Baaghi TV

Tag: لندن

  • سرکاری ضیافت میں صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت تنقیدکی زدمیں

    سرکاری ضیافت میں صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت تنقیدکی زدمیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں ونڈسر کیسل میں دی گئی سرکاری ضیافت میں لندن کے میئر صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت کی خاموشی نے سیاسی و سماجی حلقوں میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔

    ذرائع کے مطابق صادق خان کو شرکا کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ براہِ راست صدر ٹرمپ کی خواہش پر کیا گیا تھا، جس کی تصدیق انہوں نے واشنگٹن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں بھی کی اس معاملے پر حکومتِ برطانیہ کے مؤقف نہ دینے کو سوشل میڈیا پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ ناصرف برطانیہ کی داخلی سیاست بلکہ اس کی خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر خودمختاری کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

    سابق لارڈ مئیر بریڈفورڈ محمد عجیب نے کہا کہ برطانیہ، جو کبھی دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت اور آج بھی ایک خود مختار ریاست تصور کیا جاتا ہے، نے امریکی صدر کے دباؤ کے آگے سر جھکا کر اپنی عالمی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔

    غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں،چین

    کونسلر اشتیاق احمد نے اپنے ردعمل میں کہا کہ برطانیہ کا ٹرمپ کے فیصلے کے سامنے جھکنا کوئی نئی روایت نہیں بلکہ پرانی روش کی یاد دہانی ہے برطانیہ ہمیشہ اپنی آزادی کے حق میں بلند آواز رہا ہے لیکن دوسروں کی آزادی اور خود مختاری کے معاملے پر خاموشی اختیار کرتا آیا ہے،وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی ٹرمپ کی نسل پرستانہ حرکتوں کے خلاف خاموشی نے لندن کے میئر کے دفتر کے وقار کو مجروح کیا ہے،ٹرمپ کو لندن کے شہریوں کی توہین کی اجازت دینا باعثِ شرم ہے-

    عالمی موسمیاتی اداروں نے لا نینا الرٹ جاری کر دیا،کیا پاکستان متاثر ہوگا؟

  • وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کر کے لندن روانہ

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کر کے لندن روانہ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد ریاض سے لندن روانہ ہوگئے۔

    ایئرپورٹ پر ریاض کے نائب گورنر عزت مآب محمد بن عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے وزیراعظم کو رخصت کیا,وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر یہ دورہ کیا دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور باہمی تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔

    وزیراعظم نے سعودی عرب میں تاریخی استقبال پر سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ دعا ہے پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ریاض کے سرکاری دورے پر عزیز بھائی، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے دیے گئے پُرخلوص اور شاندار استقبال نے میرے دل کو چھو لیا،شاہی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے میرے طیارے کو دیے گئے غیر معمولی حصار سے لے کر سعودی مسلح افواج کے دستے کی باوقار سلامی تک، یہ استقبالیہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت اور باہمی احترام کا رشتہ کتنا گہرا اور دیرپا ہے‘۔

    انہوں نے کہا کہ آج ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ میری نہایت دوستانہ اور جامع گفتگو ہوئی جس میں خطے کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،میں دل سے ولی عہد کی اس بصیرت اور قیادت کو سراہتا ہوں جو وہ مسلم دنیا کو فراہم کر رہے ہیں، دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے، میں ولی عہد کی مستقل حمایت اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری تعلقات کو وسعت دینے میں ان کی گہری دلچسپی کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں،میری دعا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور نئی بلندیوں کو چھوئے، ان شااللہ!۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا ہے،پاکستان اور سعودی عرب نے کے درمیان ہونے والے اس اہم ’تزویراتی باہمی دفاعی معاہدہ‘ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سلامتی تعاون کو مزید گہرا کرنا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرنا ہےاس معاہدے کی رو سے اگر کسی نے ایک ملک پر حملہ کیا تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی ،سخت ایس او پیز جاری

    معاہدے میں فوجی شراکت، دفاعی صلاحیتوں کی ترقی اور ممکنہ دشمنوں کے خلاف مشترکہ ردعمل جیسے نکات شامل ہیں،یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، خصوصاً قطر پر اسرائیلی فضائی حملوں اور فلسطین کی صورتحال کے بعد۔

    بھارت نے اس معاہدے پر محتاط ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ علاقائی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات میں تبدیلی نہیں لائے گاپاکستان نے اس معاہدے کو دیرینہ دفاعی شراکت داری کی توسیع قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی خاص واقعے کا فوری ردعمل نہیں بلکہ ایک پالیسی فریم ورک ہے۔

    پاک-سعودیہ معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی، روئٹرز

    دوسری جانب سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ علاقائی توازن قائم رکھا جا سکے،مجموعی طور پر یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک نئی جہت دے رہا ہے بلکہ خطے کی سیاست اور طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات ڈالنے کا امکان ہے۔

  • لندن میں فلسطین ایکشن کی حمایت پر ریکارڈ گرفتاریاں

    لندن میں فلسطین ایکشن کی حمایت پر ریکارڈ گرفتاریاں

    فلسطین ایکشن کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے کے دوران 890 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے 857 افراد انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کالعدم گروہ کی حمایت کرنے پر حراست میں لیے گئے، جبکہ 33 افراد کو پولیس افسران پر حملے سمیت دیگر جرائم کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

    برطانیہ نے جولائی میں رائل ایئرفورس کے بیس میں گھس کر فوجی طیاروں کو نقصان پہنچانے کے واقعے کے بعد فلسطین ایکشن کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس سے قبل یہ گروہ اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کے دفاتر اور تنصیبات کو نشانہ بنا چکا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے قریب ہونے والا یہ مظاہرہ اب تک کسی ایک احتجاج میں گرفتاریوں کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔ گرفتار افراد میں بڑی تعداد 60 سال سے زائد عمر کے مظاہرین کی ہے۔

    حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کالعدم گروہ کی حمایت میں مظاہروں میں شریک نہ ہوں۔

    گریڈ 21 کے افسر محمد طاہر نئے آئی جی بلوچستان مقرر

    دریائے چناب اور ستلج میں سیلاب، جلال پور پیر والا زیر آب، مساجد میں اعلانات

  • لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی

    لندن میں منعقدہ اسلحہ نمائش میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی

    برطانوی حکومت نے اگلے ماہ لندن میں ہونے والے ہتھیاروں کی نمائش ‘ڈیفنس اینڈ سکیورٹی ایکوئپمنٹ انٹرنیشنل’ میں اسرائیلی حکام کی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    برطانوی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ اسرائیلی سرکاری وفد کو ڈی ایس ای آئی یو کے 2025 میں مدعو نہیں کیا جائے گا، اسرائیلی حکومت کا غزہ میں فوجی کارروائی کو مزید بڑھانے کا فیصلہ غلط ہے اس جنگ کا فوری خاتمہ، یرغمالیوں کی واپسی اور انسانی ہمدردی کی امداد میں اضافہ ناگزیر ہے،وزارتِ دفاع نے واضح کیا کہ اگرچہ اسرائیلی دفاعی کمپنیاں میلے میں شریک ہو سکیں گی لیکن کسی سرکاری سطح پر شرکت یا سرکاری اسٹال کی اجازت نہیں ہو گی۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع نے اس فیصلے کو جان بوجھ کر کیا گیا افسوسناک امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ مکمل طور پر اس نمائش سے دستبردار ہو رہی ہےاسرائیلی میڈیا کے مطابق برطانیہ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے تو پابندی کا فیصلہ واپس لیا جا سکتا ہے۔

    یکم ستمبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ نے اسرائیل کو بعض ہتھیاروں کی برآمد پر لائسنس معطل کر دیے ہیں، آزاد تجارتی مذاکرات منجمد کر دیے ہیں اور غزہ پر حملوں کے باعث دائیں بازو کے 2 اسرائیلی وزراء پر پابندیاں عائد کی ہیں،یہ نمائش 9 سے 12 ستمبر تک لندن میں منعقد ہو گی اور دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ نمائشوں میں شمار ہوتی ہے۔

    فیلڈ مارشل کا پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ

  • اہلیہ کے خلاف نازیبا الفاظ :شہزادہ ہیری نےشہزادہ اینڈریوکو  مکا ماردیا، نئی کتاب میں دعویٰ

    اہلیہ کے خلاف نازیبا الفاظ :شہزادہ ہیری نےشہزادہ اینڈریوکو مکا ماردیا، نئی کتاب میں دعویٰ

    ایک نئی کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہزادہ ہیری نے اہلیہ کے خلاف نازیبا الفاظ کی ادائیگی پر پرنس اینڈریو کو اتنی زور سے مکا مارا کہ اُن کی ناک سے خون بہنے لگا۔ تاہم، شہزادہ ہیری نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

    پرنس ہیری نے ایک نئی کتاب میں لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کا اپنے چچا پرنس اینڈریو کے ساتھ جسمانی جھگڑا ہوا تھا اور اینڈریو نے میگھن مارکل کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے تھے۔

    مؤرخ اینڈریو لاؤنی کی تازہ کتاب ”Entitled: The Rise and Fall of the House of York“ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ جھگڑا 2013میں،اس وقت شروع ہوا جب پرنس اینڈریو نے میگھن مارکل کو ”موقع پرست عورت“ قرار دیا، یہ خبر ایک قابلِ اعتماد ذریعے نے دی تھی، جو پرنس اینڈریو کے قریبی حلقوں سے ہے۔ اس ذریعے نے دعویٰ کیا کہ دونوں شہزادوں کے درمیان اس وقت تلخی بڑھی جب ہیری نے میگھن پر ہونے والی تنقید کو ذاتی حملہ سمجھا۔

    شہزادہ ہیری کی ٹیم نے دعوے کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہاکہ،ہم واضح طور پر بتاتے ہیں کہ پرنس ہیری اور پرنس اینڈریو کے درمیان جسمانی طور پر کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا، اور نہ ہی پرنس اینڈریو نے میگھن مارکل سے متعلق کوئی نامناسب تبصرہ کیا-

    مگر اس تردید کے باوجود مصنف اینڈریو لاؤنی اپنے مؤقف پر قائم ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میرا ذریعہ نہایت قابلِ اعتماد ہے، اینڈریو کے بہت قریب رہا ہے، اور میرے پاس تفصیلات کی بھرمار ہے۔ میرے ناشر نے تبصرے کے لیے سسیکس خاندان سے رابطہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

    یہ نیا تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پرنس ہیری پہلے ہی برطانوی میڈیا، خصوصاً ڈیلی میل کے خلاف عدالتی مقدمات میں مصروف ہیں ہیری کا الزام ہے کہ ان کی ذاتی معلومات غیرقانونی طریقے سے حاصل کی گئیں۔

    خاندان میں دیرینہ تناؤ کے باوجود شہزادہ ہیری نے مصالحت کی خواہش کا اظہار کیا ہے،مئی میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ہیری نے کہا، "میں اپنے خاندان کے ساتھ مفاہمت پسند کروں گا۔ اب مزید لڑائی جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” تاہم، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی ترجیح اپنی بیوی اور بچوں کی حفاظت ہے۔

    مصنف کے مطابق، بدنام زمانہ شخصیت جیفری ایپسٹین نے ایک بار کہا تھا کہ ’اینڈریو عورتوں کے معاملے میں مجھ سے بھی زیادہ جنونی ہے،کتاب میں بعض ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ پرنس اینڈریو نے زندگی میں ایک ہزار سے زائد خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کیے، اور انہیں ”سیریل سیکس ایڈکٹ“ کہا گیا۔

    واضح رہے کہ پرنس اینڈریو کو 2022 میں جنسی ہراسانی کے الزامات کے بعد شاہی معاملات سے فارغ کر دیا گیا تھا ورجینیا جیفری نامی خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ اینڈریو نے انہیں اس وقت جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جب وہ صرف 17 سال کی تھیں یہ کیس میں معاملات عدالت سے باہر ہی طے پا گئے تھے، مگر پرنس اینڈریو کو شدید بدنامی کا سامنا کرنا پڑا،اس تمام تر صورتحال نے نہ صرف شاہی خاندان کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات کھڑے کیے ہیں بلکہ شہزادہ ہیری اور بکنگھم پیلس کے درمیان بڑھتے فاصلے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

  • لندن:دوافغان پناہ گز ین  12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے الزام میں  گرفتار

    لندن:دوافغان پناہ گز ین 12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کے الزام میں گرفتار

    افغان "پناہ کے متلاشیوں” کے ایک جوڑے پر نیویٹن میں ایک 12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی اور اغوا کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    23 سالہ احمد ملاخیل نے 22 جولائی کی شام کو قصبے کی شیورل اسٹریٹ پر مبینہ طور پر بچے کے ساتھ زیادتی کی۔ اسے 26 جولائی کو گرفتار کیا گیا تھا اور اگلے دن اس پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ 23 سالہ محمد کبیر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر 31 جولائی کو 13 سال سے کم عمر لڑکی کے اغوا، گلا گھونٹنے ا اور عصمت دری کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

    کوونٹری مجسٹریٹس کی عدالت میں پیش ہونے کے بعد اس جوڑے کو حراست میں لے لیا گیا ہے – ان کے کیس کی سماعت 26 اگست کو وارک کراؤن کورٹ میں ہوگی،ہفتہ کی سہ پہر کو پولیس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فورس ابھی بھی واقعے کے گواہوں کی اپیل کر رہی ہے ، لیکن اس نے ان کے پس منظر کا ذکر نہیں کیا۔

    راہول گاندھی کا بی جے پی پر الیکشن چوری کا الزام ،بھارتی انتخابی نظام بے نقاب

    اس کے بعد نامعلوم ذرائع نے میل کو بتایا کہ واروکشائر پولیس نے کونسلرز اور مقامی حکام پر زور دیا کہ وہ یہ ظاہر نہ کریں کہ یہ جوڑا "کمیونٹی تناؤ” کو ہوا دینے کے خوف سے پناہ کے متلاشی کیسے تھے،اخبار نے شیورل روڈ کے قریب ایک گھر سے سی سی ٹی وی کی تصویریں شائع کیں جن میں 22 جولائی کی رات 8 بجے کے قریب ایک شخص کو ایک سفید فام لڑکی کے ساتھ چلتے ہوئے دکھایا گیا ہے-

    اسحٰاق ڈارسے ایران کے صدر کی ملاقات

  • 221 برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا  فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

    221 برطانوی اراکین پارلیمنٹ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

    برطانیہ کی مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 221 ارکان پارلیمنٹ نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے، جس میں وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی لیبر حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی فلسطین سے متعلق کانفرنس کے دوران ’فلسطینی ریاست‘ کو تسلیم کرے۔

    بی بی سی کے مطابق برطانوی پارلیمنٹیرینز کی جانب 25 جولائی کو وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم آپ کو 28 اور 29 جولائی کو نیویارک میں فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ صدارت میں ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس سے قبل یہ خط لکھ رہے ہیں تاکہ فلسطینی ریاست کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے لیے اپنی حمایت ریکارڈ پر لا سکیں‘۔

    اراکین پارلیمنٹ نے لکھا کہ ہمیں امید ہے کہ اس کانفرنس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ برطانوی حکومت دو ریاستی حل کے حوالے سے اپنے دیرینہ وعدے پر عمل درآمد کا وقت اور طریقہ کار کا تعین کرے گی اور یہ بھی واضح کرے گی کہ وہ اس حقیقت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کس طرح تعاون کرے گی-

    رنویر سنگھ کی فلم میں بینظیر بھٹو کی تصویر اور پی پی کے جھنڈے کا استعمال،ویڈیو

    خط میں کہا گیا کہ اگرچہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ برطانیہ کے پاس ایک آزاد اور خودمختار فلسطین کے قیام کا واحد اختیار نہیں، لیکن برطانیہ کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا ایک مؤثر اقدام ہوگا، خاص طور پر ہماری تاریخی وابستگی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رکنیت کی وجہ سے، ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ یہ قدم ضرور اٹھایا جائے’فلسطین کو برطانیہ کی جانب سے تسلیم کرنا ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ برطانیہ ہی نے بلفور ڈیکلریشن کا اجراء کیا تھا اور فلسطین میں سابقہ مینڈیٹری طاقت رہا ہے، 1980 سے ہم دو ریاستی حل کی حمایت کرتے آئے ہیں‘۔

    ’سیاسی جماعتوں کے اراکین کی جانب سے لکھے خط میں مزید کہا گیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا نہ صرف اس مؤقف کو عملی حیثیت دے گا بلکہ ان تاریخی ذمہ داریوں کو بھی پورا کرے گا جو اس مینڈیٹ کے تحت ہم پر عائد ہوتی ہیں،یہ ایک بین الجماعتی خط ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارلیمنٹ کے مختلف سیاسی حلقے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتے ہیں، دو ریاستی حل گزشتہ کئی دہائیوں سے تمام پارٹیوں کا مشترکہ مؤقف رہا ہے-

    افغانستان سے متعلق فیصلے ہماری مشاورت کے بغیر ممکن نہیں،علی امین گنڈا پور

    خط میں مزید لکھا گیا کہ اکتوبر 2014 کو ایوانِ زیریں نے بھاری اکثریت سے درج ذیل قرارداد منظور کی تھی کہ ’یہ ایوان یقین رکھتا ہے کہ حکومت کو اسرائیل کے ساتھ ساتھ فلسطین کی ریاست کو بھی تسلیم کرنا چاہیے،یہی مؤقف آج بھی اس خط پر دستخط کرنے والوں کا ہے، اور ہم آپ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ ہفتے کانفرنس میں فلسطین کی ریاست کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔

  • لندن: رائل اوپرا ہاؤس میں اداکار  کا اسٹیج پر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی

    لندن: رائل اوپرا ہاؤس میں اداکار کا اسٹیج پر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی

    لندن کے رائل اوپرا ہاؤس میں اداکار نے اسٹیج پر فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے فلسطینی پرچم لہرا دیا،اسٹیج پر فلسطین کاپرچم لہراتے اداکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے –

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اوپرا ہاؤس لندن میں دکھائے گئے ایک ڈرامے کے اختتام پر تالیوں کی گونج میں شائقین کی داد لیتے اداکاروں میں سے ایک نے فلسطین کا پرچم لہرادیا اداکار کے اس عمل پر وہاں موجود عملے نے پرچم لینے کی کوشش کی جس کے باوجود اداکار پرچم لے کر کھڑا رہا اور شائقین کی تالیاں جاری رہیں ،یہ پہلا موقع نہیں ہے کی جب کسی اداکار نے فلسطین کے ساتھ اس طرح اظہار یکجہتی کیا اس سے قبل بھی کانسرٹس میں کئی گلوکار ،اداکار فلسطین کے ساتھ مختلف طریقوں سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کر چکے ہیں-

    https://x.com/AnatomyOfSufism/status/1946992239395188812

    دوسری جانب مراکش میں ہزاروں افراد غزہ کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئےمراکش کے دارالحکومت رباط میں غزہ کی حمایت میں بڑی ریلی نکالی گئی جس دوران ہزاروں افراد نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی مارچ کیا ریلی میں فلسطینی پرچم لہراتے ہزاروں افراد نے غزہ سے اظہار یکجہتی کیا جب کہ احتجاج میں شامل مظاہرین نے اسرائیلی محاصرہ ختم کرکے غزہ میں جنگ بندی اور امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا دوران احتجاج مظاہرین نے مراکش حکومت سے اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

    غزہ : اسرائیلی طیاروں کی خوراک کے منتظر فلسطینیوں پر بمباری ، 115 شہید،200 سے زائد زخمی

  • شیخ حسینہ  سے منسلک دو افراد کی برطانیہ میں جائیدادیں ضبط

    شیخ حسینہ سے منسلک دو افراد کی برطانیہ میں جائیدادیں ضبط

    لندن: برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے منسلک دو افراد کی تقریباً 90 ملین پاؤنڈ کی جائیدادیں ضبط کرلیں۔

    دی گارڈین کے مابق ایک پیش رفت میں جو کہ سابق حکومت سے منسلک اثاثوں کا سراغ لگانے میں بنگلہ دیش کی مدد کرنے کے لیے برطانیہ پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آیا، نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے نو منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے، احمد شایان رحمان اور اس کے کزن احمد شہریار رحمان کو لندن کے گروسوینر اسکوائر میں اپارٹمنٹس سمیت جائیداد فروخت نہیں کر سکتے، بنگلہ دیش کی سابق مطلق العنان حکمران شیخ حسینہ کے اتحادیوں کی ملکیت میں برطانیہ کے اثاثوں کے بارے میں گارڈین کی تحقیقات میں اس جوڑے کا نام لیا گیا تھا۔

    کمپنیز ہاؤس کے ریکارڈ کے مطابق، تمام جائیدادیں برٹش ورجن آئی لینڈ، آئل آف مین یا جرسی میں کمپنیوں کے ذریعے ملکیت ہیں، اور £1.2m سے £35.5m تک کی قیمتوں میں حاصل کی گئی تھیں،رحمٰن بالترتیب سلمان ایف رحمان کے بیٹے اور بھتیجے ہیں، جو ایک امیر تاجر ہیں، جنہیں گزشتہ سال شیخ حسینہ کا تختہ الٹنے والے طلباء کی زیرقیادت انقلاب کے دوران مبینہ طور پر فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔

    سلمان ایف رحمان، جنہیں بنگلہ دیش میں بدعنوانی کے الزامات کا سامنا ہے، نجی صنعت اور سرمایہ کاری کے بارے میں حسینہ کے مشیر تھے اور ملک میں بہت سے لوگ انہیں حکومت کی سب سے بااثر شخصیت کے طور پر دیکھتے تھےان کے بیٹے اور بھتیجے کی جائیدادیں گزشتہ سال گارڈین اور مہم گروپ ٹرانسپیر نسی انٹرنیشنل کے درمیان مشترکہ تحقیقات میں سامنے آئیں، جس میں شیخ حسینہ کے اتحادیوں کی ملکیت £400 ملین کی جائیداد کا انکشاف ہوا۔

    این سی اے کی جانب سے منجمد کی گئی جائیدادوں میں گریشم گارڈنز، نارتھ لندن میں ایک جائیداد بھی شامل ہے شیخ ریحانہ، جو شیخ حسینہ کی بہن ہیں اور برطانیہ کے سابق سٹی منسٹر ٹیولپ صدیق کی والدہ بھی ہیں، اس پراپرٹی میں رہائش پذیر ہیں، فنانشل ٹائمز کے مطابق، جس نے پہلے دو جائیدادوں کو منجمد کرنے کے احکامات کی اطلاع دی تھی، 7.7 ملین پاؤنڈ میں خریدی تھی۔

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل یوکے کے ڈائریکٹر آف پالیسی ڈنکن ہیمز نے کہا: "ہم برطانیہ کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپنی انکوائری جاری رکھنے اور بغیر کسی تاخیر کے تمام مشتبہ اثاثوں کو منجمد کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔”

    NCA کے ایک ترجمان نے کہا: "ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ NCA نے جاری سول تحقیقات کے حصے کے طور پر متعدد جائیدادوں کو منجمد کرنے کے احکامات حاصل کیے ہیں۔”

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے سابق دور حکومت میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں وہاں کے حکام نے ٹیولپ صدیق کے لیے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں، جو الزامات کی روشنی میں شہر کے وزیر کے عہدے سے دستبردار ہو گئے تھے۔ اس نے کسی غلط کام سے انکار کیا ہے۔

    دی گارڈین نے تبصرے کے لیے رحمانز اور بیکسمکو کے وکیلوں سے رابطہ کیا ہے، جو خاندانی کارپوریٹ سلطنت سلمان رحمان نے قائم کی تھی۔

    احمد شایان رحمان کے ایک ترجمان نے پہلے ایف ٹی کو بتایا: "ہمارے مؤکل کسی بھی مبینہ غلط کام میں ملوث ہونے کی سخت ترین ممکنہ الفاظ میں تردید کرتے ہیں۔ وہ یقیناً برطانیہ میں ہونے والی کسی بھی تحقیقات میں حصہ لیں گےیہ بات سب کو معلوم ہے کہ بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل ہے، جہاں سینکڑوں افراد پر بے شمار الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ ہم توقع کریں گے کہ برطانیہ کے حکام اس پر غور کریں گے۔”

    علاوہ ازیں نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے وزیر سیف الزامان چوہدری کی جائیدادیں ضبط کرلیں بنگلہ دیش کے سابق وزیر سیف الزمان چوہدری کی برطانیہ میں جائیدادیں بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کی درخواست پر ضبط کی گئی ہیں، جو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے اتحادی ہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیف الزمان چوہدری کے خلاف اس وقت بنگلہ دیش میں منی لانڈرنگ کے الزام پر تفتیش جاری ہے این سی اے کے ترجمان نے سیف الزمان چوہدری کی جائیدادیں ضبط کرنے کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ این سی اے کو زیرتفتیش معاملے کے تحت متعدد جائیدادیں ضبط کرنے کے احکامات مل گئے ہیں برطانیہ میں جائیدادیں ضبط ہونے کا مطلب ہوگا کہ سیف الزمان چوہدری اب مذکورہ جائیدادیں فروخت نہیں کرسکیں گے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ سیف الزمان چوہدری کی برطانیہ میں 350 سے زائد جائیدادیں ہیں تاہم این سی اے نے ان کی ضبط ہونے والی جائیدادوں سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی ہیں زسابق بنگلہ دیشی وزیر کا لندن کے مہنگے علاقے ایس ٹی جونز ووڈ میں پرتعیش گھر بھی ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کو بھی ضبط کیا گیا یا نہیں، گزشتہ برس انٹرویو کے دوران چٹاگانگ کے ایک بااثر خاندان سے تعلق رکھنے والے سیف الزمان چوہدری نے کہا تھا کہ وہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بیٹے کی طرح ہیں اور وہ جانتی ہیں کہ برطانیہ میں میرا کاروبار ہے۔

  • برطانوی تاریخ میں پہلی بار خاتون خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کی سربراہ مقرر

    برطانوی تاریخ میں پہلی بار خاتون خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کی سربراہ مقرر

    لندن: برطانوی خفیہ انٹیلی جنس سروس ایم آئی 6 میں پہلی بار ایک خاتون کو سربراہ بنایا گیا ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بلیز میٹرویلی ایم آئی 6 کی 116 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون سربراہ ہوں گی، وہ ایم آئی 6 کی 18ویں سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے 47 سال کی بلیز میٹرویلی 1999 سے خفیہ انٹیلی جنس سروس کا حصہ ہیں اور وہ اس سال کے آخر میں عہدہ سنبھالیں گی، برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے پہلی خاتون چیف کی تقرری کو ’تاریخی‘ قرار دیا۔

    ٹرمپ انتظامیہ کا مزید 36 ممالک پر سفری پابندی لگانے کا منصوبہ

    اسرائیل ایران کشیدگی : عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوگیا

    آئی سی سی ویمن ورلڈ کپ کا شیڈول جاری