Baaghi TV

Tag: لبنان

  • اسرائیلی فوج کا لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے پر قبضہ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں تاریخی بیوفورٹ قلعے (قلعۃ الشقیف) پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ کے قریب واقع اس اہم اور تاریخی مقام کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے قلعے پر اسرائیلی پرچم لہراتے ہوئے تصاویر جاری کیں۔

    صلیبی دور میں تعمیر کیا گیا یہ قلعہ ایک بلند پہاڑی چوٹی پر واقع ہے اور لبنان۔اسرائیل سرحد سے تقریباً 15 کلومیٹر (9 میل) کے فاصلے پر واقع ہونے کے باعث اسے غیرمعمولی تزویراتی اہمیت حاصل ہے،تاحال لبنانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی فوری ردعمل یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    بیوفورٹ قلعہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے تحفظ میں شامل ایک تاریخی ورثہ ہے اسرائیل ماضی میں اس قلعے اور اس کے اطراف کے علاقے پر 18 برس تک قابض رہا تھا، تاہم وہ 2000 میں لبنان سے انخلا کے دوران یہاں سے واپس چلا گیا تھااسرائیل کی جانب سے لبنان میں جاری توسیع پذیر فوجی کارروائیاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب 17 اپریل سے جنگ بندی نافذ العمل ۔ اسرائیل پر اس جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بیوفورٹ قلعے پر قبضے کو ایک اہم تزویراتی کامیابی قرار دیا ہےٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ گولانی بریگیڈ کی قیادت میں اسرائیلی افواج نے دریائے لیتانی کو عبور کرتے ہوئے بیوفورٹ کی پہاڑی چوٹی پر قبضہ کر لیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو کی ہدایات اور میری رہنمائی میں اسرائیلی فوج نے لبنان میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا، دریائے لیتانی کو عبور کیا اور بیوفورٹ ریج پر قبضہ کیا، جو الجلیل (گیلیلی) کی بستیوں کے دفاع اور ہماری افواج کی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم تزویراتی مقام ہے اس آپریشن کو پہلے خفیہ رکھا گیا تھا اور اس پر اطلاعاتی پابندی عائد تھی، علاقے میں لڑائی ابھی بھی جاری ہے اور اسرا ئیل حزب اللہ کو مزید کمزور کرنے اور اپنی شمالی سرحد کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

    مبصرین کے مطابق لبنان میں اسرائیلی فوج کی یہ پیش قدمی گزشتہ 25 برس سے زائد عرصے کے دوران ملک کے اندر سب سے گہری دراندازی شمار کی جا رہی ہے-

  • حزب اللہ سے روابط:متحدہ عرب امارات نے 16 افراداور5 کمپنیوں 5 اداروں کو دہشتگرد قرار دیدیا

    حزب اللہ سے روابط:متحدہ عرب امارات نے 16 افراداور5 کمپنیوں 5 اداروں کو دہشتگرد قرار دیدیا

    متحدہ عرب امارات نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سے تعلق پر 16 افراد اور کو دہشتگرد قرار دے دیا۔

    اماراتی میڈیا کے مطابق حزب اللہ سے منسلک 5 ادارے بھی دہشتگردی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں،اماراتی کابینہ نے فیصلے کے تحت مشتبہ مالی روابط والوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے، متعلقہ افراد اور اداروں کے اثاثے 24 گھنٹوں میں منجمد کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

    اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق یہ اقدام کابینہ کی قرارداد نمبر 63 برائے 2026 کی منظوری کے بعد کیا گیا، اماراتی کابینہ نے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ فہرست میں شامل تمام افراد اور کمپنیوں کے اثاثے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں منجمد کیے جائیں۔

    وام کے مطابق یہ اقدام دہشتگردی کی مالی معاونت اور اس سے جڑے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر جاری کوششوں کا حصہ ہے چاہے یہ معاونت براہِ راست ہو یا بالواسطہ، ایسے تمام مالی ذرائع کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی، یو اے ای دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، خصوصاً مشتبہ مالیاتی چینلز کی نگرانی اور غیر قانونی فنڈنگ کے ذرائع بند کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ سرحد پار دہشتگردی کی مالی معاونت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

    میں شامل تمام 16 افراد لبنانی شہری ہیں، جن میں علی محمد کرنیب، ناصر حسن نصر، حسن شہادہ عثمان، سامر حسن فواز، احمد محمد یزبک، عیسیٰ حسین قاصر، ابراہیم علی ظاہر، عباس حسن غریب، عماد محمد بازی، عزت یوسف عکر، وحید محمود سبیتی، مصطفیٰ حبیب حرب، محمد سلیمان بدر، عادل محمد منصور، علی احمد کرشت اور نیما احمد جمیل شامل ہیں۔

    اسی طرح فہرست میں شامل پانچوں ادارے بھی لبنان میں قائم ہیں، جن میں ’بیت المال المسلمین‘، ’القرض الحسن ایسوسی ایشن‘، ’التسہيلات کمپنی‘، ’دی آڈیٹرز فار اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ‘ اور ’الخبراء فار اکاؤنٹنگ، آڈیٹنگ اینڈ اسٹڈیز‘ شامل ہیں۔

    دوسری جانب ایران میں صیہونی حکومت سےمنسلک 5 منظم نیٹ ورکس ختم کردیے گئے ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے مطابق 20 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں جن سے دھماکا خیزمواد اورگولہ بارود بھی برآمدکر لیا گیا ہے۔

  • اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہو گا

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے ہو گا

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور آئندہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے جا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار اور اسرائیلی ذریعے کے مطابق دونوں ممالک کے سفیروں کے درمیان ملاقاتیں جمعرات اور جمعے کو ہوں گی، جن کا مقصد جنگ بندی کو مستحکم بنانا اور ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے مذاکرات کا نیا دور 14 اور 15 مئی کو واشنگٹن میں منعقد ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے گزشتہ روز بیروت کے جنوبی مضافات میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کو نشانہ بنایا، جس سے علاقے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئندہ ہفتے جمعرات اور جمعہ کو دونوں ممالک کے درمیان اہم بات چیت ہوگی۔

    صدر ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کے درمیان ایک تاریخی ملاقات کرانے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں تاہم لبنانی صدر نے اسرائیلی حملوں کے دوران نیتن یاہو سے براہِ راست ملاقات پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

    لبنانی صدر جوزف عون نے پیر کو کہا تھا کہ مذاکرات سے پیچھے ہٹنے کا کوئی سوال نہیں اور یہ عمل تمام لبنانی عوام کے مفاد میں ہے انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ضروری ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے آخر میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کی تھی تاہم اس دوران جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور اسرائیلی افواج پر حزب اللہ کی کارروائیاں جاری رہیں، جس سے جنگ بندی معاہدہ شدید دباؤ کا شکار ہے بدھ کے روز اسرائیل نے بیروت میں جنگ بندی کے بعد پہلا حملہ بھی کیا، جس کے بعد امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدے پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بیروت میں حزب اللہ کے خلاف حالیہ حملے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے دشمنوں کے لیے کہیں بھی کوئی ‘استثنیٰ نہیں ہے،حزب اللہ کی رضوان فورس کے کمانڈر احمد علی بلوط یہ سمجھتے تھے کہ وہ بیروت میں اپنے خفیہ ٹھکانے سے حملوں کی ہدایت دے سکتے ہیں، لیکن اب وہ محفوظ نہیں رہے۔

    یاد رہے کہ رواں برس 2 مارچ کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوا تھا، جس کے بعد 16 اپریل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا۔

    لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک لبنان میں 2,700 سے زائد افراد ہلاک اور 12 لاکھ کے قریب بے گھر ہوچکے ہیں لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی بڑے مذاکراتی عمل سے قبل موجودہ جنگ بندی کو مزید مستحکم کرنا ضروری ہے۔

  • حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے،لبنانی صدر

    حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے،لبنانی صدر

    لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ان کے ملک کے اسرائیل کے ساتھ جاری امن مذاکرات کو ایران سے متعلق تنازع کے حل سے الگ رکھا جانا چاہیے، حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے-

    صدرعون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ آئندہ مذاکرات کسی بھی دیگر مذاکرات سے الگ ہوں گے کیونکہ لبنان کے سامنے دو راستے ہیں یا تو جنگ کا تسلسل، جس کے انسانی، سماجی، معاشی اور خودمختاری پر سنگین اثرات ہوں گے، یا پھر مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ اور پائید ار استحکام کا حصول۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ایران نے دونوں تنازعات کو آپس میں جوڑتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حزب اللہ پر حملے بند کرے، جسے امریکا کے ساتھ جنگ بندی کی شرط قرار دیا گیا ہےمیں نے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم لبنان کو بچانے میں کامیاب ہوں گے۔

    لبنانی صدر کے مطابق مذاکرات کا مقصد مخالفانہ کارروائیوں کا خاتمہ، جنوبی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کا اختتام اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں تک لبنانی فوج کی تعیناتی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈالا اور مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار کی جنگ بندی برقرار رکھنے اور مذاکرات شروع کرنے کے لیے رابطے جاری رہیں گے۔

    ذرائع کے مطابق مذاکرات کا سلسلہ اسی ہفتے جاری رہ سکتا ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ تاحال طے نہیں ہوئی ابتدائی مرحلہ سفیروں کی سطح پر ہوگا جب کہ دوسرے مرحلے میں سفیر سائمن کرم کی قیادت میں ایک وفد مذاکرات کرے گا۔

    دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے گزشتہ ہفتے پاکستانی ثالثوں کو بتایا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جامع جنگ بندی طے پاتی ہے تو اس میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے سرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی پوزیشنز سے دستبردار نہیں ہوگی، جب کہ 10 روزہ جنگ بندی اس ہفتے کے اختتام پر ختم ہونے والی ہے۔

  • اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    اسرائیلی فوجی کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی بے حرمتی، تصویر وائرل

    جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی وائرل تصویر نے عالمی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق پیر کے روز جاری ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے اس تصویر کے درست ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی جائزے میں معلوم ہوا کہ تصویر ایک اسرائیلی فوجی کی ہے جو جنوبی لبنان میں ایک آپریشن کے دوران لی گئی ہے جب کہ اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور تحقیقات کے نتائج کے مطابق ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

    اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے فلسطینی رکن ایمن عودہ نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ہم انتظار کریں گے کہ پولیس ترجمان یہ دعویٰ کرے کہ فوجی کو حضرت عیسیٰ کے مجسمے سے خطرہ محسوس ہوا تھا۔

    کنیسٹ کے ایک اور فلسطینی رکن احمد طیبی نے فیس بک پر اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ غزہ میں مساجد اور گرجا گھروں کو دھماکوں سے اڑاتے ہیں اور یروشلم میں عیسائی مذہبی رہنماؤں پر تھوکتے ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں ملتی، وہ حضرت عیسیٰ کے مجسمے کو تباہ کرنے اور اس کی تصویر شائع کرنے سے بھی نہیں ڈرتےشاید ان نسل پرستوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سیکھ لیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توہین کیسے کی جاتی ہے اور پوپ لیو کی بھی بے حرمتی کیسے کی جاتی ہے؟-

    یہ بیان امریکی صدر کے حالیہ تنازعات کے تناظر میں دیا گیا، جن میں ان کی ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شامل تھی جس میں وہ خود کو حضرت عیسیٰ جیسی شخصیت کے طور پر پیش کرتے نظر آئے تھے، جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ پر تنقید کرنے والے رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ سے بھی اختلاف کیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق، یہ مجسمہ جنوبی لبنان کے گاؤں دیبل کے مضافات میں، اسرائیل کی سرحد کے قریب واقع تھا اسرائیلی افواج نے غزہ میں جاری جنگ کے دوران متعدد مذہبی مقامات، بشمول مساجد اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایااسی طرح مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ سال آبادکاروں نے 45 مساجد پر حملے یا توڑ پھوڑ کی، جس کی تصدیق فلسطینی اتھارٹی کی وزارت مذہبی امور نے کی۔

    دوسری جانب مذہبی آزادی کے ڈیٹا سینٹر کے مطابق جنوری 2024 سے ستمبر 2025 کے درمیان عیسائیوں کے خلاف کم از کم 201 پرتشدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں زیادہ تر حملے آرتھوڈوکس یہودیوں کی جانب سے بین الاقوامی مذہبی شخصیات یا عیسائی علامات ظاہر کرنے والے افراد کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔

  • لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    لبنان : جنگ بندی کے باوجود امن دستے پر اسرائیلی حملے میں فرانسیسی فوجی ہلاک،3 زخمی

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے باوجود صہیونی افواج نے حملے جاری جنوبی لبنان میں اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز ’ایکس‘ پر جاری بیان میں جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں متعدد حملوں کا اعتراف کیا ہے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر صیہونی فوج کا قبضہ برقرار ہے۔

    بیان میں اِن حملوں کو دفاعی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اُسے جنگ بندی کے باوجود اپنے فوجیوں اور اسرائیلی شہریوں کی حفاظت کے تحت کارروائیاں کرنے کا اختیار حاصل ہے مزید حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے شہریوں اور فوجیوں کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان میں ہی اقوامِ متحدہ کے امن مشن پر حملے میں ایک فرانسیسی فوجی ہلاک ہوگیا ہے فرانس نے اس واقعے کی ذمہ داری حزب اللہ پر عائد کرتے ہوئے لبنانی حکومت سے ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    فرانسیسی صدر کے مطابق ہلاک ہونے والے فرانسیسی فوجی کی شناخت فلوریان مونٹوریو کے نام سے ہوئی جب کہ اسی واقعے میں دیگر تین فرانسیسی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ٕ

    اقوام متحدہ کے امن مشن کے مطابق ان کی پٹرولنگ ٹیم جنوبی لبنان کے علاقے غندوریہ میں سڑک کے کنارے بارودی مواد صاف کرنے میں مصرو ف تھی کہ اس دوران نامعلوم افراد کی جانب سے ان پر فائرنگ کی گئی جبکہ لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا کہا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات لبنان اور اس کے دوست ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جعمرات کو 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ اس جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود اسرائیل نے جنوبی لبنان میں پیش قدمی اور حملے جاری رکھے ہوئے تھے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو اسرائیل کو جنگ بندی کی پاسداری کرتے ہوئے لبنان پر حملے روکنے کا حکم دیا تھا تاہم اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری ہیں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل نے لبنان کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک ’سیکیورٹی زون‘ قائم کر لیا ہےجنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے ان تمام علاقوں میں بدستور موجود رہے گی۔

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف  احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

    اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے

    تل ابیب میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اسرائیل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد ملک بھر میں جنگ مخالف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں ہزاروں افراد نے تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل کر امن کا مطالبہ کیا تل ابیب کے حبیمہ اسکوائر میں ہونے والے بڑے احتجاج میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، جبکہ پولیس کی جانب سے اجازت نامے میں صرف ایک ہزار افراد کی حد مقرر کی گئی تھی مظاہرین نے حکومت کی جنگی پالیسیوں اور لبنان و خطے میں جاری عسکری کارروائیوں کے خلاف نعرے لگائے،احتجاج کے دوران شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "جنگ روکو” اور "نسل کشی بند کرو”، جنوبی لبنان پر قبضہ ایک تباہ کن فیصلہ ہوگا اور جب تک امن قائم نہیں ہوتا، اسرائیل میں حقیقی سلامتی ممکن نہیں جیسے نعرے درج تھے-

    رپورٹس کے مطابق یہ مسلسل چھٹا ہفتہ ہے جب اسرائیل میں جنگ مخالف مظاہرے ہو رہے ہیں اس بار احتجاج ملک کے دیگر شہروں جیسے یروشلم، حیفہ اور بئر سبع تک بھی پھیل گیا، جہاں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی مظاہرین کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور عسکری کارروائیاں عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں،س لیے حکومت کو فوری طور پر امن مذاکرات کی طرف جانا چاہیے۔

  • لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل  تباہ

    لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل تباہ

    جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران متعدد سرحدی دیہات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جہاں گھروں کو بارودی مواد سے اُڑا کر زمین بوس کیا جا رہا ہے۔

    برطانوی اخبار دی گارڈین کی جانب سے جائزہ لی گئیں ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سرحدی دیہات طیبہ، نقورہ اور دیر سریان میں بڑے پیمانے پر دھماکے کیےلبنانی میڈیا نے دیگر سرحدی علاقوں میں بھی ایسی ہی کارروائیوں کی اطلاع دی ہے، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔

    یہ کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سرحدی دیہات میں تمام گھروں کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا، اور اس حوالے سے غزہ کے علاقوں رفح اور بیت حنون میں اپنائے گئے ماڈل کی پیروی کی بات کی، اسرائیلی فوج اس سے قبل جنوبی غزہ کے شہر رفح میں تقریباً 90 فیصد گھروں کو تباہ کر چکی ہے،یہ کارروائیاں بڑے پیمانے پر ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔

    غزہ میں گھروں کے بڑے پیمانے پر تباہی کو ماہرین نے ڈومیسائیڈ قرار دیا ہے، جو ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے تحت شہری رہائش گاہوں کو منظم انداز میں تباہ کر کے پورے علاقے کو ناقابلِ رہائش بنا دیا جاتا ہے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے جیسے سرنگیں اور عسکری تنصیبات ہیں، جنہیں ان کے مطابق شہری گھروں میں قائم کیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے دریائے لیتانی تک ایک سیکیورٹی زون قائم کرے گا، اور جب تک شمالی اسرائیل کے شہروں کی سیکیورٹی یقینی نہیں بن جاتی، بے گھر افراد کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس اعلان نے طویل مدتی بے دخلی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

  • اسرائیل میرے ٹیکس کے پیسوں سے میرے ملک پر بمباری کر رہا ہے، میا خلیفہ

    اسرائیل میرے ٹیکس کے پیسوں سے میرے ملک پر بمباری کر رہا ہے، میا خلیفہ

    فحش فلموں کی سابق عرب اداکارہ میا خلیفہ نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل میرے ٹیکس کے پیسوں سے میرے ہی ملک پر حملے کررہا ہے،جس اسپتال میں پیدا ہوئی تھی، وہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

    لبنانی نژاد امریکی شخصیت میا خلیفہ نے اسرائیل کے بیروت پر بڑے فضائی حملوں پر شدید دکھ اور غصے کا اظہار کیا جن میں 250 سے زائد افراد شہید اور 1100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں،میا خلیفہ نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ آج کی خبروں پر میں دل برداشتہ اور ساکت ہو گئی ہوں، اسرائیل کی جانب سے بیروت میں صرف 10 منٹ میں 100 فضائی حملے کیے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کی جانب سے رہائشی عمارتیں، اسکول، طبی مراکز، بے گھر افراد کے کیمپس، حتیٰ کہ جنازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، اور میرے ٹیکس کے پیسے اسرائیل اس نسل کشی کو فنڈ کررہا ہے،یہ صورتحال دیکھنے کے لیے سب سے مشکل چیزوں میں سے ایک ہے-

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنے آپریشنز کا دائرہ وسیع کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک نئی سطح پر پہنچ گئی ہے حملوں میں سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں اور بیروت میں شہری خوف و ہراس کا شکار ہیںاسرائیلی عسکری حکام کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کی افواج نے جنوبی لبنان کے نئے علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے وہاں اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔

    اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے درجنوں ارکان کو ہلاک کرنے اور بھاری مقدار میں اسلحہ، بارود اور دھماکا خیز مواد قبضے میں لینے کا دعویٰ بھی کیا ہےدوسری جانب بیروت سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لبنانی دارالحکومت میں شدید افراتفری اور تباہی کا منظر ہے جہاں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے کیے گئے حملوں نے عام شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

  • ایرانی وزیر خارجہ  کا لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل

    ایرانی وزیر خارجہ کا لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیا ہے-

    عباس عراقچی نے کہا کہ عالمی برادری نہ صرف لبنان کی موجودہ صورتحال کا مشاہدہ کر رہی ہے بلکہ یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ آیا امریکا اپنے وعدوں اور اعلانات پر قائم رہتا ہے یا نہیں،جنگ بندی کے بعد ایسے حملے اس کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز کے جنگ بندی سے متعلق بیان کو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے شدہ جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں، اب فیصلہ امریکا کے ہاتھ میں ہے، گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے، اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ واقعی جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جنگ کو جاری رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں۔

    واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر شدید اور بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے ہیں، جن کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے،لبنان کی سول ڈیفنس اور وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا، جہاں 92 افراد جاں بحق اور 742 زخمی ہوئے، جبکہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہوئے اس کے علاوہ بعلبک میں 18، ہرمیل میں 9، نبیطہ میں 28، سدون میں 12 اور طیر میں 17 افراد جاں بحق ہونے کی اطلاعات ہیں۔