Baaghi TV

Tag: لیاری

  • لیاری گینگ کو دوبارہ متحرک کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    لیاری گینگ کو دوبارہ متحرک کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    لیاری میں خوف و ہراس پھیلانے، دھمکیاں دینے اور غلیظ زبان استعمال کرکے لیاری گینگ کو دوبارہ متحرک کی کوشش کرنے والا ملزم پولیس مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا،دو طرفہ فائرنگ تبادلے کے نتیجے میں لیاری گینگ وار بلال پپو گروپ کا کارندہ کبیر عرف جھینگوں زخمی حالت میں گرفتار جبکہ ساتھی فرار ہو گیا،ملزم لیاری میں موجود عوام کو دوبارہ گینگ وار گروپس کے متحرک ہونے اور جان سے مارنے کی سنگین دھمکیاں دیتا تھا. ملزم مختلف ویڈیوز اور آڈیو پیغام کے ذریعے لیاری کے شہریوں سے غلیظ زبان کا استعمال اور دھمکاتا بھی تھا. ملزم سے 1 پستول بمعہ راؤنڈز برآمد کر لیا گیا، ملزمان اور پولیس کے درمیان مقابلہ تھانہ کلری کی حدود میں پیش آیا.ملزم کے خلاف مقدمات درج, نیز مفرور ساتھی کی تلاش جاری ہے.ملزم کا سابقہ کریمنل ریکارڈ معلوم کیا جا رہا ہے.

    عمران خان نااہل ہو کر باہر جائیں گے؟

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    عدالت میں جمع کرائی گئی بیان حلفی کی خلاف ورزی عدالت کی توہین کے مترادف ہو گی،

    دوسری جانب اسٹریٹ کرائم میں ملوث ایک ملزم ناجائز اسلحہ سمیت سائٹ سپر ہائیوے پولیس نے رنگے ہاتھوں گرفتار جبکہ ایک ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔پولیس نے ملزمان کو دوران ڈکیتی جمالی پل سے گرفتار کیا ملزمان شہری سے واردات کی کوشش کر رہے تھے پولیس موقع پر پہنچی پولیس نے ملزم کو نہایت حکمت عملی سے گرفتار کیا ،اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث صدام حسین ولد سلطان گل کو موقع پر گرفتار کر لیا جبکہ دوسرا ملزم عمر افغانی موقع سے فرار ہوگیا ۔ملزم کے قبضہ سے بروقت غیرقانونی اسلحہ پستول بمعہ راؤنڈ برآمد ہوا جبکہ شہری سے چھینا ہوا موبائل فون اور نقدی بھی بر آمد ہوئی۔ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ ملزمان نے مزید انکشاف کیا کہ کچھ روز نادرن بائی پاس کے قریب ایک شہری کو لوٹ مار کے دوران گولی مار کر قتل بھی کر چکے ہیں جسکا مقدمہ الزام نمبر 656/2023 بجرم دفعہ 302/393 ت پ تھانہ ہذا میں درج ہے۔

    رہنماوں نے پارٹی قیادت سے ٹکٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے استعفیٰ کی دھمکی دے دی،

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

    اگر ٹکٹ کا میرٹ میرا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنتا ہے؟ عائلہ ملک پھٹ پڑی

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

    پنجاب انتخابات کے لئے مبینہ طور پر ٹارگٹ کلر کو ٹکٹ جاری

  • لیاری سے متعلق غلط تاثر رکھنے والوں کے لئے کیفی خلیل کا پیغام

    لیاری سے متعلق غلط تاثر رکھنے والوں کے لئے کیفی خلیل کا پیغام

    کوک اسٹوڈیو کے مشہور گانےکنایاری جس کے بول لیاری کے رہائشی گلوکار کیفی خلیل اور گلوکارہ ایوا بی نے لکھے تھے اور اس گانے کو بلوچستان کے گلوکار عبدالواہاب بگٹی کے ساتھ مل کر گایا تھا ، اس گیت نے انہیں راتوں رات شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا. کیفی خیل کے گیت کہانی سنو کو بھی مداحوں کی جانب سے بہت زیادہ پذیرائی ملی تھی. کیفی خلیل لیاری میں رہتے ہیں اور لیاری کے حوالے سے اکثر کہا جاتا ہے کہ یہ بہت ہی خطرناک علاقہ ہے. کیفی خلیل نے اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی جگہ غلط نہیں ہوتی نہ ہی خطرناک

    ہوتی ہے بلکہ لوگ خطرناک ہوتے ہیں جگہ کیسے خطرناک ہو سکتی ہے بھلا.؟ انہوں‌نے کہا کہ لیاری کے لوگ بہت زندہ دل ہیں یہاں کھیلوں اور میوزک کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے میں لیاری میں‌جہاں رہتا ہوں وہ نہایت ہی پرامن ہے اور لوگ یہاں پر ہر کام آزادی سے کرتے ہیں. یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ لیاری خطرناک ہے . ہم سب جو بھی یہاں رہتے ہیں‌کہ اپنی زندگی پرسکون طریقے سے گزار رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ لیاری ایک خوبصورت اور پرامن جگہ ہے اس لئے اس کے بارے میں جو غلط تاثر بنا رکھا ہے اسکو تبدیل کیجیے.

  • رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید اور جماعت اسلامی کارکنان کیخلاف مقدمہ درج

    رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید اور جماعت اسلامی کارکنان کیخلاف مقدمہ درج

    کراچی :جماعت اسلامی کے قائدین کے خلاف مقدمے درج،اطلاعات کے مطابق پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی اور ہنگامہ آرائی کے الزام میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید سمیت اور دیگر کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    کراچی کے علاقے لیاری میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے دوران ہنگامہ آرائی اور پولیس اہلکاروں سے تلخ کلامی کا مقدمہ چاکیواڑہ تھانے میں درج کرلیا گیا۔

     

     

    پولیس کی جانب سے درج مقدمے میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید اور دیگر کو نامزد کیا گیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

    اس سے قبل ایس ایس پی سٹی نے جماعت اسلامی کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالرشید پر پُرتشدد احتجاج کا الزام لگایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایس پی سٹی آفس کے سامنے دھرنا دينے والوں کیخلاف کارروائی ہوگی۔

    ایس ایس پی نے مزید کہا کہ رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید چند روز سے پُرتشدد احتجاج کررہے ہیں جو ناقابل معافی ہے، ایم پی اے کے ہمراہ کارکنان سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔

    ترجمان سٹی پولیس نے الزام لگایا کہ رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید لیاری میں خونریزی کروانا چاہتے تھے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی عبدالرشید کو کئی کارکنان سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

    جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان بھی لیاری دھرنے میں پہنچ گئے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہماری پُرامن جدوجہد کو پُرتشدد ميں تبديل کيا جارہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جھوٹی ايف آئی آر کی مذمت کرتا ہوں، ہمارے پُرامن کارکنوں پر پوليس نے تشدد کيا، پوليس کسی پارٹی کی ترجمان نہ بنے، عبدالرشيد اور کارکنان کے خلاف مقدمہ واپس ليا جائے۔

  • بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کرپشن اسکینڈل

    بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کرپشن اسکینڈل

    بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں کرپشن کا انکشاف
    غیر قانونی طور پر بھرتی کیے ہوئے اکائونٹ آفیسر عبد الرشید ملاح نے ملازمین کےGPF کے تقریباً 7.5ملین نکلوا کے اپنے خاص دوست کے ذریعے الفلاح بنک میں 7٪ کے عوض یعنی 15 لاکھ اپنے جیب میں ڈال دئیے اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اختر بلوچ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی۔
    پکڑے جانے پر وائس چانسلر کی خاموشی اور ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس کے ایکٹنگ چارج نوازنے پر مینجمنٹ کی لاپرواہی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ عبدالرشید ملاح جن کی غیر قانونی بھرتی کا معاملہ اینٹی کرپشن میں چل رہا ہے، ان کی غیر قانونی تعیناتی میں ان کی اہلیہ محسنہ سکندر بطور اسسٹنٹ رجسٹرار اپنے شوہر کی مدد رہی تھیں ۔
    لیاری یونیورسٹی کے ملازمین کی 7.5 ملین GP فنڈ کے پیسے لے اڑنے کی کوشش میں اپنے خاص دوست کے ذریعے الفلاح بینک میں پیسےجمع کرواکر اور 15 لاکھ کی رشوت لے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی ناکام کوشش نے میاں بیوی کے ناجائز عزائم کی پول پٹی کھول دی۔ اس خرد برد کے کیس میں جہاں عبدالرشید ملاح کے خلاف مینجمنٹ کاروائی کرنے سے قاصر ہے وہیں لیاری یونیورسٹی کے ملازمین میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔