمچماتے کلینکس میں تبدیل ہونگی

    پنجاب کے 1236 مراکز صحت کی ری ویمپنگ اور بحالی کا پراجیکٹ تیزی سے جاری ہے،وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے مراکز صحت کی ری ویمپنگ کے لئے 31دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی،ری ویمپنگ پراجیکٹ میں سنٹرل پنجاب کے 286،نارتھ زون کے 363 اور جنوبی پنجاب کے 587مراکز صحت شامل ہیں،وسطی پنجاب کے مراکز صحت کا 20فیصد،شمالی زون کا 28فیصد اور جنوبی پنجاب کا 25فیصد سے زائدکی ری ویمپنگ مکمل کر لی گئی،پنجاب بھر میں 1219مراکز صحت کو فیملی کلینکس کی شکل دینے کا کام تیزی سے جاری ہے،772یونٹس پر پلاسٹرنگ،384کی فلورنگ اور 74یونٹس کی فنشنگ تیزی سے جاری ہے،محکمہ تعمیرات مواصلات کی ٹیمیں مراکز صحت کی تکمیل کےلئے سرگرم عمل ہیں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ عوام کو علاج کی بہترین سہولتوں کا کیا گیاوعدہ پورا کریں گے۔بنیادی مراکز صحت کو کو جدید ترین کلینکس میں بدلیں گے،ڈاکٹروں اور سٹاف کی کمی بھی پوری ہوگی۔پنجاب کے دیہات میں ایسے کلینک بنائیں گے جو پرائیویٹ ہسپتالوں سے بھی بہترہوں گے۔عوام کی دہلیز پر صحت کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے سے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا رش کم ہوگا۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے مراکز صحت کی ری ویمپنگ پلان میں تعمیراتی معیاریقینی بنانے کی ہدایت کی

  • لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کےخلاف درخواست پر جواب طلب

    لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کےخلاف درخواست پر جواب طلب

    لاہور ہائیکورٹ، لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کےخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ سے جواب طلب کرلیا،سرکاری وکیل نے وزیراعلی پنجاب کو فریق بنائے جانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم کےبعد وزیراعلی کو براہ راست فریق نہیں بنایا جاسکتا۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ درخواست میں پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعلی کو فریق بنایاگیاہے۔سرکاری وکیل نے کہا کہ وزیر اور سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بیرون ملک ہیں۔وزیر اور سیکرٹری کے وطن آتے ہی جواب جمع کرا دیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے وکیل عمران رانجھا نے جواب جمع کرادیا،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ انتخابات قوانین کی روشنی میں کرائے جائیں گے۔سینئر ترین جج جسٹس شجاعت علی خان نے سماعت کی سابق لارڈ مئیر لایور کرنل مبشر کی درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ حکومت پنجاب نے کسی قانونی جواز کے بغیر ضلعی حکومتیں تحلیل کیں

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو

  • سموگ کا راج برقرار،مزید 5 اضلاع میں تعلیمی ادارے بند

    سموگ کا راج برقرار،مزید 5 اضلاع میں تعلیمی ادارے بند

    پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سموگ کا راج، لاہوریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی، زہریلے دھویں کے باعث فضاؤں میں دھندلا پن محسوس ہونے لگا

    دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں آج بھی لاہور پہلے نمبر پر ہے، لاہورشہر میں سموگ کی مجموعی شرح 910 تک جا پہنچی ہے،لاہور علاقے ڈی ایچ اے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1236، جوہر ٹاؤن کا 991، سید مراتب علی روڈ کے علاقے کا ایئر کوالٹی انڈیکس 1256 ریکارڈ کیا گیا، غازی روڈ انٹرچینج کا اے کیو آئی 904 ریکارڈ کیا گیا ہے، ملتان کا اے کیو آئی 800 تک جا پہنچا جبکہ پشاور 258، فیصل آباد 252 اور اسلام آباد میں اے کیو آئی 253 ریکارڈ کیا گیا ہے،فیصل آباد اور گردونواح میں سموگ میں معمولی کمی آئی ہے ائیر کوالٹی انڈکس 290 ریکارڈ کیا گیا ہے،سموگ کے باعث خشک کھانسی، سانس میں دشواری، بچوں میں نمونیا اور چیسٹ انفیکشن میں اضافہ ہو رہا ہے،

    این ڈی ایم اےکا کہنا ہے کہ پاکستان اوراسکے گردونواح میں موجودہ بڑھتی ہوئی سموگ کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے،ہماری ٹیم جدیدزمینی اور خلائی ٹولز کواستعمال کرتے ہوئے ماحولیاتی آلودگی اورسموگ کا باعث بننے والے عوامل کا جائزہ لیا جا رہا ہے ،صنعتی کارخانوں، دھواں چھورٹی گاڑیوں ،گھاس پوس کو آگ لگانے، نائٹروجن آکسائیڈکے اخراج وغیرہ کا بغورجائزہ لینے کے بعد سموگ سے متاثرہ ہونے والے ممکنہ علاقوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے،موجودہ موسمی اور موحولیاتی صورتحا ل،ہوا میں نمی کے تناسب اور دیگر عوامل کی موجوگی ظاہر کرتی ہے، پنجاب کے میدانی علاقوں میں نومبر اور دسمبر کے دوران سموگ کی صورتحال جار ی رہے گی، لاہور، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، پشاور، نوشہرہ اورمردان اور دیگر شہری علاقوں میں نومبر اور دسمبر کے مہینوں میں سموگ کی بڑھتی ہوئی صورتحال متوقع ہے، اسموگ سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اپنائیں،صبح اور شام کے اوقات میں سموگ میں شدید اضافہ ہو جاتا ہے،لہذا ان اوقات میں غیر ضروری سفر اورباہر نکلنے سے گریز کریں،مناسب مقدار میں پانی پیتے رہیں،ہوا کے میعار کو بہتر بنانے کے لیے دستیاب طریقہ کار مثلاً ڈی ہمیوڈیفائر اور ائیر پیوریفائر کا استعمال کریں۔

    دوسری جانب شدید دھند اور اسموگ کی وجہ سے موٹروے ایم 4 پنڈی بھٹیاں سے عبدالحکیم تک بند، ایم 4 عبدالحکیم سے شیر شاہ تک بھی بند جب کہ ایم 5 شیر شاہ سے سکھر اور سیالکوٹ موٹروےکو بھی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے، شدید دھند کے باعث 10 سے زائد پر وازیں بھی متاثر ہوئیں جس کے سبب مسافروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

    لاہور، ملتان کے بعد راولپنڈی سمیت دیگر ڈویژنز میں بھی اسکول اور کالجز کو 17 نومبر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ڈائریکٹر جنرل انوائرمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔راولپنڈی سمیت منتخب ڈویژنز میں 12ویں کلاس تک تمام اسکولوں اور کالجز کو 13 نومبر سے 17 نومبر تک کے لیے بند رکھا جائے گا۔نوٹیفکیشن کے تحت بندش کا اطلاق راولپنڈی، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، ساہیوال، اور سرگودھا ڈویژن پر ہوگا۔لاہور سمیت دیگر ڈویژنز میں تعلیمی اداروں کی بندش کے جو نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں وہ اسی طرح فعال رہیں گے۔اسکول اور کالجز بندش کے دوران آن لائن کلاسز کا اجراء جاری رکھ سکیں گے۔

    پنجاب : اسموگ کے باعث ایک کروڑ سے زائد بچے خطرےمیں

    اسموگ کے باعث گرین لاک ڈاؤن: خصوصی بچوں کی آن لائن اسکول کلاسز کی ہدایت

    بھارتی اور پاکستانی پنجاب کو مل کر اسموگ کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا،مریم نواز

    پنجاب میں اینٹی اسموگ کارروائیاں، فصلوں کی باقیات نذر آتش کرنے والے 17 افراد گرفتار

  • لاہور ہائیکورٹ،فون کالز کی ریکارڈنگ کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ،فون کالز کی ریکارڈنگ کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    لاہور ہائیکورٹ ،سیکورٹی اداروں کو شہریوں کے فون کالز کی ریکارڈنگ کی اجازت دینے کے خلاف متفرق درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے متفرق درخواست ابتدائی دلائل سننے کے بعد نمٹا دی ،لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ اگر کوئی ایسا معاملہ آتا ہے تو جسٹس فاروق حیدر ایسے کیسز کی سماعت کریں گے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل رفاقت ڈوگر پیش ہوئے ،چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی متفرق درخواست پر سماعت کی،درخواستوں میں 8 جولائی کے حکومتی نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا ہے ،درخواست میں استدعا کی گئی کہ شہریوں کی کالز ریکارڈ کرنا آئین کے منافی ہے،عدالت نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے۔

    لاہور ہائیکورٹ میں پنجاب میں درج مقدمات کے چالان عدالتوں کو بھیجوانے کے کیس کی سماعت ہوئی
    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ پراسکیوشن کی جانب سے بھیجوائے گے کیسز اور سیشن ججز کی رپورٹس میں تضاد ہے،عدالت نے پراسکیوشن کو سیشن ججز کی رپورٹس کا جائزہ لیکر آئندہ اعدادوشمار سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ،عدالت نے کہا کہ رپورٹس میرے آفس میں بھیج دیں تاکہ پھر اس کیس کو نمٹایا جائے،پراسیکیوٹر نے کہا کہ 31 جولائی 2024 تک کے تمام مقدمات کے چالان عدالتوں میں بھیجوا دیے ہیں،عدالت نے کہا کہ اٹک ،ملتان ،قصور ،چکوال ،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پراسکیوشن اور سیشن ججز کی رپورٹ درست ہے،باقی اضلاع میں اعداد شمار میں فرق آرہا ہے،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے درخواست پر سماعت کی

    اپووا کی تربیتی ورکشاپ،لکھاریوں کی تحسین

    یوم اقبال پر اپووا کی تقریب،تحریر:عینی ملک

    اپووا تربیتی ورکشاپ کی یادیں،تحریر: فیصل رمضان اعوان

    اپووا کی سنگ رنگی تقریب،تحریر:ریاض احمد احسان

    اپووا تربیتی ورکشاپ کے یادگار لمحات،تحریر:اورنگزیب وٹو