Baaghi TV

Tag: لبنان

  • لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا، ایران کا لبنانی صدر کو جواب

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایران پر لبنان کے معاملات میں مداخلت کرنے کے لبنانی صدر جوزف عون کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے-

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عباس عراقچی نے کہا ہے کہ صدر عون کے بیانات سن کر ایسا لگتا ہے جیسے لبنان کے پانچویں حصے پر ایران نے قبضہ کر رکھا ہو، چوتھائی لبنانی آبادی کو ایران نے بے گھر کیا ہو اور روزانہ بمباری بھی ایران ہی کر رہا ہوایرانی وزیرِ خارجہ نے لبنانی صدر جوزف عون کو مخاطب کر کے کہا کہ جنابِ صدر! لبنان کو اصل دشمن سے بچائیں، امریکا کے ساتھ لبنان کارڈ استعمال کرنا ہوتا تو معاہدہ کافی پہلے ہو چکا ہوتا۔

    واضح رہے کہ لبنانی صدر جوزف عون نے سی این این کو حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ایران کو لبنان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

  • امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں مذاکرات ، اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق،مشترکہ اعلامیہ جاری

    امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان جنگ بندی پر متفق ہو گئے دونوں فریق 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کریں گے۔

    امریکی ثالثی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق جنگ بندی کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا ہےدونوں ممالک نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، حزب اللّٰہ کی جانب سے اسرائیل پر مکمل طور پر حملے بند کیے جائیں گے اور جنوبی لیطانی سیکٹر خالی کرنا ہو گا۔

    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پائلٹ زونز بنائے جائیں گے جن پر لبنانی فوج کا کنٹرول ہو گا، غیر ریاستی عناصر وہاں داخل نہیں ہو سکیں گےاسرائیل اور لبنان نے عزم دہرایا کہ ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں کیے جائیں گے اور جامع معاہدہ کے لیے اقدامات کریں گے۔

  • ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنبیہ کے باوجود اسرائیل کے لبنان پروحشیانہ زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور امریکا دونوں کو سخت ترین نتائج کی وارننگ دے دی ہے.
    دئے اور طائر کے ایک اسپتال پر ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد 4ہو گئی ہے جبکہ50 سے زائد افراد زخمی ہیں ان حملوں کے دوران دیر الزہرانی میں 2 لبنانی فوجی بھی زخمی ہوئے ہیں.

    لبنان کی اس سنگین صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ اگر لبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو اس کے بہت سنگین نتائج ہوں گے، اور ایرانی فوج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں موجود امریکی افواج کو بھی ان نتائج کو بھگتنا پڑے گا، اور یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہماری یہ دھمکی کھوکھلی نہیں ہے.

    اسی طرح ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر امریکا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا جنگ بندی کی پاسداری نہیں کر رہا ہے، اور بحری ناکہ بندی سمیت لبنان میں اسرائیل کے جنگی جرائم اس بات کا واضح ثبوت ہیں، ہر فیصلے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور وہ قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، اب سب کچھ اپنے انجام تک پہنچ کر رہے گا.

    عالمی دباؤ کے باوجود اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں واضح طور پر کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج اپنی حکمتِ عملی کے مطابق آپریشنز جاری رکھے گی، اور اسرائیل اپنے شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا.

    دوسری طرف اسرائیل اور لبنان کے حکام ایک بار پھر واشنگٹن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پانچواں دور ہوگا جس میں امن عمل کو دوبارہ بحال کرنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.

  • اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو  مذاکرات روک دیں گے، قالیباف

    اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو مذاکرات روک دیں گے، قالیباف

    ایران کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو امریکا سے مذاکرات روک دیں گے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں مزاحمتی محور کو ردعمل پر مجبور کر دیں گی، محور مزاحمت باب المندب کی بحری ٹریفک کے ساتھ وہی کر سکتا ہے جو صورتحال آبنائے ہرمز کی ہے۔

    ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کاکہنا تھا کہ لبنان پر حملے بند نہ ہوئے توسنگین نتائج ہوں گے صیہونی حکومت اور امریکی افواج کو خبردار کرتے ہیں کہ یہ کھوکھلی دھمکی نہیں ہے، ایران فوجی جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں امریکی افواج بھی نتائج بھگتیں گی۔

    دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے.

    امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر انتہائی تلخ لہجے میں بات کی اور انہیں پاگل کے ساتھ ساتھ ناشکرا بھی قرار دیا،صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیروت پر حملے کیے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا، میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں اور ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے، ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہے.

    اس گفتگو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ایک مختلف اور پرامید بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے بڑی مثبت بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی فوج بیروت نہیں جارہی، اور جو فوجی راستے میں تھے انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے.

  • اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    اسرائیل کا لبنان کے تاریخی قلعے پر قبضہ، سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

    اسرائیل کی جانب سے لبنان میں تقریخی قلعے بیفورٹ پر قبضے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جارحیت کو وسعت دینے کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کو ایک ہنگامی اجلا س کرے گی، اجلاس کی درخواست فرانس کی طرف سے کی گئی تھی، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا تھا کہ جنوبی لبنان میں جاری بڑی کشیدگی کا کو ئی جواز نہیں بنتا، انہوں نے لڑائی کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ لبنان پر جنگ اُس وقت مسلط کی گئی جب حزب اللہ نے امریکی اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کے قتل کے بدلے میں اسرائیل کی طرف راکٹ داغے۔

  • امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا کی لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کیلئے نئی سفارتی تجویز

    امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک نئے سفارتی منصوبے کی تجویز پیش کر دی ہے-

    رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز لبنانی صدر جوسیف آؤن اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے الگ الگ رابطے کیے، جن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی، جبکہ اس کے بدلے میں اسرائیل بیروت میں مزید فوجی کارروائیاں نہیں کرے گا اور حالات کو مزید خراب ہونے سے بچائے گا، اس اقدام سے بتدریج کشیدگی کم کرنے اور مؤثر جنگ بندی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

    عہدیدار نے بتایا کہ صدر جوزف عون نے اس تجویز کو آگے بڑھانے اور دونوں جانب سے اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم لبنانی پارلیمان کے اسپیکر نبیح بیری ، جنہوں نے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی پر عمل درآمد کی ضمانت دینے کا دعویٰ کیا، نے اس معاملے میں ذمہ داری اسرائیل پر عا ئد کرتے ہوئے کہا کہ پہلے فائرنگ بند کرنے کی ذمہ داری اسرائیل کی ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کو کہا کہ انہوں نے حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کے دوران فوج کو لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کا حکم دیا ہے، حالانکہ جنگ بندی کا اعلان چھ ہفتوں سے زائد عرصہ قبل کیا جا چکا تھا،اسرائیلی فوج کے دستوں نے جنوبی لبنان میں واقع 900 سال قدیم بیوفورٹ قلعہ اور ایک اہم اسٹریٹجک پہاڑی سلسلے پر قبضہ کیا۔

  • اسرائیلی فوج کا لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے (قلعۃ الشقیف) پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب واقع اس اہم اور تاریخی مقام کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے قلعے پر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے تصاویر جاری کیں۔

    صلیبی دور میں تعمیر کیا گیا یہ قلعہ ایک بلند پہاڑی چوٹی پر واقع ہے اور لبنان۔اسرائیل سرحد سے تقریباً 15 کلومیٹر (9 میل) کے فاصلے پر واقع ہونے کے باعث اسے غیرمعمولی تزویراتی اہمیت حاصل ہے،تاحال لبنانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی فوری ردعمل یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    بیوفورٹ قلعہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے تحفظ میں شامل ایک تاریخی ورثہ ہے اسرائیل ماضی میں اس قلعے اور اس کے اطراف کے علاقے پر 18 برس تک قابض رہا تھا، تاہم وہ 2000 میں لبنان سے انخلا کے دوران یہاں سے واپس چلا گیا تھااسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری توسیع پذیر فوجی کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ العمل ۔ اسرائیل پر اس جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بیوفورٹ قلعے پر قبضے کو ایک اہم تزویراتی کامیابی قرار دیا ہےٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گولانی بریگیڈ کی قیادت میں اسرائیلی افواج نے دریائے لیتانی کو عبور کرتے ہوئے بیوفورٹ کی پہاڑی چوٹی پر قبضہ کر لیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی ہدایات اور میری رہنمائی میں اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا، دریائے لیتانی کو عبور کیا اور بیوفورٹ ریج پر قبضہ کیا، جو الجلیل (گیلیلی) کی بستیوں کے دفاع اور ہماری افواج کی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم تزویراتی مقام ہے اس آپریشن کو پہلے خفیہ رکھا گیا تھا اور اس پر اطلاعاتی پابندی عائد تھی، علاقے میں لڑائی ابھی بھی جاری ہے اور اسرا ئیل حزب اللہ کو مزید کمزور کرنے اور اپنی شمالی سرحد کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

    مبصرین کے مطابق لبنان میں اسرائیلی فوج کی یہ پیش قدمی گزشتہ 25 برس سے زائد عرصے کے دوران ملک کے اندر سب سے گہری دراندازی شمار کی جا رہی ہے-

  • حزب اللہ سے روابط:متحدہ عرب امارات نے 16 افراداور5 کمپنیوں 5 اداروں کو دہشتگرد قرار دیدیا

    حزب اللہ سے روابط:متحدہ عرب امارات نے 16 افراداور5 کمپنیوں 5 اداروں کو دہشتگرد قرار دیدیا

    متحدہ عرب امارات نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سے تعلق پر 16 افراد اور کو دہشتگرد قرار دے دیا۔

    اماراتی میڈیا کے مطابق حزب اللہ سے منسلک 5 ادارے بھی دہشتگردی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں،اماراتی کابینہ نے فیصلے کے تحت مشتبہ مالی روابط والوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے، متعلقہ افراد اور اداروں کے اثاثے 24 گھنٹوں میں منجمد کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

    اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق یہ اقدام کابینہ کی قرارداد نمبر 63 برائے 2026 کی منظوری کے بعد کیا گیا، اماراتی کابینہ نے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ فہرست میں شامل تمام افراد اور کمپنیوں کے اثاثے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں منجمد کیے جائیں۔

    وام کے مطابق یہ اقدام دہشتگردی کی مالی معاونت اور اس سے جڑے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر جاری کوششوں کا حصہ ہے چاہے یہ معاونت براہِ راست ہو یا بالواسطہ، ایسے تمام مالی ذرائع کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی، یو اے ای دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، خصوصاً مشتبہ مالیاتی چینلز کی نگرانی اور غیر قانونی فنڈنگ کے ذرائع بند کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ سرحد پار دہشتگردی کی مالی معاونت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

    میں شامل تمام 16 افراد لبنانی شہری ہیں، جن میں علی محمد کرنیب، ناصر حسن نصر، حسن شہادہ عثمان، سامر حسن فواز، احمد محمد یزبک، عیسیٰ حسین قاصر، ابراہیم علی ظاہر، عباس حسن غریب، عماد محمد بازی، عزت یوسف عکر، وحید محمود سبیتی، مصطفیٰ حبیب حرب، محمد سلیمان بدر، عادل محمد منصور، علی احمد کرشت اور نیما احمد جمیل شامل ہیں۔

    اسی طرح فہرست میں شامل پانچوں ادارے بھی لبنان میں قائم ہیں، جن میں ’بیت المال المسلمین‘، ’القرض الحسن ایسوسی ایشن‘، ’التسہيلات کمپنی‘، ’دی آڈیٹرز فار اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ‘ اور ’الخبراء فار اکاؤنٹنگ، آڈیٹنگ اینڈ اسٹڈیز‘ شامل ہیں۔

    دوسری جانب ایران میں صیہونی حکومت سےمنسلک 5 منظم نیٹ ورکس ختم کردیے گئے ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے مطابق 20 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں جن سے دھماکا خیزمواد اورگولہ بارود بھی برآمدکر لیا گیا ہے۔

  • اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہو گا

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہو گا

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے جا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار اور اسرائیلی ذریعے کے مطابق دونوں ممالک کے سفیروں کے درمیان ملاقاتیں جمعرات اور جمعے کو ہوں گی، جن کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم بنانا اور ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا نیا دور 14 اور 15 مئی کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے گزشتہ روز بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئندہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کو دونوں ممالک کے درمیان اہم بات چیت ہوگی۔

    صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان ایک تاریخی ملاقات کرانے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں تاہم لبنانی صدر نے اسرائیلی حملوں کے دوران نیتن یاہو سے براہِ راست ملاقات پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

    لبنانی صدر جوزف عون نے پیر کو کہا تھا کہ مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال نہیں اور یہ عمل تمام لبنانی عوام کے مفاد میں ہے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ضروری ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کی تھی تاہم اس دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور اسرائیلی افواج پر حزب اللہ کی کارروائیاں جاری رہیں، جس سے جنگ بندی معاہدہ شدید دباؤ کا شکار ہے بدھ کے روز اسرائیل نے بیروت میں جنگ بندی کے بعد پہلا حملہ بھی کیا، جس کے بعد امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بیروت میں حزب اللہ کے خلاف حالیہ حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے دشمنوں کے لیے کہیں بھی کوئی ‘استثنیٰ نہیں ہے،حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر احمد علی بلوط یہ سمجھتے تھے کہ وہ بیروت میں اپنے خفیہ ٹھکانے سے حملوں کی ہدایت دے سکتے ہیں، لیکن اب وہ محفوظ نہیں رہے۔

    یاد رہے کہ رواں برس 2 مارچ کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تھا، جس کے بعد 16 اپریل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک لبنان میں 2,700 سے زائد افراد ہلاک اور 12 لاکھ کے قریب بے گھر ہوچکے ہیں لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بڑے مذاکراتی عمل سے قبل موجودہ جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنا ضروری ہے۔

  • حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے،لبنانی صدر

    حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے،لبنانی صدر

    لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو ایران سے متعلق تنازع کے حل سے الگ رکھا جانا چاہیے، حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے-

    صدرعون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ آئندہ مذاکرات کسی بھی دیگر مذاکرات سے الگ ہوں گے کیونکہ لبنان کے سامنے دو راستے ہیں یا تو جنگ کا تسلسل، جس کے انسانی، سماجی، معاشی اور خودمختاری پر سنگین اثرات ہوں گے، یا پھر مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ اور پائید ار استحکام کا حصول۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ایران نے دونوں تنازعات کو آپس میں جوڑتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حزب اللہ پر حملے بند کرے، جسے امریکا کے ساتھ جنگ بندی کی شرط قرار دیا گیا ہےمیں نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم لبنان کو بچانے میں کامیاب ہوں گے۔

    لبنانی صدر کے مطابق مذاکرات کا مقصد مخالفانہ کارروائیوں کا خاتمہ، جنوبی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کا اختتام اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں تک لبنانی فوج کی تعیناتی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالا اور مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار کی جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات شروع کرنے کے لیے رابطے جاری رہیں گے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ اسی ہفتے جاری رہ سکتا ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی ابتدائی مرحلہ سفیروں کی سطح پر ہوگا جب کہ دوسرے مرحلے میں سفیر سائمن کرم کی قیادت میں ایک وفد مذاکرات کرے گا۔

    دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے گزشتہ ہفتے پاکستانی ثالثوں کو بتایا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جامع جنگ بندی طے پاتی ہے تو اس میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے سرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی پوزیشنز سے دستبردار نہیں ہوگی، جب کہ 10 روزہ جنگ بندی اس ہفتے کے اختتام پر ختم ہونے والی ہے۔