Baaghi TV

Tag: ماہرین فلکیات

  • زمین سے عنقریب ٹکرانے والے سیارچے کی نگرانی شروع

    زمین سے عنقریب ٹکرانے والے سیارچے کی نگرانی شروع

    یورپی خلائی ایجنسی نے ایک ایسے سیارچے کی نگرانی شروع کر دی ہے جو 2032 میں زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈٰا کے مطابق سیارچہ YR4 27 دسمبر 2024 کو چلی میں ایک دوربین کے ذریعے دیکھا گیا لیکن اس کے بعد سے اس نے امریکا کے ساتھ ساتھ یورپ کے ماہرین فلکیات کی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    یورپی ایجنسی نے بیان میں کہا کہ جنوری کے اوائل سے، ماہرین فلکیات دنیا بھر میں دوربینوں کا استعمال کرتے ہوئے اور نئے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے سیارچے کے سائز اور رفتار کے بارے میں ہماری سمجھ کو بہتر بنانے کے لیے اس کا مسلسل مشاہدہ کر رہے ہیں۔

    ایسٹرائیڈ 2024 وائے آر 4 کو چلی کی ایک ٹیلی اسکوپ نے سب سے پہلے دسمبر 2024 میں دیکھا تھا مگر اب امریکی اور یورپی خلائی اداروں نے اسے زمین کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا ہے۔

    خانہ جنگی کے شکار سوڈان میں مارکیٹ پر بمباری میں 54 افراد ہلاک اور 158 زخمی

    موجودہ تخمینوں کی بنیاد پر 1.3 فیصد امکان ہے کہ 328 فٹ چوڑا سیارچہ 22 دسمبر 2032 کو زمین سے ٹکرائے گاجبکہ 99 فیصد امکان ہے کہ یہ زمین کے قریب سے گزر جائے گااس سائز کا سیارچہ اوسطاً ہر چند ہزار سال بعد زمین پر اثر انداز ہوتا ہے اور کسی مقامی علاقے کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    ایڈنبرگ یونیورسٹی کے پروفیسر کولین سنوڈگراس نے بتایا کہ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ سیارچہ زمین کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر گزر جائے گا مگر پھر بھی اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس کے راستے کی زیادہ بہتر پیشگوئی کی جاسکے۔

    اس بار لانگ مارچ کیلئے نکلے تو کسی سے کوئی بات نہیں ہو گی،جنید اکبر

    اسے زمین کے لیے خطرہ قرار دیئے جانے والے سیارچوں کی فہرست کی کیٹیگری 3 میں شامل کیا گیا ہے کیونکہ اس کا زمین سے ٹکرا نے کا امکان ایک فیصد یا اس سے زیادہ ہے اس فہرست میں 0 سے لے 10 کیٹیگریز شامل ہیں اور 10 میں سب سے زیادہ خطرے کا باعث بننے والے سیارچوں کو شامل کیا جاتا ہے، اب تک کیٹیگری 10 میں کوئی سیارچہ شامل نہیں ہوا بس ایک بار سیارچے Apophis کو کیٹیگری 4 شامل کیا گیا جو 2004 میں شہہ سرخیوں کا حصہ بنا تھا۔

    سعودی طیارہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر لینڈنگ سے پہلے راستہ بھٹک گیا

    ماہرین کے مطابق ایسٹرائیڈ 2024 وائے آر 4 جتنے بڑے سیارچے زمین کو تباہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں مگر اس سے کسی شہر کو بہت زیادہ تباہی تباہی کا سامنا ہوسکتا ہے،اس سیارچے کے باعث اقوام متحدہ کے توثیق شدہ 2 عالمی ایسٹرائیڈ ریسپانس گروپس ضرور متحرک ہوگئے ہیں تاکہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیاری کو یقینی بنایا جاسکے۔

  • آج دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جائے گا

    آج دن اور رات کا دورانیہ برابر ہو جائے گا

    لاہور:پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں دن اور رات کا دورانیہ آج 22 ستمبر کو لگ بھگ برابر ہو جائے گا۔

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق رات اور دن کا دورانیہ سال میں دو بار 22 مارچ اور 22 ستمبر کو برابرہوتا ہے، آج بھی دن اور رات کا دورانیہ تقریباً 12،12 گھنٹے پر محیط ہو گا۔

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سورج سال میں دو مرتبہ خط استواسے گزرتا ہے، پہلی مرتبہ 22 مارچ کو جنوبی کرہ میں واقع خط جدی سے شمالی کرہ میں واقع خط سرطان کی جانب سفر کے دوران اس روز دن اور رات تقریباً برابر ہوتے ہیں۔اسی طرح 22 ستمبر کے روز بھی سورج عین خط استواء پر ہوتا ہے اور دن ، رات 12،12 کے دورانے پر مشتمل ہو تے ہیں، خط استوا دنیا کے نقشے پر بالکل درمیان میں کھینچا گیا ایک فرضی خط یا لکیر ہے جو ہماری دنیا کو شمال اور جنوب کی طرف دو برابر حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔

    روس نے یوکرین کے حملوں سے بچنے کے لیے جنگی طیاروں کو چھپا دیا

    لوگ سمجھ چکے کہ عمران خان پروجیکٹ کا ماسٹر مائنڈ کون ہے، احسن اقبال

    حکومت کا اضافی قرضوں پر ملک کے انحصار کو کم کرنے کا فیصلہ

  • ماہرین فلکیات کا ایک بہت بڑے سیارے میں دھماکا ہونے کا انکشاف

    ماہرین فلکیات کا ایک بہت بڑے سیارے میں دھماکا ہونے کا انکشاف

    ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ رات کے اندھیرے میں ستارے میں دھماکا ہو گا جسے انسانی آنکھ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین فلکیات کے مطابق متوقع دھماکے کے باعث آسمان پر روشنی ہوگی، جسے زمین سے بھی دیکھا جا سکے گا نووا نامی ستارہ رات کےاندھیرے میں شمالی کراؤن میں پھٹے گا، جس کے باعث رنگین روشنی پیدا ہوگی،جو کہ زمین پر موجود انسان بھی دیکھ سکیں گے، تاہم یہ روشنی کہاں کہاں دیکھی جا سکے گی، اس حوالے سے نہیں بتایا گیا ہے۔

    ناسا کے گاڈ ڈارڈ اسپیس فلائٹ سینٹر سے تعلق رکھنے والی ریبیکا ہاؤنسیل کا کہنا تھا کہ یہ زندگی میں ایک بار ہونے والا واقعہ ہے، مجھے یقین ہے کہ اس سے کئی دیگر اسٹرونامرز بھی سامنے آئیں گےستاروں میں ہونے والے دھماکوں کو ’ٹی کرونے بوریلس‘ کہا جاتا ہے جو کہ زمین سے 3 ہزار لائٹ ائیرز کی دوری پر واقع ہے جو کہ سفید مداروں میں سرخ روشنی کی طرح ہوتا ہے اس سرخ روشنی میں ہائیڈرو جن موجود ہوتا ہے، جو کہ باہر کی طرف نکلتا ہے، جس کے باعث تھرمو نیوکلئیر دھماکا ہوتا ہےآخری مرتبہ ستاروں میں دھماکا 1946 میں ہوا تھا، جبکہ دھماکے سے ایک سال قبل خلا میں غیر معمولی حرکت بھی دیکھی گئی تھی۔

    عمران خان نے کہا ملک کےساتھ زیادتی برداشت نہیں کریں گے،بیرسٹرگوہر

    اسٹروپارٹیکل فزیکس لیبارٹری کی سربراہ الزتبھ ہیس کہتی ہیں کہ عام طور پر نووا میں ہونے والے دھماکے خاص اور رنگین ہوتے ہیں تاہم یہ کافی دور فاصلے پر ہوتے ہیں،لیکن یہ کافی قریبی معلوم ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی آنکھیں اسے دیکھ پائیں گی، تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے۔

    حکومت فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے زراعت میں جدت کے لیے کوشاں ہے،شہباز …

  • سات ستارے دریا فت جن پر کوئی انتہائی ذہین مخلوق ہوسکتی ہے،ماہرین فلکیات کا دعویٰ

    سات ستارے دریا فت جن پر کوئی انتہائی ذہین مخلوق ہوسکتی ہے،ماہرین فلکیات کا دعویٰ

    ماہرین فلکیات کی جانب سے سات ستارے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے جن پر کوئی انتہائی ذہین مخلوق ہوسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی خبررساں ادارے ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ ہیفیسٹوز کے تحت دریافت ہونے ان ستاروں کی مدد سے ماہرین کو خلا میں کسی انتہائی ذہین مخلوق کی موجودگی کے حوالے سے تحقیق میں غیر معمولی حد تک مدد ملے گی، نئے ستاروں کی دریافت ٹیکنالوجیز سے متعلق انسان کی مہارت کو چیلنج کرنے والا عامل ہے اب ماہرین کو نئے سِرے سے کائنات کی تفہیم کے حوالے سے سوچنا پڑے گا۔

    اسلام آباد میں کرغزستان سفارتخانے کے باہر احتجاج،طلبا کو تحفظ کا مطالبہ

    خبر ایجنسی کے مطابق انسان خلا میں جس قدر آگے بڑھ رہا ہے،کسی انتہائی ذہین مخلوق کی موجودگی کے امکان کے حوالے سےتحقیق کا جوش و خروش بھی بڑھتا جارہا ہے،نئےستاروں کی دریافت ڈائسن اسفیئر میگا اسٹرکچرز کےتصور کی بنیاد پر ہوئی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ان میگا اسٹرکچرز کے ذریعے انتہائی ذہین خلائی مخلوق دوسرے ستاروں سے توانائی کشید کرتی ہے۔

    پسنی کے پہاڑی علاقے سے کروڑوں روپے مالیت کی 2 ہزار کلوگرام سے زائد چرس …

    واضح رہے کہ ڈائسن اسفیئر کا تصور طبعیات دان فریمین جے ڈائسن نے 1960 میں پیش کیا تھا، خلائے بسیط میں کسی مخلوق اور اُس کی شاندار ذہانت کی تلاش کے حوالے سے یہ ٹیکنوسفیئرز غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔

  • رواں سال کے مکمل پنک مون کا ملک بھرمیں  نظارہ

    رواں سال کے مکمل پنک مون کا ملک بھرمیں نظارہ

    کراچی:رواں سال کے مکمل پنک مون کا ملک بھرمیں نظارہ کیا گیا۔

    باگی ٹی وی : بدھ کی علی الصبح پاکستان کے وقت کے مطابق چار بجکر 49 منٹ پر پنک مون ہوا ، جو ملک بھر میں دیکھا گیا،گلابی چاند برطانیہ ، آئر لینڈ ، پرتگال ، مشرقی یورپ ، افریقہ، ایشیا اور آسٹریلیا میں بھی دیکھا گیا،پنک مون کے دوران افق پر سیارے مریخ اور زحل بھی دکھائی دئیے۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق پنک مون کے وقت زمین کا چاند سے فاصلہ انتہائی کم ہوتا ہے ، چاند ایک سفید بلب کی مانند روشن ہوتا ہے ، جسے بغیر کسی آلے یا کیمرے کے باآسانی دیکھا جا سکتا ہے ۔

    گلابی چاند کیوں کہا جاتا ہے؟

    ناسا کے مطابق، مین فارمرز المینیک نامی تنظیم نے 1930 کی دہائی میں پورے چاند کے لیے مقامی امریکی نام شائع کرنا شروع کیے اور یہ نام اب بڑے پیمانے پر جانے اور استعمال کیے جاتے ہیں، اپریل کے پورے چاند کو ”گلابی“ چاند کے نام سے جانا جاتا ہے، جس کا نام کائی جیسی جڑی بوٹی کے نام پر رکھا گیا ہے، جسے کریپنگ فلوکس، ماس فلوکس یا ماؤنٹین فلوکس بھی کہا جاتا ہے یہ مشرقی امریکہ کا ایک پودا ہے جو موسم بہار کے ابتدائی وسیع پھولوں میں سے ایک ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگرچہ چاند کا اس پھول سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اگر آسمان کا مطلع صاف ہو تو اس کی رنگت گلابی مائل نظر آ سکتی ہے یہ عمل عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب چاند افق کے قریب ہوتا ہے اور جب سورج کی روشنی چاند سے زمین کی طرف منعکس ہو کر فضا میں بادلوں، دھول، دھوئیں یا فضائی آلودگی کے ذریعے فلٹر ہو جاتی ہے، ’مون الیوژن“ نامی اثر کی وجہ سے چاند افق کے قریب بھی بڑا دکھائی دے سکتا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ اس چاند کے دیگر ناموں میں اگتی گھاس کا چاند، انڈے کا چاند، اور شمالی امریکہ کے ساحلی قبائل میں اسے مچھلی کا چاند بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب سایہ اوپر کی طرف تیرتا ہے۔

  • سعودی عرب میں آج چاند نظر  آنے کا امکان نہیں

    سعودی عرب میں آج چاند نظر آنے کا امکان نہیں

    ریاض: ماہرین فلکیات نے سعودی عرب میں آج چاند نظر نہ آنے کا امکان ظاہر کر دیا۔

    باغی ٹی وی ٌ: عرب میڈٰیا کے مطابق ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں عید الفطر بدھ کو ہونےکاامکان ہے، سعودی عرب میں آج شوال کا چاند نظر آنے کا امکان نہیں ہے۔

    واضح رہے کہ سعودی عرب میں شوال کا چاند دیکھنے کے لیے اجلاس آج ہوگا جس کیلئے سعودی عرب نے شہریوں سے آج 8 اپریل کو شوال کا چاند دیکھنے کی اپیل کررکھی ہے،اسی حوالے سے سعودی سپریم کورٹ نے ایک بیان جاری کیا جس میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چاند نظر آنے کی اطلاع دیں اور متعلقہ اتھارٹی کو مطلع کریں شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ عید کا چاند انسانی آنکھ سے یا دوربین کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد چاند نظر آنے کی اطلاع قریبی عدالت یا مرکز کو دی جانی چاہیےسعودی عرب میں شوال کے چاند کا باضابطہ اعلان سپریم کورٹ کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

    نواب اکبر بگٹی کی پُر اسرار شخصیت

    آئی ایم ایف کا سی پی پیز کیلئے گیس ٹیرف میں آر ایل این جی …

    سیالکوٹ:شہر گردونواح میں ڈاکو راج برقرار ،پولیس بے بس ہوگئی

  • دُنیا کے کئی ممالک میں جمعرات کو سُپربلیو مون کا نظارہ کیا جاسکے گا

    دُنیا کے کئی ممالک میں جمعرات کو سُپربلیو مون کا نظارہ کیا جاسکے گا

    سعودی عرب سمیت دُنیا کے کئی دیگر ممالک میں جمعرات 31 اگست کو سُپربلیو مون کا نظارہ کیاجائے گا۔

    باغی ٹی وی : ماہرین فلکیات کے مطابق ایسا نظارہ اگلی بار 9 سال بعد دیکھا جائے گا سعودی عرب سمیت دُنیا کے کئی دیگر ممالک میں جمعرات 31 اگست کو سُپربلیو مون کا نظارہ کیاجائے گا اس روزچاند زمین کے قریب ترین ہوگا رواں ماہ سُپرمون کے نظارے کا یہ دوسرا موقع ہے، اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں بھی سپرمون دیکھا جاچکا ہے۔

    سعودی ماہرین فلکیات کے مطابق چاند زمین کے زیادہ قریب ہونے پرمعمول سے کہیں زیادہ بڑا اورروشن نظرآتا ہے اوراسی لیے اسے سپر مون کہا جاتا ہے،اگرچہ اگست کےآغاز میں سعودی عرب سمیت مختلف ممالک میں سُپرمون کا نظارہ کیاگیا اور جمعرات کو بھی دیکھا جائے گا مگر یہ سُپربلیو مون کہلائے گا۔

    15 سالہ لڑکی نے گھریلو ناچاقی پر اپنے والد کو زندہ جلا کر مار دیا

    سپربلیو مون سے مراد چاند کا نیلا رنگ نہیں بلکہ ایک اصطلاح ہے جو کسی بھی انگریزی ماہ میں دوسری بار دکھائی دینے والے چودہویں کے چاند کیلئے استعمال کی جاتی ہےاس سُپربلیو مون کو اگلی بار 2032 میں دیکھا جاسکے گا۔

    قبل ازیں ماہر فلکیات ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ رواں ماہ کے اختتام پر 30 اگست کو بھی ہوگا جس کے دوران چاند کا حجم بڑا دکھائی دے گا جبکہ وہ زیادہ روشن بھی نظرآئے گا ایک ماہ میں دوسری بار ہونے والے فل مون کو بلیو مون کا نام دیا جاتا ہے۔

    سعودی عرب کا لڑاکا طیارہ تربیتی مشن کے دوران گر کر تباہ

  • ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    ماہرین فلکیات کا پہلی بار ستارے کو نگلتے ہوئے سیارے کا مشاہدہ کرنے کا دعویٰ

    ماہرین فلکیات نے پہلی مرتبہ کسی ستارے کے سیارہ نگلنے کے واقعے کے مشاہدہ کرنے کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی: امریکی خبررساں ادارے ” سی این این” کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی، میساچیوسٹس اور کیلی فورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلی مرتبہ کسی مرتے ہوئے ستارے کے جوپیٹرسےبڑی جسامت رکھنےوالےسیارے کو نگلنے کا مشاہدہ کیا گیا ہے اس سے قبل صرف سیاروں کے ستاروں میں ضم (Engulfed) ہونے سے قبل یا بعد کے واقعات کا مشاہدہ کیا گیا تھا۔

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    بدھ کوجریدے نیچر میں شائع تحقیق میں ماہرین کی ٹیم کے سربراہ اور میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پوسٹ ڈاکٹورل محقق ڈاکٹر کشالے ڈی کا کہنا تھا کہ یہ حقائق تو ہمیں ہائی اسکول سے ہی پڑھائے جاتے ہیں کہ سولر سسٹم میں موجود تمام سیارے آخر کار سورج میں شامل ہو کر ختم ہو جائیں گے اور ہمارے لیے اس بات پر یقین کرنا تھوڑا مشکل ہوتا تھا لیکن اب ہمیں اس سے ملتی جلتی ایک مثال مل گئی ہے۔

    یہ عمل ایک ستارہ کو اس کے اصل سائز سے دس لاکھ گنا زیادہ دیکھتا ہے کیونکہ اس کا ایندھن ختم ہوجاتا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی چیز کو لپیٹ میں لے لیا جاتا ہے۔ ماہرین فلکیات نے اس کا مشاہدہ ایک سفید گرم فلیش کے طور پر کیا، اس کے بعد ایک طویل عرصے تک چلنے والا کمزور سگنل، جس کا بعد میں انہوں نے اندازہ لگایا کہ یہ ستارہ کسی سیارے کو گھیرنے کی وجہ سے تھا۔

    چاند کی مٹی سے آکسیجن حاصل کرنا ممکن ہے،ناسا


    کشالے ڈی نے بتایا کہ "ایک رات، میں نے ایک ستارے کو دیکھا جو ایک ہفتے کے دوران 100 کے فیکٹر سے چمک رہا تھا یہ کسی بھی شاندار دھماکے کے برعکس تھا جو میں نے اپنی زندگی میں دیکھا تھا اور ایک ہفتے تک میں اس چمکتی چیز کو دیکھتا رہا، مجھے لگا کہ میں نے اپنی زندگی ستاروں کے پھٹنے کا کوئی عمل دیکھ لیا ہے لیکن وہ جب ہم نے سنگلز کو دیکھا تو یہ دراصل ایک ستارے کے سیارہ نگلنے کا منظر تھا۔

    مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے،اے آئی کے گاڈ فادر نے خبردار …

    ڈاکٹر کشالے کا کہنا تھا کہ پالومر آبزرویٹری کے انفراریڈ کیمرا کے استعمال سے قبل انہیں کیلی فورنیا کی آبزرویٹری سے ڈیٹا موصول ہوا ، بعد ازاں انہوں اسی ستارے سے متعلق ہوائی کی آبزرویٹری سے ڈیٹا تلاش کیا اور پھر انفراریڈ کیمرا کے استعمال سے اس بارے میں مزید معلومات جمع کرنا شروع کی۔

    انہوں نے بتایا کہ انفراریڈ کیمروں سے ملنے والے معلومات نے مجھے چونکا دیا تھا، کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ دراصل یہ ریڈنگز ایک سیارے کے ستارے میں ضم ہو جانے کی تھیں ڈیٹا کے تجزیے کیلئے ہم نے ناسا کے انفراریڈ ٹیلی اسکوپ نیووائس (NEOWISE) کا ڈیٹا دیکھا جس اور واضح ہو گیا کہ دراصل ستارہ ایک سیارے کو نگل رہا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ جسامت میں جوپیٹر سے بڑے سیارے کی موت کا واقعہ تقریباً 12000 نوری سالوں کی دوری پر اکوئیلا کونسٹیلیشن میں پیش آیا تھا،اور اس میں مشتری کے سائز کا ایک سیارہ شامل تھا اس واقعے کا مشاہدہ مئی 2020 میں کیا گیا تھا تاہم جو کچھ ہم نے دیکھا اسے سمجھنے اور اس کی حقیقت کھوجنے میں ہمیں دو سال لگ گئے۔

    واٹس ایپ کا نیا فیچر، صارفین اپنا ایک ہی اکاؤنٹ مختلف فونز میں استعمال کرسکیں …

    ڈی نے کہا کہ ثبوت کے اہم ٹکڑوں میں سے ایک جسے ہم سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہ دھماکے سے پہلے اور اس کے بعد میں دھول پیدا ہو رہی تھی تاہم، گیس کو ٹھنڈا ہونے اور دھول کے مالیکیول کو گاڑھا ہونے میں وقت لگتا ہے اس کا مطلب یہ تھا کہ ٹیم کو دھول کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے انتظار کرنا پڑا-

    ان کا کہنا تھا کہ تاریخی اعتبار سے اس طرح کا انفراریڈ ڈیٹا ملنا بہت ہی مشکل ہوتا تھا کیونکہ انفراریڈ ڈٹیکٹرز کافی مہنگے ہوتے ہیں اور ان سے بار بار آسمان کی تصویریں بنانے والے بڑے کیمرے بنانا بہت ہی مشکل کام ہوتا ہے لیکن اب ہمارے پاس یہ ڈیٹا موجود ہے اور ہم مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات کا مشاہدہ کر سکیں گےہمارے سیارے زمین کا بھی یہی مقدر ہےاور اگلے 5 ارب سال بعد ہمارا سورج زمین کو نگل جائے گا۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

  • 5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    5 مئی کو "سائے کی طرح کا”جزوی چاند گرہن دیکھا جاسکے گا، سعودی ماہر فلکیات

    ماہرین فلکیات کے مطابق سعودی عرب کے آسمان پر سائے کی طرح کا چاند گرہن نظر آئے گا۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق اس بارایک ایسا چاند گرہن نظرآنے والا ہے جس کیلئے علماء کرام نے کسی قسم کی نماز کی ادائیگی نہ کرنے کا فتویٰ دے دیا جمعہ 5 مئی کی شام سعودی عرب کے آسمان پر سائے کی طرح کا چاند گرہن نظرآئے گایہ مخصوص چاند گرہن ان اقسام میں سے ایک ہے جس کے دوران زمین کا سایہ ہوتا تو ہے لیکن وہ چاند پر نہیں پڑتا تاہم سورج کی روشنی کا کچھ حصہ چاند کی سطح کو روشن نہیں کرتا اور اس طرح چاند معمول سے 10 فیصد کم روشن دکھائی دیتا ہے۔

    منڈی بہاوالدین میں منکی پاکس کیس رپورٹ

    یہ چاند گرہن کی ان اقسام میں سے ایک ہے جس کے دوران زمین کا سایہ ہوتا ہے تاہم وہ چاند پر نہیں پڑتا لیکن سورج کی روشنی کا کچھ حصہ چاند کی سطح کو روشن نہیں کرتا اس طرح چاند معمول سے 10 فیصد کم روشن ہوتا ہے نیم سایہ پر مبنی چاند گرہن کو لوگ واضح طور پر محسوس نہیں کرتے اور اس کے آغاز اور اس کے اختتام میں فرق بھی نہیں کرسکتے۔

    وزارت مذہبی امورکی عازمین حج سے آب زم زم کی مد میں اضافی پیسے وصول …

    جمعہ کو چاند گرہن 4 گھنٹے اور 17 منٹ تک جاری رہے گا۔ گرہن جمعہ کی شام 6 بج کر 14 منٹ پر شروع ہوگا، 8 بج کر 24 منٹ پر عروج پر پہنچے گا اور رات 10 بج کر 31 منٹ پر ختم ہوگا۔

  • شوال کاچاند دیکھنےکیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    شوال کاچاند دیکھنےکیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    شوال کاچاند دیکھنے کے لئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 20 اپریل کو طلب کر لیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس وزارت مذہبی امور اسلام آباد میں ہوگا، زونل کمیٹیوں کے اجلاس ملک بھر میں مقررہ مقاما ت پر ہوں گے،اعلامیہ کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے۔

    لانچ سے چند منٹ قبل انسانی تاریخ کے سب سےطاقتورراکٹ کی پروازملتوی

    واضح رہے ماہرین فلکیات کی پیشگوئی کے مطابق پاکستان میں عیدالفطر بروز ہفتہ 22 اپریل کو ہو گی، حتمی اعلان چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد 20 تاریخ کی شب کریں گے۔

    دوسری جانب سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کےماہرینِ فلکیات کے مطابق شوال کاچاند جمعرات کو نظر نہ آنے کا کم امکان ہے جدہ فلکیاتی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ماجد ابو زہرہ نے بتایا کہ تکنیکی طور پر چاند جمعرات کی شام کو آسمان پر نظر آئے گا لیکن یہ سورج کی شعاعوں سے روشن نہیں ہوگا اورخصوصی آلات کے بغیر دیکھنا مشکل ہوگا۔

    امیرکے ولی عہد کا قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان،الیکشن کرانے کا فیصلہ

    سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق ابوزہرہ نے مزید کہا کہ اگر آسمان صاف ہو تو چاند کوکھلی آنکھوں سے دیکھنا بہت آسان ہو جائے گا تاہم اگر جمعرات کو چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوتی ہیں اورانھیں تسلیم کر لیا جاتا ہے تو حکام جمعہ کو عیدا لفطرکا آغاز قرار دے سکتے ہیں۔