Baaghi TV

Tag: ماہرین

  • انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    انٹارکٹیکا کے نیچے چھپے راز سامنے آ گئے

    سائنسدان یہ جاننے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ انٹارکٹیکا کی سرزمین میں برف کی موٹی تہوں کے نیچے کون سے حیران کن راز پوشیدہ ہیں۔

    ماہرین نے برف سے ڈھکے اس براعظم سے متعلق ایسی غیر معمولی تفصیلات پیش کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی انٹارکٹیکا میں جمی ہوئی کئی کلومیٹر موٹی برف اب تک سائنس دانوں کے لیے اس کی اصل زمینی ساخت کو جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی رہی تاہم جدید نقشہ سازی کی انتہائی اعلیٰ تکنیک کے استعمال سے یہ مشکل بڑی حد تک حل کر لی گئی ہے۔

    تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، جدید ریڈار سسٹمز اور انٹارکٹیکا میں گلیشیئرز کے سرکنے کی طبیعیات کو استعمال کیا گیا ہے تحقیق کے نتائج کے مطابق انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے ہزاروں بلند و بالا چوٹیاں، وسیع و عریض وادیاں اور گہری، تنگ گھاٹیاں دفن ہیں انکشاف ہونے والی یہ جغرافیائی ساخت بڑے پہاڑی سلسلوں، پیچیدہ زمینی نشیب و فراز اور وسیع وادیوں پر مشتمل ہے جو اس خطے سے متعلق اب تک کی سب سے حیران کن اور جامع دریافت سمجھی جا رہی ہے۔

    سائنسدانوں کے مطابق یہ معلومات نہ صرف انٹارکٹیکا کی جغرافیائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گی بلکہ مستقبل میں برفانی چادروں کے پگھلاؤ اور عالمی سطح سمندر میں ممکنہ اضافے کی پیشگوئی کے لیے بھی انتہائی اہم ثابت ہوں گی۔

  • پاکستان میں سپر مون کا چند منٹ بعد آغاز

    پاکستان میں سپر مون کا چند منٹ بعد آغاز

    سالِ نو کا پہلا سُپر مون آج رات ہوگا، پورا چاند آسمان پر معمول سے بڑا اور زیادہ چمکدار دکھائی دے گا۔

    پاکستان میں سپر مون کا آغاز شام 5 بجکر 51 منٹ ہوگا۔ سپارکو کے مطابق سپرمون چاند کے مقابلے میں تقریباً 6 سے 7 فیصد بڑا دکھائی دے گا یہ روایتی طور پر وولف مون کہلاتا ہے فلکیاتی ماہرین کے مطابق اس کا سب سے خوبصورت منظر چاند کے طلوع کے وقت رات کے ابتدائی حصے میں دیکھا جا سکے گا یہ اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والے سپر مون سلسلے کا آخری سپر مون ہوگا۔

    سائنس دانوں کے مطابق سپر مون اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب چاند زمین کے عام فاصلے کے مقابلے میں زیادہ قریب آ جاتا ہے، اس قربت کے باعث چاند معمول سے زیادہ بڑا ا اور روشن نظر آتا ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان نے ’کراچی بچاؤ مہم‘ کا اعلان کردیا

    16 سالہ طالبہ سے جنسی زیادتی،حنا پرویز بٹ کا متاثرہ طالبہ کے گھر کا دورہ

    لاہور موسم کی خرابی اور دھند کے باعث پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر

  • ماہرینِ کا  گوشت اور چٹ پٹے پکوانوں پر ہاتھ ہلکا رکھنے کا مشورہ

    ماہرینِ کا گوشت اور چٹ پٹے پکوانوں پر ہاتھ ہلکا رکھنے کا مشورہ

    آج ملک بھر میں عید الاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جارہی ہے۔

    ایسے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ عید کی دعوتیں اُڑائیں ، لیکن اعتدال کا دامن نہ چھوڑیں، گوشت اور چٹ پٹے پکوانوں پر ہاتھ ہلکا رکھیں، گرم موسم میں زیادہ گوشت کھانے سے بدہضمی ہوسکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق عید الاضحیٰ کے فوراً بعد گیسٹرو کے کیسز میں بےحد اضافہ دیکھا جاتا ہے، اگر گوشت صحیح طریقے سے پکا ہوا نہ ہو تو پیٹ اور آنتوں کے مسائل بڑھ جاتے ہیں، ماہرین نے امراضِ قلب، ذیابطیس اور دیگر امراض کے شکار لوگوں کو خاص احتیاط کی ہدایت دیتے ہوئے ہاضمے کو بہتر بنانے کےلیے پھل، ادرک اور گُڑ کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔

    قربانی کے جانوروں کی 70 لاکھ کھالیں جمع ہونے کا امکان

    غزہ پر عید کے روز بھی اسرائیلی بمباری،مزید 42 فلسطینی شہید

    بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید اور سفارتی سبکی کے بعدمودی کو جی 7 اجلاس کا دعوت نامہ مل گیا

  • امریکی شہر مینہیٹن جتنی  خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی

    امریکی شہر مینہیٹن جتنی خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی

    12 جنوری بروز اتوار کو ایک ایسا نایاب واقعہ رونما ہوگا جو 10 سالوں میں صرف ایک بار ہوتا ہے، جس کا مشاہدہ گھر سے عام ستاروں کی دوربین یا لائیو اسٹریم میں کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے مطابق ایک انتہائی بڑے پہاڑ جتنی خلائی چٹان زمین کے قریب سے گزرے گی، ایلنڈا نامی سیارچہ 4.2 کلومیٹر چوڑا ہے اور اس کی چوڑائی تقریباً امریکی شہر مینہیٹن جتنی ہے خلائی چٹان کو زمین کے قریب ترین فاصلے تک آنے میں کئی دہائیاں لگیں ہیں یہ فاصلہ دنیا سے 7.6 ملین میل کا، یعنی زمین اور چاند کے درمیان اوسط فاصلے سے تقریباً 32 گنا زیادہ ہے-

    ایلون مسک کے اقدامات امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،معروف سوانح نگار کا دعویٰ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ممکن ہے کہ ایسے سیارچوں کو 2087 تک زمین کے قریب قریب نہیں دیکھا جاسکے گایہ بڑا سیارچہ زمین سے ٹکرانے کی صورت میں بڑے پیمانے پر جانداروں کی معدومیت کا باعث بن سکتا ہے، اس کا بڑا سائز اسے ستاروں کی دنیا میں دلچسپی رکھنے والوں کیلئے ایک دلچسپ آبجیکٹ بناتا ہے۔

    ایلون مسک کے اقدامات امریکا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں،معروف سوانح نگار کا دعویٰ

    اتوار کو ایلنڈا 9.4 کی شدت سے چمک پیدا کرے گایہ اتنا روشن نہیں ہے کہ اسے براہ راست آنکھ سے دیکھا جا سکے لیکن یہ اتنا روشن ہے کہ خلا کیلئے مخصوص دوربینوں کے ذریعے دیکھا جا سکتا ہے۔

    زرمبادلہ کے ذخائر میں 2.381 ارب ڈالر کا اضافہ

  • رواں سال رونما ہونے والے 6 نایاب فلکیاتی مظاہر

    رواں سال رونما ہونے والے 6 نایاب فلکیاتی مظاہر

    فلکیاتی ماہرین کے مطابق سال 2025 میں نظام شمسی کی گردش کے نتیجے میں کچھ نایاب فلکیاتی مظاہر نمودار ہونے والے ہیں۔

    باغی ٹی وی: فلکیاتی ماہرین کے مطابق جنوری میں آپ نظام شمسی میں ایک تبدیلی کا مشاہدہ کریں گے جب سورج کے گرد گھومنے والے چھ سیارے جنوری کے وسط میں ایک قطار میں آ کر ایک قوس سی بنا لیں گے جسے آپ 21 جنوری سے چار ہفتوں کے لیے دیکھ سکیں گے لیکن شرط یہ ہے کہ آسمان صاف ہو، اس پر بادل یا گرد و غبار نہ ہو چند روز بعد فروری میں ساتواں سیارہ مرکری بھی اس قوس میں شامل ہو جائے گا۔

    فلکیاتی سائنس کی تنظیم ”Planetary Society“ کے سربراہ بروس بیٹ کا کہنا ہے کہ لوگوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے، کیونکہ عام حالات میں انہیں دیکھنے کے لیے دوربین کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اسٹار لنک سروس کی یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پروازوں میں موسم بہار تک لانچ متوقع

    سورج گرہن

    فلکیاتی ماہرین کے مطابق رواں سال دو سورج گرہن ہوں گے، لیکن ویسا مکمل سورج گرہن نہیں ہو گا جو پچھلے سال اپریل میں دنیا کی کچھ حصے میں نظر آیا تھا اور روشن دن کچھ دیر کے لیے تاریک ہوگیا تھاپہلا گرہن 29 مارچ کو ہو گا جو یورپ، ایشیا، افریقہ، شمالی اور جنوبی امریکہ میں دیکھا جا سکے گایہ جزوی گرہن ہو گا جبکہ دوسرا گرہن 21 ستمبر کو ہو گا جو آسٹریلیا، انٹارکٹیکا، بحرالکاہل اور بحر اوقیانو س کے علاقوں میں دیکھا جا سکے گا یہ گرہن بھی جزوی ہو گا۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق مکمل سورج گرہن دیکھنے کے لیے آپ کو اگلے سال کا انتظار کرنا پڑے گا، جو 12 اگست 2026 میں روس، گرین لینڈ، اسپین اور پرتگال کے کچھ حصوں میں دکھائی دے گا مکمل سورج گرہن کا زیادہ سے زیادہ دورانیہ 2 منٹ اور 18 سیکنڈ ہو گا۔

    سعود نے لالی ووڈ کی تباہی کا ذمہ دار 2 بڑی شخصیات کو ٹھہرا دیا

    چاند گرہن

    14 مارچ کو ایک گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے مکمل چاند گرہن ہوگا جسے شمالی اور جنوبی امریکہ، یورپ، سربیا اور شمال مغربی ایشیا میں دیکھا جا سکے گااس سال آپ کو زیادہ روشن اور زیادہ بڑا چاند یعنی ”سُپر مون“ دیکھنے کے تین مواقع ملیں گے آپ کو یہ نظارہ سال کے آخری تین مہینوں یعنی اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں ملے گا۔

    قطبین کی روشنیاں

    شمالی اور جنوبی قطب کے قریب رہنے والوں کو رات کے وقت آسمان پر مختلف رنگوں کی روشنیاں دیکھنے کا موقع ملتا ہے کچھ لوگ تو یہ نظارہ دیکھنے کے لیے دور دراز سے ان علاقوں کا سفر کرتے ہیں، قطبی روشنیوں کا تعلق سورج پر آنے والے طوفانوں سے ہے شمسی طوفان کے نتیجے میں بڑی مقدار میں برقی ذرات خارج ہوتے ہیں اور زمین کے قطبی علاقے میں مقناطیسی لہروں کو متاثر کرتے ہیں جس سے وہاں کی فضا میں موجود نائٹروجن اور آکسیجن کے ایٹم برقی ذرات خارج کرتے ہیں جو ہمیں مختلف رنگوں کی روشنیوں کی شکل میں دکھائی دیتے ہیں۔

    بھارت نےٹیسٹ کرکٹ کو اپنے ہاتھوں میں لینے کا منصوبہ بنا لیا

    فلکیاتی سائنس دانوں کا کہنا ہے سورج اپنے 11 سالہ طوفانی دور سے گزر رہا ہے اور اس سال سورج سے برقی ذرات کا اخراج نمایاں طور پر زیادہ ہو گا، اس لیے یہ سال قطبی روشنیوں کے زیادہ دلفریب مناظر فراہم کرے گا۔

    شہابیوں کی بارش

    شہابیے خلا میں گردش کرتی ہوئی چھوٹی بڑی چٹانیں ہوتی ہیں، جب وہ زمین کے قریب پہنچتی ہیں تو زمین کی کشش انہیں اپنی جانب کھینچ لیتی ہے لیکن زمین کی فضا سے گزرتے ہوئے وہ ہوا کی رگڑ سے جل کر راکھ ہو جاتے ہیں، ہمیں روشنی کی لکیر اسی وقت دکھائی دیتی ہے جب وہ جل کر راکھ ہو رہے ہوتے ہیں، خلا میں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں لا محدود تعداد میں شہابیے موجود ہیں جب زمین سورج کے گرد گردش کے دوران وہاں سے گزرتی ہے تو شہابیوں کی ایک بڑی تعداد زمین کی طرف لپکتی ہے، جو رات کی تاریکی میں آسمان پر روشنیوں کی بارش کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

    فلکیاتی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس سال اگست اور دسمبر میں شہابیوں کی بارش اپنے عروج پر ہو گی، رات تاریک اور آسمان صاف ہوا تو آپ اس کا نظارہ کر سکتے ہیں۔

    بچے کے ولادت، پیٹ کمنز دورہ سری لنکا نہیں جائیں گے

  • امریکی سرجن جنرل کا شراب اور کینسر کے درمیان تعلق پر تشویش کا اظہار

    امریکی سرجن جنرل کا شراب اور کینسر کے درمیان تعلق پر تشویش کا اظہار

    امریکی سرجن جنرل، ڈاکٹر ویوک مرتی نے ایک ایڈوائزری جاری کی جس میں امریکیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ شراب پینے سے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور اس پر صحت کے انتباہی لیبل کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    سرجن جنرل کی ایڈوائزریز عام طور پر صحت کے خطرات کے بارے میں واضح پیغامات دینے کے لیے جاری کی جاتی ہیں اور یہ کم ہی جاری کی جاتی ہیں، کیونکہ یہ مسائل جنہیں فوری طور پر عوامی آگاہی اور کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے، ان پر ہی ان ایڈوائزریز کا اطلاق ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، 1964 میں سگریٹ نوشی پر سرجن جنرل کی رپورٹ نے سگریٹ کو بے ضرر سمجھنے کے رویے میں تبدیلی کی تھی۔

    نئی ایڈوائزری شراب کے بارے میں اس طویل عرصے سے موجود سوچ کو چیلنج کرتی ہے کہ شراب صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ شراب کوئی نقصان دہ نہیں بلکہ ایک خطرناک عادت ہے۔ڈاکٹر مرتی نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ "شراب ایک ثابت شدہ اور قابلِ روک تھام کینسر کا سبب ہے ،جو ہر سال امریکہ میں تقریباً 1 لاکھ کیسز اور 20 ہزار کینسر کی اموات کا باعث بنتا ہے ، لیکن اس خطرے سے آگاہی رکھنے والے امریکیوں کی تعداد بہت کم ہے۔”امریکہ میں تقریباً 70 فیصد لوگ شراب پیتے ہیں اور اس بات پر شدید الجھن کا شکار ہیں کہ آیا کبھی کبھار شراب پینا صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا نہیں۔

    امریکی کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2019 کی ایک سروے کے مطابق، صرف 45 فیصد امریکیوں نے یہ کہا تھا کہ شراب پینا کینسر کا سبب بنتا ہے۔ ڈاکٹر برائن پی۔ لی، جو کیک میڈیسن یونیورسٹی آف جنوبی کیلیفورنیا کے جگر کے ماہر ہیں اور شراب کے صحت پر اثرات پر تحقیق کرتے ہیں، کا کہنا ہے کہ "ماضی میں کی گئی تحقیقیں اتنی مضبوط نہیں تھیں اور ان کی طریقہ کار درست نہیں تھا۔”

    ڈاکٹر مرتی کی ایڈوائزری میں حالیہ سائنسی تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ "ہلکی شراب نوشی بھی فائدے کے بجائے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔” امریکہ میں شراب پینا کینسر کا تیسرا سب سے بڑا سبب ہے، جس کے بعد تمباکو اور موٹاپا آتے ہیں۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ شراب نوشی اور کینسر کے خطرات کے درمیان تعلق کم از کم سات اقسام کے کینسر میں واضح طور پر ثابت ہو چکا ہے، جن میں چھاتی، بڑی آنت، غذا کی نالی، جگر، منہ، گلے اور آواز شامل ہیں۔

    ایڈوائزری میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شراب کینسر کے اسباب بننے کے لیے کئی مختلف طریقوں سے کام کرتی ہے۔ شراب کو جسم میں میٹابولائز کر کے ایک کیمیائی مادہ "ایسیٹالڈہائیڈ” میں تبدیل کیا جاتا ہے، جو ڈی این اے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس سے سیلز بے قابو انداز میں تقسیم ہونے لگتی ہیں، جس سے کینسر پیدا ہو سکتا ہے۔ مزید یہ کہ شراب "فری ریڈیکلز” پیدا کرتی ہے جو ڈی این اے کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کینسر کا سبب بنتے ہیں۔

    شراب ہارمونز جیسے ایسٹروجن اور ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کو تبدیل کرتی ہے، جس سے چھاتی اور پروسٹیٹ جیسے ہارمون پر منحصر کینسر کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ شراب بی وٹامنز اور فولک ایسڈ جیسے اہم غذائی اجزاء کی کمی بھی پیدا کرتی ہے، جو کینسر سے بچاؤ میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

    ڈاکٹر اوٹیس بلیلی، جو جان ہاپکنز یونیورسٹی میں آنکولوجسٹ ہیں، نے کہا، "اب وقت آ چکا ہے کہ لوگوں کو خبردار کیا جائے کہ شراب کی کوئی محفوظ مقدار نہیں ہوتی۔”امریکہ کے سرجن جنرل کی ایڈوائزری نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ شراب کے استعمال کے صحت پر انتہائی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور عوامی آگاہی میں مزید اضافہ کرنا ضروری ہے تاکہ لوگ اس کے خطرات کو سمجھیں اور مناسب فیصلے کر سکیں۔

    ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار

    پریانکا چوپڑا اور نک جوناس کی ساحل پر رومانوی تصویر

    بشریٰ بی بی کی پارٹی کے قانونی معاملات میں بھی مداخلت

  • گورننس کی بہتری کیلئےنئے تعینات شدہ ماہرین کی وزیراعظم سے ملاقات

    گورننس کی بہتری کیلئےنئے تعینات شدہ ماہرین کی وزیراعظم سے ملاقات

    اسلام آباد: گورننس کی بہتری کے لیے نئے تعینات شدہ ماہرین نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کے ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے،گورننس کی بہتری کے لیے نئے تعینات شدہ ماہرین نے وزیراعظم سے ملاقات کی،اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی ملاقات میں نئے تعینات شدہ افسران کے تعارف کے ساتھ ساتھ ان کو ان کی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کیا گیا،وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ یہ ماہرین اپنے شعبہ جات میں حکومت کو ماہرانہ و تنقیدی رائے اور جائزہ دیں گے جس سے مختلف سیکٹرز میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔

    اس موقع پر وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورننس کی بہتری کے لیے ماہرین کی تعیناتی سے فیصلہ سازی کے عمل میں بہتری آئے گی اور عوامی مفاد کے اہم فیصلوں کی ماہرین کی رائے اور تنقیدی جائزے کے بعد منظوری سے دور رس مثبت نتائج مرتب ہوں گے میرے لیے یہ انتہائی قابل مسرت امر ہے کہ ہم باصلاحیت اور اپنے شعبوں میں گراں قدر خدمات سر انجام دینے والے لوگوں کی خدمات سے مستفید ہوں گے اور آپ سب پر ملکی امور کی فیصلہ سازی میں ماہرانہ رائے اور تعمیری سوچ شامل کرنے کی اہم ذمہ داری ہے

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت ملک کے ہر شعبے میں بہتری کے لیے اصلاحات کا ایجنڈا نافذ کر رہی ہے دور جدید میں ڈیجیٹائزیشن، خودکار نظام اور فیصلہ سازی میں بہتری ہی ترقی و خوشحالی کے ضامن ہیں، انہوں نے کہا کہ پر امید ہوں کہ آپ اپنی ذمہ داریاں انتہائی احسن طریقے سے سر انجام دیں گے۔

  • سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

    سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

    سان اینٹونیو: ماہرین نے سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : پلینیٹری سائنس جرنل میں شائع تحقیق کے نتائج مطابق ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ زمین کے ابتدائی دور میں اس سے ٹکرانے والے سیارچے اس سیارے پر پانی اور دیگر عناصر کی موجودگی کا سبب بنے، اس لیے سیارچوں پر پانی کی موجودگی کے شواہد کی تلاش اس نظریے کو تقویت دے سکتی ہے۔

    ماہرین کی جانب سے یہ ڈیٹا اسٹریٹو اسفیرک آبزرویٹری فار انفرا ریڈ آسٹرونومی (SOFIA) نامی آلے سے اکٹھا کیا گیا،اس ٹیلی اسکوپ کو جدید بوئنگ 747 ایس پی طیارے پر نصب کر کے استعمال کیا گیا جس نے زمین کے ایٹماسفیئر سے اوپر جا کر پرواز کی۔

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    سوفیا ٹیلی اسکوپ میں نصب فینٹ آبجیکٹ انفرا ریڈ کیمرا (FORCAST) نے ماہرین کو مریخ اور مشتری کے درمیان موجود دو سیارچوں آئرس اور میسالیا میں پانی کے مالیکیولز کی نشان دہی کرنے میں مدد دی، دونوں سیارچے سورج سے 35 کروڑ 90 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سان اینٹونیو میں قائم ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والی تحقیق کے سربراہ مصنفہ ڈاکٹر انیسیا ایریڈونڈو کا کہنا تھا کہ اس ٹیلی اسکوپ کی جانب سے چاند پر پانی کی نشان دہی کرنے کے بعد ماہرینِ فلکیات نے اس کو سیارچوں کا مطالعے کے لیے استعمال کا فیصلہ کیا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

  • دفتری اوقات جب ملازمین زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

    دفتری اوقات جب ملازمین زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

    ماہرین کی جانب سے ایک نئی تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ سہ پہر وہ وقت ہوتا ہے جب غلطیاں کرنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کے استعمال کے میٹرکس کے معروضی اور مقداری اقدامات کی اہمیت پر ان کے مطالعے کا زور خاص طور پر جدید کام کی جگہ کے تناظر میں قابل ذکر ہے، جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کا استعمال کام کی کارکردگی کا زیادہ درست اندازہ فراہم کر سکتا ہے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے مواقع کی نشاندہی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق مطالعہ کے نتائج بتاتے ہیں کہ تھکاوٹ اور تناؤ پورے ہفتے کے دوران جمع ہو سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر پیداواری صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے، خاص طور پر جمعہ کے دن۔ تاہم، مطالعے میں وقفے اور آرام کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات پر عمل درآمد کرکے ان اثرات کو کم کرنے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں ہیں-

    برطانوی شہزادہ ہیری سے ایک اور لقب سے محروم ہو گئے

    جرنل Plos One میں شائع تحقیق میں دفاتر میں کام کرنے والے 800 افراد کا جائزہ 2 سال تک لیا گیا،اس تحقیق میں لوگوں کے فیڈ بیک کی بجائے ماہرین نے ٹائپنگ اسپیڈ، ماؤس کی حرکت اور ٹائپنگ کی غلطیوں جیسی چیزوں کو مدنظر رکھا نتائج سے معلوم ہوا کہ سہ پہر دن کا وہ وقت ہوتا ہے جب لوگوں کی جانب سے دفاتر میں سب سے زیادہ ٹائپنگ غلطیاں کی جاتی ہیں خاص طور پر جمعہ کی سہ پہر یہ اثر بہت زیادہ نمایاں ہوتا ہے، جس دوران کمپیوٹر سرگرمیاں گھٹ جاتی ہیں جبکہ ٹائپنگ کی غلطیاں بڑھ جاتی ہیں۔

    امریکا کی ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ پیر سے بدھ تک دفتری ملازمین کی جانب سے کاموں کو مستحکم انداز سے مکمل کیا جاتا ہے مگر جمعرات اور جمعہ کو ان کی کارکردگی تنزلی کا شکار ہونے لگتی ہے تحقیق سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ دفاتر میں ملازمین کے لیے 4 ڈے ورک ویک (4 دن تک کام اور 3 دن چھٹی) کو اپنایا جانا چاہیے۔

    تحقیق میں شامل 61 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اس تبدیلی کا خیر مقدم کریں گے اور 4 روزہ کاروباری ہفتے میں کام کرنا پسند کریں گے ان میں سے 33 فیصد کا کہنا تھا کہ اگر انہیں کسی اور جگہ 4 روز کام اور 3 دن چھٹی کا موقع ملے تو وہ موجودہ ملازمت چھوڑ دیں گے۔

    پاکستانی سیاست کا فیصلہ پاکستانی عوام کو اپنے آئین اور قوانین کے مطابق کرنا ہے،امریکا

    محققین نے بتایا کہ لچکدار دفتری انتظامات جیسے ہائبرڈ ورک یا 4 ڈے ورک ویک سے طویل دفتری اوقات سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کی روک تھام ہو سکے گی جبکہ ملازمین کی شخصیت اور پیداواری صلاحیتیں بہتر ہو جائیں گی جیسے کہ جمعہ کو ٹیلی کام کرنا یا کام کے ہفتے مختصر کرنا، جو ملازمین کی صحت، کام کی زندگی کے توازن اور پیداواری صلاحیت کو فروغ دے سکتے ہیں۔

    محققین کے مطابق متبادل کام کے انتظامات کو اپنانے سے کاروباروں کو اہم طویل مدتی فوائد مل سکتے ہیں، بشمول ملازمین کی اطمینان میں اضافہ، غیر حاضری میں کمی، اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ۔ مزید برآں، یہ انتظامات نقل و حمل کے ایندھن کی کھپت، CO2 کے اخراج اور دیگر آلودگیوں کو کم کرکے ماحولیاتی پائیداری میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر طاہرالقادری نے سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    محققین نے کہا کہ مستقبل کی تحقیق ان نتائج کی بنیاد پر کام کے متبادل انتظامات کے امکانات کو مزید دریافت کر سکتی ہے اور کام کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور کام کی جگہ پر پائیداری کو فروغ دینے کے لیے حکمت عملیوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ آخر میں، یہ مطالعہ کام کی کارکردگی کا اندازہ لگانے اور بہتری کے مواقع کی نشاندہی کرنے میں کمپیوٹر کے استعمال کے میٹرکس کے معروضی اور مقداری اقدامات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے مطالعہ کے نتائج کی تصدیق اور کام کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مختلف صنعتوں اور ملازمت کی اقسام میں پائیداری کو فروغ دینے کے لیے حکمت عملیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    جج ہمایوں دلاور کی لندن میں کانفرنس میں شرکت، پی ٹی آئی کا یونیورسٹی کے …

  • ورزش اور وزن کی کمی سے ذیابیطس کامرض دور ہوسکتا ہے، ماہرین

    ورزش اور وزن کی کمی سے ذیابیطس کامرض دور ہوسکتا ہے، ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض ورزش کا معمول جاری رکھتے ہوئے اگر اپنے وزن میں 10 فیصد تک کمی کرلیں تو اس سے بہت سے طبی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

    سیٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ اگر آپ ذیابیطس کے ممکنہ یا مرض کے لاحق ہونے سے پریشان ہیں تو وزن کم کرنے کے ساتھ اگر ورزش کو شامل کرلیا جائے تو انسولین کی حساسیت دوگنا بڑھ جاتی ہے۔ اس سے پری ڈائبیٹس کا اثرکم ہوجاتا ہے اور شوگرکامرض آپ سے بہت دور ہوسکتا ہے۔

    تحقیق میں ماہرین نے 30 س 49 بی ایم آئی کے بہت سے رضاکاروں کو شامل کیا گیا جن میں انسولین سے مزاحمت پیدا ہورہی تھی۔ ان میں پری ڈائبیٹس میں مبتلا افراد بھی شامل تھے۔ تمام رضاکاروں کو دوگروہوں میں شامل کیا گیا۔ ایک گروہ کو صرف وزن کم کرنے کا کہا گیا اور انہوں نے لگ بھگ 10 فیصد وزن گھٹایا۔

    کولمبیا میں 2 طیارے پرواز کے دوران ٹکرا گئے،ویڈٰیو

    دوسرے گروہ کو وزن کی اتنی ہی فیصد کم کرائی گئی اور باقاعدگی سےورزش بھی کرائی گئی جن افراد نے ورزش اور وزن میں کمی کی تھی ان کو غیرمعمولی فائدہ ہوا اور وہ ذیابیطس سے دور ہوتے چلے گئے جبکہ انسولین مزاحمت کا معاملہ بھی بہتری دکھارہا تھا اسی بنا پر پری ڈائبیٹس مریضوں سے کہا گیا ہے کہ وہ وزن پر سختی سے قابو رکھیں اور ورزش بھی جاری رکھیں۔

    کائنات کے دو بڑے معموں کا مشاہدہ کرنے یوکلیڈ ٹیلی سکوپ روانہ

    ڈاکٹر سیموئیل کلائن کے مطابق انسولین سینسٹیوٹی کا تعلق نہ صرف ٹائپ ٹو ذیابیطس سے ہے بلکہ یہ جگرکی چربی، خون میں چکنائیوں اور موٹاپے کی وجہ بھی بنتی ہے۔ اس کیفیت کو ورزش اور وزن میں کمی سے بہت اچھی طرح کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر پرعارضی طور پر نئی حد بندیاں متعارف کروا دیں