Baaghi TV

Tag: لبنان

  • لبنانی وزیر داخلہ 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    لبنانی وزیر داخلہ 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خصوصی دعوت پر لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار 2 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

    لبنان کے وزیر داخلہ احمد الحجار اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ جیسے ہی اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تو وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ان کا باضابطہ استقبال کیا، اس موقع پر چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد پولیس بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے، جنہوں نے معزز مہمان کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا۔

    لبنانی وزیر داخلہ یہ دورہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی خصوصی دعوت پر کر رہے ہیں۔ 2 روزہ قیام کے دوران لبنان کے وزیر داخلہ پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و حکومتی قیادت اور بالخصوص وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے تفصیلی ملاقاتیں کریں گے، دورے کے دوران لبنانی وزیر داخلہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور امن و امان کے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔

    ان ملاقاتوں کا بنیادی محور پاکستان اور لبنان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی استواری، سیکیورٹی، بارڈر مینجمنٹ اور داخلہ امور سے متعلق باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا،دونوں برادر ممالک کے درمیان آئندہ کی حکمتِ عملی اور مشترکہ اقدامات پر بھی اہم بات چیت کی جائے گی۔

  • جنوبی لبنان پر اسرائیل کا حملہ، 3 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    جنوبی لبنان پر اسرائیل کا حملہ، 3 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 11 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے ہیں۔

    ہفتے کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا جنوبی لبنان کے گاؤں انصار میں ایک گھر پر کیے گئے فضائی حملے میں 7 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ دیر الزہرانی نامی علاقے میں ایک اور حملے کے نتیجے میں 4 افراد جان سے گئے اور 17 زخمی ہوئے،دونوں حملوں میں مجموعی طور پر 19 افراد زخمی ہوئے ہیں، امدادی کارکنوں اور مقامی رہائشیوں نے حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر ملبے سے زخمیوں اور لاشوں کو نکالنے کی کارروائیاں کیں۔

    لبنان کی وزارت صحت کے مطابق جاں بحق افراد میں 3 بچے بھی شامل ہیں یہ حملے جون میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے والے معاہدوں کے بعد لبنان پر ہونے والی سب سے ہلاکت خیز کارروائی قرار دیے جارہے ہیں-

    لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ایک ’’واضح پیغام‘‘ قرار دیا ہے ان کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں براہ راست مذاکرات کا آٹھواں دور اگلے ماہ روم میں ہونے والا ہے۔

    صدر جوزف عون کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنوبی لبنان میں مسلسل اسرائیلی حملے اور جنگ بندی یا فریم ورک معاہدے کی بار بار خلاف ورزیاں تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت بین الاقوامی قانون کے بھی خلاف ہے۔

    لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے خطرناک کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ کیا انہوں نے کہا کہ انصار میں جاں بحق ہونے والی خواتین اور بچے ’’فوجی اہداف‘‘ نہیں تھے اور نہ ہی جاں بحق افراد کو کسی فوجی تنصیب کا حصہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیلی حملوں کا ’’مناسب جواب‘‘ دینے کا اعلان کیا ہے تنظیم نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات جاری رکھنے کے بجائے اپنا مؤقف سخت کرے، اسرائیل کو واضح طور پر سمجھنا چاہیے کہ اس کے حملے، خلاف ورزیاں اور اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوششیں جاری نہیں رہ سکتیں اور انہیں مناسب جواب دیا جائے گا،حزب اللہ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو داخلی سیاسی مقاصد کے لیے جنگ کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔

  • لبنان سزائے موت ختم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا

    لبنان سزائے موت ختم کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا

    لبنان کی پارلیمنٹ نے سزائے موت ختم کرنے کے قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد لبنان مشرق وسطیٰ کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں سزائے موت کو باضابطہ طور پر ختم کردیا گیا ہے۔

    لبنانی پارلیمنٹ نے منگل کے روز قانون میں ترامیم کے بعد سزائے موت کے خاتمے کی منظوری دی نئے قانون کے تحت سزائے موت کی جگہ عمر قید بامشقت دی جائے گی،لبنان کے وزیر انصاف عادل نصار نے پارلیمانی ووٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت کا خاتمہ لبنان کے لیے ایک تاریخی دن ہے اس فیصلے سے لبنان خطے اور عالمی سطح پر اپنی قائدانہ حیثیت دوبارہ حاصل کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    وزیر انصاف نے بعد ازاں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سزائے موت ختم کرنے کے فیصلے کو جرائم کے حوالے سے نرمی نہیں سمجھنا چاہیے یہ فیصلہ کسی مجرم کو معاف کرنے کے بجائے ریاست کی جانب سے قتل کے عمل کو مسترد کرنے کا اظہار ہے۔

    انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق قانون کی منظوری سے قبل لبنان میں 85 افراد سزائے موت کے منتظر تھے تنظیم نے قانون کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے، لبنان میں آخری مرتبہ سزائے موت پر عملدرآمد 17 جنوری 2004 کو کیا گیا تھا، اس کے بعد دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ملک میں کسی شخص کو سزائے موت نہیں دی گئی۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے بھی لبنان کو قانون کی منظوری پر مبارکباد دی، انہوں نے دنیا کے ان ممالک سے بھی اپیل کی جو اب تک سزائے موت برقرار رکھے ہوئے ہیں کہ وہ لبنان کی پیروی کرتے ہوئے اس سزا کو ختم کریں۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بھی لبنان کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انسانی حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔

    لبنان کے وزیر انصاف کے مطابق سزائے موت ختم کرنے کے بعد ایسے ممالک بھی لبنانی عدالتوں سے سزا پانے والے مفرور ملزمان کی حوالگی کے معاملے میں زیادہ تعاون کر سکیں گے جہاں سزائے موت کے خدشے کی وجہ سے حوالگی سے انکار کیا جاتا تھا۔

  • لبنان اور اسرائیل کے درمیان  مذاکرات کا ساتواں دور روم میں شروع

    لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور روم میں شروع

    لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات کا ساتواں دور اٹلی کے دارالحکومت روم میں شروع ہو گیا ہے-

    لبنانی سرکاری خبر رساں ادارے این این اے کے مطابق مذاکرات میں سرحدی اور سکیورٹی معاملات سمیت فریم ورک معاہدے سے متعلق زیر التوا نکات پر غور کیا جا رہا ہے ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو سفارتی ذرائع سے کم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔

    دوسری جانب حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے ان مذاکرات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات لبنان کے لیے ذلت، رسوائی اور مسلسل سمجھوتوں کے سوا کچھ نہیں لائیں گے۔

    ایک ٹیلی وژن خطاب میں نعیم قاسم نے لبنانی صدر جوزف عون کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کو تمام فریقوں کے درمیان غیر جانبدار کردار ادا کرنا چاہیے تھا، لیکن وہ اس کے بجائے ایک جانب جھکاؤ رکھنے والے اور تقسیم پیدا کرنے والے کردار میں نظر آ رہے ہیں، جو ان کے منصب اور لبنان کے قومی مفاد سے مطابقت نہیں رکھتا، لبنان کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے بجائے مضبوط قومی مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔

  • جنوبی لبنان کے کچھ دیہات اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، نیتن یاہو کا دعویٰ

    جنوبی لبنان کے کچھ دیہات اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، نیتن یاہو کا دعویٰ

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے بعض مسیحی اکثریتی دیہات اسرائیل کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں تاکہ وہ حزب اللہ سے محفوظ رہ سکیں، تاہم متعلقہ مسیحی دیہات نے اس دعوے کو مسترد کیا ہے-

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ جنوبی لبنان کے کچھ مسیحی دیہات نے خود اسرائیل میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے، کیونکہ وہ حزب اللہ کے مخالف ہیں اور اسرائیل انہیں تحفظ فراہم کرتا ہے یہ دیہات امن کے ماحول میں رہنا چاہتے ہیں اور حزب اللہ سے محفوظ رہنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں تاہم انہوں نے نہ تو ان دیہات کے نام بتائے اور نہ ہی اپنے دعوے کے حق میں کوئی مزید تفصیل فراہم کی۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان کے مسیحی دیہات نے جمعہ کو سامنے آنے والی ایسی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ انہوں نے اسرائیل میں شامل ہونے کی کوئی درخواست نہیں دی کسی فرد یا مقامی ادارے کو ایسا فیصلہ کرنے کا نہ اختیار حاصل ہے اور نہ ہی قانونی حق وہ اپنی سرزمین پر قائم ہیں اور لبنانی پرچم سے مکمل وفاداری رکھتے ہیں، یہی ان کی قومی شناخت ہے اور وہ اس پر قائم رہیں گے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے حق میں دلائل دیتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی حکومت لبنان کی ایک انچ زمین بھی اسرائیل کے حوالے نہیں کرے گی تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کا یہ بیان انہی مسیحی دیہات کے تناظر میں تھا یا اسرائیل کے قائم کردہ نام نہاد سیکیورٹی زون کے حوالے سے۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر قبضہ کر کے ایک نام نہاد سیکیورٹی زون قائم کر رکھا ہے، جبکہ وہ وقفے وقفے سے جنوبی لبنان میں فضائی اور زمینی حملے بھی کرتا رہا ہے 2 مارچ سے شروع ہونے والی حالیہ جنگ کے دوران تقریباً 4 ہزار 300 لبنانی ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیلی بمباری اور گھروں کی تباہی کے باعث تقریباً 12 لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

    بعد ازاں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کی حکومت، جس کی قیادت صدر جوزف عون کر رہے ہیں، کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی فوج کے لبنانی علاقوں سے انخلا کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے متعدد مسیحی دیہات پر گولہ باری اور بمباری کی، کئی دیہات کو خالی کرایا، جبکہ بعض مقامات پر مقامی آبادی نے اسرائیلی احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنی زمین چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں ان دیہات کا شہری انفراسٹرکچر، رہائشی مکانات اور دیگر املاک بھی شدید متاثر ہوئیں۔ اسی دوران اسرائیلی فوج کے مقامی کمانڈرز مبینہ طور پر فون پر دیہات کے میئروں سے رابطہ کر کے مطالبہ کرتے رہے کہ حزب اللہ کو ان علاقوں میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

  • فریم ورک معاہدے کے باوجوداسرائیل کے لبنان پر حملے

    فریم ورک معاہدے کے باوجوداسرائیل کے لبنان پر حملے

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پانے کے باوجود بھی اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک نئی فوجی کارروائی کی ہے۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک گاؤں میں حزب اللہ کے زیرِ زمین عسکری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا،کارروائی کے دوران تقریباً 200 میٹر لمبی زیرِ زمین سرنگ کو تباہ کیا گیا، جس کے بارے میں اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق اس حملے سے قبل امریکا کو بھی کارروائی سے آگاہ کر دیا گیا تھا یہ کارروائی سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کی گئی، تاہم لبنان یا حزب اللہ کی جانب سے اس کارروائی پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 نکاتی فریم ورک معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد سرحدی کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے لیے راہ ہموار کرنا بتایا گیا تھا،گزشتہ ہفتے اسرائیل اور لبنانی حکام کے درمیان امریکا کی ثالثی میں امن معاہدے کے فریم ورک پر دستخط ہوئے تھے، اس موقع پر امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو بھی موجود تھے جنہوں نے کہا تھا کہ امید ہے فریم ورک سے لبنان میں امن کے لیے پیش رفت ہوگی، ہم چاہتے ہیں لبنان اور اسرائیل کے لوگ محفوظ مستقبل کی زندگی گزارسکیں جب کہ لبنانی سفیر نے کہا کہ معاہدہ لبنان کی خود مختاری کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔

  • ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا،عباس عراقچی

    ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا،عباس عراقچی

    ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے ایک بار پھر امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی یکطرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر کا سبب بنے گی۔

    بغداد میں عراقی وزیر خارجہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عباس عراقچی نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے اور خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، عراقی وزیر خارجہ نے عباس عراقچی کا بغداد آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور ایران کے درمیان تعلقات انتہائی گہرے ہیں اور بغداد ہر ملک کے خلاف جنگ اور جار حیت کو مسترد کرتا ہے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت ایک مثبت پیشرفت ہے ، آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا پورے خطے کے لیے نہایت اہم ہے، آبنائے ہرمز میں فوجی کشیدگی بڑھانے سے گریز کیا جانا چاہیے عراق کو اس وقت شدید تیل بحران کا سامنا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے بعد عباس عراقچی کا دورۂ عراق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شاندار استقبال پر عراقی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تہران بغداد کی نئی حکومت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہےموجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر ان کا دورہ عراق غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے،عراقی حکومت نے ایران پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی ،عراقی عوام نے ہر مشکل وقت میں ایرانی عوام کا ساتھ دیا۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران لبنان کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گاعراقی وزیر خارجہ کو جنگ کی صورتحال اور ایران، امریکا مفاہمتی یادداشت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے، آبنائے ہرمز ایران کے انتظامی کنٹرول میں ہے اور بحری آمدورفت کو جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کرنا تہران کی ذمہ داری ہے انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی یک طرفہ یا نئی کارروائی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عمل میں تاخیر ہو سکتی ہے اسرائیل کا لبنان سے انخلاء اور وہاں حملے روکنا امریکا کیساتھ عبوری معاہدے کا لازمی حصہ ہے۔

  • اسرائیل نے لبنان میں  فضائی حملے روک دیئے

    اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے روک دیئے

    نیویارک: اقوام متحدہ نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فضائی حملے روکنے کا خیرمقدم کیا ہے-

    اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اتوار کا دن جنوبی لبنان میں نسبتاً پُرامن رہا اور اقوام متحدہ کے امن دستوں نے کسی فضائی حملے یا جوابی کارروائی کی نشاندہی نہیں کی ان کے مطابق پیر کی صبح تک بھی یہی صورتحال برقرار رہی، مارچ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جنوبی لبنان میں ایسا دن گزرا ہے جب امن فوج نے نہ کسی فضائی حملے کا مشاہدہ کیا اور نہ ہی کسی میزائل یا راکٹ کی پرواز یا روک تھام ریکارڈ کی۔

    ترجمان نے اس پیشرفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دشمنی میں یہ کمی زمینی سطح پر موجود شہریوں کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جار ی رہے گاصورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی۔ اقوام متحدہ کی امن فورس نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی وسیع زمینی سرگرمیوں کا مشاہدہ جاری رکھا ہے، جن میں بکتر بند گاڑیوں کی نقل و حرکت، انجینئرنگ کام اور لاجسٹک سرگرمیاں شامل ہیں۔

  • آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، نیتن یاہو کا لبنان پر حملے روکنے کا حکم

    آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی، نیتن یاہو کا لبنان پر حملے روکنے کا حکم

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کو روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں آبنائے ہرمز کی بندش کی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اس اہم بحری گزرگاہ میں تیل اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی خلاف ورزی کے جواب میں ہم آبنائے ہرمز کو بند کر رہے ہیں۔

    صورتحال کے بارے میں زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ ایران نے بندش کا اعلان کیا ہے، لیکن سمندری راستوں سے جہازوں کی آمد و رفت مکمل طور پر رکی نہیں ہے اطلاعا ت کے مطابق بعض بحری جہاز عمان کی سمندری حدود سے گزر رہے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہوئی بلکہ جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے۔

    اُدھر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت کھلی ہے اور وہاں بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے دوسری جانب اسرائیلی وزیرا عظم نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کو عارضی طور پر روکنے کا حکم دیا ہے اسرائیلی حکام کے مطابق یہ فیصلہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

  • لبنان: حزب اللہ کی اسرائیلی فوجی چوکی پر راکٹ فائر، کمانڈو ہلاک،13 اہلکار زخمی

    لبنان: حزب اللہ کی اسرائیلی فوجی چوکی پر راکٹ فائر، کمانڈو ہلاک،13 اہلکار زخمی

    امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان گھمسان کی جنگ جاری ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان کے نبطیہ کے قریب کفر تبنیت گاؤں میں قائم اسرائیلی فوجی چیک پوسٹ کو راکٹوں کی بوچھاڑ اور ایک دھماکا خیز ڈرون سے نشانہ بنایا گیا،اس حملے میں 21 سالہ سارجنٹ فرسٹ کلاس نیر بن آری ہلاک ہوگئے جو کمانڈو بریگیڈ کی مگلان یونٹ سے تعلق رکھتے تھے،اسی حملے میں 13 اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک کے ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جب کہ تین روز میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہوچکی ہے اس حملے کے فوراً بعد جنوبی لبنان کے نبطیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے اور ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی حملے کیے گئے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اسرائیلی فوجی ٹینک پر حملے میں بھی بٹالین کمانڈر اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جب کہ اس سے ایک روز قبل ایک اور ملٹری وہیکل بارودی سرنگ دھماکے میں تباہ ہوگئی تھی۔