Baaghi TV

Tag: ماہرین فلکیات

  • ماہرین فلکیات کا ایک بہت بڑے سیارے میں دھماکا ہونے کا انکشاف

    ماہرین فلکیات کا ایک بہت بڑے سیارے میں دھماکا ہونے کا انکشاف

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ رات کے اندھیرے میں ستارے میں دھماکا ہو گا جسے انسانی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین فلکیات کے مطابق متوقع دھماکے کے باعث آسمان پر روشنی ہوگی، جسے زمین سے بھی دیکھا جا سکے گا نووا نامی ستارہ رات کےاندھیرے میں شمالی کراؤن میں پھٹے گا، جس کے باعث رنگین روشنی پیدا ہوگی،جو کہ زمین پر موجود انسان بھی دیکھ سکیں گے، تاہم یہ روشنی کہاں کہاں دیکھی جا سکے گی، اس حوالے سے نہیں بتایا گیا ہے۔

    ناسا کے گاڈ ڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر سے تعلق رکھنے والی ریبیکا ہاؤنسیل کا کہنا تھا کہ یہ زندگی میں ایک بار ہونے والا واقعہ ہے، مجھے یقین ہے کہ اس سے کئی دیگر اسٹرونامرز بھی سامنے آئیں گےستاروں میں ہونے والے دھماکوں کو ’ٹی کرونے بوریلس‘ کہا جاتا ہے جو کہ زمین سے 3 ہزار لائٹ ائیرز کی دوری پر واقع ہے جو کہ سفید مداروں میں سرخ روشنی کی طرح ہوتا ہے اس سرخ روشنی میں ہائیڈرو جن موجود ہوتا ہے، جو کہ باہر کی طرف نکلتا ہے، جس کے باعث تھرمو نیوکلئیر دھماکا ہوتا ہےآخری مرتبہ ستاروں میں دھماکا 1946 میں ہوا تھا، جبکہ دھماکے سے ایک سال قبل خلا میں غیر معمولی حرکت بھی دیکھی گئی تھی۔

    عمران خان نے کہا ملک کےساتھ زیادتی برداشت نہیں کریں گے،بیرسٹرگوہر

    اسٹروپارٹیکل فزیکس لیبارٹری کی سربراہ الزتبھ ہیس کہتی ہیں کہ عام طور پر نووا میں ہونے والے دھماکے خاص اور رنگین ہوتے ہیں تاہم یہ کافی دور فاصلے پر ہوتے ہیں،لیکن یہ کافی قریبی معلوم ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی آنکھیں اسے دیکھ پائیں گی، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔

    حکومت فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے زراعت میں جدت کے لیے کوشاں ہے،شہباز …

  • سات ستارے دریا فت جن پر کوئی انتہائی ذہین مخلوق ہوسکتی ہے،ماہرین فلکیات کا دعویٰ

    سات ستارے دریا فت جن پر کوئی انتہائی ذہین مخلوق ہوسکتی ہے،ماہرین فلکیات کا دعویٰ

    ماہرین فلکیات کی جانب سے سات ستارے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن پر کوئی انتہائی ذہین مخلوق ہوسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی خبررساں ادارے ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ ہیفیسٹوز کے تحت دریافت ہونے ان ستاروں کی مدد سے ماہرین کو خلا میں کسی انتہائی ذہین مخلوق کی موجودگی کے حوالے سے تحقیق میں غیر معمولی حد تک مدد ملے گی، نئے ستاروں کی دریافت ٹیکنالوجیز سے متعلق انسان کی مہارت کو چیلنج کرنے والا عامل ہے اب ماہرین کو نئے سِرے سے کائنات کی تفہیم کے حوالے سے سوچنا پڑے گا۔

    اسلام آباد میں کرغزستان سفارتخانے کے باہر احتجاج،طلبا کو تحفظ کا مطالبہ

    خبر ایجنسی کے مطابق انسان خلا میں جس قدر آگے بڑھ رہا ہے،کسی انتہائی ذہین مخلوق کی موجودگی کے امکان کے حوالے سےتحقیق کا جوش و خروش بھی بڑھتا جارہا ہے،نئےستاروں کی دریافت ڈائسن اسفیئر میگا اسٹرکچرز کےتصور کی بنیاد پر ہوئی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان میگا اسٹرکچرز کے ذریعے انتہائی ذہین خلائی مخلوق دوسرے ستاروں سے توانائی کشید کرتی ہے۔

    پسنی کے پہاڑی علاقے سے کروڑوں روپے مالیت کی 2 ہزار کلوگرام سے زائد چرس …

    واضح رہے کہ ڈائسن اسفیئر کا تصور طبعیات دان فریمین جے ڈائسن نے 1960 میں پیش کیا تھا، خلائے بسیط میں کسی مخلوق اور اُس کی شاندار ذہانت کی تلاش کے حوالے سے یہ ٹیکنوسفیئرز غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔

  • رواں سال کے مکمل پنک مون کا ملک بھرمیں  نظارہ

    رواں سال کے مکمل پنک مون کا ملک بھرمیں نظارہ

    کراچی:رواں سال کے مکمل پنک مون کا ملک بھرمیں نظارہ کیا گیا۔

    باگی ٹی وی : بدھ کی علی الصبح پاکستان کے وقت کے مطابق چار بجکر 49 منٹ پر پنک مون ہوا ، جو ملک بھر میں دیکھا گیا،گلابی چاند برطانیہ ، آئر لینڈ ، پرتگال ، مشرقی یورپ ، افریقہ، ایشیا اور آسٹریلیا میں بھی دیکھا گیا،پنک مون کے دوران افق پر سیارے مریخ اور زحل بھی دکھائی دئیے۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق پنک مون کے وقت زمین کا چاند سے فاصلہ انتہائی کم ہوتا ہے ، چاند ایک سفید بلب کی مانند روشن ہوتا ہے ، جسے بغیر کسی آلے یا کیمرے کے باآسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔

    گلابی چاند کیوں کہا جاتا ہے؟

    ناسا کے مطابق، مین فارمرز المینیک نامی تنظیم نے 1930 کی دہائی میں پورے چاند کے لیے مقامی امریکی نام شائع کرنا شروع کیے اور یہ نام اب بڑے پیمانے پر جانے اور استعمال کیے جاتے ہیں، اپریل کے پورے چاند کو ”گلابی“ چاند کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا نام کائی جیسی جڑی بوٹی کے نام پر رکھا گیا ہے، جسے کریپنگ فلوکس، ماس فلوکس یا ماؤنٹین فلوکس بھی کہا جاتا ہے یہ مشرقی امریکہ کا ایک پودا ہے جو موسم بہار کے ابتدائی وسیع پھولوں میں سے ایک ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ چاند کا اس پھول سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اگر آسمان کا مطلع صاف ہو تو اس کی رنگت گلابی مائل نظر آ سکتی ہے یہ عمل عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب چاند افق کے قریب ہوتا ہے اور جب سورج کی روشنی چاند سے زمین کی طرف منعکس ہو کر فضا میں بادلوں، دھول، دھوئیں یا فضائی آلودگی کے ذریعے فلٹر ہو جاتی ہے، ’مون الیوژن“ نامی اثر کی وجہ سے چاند افق کے قریب بھی بڑا دکھائی دے سکتا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ اس چاند کے دیگر ناموں میں اگتی گھاس کا چاند، انڈے کا چاند، اور شمالی امریکہ کے ساحلی قبائل میں اسے مچھلی کا چاند بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب سایہ اوپر کی طرف تیرتا ہے۔

  • سعودی عرب میں آج چاند نظر  آنے کا امکان نہیں

    سعودی عرب میں آج چاند نظر آنے کا امکان نہیں

    ریاض: ماہرین فلکیات نے سعودی عرب میں آج چاند نظر نہ آنے کا امکان ظاہر کر دیا۔

    باغی ٹی وی ٌ: عرب میڈٰیا کے مطابق ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں عید الفطر بدھ کو ہونےکاامکان ہے، سعودی عرب میں آج شوال کا چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں شوال کا چاند دیکھنے کے لیے اجلاس آج ہوگا جس کیلئے سعودی عرب نے شہریوں سے آج 8 اپریل کو شوال کا چاند دیکھنے کی اپیل کررکھی ہے،اسی حوالے سے سعودی سپریم کورٹ نے ایک بیان جاری کیا جس میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چاند نظر آنے کی اطلاع دیں اور متعلقہ اتھارٹی کو مطلع کریں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ عید کا چاند انسانی آنکھ سے یا دوربین کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد چاند نظر آنے کی اطلاع قریبی عدالت یا مرکز کو دی جانی چاہیےسعودی عرب میں شوال کے چاند کا باضابطہ اعلان سپریم کورٹ کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

    نواب اکبر بگٹی کی پُر اسرار شخصیت

    آئی ایم ایف کا سی پی پیز کیلئے گیس ٹیرف میں آر ایل این جی …

    سیالکوٹ:شہر گردونواح میں ڈاکو راج برقرار ،پولیس بے بس ہوگئی

  • دُنیا کے کئی ممالک میں جمعرات کو سُپربلیو مون کا نظارہ کیا جاسکے گا

    دُنیا کے کئی ممالک میں جمعرات کو سُپربلیو مون کا نظارہ کیا جاسکے گا

    سعودی عرب سمیت دُنیا کے کئی دیگر ممالک میں جمعرات 31 اگست کو سُپربلیو مون کا نظارہ کیاجائے گا۔

    باغی ٹی وی : ماہرین فلکیات کے مطابق ایسا نظارہ اگلی بار 9 سال بعد دیکھا جائے گا سعودی عرب سمیت دُنیا کے کئی دیگر ممالک میں جمعرات 31 اگست کو سُپربلیو مون کا نظارہ کیاجائے گا اس روزچاند زمین کے قریب ترین ہوگا رواں ماہ سُپرمون کے نظارے کا یہ دوسرا موقع ہے، اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں بھی سپرمون دیکھا جاچکا ہے۔

    سعودی ماہرین فلکیات کے مطابق چاند زمین کے زیادہ قریب ہونے پرمعمول سے کہیں زیادہ بڑا اورروشن نظرآتا ہے اوراسی لیے اسے سپر مون کہا جاتا ہے،اگرچہ اگست کےآغاز میں سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں سُپرمون کا نظارہ کیاگیا اور جمعرات کو بھی دیکھا جائے گا مگر یہ سُپربلیو مون کہلائے گا۔

    15 سالہ لڑکی نے گھریلو ناچاقی پر اپنے والد کو زندہ جلا کر مار دیا

    سپربلیو مون سے مراد چاند کا نیلا رنگ نہیں بلکہ ایک اصطلاح ہے جو کسی بھی انگریزی ماہ میں دوسری بار دکھائی دینے والے چودہویں کے چاند کیلئے استعمال کی جاتی ہےاس سُپربلیو مون کو اگلی بار 2032 میں دیکھا جاسکے گا۔

    قبل ازیں ماہر فلکیات ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کے اختتام پر 30 اگست کو بھی ہوگا جس کے دوران چاند کا حجم بڑا دکھائی دے گا جبکہ وہ زیادہ روشن بھی نظرآئے گا ایک ماہ میں دوسری بار ہونے والے فل مون کو بلیو مون کا نام دیا جاتا ہے۔

    سعودی عرب کا لڑاکا طیارہ تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ

  • ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    ماہرین فلکیات نے پہلی مرتبہ کسی ستارے کے سیارہ نگلنے کے واقعے کے مشاہدہ کرنے کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکی خبررساں ادارے ” سی این این” کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی، میساچیوسٹس اور کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلی مرتبہ کسی مرتے ہوئے ستارے کے جوپیٹرسےبڑی جسامت رکھنےوالےسیارے کو نگلنے کا مشاہدہ کیا گیا ہے اس سے قبل صرف سیاروں کے ستاروں میں ضم (Engulfed) ہونے سے قبل یا بعد کے واقعات کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    بدھ کوجریدے نیچر میں شائع تحقیق میں ماہرین کی ٹیم کے سربراہ اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پوسٹ ڈاکٹورل محقق ڈاکٹر کشالے ڈی کا کہنا تھا کہ یہ حقائق تو ہمیں ہائی اسکول سے ہی پڑھائے جاتے ہیں کہ سولر سسٹم میں موجود تمام سیارے آخر کار سورج میں شامل ہو کر ختم ہو جائیں گے اور ہمارے لیے اس بات پر یقین کرنا تھوڑا مشکل ہوتا تھا لیکن اب ہمیں اس سے ملتی جلتی ایک مثال مل گئی ہے۔

    یہ عمل ایک ستارہ کو اس کے اصل سائز سے دس لاکھ گنا زیادہ دیکھتا ہے کیونکہ اس کا ایندھن ختم ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی چیز کو لپیٹ میں لے لیا جاتا ہے۔ ماہرین فلکیات نے اس کا مشاہدہ ایک سفید گرم فلیش کے طور پر کیا، اس کے بعد ایک طویل عرصے تک چلنے والا کمزور سگنل، جس کا بعد میں انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ ستارہ کسی سیارے کو گھیرنے کی وجہ سے تھا۔

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا


    کشالے ڈی نے بتایا کہ "ایک رات، میں نے ایک ستارے کو دیکھا جو ایک ہفتے کے دوران 100 کے فیکٹر سے چمک رہا تھا یہ کسی بھی شاندار دھماکے کے برعکس تھا جو میں نے اپنی زندگی میں دیکھا تھا اور ایک ہفتے تک میں اس چمکتی چیز کو دیکھتا رہا، مجھے لگا کہ میں نے اپنی زندگی ستاروں کے پھٹنے کا کوئی عمل دیکھ لیا ہے لیکن وہ جب ہم نے سنگلز کو دیکھا تو یہ دراصل ایک ستارے کے سیارہ نگلنے کا منظر تھا۔

    مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے،اے آئی کے گاڈ فادر نے خبردار …

    ڈاکٹر کشالے کا کہنا تھا کہ پالومر آبزرویٹری کے انفراریڈ کیمرا کے استعمال سے قبل انہیں کیلی فورنیا کی آبزرویٹری سے ڈیٹا موصول ہوا ، بعد ازاں انہوں اسی ستارے سے متعلق ہوائی کی آبزرویٹری سے ڈیٹا تلاش کیا اور پھر انفراریڈ کیمرا کے استعمال سے اس بارے میں مزید معلومات جمع کرنا شروع کی۔

    انہوں نے بتایا کہ انفراریڈ کیمروں سے ملنے والے معلومات نے مجھے چونکا دیا تھا، کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ دراصل یہ ریڈنگز ایک سیارے کے ستارے میں ضم ہو جانے کی تھیں ڈیٹا کے تجزیے کیلئے ہم نے ناسا کے انفراریڈ ٹیلی اسکوپ نیووائس (NEOWISE) کا ڈیٹا دیکھا جس اور واضح ہو گیا کہ دراصل ستارہ ایک سیارے کو نگل رہا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ جسامت میں جوپیٹر سے بڑے سیارے کی موت کا واقعہ تقریباً 12000 نوری سالوں کی دوری پر اکوئیلا کونسٹیلیشن میں پیش آیا تھا،اور اس میں مشتری کے سائز کا ایک سیارہ شامل تھا اس واقعے کا مشاہدہ مئی 2020 میں کیا گیا تھا تاہم جو کچھ ہم نے دیکھا اسے سمجھنے اور اس کی حقیقت کھوجنے میں ہمیں دو سال لگ گئے۔

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین اپنا ایک ہی اکاؤنٹ مختلف فونز میں استعمال کرسکیں …

    ڈی نے کہا کہ ثبوت کے اہم ٹکڑوں میں سے ایک جسے ہم سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ دھماکے سے پہلے اور اس کے بعد میں دھول پیدا ہو رہی تھی تاہم، گیس کو ٹھنڈا ہونے اور دھول کے مالیکیول کو گاڑھا ہونے میں وقت لگتا ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ ٹیم کو دھول کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے انتظار کرنا پڑا-

    ان کا کہنا تھا کہ تاریخی اعتبار سے اس طرح کا انفراریڈ ڈیٹا ملنا بہت ہی مشکل ہوتا تھا کیونکہ انفراریڈ ڈٹیکٹرز کافی مہنگے ہوتے ہیں اور ان سے بار بار آسمان کی تصویریں بنانے والے بڑے کیمرے بنانا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے لیکن اب ہمارے پاس یہ ڈیٹا موجود ہے اور ہم مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات کا مشاہدہ کر سکیں گےہمارے سیارے زمین کا بھی یہی مقدر ہےاور اگلے 5 ارب سال بعد ہمارا سورج زمین کو نگل جائے گا۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

  • 5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    ماہرین فلکیات کے مطابق سعودی عرب کے آسمان پر سائے کی طرح کا چاند گرہن نظر آئے گا۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق اس بارایک ایسا چاند گرہن نظرآنے والا ہے جس کیلئے علماء کرام نے کسی قسم کی نماز کی ادائیگی نہ کرنے کا فتویٰ دے دیا جمعہ 5 مئی کی شام سعودی عرب کے آسمان پر سائے کی طرح کا چاند گرہن نظرآئے گایہ مخصوص چاند گرہن ان اقسام میں سے ایک ہے جس کے دوران زمین کا سایہ ہوتا تو ہے لیکن وہ چاند پر نہیں پڑتا تاہم سورج کی روشنی کا کچھ حصہ چاند کی سطح کو روشن نہیں کرتا اور اس طرح چاند معمول سے 10 فیصد کم روشن دکھائی دیتا ہے۔

    منڈی بہاوالدین میں منکی پاکس کیس رپورٹ

    یہ چاند گرہن کی ان اقسام میں سے ایک ہے جس کے دوران زمین کا سایہ ہوتا ہے تاہم وہ چاند پر نہیں پڑتا لیکن سورج کی روشنی کا کچھ حصہ چاند کی سطح کو روشن نہیں کرتا اس طرح چاند معمول سے 10 فیصد کم روشن ہوتا ہے نیم سایہ پر مبنی چاند گرہن کو لوگ واضح طور پر محسوس نہیں کرتے اور اس کے آغاز اور اس کے اختتام میں فرق بھی نہیں کرسکتے۔

    وزارت مذہبی امورکی عازمین حج سے آب زم زم کی مد میں اضافی پیسے وصول …

    جمعہ کو چاند گرہن 4 گھنٹے اور 17 منٹ تک جاری رہے گا۔ گرہن جمعہ کی شام 6 بج کر 14 منٹ پر شروع ہوگا، 8 بج کر 24 منٹ پر عروج پر پہنچے گا اور رات 10 بج کر 31 منٹ پر ختم ہوگا۔

  • شوال کاچاند دیکھنےکیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    شوال کاچاند دیکھنےکیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    شوال کاچاند دیکھنے کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 20 اپریل کو طلب کر لیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس وزارت مذہبی امور اسلام آباد میں ہوگا، زونل کمیٹیوں کے اجلاس ملک بھر میں مقررہ مقاما ت پر ہوں گے،اعلامیہ کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے۔

    لانچ سے چند منٹ قبل انسانی تاریخ کے سب سےطاقتورراکٹ کی پروازملتوی

    واضح رہے ماہرین فلکیات کی پیشگوئی کے مطابق پاکستان میں عیدالفطر بروز ہفتہ 22 اپریل کو ہو گی، حتمی اعلان چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد 20 تاریخ کی شب کریں گے۔

    دوسری جانب سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کےماہرینِ فلکیات کے مطابق شوال کاچاند جمعرات کو نظر نہ آنے کا کم امکان ہے جدہ فلکیاتی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ماجد ابو زہرہ نے بتایا کہ تکنیکی طور پر چاند جمعرات کی شام کو آسمان پر نظر آئے گا لیکن یہ سورج کی شعاعوں سے روشن نہیں ہوگا اورخصوصی آلات کے بغیر دیکھنا مشکل ہوگا۔

    امیرکے ولی عہد کا قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان،الیکشن کرانے کا فیصلہ

    سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق ابوزہرہ نے مزید کہا کہ اگر آسمان صاف ہو تو چاند کوکھلی آنکھوں سے دیکھنا بہت آسان ہو جائے گا تاہم اگر جمعرات کو چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوتی ہیں اورانھیں تسلیم کر لیا جاتا ہے تو حکام جمعہ کو عیدا لفطرکا آغاز قرار دے سکتے ہیں۔

  • سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    ڈرہم: برطانوی ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ انہوں نے اب تک کے دریافت ہونے والے بلیک ہولز سے بڑا بلیک ہول دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانیہ میں ماہرین فلکیات نے سورج کی کمیت سے تقریباً 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت کیا ہےڈرہم یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کہا کہ بہت بڑا بلیک ہول اب تک کا سب سے بڑا دریافت ہے۔ ٹیم نے اپنے نتائج کو، جو کہ رائل فلکیاتی سوسائٹی کے ماہانہ نوٹسز میں شائع ہوا، کو "انتہائی دلچسپ” قر ار دیا۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    ماہرین کے مطابق اس بلیک ہول کا حجم ہمارے سورج کے حجم سے 30 ارب گُنا زیادہ ہے جبکہ اس کا وجود ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود سیگِیٹیریس سے 8000 گُنا بڑا ہےانتہائی دلچسپ دریافت گریویٹیشنل لینسنگ کے مظہر کے سبب ممکن ہوئی ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس تکنیک سے کوئی بلیک ہول دریافت کیا گیا ہو۔ گریویٹیشنل لینسنگ کا معاملہ تب وقوع پذیر ہوتا ہے جب آگے موجود کہکشاں اپنی پشت پر موجود دور دراز اجرامِ فلکی سے آنے والی روشنیوں کو موڑ دیتی ہے اور بڑا کر دیتی ہےاس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ڈرہم یونیورسٹی کے محققین نے کہکشاں کے مرکز میں زمین سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود دیو ہیکل بلیک ہول کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

    تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر جیمز نائٹِنگیل کا کہناتھا کہ یہ بلیک ہول، جس کا حجم ہمارے سورج سےاندازاً 30 ارب گُنا زیادہ ہے، دریافت ہونے والے اب تک کے سب سے بڑے بلیک ہولز میں سے ایک ہے یقین ہے کہ بلیک ہولز نظریاتی طور پر بن سکتے ہیں، اس لیے یہ ایک انتہائی دلچسپ دریافت ہے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    یہ بلیک ہول کتنا بڑا ہے اس کااندازہ لگانے کے لیے ڈاکٹر جیمز نائٹِنگیل کے مطابق اگررات میں آسمان کیجانب دیکھا جائے اور تمام ستاروں اور سیاروں کو ملا کر ایک جگہ جمع کر دیا جائے تب بھی یہ سب مل کر اس بلیک ہول کے سائز کا عشرِ عشیر بھی نہیں بھر پائیں گے۔

    الٹرا میسیو بلیک ہولز نایاب اور مضحکہ خیز ہیں، اور ان کی اصلیت واضح نہیں ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ وہ اربوں سال پہلے بڑے پیمانے پر کہکشاؤں کے انتہائی انضمام سےتشکیل پائےتھےجب کائنات ابھی بنی ہی تھیسائنسدانوں نےاس کے سائز کی تصدیق کے لیے یونیورسٹی میں سپر کمپیوٹر سمیلیشنز اور ہبل خلائی دوربین کے ذریعے لی گئی تصاویر کا استعمال کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا بلیک ہول تھا جو کشش ثقل لینسنگ کا استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تھا۔ ڈاکٹر نائٹنگیل نے کہا کہ "زیادہ تر سب سے بڑے بلیک ہول جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں وہ ایک فعال حالت میں ہیں، جہاں بلیک ہول کے قریب کھینچا جانے والا مادہ گرم ہوتا ہے اور روشنی، ایکس رے اور دیگر تابکاری کی شکل میں توانائی خارج کرتا ہے-

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    تاہم، کشش ثقل لینسنگ غیر فعال بلیک ہولز کا مطالعہ ممکن بناتی ہے، جو کہ دور دراز کہکشاؤں میں فی الحال ممکن نہیں ہے۔ اس نقطہ نظر سے ہم اپنی مقامی کائنات سےآگے بہت سے بلیک ہولزکا پتہ لگا سکتےہیں اور یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ کائناتی وقت میں یہ غیر ملکی اشیاء مزید کیسے تیار ہوئیں۔

    محققین نے کہا کہ ان کے کام نے اس "ٹینٹالیزنگ امکان” کو کھول دیا ہے کہ ماہرین فلکیات پہلے کی سوچ سے کہیں زیادہ الٹرماسیو بلیک ہولز دریافت کر سکتے ہیں اس تحقیق کو یو کے اسپیس ایجنسی، رائل سوسائٹی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی سہولیات کونسل، یو کے ریسرچ اینڈ انوویشن کا حصہ، اور یورپی ریسرچ کونسل نے تعاون کیا۔

    شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

  • 28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ منگل کی شام غروب آفتاب کےبعد پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے،یہ سب سیارے چاند کے قریب موجود ہوں گے اور دنیا بھر میں ان کا نظارہ کرنا ممکن ہوگا۔

    باغی ٹی وی:ماہرین فلکیات کے مطابق 28 مارچ کو سورج غروب ہونے کے بعدعطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور یورینس چاند کے نیچے گولائی میں نظر آئیں گے،بیشتر سیاروں کو دیکھنے کے لیے ٹیلی اسکوپ یا دوربین کی بھی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم کچھ سیارے دوربین کے بغیر دکھائی نہیں دیں گے۔

    تنزانیہ کی پراسرار جھیل جو جانوروں کو پتھر کا بنا دیتی ہے

    ماہرین کے مطابق 28 مارچ کو سورج غروب ہونے کے بعد افق پراس جگہ نظرڈالیں جہاں سورج غروپ ہوا تھا تو چمکدار مشتری کو دیکھنا ممکن ہو گا جس کے ساتھ مدھم عطارد بھی ہوگا زہرہ کو آسمان پر دیکھنا سب سے زیادہ آسان ہو گا مگر اس کے قریب موجود یورینس کو دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہوگی،مریخ اوپر چاند کے قریب نظر آئے گا جہاں وہ کافی روشن ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق یہ سب سیارے سیدھی لکیر میں نہیں ہوں گے مگر پھر بھی ایک وقت میں ان سیاروں کا آسمان پر نظارہ بہت خاص ہوگا کیونکہ تمام سیارے آسمان پر’موتیوں کےہار‘ کی طرح دکھائی دیں گے اور جمعےکو غروب آفتاب کے بعد ان پانچ سیاروں کا نظارہ زیادہ واضح ہوگا جسے آئندہ دو ہفتےتک دیکھا جاسکےگا 29 اور 30 مارچ کو مشتری کے علاوہ باقی سیاروں کو آپ دیکھ سکیں گے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    سیاروں کے ایک ساتھ نظر آنےکا منظر ہر چند سال بعد ہوتا ہے مگر ایک سیدھی لائن میں انہیں دیکھنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے ایسا جون 2022 میں ہوا تھا جو اس موقع پر عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل کو دیکھا گیا تھا۔