Baaghi TV

Tag: ماہرین

  • سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

    سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

    سان اینٹونیو: ماہرین نے سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : پلینیٹری سائنس جرنل میں شائع تحقیق کے نتائج مطابق ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ زمین کے ابتدائی دور میں اس سے ٹکرانے والے سیارچے اس سیارے پر پانی اور دیگر عناصر کی موجودگی کا سبب بنے، اس لیے سیارچوں پر پانی کی موجودگی کے شواہد کی تلاش اس نظریے کو تقویت دے سکتی ہے۔

    ماہرین کی جانب سے یہ ڈیٹا اسٹریٹو اسفیرک آبزرویٹری فار انفرا ریڈ آسٹرونومی (SOFIA) نامی آلے سے اکٹھا کیا گیا،اس ٹیلی اسکوپ کو جدید بوئنگ 747 ایس پی طیارے پر نصب کر کے استعمال کیا گیا جس نے زمین کے ایٹماسفیئر سے اوپر جا کر پرواز کی۔

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    سوفیا ٹیلی اسکوپ میں نصب فینٹ آبجیکٹ انفرا ریڈ کیمرا (FORCAST) نے ماہرین کو مریخ اور مشتری کے درمیان موجود دو سیارچوں آئرس اور میسالیا میں پانی کے مالیکیولز کی نشان دہی کرنے میں مدد دی، دونوں سیارچے سورج سے 35 کروڑ 90 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سان اینٹونیو میں قائم ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والی تحقیق کے سربراہ مصنفہ ڈاکٹر انیسیا ایریڈونڈو کا کہنا تھا کہ اس ٹیلی اسکوپ کی جانب سے چاند پر پانی کی نشان دہی کرنے کے بعد ماہرینِ فلکیات نے اس کو سیارچوں کا مطالعے کے لیے استعمال کا فیصلہ کیا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

  • دفتری اوقات جب ملازمین زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

    دفتری اوقات جب ملازمین زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

    ماہرین کی جانب سے ایک نئی تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ سہ پہر وہ وقت ہوتا ہے جب غلطیاں کرنے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر کے استعمال کے میٹرکس کے معروضی اور مقداری اقدامات کی اہمیت پر ان کے مطالعے کا زور خاص طور پر جدید کام کی جگہ کے تناظر میں قابل ذکر ہے، جہاں ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے عام ہوتا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کا استعمال کام کی کارکردگی کا زیادہ درست اندازہ فراہم کر سکتا ہے اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے مواقع کی نشاندہی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق مطالعہ کے نتائج بتاتے ہیں کہ تھکاوٹ اور تناؤ پورے ہفتے کے دوران جمع ہو سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر پیداواری صلاحیت میں کمی کا باعث بنتا ہے، خاص طور پر جمعہ کے دن۔ تاہم، مطالعے میں وقفے اور آرام کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات پر عمل درآمد کرکے ان اثرات کو کم کرنے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں ہیں-

    برطانوی شہزادہ ہیری سے ایک اور لقب سے محروم ہو گئے

    جرنل Plos One میں شائع تحقیق میں دفاتر میں کام کرنے والے 800 افراد کا جائزہ 2 سال تک لیا گیا،اس تحقیق میں لوگوں کے فیڈ بیک کی بجائے ماہرین نے ٹائپنگ اسپیڈ، ماؤس کی حرکت اور ٹائپنگ کی غلطیوں جیسی چیزوں کو مدنظر رکھا نتائج سے معلوم ہوا کہ سہ پہر دن کا وہ وقت ہوتا ہے جب لوگوں کی جانب سے دفاتر میں سب سے زیادہ ٹائپنگ غلطیاں کی جاتی ہیں خاص طور پر جمعہ کی سہ پہر یہ اثر بہت زیادہ نمایاں ہوتا ہے، جس دوران کمپیوٹر سرگرمیاں گھٹ جاتی ہیں جبکہ ٹائپنگ کی غلطیاں بڑھ جاتی ہیں۔

    امریکا کی ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ پیر سے بدھ تک دفتری ملازمین کی جانب سے کاموں کو مستحکم انداز سے مکمل کیا جاتا ہے مگر جمعرات اور جمعہ کو ان کی کارکردگی تنزلی کا شکار ہونے لگتی ہے تحقیق سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ دفاتر میں ملازمین کے لیے 4 ڈے ورک ویک (4 دن تک کام اور 3 دن چھٹی) کو اپنایا جانا چاہیے۔

    تحقیق میں شامل 61 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اس تبدیلی کا خیر مقدم کریں گے اور 4 روزہ کاروباری ہفتے میں کام کرنا پسند کریں گے ان میں سے 33 فیصد کا کہنا تھا کہ اگر انہیں کسی اور جگہ 4 روز کام اور 3 دن چھٹی کا موقع ملے تو وہ موجودہ ملازمت چھوڑ دیں گے۔

    پاکستانی سیاست کا فیصلہ پاکستانی عوام کو اپنے آئین اور قوانین کے مطابق کرنا ہے،امریکا

    محققین نے بتایا کہ لچکدار دفتری انتظامات جیسے ہائبرڈ ورک یا 4 ڈے ورک ویک سے طویل دفتری اوقات سے مرتب ہونے والے منفی اثرات کی روک تھام ہو سکے گی جبکہ ملازمین کی شخصیت اور پیداواری صلاحیتیں بہتر ہو جائیں گی جیسے کہ جمعہ کو ٹیلی کام کرنا یا کام کے ہفتے مختصر کرنا، جو ملازمین کی صحت، کام کی زندگی کے توازن اور پیداواری صلاحیت کو فروغ دے سکتے ہیں۔

    محققین کے مطابق متبادل کام کے انتظامات کو اپنانے سے کاروباروں کو اہم طویل مدتی فوائد مل سکتے ہیں، بشمول ملازمین کی اطمینان میں اضافہ، غیر حاضری میں کمی، اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ۔ مزید برآں، یہ انتظامات نقل و حمل کے ایندھن کی کھپت، CO2 کے اخراج اور دیگر آلودگیوں کو کم کرکے ماحولیاتی پائیداری میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر طاہرالقادری نے سیاست چھوڑنے کا اعلان کر دیا

    محققین نے کہا کہ مستقبل کی تحقیق ان نتائج کی بنیاد پر کام کے متبادل انتظامات کے امکانات کو مزید دریافت کر سکتی ہے اور کام کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور کام کی جگہ پر پائیداری کو فروغ دینے کے لیے حکمت عملیوں کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ آخر میں، یہ مطالعہ کام کی کارکردگی کا اندازہ لگانے اور بہتری کے مواقع کی نشاندہی کرنے میں کمپیوٹر کے استعمال کے میٹرکس کے معروضی اور مقداری اقدامات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے مطالعہ کے نتائج کی تصدیق اور کام کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مختلف صنعتوں اور ملازمت کی اقسام میں پائیداری کو فروغ دینے کے لیے حکمت عملیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    جج ہمایوں دلاور کی لندن میں کانفرنس میں شرکت، پی ٹی آئی کا یونیورسٹی کے …

  • ورزش اور وزن کی کمی سے ذیابیطس کامرض دور ہوسکتا ہے، ماہرین

    ورزش اور وزن کی کمی سے ذیابیطس کامرض دور ہوسکتا ہے، ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض ورزش کا معمول جاری رکھتے ہوئے اگر اپنے وزن میں 10 فیصد تک کمی کرلیں تو اس سے بہت سے طبی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

    سیٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ اگر آپ ذیابیطس کے ممکنہ یا مرض کے لاحق ہونے سے پریشان ہیں تو وزن کم کرنے کے ساتھ اگر ورزش کو شامل کرلیا جائے تو انسولین کی حساسیت دوگنا بڑھ جاتی ہے۔ اس سے پری ڈائبیٹس کا اثرکم ہوجاتا ہے اور شوگرکامرض آپ سے بہت دور ہوسکتا ہے۔

    تحقیق میں ماہرین نے 30 س 49 بی ایم آئی کے بہت سے رضاکاروں کو شامل کیا گیا جن میں انسولین سے مزاحمت پیدا ہورہی تھی۔ ان میں پری ڈائبیٹس میں مبتلا افراد بھی شامل تھے۔ تمام رضاکاروں کو دوگروہوں میں شامل کیا گیا۔ ایک گروہ کو صرف وزن کم کرنے کا کہا گیا اور انہوں نے لگ بھگ 10 فیصد وزن گھٹایا۔

    کولمبیا میں 2 طیارے پرواز کے دوران ٹکرا گئے،ویڈٰیو

    دوسرے گروہ کو وزن کی اتنی ہی فیصد کم کرائی گئی اور باقاعدگی سےورزش بھی کرائی گئی جن افراد نے ورزش اور وزن میں کمی کی تھی ان کو غیرمعمولی فائدہ ہوا اور وہ ذیابیطس سے دور ہوتے چلے گئے جبکہ انسولین مزاحمت کا معاملہ بھی بہتری دکھارہا تھا اسی بنا پر پری ڈائبیٹس مریضوں سے کہا گیا ہے کہ وہ وزن پر سختی سے قابو رکھیں اور ورزش بھی جاری رکھیں۔

    کائنات کے دو بڑے معموں کا مشاہدہ کرنے یوکلیڈ ٹیلی سکوپ روانہ

    ڈاکٹر سیموئیل کلائن کے مطابق انسولین سینسٹیوٹی کا تعلق نہ صرف ٹائپ ٹو ذیابیطس سے ہے بلکہ یہ جگرکی چربی، خون میں چکنائیوں اور موٹاپے کی وجہ بھی بنتی ہے۔ اس کیفیت کو ورزش اور وزن میں کمی سے بہت اچھی طرح کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر پرعارضی طور پر نئی حد بندیاں متعارف کروا دیں

  • اگلی نسل آسمان پر ستارے نہیں دیکھ سکے گی،ماہرین نے خبردار کر دیا

    اگلی نسل آسمان پر ستارے نہیں دیکھ سکے گی،ماہرین نے خبردار کر دیا

    لندن: سائنسدانوں ںے خبردار کیا ہے کہ روشنی کی آلودگی کے باعث بالخصوص شہروں میں رہنے والی آبادی اگلے دوعشروں میں ستاروں بھرے آسمان کے دلفریب منظر سے محروم ہو جائے گی۔

    باغی ٹی وی: ممتاز برطانوی سائنسدان سر مارٹِن ریس نے بھی کہا ہے کہ رات کا تاروں بھرا آسمان ہماری تہذیب کا حصہ رہا ہے اور اگلی نسل اب یہ منظر نہیں دیکھ سکے گی سائنسدانوں نے پایا ہے کہ روشنی خارج کرنے والے ڈائیوڈس (ایل ای ڈی) اور روشنی کی دیگر اقسام کا بڑھتا ہوا استعمال ستاروں بھرے آسمان کے دلفریب نظارے کی کم کر رہا ہے-

    گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر کے شہروں میں طرح طرح کی طاقتور روشنیاں بڑھتی جارہی ہیں جس سے رات کی تاریکی ختم ہو رہی ہے اور روشنی کی اس دھند میں ستارے تیزی سےغائب ہورہے ہیں 2016 کے بعد سے اب تک کرہ ارض کی ایک تہائی آبادی رات کوملکی وے کے شاندار نظارے سے محروم ہوچکی ہے اس کی موجودہ شرح سےزیادہ تر بڑے برج 20 سالوں میں ناقابل فہم ہو جائیں گے،جو ثقافتی اور سائنسی طور پر نقصان شدید ہو گا۔

    مقابلہ حسن میں بیوی کا دوسرا نمبر آنے پر شوہر نے فاتح کا تاج ہی …

    دوسری جانب، جرمن مرکز برائے ارضی طبعیات کے ماہر کرسٹوفر کائبہ نے کہا اگر آج پیدا ہونے والا کوئی بچہ رات 250 ستارے دیکھ سکتا ہے تو 18 برس کی عمر میں آسمان پر نظرآنے والے ستاروں کی تعداد کم ہوکر صرف 100 تک ہوجائے گی۔

    ماہرین نے زور دیا کہ چند اقدامات سے روشنی کی آلودگی کم کی جاسکتی ہے۔ روشنی کے اوپر چھتری نما رکاوٹ رکھی جائے۔ روشنیوں کا رخ زمین کی جانب رکھا جائے۔ اسی طرح روشنیاں مدھم رکھی جائیں اور سفید یا نیلی روشنیوں کی جگہ سرخ یا نارنجی روشنیاں ہی استعمال کی جائیں۔

    سعودی خلابازوں کا مشن مکمل،10 دن بعد زمین پر واپس پہنچ گئے

  • ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم  وجہ دریافت کر لی

    ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم وجہ دریافت کر لی

    دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے مریضوں کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ماہرین نے اس بیماری کے پھیلنے کی وجہ دریافت کر لی ہے-

    باغی ٹی وی : Tufts یونیورسٹی امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے بتایا کہ موجودہ دور میں بیشتر افراد کی غذا انہیں ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار بنا رہی ہےگندم اور چاول کی ریفائن اقسام کا بہت زیادہ استعمال دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے کیسز میں اضافے کی وجہ ثابت ہو رہا ہے۔

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    اس تحقیق میں 1990 سے 2018 میں دنیا بھر کے ذیابیطس ٹائپ 2 کے کیسز کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا کہ 2018 میں ذیابیطس ٹائپ 2 کےہر 10 میں سے 7 کیسز ناقص غذائی عادات کا نتیجہ تھےدنیا بھرمیں صحت کےلیےمفید غذاؤں کی بجائے نقصان دہ خوراک کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے، خاص طور پر مردوں میں یہ رجحان زیادہ عام ہے۔

    تحقیق کے مطابق غیر معیاری کاربوہائیڈریٹس پر مبنی غذا دنیا بھر میں ذیابیطس ٹائپ 2 کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہےتحقیق میں بنیادی طور پر ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار بنانے والے 3 عناصر کو دریافت کیا گیا ایک سالم اناج کا بہت کم استعمال، دوسرا پراسیس اناج (سفید ڈبل روٹی، سفید چاول وغیرہ) کا بہت زیادہ استعمال جبکہ تیسرا سرخ اور پراسیس گوشت کا زیادہ استعمال کرنا ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ دنیا بھر میں غذائی عادات کی وجہ سے ذیابیطس سے متاثر ہونے والے 60 فیصد کیسز میں 6 غذائی عادات پائی جاتی ہیں ایسے افراد بہت زیادہ مقدار میں ریفائن چاول، گندم اور آلو کھاتے ہیں، غذا میں پراسیس اور سرخ گوشت کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ میٹھے مشروبات اور فروٹ جوسز پسند کرتے ہیں پھلوں، سبزیوں، گریوں، پھلیوں، سالم اناج اور دہی کا ناکافی مقدار میں استعمال 39 فیصد نئے کیسز کا باعث بنتا ہے۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    واضح رہے کہ جب کوئی فرد ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار ہوتا ہے تو اس کا جسم غذا میں موجود کاربوہائیڈریٹس کو توانائی میں بدلنے میں ناکام ہوجاتا ہےاس کے نتیجے میں خون میں شکر کی مقدار بڑھتی ہے۔

  • نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، نئی تحقیق

    نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، نئی تحقیق

    ماہرین کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نزلے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں میں نزلہ زکام کی تشخیص ہو ان میں ایک ہفتے کے دوران دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ نزلے سے متاثرہ ہونے کے بعد ایک ہفتے میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ 6 گنا بڑھ جاتا ہے یہ تحقیق نزلہ زکام کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کو دل کے دورے کی علامات سے متعلق آگاہی بھی دیتی ہے۔ماہرین کی ٹیم نے 16 لیبارٹریز سے حاصل ہونے والے نتائج کا جائزہ لیا اور اس کا موازنہ اموات سے کیا۔2008 سے 2019 کے درمیان 26 ہزار 221 کیسز کی تصدیق ہوئی اور اس گروہ میں 401 مریضوں کو ایک سال قبل یا نزلے کے دورانیے کے بعد دل کا دورہ پڑا تھا کچھ مریضوں کو ایک سے زیادہ دل کے دورے پر پڑے تھے یوں ٹوٹل 419 افراد کو دل کے دورے پڑے تھے۔

  • انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    موجودہ دور میں انزائٹی کا مرض بہت زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے اور اس کا علاج عموماً سائیکو تھراپی یا ادویات سے کیا جاتا ہے ماہرین نے اس بیماری کا ایک حیران کن علاج دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی:انزائٹی کو غیر یقینی کیفیت یا کچھ ناخوشگوار واقع ہونے کا ڈر کہا جا سکتا ہے۔ اردو میں انزائٹی کے لیے بے چینی، پریشانی یا گھبراہٹ جیسی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں،انزائٹی جسم کا تناؤ کے لیے قدرتی ردعمل ہے، یہ خوف یا فکر کی ایسی کیفیت ہوتی ہے جو مختلف عناصر کا مجموعہ ہوتی ہے-

    روزہ اور سائنس

    دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جانا، سانس چڑھنا، تھکاوٹ اور توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات اس کی کچھ عام علامات ہیں،ویسے ہر فرد میں اس کا اظہاریا علامات مختلف ہوسکتی ہیں، جیسے ایک فرد کو شدید گھبراہٹ کا سامنا ہوسکتا ہے تو دوسرے کو تکلیف دہ خیالات یا ڈر کے دورے پڑسکتے ہیں سردرد، سانس میں تکلیف، معدے کے مسائل، جلد پر دانے، اعصابی درد اور کھنچاؤ، انزائٹی یہ تمام اور بہت کچھ کروا سکتی ہے تاہم چیزیں اتنی سادہ بھی نہیں ہوتیں۔

    کیرولینسکا انسٹیٹیوٹ سوئیڈن میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ دیگر افراد کی جسمانی بو کو سونگھنا سماجی انزائٹی یا سماجی خوف جیسے مسئلے کا مؤثر علاج ثابت ہو سکتا ہے کسی کی جسمانی بو کو سونگھنے سے لوگوں کے وہ دماغی حصے متحرک ہوتے ہیں جو جذبات سے منسلک ہوتے ہیں اور سکون کا احساس دلاتے ہیں۔

    محققین کا کہنا تھاکہ ہماری ذہنی کیفیت سے جسم میں مرکبات بنتے ہیں اور پسینے سے ان کی بو دیگر افراد تک پہنچتی ہے اس ابتدائی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر افراد کی جسمانی مہک کو سونگھنے سے سماجی انزائٹی کا علاج ممکن ہو سکتا ہےہمیں توقع ہے کہ اس طریقہ کار سے لوگوں کو سماجی انزائٹی کے مسئلے سے بچانے میں مدد مل سکے گی۔

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے دوران لوگوں کے پسینے کے نمونوں کو اکٹھا کرکے جسمانی بو کو مریضوں کو سونگھایا گیا نتائج سے معلوم ہوا کہ انسانی جسمانی بو سونگھنے والے افراد کی انزائٹی میں 39 فیصد تک کمی آئی۔

    دوسری جانب ماہرین نےکچھ غذائوں کو تجویز کیاہے، جو انزائٹی دور کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔

    براؤن چاکلیٹ کی اہم خوبی یہ ہےکہ اس سے بلڈ پریشر نارمل رکھنے میں مدد ملتی ہےیہ جسم میں موجود ’ پولی فینول ‘ کو بڑھاتی ہے، جو خون میں موجود آکسیجن کی روانی کوبڑھا دیتا ہےچاکلیٹ کھانےسےذہنی سکون حاصل ہوتا ہےکیونکہ برائون چاکلیٹ دماغ میں ’ سیروٹونین ‘ پیدا کرتا ہے، جس سے انسان کے اندر تازگی کا ایک احساس پیدا ہوتا ہے اور انسان ذہنی دباؤسے آزاد ہوجاتا ہے۔

    ہسٹیریا ، ذہنی دبائو اور بلڈ پریشر جیسے امراض کا شکار لوگوںکو ایواکاڈو کااستعمال یقینی بنانا چاہئے ایوا کاڈو پوٹاشیم سے بھرپور ہوتاہے ، بلڈ پریشرکوکنٹرول کرتاہےاوردوران خون کو مسلسل اعتدال میں رکھتا ہےکسی بھی طرح کے دماغی امراض کے لیے سویا بین کا استعمال کافی مفید ہوتا ہے۔ یہ دماغی توازن کو بہتراور دماغ کو تیز کرنے کا کام کرتا ہے۔

    شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کچی سبزیوں اور پھلوں کا باقاعدہ استعمال ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اگرچہ روایتی ماہرین غذائیات روزانہ 5مرتبہ خاص انداز میں پھل اور سبزیاں کھانے پر زور دیتے ہیں لیکن جب بات ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کی ہو تو اس کے شکار افراد اپنی خوراک میں ان کا مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔ کچی سبزیاں اور پھل براہ راست انسانی موڈ پر اثرانداز ہوتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ سبزیوں کو پکانے، بھوننے اور گرم کرنے سے ان کے اندر کئی اہم غذائی اجزاء ضائع ہوسکتے ہیں۔

    ذہنی تناؤ، اداسی اور ڈپریشن جدید دور کا ایک بڑھتا ہوا عفریت ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ500ملی گرام سرکومن ( جو دو چمچ ہلدی میں ہوتا ہے) کھانے سے عین وہی اثر ہوتا ہے، جو مشہور دواؤں پروزیک اور فلوکسیٹائن کھانے سے ہوتا ہے۔ اس طرح ہلدی ڈپریشن کا قدرتی اور فطری علاج ہے۔دماغ کی سوز ش اور الزائمر جیسی بیماریوںکیلئے ہلدی مفید ہے۔ ہلدی دماغ کی مجموعی صحت کا خیال رکھتی ہے اور دماغ میں آکسیجن کی فراہمی میںمعاون ثابت ہوتی ہے-

    نیل پالش خواتین میں بانجھ پن اور ذیابیطس کا باعث بن سکتی ہے، تحقیق

  • موسمیاتی تبدیلیاں:آرکٹک خطے کی برفانی سطح میں چھپے ہزاروں سال پرانےوائرس پھرزندہ ہوسکتے ہیں.ماہرین

    موسمیاتی تبدیلیاں:آرکٹک خطے کی برفانی سطح میں چھپے ہزاروں سال پرانےوائرس پھرزندہ ہوسکتے ہیں.ماہرین

    موسمیاتی تبدیلیوں سے ہماری زمین پرمتعدد نقصان دہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں تاہم سائنسدانوں نےایک حیران کن انکشاف کیا ہے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آرکٹک کی برفانی سطح میں ہزاروں سے خوابیدہ وائرسز موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت بڑھنے سے دوبارہ زندہ ہو سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آرکٹک خطے کی برفانی سطح میں چھپے ہزاروں سال پرانے وائرس پھر زندہ ہو سکتے ہیں، سائنسدانوں نے انہیں زومبی وائرسز قرار دیا ہے زومبی یعنی ایسا مردہ جاندار جو زندہ ہوجائے-

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آرکٹک کی برفانی سطح میں ہزاروں سے خوابیدہ وائرسز موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت بڑھنے سے دوبارہ زندہ ہوسکتےہیں درحقیقت فرانس کے Aix-Marseille یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کےماہرین نے ہزاروں سال سےخوابیدہ وائرسز کو دوبارہ جگانے میں کامیابی بھی حاصل کی ہے۔

    ماہرین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آرکٹک کے خطے میں درجہ حرارت میں دوگنا تیزی سے اضافہ ہورہا ہے موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہزاروں یا لاکھوں برسوں سے برف کی تہوں میں محفوظ جراثیم متحرک ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین نے بتایا کہ اگرچہ اس طرح کے وائرسز کے پھیلنے کا خطرہ کم ہے مگر صورتحال پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور آرکٹک کی سطح کو منجمد رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔

    شمالی نصف کرے کا 25 فیصد حصہ برف سے ڈھکا ہوا ہے اور اس کے اندرونی سطح میں آکسیجن موجود نہیں جبکہ روشنی بھی وہاں تک نہیں پہنچ پاتی، جس کےباعث زمانہ قدیم سے وائرسز وہاں خوابیدہ حالت میں محفوظ ہیں ایسے زومبی وائرسز اب بھی ممکنہ طور پر انسانوں یا جانوروں کو بیمار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے جن زومبی وائرسز کو پھر سے متحرک کیا ہے وہ انسانوں کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ننھے جانداروں کو ہی بیمار کرسکتے ہیں مگر مستقبل میں برف پگھلنے سے دیگر جراثیم ضرور انسانوں کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

    یہ کچھ اسی طرح کا خیال ہے جو 1993 کی فلم جراسک پارک میں بھی دکھایا گیا جس میں سائنسدان ایک جگہ محفوظ ڈی این اے سے ڈائناسور کا کلون تیار کرتے ہیں جو تباہی مچا دیتے ہیں

  • ہاتھ اور پیر اکثر کیوں سُن ہو جاتے ہیں؟

    ہاتھ اور پیر اکثر کیوں سُن ہو جاتے ہیں؟

    تقریباً فرد کو ہی ہاتھوں یا پیروں کے سن ہونے، سنسناہٹ یا سوئیاں چبھنے جیسے احساسات کا سامنا ہوتا ہے،اس کیفیت میں ہاتھوں اور پیروں میں تکلیف یا کمزوری بھی محسوس ہوسکتی ہے ماہرین کے مطابق اگر اکثر ہاتھ اور پیر سن ہوجاتے ہیں، سوئیاں چبھنے یا سنسناہٹ کا احساس ہوتا ہے، تو ایسا کسی بیماری کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط…

    ماہرین صحت کے مطابق جسم میں بلڈ شوگر کی سطح بڑھ جانے سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس کے باعث ہاتھوں اور پیروں کے سن ہونے یا سوئیاں چبھنے کا اکثر سامنا ہوتا ہے،اگر ایسا ہوتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ پیشاب آنے یا ہر وقت پیاس لگنے جیسی علامات بھی موجود ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے ذیابیطس کا ٹیسٹ کرانا چاہیے،تھائی رائیڈ کے امراض کا علاج نہ کرایا جائے تو ہاتھوں اور پیروں میں جلن، سنسناہٹ اور سن ہونے جیسی علامات سامنے آتی ہیں-

    اگر آپ دوپہر کو کچھ دیر کی نیند لے کر اٹھتے ہیں اور آپ کے ہاتھ یا پیر سن یا بے حس ہورہے ہو تو آسانی سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ یہ اعصاب دب جانے کا نتیجہ ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا ہاتھ اچانک بے حس یا کمزور ہوجائے تو یہ کیفیت چند منٹوں میں دور نہ ہو تو فوری طبی امداد کے لیے رابطہ کیا جانا چاہئے۔شریانوں میں ریڑھ کی ہڈی سے دماغ تک خون کی روانی میں کمی کے نتیجے میں جسم کا ایک حس سن یا کمزور ہو جاتا ہے، اگر اس کے ساتھ بولنے میں مشکل ہو، ایک کی جگہ دو چیزیں نظر آئیں، سوچنا مشکل ہو اور آدھے سر کا درد وغیرہ بھی ہو تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

    علاوہ ازیں جسم میں اعصاب کے قریب رسولی بننے سے ہاتھوں اور پیروں کے سن ہونے کا مسئلہ بڑھ جاتا ہے ایسا کینسر یا عام رسولی سے بھی ہو سکتا ہے مخصوص ادویات سے بھی اعصاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے ہاتھ اور پیر سن ہو جاتے ہیں یا سوئیاں چبھنے کا احساس ہوتا ہے،عموماً کینسر کے علاج کے لیے کھائی جانے والی ادویات سے ایسا ہوتا ہے مگر امراض قلب یا ہائی بلڈ پریشر کی ادویات سے بھی ہوسکتا ہے۔

    جسم میں وٹامن بی 12، وٹامن بی 6، وٹامن بی 1، وٹامن ای یا وٹامن بی 9 کی کمی ہو تو اس کے نتیجے میں بھی ہاتھ پیر اکثر سن ہونے لگتے ہیں یا سوئیاں چبھنے کا احساس ہوتا ہے یہ وٹامنز اعصاب اور جسم کے دیگر حصوں کے لیے اہم ہوتے ہیں اور ان کی کمی سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے۔

    اگر اعصاب پر اردگرد کے ٹشوز سے دباؤ بڑھ جائے جیسے چوٹ لگنے سے یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے ہاتھوں یا پیروں کے اعصاب میں ایسا ہونے سے وہ اکثر سن ہو جاتے ہیں یا سوئیاں چبھنے کا احساس ہوتا ہے ،متعدد وائرل اور بیکٹریل انفیکشنز سے بھی اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس کے باعث ہاتھ پیر اکثر سن ہو جاتے ہیں یا ایسا لگتا ہے کہ کوئی ان میں سوئیاں چبھو رہا ہے۔ایچ آئی وی، ہیپاٹائٹس بی اور سی سمیت متعدد وائرسز کے شکار افراد کو اس کا تجربہ ہوتا ہے۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    اگر گردوں کے افعال متاثر ہو جائیں تو جسم میں سیال اور کچرا جمع ہو جاتا ہے جس سے اعصاب کو نقصان پہنچتا ہے جس کے باعث عموماً ٹانگیں اور پیر اکثر سن ہو جاتے ہیں جبکہ سنسناہٹ کی شکایت بھی ہوتی ہے۔

    ایسے امراض جس میں ہمارا مدافعتی نظام ہی صحت مند خلیات پر حملہ آور ہو جائے، انہیں آٹو امیون امراض کہا جاتا ہے، اس کے نتیجے میں ہاتھوں اور پیروں کے سن ہونے کی شکایت بڑھ جاتی ہے علاوہ ازیں کارپل ٹنل مرض کے شکار افراد کو اکثر ہاتھوں کی انگلیوں میں سنسناہٹ، سوئیاں چبھنے یا سن ہونے جیسے احساسات کا سامنا ہوتا ہے،یہ ہاتھوں کا ایک عام مسئلہ ہے جس کے دوران ہتھیلی میں موجود اعصاب دب جاتے ہیں ، ابتدائی مرحلے میں اس عارضے کی تشخیص ہوجائے تو علاج آسان ہوتا ہے مگر تاخیر ہونے پر اکثر سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔

    اگر آپ کو پورے جسم یمں درد کے پھیلنے اور دیر تک تھکاوٹ کا احساس ہو تو یہ ریشہ دار عضلاتی درد یا Fibromyalgia کا عارضہ ہوسکتا ہے، اس کے شکار افراد کو ہاتھوں اور بازﺅں کے سن ہونے اور ان میں سوئیاں چبھنے کا احساس بھی ہوتا ہے، یہ ایسا مرض ہے جس کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس کا کوئی مخصوص علاج بھی نہیں مگر مختلف طریقہ کار سے کافی حد تک ریلیف حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    Lupus یا چیرے کی جلد کی سوزش ایک آٹو امیون مرض ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ہمارا مدافعتی نظام اعضا اور ٹشوز پر حملہ آور ہوجاتا ہے، اس مرض کی علامات میں ہاتھوں کا سن ہونا بھی شامل ہے مگر اس کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ جسم کا کونسا حصہ اس سے متاثر ہے، اگر یہ اہم اعضا جیسے دل، گردے، پھیپھڑوں یا دماغ تک پہنچ جائے تو یہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

  • غذا ئیں جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہیں

    غذا ئیں جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہیں

    بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ذہنی صلاحیتیں ماند پڑنا شروع ہوجاتی ہیں، اس کے علاوہ ہمارہ دل بھی کمزور ہوجاتا ہےماہرین صحت بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بڑھتی عمر کے ان اثرات کو کم کرنے کے لیے معیار زندگی کو بہتربنا نے،جسمانی ورزش کرنے کے ساتھ بہتر خوراک کا انتخاب کیا جائے۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    محققین کے مطابق ہرے یا سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال بہتر ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ دل کے لیے بھی مفید ہیں جیسے پالک، بروکلی، دھنیا پودینہ وغیرہ۔ یہ وٹامن کے، لیوٹین، فولیٹ اور بیٹا کیروٹین سے بھرپور ہوتے ہیں۔

    ماہرین صحت کے مطابق فیٹی ایسڈ یعنی چکنائی بھی ہمارے جسم کے لیے انتہائی ضروری ہیں، لیکن چکنائی کا انتخاب سوچ سمجھ کے کیا جائے ورنہ یہ دل کی شریانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

    صبح کے اوقات میں چائے یا کافی کا استعمال آپ کی یاداشت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اس حوالے سے 2014 میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق 200 ملی گرام کیفین یاداشت کو بہتر بنانے میں موثر کردار ادا کرتی ہے۔

    ماہرین صحت کے مطابق پروٹین کے حصول کے لیے مچھلی کے گوشت اور سبز سبزیوں کا استعمال ضروری ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی کا گوشت اومیگا 3 فیٹی ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے یہ ہمارے جسم کو ضروری چکنائی فراہم کرتا ہے جو ہماری جلد، دماغ، دل کے ساتھ جسم کے مختلف حصوں کے لیے ضروری ہوتی ہے۔

    ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ مچھلی کا استعمال کرنا چاہئے، لیکن اگر یہ ممکن نہیں ہے تو ڈاکٹرز کے مشورے سے اومیگا 3 سپلیمنٹ کا استعمال کیا جائے یا پھر میتھی دانہ، ایوکاڈو اور اخروٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں، اس کے ساتھ روزمرہ کے کھانوں میں زیتون یا کینولا کا تیل استعمال کرنا بہتر ہے۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    ماہرین کے مطابق بیریز کا استعمال ہمارے ذہن کے لیے انتہائی مفید ہے، یہ یاداشت کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین ہفتے میں دو یا دو سے زائد بار اسٹرابیریز اور بیلوبیریز کا استعمال کرتی ہیں وہ بڑھتی عمر کے ساتھ یاداشت کی کمزوری کو روک سکتی ہیں۔

    خشک میوے پروٹین اور صحت مند چکنائی کے بہترین ذرائع ہونے کے ساتھ یاداشت اور مختلف ذہنی بیماریوں میں مفید ہیں اخروٹ میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جسے الفا لیپویک ایسڈ (ALA) کہا جاتا ہے۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط…