Baaghi TV

Tag: ماہرین فلکیات

  • سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    سورج کے حجم سے 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت

    ڈرہم: برطانوی ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ انہوں نے اب تک کے دریافت ہونے والے بلیک ہولز سے بڑا بلیک ہول دریافت کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :برطانیہ میں ماہرین فلکیات نے سورج کی کمیت سے تقریباً 30 بلین گنا بڑا بلیک ہول دریافت کیا ہےڈرہم یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے کہا کہ بہت بڑا بلیک ہول اب تک کا سب سے بڑا دریافت ہے۔ ٹیم نے اپنے نتائج کو، جو کہ رائل فلکیاتی سوسائٹی کے ماہانہ نوٹسز میں شائع ہوا، کو "انتہائی دلچسپ” قر ار دیا۔

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    ماہرین کے مطابق اس بلیک ہول کا حجم ہمارے سورج کے حجم سے 30 ارب گُنا زیادہ ہے جبکہ اس کا وجود ہماری ملکی وے کہکشاں کے مرکز میں موجود سیگِیٹیریس سے 8000 گُنا بڑا ہےانتہائی دلچسپ دریافت گریویٹیشنل لینسنگ کے مظہر کے سبب ممکن ہوئی ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس تکنیک سے کوئی بلیک ہول دریافت کیا گیا ہو۔ گریویٹیشنل لینسنگ کا معاملہ تب وقوع پذیر ہوتا ہے جب آگے موجود کہکشاں اپنی پشت پر موجود دور دراز اجرامِ فلکی سے آنے والی روشنیوں کو موڑ دیتی ہے اور بڑا کر دیتی ہےاس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ڈرہم یونیورسٹی کے محققین نے کہکشاں کے مرکز میں زمین سے کروڑوں نوری سال کے فاصلے پر موجود دیو ہیکل بلیک ہول کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

    تحقیق کے سربراہ مصنف ڈاکٹر جیمز نائٹِنگیل کا کہناتھا کہ یہ بلیک ہول، جس کا حجم ہمارے سورج سےاندازاً 30 ارب گُنا زیادہ ہے، دریافت ہونے والے اب تک کے سب سے بڑے بلیک ہولز میں سے ایک ہے یقین ہے کہ بلیک ہولز نظریاتی طور پر بن سکتے ہیں، اس لیے یہ ایک انتہائی دلچسپ دریافت ہے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    یہ بلیک ہول کتنا بڑا ہے اس کااندازہ لگانے کے لیے ڈاکٹر جیمز نائٹِنگیل کے مطابق اگررات میں آسمان کیجانب دیکھا جائے اور تمام ستاروں اور سیاروں کو ملا کر ایک جگہ جمع کر دیا جائے تب بھی یہ سب مل کر اس بلیک ہول کے سائز کا عشرِ عشیر بھی نہیں بھر پائیں گے۔

    الٹرا میسیو بلیک ہولز نایاب اور مضحکہ خیز ہیں، اور ان کی اصلیت واضح نہیں ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ وہ اربوں سال پہلے بڑے پیمانے پر کہکشاؤں کے انتہائی انضمام سےتشکیل پائےتھےجب کائنات ابھی بنی ہی تھیسائنسدانوں نےاس کے سائز کی تصدیق کے لیے یونیورسٹی میں سپر کمپیوٹر سمیلیشنز اور ہبل خلائی دوربین کے ذریعے لی گئی تصاویر کا استعمال کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا بلیک ہول تھا جو کشش ثقل لینسنگ کا استعمال کرتے ہوئے پایا گیا تھا۔ ڈاکٹر نائٹنگیل نے کہا کہ "زیادہ تر سب سے بڑے بلیک ہول جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں وہ ایک فعال حالت میں ہیں، جہاں بلیک ہول کے قریب کھینچا جانے والا مادہ گرم ہوتا ہے اور روشنی، ایکس رے اور دیگر تابکاری کی شکل میں توانائی خارج کرتا ہے-

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    تاہم، کشش ثقل لینسنگ غیر فعال بلیک ہولز کا مطالعہ ممکن بناتی ہے، جو کہ دور دراز کہکشاؤں میں فی الحال ممکن نہیں ہے۔ اس نقطہ نظر سے ہم اپنی مقامی کائنات سےآگے بہت سے بلیک ہولزکا پتہ لگا سکتےہیں اور یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ کائناتی وقت میں یہ غیر ملکی اشیاء مزید کیسے تیار ہوئیں۔

    محققین نے کہا کہ ان کے کام نے اس "ٹینٹالیزنگ امکان” کو کھول دیا ہے کہ ماہرین فلکیات پہلے کی سوچ سے کہیں زیادہ الٹرماسیو بلیک ہولز دریافت کر سکتے ہیں اس تحقیق کو یو کے اسپیس ایجنسی، رائل سوسائٹی، سائنس اور ٹیکنالوجی کی سہولیات کونسل، یو کے ریسرچ اینڈ انوویشن کا حصہ، اور یورپی ریسرچ کونسل نے تعاون کیا۔

    شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

  • 28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    28 مارچ کوآسمان پر پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ منگل کی شام غروب آفتاب کےبعد پانچ سیارے ایک ساتھ نظر آئیں گے،یہ سب سیارے چاند کے قریب موجود ہوں گے اور دنیا بھر میں ان کا نظارہ کرنا ممکن ہوگا۔

    باغی ٹی وی:ماہرین فلکیات کے مطابق 28 مارچ کو سورج غروب ہونے کے بعدعطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور یورینس چاند کے نیچے گولائی میں نظر آئیں گے،بیشتر سیاروں کو دیکھنے کے لیے ٹیلی اسکوپ یا دوربین کی بھی ضرورت نہیں ہوگی، تاہم کچھ سیارے دوربین کے بغیر دکھائی نہیں دیں گے۔

    تنزانیہ کی پراسرار جھیل جو جانوروں کو پتھر کا بنا دیتی ہے

    ماہرین کے مطابق 28 مارچ کو سورج غروب ہونے کے بعد افق پراس جگہ نظرڈالیں جہاں سورج غروپ ہوا تھا تو چمکدار مشتری کو دیکھنا ممکن ہو گا جس کے ساتھ مدھم عطارد بھی ہوگا زہرہ کو آسمان پر دیکھنا سب سے زیادہ آسان ہو گا مگر اس کے قریب موجود یورینس کو دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہوگی،مریخ اوپر چاند کے قریب نظر آئے گا جہاں وہ کافی روشن ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق یہ سب سیارے سیدھی لکیر میں نہیں ہوں گے مگر پھر بھی ایک وقت میں ان سیاروں کا آسمان پر نظارہ بہت خاص ہوگا کیونکہ تمام سیارے آسمان پر’موتیوں کےہار‘ کی طرح دکھائی دیں گے اور جمعےکو غروب آفتاب کے بعد ان پانچ سیاروں کا نظارہ زیادہ واضح ہوگا جسے آئندہ دو ہفتےتک دیکھا جاسکےگا 29 اور 30 مارچ کو مشتری کے علاوہ باقی سیاروں کو آپ دیکھ سکیں گے۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    سیاروں کے ایک ساتھ نظر آنےکا منظر ہر چند سال بعد ہوتا ہے مگر ایک سیدھی لائن میں انہیں دیکھنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے ایسا جون 2022 میں ہوا تھا جو اس موقع پر عطارد، زہرہ، مریخ، مشتری اور زحل کو دیکھا گیا تھا۔

  • انتہائی نایاب ستاروں پر مبنی نظام دریافت

    انتہائی نایاب ستاروں پر مبنی نظام دریافت

    ماہرینِ فلکیات نے ایک انتہائی نایاب ستاروں پر مبنی نظام دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ستاروں پر مبنی نظام اتنا نایاب ہے کہ ماہرین کے مطابق ہماری کہکشاں میں اس جیسے صرف 10 نظام موجود ہیں-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نظام کے حالات دو نیوٹرون ستاروں کے ملاپ کے سبب کلو نووا کے پیش آنے کے عین مطابق ہیں ان ستاروں کے ملاپ کی صورت ایک روایتی نووا سے 1000 گُنا زیادہ روشن دھماکا ہوتا ہے۔

    CPD-29 2176نامی ستاروں کا یہ جتھہ زمین سے 11 ہزار 400 نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے اور اس کی نشان دہی پہلی بار ناسا کے نیل گیہریلز سوئفٹ آبزرویٹری نے کی تھی جس کو 2004 میں خلاء میں بھیجا گیا تھا۔

    چلی میں قائم سیرو ٹولولو انٹر امیریکن آبزرویٹری کی اسمارٹس 1.5 میٹر ٹیلی اسکوپ سے لیے جانے والے مشاہدات سے ماہرین فلکیات اس نتیجے تک پہنچے کے یہ نظام ایک دن ایک کِلو نووا کا سبب ہوگا۔

    ماہرین کے مطابق اس نظام میں ایک نیوٹرون ستارہ موجود ہے جو ’الٹرا-اسٹرپڈ سپر نووا‘ کی وجہ سے وجود میں آیا ہے اور اس کے گرد ایک بڑا ستارہ گردش کر رہا ہے جو خود ’الٹرا-اسٹرپڈ سپر نووا‘ بننے کے عمل میں ہے۔

    الٹرا-اسٹرپڈ سپر نووا ایک عام سپر نووا سے اس لیے مختلف ہوتا ہے کیوں کہ ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں بہت کم یا نا ہونے کے برابر مواد نکلتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ پھٹتے ہوئے ستارے کا باہری ماحول اس کا ساتھی ستارہ ختم کر دیتا ہے۔

    پھٹنے والا ستارہ پھر نیوٹرون ستارہ بن جاتا ہے۔ لیکن کیوں کہ اس سپُر نووا میں دھماکا خیز طاقت موجود نہیں ہوتی اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کا ساتھی ستارہ موجود رہتا ہے۔ جبکہ روایتی سپر نووا اپنے ساتھی ستارے کو نظام سے باہر نکال دیتا ہے۔

  • ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    ماہرین فلکیات نے ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے زمین کے مدار میں گردش کرتے سیٹلائٹس پر گہری تشویش کا اظہارکیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایسٹرونومیکل جرنل میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق میں کہا گیا ہے خلا میں زمین کے مدار میں گردش کرتے ہزاروں سیٹلائٹس، فلکیات کا مشاہدہ کرنے والے ماہرین کے کام میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔

    65 ہزار سیٹلائٹس کو زمین کے مدار میں چھوڑنے کے منصوبے کے اثرات کو جانچنے کیلئے کی جانے والی اس تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اندھیرے آسمان کا مشاہدہ کرنے والی آبزرویٹریز میں سے ہر پانچ میں سےایک آبزرویٹری ان سیٹلائٹس کے گذرنے سے متاثر ہو گی۔

    وائر اور بجلی کے بغیر چلنے والے ٹی وی تیار

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اسپیس ایکس کے آپریٹنگ الٹیٹیوڈ، روشنی کے انعکاس کو کم کرنے والے مٹیریل کی کمی، اور سورج کے جانب ان سیٹلائٹس کا زاویہ یہ تمام چیزیں ماہرین کے مشاہدے اور ڈیٹا کے حصول میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

    تحقیق میں حصہ لینے والے واشنگٹن یونیورسٹی کے محقق میرَاڈَتھ رالز نے امریکی فیڈرل کمیشن برائے کمیونیکیشن (ایف سی سی) میں اسپیس ایکس کی جانب سے جمع کروائے گئے دستاویزات کے حوالے سے کہا کہ سیٹلائٹس کے ان اثرات اور مداخلت کو کم کرنے کیلئے کیے گئے اقدامات، رضاکارانہ اور ناکافی ہیں جبکہ اسٹارلنک سیکنڈ جنریشن کے معاملے میں تو ابھی یہ غیر آزمائش شدہ ہیں۔

    یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہر فلکات پیٹرک سیزر کا کہنا ہے کہ ان سیٹلائٹس کی وجہ سے نظر آنے والےمسائل سےآگے بھی کافی مسائل ہیں جب کوئی بھی پرچھائی نہ ہوگی تب بھی یہ سیٹلائٹس گرمی خارج کریں گےاورہروقت نظرآتے رہیں گے ان سیٹلائٹس سے ریڈیو کمیونی کیشن میں بھی مداخلت پیدا ہوگی کیونکہ یہ اپنے صارفین کو ہائی فریکوئینسی بینڈ پر ڈیٹا ٹرانسفر کریں گے۔

    سال کے آغاز میں ہی ٹوئٹر میں ایک اور بڑی تبدیلی

    ورجینیا یونیورسٹی میں ریڈو کے ماہر فلکیات ہاروے لز کا کہنا ہے کہ حالانکہ اس وقت اسٹارلنک کمیونیکیشن جاری شدہ فریکوئینسی بینڈز کے دائرے تک محدود ہے تاہم برقی شعاعیں بہت بڑھتی جا رہی ہیں، اس کی ذمہ داری ان تمام کمپنیوں پر عائد ہوتی ہے جو آسمانوں کو سر کرنے کے مقابلے میں شامل ہیں۔

    ماضی میں کمرشل ریڈیو کے شور سے بچنے کیلئے ماہرین فلکات چلی کے ایٹکاما پہاڑوں یا میکسیکو کے صحرا کی طرف رخ کر لیتے تھے تاہم اب سیٹلائیٹ کمپنیوں کو جاری ہونے والے ہائی فریکوئینسی بینڈز کی بدولت کوئی پہاڑ اتنا اونچا نہیں رہا جہاں ان کی آلودگی سے بچنا ممکن ہو سکے۔

    گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے

    یاد رہے کہ اس وقت ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے اسٹارلنک سیٹلائٹس کی تعداد 3500 کے قریب ہے جو کہ خلا میں زمین کے مدار میں گردش کرنے والے سیٹلائٹس کا نصف بنتی ہے جبکہ حال ہی میں ایف سی سی کی جانب سے اسپیس ایکس کو مزید 7 ہزار 500 سیٹلائیٹ لانچ کرنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ کمپنی 2050 تک زمین کے مدار میں تیرتے ان اٹرنیٹ باکسز کی تعداد کو 30 ہزار تک پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ان سیٹلائٹس کا مقصد دنیا بھر میں صارفین کو بلا تعطل براڈبینڈ انٹرنیٹ اور موبائل فونز پر گلوبل پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) ڈیٹا فراہم کرنا ہے تاہم جی پی ایس کے برعکس یہ کام کرنے اور سروسز کی بلاتعطل فراہمی کیلئے ہزاروں سیٹلائٹس کی ضرورت ہے۔

    قدیم مصرکا طاقتور ترین فرعون رامسس دوم

  • زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    زمین سے 100 سال کے نوری فاصلے پرسمندر سے ڈھکا سیارہ دریافت

    ماہرین فلکیات نے زمین سے تقریباً 100 نوری سال کے فاصلے پر ڈریکو کونسٹیلیشن(جھرمٹ) میں گہرے سمندر کا حامل ایک سیارہ دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ دریافت کینیڈا کی یونیورسٹی آف مونٹریال کے محقق ڈاکٹر چارلس کیڈیکس کی رہنمائی میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی جو آسٹرونومیکل جرنل میں شائع ہوئی۔

    نظامِ شمسی سے باہر موجود سیارے میں زندگی کے آثار دریافت

    TOI-1452b نامی یہ ایگزو پلانیٹ ہے یعنی یہ نظامِ شمسی سےماورا ایک سیارہ ہے۔ یہ زمین سے 100 نوری سال کے فاصلے پر ہے اور زمین سے تھوڑا بڑا ہے یونیورسٹی آف مونٹریال کے محققین نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ یہ سیارہ ’گولڈی لاک زون‘ میں واقع ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں مائع پانی کے وجود کے لیے درجہ حرارت نہ تو زیادہ گرم ہوتا ہے نہ ٹھنڈا ہوتا ہے۔

    لہٰذا، ماہرینِ فلکیات کا خیال ہے کہ یہ سیارہ سمندر سے ڈھکا ہوا ہے واضح رہے کہ گولڈی لاک اصطلاح ایک کہانی سے لی گئی ہے اور یہ خلا میں ایسے مقام کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں نہ سیارہ اپنے سورج سے مناسب فاصلے پر ہوتا ہے، اس کا درجہ حرارت نہ زیادہ گرم ہوتا ہے اور نہ ہی بہت سرد ہوتا ہے۔

    ماہرین کےمطابق یہ ایگزو پلانیٹ ایک قریبی بائینری ایم ڈوارف( بونے) ستارے کے گرد گھومتا ہے۔

    یونیورسٹی آف مونٹریال کے فلکی طبیعیات کے پی ایچ ڈی کے طالب علم چارلس کیڈیکس کے مطابق TOI-1452b اب تک کے دریافت ہونے والے سیاروں میں سمندر کے سب سے زیادہ آثار والا سیارہ ہے۔ اس کا ریڈیس اور وزن اس کی کثافت دھات اور چٹانوں سے بنے سیاروں کی نسبت بہت کم ظاہر کرتے ہیں جیسے کہ زمین-

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    TOI-1452 b پہلی بار ماہرین فلکیات کی توجہ خلاء میں 2018 سے فعال ناسا کی TESS ٹیلی اسکوپ نے سائنس دانوں کو اس ایگزو پلینٹ کے وجود کے متعلق آگاہ کیااسپیس کرافٹ کے ذریعے حاصل ہوا-

    ستارہ TOI-1452 b مدار ایک بائنری ستارے کے نظام کا حصہ ہے، اور ٹیس کے پاس اس نظام میں انفرادی ستاروں کو حل کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ یونیورسٹی کی آبزرویٹری ڈو مونٹ میگنٹک (OMM) رصد گاہ، تاہم، نئے تجزیاتی طریقوں کے ساتھ، اس بات کی تصدیق کرنے میں کامیاب رہی کہ TOI-1452 b موجود ہے۔

    او ایم ایم نے اس سگنل کی نوعیت کی تصدیق کرنے اور سیارے کے رداس کا اندازہ لگانے میں اہم کردار ادا کیا،” مسٹر سیڈیکس نے کہا یہ کوئی معمول کی جانچ نہیں تھی۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ TESS کے ذریعے پتہ چلا سگنل واقعی TOI-1452 کے گرد چکر لگانے والے ایک سیارہ کی وجہ سے ہوا تھا، جو اس بائنری سسٹم کے دو ستاروں میں سب سے بڑا ہے۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    ہوائی میں کینیڈا-فرانس-ہوائی ٹیلی سکوپ پر نصب ایک آلے نے پھر سیارے کی کمیت کی پیمائش کی۔

    زمین کے برعکس، جو زیادہ تر پتھریلا اور دھاتی سیارہ ہے جس کی سطح کا تقریباً 70 فیصد حصہ پانی پر محیط ہےایسا لگتا ہے کہ TOI-1452 b بڑے پیمانے پر، لیکن مکمل طور پر نہیں، پانی سے بنا ہوا ہےجس کا تقریباً 30% حصہ مائع سے آتا ہےیہ ایک طرح کا گہرا عالمی سمندر ہے جو زمین کے سمندروں کےمقابلے میں زحل کے چاند اینسیلاڈس کی برفیلی پرت کےنیچےموجود گہرے پانیوں سے مشابہت رکھتا ہے پانی ہمارے سیارے کی کمیت کا 1 فیصد سے بھی کم حصہ بناتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ اس سیارے کے متعلق مزید معلومات تب حاصل ہوگی جب جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اس کے اطراف کے ماحول کا جائزہ لے گی ایگزو پلینٹ ایسے سیارے ہوتے ہیں جو نظامِ شمسی سے باہر وجود رکھتے ہیں۔

    یہ ابھی تک یقین نہیں ہے کہ TOI-1452 b ایک سمندری دنیا ہے، اور اس کے پانیوں میں اجنبی زندگی کی دریافت کے امکانات کے لیے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، لیکن محققین نے نوٹ کیا کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کو جلد ہی اسرار کو عبور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس عجیب نئی آبی دنیا کی-

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

  • ماہرین فلکیات نے نیپچون  جیسا سیارہ دریافت کر لیا

    ماہرین فلکیات نے نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا

    برکلے: ماہرینِ فلکیات نے زمین سے تقریباً 873 نوری سال کے فاصلے پر موجود وولنس نامی ایک جھرمٹ میں نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا۔

    باغی ٹی وی : آسٹروفزیکل جرنل لیٹر میں شائع کی گئی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں کی جانے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ HD 56414b نامی یہ سیارہ ایک گرم اے-ٹائپ ستارے کے گِرد گردش کرتا ہے۔ سائنس دانوں کو عموماً ایسے روشن ستاروں کے گرد مشتری سے چھوٹے سیارے نہیں ملتے۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    ناسا کے ٹرانزِٹنگ ایگزوپلینٹ سروے سیٹلائٹ کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کیے جانے والے اس سیارے کا ریڈیس زمین کے مقابلے میں 3.7 زیادہ ہے اور اس کو گرم نیپچون سیاروں کی درجہ بندی میں ڈالا گیا ہے۔

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ایک سائنس دان کا کہنا تھا کہ یہ سیارہ اتنے بڑے ستاروں کے گرد موجود چند چھوٹے سیاروں میں سے ایک ہے جو سائنس دانوں کے علم میں ہیں۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    ماہرین فلکیات کےمطابق اے-ٹائپ ستارے وہ ستارےہوتےہیں جن کی زندگی چند لاکھ سالوں پرمحیط ہوتی ہےنیا دریافت ہونےوالا یہ ایگزوپلینٹ اپنے ستارے کے گرد 29 دنوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہےاس ستارے اوراس کےگرد گھومنے والے سیارے کے درمیان فاصلہ زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کا ایک چوتھائی ہے۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری