Baaghi TV

Tag: لبنان

  • ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے،عباس عراقچی

    ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے،عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے، اور جب تک اسرائیلی افواج جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے لبنانی علاقوں سے واپس نہیں جاتیں جنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عباس عراقچی نے منگل کے روز غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس کے مکمل خاتمے کا ایک لازمی اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلا نہیں کرتیں جن پر انہوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا، جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لبنان پر اسرائیل کے کسی بھی مزید حملے کو ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گاجمعہ کو جنیوا میں دونوں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہان ملیں گے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فورا بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئیں جبکہ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ابھی مزید مذاکرات ہونا باقی ہیں صدر ٹرمپ نے پیر کے روز فرانس پہنچنے کے بعد جی 7 ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر مکمل دستخط ہو چکے ہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کے روز جنیوا میں ہونے والی ایک باضابطہ دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔

  • اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا نہیں کرے گا۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نےواضح کیا کہ اگر ایران نے لبنان میں پیش آنے والے واقعات کے ردعمل میں اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل بھرپور جوابی کارروائی کرے گا ، اس حملے کا ہدف ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو تھے۔

    یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان پر اسرائیلی حملے پر تنقید کی تھی،صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے معاہدہ اب بھی ممکن حد تک قریب ہے۔

    ایران کے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے جنوبی بیروت کے مضافات پر اسرائیلی حملے کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت یا سیاسی عزم نہیں رکھتا،ایران کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اس کے سخت جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے،ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انگلی ٹریگر پر ہے اور وہ دشمن کے دل پر وار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بیروت پر حملہ ایسے دن نہیں ہونا چاہیے تھا جب ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب تر ہے۔

  • لبنانی مسلح افواج کے سربراہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    لبنانی مسلح افواج کے سربراہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    لبنان کی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف روڈولف ہائیکل نے منگل کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق معزز مہمان کی جی ایچ کیو آمد پر پاک فوج کے چاق و چوبند تینوں مسلح افواج کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا،ملاقات کے دوران دونوں عسکری رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون اور دوطرفہ عسکری تعلقات کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق گفتگو میں پیشہ ورانہ روابط، تربیتی تعاون اور دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر پاکستان اور لبنان کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لبنانی مسلح افواج کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق لبنانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل روڈولف ہائیکل نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور آپریشنل مہارت کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام اور عالمی امن مشنز میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، یہ دورہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان عسکری تعاون اور پیشہ ورانہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

  • لبنانی صدر کی اسرائیل کو  براہِ راست مذاکرات کی پیشکش

    لبنانی صدر کی اسرائیل کو براہِ راست مذاکرات کی پیشکش

    لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حکومت اور عوام سے براہِ راست مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے، کیونکہ فوجی حل کبھی بھی مستقل سیکیورٹی اور تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر جوزف عون نے کہا کہ ہم تیار ہیں، ہم آمادہ ہیں، ہم پُرعزم ہیں کیا آپ بھی ہیں؟ اگر آپ تیار ہیں تو آئیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں،لبنانی حکومت جنگ بندی اور مکمل طور پر دشمنی کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کی ثالثی میں اسرائیل کے سا تھ براہِ راست مذاکرات کر رہی ہے۔

    صدر عون نے واضح کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گےممکنہ معاہدہ مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ عدم جارحیت کے معاہدے کی صورت میں ہوگا، ہمیں لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا، اور یہ معاہدہ منصفانہ اور دیرپا امن کی جانب ایک راستہ بن سکتا ہے۔

    لبنانی صدر کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ان کا ملک 2002 کے عرب امن اقدام کے مطابق آگے بڑھے گا، جس کے تحت اسرائیل کے ساتھ عرب دنیا کے تعلقات کو معمول پر لانے کی پیشکش فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کے بدلے کی گئی تھی اس منزل تک فوری طور پر نہیں پہنچا جا سکتا، ہم براہِ راست ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے تک نہیں جا سکتے، ہمیں مختلف مراحل سے گزرنا ہوگا۔

    صدر جوزف عون نے انٹرویو میں ایران کے بارے میں بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان ایران کے ساتھ باہمی احترام اور عدم مداخلت پر مبنی اچھے تعلقات چاہتا ہے، تاہم لبنانی عوام ایران کے مفادات کی خاطر مارے جا رہے ہیں-

    قبل ازیں سی این این کو دیے گئے انٹرویو کے ایک اور حصے میں ، جو جمعہ کو نشر کیا گیا تھا، صدر عون نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ مذا کرات میں لبنان کو سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    مبصرین کے مطابق یہ تہران کے خلاف ان کی اب تک کی سخت ترین تنقید میں سے ایک ہے۔

    واضح رہے کہ موجودہ جنگ 2 مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب حزب اللہ نے اپنے اتحادی تہران کی حمایت میں اسرائیل پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی کارروائیاں اور زمینی آپریشن شروع کیے ان کارروائیوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے وسیع علاقے اسرائیلی قبضے میں آ چکے ہیں اسرائیلی حملوں میں اب تک لبنان میں 3 ہزار 600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ لبنانی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔

    امریکا نے 16 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے باوجود جھڑپیں جاری رہیں، لبنانی حکام کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیل تقریباً 3 ہزار 500 حملے کر چکا ہے اتوار کو اسرائیل نے شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کی فائرنگ کے جواب میں بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان 24 گھنٹے تک براہِ راست فائرنگ اور حملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔

  • لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایران پر لبنان کے معاملات میں مداخلت کرنے کے لبنانی صدر جوزف عون کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ صدر عون کے بیانات سن کر ایسا لگتا ہے جیسے لبنان کے پانچویں حصے پر ایران نے قبضہ کر رکھا ہو، چوتھائی لبنانی آبادی کو ایران نے بے گھر کیا ہو اور روزانہ بمباری بھی ایران ہی کر رہا ہوایرانی وزیرِ خارجہ نے لبنانی صدر جوزف عون کو مخاطب کر کے کہا کہ جنابِ صدر! لبنان کو اصل دشمن سے بچائیں، امریکا کے ساتھ لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا۔

    واضح رہے کہ لبنانی صدر جوزف عون نے سی این این کو حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ایران کو لبنان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

  • امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے دونوں فریق 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے۔

    امریکی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ بندی کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہےدونوں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، حزب اللّٰہ کی جانب سے اسرائیل پر مکمل طور پر حملے بند کیے جائیں گے اور جنوبی لیطانی سیکٹر خالی کرنا ہو گا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ زونز بنائے جائیں گے جن پر لبنانی فوج کا کنٹرول ہو گا، غیر ریاستی عناصر وہاں داخل نہیں ہو سکیں گےاسرائیل اور لبنان نے عزم دہرایا کہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں کیے جائیں گے اور جامع معاہدہ کے لیے اقدامات کریں گے۔

  • ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دے دی ہے.
    دئے اور طائر کے ایک اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 4ہو گئی ہے جبکہ50 سے زائد افراد زخمی ہیں ان حملوں کے دوران دیر الزہرانی میں 2 لبنانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں.

    لبنان کی اس سنگین صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے، اور ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان نتائج کو بھگتنا پڑے گا، اور یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری یہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے.

    اسی طرح ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا ہے، اور بحری ناکہ بندی سمیت لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں، ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اب سب کچھ اپنے انجام تک پہنچ کر رہے گا.

    عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی، اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.

    دوسری طرف اسرائیل اور لبنان کے حکام ایک بار پھر واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوگا جس میں امن عمل کو دوبارہ بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.

  • اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو  مذاکرات روک دیں گے، قالیباف

    اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو مذاکرات روک دیں گے، قالیباف

    ایران کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو امریکا سے مذاکرات روک دیں گے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں مزاحمتی محور کو ردعمل پر مجبور کر دیں گی، محور مزاحمت باب المندب کی بحری ٹریفک کے ساتھ وہی کر سکتا ہے جو صورتحال آبنائے ہرمز کی ہے۔

    ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کاکہنا تھا کہ لبنان پر حملے بند نہ ہوئے توسنگین نتائج ہوں گے صیہونی حکومت اور امریکی افواج کو خبردار کرتے ہیں کہ یہ کھوکھلی دھمکی نہیں ہے، ایران فوجی جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں امریکی افواج بھی نتائج بھگتیں گی۔

    دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے.

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر انتہائی تلخ لہجے میں بات کی اور انہیں پاگل کے ساتھ ساتھ ناشکرا بھی قرار دیا،صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیروت پر حملے کیے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا، میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں اور ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے، ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہے.

    اس گفتگو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ایک مختلف اور پرامید بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے بڑی مثبت بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی فوج بیروت نہیں جارہی، اور جو فوجی راستے میں تھے انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے.

  • اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    اسرائیل کی جانب سے لبنان میں تقریخی قلعے بیفورٹ پر قبضے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جارحیت کو وسعت دینے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کو ایک ہنگامی اجلا س کرے گی، اجلاس کی درخواست فرانس کی طرف سے کی گئی تھی، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا تھا کہ جنوبی لبنان میں جاری بڑی کشیدگی کا کو ئی جواز نہیں بنتا، انہوں نے لڑائی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ لبنان پر جنگ اُس وقت مسلط کی گئی جب حزب اللہ نے امریکی اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کے قتل کے بدلے میں اسرائیل کی طرف راکٹ داغے۔

  • امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نئے سفارتی منصوبے کی تجویز پیش کر دی ہے-

    رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز لبنانی صدر جوسیف آؤن اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے الگ الگ رابطے کیے، جن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی، جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل بیروت میں مزید فوجی کارروائیاں نہیں کرے گا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچائے گا، اس اقدام سے بتدریج کشیدگی کم کرنے اور مؤثر جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    عہدیدار نے بتایا کہ صدر جوزف عون نے اس تجویز کو آگے بڑھانے اور دونوں جانب سے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیح بیری ، جنہوں نے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی پر عمل درآمد کی ضمانت دینے کا دعویٰ کیا، نے اس معاملے میں ذمہ داری اسرائیل پر عا ئد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے فائرنگ بند کرنے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے دوران فوج کو لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کا حکم دیا ہے، حالانکہ جنگ بندی کا اعلان چھ ہفتوں سے زائد عرصہ قبل کیا جا چکا تھا،اسرائیلی فوج کے دستوں نے جنوبی لبنان میں واقع 900 سال قدیم بیوفورٹ قلعہ اور ایک اہم اسٹریٹجک پہاڑی سلسلے پر قبضہ کیا۔