Baaghi TV

Tag: مبشرلقمان

  • لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    لندن پلان: عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، مبشر لقمان

    لاہور: سینئیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ لندن میں عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا-

    نجی خبررساں ادارے کے پروگرام میں میزبان عاصمہ شیرازی سے گفتگو میں سینئیر صحافی و اینکر پرسن اور تجزیہ کار مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لندن میں عمران خان، طاہرالقادری اور چوہدری برادران کو اکٹھا جہانگیر خان ترین نے کیا تھا، چوہدری برادران الگ جگہ کرائے پر لے کر رہے تاکہ کسی کو پتا نہ چلے، جنرل ظہیرالاسلام سے میری لندن میں ملاقات نہیں ہوئی نہ میں نے ان کو وہاں پر دیکھا نا میرے علم میں ہے کہ وہ وہاں تھے یا نہیں تھے،وہ شاید الگ سے لیڈرز سے ملے ہوں گے میرے سے ان کی ملاقات لندن میں تو نہیں ہوئی،میری ان سے آخری ملاقات کراچی کو ر کمانڈ ر ہاؤس میں ہوئی تھی-

    https://x.com/asmashirazi/status/1792605004349526133

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لندن پلان میں تو میں نے انہیں (جنرل ظہیرالاسلام) نہیں آبزرو کیا، جہاں تک تعلق ہے ان کو قریب لانے کا تو اس میں جو اہم کردار جس نے ادا کیا ہے وہ میرا خیال ہے وہ جہانگیر خان ترین کا ہے،اگرجہانگیر ترین نا ہوتے تو سب نے ساتھ نہیں ہونا تھا،ان چاروں کے اختلافات اتنے زیادہ تھے کہ آپ کی سوچ ہے،یعنی یہ ایک دوسرے کی طر ف منہ کر کے بات نہیں کر سکتے تھے،سوائے چودھری شجاعت کے،چودھری شجاعت ہی صر ف ایک ایسے شخص ہیں جو کسی بھی حال میں ہر کسی کو قبول کر لیتے تھے،لیکن باقی تو نہیں کرتے تھے، چودھری پرویز الہی کسی اپارٹمنٹ میں ٹھہرے ہوئے تھے میں ہوٹل میں ٹھہرا تھا ہر کسی کی نظر ہوتی ہے وہاں سے انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ میں بھی وہاں تھا،طاہر القادری بھی کسی ہوٹل میں نہیں ٹھہرے ان کی آرگنائزیشن کے ایک صاحب سے میں نے خاص پوچھا تھا،تو ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا تھا کہ میں تو کبھی کسی ہوٹل میں نہیں ٹھہرا،میں اپنے ساتھیوں کے پاس ہی ٹھہرتا ہوں-

    پی ٹی آئی کی حکومت معیشت کو جس گہری کھائی میں پھینک کر گئی ہے،سیف …

    ایک سوال کے جواب میں مبشر لقمان نے کہا کہ مجھے عمران خان نے بلایا تھا وہاں،میں وہاں اپنی چھٹیوں پر تھا،میرا ڈاکٹر طاہرالقادری کے ساتھ رابطہ شفقت والا تھا طاہری القادری نے وہاں ایک کانفرنس ر کھی ہو ئی تھی مجھے انہوں نے چیف اسپیکر لیا ہوا تھا-

    https://x.com/asmashirazi/status/1792599760349589945

    مبشرلقمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لندن میں پلان بنا نہیں بلکہ لندن میں پلان پایہ تکمیل تک پہنچا جہاں وہ ساری جماعتیں جو ایک دوسرے کی سخت مخالف تھیں ایک ساتھ بیٹھ گئیں اور مقصد نواز شریف حکومت کا خاتمہ تھا۔

    اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیر اعظم تعیناتی کیخلاف دائر درخواست سماعت کیلئے مقرر

    میڈیا پرسنز کے عدالتوں میں مفت مقدمات لڑیں گے ، لطیف کھوسہ

  • 11جنوری:پاکستان کےمایہ نازاورسینئرصحافی واینکرپرسن مبشر لقمان کی آج سالگرہ

    11جنوری:پاکستان کےمایہ نازاورسینئرصحافی واینکرپرسن مبشر لقمان کی آج سالگرہ

    لاہور:پاکستان کے مایہ ناز اور سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان کی آج سالگرہ منائی جا رہی ہے،سینئر صحافی واینکر پرسن 11 جنوری 1963ء کو لاہور میں پیدا ہوئے- مبشر لقمان نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔سینئر صحافی واینکر پرسن نے بطور میزبان چینل بزنس پلس سے صحافت میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

    ٹیلی وژن اسکرین پر اپنے پہلے تجربے کے دوران ، سینئیر اینکر پرسن مبشر لقمان نے پاکستان کے بہت سے معاشی و معاشی اور سیاسی مسائل کا احاطہ کیا تھا۔ ملک کے متعدد اہم امور کے بارے میں اپنے شاندار موقف کی وجہ سے صحافت کے میدان میں اپنی الگ شناخت بنائی- اس کے بعد وہ ایکسپریس نیوز کے پروگرام اور پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ ، ایکسپریس نیوز میں بطور میزبان پروگرام پوائنٹ بلینک میں شامل ہوئے ، اور پھر بعد میں دنیا نیوز میں منتقل ہوگئے اور پروگرام کھری بات ود لقمان کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیئے-اس کے بعد انہوں نے کھرا سچ کی میزبانی میں اے آر وائی نیوز میں شمولیت اختیار کی ، جس کے ذریعے انہوں نے متعدد سیاستدانوں کے کرپشن اور جھوٹ کو بے نقاب کیا۔

    مبشر لقمان 2007 اور 2008 میں انفارمیشن ٹکنالوجی ، مواصلات پنجاب کےنگران وزیربھی رہے اور اب فی الحال وہ پی این این میں ایک ٹاک شو کھرا سچ کی میزبانی کررہے ہیں ۔ان کا پروگرام کھرا سچ عوام میں مقبول ترین پروگراموں میں سے ہے ۔ مبشر لقمان کھرا سچ میں ہمیشہ کھرا سچ ہی بولتے ہیں حکمرانوں کی کرپشن کو بے نقاب پر مبشر لقمان پر درجنوں مقدمات قائم کیے گئے تاہم رب العزت نے انہیں کامیابی دی اور مقدمے خارج ہوئے عدالتی فیصلے انکے حق میں آئے۔

    مبشر لقمان پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک باغی ٹی وی کے سی ای او بھی ہیں ۔ باغی ٹی وی اردو انگریزی، چینی زبان، پشتو ، دری میں شائع ہو رہا ہے، مبشر لقمان کا یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بھی پاکستان کے مقبول ترین چینلز میں سے ہے۔بیباک تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ کھرا سچ اور پھر اس پر ڈٹ جانا مبشر لقمان کی پہچان ہے، انہوں نے مفاد کی خاطر کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا بلکہ علی الاعلان کلمہ حق کہا یہی وجہ ہے کہ ان پر نہ صرف مقدمے بنائے گئے بلکہ متعدد بار انکے پروگرام کو بھی بند کروانے کی مذموم کوشش کی گئی

    مبشر لقمان کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر HBD_Mubasherlucman ٹرینڈ میں مداحوں سمیت معروف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں اور ساتھ ہی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے-

  • عمران خان کے 1 تیر سے 7 شکار۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرامہ .

    عمران خان کے 1 تیر سے 7 شکار۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرامہ .

    لاہور: عمران خان کے 1 تیر سے 7 شکار۔ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈرامہ ،عمران خان پر حملے کے بعد سب سے زیادہ فائدہ بھی عمران خان کو ہوا ہے اور اس کے واضح ثبوت ہے ، اس حوالےسے سینئر صحافی مبشرلقمان نے عمران خان پرہونے والے حملے کا پس منظربیان کرتے ہوئے اہم تکنیکی نقات پیش کیے ہیں اور کہا ہے کہ کوئی بھی ذی شعور ان سوالات کےجوابات تلاش کرسکتا ہے

    مبشرلقمان نے کہا کہ وزیرآباد میں عمران خان نے ڈرامہ کرنے کا زبردست انداز اپنایا ، انہوں نے چیئرمین واپڈا کا ایک واقعہ بتایا، اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیرآباد حملے میں عمران خان نے جان بوجھ کراس واقعہ کے ثبوت مٹا دیے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں بتاتا ہوں کہ عمران خان نے ایک نہیں ساتھ فائدے اٹھائے ، میں یہ ثابت کرتا ہوں ، ان کا کہناتھا کہ جس شخص نے تسلیم کیا ہے کہ حملہ اس نے کیا ہے تویاد رکھیں کہ اس کو سزا کبھی بھی نہیں ہوگی اور یہ بھی یاد رکھیں کہ وہاں ایک بے گناہ شخص کوگولی لگی اس کو کس نے مارا ، فائرنگ تو کہیں اور سے ہورہی تھی اوراسٹیج سے گولی اس شخص کو لگی پھریہ بھی دیکھا گیا کہ وہ بے چارہ فوت ہوگیا اس کا پوسٹ مارٹم جلدی جلدی کرکے اس کودفنانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ پتہ نہیں لگایا گیا کہ اس کو گولی کس نے ماری

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ پھر کوئی بھی پی ٹی آئی والا اس کے نماز جنازہ میں بھی نہیں گیا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کو اس سارے واقعہ کا فائدہ ہوا ہے اور اس کا مطلب واضح ہے کہ جس کو فائدہ ہوا وہی بہتر جانتا ہے کہ یہ کھیل کیسے کھیلا گیا

    مبشرلقمان نے کہا کہ جب عمران خان نے تقریر کی تو میں نے اپنے پروڈیوسر سے پوچھا کہ عمران خان نے تقریری کرلی تو اس نے جواب دیا جی کرلی ہے تو میں نے پوچھا کہ اس نے کون سی خاص بات کی تو انہوں نے کہا کہ عمران خان نے تین لوگوں‌پر الزامات لگا دیئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات تووہ لگاتے رہےہیں ، جس طرح کوئی یہ الزام لگاتاہے کہ رمیز راجہ نے پیسے کھائے ہیں

    انہوں نے کہا کہ جب عمران خان پرحملہ ہواتو وہاں تھر تھر کی آوازآئی وہ کہاں سے آرہی تھی ، ان کا کہنا تھاکہ فیصل جاوید کے کپڑوں پراس طرح خون لگا ہے کہ جس طرح کوئی جانورذبح ہوجاتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ وہاں اس کے بعد واقعہ کے شواہد مٹا دیئے گئے ، وہاں آرپی او اور ڈی پی او گوجرانوالا ذمہ دار ہیں پولیس یہ شواہد رکھتی ہے لیکن پولیس نے کچھ ایسا نہیں کیا

    ان کا کہنا تھاکہ عمران خان پر حملہ ہوا تو وہ وزیرآباد جانے کے جو کہ قریب تھا اور پھرراستے میں گوجرانوالا کا ہسپتال بھی تھاوہاں سے علاج کیوں نہیں کروایا،وہ شوکت خانم سے کیوں علاج کروا رہے ہیں ،ان کا کہنا تھاکہ اس طرح تو نہیں ہوتا ، پھروہاں جسم سے گولیاں نکالنے کا کام کیا جاتا ہے جو کہ اس مقصدکےلیے ہسپتال ہے ہی نہیں

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ کبھی کہا جارہا ہے کہ دو گولیاں ، تین لگیں اور کبھی کہا جاتا ہے کہ چار گولیاں لگیں ، کہیں‌ یہ کہا جاتا ہے کہ گولیوں کے خول لگے ، یہ کیا ڈرامہ ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اس سارے حملے کا فائدہ عمران خان کو پہنچا ہے

    ان کا کہنا تھا کہ گولی لگی ہوتو خون تو بہےگا لیکن کوئی خون نہیں لگا ، ایسے نہیں ہوتا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب حملہ ہوا تو کنٹینر سے ہاتھ ہلاتے ہوئے ایسے اتر رہے ہیں کہ جیسے آپ ٹارزن ہیں ان کا یہ کہنا تھا کہ کس طرح یہ شخص ڈرامہ کررہا ہے ، کبھی یہ کہا گیا کہ عمران خان نے بے ہوش ہونے کی دعا لینے سے انکار کردیا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سینیٹر اعجاز چوہدری بھی کہہ رہے ہیں کہ میں نے کہا تھا کہ وزیرآباد میں حملہ ہوگا تو پھر اس کی بات پر کس نے توجہ دی ، ان کا کہنا تھا کہ اب ان کو اپنے بیان کی وضاحت کرنا پڑے گا

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کل کو جس پر حملہ کرنے کا الزام ہے ، ان کا کہنا تھا کہ حملہ کرنے والے نے تسلیم کرلیا اور پھر اس کی وڈیو بیان بھی آگیا اور پھردوبار بیان آیا ، ان کا کہنا تھا کہ اس بندے کو کبھی بھی سزا نہیں ہوسکتی ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ وہ عدالت میں بیان دے گا کہ مجھ پر تشدد کرکے بیان لیا گیا

    یوں حملہ آور کو سزا نہیں ملے گی ، ان کا کہنا تھا کہ تمام شواہد مٹا دیئے گے جس کا مطلب یہ ہے کہ حملہ آوروں تک پہنچنا مشکل ہوجائے گا، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح تو کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی ہے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سارے واقعہ کا فائدہ عمران خان کو ہوا ہے اور مزید ہوگا ،

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اداروں پر الزامات لگائےگئے ،ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ الزامات اچھے نہیں ہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم بھی الزامات لگاتے رہے لیکن شخصیات پر اداروں اور پارٹیوں پر نہیں ، ہم نے فرح گوگی بشریٰ بی بی ، علی زیدی ، فواد چوہدری سمیت کئی لوگوں پر الزامات لگائے لیکن پاکستان تحریک انصاف پر کبھی بھی الزامات نہیں لگائے ،

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سارے واقعہ کا فائدہ عمران خان کو ہوا ہے اور وہ اس واقعہ سے مزید فائدہ اٹھائے گا لیکن اصل حقائق تک شاید کوئی نہیں جائے گا

  • مریم نواز،دعا کروں گا،کبھی ملک کی حکمران نہ بنو:ارشدشریف کےمبینہ قاتل کس کےبندے نکلے؟

    مریم نواز،دعا کروں گا،کبھی ملک کی حکمران نہ بنو:ارشدشریف کےمبینہ قاتل کس کےبندے نکلے؟

    لاہور:ہمارے انتہائی شفیق ساتھی ارشد شریف کو کینیا میں شہید کردیا جاتا ہے ، ان کے موبائل فونز اور ان کا لیب ٹاپ غائب کردیا جاتا ہے، یہ اتنا بڑا خطرناک کھیل کوئی عام بندہ نہیں کرسکتا ، وہاں ایم کیوایم الطاف حسین کے کارندے بھی موجود ہیں مگریہ منظم کھیل کوئی عام بندہ نہیں کھیل سکتا

    ان سیدھی سادھی باتوں کا اظہارکرتے ہوئے سنیئر صحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ وہ بہت دکھی ہیں کہ ایک پاکستان کے ایک بڑے نام کو کینیا میں اس کو مروادیا جاتا ہے ، یہ لوگ کون ہیں ان کو منظرعام پر لانا ہوگا ،

    سینیئر صحافی مبشرلقمان نے اس موقع پر مریم نوازکو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ کسی کی وفات پر اس طرح طعنے نہیں دیے جاتے اور نہ ہی اس قسم کی گھٹیا سوچ کا کوئی تصور کرسکتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے جو آج صبح ٹویٹ کی ہے ،اس نے بہت دکھی کردیا ہے ، اس کو اس قسم کی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی ، مریم کا اپنی والدہ محترم کی وفات کو ارشد شریف کی وفات سے لنک کرکے طعنہ نہیں دینا چاہیے تھا ، سب نے اس جہان فانی سے کوچ کرجانا ہے ، ، اگر کسی سے کوئی زیادتی ہوگئی ہے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم سب کو جانے والی کی تمام غلطیاں معاف کردینی چاہیں ، اور اگرہمارے اختیار سے معاملہ باہرہے تو جس ذات کے پاس جانے والا جارہا ہےوہ بہتر جانتا ہے

    مریم نواز جو آپ نے حرکت کی اب تو دل سے دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ‌آپ کو ہمارے اوپرحکمران نہ بنائے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جومریم نوازلہجہ اور رویہ اپنا رہی ہیں یہ زیب نہیں دیتی ،عمران خان پر بھی تنقید کرتا رہا ہوں کہ ان کوچھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑے لیڈر بنیاد نہیں بناتے لیکن آپ نے توتمام ضابطے ہی توڑ دیے ،

    مبشرلقمان نے کہا کہ ارشد شریف سے سیاسی اختلاف تو ہوسکتا ہے لیکن یاد رکھیں ارشد شریف اس وطن عزیز کا وہ بیٹا ہے کہ جس کی وفات پر پاکستان کے ہرگھر سے رونے اورآہوں اور سسکیوں کی آوازیں آرہی ہیں، بے نظیربھٹو کے بعد ارشد شریف ہیں کہ جن کی وفات پر ہرپاکستانی دکھی ہے، بلکہ ارشد شریف کی وفات پرجہاں کہں بھی پاکستانی موجود ہیں یا صحافت کی دنیا سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں وہ سب غمگین اور دکھی ہیں کہ کس طرح ایک حق کی آواز کوطاقت کے ساتھ دبا دیا گیا

    ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ میں جہاں بھی جارہا ہوں وہاں مجھے ارشد شریف کی شہادت پرہرکوئی دکھی نظرآرہا تھا ، ان کا کہنا تھا کہ کسی کو ارشد شریف کی سیاسی سوچ سے تواختلاف کرسکتا ہے لیکن ارشد شریف جیسا ہونہار، تابندہ اور ملک وقوم کا خیرخواہ صحافی بے بسی کی حالت میں ماردیا گیا ،ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف ایک ہیرا تھا جسے ہم سے چھین لیا گیا ہے

    مبشرلقمان نے دکھ بھرے لمحات بیان کرتےہوئے کہا ہے کہ کل جب میں نے یہ خبر سنی تو میں کاشف عباسی سے اس بات کی تصدیق کرنا چاہی تو انہوں نے کہا کہ کاشف کا کہنا تھا کہ میں نے خبردینے والوں سے معذرت کی اور کہا کہ میرے میں اتنی ہمت نہیں کہ میں ایک دکھی ماں ، بچوں کوان کے پاپا کی وفات کی خبر دوں ، ان کا کہنا تھا کہ اگر میں بھی ہوتا تو یہ نہ کرسکتا تھا

    مبشرلققمان نے کہا کہ کل سے ہرکوئی ارشد شریف کی شہادت والی تصاویر ہر کوئی شیئر کررہا ہے جوکہ نہیں کرنی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جس طرح دبئی حکومت نے ارشد شریف کو ملک بدر کیا ایسے تو کوئی بھی نہیں کرسکتا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرڈی پورٹ کرنا تھا تو پاکستان کردیتے جیسے کیا جاتا ہے تو پھر کس کے کہنے پران کو کینیا کی طرف جانے پر مجبور کیا گیا ، ان کا کہنا تھا کہ کینیا کی پولیس جس طرح جرائم کرتی ہے ان کے مقابلے میں تو پنجاب پولیس والے تو فرشتے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اتنا زیادہ تضاد ہے کہ میرےجیسے بندہ 10 منٹ میں انکی اصلیت سامنے لاکردکھا دوں گا

    مبشرلقمان کاکہنا تھا کہ وہ دونوجوان کون تھے ،خرم اور وقار بنیادی طور پر الطاف حیسن کے بندے ہیں یہ بوری بند لاشوں کے ڈیلر ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ان دونوجوانوں کے فارم کے نزدیک واردات ہوئی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ارشد شریف کو کینیا کس نے بھیجا ، بعض کا کہنا تھا کہ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ وہ ریل اسٹیٹ کے سلسلے میں آیا تھا لیکن یہ درست نہیں ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان دونوں کو پولیس تحفظ دے رہی ہے، انکا کہنا تھا یہ بڑی خطرناک گیم ہے ،

    ان کا یہ بھی کہناتھاکہ ہرکوئی تحقیقات کرنے پر لگا ہوا ہے ، خرم اور وقار کو کون بچا رہا ہے ، ارشد شریف کے موبائلز اور لیب ٹاپس کس کے پاس ہے ، یہ عام بندہ نہیں کرسکتا ہے یہ بڑی قوت ہے جو خرم اور وقار کو بچانے کے لیے کوششیں کررہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ وہاں ہورہا ہے اور ہم یہاں الجھے ہوئے ہیں ، ان کا یہ کہنا تھا کہ اطہرمن اللہ نے درست فیصلہ کیا کہ انہوں نے جوڈیشیل کمیشن نہیں بنایا ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہاں جوڈیشل کمیشن کیا کرے گا ، جب بڑے اثرانداز ہوں گے ،ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف جیسا سمجھدار ، زیرک اورملک وقوم کا خیرآدمی جس طرح اس کوراستے سے ہٹایا گیا، اور جس طرح وہ بیچارہ پاکستان سے دبئی ، پھر دبئی سے لندن اور پھرلندن سے دبئی اورپھردبئی سے کینیا اس کے پیچھے کون سی قوتیں تھیں جو اس کا پیچھا کررہی تھیں ، ارشد شریف کن کے راستے میں رکاوٹ تھا جواس کو راستے سے ہٹانا چاہتے تھے ، یہ بہت ہی ایک خطرناک کھیل ہے ،وہ ایک محبت وطن ، سب کی آنکھوں کا تارا تھا جسے ہم سے چھین لیا گیا ، وہ تو اگلے سفر پر روانہ ہوچکا جہاں ہرکسی نے جانا ہےمگرافسوس کہ اتنے بڑے سانحے سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا ، وہی منفی سوچ ، وہی الزام تراشیاں ، اس موقع پر ابصار عالم کے واقعہ کو بنیاد بنا کرجوزبان درازی کی جارہی ہے ، یہ سب باتیں بے فائدہ اور تکلیف دہ ہیں ، ارشد شریف کوئی اور نہیں تھا وہ بھی ہمارا ہی تھا اس کی شہادت پرہمیں اس قسم کے پراپیگنڈے سے باز رہنا چاہیے اور اس کے درجات کی بلندی کے لیے دعائیں کرنی چاہیں

  • پچھترسالہ تاریخ کا انوکھا تھیٹرشروع،گندی سیاست سے گندی ویڈیوز کا سفر، عمران خان، توتو گیا

    پچھترسالہ تاریخ کا انوکھا تھیٹرشروع،گندی سیاست سے گندی ویڈیوز کا سفر، عمران خان، توتو گیا

    لاہور:پچھتر سالہ تاریخ کا انوکھا تھیٹرشروع کیا جاچکا ہے اور اس ملک میں گندی سیاست سے گندی ویڈیوز کا سفر بھی شروع کردیا گیا ہے جس کی پوری کہانی مبشرلقمان اپنی زبانی بتارہے ہیں،سینئرصحافی کا کہنا تھا کہ پہلے عمران‌ خان کی آڈیو لیکس ہوئیں اور اب گندی ویڈیوز لیک ہورہی ہیں ، ان کے پیچھے کچھ بیگانے ہیں تو کچھ اپنے بھی حصہ ڈال رہےہیں

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے ساتھ گرفتار ہوچکے ہیں ، حامد زمان ، سینیٹر سیف اللہ نیازی کی گرفتاری کےبعد عمران خان کی گرفتاری کی بھی اطلاعات ہیں آرہی ہیں کہ کسی وقت بھی گرفتاری ہوسکتی ہے،اس سلسلے میں بنی گالہ کے ارد گرد سیکورٹی سخت کردی گئی ہےاور اطلاعات ہیں کہ عمران خان کے خلاف جو نیا کیس درج ہوا ہے اس کے تحت عمران خان کو بہت جلد گرفتارکرلیا جائے گا

    مبشرلقمان کہتےہیں کہ اتنے بہادر ہیں کہ پولیس کی اطلاع ملتے ہی عدالت پہنچ جاتے ہیں اور فقط پانچ ہزار میں ضمانت کروا لیتے ہیں کہاں ہے انکا یہ جہاد اور کہاں ہے وہ بہادری کی داستانیں، کہتے ہیں کہ جیل بھروتحریک شروع کریں گے لیکن ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا کیوںکہ جب اس پر ایکش لیا جائے گا تو کوئی بھی نظر نہیں آئے گا

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان کے خلاف جو مقدمات تیار کیے جارہےہیں ان میں ان کا بچنا بہت مشکل ہے

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ میری گندی گندی ویڈیوز آرہی ہیں یہ کیسے پتہ چل گیا ، عمران خان نے کس طرح ارسلان بیٹے کو استعمال کیا ، ان کا کہنا تھاکہ گندی ویڈیوز کا جو شور ڈالا جارہا ہے وہ بہت جلدی ائیں گی ، ان کا کہنا تھا کہ پہلے ٹائیگر فورس ناکام ہوئی ہے اور اب انصآف فورس کواس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا کہ یہ ثابت کیا جائے گا کہ یہ ویڈیوز جعلی ہیں ،

    ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں گالی کلچر کو پروان چڑھایا گیا ، جو بھی عمران خان کی پسند ہے ، عمران خان کے خلاف کیسز تیار کیے جارہے ہیں، پنجاب میں کچھ ایسے ہی ہورہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہاشم ڈوگر کے استعفے کے بعد جو وزیرداخلہ ان کا غلام ہو، ملک کی بجائے عمران خان کا نوکر ہو، ان کا کہنا تھا کہ وہ پنجاب کو وفاق کے خلاف کھڑا ہو،انکا کہنا تھا کہ عمران خان اس وزیرداخلہ سے چوہدری پرویز الٰہی پر نظر رکھے ،

    عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

    عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

    عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

    عمران خان کے غنڈے اور باجیاں تیار، مبشر لقمان پر کسی وقت بھی حملہ ہو سکتا

  • بشریٰ بی بی کوعمران نےتھپڑمارا،بشیرمیمن کو باتھ روم میں بند”کٹاکھل گیا”ایک ہیکردوکہانیاں:اہم انکشافات

    بشریٰ بی بی کوعمران نےتھپڑمارا،بشیرمیمن کو باتھ روم میں بند”کٹاکھل گیا”ایک ہیکردوکہانیاں:اہم انکشافات

    لاہور:بشریٰ بی بی کوعمران نےتھپڑمارا،بشیرمیمن کو باتھ روم میں بند”کٹاکھل گیا”ایک ہیکردوکہانیاں:اہم انکشافات ، یہ انکشافات دومقامات پر ہوئے پہلا انکشاف ہیکر نے کیا اور دوسرا انکشاف بشیرمیمن نے کیا ، ان دونوں انکشافات کا انکشاف مبشرلقمان نے کیا

    پاکستان کے سینیئر صحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ جونہی وہ پاکستان پہنچے تو پاکستان کا سیاسی ماحول بہت ہی پراگندہ تھا ، سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے بہت زیادہ انکشافات ہوچکے تھے اورہورہے تھے ، اور اس کے ساتھ ساتھ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیرمیمن بھی بہت کچھ بتا چکے تھے

    مبشرلقمان بتاتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عمران خان سے علیحدگی ہوگئی ہے ، اوراب ہیکر نے اس خبر کو جزوی طور پردرست قرار دیا ہے ، ہیکر کا کہنا ہے کہ عمران خان نے بشریٰ‌ بی بی کو تھپڑ رسید کیا ہے اور کپتان اور بی بی کے درمیان فاصلے بڑھے ہیں ، مبشرلقمان کہتےہیں کہ بشریٰ‌ بی بی کچھ عرصہ قبل لاہور میں قیام پزیر رہیں اور یہی وہ وقت تھا جب بشریٰ بی بی کو تھپڑ پڑے

    دوسری بات جو مبشرلقمان نے بتائی وہ یہ تھی کہ بشیر میمن کے حوالے سے ہیکر نے کچھ انکشافات کیے تھے اور تھوڑی دیر بعد انکو ڈیلیٹ کردیا تھا اس سے ثابت ہوتا ہےکہ جو باتیں گردش کررہی تھیں وہ درست تھیں ، انہوں نے بشیر میمن سے پوچھا تو بشیر میمن نے اس بات کی تصدیق کی کہ واقعی ان کو باتھ روم میں غصہ ٹھنڈا کرنےکے بھیجا گیاتھا اور اس سے پہلے اعظم خان مجھے اس وقت وزیراعظم عمران خان سے گفتگو کے دوران معاملہ خراب ہونے کی وجہ سے اپنے ساتھ دوسرے کمرے میں لے گئے تھے

     

     

    بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان مریم بی بی کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کررہے تھے اس لیے وہ اپنے جزبات پر قابو نہ پاسکے اور عمران خان کو بہت زیادہ سخت ردعمل دیا ، جس کی وجہ سے مجھے باتھ روم میں بھیج دیا گیا ،

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ جہاں یہ واقعہ بہت دلخراش تھا وہاں عمران خان کے سپوکس مین بھی زہراگل رہے ہیں، انہوں نے شہبازگل ، فواد چوہدری کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کو کچھ بھی حیا نہیں ،ان کی وجہ سے بھی عمران خان کو پریشانی اٹھانا پڑ رہی ہے ،

  • پتہ چل گیا:پی ایم ہاوس کا ڈیٹا کس نے لیک کیا؟اپنے ہی گراتے ہیں ،نشیمن پہ بجلیاں:مبشرلقمان کی فکرانگیز گفتگو

    پتہ چل گیا:پی ایم ہاوس کا ڈیٹا کس نے لیک کیا؟اپنے ہی گراتے ہیں ،نشیمن پہ بجلیاں:مبشرلقمان کی فکرانگیز گفتگو

    لاہور:اسلام آباد کا وزیراعظم ہاوس جس میں ہونے والی ہرگفتگو ٹیپ ہورہی ہے اوراتنا بڑا یہ واقعہ ہے کہ جس کی حساسیت بہت ہی زیادہ ہے ، یہ کام کس نے کیا اور کیوں کیا یہ سوال اہم ہے ، اس حوالے سے سینیئر صحافی مبشرلقمان نے سیر حاصل گفتگو کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس کھیل کے پیچھے حکومتی لوگ تو شاید نہ ہوں مگراگر پی ٹی آئی کے لوگوں کا کہا جائے تو اس پریقین بھی کیا جاسکتا ہے

    مبشرلقمان نے اس حوالے سے کہا ہے کہ بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ وزیراعظم ہاوس میں پارٹی کی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگومنظرعام پر آئی ہوئی ہے اور کسی کو اس کی خبر نہیں ، یہ گفتگو اس قدر عام ہوگئی ہیے کہ فواد چوہدری نے کہہ دیا ہے کہ یہ ڈارک ویب بھی دستیاب ہے ، آخرفواد چوہدری کو کس نے بتایا کہ یہ ڈارک ویب پر بھی موجود ہے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ وزیراعظم ہاوس میں جانے سے پہلے موبائل لے لیے جاتے ہیں اوراس کے باوجود بھی اگرکوئی موبائل اندر لے کرجاتا ہےتو یقینا وہ وزیراعظم کا انتہائی معتمد ساتھی ہی ہوگا ، مریم نواز کے داماد کے متعلق گفتگو ہوتی ہے اور یہ دنیا میں ہرجگہ پہنچ جاتی ہے جس میں مریم نوازبھارت سے اپنے داماد کےلیے مشنری منگوانے کے لیے وزیراعظم کو بھی استعمال میں لاتی ہیں ، ان کاکہنا تھاکہ پارٹی کے رہنماوں کے درمیان ہونے والی دیگرگفتگو بھی اب ہرجگہ دستیاب ہے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ وزیراعظم ہاوس کی سیکورٹی آئی بی کے ذمہ ہے اور آئی بھی روزانہ دو مرتبہ اس سیکورٹی کا جائزہ لیتی ہے ، اگر اس کے باوجود خفیہ گفتگو منظرعام پرآگئی ہے تو یہ سوالیہ نشان ضرورہے ، دوسری بات یہ ہے کہ آئی بی وزیراعظم کے دوروں سے قبل بھی وزیراعظم کی پرائیویسی کو یقینی بناتی ہے

    مبشرلقمان کہتےہیں کہ ان کوجو معلوم ہوا ہے اس کے مطابق اسلام اباد میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی پی ٹی آئی کے کسی شخص کی ہے اور یہ بھی امکان ہے کہ آئی بی میں‌ ایسے لوگ موجود ہوں‌جو پی ٹی آئی سے وفا داریاں رکھتے ہوں ، ان کا کہنا تھا اس بہت بڑے اسکینڈل کہ تہہ تک پہنچنے کےلیے بہت بڑے فیصلے کرنے ہوں‌گے اور اس میں ملوث کرداروں تک پہنچنا ہوگا اورپھرانکو قرار واقعی سزا دینا ہوگی ،

  • عمران خان کا پلانٹڈ انٹرویو،کامران خان لفافہ صحافی ہے:مبشرلقمان

    عمران خان کا پلانٹڈ انٹرویو،کامران خان لفافہ صحافی ہے:مبشرلقمان

    لاہور:عمران خان کا پلانٹڈ انٹرویو،کامران خان لفافہ صحافی ہے:مبشرلقمان نے سب کے سامنے حقیقت کھول کررکھ دی ہے، اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہےکہ میں سُن رہا ہے کہ عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ سراسرغلط اور ایک گھٹیا پن ہے، مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ یہ کیسا آدمی ہے پہلے آرمی چیف کے خلاف تھا ، نیوٹرل ، ایکس وائے اور پتہ نہیں کہ کیا کیا القابات دیئے لیکن آج پھرایسے بات کررہا ہے کہ جیسے کوئی اختلافات ہی نہیں ، ان کا کہنا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک آدمی کی مدت ملازمت پوری ہوچکی ہے اور اس سے کہا جائے کہ وہ اس وقت تک کام کرے جب تک الیکشن نہ ہوجاتے ، اگرالیکشن دو سال نہ ہوتو کیا باجوہ کو دوسال مزید قیادت کرنی چاہے

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان جس عمر کو پہنچ چکے ہیں ان کا ذہنی ٹیسٹ کروانا چاہیے ، یہ کیسے عجیب لوگ ہیں‌ جو کچھ مرضی کہیں کریں ان کو حق ہے ، یہ بار بار یوٹرن لیتے ہیں ، چوہدری شجاعت حسین جیسا شخص جو اپنے کپڑے تبدیل نہیں کرسکتا ، بول نہیں سکتا وہ ہمیں‌اب درس دے گا کہ حکومت کیسے کرنی ہے

    مبشرلقمان نے کہا کہ عمران خان ایک چالاک شخص ہے اس کی اس بات کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی چال ہوگی ، مبشرلقمان نے کہا کہ وہ تو عمران خان کی باتوں پو اعتبار نہیں کرتے

    مبشرلقمان نے مزید کہا کہ خان صاحب نے جو 5 ارب روپے سیلاب زدگان کے لیے اکٹھے کیے تھے وہ کہاں گئے ، کس اکاونٹ میں مجھے تو نہیں پتہ کہ وہ کہاں‌ ہیں‌، یہ سب جھوٹ ہے ،مبشرلقمان نے صحافی کامران خان کے متعلق کہا کہ وہ لفافہ صحافی ہے اور اس ملک میں لفافہ صحافیوں کی کمی نہیں ہے ، کامران خان وہ صحافی ہے جو کبھی کس میڈیا چینل میں جاگھستا ہے کبھی کس میں ، اور اس کا کام ہی یہی ہے کہ وہ لفافے پر یقین رکھتا ہے ،کامران خان نے جوعمران خان کا انٹریوکیا وہ پلانٹڈ تھا ، کیوں نہ کامران خان نے عمران خان سے یہ سوالات کیے کہ وہ پانچ ارب کہاں ہیں ، کس طرح سیلاب زدگان کی مدد کریں‌ گے

    مبشرلقمان نے کہا کہ مجھے کئی مرتبہ عمران خان کا انٹریوکرنے کی آفر ہوئی لیکن میں نے انکار کردیا ، شبلی فراز ، شہبازگل نے کئی مرتبہ کہا کہ وہ خان صاحب کا انٹرویو کریں اگرخود نہیں آتے تو سوالات ہی بھیج جن کے جوابات درکار ہیں

    مبشرلقمان نےکہا کہ کبھی عمران خان کہتا ہے کہ مجھے عدالت میں بولنے نہیں دیا گیا ، آپ اپنے وکلا کے ذریعے تحریری جواب جمع کروادیتے ، اگرعدالت نے عمران خان کو جانے دیا توپھر کوئی بھی عدالت کی توہین کرسکتے گا، اور یہ سلسلہ چل پڑے گا ، اس لیے ضروری ہے کہ عدالت جس نے سوموٹوایکشن لیا اب کچھ نہ کچھ ضرور کرگزرے، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان ایک ہٹ دھرم شخص ہے

  • ابھی وقت ہے آنکھیں کھول لیں ورنہ سب کچھ لُٹ جائے گا:مبشرلقمان کا پیغام

    ابھی وقت ہے آنکھیں کھول لیں ورنہ سب کچھ لُٹ جائے گا:مبشرلقمان کا پیغام

    لاہوار:میں آج کوئی سیاسی گفتگو نہیں کررہا ، نہ ہی میں آج سیاست کو موضوع بنانا چاہتا ہوں مجھے تو فکر ہے کہ جب اس دنیا کے بڑے برے طاقتورملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں توپھر پاکستان کا کیا بنے گا، یہ کہنا تھا سنئر صحافی مبشرلقمان کا جونہ صرف سیاسی امور پر دسترس رکھتے ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی معاملات کو بڑے قریب سے دیکھتے ہیں

    سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں آج دنیا کے تازہ ترین حالات سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں جن پر نظررکھنا ہر پاکستانی اور خاص کرحکمران طبقے کے لیے تو بہت ہی ضروری ہے جوملکی مفاد کے حوالے سے عاری نظرآتا ہے، مبشرلقمان کہتے ہیں کہ دنیا میں ایک طرف اس برطانیہ کی ملکہ کی وفات کی رسومات جاری ہیں جوبرطانیہ دنیا میں ایک بڑا طاقتور ملک تھا لیکن آج اس ملک کا یہ حال ہے کہ وہاں‌لوگ ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں‌

    مہنگائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لوگوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ، پھرسردی کا موسم بھی آرہا ہے ، اور یورپ کی سردی تو بہت ہی سخت ہوتی ہے جہاں آگ جلانے کے بغیرسردی کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ، جب برطانیہ سمیت یورپ میں‌ایک طرف مہنگائی ہے اور دوسری طرف گیس اور توانائی کے دیگرذرائع کا بحران ہےتو ان کو توتڑپنا یقینی نظر آرہا ہے

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ امریکہ کا بھی یہی حال ہے وہاں‌ مہنگائی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ، وہاں امریکہ میں ایک عام شخص کی تنخواہ دو اڑھائی ہزار ڈالر ہے تو اگر ایک شخص کو زندہ رہنے کے لیے کھانے پینے کے لیے اس کی تنخواہ کا پچاس فیصد خرچ ہوجائےتو وہ باقی ضروریات کس طرح پوریں کریں گے ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے آجکل وہ کریڈٹ کارڈ کے گرد ہی گھوم رہے ہیں تاکہ ان کو کم سے کم خرچ کرنے پڑیں‌

    سینئرصحافی کا یہ بھی کہنا تھا کہ یورپ اس وقت توانائی کے سخت ترین بحران کا سامنا کررہا ہے اوریورپ کی توانائی کے چشمے روس سے نکلتے ہیں‌ روس یوکرین جنگ کے بعد روس نے اپنی سپلائی لائین بند کردی ہٰیں جس کےبعد یورپ میں سخت اندھیرے چھا جانے کے خدشات ہیں ، سخت سردی ہوتی ہے اس سردی میں‌ زندہ رہنے کےلیے کمروں کو گرم رکھنا ضروری ہے اوریہ صرف گیس سے ممکن ہے جو روس سے آرہی ہے ، اس کے باوجود روس نے یورپ کو گیس کی کچھ مقدار فرااہم کرکے ایک سو ارب ڈالرکما بھی لیے ہیں‌

     

     

    دوسری طرف یورپ میں جرمنی کہ جوآج سے دو تین سال پہنے بہت زیادہ ترقی کررہا تھا آج یورپ میں‌اگرکسی کا بُرا حال ہے تو وہ جرمنی کا ہے ،جس کی معیشت ڈوب رہی ہے ، جس کو توانائی کے بحران کا سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے ، مہنگائی ہے ، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور جرمنی کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا کہ وہ اس مشکل صورت حال سے کسیے بچ پائے گا ،

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بعض لوگوں‌کا یہ کہنا ہے کہ اگرروس نے یوپر کو جانے والی گیس کی سپلائی منقطع کردی ہے تو یورپ قطر سے گیس لے لے ، ایل پی جی اور این ایل جی قطر کے پاس بہت زیادہ گیس کے ذخائر ہیں‌

    مبشرلقمان کہتے ہیں‌ کہ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں‌کہ قطرسے گیس لینے کے لیے کم از کیم تین سال کا عرصہ درکار ہے اور اس مقصد کےلیے کھربوں ڈالرز بھی چاہیں ، یورپ کے پاس پیسے بھی نہیں ، مہنگائی ہے ، بے روزگاری بڑھ رہی ہے ،قطر سے گیس کے لیے پائپ لائنز اور دیگرسسٹمز کو بھی انسٹال کرنے کے لیے بہت وقت درکار ہے ،ان حالات میں روس کے متبادل کے طور پر گیس کی فراہمی بہت ہی مشکل ہے اور ناممکن کے قریب تر ہے

    مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ وہ تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ روس یوکرین جنگ میں روس نے ان حالات کا مقابلہ کرنے کی پہلے ہی منصوبہ بندی کررکھی تھی اور وہ اچھے انداز سے آگے بڑھ رہا ہے اوران حالات میں چین بھی روس کا برا حلیف بن کرسامنے آیا ہے . چین روس کے تیل اور گیس کا بڑا خریدار ہے اور چین کو روس کی سلامتی عزیز ہے، آنے والے دنوں میں یورپ کومزید سخت حالات اور مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا

    یورپ اپنی سرحدیں‌کھول کردنیا بھر سے آنے والوں سے پیسے لینے کا کاروبار شروع کرے گا ، کینیڈا پہلے ہی اس قسم کے کاروباری انداز کو اپنا رہا ہے ،

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں بھی توانائی کا بحران ہے اور ہمیں اس بحران سے نکلنے کے لیے ہائیڈل پاور پراجکیٹس کو اپنانا ہوگا ، ہاوسنگ سوسائٹیز کے کلچر کو محدود کریں‌تو زیادہ بہتر ہے ، ہمیں زراعت کے لیے زمینیں بچانی چاہیں ، کھاد کسانوں کو جینئوئن دیں‌ تو ہمارے کسان کو بھی فائدہ ہوگا اور ہماری زراعت بڑے گی پھلے پھولے گی اور جب یہ بہتری آئے گی تو ملک خوشحال ہوگا

    پاکستان سے گندم ، گوشت اور ڈالرکی اسمگلنگ جاری ہے ، اگر یہ حالات رہے تو پھر پاکستان کیسے سکون کا سانس لے سکتا ہے ، پاکستان میں فوڈ سیکورٹی سے بھی بہتری آسکتی ہے ، ڈیمز کی کمی کا احساس تو اب قوم کو ہوگیا ہی ہوگا اگرآج کالا باغ ڈیم بنا ہوتا توجس سیلاب نے پاکستان کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے ، اتنا پانی تو کالا باغ ڈیم اپنے اندرسمو لیتا ، بجلی بھی بنتی ، زراعت بھی ترقی کرتی ، سیلاب بھی نہ آتے اور ملک بھی خوشحال ہوتا مگر یہ کون کرے گا اگرحکمرانوں کا یہی انداز رہا وہ خود ہی لوٹ کھسوٹ میں مصروف رہے تو قوم کو کون بچائے گا اس کےلیے قوم کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے

  • آپریشن لندن برج:ملکہ برطانیہ کی موت کےبعدکیا ہوگا؟ًمبشر   لقمان کی ملکہ برطانیہ کی وفات پرتاریخی وپرانی ویڈیووائرل

    آپریشن لندن برج:ملکہ برطانیہ کی موت کےبعدکیا ہوگا؟ًمبشر لقمان کی ملکہ برطانیہ کی وفات پرتاریخی وپرانی ویڈیووائرل

    ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 96 سال کی عمر میں انتقال کرچکی ہیں اور بکنگھم پیلس کی جانب سے سرکاری سطح پر تصدیق کی جاچکی ہے، اس صورتِ حال سے پیدا ہونے والے بحران سے نمٹنے کیلئے پہلے سے ہی تیاری کی جاچکی ہے۔سینیئرصحافی مبشرلقمان جو کہ وفات کی خبرکے دوران کہیں سفرپر تھے تو انہوں نے اسی دوران ملکہ برطانیہ کی وفات پراپنی ایک تاریخی اورپرانی ویڈیو کے ذکر کیا جس میں انہوں نے بڑا عرصہ پہلے ملکہ برطانیہ کی وفات کے بعد کیا ہوگا؟کے متعلق اہم معلومات شائقین کے لیے شیئر کی تھیں

    مبشرلقمان پہلے تو ملکہ برطانیہ کی وفات پرگہرے دکھ کا اظہارکرتے ہیں پھر بتاتے ہیں کہ ملکہ برطانیہ کی وفات کسی عام فرد یا کسی سربراہ مملکت کی وفات کی طرح نہیں بلکہ اس کے لیے ایک پروٹوکول ہے جو کہ بہت پہلے طئے کیا جا چکا ہے

    مبشرلقمان اپنی اس پرانی ویڈیو میں ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات پر بتا رہے ہیں کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کی وفات ایک خاص منظرنامہ پیش کرے گا ، ان کا کہنا تھا کہ ملکہ برطانیہ کی وفات پر دنیا ہی بدل جائے گی

     

    ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھرمیں موجود ملکہ برطانیہ کے پرائیویٹ سیکرٹیز یا پرسنل سیکرٹیز برطانیہ کے وزیراعظم کو ایک خط لکھیں گے اور اس میں ملکہ برطانیہ کی وفات کواس انداز سے پیش کریں کہ اس خط میں یہ لکھا جائے گا کہ “آپریشن لندن برج” گرگیا ، اس کے بعد وزیراعظم ملکہ برطانیہ کی موت کے فوراً بعد “آپریشن لندن برج” کے عمل کوعملی جامہ پہنائیں گے اور پھر 15 وہ ممالک جہاں ملکہ برطانیہ کی عملداری آج بھی چلتی ہے کو ایک محفوظ پیغام کے ذریعے بتا دیا جائے گا کہ "آپریشن لندن برج "از فالن یعنی گرچکا ، ملکہ کی وفات کے بعد ایک مرتبہ منہدم ہوگیا اس کے بعد دولت مشترکہ کے 36 ممالک کے سربراہان ایک سیاہ کونے والا نوٹس نمودار کیا جائے گا اور دنیا کے اہم ٹیلی ویژن اورریڈیواسٹیشنز کے ذریعے ملکہ برطانیہ کی وفات کی خبریں چلائیں‌گے

    بی بی سی کہ جن کے پاس پہلے ہی ملکہ برطانیہ کی زندگی کے متعلق کئی دنوں کے پروگرامز پہلے ہی تیار ہیں‌ وہ نشرکیے جائیں گے ، اس میں ملکہ برطانیہ کی زندگی کے اہم پہلووں کو اجاگر کیا جائے گا ، بی بی سی جیسے بڑے اداروں کے نیوز ریڈرز اوردیگرعملے کو سیاہ رنگ کا لباس پہنایا جائے گا اور بی بی سی کے دفاتر میں کالے رنگ کے کپڑے پڑے ہیں وہ پہنیں جائیں گے

    بی بی سی جو روایتی برانڈنگ ہے جوسرخ ہے وہ سیاہ ہوجائے گی ، موت کے اسی دن ملکہ برطانیہ کے بڑے بیٹے کوبادشاہ بنایا جائے گا ، دنیا بھر میں اسٹاک مارکیٹس اور کاروبار ملکہ برطانیہ کی وفات کے احترام میں بند رہیں گے اور موت کے اگلے دن رواں سلسلہ پرنس چارلس اپنی بطور بادشاہ پہلی سرکاری تقریب کریں‌گے اور حکومت لندن کے ہائیڈ پارکس میں 41 توپوں کی سلامی سے اپنی بادشاہت کا آغاز کریں گے ،

    پرنس چارلس کنک چارلس بنیں‌گے اور وہ اپنے سٹیٹس کا نام تبدیل کرسکتے ہیں اور برطانیہ کے دورے پر روانہ ہوں گے اور دیگرملکوں کا دورہ کرتے ہوئے لندن پہنچیں‌گے اور پھر بی بی سی ان کی ڈاکومنٹری چلائیں گے اور مزاحیہ قسم کے پروگرام اور گفتگو نہیں ہوگی ، اس کے اگلے چار دنوں بعد ملکہ کے تابوت کو فوجی پروٹوکول کے ذریعے برمنگھم پیلس سے نکالا جائے گا

    پھرشاہی خاندان کے دیگرافراد پرنس چارلس کےساتھ ملکہ برطانیہ کے تابوت کو سلامی دیں‌گے اورپھر اس کے بعد سب کے لیے ملکہ کے تابوت کو سلامی دینےکےلیے دروازے کھول دیئے جائیں گے ، اس کے بعد دس گزرجائیں گے توپھرپورے برطانیہ میں ملکہ کے اعزاز میں بینک ہولیڈے بھی ہوگا اورتمام کاروباراس دن بند رہیں گے ٹاور آف لندن کے اوپر لگی گھڑی ٹھیک 11 بجے بجنا شروع ہوجائے گی اور پورا ملک خاموش ہوجائے گا اور تابوت کو اندر لے جایا جائے گا جہاں ملکہ کو ان کے والد کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر شہزادہ چارلس کی تاج پوشی کے موقع پر ایک بینک ہولیڈے ہوگی اور آنے والے دنوں میں بڑی تبدیلیاں ہوگی اور بادشاہ کی تصویر کےساتھ نئی کرنسی چپھنا شروع ہوجائے گی اور پرانی کرنسی کو اہستہ اہستہ متروک کردیا جائے گا اور قومی ترانے کو تبدیل کردیا جائےگا

    ملکہ کی وفات کے بعد برطانیہ کے زیر سایہ ممالک میں ایک تبدیلی کا اشارہ بھی ہوسکتاہے ، جمہوریت کے حامی ملکہ برطانیہ کی وفات کے بعد برطانیہ کی بادشاہت سے نکلنے کے لیے بے تاب ہیں جیسے آسٹریلیا اور کچھ اور بھی ممالک ہیں‌جوتاج برطانیہ سے اب چھٹکارہ چاہتےہیں اور کیا کیا تبدیلی آئے گی اس کےبارے میں آگے مزید صورت حال واضح ہوجائے گی