Baaghi TV

Tag: لبنان

  • حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے،لبنانی صدر

    حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے،لبنانی صدر

    لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو ایران سے متعلق تنازع کے حل سے الگ رکھا جانا چاہیے، حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے-

    صدرعون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ آئندہ مذاکرات کسی بھی دیگر مذاکرات سے الگ ہوں گے کیونکہ لبنان کے سامنے دو راستے ہیں یا تو جنگ کا تسلسل، جس کے انسانی، سماجی، معاشی اور خودمختاری پر سنگین اثرات ہوں گے، یا پھر مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ اور پائید ار استحکام کا حصول۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ایران نے دونوں تنازعات کو آپس میں جوڑتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حزب اللہ پر حملے بند کرے، جسے امریکا کے ساتھ جنگ بندی کی شرط قرار دیا گیا ہےمیں نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم لبنان کو بچانے میں کامیاب ہوں گے۔

    لبنانی صدر کے مطابق مذاکرات کا مقصد مخالفانہ کارروائیوں کا خاتمہ، جنوبی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کا اختتام اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں تک لبنانی فوج کی تعیناتی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالا اور مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار کی جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات شروع کرنے کے لیے رابطے جاری رہیں گے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ اسی ہفتے جاری رہ سکتا ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی ابتدائی مرحلہ سفیروں کی سطح پر ہوگا جب کہ دوسرے مرحلے میں سفیر سائمن کرم کی قیادت میں ایک وفد مذاکرات کرے گا۔

    دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے گزشتہ ہفتے پاکستانی ثالثوں کو بتایا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جامع جنگ بندی طے پاتی ہے تو اس میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے سرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی پوزیشنز سے دستبردار نہیں ہوگی، جب کہ 10 روزہ جنگ بندی اس ہفتے کے اختتام پر ختم ہونے والی ہے۔

  • اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی وائرل تصویر نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پیر کے روز جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے اس تصویر کے درست ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جائزے میں معلوم ہوا کہ تصویر ایک اسرائیلی فوجی کی ہے جو جنوبی لبنان میں ایک آپریشن کے دوران لی گئی ہے جب کہ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تحقیقات کے نتائج کے مطابق ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

    اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے فلسطینی رکن ایمن عودہ نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ہم انتظار کریں گے کہ پولیس ترجمان یہ دعویٰ کرے کہ فوجی کو حضرت عیسیٰ کے مجسمے سے خطرہ محسوس ہوا تھا۔

    کنیسٹ کے ایک اور فلسطینی رکن احمد طیبی نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ غزہ میں مساجد اور گرجا گھروں کو دھماکوں سے اڑاتے ہیں اور یروشلم میں عیسائی مذہبی رہنماؤں پر تھوکتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی، وہ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو تباہ کرنے اور اس کی تصویر شائع کرنے سے بھی نہیں ڈرتےشاید ان نسل پرستوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیکھ لیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توہین کیسے کی جاتی ہے اور پوپ لیو کی بھی بے حرمتی کیسے کی جاتی ہے؟-

    یہ بیان امریکی صدر کے حالیہ تنازعات کے تناظر میں دیا گیا، جن میں ان کی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شامل تھی جس میں وہ خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے طور پر پیش کرتے نظر آئے تھے، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرنے والے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ سے بھی اختلاف کیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق، یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے گاؤں دیبل کے مضافات میں، اسرائیل کی سرحد کے قریب واقع تھا اسرائیلی افواج نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران متعدد مذہبی مقامات، بشمول مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایااسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ سال آبادکاروں نے 45 مساجد پر حملے یا توڑ پھوڑ کی، جس کی تصدیق فلسطینی اتھارٹی کی وزارت مذہبی امور نے کی۔

    دوسری جانب مذہبی آزادی کے ڈیٹا سینٹر کے مطابق جنوری 2024 سے ستمبر 2025 کے درمیان عیسائیوں کے خلاف کم از کم 201 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر حملے آرتھوڈوکس یہودیوں کی جانب سے بین الاقوامی مذہبی شخصیات یا عیسائی علامات ظاہر کرنے والے افراد کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔

  • لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود صہیونی افواج نے حملے جاری جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر جاری بیان میں جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں متعدد حملوں کا اعتراف کیا ہے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر صیہونی فوج کا قبضہ برقرار ہے۔

    بیان میں اِن حملوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُسے جنگ بندی کے باوجود اپنے فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کے تحت کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل ہے مزید حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور فوجیوں کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان میں ہی اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک ہوگیا ہے فرانس نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کرتے ہوئے لبنانی حکومت سے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر کے مطابق ہلاک ہونے والے فرانسیسی فوجی کی شناخت فلوریان مونٹوریو کے نام سے ہوئی جب کہ اسی واقعے میں دیگر تین فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ٕ

    اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطابق ان کی پٹرولنگ ٹیم جنوبی لبنان کے علاقے غندوریہ میں سڑک کے کنارے بارودی مواد صاف کرنے میں مصرو ف تھی کہ اس دوران نامعلوم افراد کی جانب سے ان پر فائرنگ کی گئی جبکہ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا کہا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات لبنان اور اس کے دوست ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جعمرات کو 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی اور حملے جاری رکھے ہوئے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اسرائیل کو جنگ بندی کی پاسداری کرتے ہوئے لبنان پر حملے روکنے کا حکم دیا تھا تاہم اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری ہیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ’سیکیورٹی زون‘ قائم کر لیا ہےجنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے ان تمام علاقوں میں بدستور موجود رہے گی۔

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف  احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

    اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

    تل ابیب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اسرائیل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں ہزاروں افراد نے تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل کر امن کا مطالبہ کیا تل ابیب کے حبیمہ اسکوائر میں ہونے والے بڑے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جبکہ پولیس کی جانب سے اجازت نامے میں صرف ایک ہزار افراد کی حد مقرر کی گئی تھی مظاہرین نے حکومت کی جنگی پالیسیوں اور لبنان و خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کے خلاف نعرے لگائے،احتجاج کے دوران شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "جنگ روکو” اور "نسل کشی بند کرو”، جنوبی لبنان پر قبضہ ایک تباہ کن فیصلہ ہوگا اور جب تک امن قائم نہیں ہوتا، اسرائیل میں حقیقی سلامتی ممکن نہیں جیسے نعرے درج تھے-

    رپورٹس کے مطابق یہ مسلسل چھٹا ہفتہ ہے جب اسرائیل میں جنگ مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اس بار احتجاج ملک کے دیگر شہروں جیسے یروشلم، حیفہ اور بئر سبع تک بھی پھیل گیا، جہاں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرین کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیاں عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں،س لیے حکومت کو فوری طور پر امن مذاکرات کی طرف جانا چاہیے۔

  • لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل  تباہ

    لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل تباہ

    جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران متعدد سرحدی دیہات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جہاں گھروں کو بارودی مواد سے اُڑا کر زمین بوس کیا جا رہا ہے۔

    برطانوی اخبار دی گارڈین کی جانب سے جائزہ لی گئیں ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سرحدی دیہات طیبہ، نقورہ اور دیر سریان میں بڑے پیمانے پر دھماکے کیےلبنانی میڈیا نے دیگر سرحدی علاقوں میں بھی ایسی ہی کارروائیوں کی اطلاع دی ہے، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔

    یہ کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سرحدی دیہات میں تمام گھروں کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا، اور اس حوالے سے غزہ کے علاقوں رفح اور بیت حنون میں اپنائے گئے ماڈل کی پیروی کی بات کی، اسرائیلی فوج اس سے قبل جنوبی غزہ کے شہر رفح میں تقریباً 90 فیصد گھروں کو تباہ کر چکی ہے،یہ کارروائیاں بڑے پیمانے پر ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔

    غزہ میں گھروں کے بڑے پیمانے پر تباہی کو ماہرین نے ڈومیسائیڈ قرار دیا ہے، جو ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے تحت شہری رہائش گاہوں کو منظم انداز میں تباہ کر کے پورے علاقے کو ناقابلِ رہائش بنا دیا جاتا ہے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے جیسے سرنگیں اور عسکری تنصیبات ہیں، جنہیں ان کے مطابق شہری گھروں میں قائم کیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے دریائے لیتانی تک ایک سیکیورٹی زون قائم کرے گا، اور جب تک شمالی اسرائیل کے شہروں کی سیکیورٹی یقینی نہیں بن جاتی، بے گھر افراد کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس اعلان نے طویل مدتی بے دخلی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

  • اسرائیل میرے ٹیکس کے پیسوں سے میرے ملک پر بمباری کر رہا ہے، میا خلیفہ

    اسرائیل میرے ٹیکس کے پیسوں سے میرے ملک پر بمباری کر رہا ہے، میا خلیفہ

    فحش فلموں کی سابق عرب اداکارہ میا خلیفہ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل میرے ٹیکس کے پیسوں سے میرے ہی ملک پر حملے کررہا ہے،جس اسپتال میں پیدا ہوئی تھی، وہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

    لبنانی نژاد امریکی شخصیت میا خلیفہ نے اسرائیل کے بیروت پر بڑے فضائی حملوں پر شدید دکھ اور غصے کا اظہار کیا جن میں 250 سے زائد افراد شہید اور 1100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں،میا خلیفہ نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ آج کی خبروں پر میں دل برداشتہ اور ساکت ہو گئی ہوں، اسرائیل کی جانب سے بیروت میں صرف 10 منٹ میں 100 فضائی حملے کیے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کی جانب سے رہائشی عمارتیں، اسکول، طبی مراکز، بے گھر افراد کے کیمپس، حتیٰ کہ جنازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، اور میرے ٹیکس کے پیسے اسرائیل اس نسل کشی کو فنڈ کررہا ہے،یہ صورتحال دیکھنے کے لیے سب سے مشکل چیزوں میں سے ایک ہے-

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے آپریشنز کا دائرہ وسیع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے حملوں میں سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں اور بیروت میں شہری خوف و ہراس کا شکار ہیںاسرائیلی عسکری حکام کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کی افواج نے جنوبی لبنان کے نئے علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے وہاں اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

    اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے درجنوں ارکان کو ہلاک کرنے اور بھاری مقدار میں اسلحہ، بارود اور دھماکا خیز مواد قبضے میں لینے کا دعویٰ بھی کیا ہےدوسری جانب بیروت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لبنانی دارالحکومت میں شدید افراتفری اور تباہی کا منظر ہے جہاں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیے گئے حملوں نے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

  • ایرانی وزیر خارجہ  کا لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل

    ایرانی وزیر خارجہ کا لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیا ہے-

    عباس عراقچی نے کہا کہ عالمی برادری نہ صرف لبنان کی موجودہ صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہے بلکہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ آیا امریکا اپنے وعدوں اور اعلانات پر قائم رہتا ہے یا نہیں،جنگ بندی کے بعد ایسے حملے اس کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز کے جنگ بندی سے متعلق بیان کو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں، اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے، گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے، اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں۔

    واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر شدید اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے،لبنان کی سول ڈیفنس اور وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 92 افراد جاں بحق اور 742 زخمی ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے اس کے علاوہ بعلبک میں 18، ہرمیل میں 9، نبیطہ میں 28، سدون میں 12 اور طیر میں 17 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

  • اسرائیل کی لبنان پر کارروائیاں ،پاکستان اور سعوی عرب کی شدید مذمت

    اسرائیل کی لبنان پر کارروائیاں ،پاکستان اور سعوی عرب کی شدید مذمت

    پاکستان نے لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں معصوم جانوں کا ضیاع اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے جاری عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لبنان کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے،پاکستان اس مشکل گھڑی میں لبنان کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور لبنان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور امن و استحکام کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

    علاوہ ازیں اسلام آباد میں پاکستان کے ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے گزشتہ شب فون پر بات چیت کی، جس میں خطے میں موجودہ کشیدہ صورتحال اور لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ پائیدار امن اور استحکام کے لیے جنگ بندی کا مکمل احترام اور نفاذ ضروری ہے، اسحاق ڈار نے سعودی عرب کی پاکستان کی امن کی کوششوں میں مسلسل تعاون کی قدر دانی کی، جبکہ دونوں نے قریبی رابطے اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا، یہ بات چیت اسلام آباد میں جاری سفارتی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دی گئی ہے۔

    ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر شدید اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے،لبنان کی سول ڈیفنس اور وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 92 افراد جاں بحق اور 742 زخمی ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے اس کے علاوہ بعلبک میں 18، ہرمیل میں 9، نبیطہ میں 28، سدون میں 12 اور طیر میں 17 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق صرف ایک دن کے دوران ہونے والے حملوں میں 112 افراد جاں بحق اور 800 سے زائد زخمی ہوئے، جس کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور عوام سے خون کے عطیات دینے کی اپیل کی گئی ہے، بیروت میں مسلسل دھماکوں سے شہر گونج اٹھا جبکہ مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جس سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ کے دوران اب تک کی سب سے بڑی اور مربوط مہم کا حصہ ہیں، جن میں لبنان کے مختلف علاقوں بشمول وادی بقاع اور جنوبی لبنان میں 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور دیگر عسکری تنصیبات شامل ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔

  • اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے

    اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں-

    رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکا، ایران اور ان کے اتحادی فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں، جس میں لبنان بھی شامل ہےتاہم بعد ازاں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا کہ اس جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے،مکابرہ میں فضائی حملہ کیا گیا جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی گئی، اسی طرح جنوبی شہر تائر میں بھی متعدد فضائی حملے کیے گئے، جن میں سے ایک حملہ ایک اسپتال کے قریب ہوا اور یہ حملہ امریکی صدر ٹرمپ کے جنگ بندی اعلان کے فوراً بعد کیا گیا۔

    لبنان پر جنگ بندی معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا، اسرائیل

    تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان کو جنگ بندی سے خارج کرنے اور حملوں کے تسلسل سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے،اس صورتحال نے جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں-

    ایران امریکا جنگ بندی: تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، پاکستان سمیت عالمی مارکیٹس میں تیزی

  • لبنان پر جنگ بندی معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا، اسرائیل

    لبنان پر جنگ بندی معاہدے کا اطلاق نہیں ہوگا، اسرائیل

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہوگا۔

    اسرائیلی وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم یہ فیصلہ چند شرائط سے مشروط ہے، ایران کو فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنا ہوگا اور امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک پر حملے روکنا ہوں گے۔

    اسرائیلی حکام نے واضح کیا کہ یہ دو ہفتوں کی جنگ بندی صرف ایران تک محدود ہے اور اس میں لبنان شامل نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کے محاذ پر کشیدگی برقرار رہ سکتی ہے، اسرائیل امریکا کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد ایران کو جوہری، میزائل اور دہشت گردی کے خطرات سے روکنا ہے۔ اسرائیلی موقف کے مطابق ایران کو خطے میں سیکیورٹی خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔

    دوسری جانب ایران کی جانب سے اس بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی سے باہر رکھنے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے لبنانی تنظیم حزب اللہ نے اس جنگ بندی پر اب تک کوئی براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، لیکن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک معنی خیز پیغام شیئر کیا ہے۔

    حزب اللہ نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا ایک پرانا بیان شیئر کیا ہے جس کے ساتھ پھٹے ہوئے امریکی اور اسرائیلی پرچموں کی تصویر لگائی گئی ہے،اس پیغام میں دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ ہم دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے۔

    حزب اللہ کے اس انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لبنان کے محاذ پر اسرائیل کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور تہران و واشنگٹن کے درمیان ہونے والے اس عارضی سمجھوتے سے ان کے عسکری موقف میں کوئی نرمی نہیں آئی۔