Baaghi TV

Tag: لبنان

  • جنوبی لبنان کے کچھ دیہات اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، نیتن یاہو کا دعویٰ

    جنوبی لبنان کے کچھ دیہات اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، نیتن یاہو کا دعویٰ

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے بعض مسیحی اکثریتی دیہات اسرائیل کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں تاکہ وہ حزب اللہ سے محفوظ رہ سکیں، تاہم متعلقہ مسیحی دیہات نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے-

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان کے کچھ مسیحی دیہات نے خود اسرائیل میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، کیونکہ وہ حزب اللہ کے مخالف ہیں اور اسرائیل انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے یہ دیہات امن کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں اور حزب اللہ سے محفوظ رہنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں تاہم انہوں نے نہ تو ان دیہات کے نام بتائے اور نہ ہی اپنے دعوے کے حق میں کوئی مزید تفصیل فراہم کی۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان کے مسیحی دیہات نے جمعہ کو سامنے آنے والی ایسی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے اسرائیل میں شامل ہونے کی کوئی درخواست نہیں دی کسی فرد یا مقامی ادارے کو ایسا فیصلہ کرنے کا نہ اختیار حاصل ہے اور نہ ہی قانونی حق وہ اپنی سرزمین پر قائم ہیں اور لبنانی پرچم سے مکمل وفاداری رکھتے ہیں، یہی ان کی قومی شناخت ہے اور وہ اس پر قائم رہیں گے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے حق میں دلائل دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت لبنان کی ایک انچ زمین بھی اسرائیل کے حوالے نہیں کرے گی تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا یہ بیان انہی مسیحی دیہات کے تناظر میں تھا یا اسرائیل کے قائم کردہ نام نہاد سیکیورٹی زون کے حوالے سے۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قبضہ کر کے ایک نام نہاد سیکیورٹی زون قائم کر رکھا ہے، جبکہ وہ وقفے وقفے سے جنوبی لبنان میں فضائی اور زمینی حملے بھی کرتا رہا ہے 2 مارچ سے شروع ہونے والی حالیہ جنگ کے دوران تقریباً 4 ہزار 300 لبنانی ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیلی بمباری اور گھروں کی تباہی کے باعث تقریباً 12 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

    بعد ازاں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کی حکومت، جس کی قیادت صدر جوزف عون کر رہے ہیں، کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی فوج کے لبنانی علاقوں سے انخلا کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے متعدد مسیحی دیہات پر گولہ باری اور بمباری کی، کئی دیہات کو خالی کرایا، جبکہ بعض مقامات پر مقامی آبادی نے اسرائیلی احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی زمین چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ان دیہات کا شہری انفراسٹرکچر، رہائشی مکانات اور دیگر املاک بھی شدید متاثر ہوئیں۔ اسی دوران اسرائیلی فوج کے مقامی کمانڈرز مبینہ طور پر فون پر دیہات کے میئروں سے رابطہ کر کے مطالبہ کرتے رہے کہ حزب اللہ کو ان علاقوں میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

  • فریم ورک معاہدے کے باوجوداسرائیل کے لبنان پر حملے

    فریم ورک معاہدے کے باوجوداسرائیل کے لبنان پر حملے

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک نئی فوجی کارروائی کی ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک گاؤں میں حزب اللہ کے زیرِ زمین عسکری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا،کارروائی کے دوران تقریباً 200 میٹر لمبی زیرِ زمین سرنگ کو تباہ کیا گیا، جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق اس حملے سے قبل امریکا کو بھی کارروائی سے آگاہ کر دیا گیا تھا یہ کارروائی سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کی گئی، تاہم لبنان یا حزب اللہ کی جانب سے اس کارروائی پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے لیے راہ ہموار کرنا بتایا گیا تھا،گزشتہ ہفتے اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکا کی ثالثی میں امن معاہدے کے فریم ورک پر دستخط ہوئے تھے، اس موقع پر امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے جنہوں نے کہا تھا کہ امید ہے فریم ورک سے لبنان میں امن کے لیے پیش رفت ہوگی، ہم چاہتے ہیں لبنان اور اسرائیل کے لوگ محفوظ مستقبل کی زندگی گزارسکیں جب کہ لبنانی سفیر نے کہا کہ معاہدہ لبنان کی خود مختاری کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔

  • ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا،عباس عراقچی

    ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا،عباس عراقچی

    ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی یکطرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر کا سبب بنے گی۔

    بغداد میں عراقی وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے اور خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، عراقی وزیر خارجہ نے عباس عراقچی کا بغداد آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی گہرے ہیں اور بغداد ہر ملک کے خلاف جنگ اور جار حیت کو مسترد کرتا ہے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت ایک مثبت پیشرفت ہے ، آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا پورے خطے کے لیے نہایت اہم ہے، آبنائے ہرمز میں فوجی کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا جانا چاہیے عراق کو اس وقت شدید تیل بحران کا سامنا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد عباس عراقچی کا دورۂ عراق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شاندار استقبال پر عراقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تہران بغداد کی نئی حکومت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہےموجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر ان کا دورہ عراق غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے،عراقی حکومت نے ایران پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ،عراقی عوام نے ہر مشکل وقت میں ایرانی عوام کا ساتھ دیا۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گاعراقی وزیر خارجہ کو جنگ کی صورتحال اور ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے، آبنائے ہرمز ایران کے انتظامی کنٹرول میں ہے اور بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنا تہران کی ذمہ داری ہے انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی یک طرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے اسرائیل کا لبنان سے انخلاء اور وہاں حملے روکنا امریکا کیساتھ عبوری معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔

  • اسرائیل نے لبنان میں  فضائی حملے روک دیئے

    اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے روک دیئے

    نیویارک: اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فضائی حملے روکنے کا خیرمقدم کیا ہے-

    اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اتوار کا دن جنوبی لبنان میں نسبتاً پُرامن رہا اور اقوام متحدہ کے امن دستوں نے کسی فضائی حملے یا جوابی کارروائی کی نشاندہی نہیں کی ان کے مطابق پیر کی صبح تک بھی یہی صورتحال برقرار رہی، مارچ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جنوبی لبنان میں ایسا دن گزرا ہے جب امن فوج نے نہ کسی فضائی حملے کا مشاہدہ کیا اور نہ ہی کسی میزائل یا راکٹ کی پرواز یا روک تھام ریکارڈ کی۔

    ترجمان نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دشمنی میں یہ کمی زمینی سطح پر موجود شہریوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جار ی رہے گاصورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کی امن فورس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی وسیع زمینی سرگرمیوں کا مشاہدہ جاری رکھا ہے، جن میں بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت، انجینئرنگ کام اور لاجسٹک سرگرمیاں شامل ہیں۔

  • آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، نیتن یاہو کا لبنان پر حملے روکنے کا حکم

    آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، نیتن یاہو کا لبنان پر حملے روکنے کا حکم

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کو روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اس اہم بحری گزرگاہ میں تیل اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی کے جواب میں ہم آبنائے ہرمز کو بند کر رہے ہیں۔

    صورتحال کے بارے میں زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ ایران نے بندش کا اعلان کیا ہے، لیکن سمندری راستوں سے جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر رکی نہیں ہے اطلاعا ت کے مطابق بعض بحری جہاز عمان کی سمندری حدود سے گزر رہے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہوئی بلکہ جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے۔

    اُدھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہے اور وہاں بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے دوسری جانب اسرائیلی وزیرا عظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے اسرائیلی حکام کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

  • لبنان: حزب اللہ کی اسرائیلی فوجی چوکی پر راکٹ فائر، کمانڈو ہلاک،13 اہلکار زخمی

    لبنان: حزب اللہ کی اسرائیلی فوجی چوکی پر راکٹ فائر، کمانڈو ہلاک،13 اہلکار زخمی

    امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان کے نبطیہ کے قریب کفر تبنیت گاؤں میں قائم اسرائیلی فوجی چیک پوسٹ کو راکٹوں کی بوچھاڑ اور ایک دھماکا خیز ڈرون سے نشانہ بنایا گیا،اس حملے میں 21 سالہ سارجنٹ فرسٹ کلاس نیر بن آری ہلاک ہوگئے جو کمانڈو بریگیڈ کی مگلان یونٹ سے تعلق رکھتے تھے،اسی حملے میں 13 اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک کے ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ تین روز میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہوچکی ہے اس حملے کے فوراً بعد جنوبی لبنان کے نبطیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے اور ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے گئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اسرائیلی فوجی ٹینک پر حملے میں بھی بٹالین کمانڈر اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جب کہ اس سے ایک روز قبل ایک اور ملٹری وہیکل بارودی سرنگ دھماکے میں تباہ ہوگئی تھی۔

  • ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے،عباس عراقچی

    ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے،عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کا مطلب لبنان میں جنگ کا مکمل اختتام بھی ہے، اور جب تک اسرائیلی افواج جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے لبنانی علاقوں سے واپس نہیں جاتیں جنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔

    ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عباس عراقچی نے منگل کے روز غیر ملکی سفارت کاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس کے مکمل خاتمے کا ایک لازمی اور ناقابلِ علیحدگی حصہ ہے جب تک اسرائیلی افواج ان علاقوں سے انخلا نہیں کرتیں جن پر انہوں نے اس جنگ کے دوران قبضہ کیا، جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی لبنان پر اسرائیل کے کسی بھی مزید حملے کو ایران کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گاجمعہ کو جنیوا میں دونوں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہان ملیں گے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فورا بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال منظرعام پر نہیں آئیں جبکہ دونوں ممالک کا کہنا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے لیے ابھی مزید مذاکرات ہونا باقی ہیں صدر ٹرمپ نے پیر کے روز فرانس پہنچنے کے بعد جی 7 ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ معاہدے پر مکمل دستخط ہو چکے ہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس جمعے کے روز جنیوا میں ہونے والی ایک باضابطہ دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے۔

  • اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کا لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا سے انکار

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا نہیں کرے گا۔

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نےواضح کیا کہ اگر ایران نے لبنان میں پیش آنے والے واقعات کے ردعمل میں اسرائیل پر حملہ کیا تو اسرائیل بھرپور جوابی کارروائی کرے گا ، اس حملے کا ہدف ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو تھے۔

    یہ بیان ایک روز بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان پر اسرائیلی حملے پر تنقید کی تھی،صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے معاہدہ اب بھی ممکن حد تک قریب ہے۔

    ایران کے مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے جنوبی بیروت کے مضافات پر اسرائیلی حملے کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ امریکا اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت یا سیاسی عزم نہیں رکھتا،ایران کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اس کے سخت جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے،ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انگلی ٹریگر پر ہے اور وہ دشمن کے دل پر وار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ بیروت پر حملہ ایسے دن نہیں ہونا چاہیے تھا جب ایران کے ساتھ امن معاہدہ قریب تر ہے۔

  • لبنانی مسلح افواج کے سربراہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    لبنانی مسلح افواج کے سربراہ کی جی ایچ کیو آمد، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات

    لبنان کی مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف روڈولف ہائیکل نے منگل کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق معزز مہمان کی جی ایچ کیو آمد پر پاک فوج کے چاق و چوبند تینوں مسلح افواج کے دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا،ملاقات کے دوران دونوں عسکری رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون اور دوطرفہ عسکری تعلقات کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق گفتگو میں پیشہ ورانہ روابط، تربیتی تعاون اور دونوں ممالک کی افواج کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر پاکستان اور لبنان کے درمیان دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لبنانی مسلح افواج کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق لبنانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل روڈولف ہائیکل نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور آپریشنل مہارت کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام اور عالمی امن مشنز میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا، یہ دورہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان عسکری تعاون اور پیشہ ورانہ روابط کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

  • لبنانی صدر کی اسرائیل کو  براہِ راست مذاکرات کی پیشکش

    لبنانی صدر کی اسرائیل کو براہِ راست مذاکرات کی پیشکش

    لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حکومت اور عوام سے براہِ راست مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے، کیونکہ فوجی حل کبھی بھی مستقل سیکیورٹی اور تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر جوزف عون نے کہا کہ ہم تیار ہیں، ہم آمادہ ہیں، ہم پُرعزم ہیں کیا آپ بھی ہیں؟ اگر آپ تیار ہیں تو آئیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں،لبنانی حکومت جنگ بندی اور مکمل طور پر دشمنی کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کی ثالثی میں اسرائیل کے سا تھ براہِ راست مذاکرات کر رہی ہے۔

    صدر عون نے واضح کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گےممکنہ معاہدہ مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ عدم جارحیت کے معاہدے کی صورت میں ہوگا، ہمیں لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا، اور یہ معاہدہ منصفانہ اور دیرپا امن کی جانب ایک راستہ بن سکتا ہے۔

    لبنانی صدر کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ان کا ملک 2002 کے عرب امن اقدام کے مطابق آگے بڑھے گا، جس کے تحت اسرائیل کے ساتھ عرب دنیا کے تعلقات کو معمول پر لانے کی پیشکش فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کے بدلے کی گئی تھی اس منزل تک فوری طور پر نہیں پہنچا جا سکتا، ہم براہِ راست ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے تک نہیں جا سکتے، ہمیں مختلف مراحل سے گزرنا ہوگا۔

    صدر جوزف عون نے انٹرویو میں ایران کے بارے میں بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان ایران کے ساتھ باہمی احترام اور عدم مداخلت پر مبنی اچھے تعلقات چاہتا ہے، تاہم لبنانی عوام ایران کے مفادات کی خاطر مارے جا رہے ہیں-

    قبل ازیں سی این این کو دیے گئے انٹرویو کے ایک اور حصے میں ، جو جمعہ کو نشر کیا گیا تھا، صدر عون نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ مذا کرات میں لبنان کو سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    مبصرین کے مطابق یہ تہران کے خلاف ان کی اب تک کی سخت ترین تنقید میں سے ایک ہے۔

    واضح رہے کہ موجودہ جنگ 2 مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب حزب اللہ نے اپنے اتحادی تہران کی حمایت میں اسرائیل پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی کارروائیاں اور زمینی آپریشن شروع کیے ان کارروائیوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے وسیع علاقے اسرائیلی قبضے میں آ چکے ہیں اسرائیلی حملوں میں اب تک لبنان میں 3 ہزار 600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ لبنانی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔

    امریکا نے 16 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے باوجود جھڑپیں جاری رہیں، لبنانی حکام کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیل تقریباً 3 ہزار 500 حملے کر چکا ہے اتوار کو اسرائیل نے شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کی فائرنگ کے جواب میں بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان 24 گھنٹے تک براہِ راست فائرنگ اور حملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔