Baaghi TV

Tag: لندن

  • جمائما گولڈ اسمتھ  کی ارب پتی تاجر سے منگنی ،جلدشادی کی تیاری

    جمائما گولڈ اسمتھ کی ارب پتی تاجر سے منگنی ،جلدشادی کی تیاری

    عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ سمتھ مبینہ طور پر دوبارہ شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہی ہیں-

    برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق جمائما گولڈ سمتھ ایک سال سے ڈبلن میں پیدا ہونے والے بزنس مین کیمرون او ریلی کے ساتھ رشتے میں ہیں، جو ایک ارب پتی فنانسر اور معروف بزنس مین ہیں بتایا گیا ہے کہ دونوں نے منگنی کر لی ہے، 62 سالہ کیمرون او ریلی، آنجہانی بین الاقوامی رگبی کھلاڑی سر انتھونی او ریلی کے بیٹے ہیں، جوڑا اس وقت ایک ساتھ رہ رہا ہے اور اپنا وقت سوئٹزرلینڈ میں کیمرون کے گھر اور لندن میں جمائما کے گھر کے درمیان گزارتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق دونوں کی پہلی ملاقات دستاویزی فلموں سے متعلق کام کے دوران ہوئی تھی اور ابتدا میں وہ دوست رہے ایک قریبی ذریعے نے کہا کہ ‘وہ تقریباً ایک سال سے ساتھ ہیں، کیمرون ایک نہایت نجی شخصیت ہیں اور جمائما ان کی نجی زندگی کو محفوظ رکھنا چاہتی ہیں، جمائما کے اہلِ خانہ بھی اس رشتے سے خوش ہیں، اور ان کے بھائی رابن برلے، جو لندن کے معروف کلب فائیو ہارٹ فورڈ اسٹریٹ کے مالک ہیں، کیمرون او ریلی سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ جمائما گولڈ سمتھ اس سے قبل پاکستان کے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی اہلیہ رہ چکی ہیں، دونوں کی شادی 1995 میں ہوئی تھی اور 2004 میں علیحدگی ہو گئی تھی ان کے دو بیٹے قاسم اور سلیمان ہیں۔

  • لندن میں یہودیوں پر چاقو بردار شخص کا حملہ،2 زخمی،  حالت تشویشناک

    لندن میں یہودیوں پر چاقو بردار شخص کا حملہ،2 زخمی، حالت تشویشناک

    لندن میں چاقو بردار شخص نے 2 یہودی راہ گیروں پر حملہ کردیا –

    دی گارڈین کے مطابق شمال مغربی لندن کے گولڈرز گرین میں بدھ کی صبح 76 اور 34 سال کی عمر کے دو یہودی مردوں پر چاقو سے حملہ کیا گیا ، اور ان کا علاج یہودی رضاکار ایمبولینس سروس ہتزولا کر رہا ہے، میٹروپولیٹن پولیس نے ایک 45 سالہ شخص کو گرفتار کیا، اور فورس اسے دہشت گردی کے واقعے کے طور پر دیکھ رہی ہے، افسران اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس حملے نے جان بوجھ کر یہودی برادری کو نشانہ بنایا۔

    بدھ کو سکاٹ لینڈ یارڈ کے باہر بات کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی پولیسنگ کے سربراہ لارنس ٹیلر نے تصدیق کی کہ چاقو مارنے کو باقاعدہ طور پر دہشت گردی قرار دیا گیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے پہلے ایک بزرگ شخص کے گلے پر وار کیا اور بعد ازاں ایک اور شخص کو نشانہ بنایا۔

    40 سالہ ملزم نے گرفتاری سے قبل پولیس اہلکاروں پر بھی وار کرنے کی کوشش کی تاہم حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا تاہم شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی چاقو بردار شخص کے حملے میں ایک بزرگ کے گلے پر گہرے زخم آئے جب کہ ایک ادھیڑ عمر شخص کے پیٹ پر ضرب لگی زخمیوں میں سے ایک کی عمر 70 سال سے زائد جبکہ دوسرا 30 سال کے قریب ہے۔

    ایک زخمی کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا تھا ان دونوں زخمیوں کو موقع پر ہی طبی امداد دینے کے بعد اسپتال منتقل کیا گیاجہاں بزرگ کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے تاحال پولیس نے گرفتار ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے اور نہ ہی اس واقعے کے محرکات کا پتا چل سکا ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے ماہر افسران اس حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور میٹروپولیٹن پولیس کے ساتھ مل کر تمام حالات اور دہشت گردی سے ممکنہ تعلقات کا جائزہ لے رہے ہیں، کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ کے سربراہ لارنس ٹیلر کا کہنا ہے، 
اگرچہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں لیکن ہم تیزی سے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر ہوا کیا تھا؟

    ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ لیوک ولیمز، جو اس علاقے میں پولیسنگ کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ اس ہولناک حملے کے متاثرین کے ساتھ ہماری ہمدردیاں ہیں، ہم ان افسران کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے مزید نقصان سے قبل فوری طور پر ٹیزر استعمال کر کے مشتبہ شخص کو گرفتار کیا ہم جانتے ہیں کہ اس علاقے میں حالیہ متعدد واقعات کے باعث یہ واقعہ لوگوں میں شدید پریشانی اور تشویش پیدا کرے گا۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہودی کمیونٹی پر حملہ دراصل پورے برطانیہ پر حملہ ہے،لندن کے میئر صادق خان نے بھی کہا کہ معاشرے میں یہود دشمنی کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

    دوسری جانب اسرائیلی حکام نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ صرف بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ یہود مخالف واقعات کے خلاف مؤثر اقدامات کرے،اسرائیلی صدر اسحاق ہرزویگ نے اس واقعے کو ناقابل قبول صورتحال قرار دیا۔

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی وحشیانہ بمباری میں ایک لاکھ کے قریب فلسطینی بچے، خواتین، بزرگ اور جوان شہید ہوچکے ہیں جس کے بعد سے دنیا بھر میں یہودی افراد اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

  • حافظ طاہر محمود اشرفی کے ساتھ لندن میں ہراسانی کا واقعہ،ویڈیو وائرل

    حافظ طاہر محمود اشرفی کے ساتھ لندن میں ہراسانی کا واقعہ،ویڈیو وائرل

    چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کے ساتھ لندن میں ہراسانی کا واقعہ پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    علامہ طاہر اشرفی نے اس واقعے کے حوالے سے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ وہ لندن میں اہل خانہ کے ہمراہ ایک دعوت میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں بعض افراد نے انہیں روک لیا۔ مجھے اور میرے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا اور نازیبا زبان استعمال کی گئی متعلقہ افراد نے فوج اور سپہ سالار کے حوالے سے سوالات کیے اور تلخ جملوں کا تبادلہ کیا-

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ واقعے میں پاکستان تحریک انصاف سے وابستہ بعض افراد بھی موجود تھے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر اہل خانہ کے سامنے ہنگامہ آرائی اور بدزبانی قابل قبول نہیں اگر کسی کے اہل خانہ کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا جائے تو اسے برداشت کرنا مشکل ہوگا اختلاف رائے کو اخلاقیات اور برداشت کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

    انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنے ماضی کے تعلقات اور سفارتی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا انہوں نے کہا کہ انہوں نے مختلف ادوار میں پاکستان اور عالم اسلام کے تعلقات کی بہتری کے لیے کردار ادا کیا اور کسی ذاتی فائدے کے لیے کوئی عہدہ یا منصب حاصل نہیں کیا، انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں، اپنے ساتھیوں اور عرب نوجوانوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے واقعے کے بعد ان سے اظہار یکجہتی کیا۔

  • پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کے لیے براہ راست فلائٹ آپریشن بحال

    پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کے لیے براہ راست فلائٹ آپریشن بحال

    پی آئی اے کا 6 سال بعد لندن کے لیے براہ راست فلائٹ آپریشن رواں ماہ بحال ہوگا۔

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے 29 مارچ کو اسلام آباد سے لندن اور 30 مارچ سے لاہور سے لندن کی پروازوں کو چلائے گی پی آئی اے ابتدائی طور پر ہفتہ وار چار پروازیں لندن کے لیے آپریٹ کرے گی پی آئی اے کی اسلام آباد سے ہفتہ وار تین اور لاہور سے ایک پرواز آپریٹ ہوگی پی آئی اے لندن کے فضائی آپریشن کے لیے بوئنگ 777 طیارے استعمال کرے گی-

    ترجمان پی آئی اے کے مطابق پی آئی اے لندن کے لیے پروازیں ہیتھرو ایئر پورٹ کے ٹرمینل 4 پر لینڈ کریں گی، چھ سال کے وقفے کے بعد پروازوں کا آغاز کیا جا رہا ہے پی آئی اے کا لندن روٹ سے 70 سال سے زائد کا رشتہ ہے، لندن پی آئی اے کے نیٹ ورک کے ابتدائی بین لاقوامی روٹس میں شا مل ہے ان پروازوں کی شروعات کے بعد برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی پروازوں کی ہفتہ وار تعداد 7 ہو جائے گی،لندن کے لئے پروازوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔

  • عمران خان کے بیٹوں کی  لندن میں پاکستان مخالف مہم اور مظاہروں کے ماسٹرمائنڈ کیساتھ فوٹو وائرل

    عمران خان کے بیٹوں کی لندن میں پاکستان مخالف مہم اور مظاہروں کے ماسٹرمائنڈ کیساتھ فوٹو وائرل

    پاکستان کے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان کیلئے منفی پروپیگنڈا کرنے والے شخص عارف اجاکیہ کے ساتھ فوٹو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے-

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دونوں بچوں کی عارف اجاکیہ کے ساتھ ملاقات ہوئی جس کی فوٹو وائرل ہو گئی،سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جرنلسٹ اظہر جاوید کی جانب سے شئیر کی گئی فوٹو میں عمران خان کے بیٹوں کو عارف اجاکیہ کے ساتھ خوشگوار موڈ میں دیکھا جا سکتا ہے-

    تصویر شئیر کرتے ہوئے انہوں نےتشویش کا اظہار کیا کہا کہ یہ صرف متنازعہ نہیں ہے ، یہ گہرائی سے متعلق ہےعمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم، عارف آجاکیہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ایک شخص جو لندن میں پاکستان مخالف مہم اور مظاہروں کے لیے جانا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے عناصر کے ساتھ اتحاد کا انتخاب سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے کیا یہ جہالت ہے، تکبر ہے یا جان بوجھ کر؟کیا وہ اس پیغام کو سمجھتے ہیں جو وہ دنیا بھر میں لاکھوں پاکستانیوں کو بھیج رہے ہیں؟ یا اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا؟

    ایک سوشل میڈیا صارف سفینہ خان نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے عارف اجاکیہ کیساتھ جینوا میں ، یہ وہ عارف اجاکیہ ہیں جو اپنے آپکو فخر کیساتھ انڈین نا صرف کہتے ہیں بلکہ بھارتیوں کیساتھ ملکر پاکستان کے خلاف مظاہرے بھی کرتے ہیں-

    واضح رہے کہ بھارت کی مسلم دشمن ہندوتوا حکومت نے کشمیر میں ہونے والے واقعہ کیخلاف لندن میں جمعہ کو ایک مظاہرہ کا انتظام کیا اس مظاہرہ میں ماتھے پر تلک لگائے عارف اجاکیہ نے بھر پور شرکت کی تھی اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی تھی-

    سوشل میڈیا پر جاری معلومات کے مطابق عارف اجاکیہ، الطاف حسین کا قریبی ساتھی ہے اور بھارتی اہلکاروں سے روابطہ میں پل کا کردار ادا کرتا ہے۔
    اجاکیہ نے بھارت جاکر ایک تقریب میں اسلام ترک کرکے ہندومذہب قبول کرلیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق بھارت کی مسلم دشمن ہندوتوا حکومت نے کشمیر میں ہونے والے واقعہ کیخلاف لندن میں جمعہ کو ایک مظاہرہ کا انتظام کیا اس مظاہرہ میں ماتھے پر تلک لگائے عارف اجاکیہ نامی ایک ایسے شخص کی شرکت ہے جو باقاعدگی سے ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین کے گھر اور دفتر جاتا ہے عارف اجاکیہ نے ہندوؤں کے حلیہ میں صرف پاکستان کیخلاف ہونے والے مظاہرے میں ہی شرکت نہیں کی بلکہ کھل کر پاکستان اور اسلام کو گالیاں بھی دیں۔

    عارف اجاکیہ یہ شخص فرانس کا شہری ہے نوے کی دہائی میں یہ شخص الطاف حسین کے دست راست محمد انور کا زاتی ملازم تھا محمد انور اور الطاف حسین نے اس شخص کو 2005 کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے جمشید ٹاؤن کا ناظم بنادیا مگر اس نے مختصر عرصہ میں ہی اسقدر کرپشن کیا کہ علاقے میں اسکے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے اس سے بڑی غلطی اجاکیہ نے یہ کی کہ کرپشن کے مال میں سے نہ تو الطاف حسین کو حصہ دیا اور نہ ہی انور کو جسکی پاداش میں اسکو نظامت سے برطرف کردیا گیا۔

    محمد انور نے اس واقعہ کے بعد عارف اجاکیہ کو کھڈے لائن لگادیا مگر جب الطاف حسین نے محمد انور کو کھڈے لائن لگایا تو عارف اجاکیہ کو بحال کرکے پاکستان دشمنوں سے روابط کیلئے مقرر کردیا گزشتہ چند برسوں میں عارف اجاکیہ کئی مرتبہ بھارت جاچکا ہے جہاں اس نے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے دئیے گئے ایک استقبالیہ میں اسلام ترک کرکے ہند مذہب قبول کرلیا (استغفراللہ) اور کئی چینلز پر بیٹھ کر اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کی۔

    بھارتی خفیہ ایجنسی “را” نے عارف اجاکیہ کو پاکستان اور اسلام کے خلاف بولنے کیلئے ایک یوٹیوب چینل بھی بناکر دیا ہے جس پر بیٹھ کر یہ مسلسل پاکستان اور اسلام کیخلاف زہر اگلتا ہے جس کے عوض را کی جانب سے اسکو ایک خطیر رقم دی جاتی ہے۔

    ایک ماہ قبل الطاف حسین نے بلوچستان کے مسئلہ پر انٹرنیٹ سے کچھ مواد چوری کرکے اسے اپنی کتاب کے طور پر شائع کیا تو اس نام نہاد کتاب کی تقریب رونمائی میں مہمانان خصوصی کے طور پر پاکستان دشمن خان آف قلات اور عارف اجاکیہ کو مدعو کیا گیا باخبر زرائع کا کہنا ہے اجاکیہ گزشتہ چند ایک سال سے الطاف حسین اور بھارتی انٹیلیجنس اہلکاروں کے درمیان پل کا کام کررہا ہے جس کے لئے وہ باقاعدگی کے ساتھ الطاف حسین کے گھر جاتا ہے۔

    جبکہ ایک طرف الطاف حسین صبح و شام جنرل عاصم منیر سے معافی کی بھیک مانگ رہا ہے اور دوسری جانب عارف اجاکیہ جیسے دین و قوم فروش سے ملکر پاکستان کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے۔

  • برٹش ایئرویز کی پرواز  میں خاتون کی موت،پائلٹ نے 13 گھنٹوں پر محیط پرواز جاری رکھی

    برٹش ایئرویز کی پرواز میں خاتون کی موت،پائلٹ نے 13 گھنٹوں پر محیط پرواز جاری رکھی

    ہانگ کانگ سے لندن جانے والی برٹش ایئرویز کی پرواز بی اے 32 میں ایک 60 سالہ خاتون کی دورانِ پرواز موت ہوگئی، تاہم طیارے کو واپس اتارنے کے بجائے مسافروں نے لاش کے ساتھ ساڑھے 13 گھنٹے کا طویل سفر طے کیا۔

    یہ واقعہ ہانگ کانگ سے اڑان بھرنے کے محض ایک گھنٹے بعد پیش آیا جہاز کے عملے نے خاتون کی موت کے باوجود پرواز کو واپس ہانگ کانگ کرنے یا کسی اور ہوائی اڈے پر اترنے کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ ہوا بازی کے قوانین کے تحت کسی مسافر کی موت کو ’میڈیکل ایمرجنسی‘ تصور نہیں کیا جاتا جس کی بنا پر طیارے کا رخ موڑا جائے یا اسے ہنگامی طور پر اتارا جائے، اسی تکنیکی بنیاد پر پائلٹ نے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور جہاز کو براہِ راست لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ہی لینڈ کروایا۔

    ابتدائی طور پر عملے نے مردہ جسم کو راہداری میں رکھنے کا سوچا، لیکن بعد میں اس خیال کو ترک کر دیا گیا، آخر کار جسم کو کپڑے میں لپیٹ کر جہاز کے پچھلے حصے میں رکھا گیا مسافروں کے مطابق گیلری کا فرش گرم ہونے کی وجہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میت سے تعفن اٹھنے لگا، جس پر کئی مسافروں نے لندن پہنچ کر سخت احتجاج ریکارڈ کروایا۔ طیارے میں سوار 331 مسافروں کے لیے یہ سفر کسی اذیت سے کم نہ تھا۔

    جہاز پر موجود ایک ذریعے نے بتایا کہ خاتون کے ساتھ سفر کرنے والے لوگ بہت افسردہ تھے اور عملہ بھی اس واقعے سے پریشان تھا۔ کئی مسافروں نے پرواز کو واپس کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایک مسافر کی موت کو ایمرجنسی نہیں سمجھا جاتا،لندن میں لینڈ کرنے کے بعد پولیس نے مسا فر وں کو اپنی نشستوں پر بٹھایا اور تقریباً 45 منٹ تک تحقیقات کیں اور تمام مسافروں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد انہیں جانے کی اجازت دی۔

    برٹش ایئرویز نے اپنے بیان میں واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عملے نے تمام مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور وہ مرحومہ کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں ایئرلائن نے عملے کی مکمل حمایت کا بھی یقین دلایا۔

    انٹرنیشنل ایئرکرافٹ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، دوران پرواز موت کی صورت میں مردہ جسم کو عام طور پر باڈی بیگ یا کمبل میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے جہاں ممکن ہو، جسم کو جہاز کے کم حرکت والے حصے میں رکھا جاتا ہے اگر تمام سیٹیں بھری ہوں، تو جسم کو اسی سیٹ پر رکھا جا سکتا ہے جس پر مسافر بیٹھا تھا۔

    نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی 2013 کی تحقیق کے مطابق دوران پرواز اموات بہت کم ہوتی ہیں، صرف 0.3 فیصد میڈیکل ایمرجنسیز میں موت واقع ہوتی ہے۔

  • لندن میں یہودیوں کی عبادت گاہ  کے باہر   ایمبولینسوں کو آگ لگا دی گئی

    لندن میں یہودیوں کی عبادت گاہ کے باہر ایمبولینسوں کو آگ لگا دی گئی

    یہود دشمنی کے ایک سنگین واقعے میں، شمالی لندن میں یہودی رضاکار ایمبولینس سروس (Hatzola) کی گاڑیوں کو عبادت گاہ کے باہر جان بوجھ کر آگ لگا دی گئی، جس سے گاڑیاں مکمل تباہ ہوگئیں۔

    بی بی سی اردو کے مطابق، پولیس اس نفرت انگیز کارروائی کی تحقیقات کر رہی ہے، جسے کمیونٹی لیڈرز نے ایک بزدلانہ حملہ قرار دیا ہے،شمالی لندن، ایک عبادت گاہ کے قریب، حاتزولا (Hatzola) کی ایمبولینسیں، جو کمیونٹی کی خدمت کے لیے استعمال ہوتی تھیں، تباہ ہو گئیں۔،پولیس اور کمیونٹی نے اسے یہود مخالف حملہ قرار دیا ہے،حکام نے علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی ہے اور مجرموں کی گرفتاری کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے

    سی این این کے مطابق پیر کے روز علی الصبح لندن کی سب سے بڑی یہودی برادری کے گھر میں ایک یہودی رضاکار ریسکیو آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والی کئی ایمبولینسوں کو ایک عبادت گاہ کے باہر آگ لگا دی گئی، جس میں پولیس اسے یہود مخالف حملے کے طور پر دیکھ رہی ہے، گولڈرز گرین کے شمالی لندن کے مضافاتی علاقے کے رہائشی زور دار دھماکوں سے بیدار ہو گئے، درجنوں فائر فائٹرز کو جائے وقوعہ پر تعینات کر دیا گیا۔

    لندن کی میٹ پولیس نے ایک بیان میں کہا، "افسران جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور آتش زنی کے حملے کو سام دشمن نفرت انگیز جرم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،” لندن کی میٹ پولیس نے ایک بیان میں مزید کہا کہ کچھ رہائشیوں کو احتیاط کے طور پر وہاں سے نکال لیا گیا ہے۔

    سی این این کے ساتھ شیئر کی گئی سیکیورٹی کیمرہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ تین نقاب پوش افراد ہیٹزولا نارتھ ویسٹ سے تعلق رکھنے والی ایک ایمبولینس کے پاس پہنچے اور اسے آگ لگا دی پولیس نے تصدیق کی کہ وہ تین مشتبہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں لیکن کہا کہ "ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔”

    مقامی رہائشی چارلی رچرڈز نے سی این این کو بتایا کہ اس نے صبح 2 بجے سے متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں، ہٹزولا نارتھ ویسٹ کے چیئرمین شلومی رچمین نے سی این این کو تصدیق کی کہ تنظیم کی چھ ایمبولینسوں میں سے چار کو آگ لگا دی گئی تھی، ان کا کہنا تھا کہ انہیں "جان بوجھ کر آتشزنی کے حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، ہمیں خدشات ہیں کہ یہ یہودی برادری پر براہ راست حملہ ہے-

    سپرنٹنڈنٹ سارہ جیکسن، جو مقامی علاقے میں پولیسنگ کی قیادت کرتی ہیں، نے تسلیم کیا کہ کمیونٹی میں بہت زیادہ تشویش ہوگی ہم مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مشغول رہیں گے اور مقامی علاقے میں اضافی گشت کریں گے کیونکہ ہم یقین دہانی اور انتہائی نمایاں موجودگی فراہم کرنے کے لیے اپنی تحقیقات جاری رکھیں گے۔

    Hatzola ایک غیر منافع بخش رضاکار تنظیم ہے جو شمالی لندن کی کمیونٹی کو ہنگامی طبی رسپانس اور ٹرانسپورٹ فراہم کرتی ہے،تنظیم کی ویب سائٹ کے مطابق، ہیتزولا ہر سال ہزاروں ہنگامی حالات کا جواب دیتی ہے، معمولی زخموں سے لے کر جان لیوا حالات تک.گولڈرز گرین بہت سے عبادت گاہوں، اسکولوں اور کوشر ریستوراں کا گھر ہے اور یہ اپنی بڑی یہودی اور آرتھوڈوکس یہودی برادری کے لیے جانا جاتا ہے۔

  • لندن میں موبائل فون چوری کا نیٹ ورک بے نقاب، ہزاروں فون ضبط

    لندن میں موبائل فون چوری کا نیٹ ورک بے نقاب، ہزاروں فون ضبط

    برطانوی دارالحکومت میں گزشتہ سال ریکارڈ تقریباً 80 ہزار موبائل فونز کی چوری کے بعد میٹروپولیٹن پولیس نے ایک بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورک کا سراغ لگا کر کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

    شمالی لندن میں سیکنڈ ہینڈ فون کی دکانوں پر چھاپوں میں تفتیش کاروں نے تقریباً 2 ہزار چوری شدہ فون اور 2 لاکھ پاؤنڈ نقدی برآمد کیں، جبکہ شواہد سے پتا چلا ہے کہ کچھ سامان چین کے لیے برآمد کیے جانے والے کنٹینرز میں بھیج دیا جاتا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ معمولی جیب تراشی نہیں بلکہ صنعتی نوعیت کا جرائم ہے جس کے پیچھے منافع بخش بلیک مارکیٹ اور پچھلے برسوں میں پولیس بجٹ کٹوتیوں کا بھی کردار ہے۔

    حالیہ کارروائیوں کا مقصد چوری کے راستے نقشہ بنانا، درمیانی افراد کو بے نقاب کرنا اور عوامی اعتماد بحال کرنا بتایا گیا.

    چین کی پاکستان و افغانستان میں جنگ بندی کی حمایت، ضبط و تحمل پر زور

    بہاولنگر: اربن یونٹ منیجر کی شاندار کارروائی، جعلی نوکریوں کا بڑا گینگ گرفتار، لاکھوں کی نوسربازی بے نقاب

    کراچی سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ غیر معینہ مدت کے لیے معطل

    پاکستان اور قازقستان کی مشترکہ انسدادِ دہشت گردی مشق ’دوستارم-5‘ کا آغاز

  • سرکاری ضیافت میں صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت تنقیدکی زدمیں

    سرکاری ضیافت میں صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت تنقیدکی زدمیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعزاز میں ونڈسر کیسل میں دی گئی سرکاری ضیافت میں لندن کے میئر صادق خان کو مدعو نہ کرنے پر برطانوی حکومت کی خاموشی نے سیاسی و سماجی حلقوں میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی۔

    ذرائع کے مطابق صادق خان کو شرکا کی فہرست سے خارج کرنے کا فیصلہ براہِ راست صدر ٹرمپ کی خواہش پر کیا گیا تھا، جس کی تصدیق انہوں نے واشنگٹن روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں بھی کی اس معاملے پر حکومتِ برطانیہ کے مؤقف نہ دینے کو سوشل میڈیا پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے،سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ ناصرف برطانیہ کی داخلی سیاست بلکہ اس کی خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر خودمختاری کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔

    سابق لارڈ مئیر بریڈفورڈ محمد عجیب نے کہا کہ برطانیہ، جو کبھی دنیا کی سب سے بڑی سامراجی طاقت اور آج بھی ایک خود مختار ریاست تصور کیا جاتا ہے، نے امریکی صدر کے دباؤ کے آگے سر جھکا کر اپنی عالمی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔

    غزہ میں جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں،چین

    کونسلر اشتیاق احمد نے اپنے ردعمل میں کہا کہ برطانیہ کا ٹرمپ کے فیصلے کے سامنے جھکنا کوئی نئی روایت نہیں بلکہ پرانی روش کی یاد دہانی ہے برطانیہ ہمیشہ اپنی آزادی کے حق میں بلند آواز رہا ہے لیکن دوسروں کی آزادی اور خود مختاری کے معاملے پر خاموشی اختیار کرتا آیا ہے،وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی ٹرمپ کی نسل پرستانہ حرکتوں کے خلاف خاموشی نے لندن کے میئر کے دفتر کے وقار کو مجروح کیا ہے،ٹرمپ کو لندن کے شہریوں کی توہین کی اجازت دینا باعثِ شرم ہے-

    عالمی موسمیاتی اداروں نے لا نینا الرٹ جاری کر دیا،کیا پاکستان متاثر ہوگا؟

  • وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کر کے لندن روانہ

    وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کر کے لندن روانہ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد ریاض سے لندن روانہ ہوگئے۔

    ایئرپورٹ پر ریاض کے نائب گورنر عزت مآب محمد بن عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز نے وزیراعظم کو رخصت کیا,وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دعوت پر یہ دورہ کیا دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے مختلف پہلوؤں اور باہمی تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔

    وزیراعظم نے سعودی عرب میں تاریخی استقبال پر سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ دعا ہے پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ریاض کے سرکاری دورے پر عزیز بھائی، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے دیے گئے پُرخلوص اور شاندار استقبال نے میرے دل کو چھو لیا،شاہی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے میرے طیارے کو دیے گئے غیر معمولی حصار سے لے کر سعودی مسلح افواج کے دستے کی باوقار سلامی تک، یہ استقبالیہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان محبت اور باہمی احترام کا رشتہ کتنا گہرا اور دیرپا ہے‘۔

    انہوں نے کہا کہ آج ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ میری نہایت دوستانہ اور جامع گفتگو ہوئی جس میں خطے کے چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا،میں دل سے ولی عہد کی اس بصیرت اور قیادت کو سراہتا ہوں جو وہ مسلم دنیا کو فراہم کر رہے ہیں، دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے، میں ولی عہد کی مستقل حمایت اور پاکستان و سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری تعلقات کو وسعت دینے میں ان کی گہری دلچسپی کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں،میری دعا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور نئی بلندیوں کو چھوئے، ان شااللہ!۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی دفاعی معاہدہ طے پایا ہے،پاکستان اور سعودی عرب نے کے درمیان ہونے والے اس اہم ’تزویراتی باہمی دفاعی معاہدہ‘ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سلامتی تعاون کو مزید گہرا کرنا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرنا ہےاس معاہدے کی رو سے اگر کسی نے ایک ملک پر حملہ کیا تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

    عمران خان کی ویڈیو لنک پیشی ،سخت ایس او پیز جاری

    معاہدے میں فوجی شراکت، دفاعی صلاحیتوں کی ترقی اور ممکنہ دشمنوں کے خلاف مشترکہ ردعمل جیسے نکات شامل ہیں،یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، خصوصاً قطر پر اسرائیلی فضائی حملوں اور فلسطین کی صورتحال کے بعد۔

    بھارت نے اس معاہدے پر محتاط ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ علاقائی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات میں تبدیلی نہیں لائے گاپاکستان نے اس معاہدے کو دیرینہ دفاعی شراکت داری کی توسیع قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کسی خاص واقعے کا فوری ردعمل نہیں بلکہ ایک پالیسی فریم ورک ہے۔

    پاک-سعودیہ معاہدے سے دہائیوں پرانی سیکیورٹی پارٹنرشپ بہت مضبوط ہوگی، روئٹرز

    دوسری جانب سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ علاقائی توازن قائم رکھا جا سکے،مجموعی طور پر یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو ایک نئی جہت دے رہا ہے بلکہ خطے کی سیاست اور طاقت کے توازن پر بھی گہرے اثرات ڈالنے کا امکان ہے۔