Baaghi TV

Tag: ماہرین

  • پودے سخت گرمی میں فوٹوسینتھسیز کا عمل کیسے محفوظ رکھتے ہیں،سعودی ماہرین کی نئی تحقیق

    پودے سخت گرمی میں فوٹوسینتھسیز کا عمل کیسے محفوظ رکھتے ہیں،سعودی ماہرین کی نئی تحقیق

    سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) کے سائنس دانوں نے پودوں کے اندر موجود ایک ایسے حفاظتی طریقہ کار کا پتا لگایا ہے جو انہیں شدید گرمی کے دوران سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے، اس دریافت سے سائنس دانوں کو ایسے نئے زرعی فصلوں کے بیج تیار کرنے میں مدد ملے گی جو شدید گرم اور خشک موسم میں برداشت کی صلاحیت رکھتے ہیں-

    یہ تحقیق KAUST کی اسسٹنٹ پروفیسر مونیکا خوداشیوچز کی قیادت میں کی گئی، جس کے نتائج سائنسی جریدے ’Plant Physiology‘ میں شائع ہوئے ہیں تحقیق کے مطابق جب پودے سخت گرمی کا سامنا کرتے ہیں تو ان کے خلیوں میں موجود ایک خاص پروٹین عارضی ڈھانچے بنا لیتا ہے، جو پودے کے اہم حصے کلوروپلاسٹ کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، کلوروپلاسٹ وہ حصہ ہے جہاں فوٹوسنتھیسز کا عمل ہوتا ہے، یعنی پودا سورج کی روشنی کو اپنی نشوونما کے لیے توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق دریافت کیا گیا پروٹین، جسے ’پروٹوکلوروفیلائیڈ آکسیڈوریڈکٹیز‘ کہا جاتا ہے، گرمی کے دباؤ کے وقت اپنا مقام اور طریقہ کار تبدیل کر لیتا ہے اس طرح پودا نئے پروٹین بنانے کے انتظار کے بجائے پہلے سے موجود نظام کو استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر خود کو محفوظ بناتا ہے جن پودوں میں یہ پروٹین موجود نہیں تھا وہ زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے میں مشکلات کا شکار رہے، جبکہ اس پروٹین والے پودے گرمی کے بعد زیادہ تیزی سے بحال ہوگئے۔

    جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو کلوروفل پیدا کرنے والا پروٹین (protochlorophyllide oxidoreductase) چھوٹے، قابلِ ریورس (reversible) قطروں کی شکل اختیار کر لیتا ہے یہ گرینولز شدید گرمی کے دباؤ سے پودے کو بچاتے ہیں اور اس کی سورج کی روشنی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کو بحال رکھتے ہیں-

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت خاص طور پر سعودی عرب جیسے خشک اور گرم علاقوں کے لیے اہم ہوسکتی ہے، جہاں درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی کمی اور زمین کی خرا ب ہوتی کیفیت فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے ماہرین اب یہ جانچ رہے ہیں کہ کیا یہی حفاظتی نظام دیگر فصلوں میں بھی موجود ہے اور کیا اسے بہتر بنا کر ایسی فصلیں تیار کی جاسکتی ہیں جو سخت موسمی حالات میں بھی بہتر پیداوار دے سکیں،یہ تحقیق اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتا ہوا درجہ حرارت زرعی پیداوار کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہےیہ پیش رفت مستقبل میں غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی کوششوں میں مدد دے سکتی ہے۔

  • 5 ہزار 3 سو سال پرانی لاش میں سائنسی دریافت نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا

    5 ہزار 3 سو سال پرانی لاش میں سائنسی دریافت نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا

    اٹلی کے برفانی پہاڑوں سے ملنے والی 5 ہزار 3 سو سال پرانی مشہور ترین ممی ”اوٹزی دی آئس مین“ کے بارے میں ایک ایسی سائنسی دریافت ہوئی ہے جس نے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

    تحقیق کے مطابق اوٹزی کے جسم میں موجود بعض قدیم آنتوں کے بیکٹیریا اور سرد ماحول میں زندہ رہنے والی خمیر کی اقسام اب بھی حیاتیاتی سرگرمیاں انجام دے رہی ہیں یہ انکشاف سائنسی جریدے ”مائیکروبایوم“ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے، تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس قدیم ممی کے اندر موجود خردبینی جاندار نہ صرف اب تک زندہ ہے بلکہ وہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ خود کو بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔

    اوٹزی کی ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے اسے منفی 6 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت والے خصوصی فریزر میں رکھا گیا تھا تاکہ وقت کے اثرات کو تقریباً روک دیا جائے تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ممی کے اندر موجود بعض جراثیم نہ صرف زندہ ہیں بلکہ وقت کے ساتھ خود کو ماحول کے مطابق ڈھال بھی رہے ہیں۔

    اٹلی کے یوراک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے محقق محمد سرحان اور ان کی ٹیم نے ممی کی جلد، اندرونی بافتوں اور پگھلے ہوئے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا اس تحقیق کے دوران انہیں ایک ایسا قدیم حیاتیاتی نظام ملا جو ہزاروں سال پہلے انسانی جسم میں موجود جرثوموں کی دنیا کے بارے میں نئی معلوما ت فراہم کرتا ہے اوٹزی کی آنتوں میں موجود فعال بیکٹیریا اس کی آخری خوراک کے آثار سے مطابقت رکھتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اس کی آخری غذا میں چکنائی سے بھرپور جنگلی جانوروں کا گوشت، قدیم اناج اور ایک زہریلا فرن پودا شامل تھا۔

    ماہرین نے کچھ نایاب بیکٹیریا بھی دریافت کیے جن میں رومبوٹسیا ہومینس اور کلوسٹریڈیم مونیلیفارم شامل ہیں محققین کا کہنا ہے کہ یہ جراثیم جدید شہری آبادیو ں میں تقریباً ختم ہو چکے ہیں، تاہم افریقہ اور جنوبی امریکہ کے بعض دور دراز قبائلی معاشروں میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔

    تحقیق کا سب سے حیران کن پہلو خمیر کی بعض اقسام سے متعلق ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ نو برسوں کے دوران ان خمیری جراثیم کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے یہ جراثیم ان فینول پر مبنی جراثیم کش کیمیکلز کو استعمال کرکے زندہ رہنے کی صلاحیت حاصل کر چکے ہیں جو ممی کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    اس دریافت نے قدیم آثار کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں اگر ہزاروں سال پرانے جراثیم انتہائی سرد ماحول میں زندہ رہ سکتے ہیں اور جدید جراثیم کش مادوں کو بھی استعمال کر سکتے ہیں تو پھر دنیا بھر کے عجائب گھروں میں موجود ممی کو اندر سے نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

    اگرچہ اوٹزی کے قاتل کی شناخت آج بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے، لیکن اس کے جسم میں موجود زندہ مائیکروبایوم سائنسدانوں کو انسانی صحت، بیماریوں اور جراثیمی ارتقا کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک نادر موقع فراہم کر رہا ہے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں انسانی جسم اور اس میں رہنے والے جراثیم کے تعلق کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے لا سکتی ہے۔

  • موہنجوداڑو سے دریافت مہر  پر تاریخ دانوں اور ماہرین کی رائے نے بھارت میں تنازع کھڑا کر دیا

    موہنجوداڑو سے دریافت مہر پر تاریخ دانوں اور ماہرین کی رائے نے بھارت میں تنازع کھڑا کر دیا

    موہنجوداڑو سے دریافت کی گئی تقریباً تینتالیس سو سال پرانی مہر کے حوالے سے تاریخ دانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ مہر پر موجود تصویر شیوا کی نہیں ہے،جس نے بھارت میں نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے-

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ہندوستان کی وزارتِ ثقافت نے انٹرنیٹ پر اس مہر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے بھارت کی قدیم اور مسلسل تہذیب کی علامت قرار دیا اور مہر پر موجود شکل کو شیوا پشوپتی یعنی ہندو دیوتا شیو کی ابتدائی شکل قرار دیا۔

    اس دعوے کے سامنے آتے ہی امریکا کی ایک معروف خاتون تاریخ دان آڈری ٹروشکے نے اس پر اعتراض اٹھا دیا انہوں نے کہا کہ یہ تصویر شیو کی نہیں ہے بلکہ یہ پرانے زمانے کے ایران کی ایک قدیم تہذیب کے فن اور علامات سے ملتی جلتی ہے یہ تصویر پورے یورپ اور ایشیا کے خطے میں مانے جانے والے کسی ایسے قدیم دیوتا کی ہو سکتی ہے جسے جانوروں کا مالک سمجھا جاتا تھا۔

    ان کے اس بیان نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے اور لوگ اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ برصغیر کی قدیم تاریخ کو کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے ہندوستا ن کے بہت سے ادیبوں اور تاریخ دانوں نے آڈری ٹروشکے کے اس خیال کو مسترد کر دیا کہا کہ وہ مقامی تاریخ کو نظر انداز کر رہی ہیں۔

    مثال کے طور پر مشہور مصنف امیش تریپاٹھی کا کہنا ہے کہ اس مہر پر ہاتھی، بھینس اور گینڈے جیسے جانور بنے ہوئے ہیں جو کہ ہندوستان ہی میں پائے جات ے ہیں، جبکہ ایران کے ان علاقوں میں یہ جانور نہیں ہوتے تھے انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مہر پر موجود شکل یوگا کے انداز میں بیٹھی ہے، تو کیا یوگا بھی ایران سے آیا تھا؟ اسی طرح ایک اور پروفیسر لاونیا ویمسانی نے کہا کہ ایرانی تہذیب کی مہریں اس مہر سے بالکل مختلف ہیں اور ان میں ایک فیصد بھی مماثلت نہیں ہے۔

    دوسری طرف کچھ ایسے تاریخ دان بھی ہیں جو آڈری ٹروشکے کی بات سے اتفاق کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس مہر کو شیو سے جوڑنے کا نظریہ بہت پرانا ہو چکا ہے اور اس کے حق میں کوئی پختہ ثبوت نہیں ہیں 1920 کی دہائی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ جان مارشل نے پہلی بار اسے شیو کی ابتدائی شکل کہا تھا، لیکن وہ کوئی باقاعدہ تربیت یافتہ ماہر نہیں تھے اور انہوں نے صرف اندازے سے یہ بات کہی تھی مہر پر موجود شکل کے سر پر جو چیز ہے وہ شیو کا تریشول نہیں بلکہ بھینس کے سینگ ہیں، اور یہ تصویر کسی مقامی جادوگر یا کسی اور قدیم عقیدے کی ہو سکتی ہے۔

    اس مہر کے بارے میں مشہور مصنف دیودت پٹنائک کا ایک الگ ہی نظریہ ہے وہ کہتے ہیں کہ اب زیادہ تر ماہرین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس کا شیو سے کوئی تعلق نہیں ہے، حالانکہ عام کتابوں میں اب بھی یہی لکھا جاتا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ اس مہر کے دو ورژن ہیں، ایک دلی میں ہے اور دوسرا اسلام آباد میں۔

    ان کے مطابق مہر پر موجود شکل کے سینگ بنے ہوئے ہیں جو عام طور پر شیو کی تصویروں میں نہیں ہوتے، البتہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ اس شکل کے بیٹھنے کا انداز بالکل یوگا کے ایک خاص آسن جیسا ہی ہے لندن کی یونیورسٹی سے وابستہ ایک نارویجن محقق الیگزینڈر اینجسکاگ نے بھی اپنی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مہر کا شیو، یوگا یا ہندو مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    یہ بحث اب صرف پرانی تاریخ اور آثارِ قدیمہ تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سیاسی رنگ بھی اختیار کر چکی ہے وزارتِ ثقافت اور ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ مہر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ ہندو روایات اور یوگا کا سلسلہ ہزاروں سال پرانی وادیٔ سندھ کی تہذیب سے جڑا ہوا ہے جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ وادیٔ سندھ کی لکھائی کو آج تک کوئی پڑھ نہیں سکا ہے، اس لیے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے بعد کے دور کے مذہبی عقائد کو اتنی پرانی تہذیب پر زبرد ستی تھوپنا درست نہیں ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ دریافت کے سو سال بعد بھی موہنجوداڑو کی یہ مہر ایک ایسا معمہ بنی ہوئی ہے جس کی حقیقت اب بھی الگ الگ نظریات کے پردوں میں چھپی ہے۔

  • انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    سائنسدان یہ جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ انٹارکٹیکا کی سرزمین میں برف کی موٹی تہوں کے نیچے کون سے حیران کن راز پوشیدہ ہیں۔

    ماہرین نے برف سے ڈھکے اس براعظم سے متعلق ایسی غیر معمولی تفصیلات پیش کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی انٹارکٹیکا میں جمی ہوئی کئی کلومیٹر موٹی برف اب تک سائنس دانوں کے لیے اس کی اصل زمینی ساخت کو جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی تاہم جدید نقشہ سازی کی انتہائی اعلیٰ تکنیک کے استعمال سے یہ مشکل بڑی حد تک حل کر لی گئی ہے۔

    تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، جدید ریڈار سسٹمز اور انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کے سرکنے کی طبیعیات کو استعمال کیا گیا ہے تحقیق کے نتائج کے مطابق انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے ہزاروں بلند و بالا چوٹیاں، وسیع و عریض وادیاں اور گہری، تنگ گھاٹیاں دفن ہیں انکشاف ہونے والی یہ جغرافیائی ساخت بڑے پہاڑی سلسلوں، پیچیدہ زمینی نشیب و فراز اور وسیع وادیوں پر مشتمل ہے جو اس خطے سے متعلق اب تک کی سب سے حیران کن اور جامع دریافت سمجھی جا رہی ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ معلومات نہ صرف انٹارکٹیکا کی جغرافیائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی بلکہ مستقبل میں برفانی چادروں کے پگھلاؤ اور عالمی سطح سمندر میں ممکنہ اضافے کی پیشگوئی کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوں گی۔

  • پاکستان میں سپر مون کا چند منٹ بعد آغاز

    پاکستان میں سپر مون کا چند منٹ بعد آغاز

    سالِ نو کا پہلا سُپر مون آج رات ہوگا، پورا چاند آسمان پر معمول سے بڑا اور زیادہ چمکدار دکھائی دے گا۔

    پاکستان میں سپر مون کا آغاز شام 5 بجکر 51 منٹ ہوگا۔ سپارکو کے مطابق سپرمون چاند کے مقابلے میں تقریباً 6 سے 7 فیصد بڑا دکھائی دے گا یہ روایتی طور پر وولف مون کہلاتا ہے فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس کا سب سے خوبصورت منظر چاند کے طلوع کے وقت رات کے ابتدائی حصے میں دیکھا جا سکے گا یہ اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والے سپر مون سلسلے کا آخری سپر مون ہوگا۔

    سائنس دانوں کے مطابق سپر مون اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب چاند زمین کے عام فاصلے کے مقابلے میں زیادہ قریب آ جاتا ہے، اس قربت کے باعث چاند معمول سے زیادہ بڑا ا اور روشن نظر آتا ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان نے ’کراچی بچاؤ مہم‘ کا اعلان کردیا

    16 سالہ طالبہ سے جنسی زیادتی،حنا پرویز بٹ کا متاثرہ طالبہ کے گھر کا دورہ

    لاہور موسم کی خرابی اور دھند کے باعث پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر

  • ماہرینِ کا  گوشت اور چٹ پٹے پکوانوں پر ہاتھ ہلکا رکھنے کا مشورہ

    ماہرینِ کا گوشت اور چٹ پٹے پکوانوں پر ہاتھ ہلکا رکھنے کا مشورہ

    آج ملک بھر میں عید الاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جارہی ہے۔

    ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ عید کی دعوتیں اُڑائیں ، لیکن اعتدال کا دامن نہ چھوڑیں، گوشت اور چٹ پٹے پکوانوں پر ہاتھ ہلکا رکھیں، گرم موسم میں زیادہ گوشت کھانے سے بدہضمی ہوسکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق عید الاضحیٰ کے فوراً بعد گیسٹرو کے کیسز میں بےحد اضافہ دیکھا جاتا ہے، اگر گوشت صحیح طریقے سے پکا ہوا نہ ہو تو پیٹ اور آنتوں کے مسائل بڑھ جاتے ہیں، ماہرین نے امراضِ قلب، ذیابطیس اور دیگر امراض کے شکار لوگوں کو خاص احتیاط کی ہدایت دیتے ہوئے ہاضمے کو بہتر بنانے کےلیے پھل، ادرک اور گُڑ کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔

    قربانی کے جانوروں کی 70 لاکھ کھالیں جمع ہونے کا امکان

    غزہ پر عید کے روز بھی اسرائیلی بمباری،مزید 42 فلسطینی شہید

    بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید اور سفارتی سبکی کے بعدمودی کو جی 7 اجلاس کا دعوت نامہ مل گیا

  • امریکی شہر مینہیٹن جتنی  خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی

    امریکی شہر مینہیٹن جتنی خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی

    12 جنوری بروز اتوار کو ایک ایسا نایاب واقعہ رونما ہوگا جو 10 سالوں میں صرف ایک بار ہوتا ہے، جس کا مشاہدہ گھر سے عام ستاروں کی دوربین یا لائیو اسٹریم میں کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے مطابق ایک انتہائی بڑے پہاڑ جتنی خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی، ایلنڈا نامی سیارچہ 4.2 کلومیٹر چوڑا ہے اور اس کی چوڑائی تقریباً امریکی شہر مینہیٹن جتنی ہے خلائی چٹان کو زمین کے قریب ترین فاصلے تک آنے میں کئی دہائیاں لگیں ہیں یہ فاصلہ دنیا سے 7.6 ملین میل کا، یعنی زمین اور چاند کے درمیان اوسط فاصلے سے تقریباً 32 گنا زیادہ ہے-

    ایلون مسک کے اقدامات امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،معروف سوانح نگار کا دعویٰ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ممکن ہے کہ ایسے سیارچوں کو 2087 تک زمین کے قریب قریب نہیں دیکھا جاسکے گایہ بڑا سیارچہ زمین سے ٹکرانے کی صورت میں بڑے پیمانے پر جانداروں کی معدومیت کا باعث بن سکتا ہے، اس کا بڑا سائز اسے ستاروں کی دنیا میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے ایک دلچسپ آبجیکٹ بناتا ہے۔

    ایلون مسک کے اقدامات امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،معروف سوانح نگار کا دعویٰ

    اتوار کو ایلنڈا 9.4 کی شدت سے چمک پیدا کرے گایہ اتنا روشن نہیں ہے کہ اسے براہ راست آنکھ سے دیکھا جا سکے لیکن یہ اتنا روشن ہے کہ خلا کیلئے مخصوص دوربینوں کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔

    زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.381 ارب ڈالر کا اضافہ

  • رواں سال رونما ہونے والے 6 نایاب فلکیاتی مظاہر

    رواں سال رونما ہونے والے 6 نایاب فلکیاتی مظاہر

    فلکیاتی ماہرین کے مطابق سال 2025 میں نظام شمسی کی گردش کے نتیجے میں کچھ نایاب فلکیاتی مظاہر نمودار ہونے والے ہیں۔

    باغی ٹی وی: فلکیاتی ماہرین کے مطابق جنوری میں آپ نظام شمسی میں ایک تبدیلی کا مشاہدہ کریں گے جب سورج کے گرد گھومنے والے چھ سیارے جنوری کے وسط میں ایک قطار میں آ کر ایک قوس سی بنا لیں گے جسے آپ 21 جنوری سے چار ہفتوں کے لیے دیکھ سکیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو، اس پر بادل یا گرد و غبار نہ ہو چند روز بعد فروری میں ساتواں سیارہ مرکری بھی اس قوس میں شامل ہو جائے گا۔

    فلکیاتی سائنس کی تنظیم ”Planetary Society“ کے سربراہ بروس بیٹ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، کیونکہ عام حالات میں انہیں دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اسٹار لنک سروس کی یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پروازوں میں موسم بہار تک لانچ متوقع

    سورج گرہن

    فلکیاتی ماہرین کے مطابق رواں سال دو سورج گرہن ہوں گے، لیکن ویسا مکمل سورج گرہن نہیں ہو گا جو پچھلے سال اپریل میں دنیا کی کچھ حصے میں نظر آیا تھا اور روشن دن کچھ دیر کے لیے تاریک ہوگیا تھاپہلا گرہن 29 مارچ کو ہو گا جو یورپ، ایشیا، افریقہ، شمالی اور جنوبی امریکہ میں دیکھا جا سکے گایہ جزوی گرہن ہو گا جبکہ دوسرا گرہن 21 ستمبر کو ہو گا جو آسٹریلیا، انٹارکٹیکا، بحرالکاہل اور بحر اوقیانو س کے علاقوں میں دیکھا جا سکے گا یہ گرہن بھی جزوی ہو گا۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق مکمل سورج گرہن دیکھنے کے لیے آپ کو اگلے سال کا انتظار کرنا پڑے گا، جو 12 اگست 2026 میں روس، گرین لینڈ، اسپین اور پرتگال کے کچھ حصوں میں دکھائی دے گا مکمل سورج گرہن کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ 2 منٹ اور 18 سیکنڈ ہو گا۔

    سعود نے لالی ووڈ کی تباہی کا ذمہ دار 2 بڑی شخصیات کو ٹھہرا دیا

    چاند گرہن

    14 مارچ کو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے مکمل چاند گرہن ہوگا جسے شمالی اور جنوبی امریکہ، یورپ، سربیا اور شمال مغربی ایشیا میں دیکھا جا سکے گااس سال آپ کو زیادہ روشن اور زیادہ بڑا چاند یعنی ”سُپر مون“ دیکھنے کے تین مواقع ملیں گے آپ کو یہ نظارہ سال کے آخری تین مہینوں یعنی اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں ملے گا۔

    قطبین کی روشنیاں

    شمالی اور جنوبی قطب کے قریب رہنے والوں کو رات کے وقت آسمان پر مختلف رنگوں کی روشنیاں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کچھ لوگ تو یہ نظارہ دیکھنے کے لیے دور دراز سے ان علاقوں کا سفر کرتے ہیں، قطبی روشنیوں کا تعلق سورج پر آنے والے طوفانوں سے ہے شمسی طوفان کے نتیجے میں بڑی مقدار میں برقی ذرات خارج ہوتے ہیں اور زمین کے قطبی علاقے میں مقناطیسی لہروں کو متاثر کرتے ہیں جس سے وہاں کی فضا میں موجود نائٹروجن اور آکسیجن کے ایٹم برقی ذرات خارج کرتے ہیں جو ہمیں مختلف رنگوں کی روشنیوں کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔

    بھارت نےٹیسٹ کرکٹ کو اپنے ہاتھوں میں لینے کا منصوبہ بنا لیا

    فلکیاتی سائنس دانوں کا کہنا ہے سورج اپنے 11 سالہ طوفانی دور سے گزر رہا ہے اور اس سال سورج سے برقی ذرات کا اخراج نمایاں طور پر زیادہ ہو گا، اس لیے یہ سال قطبی روشنیوں کے زیادہ دلفریب مناظر فراہم کرے گا۔

    شہابیوں کی بارش

    شہابیے خلا میں گردش کرتی ہوئی چھوٹی بڑی چٹانیں ہوتی ہیں، جب وہ زمین کے قریب پہنچتی ہیں تو زمین کی کشش انہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہے لیکن زمین کی فضا سے گزرتے ہوئے وہ ہوا کی رگڑ سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، ہمیں روشنی کی لکیر اسی وقت دکھائی دیتی ہے جب وہ جل کر راکھ ہو رہے ہوتے ہیں، خلا میں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں لا محدود تعداد میں شہابیے موجود ہیں جب زمین سورج کے گرد گردش کے دوران وہاں سے گزرتی ہے تو شہابیوں کی ایک بڑی تعداد زمین کی طرف لپکتی ہے، جو رات کی تاریکی میں آسمان پر روشنیوں کی بارش کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

    فلکیاتی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سال اگست اور دسمبر میں شہابیوں کی بارش اپنے عروج پر ہو گی، رات تاریک اور آسمان صاف ہوا تو آپ اس کا نظارہ کر سکتے ہیں۔

    بچے کے ولادت، پیٹ کمنز دورہ سری لنکا نہیں جائیں گے

  • امریکی سرجن جنرل کا شراب اور کینسر کے درمیان تعلق پر تشویش کا اظہار

    امریکی سرجن جنرل کا شراب اور کینسر کے درمیان تعلق پر تشویش کا اظہار

    امریکی سرجن جنرل، ڈاکٹر ویوک مرتی نے ایک ایڈوائزری جاری کی جس میں امریکیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ شراب پینے سے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور اس پر صحت کے انتباہی لیبل کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    سرجن جنرل کی ایڈوائزریز عام طور پر صحت کے خطرات کے بارے میں واضح پیغامات دینے کے لیے جاری کی جاتی ہیں اور یہ کم ہی جاری کی جاتی ہیں، کیونکہ یہ مسائل جنہیں فوری طور پر عوامی آگاہی اور کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے، ان پر ہی ان ایڈوائزریز کا اطلاق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، 1964 میں سگریٹ نوشی پر سرجن جنرل کی رپورٹ نے سگریٹ کو بے ضرر سمجھنے کے رویے میں تبدیلی کی تھی۔

    نئی ایڈوائزری شراب کے بارے میں اس طویل عرصے سے موجود سوچ کو چیلنج کرتی ہے کہ شراب صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ شراب کوئی نقصان دہ نہیں بلکہ ایک خطرناک عادت ہے۔ڈاکٹر مرتی نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ "شراب ایک ثابت شدہ اور قابلِ روک تھام کینسر کا سبب ہے ،جو ہر سال امریکہ میں تقریباً 1 لاکھ کیسز اور 20 ہزار کینسر کی اموات کا باعث بنتا ہے ، لیکن اس خطرے سے آگاہی رکھنے والے امریکیوں کی تعداد بہت کم ہے۔”امریکہ میں تقریباً 70 فیصد لوگ شراب پیتے ہیں اور اس بات پر شدید الجھن کا شکار ہیں کہ آیا کبھی کبھار شراب پینا صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں۔

    امریکی کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2019 کی ایک سروے کے مطابق، صرف 45 فیصد امریکیوں نے یہ کہا تھا کہ شراب پینا کینسر کا سبب بنتا ہے۔ ڈاکٹر برائن پی۔ لی، جو کیک میڈیسن یونیورسٹی آف جنوبی کیلیفورنیا کے جگر کے ماہر ہیں اور شراب کے صحت پر اثرات پر تحقیق کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ "ماضی میں کی گئی تحقیقیں اتنی مضبوط نہیں تھیں اور ان کی طریقہ کار درست نہیں تھا۔”

    ڈاکٹر مرتی کی ایڈوائزری میں حالیہ سائنسی تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ "ہلکی شراب نوشی بھی فائدے کے بجائے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔” امریکہ میں شراب پینا کینسر کا تیسرا سب سے بڑا سبب ہے، جس کے بعد تمباکو اور موٹاپا آتے ہیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ شراب نوشی اور کینسر کے خطرات کے درمیان تعلق کم از کم سات اقسام کے کینسر میں واضح طور پر ثابت ہو چکا ہے، جن میں چھاتی، بڑی آنت، غذا کی نالی، جگر، منہ، گلے اور آواز شامل ہیں۔

    ایڈوائزری میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شراب کینسر کے اسباب بننے کے لیے کئی مختلف طریقوں سے کام کرتی ہے۔ شراب کو جسم میں میٹابولائز کر کے ایک کیمیائی مادہ "ایسیٹالڈہائیڈ” میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو ڈی این اے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس سے سیلز بے قابو انداز میں تقسیم ہونے لگتی ہیں، جس سے کینسر پیدا ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ شراب "فری ریڈیکلز” پیدا کرتی ہے جو ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کینسر کا سبب بنتے ہیں۔

    شراب ہارمونز جیسے ایسٹروجن اور ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو تبدیل کرتی ہے، جس سے چھاتی اور پروسٹیٹ جیسے ہارمون پر منحصر کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ شراب بی وٹامنز اور فولک ایسڈ جیسے اہم غذائی اجزاء کی کمی بھی پیدا کرتی ہے، جو کینسر سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

    ڈاکٹر اوٹیس بلیلی، جو جان ہاپکنز یونیورسٹی میں آنکولوجسٹ ہیں، نے کہا، "اب وقت آ چکا ہے کہ لوگوں کو خبردار کیا جائے کہ شراب کی کوئی محفوظ مقدار نہیں ہوتی۔”امریکہ کے سرجن جنرل کی ایڈوائزری نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ شراب کے استعمال کے صحت پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور عوامی آگاہی میں مزید اضافہ کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ اس کے خطرات کو سمجھیں اور مناسب فیصلے کر سکیں۔

    ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    پریانکا چوپڑا اور نک جوناس کی ساحل پر رومانوی تصویر

    بشریٰ بی بی کی پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

  • گورننس کی بہتری کیلئےنئے تعینات شدہ ماہرین کی وزیراعظم سے ملاقات

    گورننس کی بہتری کیلئےنئے تعینات شدہ ماہرین کی وزیراعظم سے ملاقات

    اسلام آباد: گورننس کی بہتری کے لیے نئے تعینات شدہ ماہرین نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کے ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے،گورننس کی بہتری کے لیے نئے تعینات شدہ ماہرین نے وزیراعظم سے ملاقات کی،اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی ملاقات میں نئے تعینات شدہ افسران کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان کو ان کی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا گیا،وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ یہ ماہرین اپنے شعبہ جات میں حکومت کو ماہرانہ و تنقیدی رائے اور جائزہ دیں گے جس سے مختلف سیکٹرز میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔

    اس موقع پر وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورننس کی بہتری کے لیے ماہرین کی تعیناتی سے فیصلہ سازی کے عمل میں بہتری آئے گی اور عوامی مفاد کے اہم فیصلوں کی ماہرین کی رائے اور تنقیدی جائزے کے بعد منظوری سے دور رس مثبت نتائج مرتب ہوں گے میرے لیے یہ انتہائی قابل مسرت امر ہے کہ ہم باصلاحیت اور اپنے شعبوں میں گراں قدر خدمات سر انجام دینے والے لوگوں کی خدمات سے مستفید ہوں گے اور آپ سب پر ملکی امور کی فیصلہ سازی میں ماہرانہ رائے اور تعمیری سوچ شامل کرنے کی اہم ذمہ داری ہے

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت ملک کے ہر شعبے میں بہتری کے لیے اصلاحات کا ایجنڈا نافذ کر رہی ہے دور جدید میں ڈیجیٹائزیشن، خودکار نظام اور فیصلہ سازی میں بہتری ہی ترقی و خوشحالی کے ضامن ہیں، انہوں نے کہا کہ پر امید ہوں کہ آپ اپنی ذمہ داریاں انتہائی احسن طریقے سے سر انجام دیں گے۔