Baaghi TV

Tag: مبشرلقمان

  • عمران خان پر فرد جرم عائد،خطرناک یا زہریلا:عدالت فیصلہ کرے گی :مبشرلقمان

    عمران خان پر فرد جرم عائد،خطرناک یا زہریلا:عدالت فیصلہ کرے گی :مبشرلقمان

    لاہور:عمران خان پر اسلام اباد ہائی کورٹ نے فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں 22 ستمبر کا دن مقرر کیا ہے ، کیا یہ فرد جرم عائد کرنے سے عمران خان زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے یا زہریلے اس کا فیصلے کے بعد پتہ چل جائے گا ، تاہم یہ طئے ہے کہ عدالت عمران خان پر فرد جرم ضرور عائد کرے گی

    اس حوالے سے سنیئر صحافی مبشرلقمان نے اپنے پروگرام میں‌ آج کی سماعت کے قانونی اور عمران خان کی دھمکیوں کے اخلاقی پہلووں پرروشنی ڈالی ہے مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان نے اسلام آباد کی ایک ماتحت عدالت کی خاتون جج زیبا کے خلاف سخت زبان استعمال کی اور پھر آئی جی اسلام آباد اور دیگرافسران کو دھمکیاں دٰیں ، ان کا کہنا تھا کہ یہ کھلم کھلا عدالتی معاملات کوثبوثاژ کرنے کی ایک کوشش ہے

    مبشرلقمان آج اسلام آباد ہوئی کورٹ میں ہونے والی سماعت کےحوالےسے کہا کہ ریمارکس سے تو صورتحال پریشان کن لگ رہی تھی ، چیف جسٹس اطہر من اللہ اور ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے جج بابر ستار نے عمران خان کی اسلام آباد کی اس تقریر کو خطرناک قرار دیا ، ان کا کہنا تھا کہ اگرعمران خان کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو پھر کیا پھر ملک میں‌سخت ردعمل آئے گا

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ عمران خان کی اپنی کمائی ہے جنہوں نے انا کر خاطرعدالتوں‌ کو بھی معاف نہ کیا اور اگرفیصلہ مخالفت میں آیاا تو پھر عدالتوں پر ہی چڑھاہئی کردی ، مبشرلقمان کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمران خان تو جان بوجھ کراس معاملے کو خراب کرنےپر تلا ہوا ہے ، اس کوایسا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا

    مبشرلقمان نے کہا کہ اج کے ریمارکس سے صورت حال واضح ہوگئی ہے کہ عدالت یہ توہین اور دھمکیاں برداشت نہیں‌کرے گی اور عمران خان کو ضرور سزا ملے گی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے بعدپھرپاکستان اوربیرون ملک سے ایک سخت ردعمل کا بھی اندیشہ ہے جس میں عمران خان کو سپورٹ کرنے والی بیرونی قوتیں بھی شامل ہوں گی

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عمران خان میں نہ مانوں کی رٹ لگا رہا ہےلیکن اب ماننا پڑے گا م عمران خان آج عدالت میں پیش ہوئے ، وکلا نے دلائل دیئے لیکن عمران خان نے بجائے معذرت کرنے کے وہاں اپنے بیان سے پیچھے ہٹنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی ، اس کا صاف مطلب ہےکہ عمران خان پر فرد جرم عائد ہو جائے گی

  • ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری

    ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری

    لاہور:ظالم حکومت:بے حس،نااہلی کی انتہا:خطرناک صورتحال مگرڈرامے بازیاں پھر بھی جاری،یہ کوئی کسی نیوز ایجنسی کی خبر نہیں بلکہ آنکھوں دیکھا حال ہے، پاکستان کے سینئرصحافی مبشرلقمان جو کہ پچھلے کئی دنوں سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں عوام الناس کے مسئائل جاننےکےلیے وہاں پہنچے ، انہوں نے وہاں کیا دیکھا اس دُکھ بھری کہانی کو وہ خود بیان کرتے ہیں‌

    ان کا کہنا تھا کہ وہ ڈیرہ غازی خان اورتونسہ کے علاقوں میں گئے ہیں ، وہاں بے بس انسانوں کوان ظالم حکمرانوں کی بے حسی کا شکاردیکھا ، کوئی کسی کی مدد کو نہیں پہنچ رہا ، یہ سب ڈرامے بازیان ہیں ، فرضی اور گھوسٹ کیمپ لگے ہوئے ہیں اوروہاں سوائے علامتی صورتحال کے سوا کچھ نہیں

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ کوئی بھی حکومت وہاں نظر نہیں آئی ،ہاں مذہبی جماعتوں کی تنظیموں کو سلام جنہوں نے بلا امتیازپریشان حال لوگوں کی بڑی مدد کی اورابھی یہ سلسلہ جاری ہے ، الخدمت والے تو بہت بہتر کام کررہےہیں ایسا کام انہوں نے کسی اور تنظیم کانہیں دیکھا ایک میکنزم ہے ، حق داروں تک حق پہنچ رہا ہے،لوگوں کی عزت نفس کا خیال رکھا جارہے ، ایسے ہی تحریک لبیک ، دعوت اسلامی والے بھی خدمت میں مصروف ہیں اگروہاں نہیں‌ ہیں تو حکومت کے اہلکار نہیں

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بڑی تعداد میں حاملہ خواتین اگلے چند دنوں تک پیدائش کے مرحلے سے گزریں گی تو پھرایسی صورت حال میں تو بہت بڑی خطرے کی بات ہے ، ان کےلیے مخصوص میڈیکل کیمپ ہونے چاہیں ، جہاں پہلے ہی شدید گرمی ہے وہاں کس طرح‌ ان معاملات کو حل کیا جائے گا یہ ایک لمحہ فکریہ ہے

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے امریکہ ، برطانیہ اور دیگرملکوں سے امداد کی آفر کی گئی لیکن میں نے اس لیے ٹھکرا دی کہ ہمارے پاس آڈٹ والا اکاونٹ ہی نہیں‌، آپ پاک آرمی کو دے دیں ، لبیک والوں کو دے دیں‌، الخدمت والوں کو دے دیں‌مجھے یقین ہے کہ وہ آپ کا پیسہ ضائع نہیں کریں گے اور حق داروں تک پہنچائیں گے

    مبشرلقمان کہتےہیں‌ کہ لوگوں کے بُرے حال ہیں ،کرشنگ پلانٹ لگا کرجوقدرتی بند تھے وہ کاٹ دیئے گئے ، سیلاب کے سامنے کوئی رکاوٹ نہ رہی اور اس نے بڑے بڑے شہراورہزاروں بستیاں تباہ کردیں،

     

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اس علاقے میں لوگوں‌ کوایک کے بعد دوسری مصیبت میں دیکھا،ایک طرف لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں‌تو دوسری طرف بجلی کے بل ہیں‌، بجلی کے کھمبے کئی ماہ سے گرے ہوئے ہیں لوگوں کو بجلی میسر نہیں ، یونٹ صفر ہے مگر بل سترہ ہزار ، یہ کیسی بدمعاشی اور ظلم ہے ، کوئی پوچھنے والا نہیں ان حکمرانوں کو ، وزیراعلیٰ پرویز الٰہی بھی اس علاقے میں نہیں گئے ،عارف علوی آئے تو ایک فرضی کیمپ میں فوٹوسیشن کروا کرچلے گئے ، مونس الہی گجرات میں ہیں ، ان حالات میں اگر عوام الناس کی طرف سے کوئی سخت ردعمل آیا تو بجا نہ ہوگا ، حالات خراب سے خراب تر ہورہے ہیں ، جہاں اس کے ذمہ دار حکمران ہیں وہاں‌س کے بڑے ذمہ وہاں کے طاقتور ، وڈیرے زیادہ ذمہ دار ہیں

  • شہبازگل ڈرامہ،یہ لوثبوت،!ویڈیومنظرعام پر:مبشرلقمان نےشہبازگل کا پول کھول دیا

    شہبازگل ڈرامہ،یہ لوثبوت،!ویڈیومنظرعام پر:مبشرلقمان نےشہبازگل کا پول کھول دیا

    لاہور:شہبازگل کی صحت کے حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ ایک دو ویڈیو دیکھی ہوں گی ٹویٹ کی ہیں مخصوص چینل وہ نہیں دکھائیں گے شہباز گل کی تصویریں والی ویڈیوز ہیں وہ آجکی ہیں ،اگست 20 تاریخ کی اور پمز کی ۔ اگر غور سے دیکھیں گے تو شہباز گل جب عدالت میں گئے تھے وہی کپڑے پہنے ہوئے ہیں ان تصویروں میں گل ہشاش بشاش ہیں یہ وہ آدمی ہے کہ اسکو ایک لمحے کا سانس نہیں آ رہا تھا جس پر اتنا تشدد ہوا کہ آسمان بھی شرما گیا جنسی زیادتی بھی کی گئی

     

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ حد تو یہ ہے کہ جھوٹ بولتے ہوئے انہیں شرم نہیں آتی اب سب بے نقاب ہو رہے ہیں۔ تصویریں ٹویٹ کیں تو پی ٹی آئی کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ پردہ رکھ لیتے ،کس بات کا پردہ ،عمران خان نے کیسے کہہ دیا کہ جنسی زیادتی ہوئی تم اداروں کے خلاف باتیں کرو پردہ نہ رکھو اور میں پردہ رکھوں کیوں؟ 35 پنکچر والی بات امپائر کی انگلی والی بات جھوٹ پر جھوٹ بولا جا رہا ہے

     

     

    سینئرصحافی گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں پی ایچ ڈی ہو چکا ہوں جو یونیورسٹی وزیراعظم ہاوس میں بنی تھی اس میں پی ایچ ڈی کیا ہے گائے بھینسیں بکی تھیں پھر کیا ہوا جو گاڑیاں امپورٹ ہوئی انکا پتہ ہے؟ پچاس لاکھ گھر بنے تھے لیکن زلزلے سے گرنے والے گھر بھی نہ بنائے جا سکے ایک کروڑ نوکریاں کہہ کر لاکھوں بے روزگار کر دیئے گئے جھوٹ کرپشن کو ختم کرنا تھا لیکن کرپشن اپنے گھر میں ہو رہی میں نے بشری۔ عثمان بزدار۔ فرح کی کرپشن بتائی آپ نے ہر وقت یہی کہنا کہ غلط۔ ،کچھ تو سوچ لو مان لو کہ اتنا جھوٹ بولا تم لوگوں نے کہ اب سمجھ نہیں آ رہی ۔

     

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کہ تاریخ میں اتنا قرضہ نہیں لیا گیا جتنا تین سالوں میں تم نے لیا۔ اتنی اچھی معیشت تین سال میں تین وزیر خزانہ بدلے ،سٹیٹ بینک کو گروی رکھ دیا یہ ڈالر کی جو مار پڑی ہے یہ تمہاری وجہ سے ہے اس وقت دو سو لوگ سیلاب میں مر چکے ہیں لیکن پوری قوم کو جھوٹے آدمی کے پیچھے لگایا ہوا ہے ۔ کیا فائدہ لوگ مر رہے ہیں گھر تباہ ہو رہے ہیں عوام سے انکو کوئی غرض نہیں۔ جن کیسز میں پیسے کھائے وہ کیسز رکوا دیئے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ رکواتے رہے جھوٹوں پر ہی سب کچھ چلاتے ہیں اور انکے کارکنان کو بھی آفرین ہے جو ہر جھوٹ کو سچ مانتے ہیں شہباز گل کی غیر اخلاقی زبان مجھے بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ حالت دیکھیں سانس نہیں آ رہا عدالت می چیختے رہے

     

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج کی ویڈیو دیکھیں کسی کی بات پر اعتبار نہیں کیا گیا اور جھوٹے فریبی شخص پر اعتبار کیا گیا اگر کوئی دہشت گرد رو پیٹ کر نکل جائے پھر کیا ہو گا ۔ مجھے آج بھی کتنے لوگ ملے جو کہتے ہیں زیادتی ہو گئی کس نے کہا زیادتی ہوئی ؟ جس نے کی اس نے آ کر بتایا فیک ویڈیو ز پھیلائی جا رہی ہیں وہ ایک بچے کے ساتھ زیادتی کرنے والا ملزم تھا اس پر جو ہوا وہ بھی غلط تھا اس قوم کو ہیجانی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے کہ ہم نہیں تو کوئی بھی نہیں۔

     

     

    سینئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں‌ کہ سوال کرو اپنے لیڈروں سے کہ جو باتیں کر رہے ہو وہ پوری کیسے کرو گے صرف پنجاب میں ساٹھ سیکرٹری بدل دیئے باتیں سن لیں انکی صرف۔ خود جا کر لابنگ فرم کونسی ہائیر کی امریکہ میں ۔ امریکہ اسرائیل سے فنڈنگ آ گئی لیکن پھر بھی سازش امریکہ کر رہا ہے۔ امریکی سفیر کو وزیراعلی بلا لے تو شیریں مزاری گالیاں دے۔ غرور اور جھوٹ نہیں چلتا۔ لوگوں کو بہکاوے میں لا کر انکو استعمال کرنا ظلم ہے جس بات کا جواب نہ ہو اس پر تہمت لگا دو۔

  • صدر عارف علوی بھی عمران خان کے نقش قدم پرچلنے لگے

    صدر عارف علوی بھی عمران خان کے نقش قدم پرچلنے لگے

    لاہور:صدرمملکت پاکستان عارف علوی بھی اپنی غیرجانبداری سے ہٹ کر پارٹی کے چیئرمین عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں اور اب توان کواپنےعہدے کا بھی پاس نہیں ، ان خیالات کا اظہار کرتےہوئے سینیئرصحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ صدرملک کا سپریم کمانڈر ہوتا ہے لیکن وہ اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ نہیں یا پھرذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کررہے

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ قوم سخت صدمے میں ڈوبی ہوئی ہے ، پاک فوج کے ایک کورکمانڈراپنے ساتھیوں سمیت دوران ڈیوٹی شہید ہوگئے مگرعارف علوی کے پاس وقت نہیں کہ وہ ان شہدا کے نمازجنازہ میں شرکت کرسکیں

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عجیب سی کیفیت ہے کہ جو کام عمران خان نے کیا وہ عارف علوی کررہےہیں اور شہدا کے گھر ابھی تک نہیں گئے ، ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہےکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پاک فوج کے ان شہدا کے متعلق بہت غلط پراپیگنڈہ کیا جارہا ہے اور ممکن ہے کہ عارف علوی اس کی وجہ سے شہدا کے گھرجانے سے گریز کررہے ہوں،

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر جو مہم چلائی جارہی ہے ایف آئی اے کو چاہیے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرے ، اور اس میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دے

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ انہیں بہر کیف دکھ ہوا ہے کہ سپریم کمانڈراگراپنے فوجیوں کے ساتھ اس غم کی گھڑی میں ان کی حوصلہ افزائی نہ کرے تو یہ تو ایک بہت ہی بری چیز ہے ، ان کا کہنا تھا کہ عارف علوی ایک پارٹی ممبربن چکے ہیں اوروہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصرہیں ، مبشرلقمان نے کہا کہ ہمیں ایسے رویوں سے اجتناب کرنا چاہیے کہ جن سے ہمارے شہدا کو دکھ پہنچے

  • گلوکارسلمان احمد کےخلاف ایف آئی آر:یہ کیاہورہاہے:حکام نوٹس لیں:مبشرلقمان

    گلوکارسلمان احمد کےخلاف ایف آئی آر:یہ کیاہورہاہے:حکام نوٹس لیں:مبشرلقمان

    لاہور:عالمی شہرت یافتہ گلوکارسلمان احمد کےخلاف ایف آئی آر:یہ کیا ہورہاہے:حکام نوٹس لیں، پاکستان کی پہچان عالمی شہرت یافتہ گلوکار سلمان احمد کے خلاف ایف آئی اے کی طرف سے ایف آئی آر کے کاٹے جانے پرسنیئر صحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ کیاہورہا ہے پاکستان میں جو شخص پاکستان کی پہچان ہے اس کو بھی معاف نہیں کیا جارہا

     

     

    جنون گروپ کے سلمان احمد کا لتا منگیشکر کو خراج تحسین،کہا ہمیشہ یاد رکھوں گا

    پاکستان کے سنیئر تجزیہ نگار مبشرلقمان پاکستان کی پہچان عالمی شہرت یافتہ گلوکارسلمان احمد کے خلاف ایف آئی آر کی جانب سے ایف آئی آر کے کاٹےجانے پربہت مایوس ہوئے ہیں ، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح تو ایک منفی تاثر جائے گا ،حکام کو کچھ تو خیال کرنا چاہیے ، سلمان احمد نے کون سا ایس جرم کیا ہے کہ انکے خلاف ایف آئی آر کاٹی جائے ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ تو ہر اس شخص کے ساتھ کھڑے ہیں جس کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے

     

    مبشرلقمان نے حکام کی توجہ اس طرف مبذول کرواتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سچے پاکستانی کے خلاف اس قسم کے مقدمات کا قائم کرنا خود حکام کے لیے بدنامی کا باعث ہے اور یہ عمل دنیا بھر میں بدنامی کا باعث بنے گا

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ایف آئی اے کی جانب کو سلمان احمد کو پریشان کیا گیا ہے اور ان کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں جس پر سلمان احمد نے حکام خبردار کیاتھا کہ ایسا نہ کریں جس سے کسی کے ساتھ زیادتی ہو اور ملک کا وقار بے وقار ہو

    گلوکار سلمان احمد کے بیٹوں نے یوم آزادی کی منابست اورافواج پاکستان

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے معروف گلوکار سلمان احمد کو نوٹس بھیجاتھا، سلمان احمد کو ان کے پی ٹی آئی کے لیے گائے گئے ترانے اور سوشل میڈیا پر ملکی اداروں کے خلاف پوسٹ لگانے پر نوٹس ارسال کیا گیا۔ گلوکار سلمان احمد نے بھی ایف آئی اے سائبر کرائم کی جانب سے نوٹس بھیجنے کی تصدیق کرتے ہوئے ٹوئٹر پر ویڈیو پیغام جاری کیاتھا اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ میری زبان بندی کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    شان شاہد اور سلمان احمد نے وزیراعظم کی بھر پور حمایت کا اعلان کر دیا

    گلوکار کا کہنا تھا کہ میرے اہل خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں. رانا ثناءاللّٰہ کے کہنے پر یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے، کچھ بھی ہوجائے میں حق کا ساتھ دینے سے نہیں گھبراؤں گا۔

     

     

     

     

  • کپتان کا انمول ہیرا بھتہ خورنکلا،شہزاد اکبرنے کرپشن کی تاریخ رقم کردی

    کپتان کا انمول ہیرا بھتہ خورنکلا،شہزاد اکبرنے کرپشن کی تاریخ رقم کردی

    لاہور:کپتان کا انمول ہیرا بھتہ خورنکلا،شہزاد اکبرنے کرپشن کی تاریخ رقم کردیا،اطلاعات کےمطابق سابق حکومت کے کچھ کارناموں کے حوالے سے اہم انکشافات آنے شروع ہوگئے ہیں اور اس سلسلے میں سنیئر صحافی مبشرلقمان نے کچھ ایسے حقائق پیش کئے ہیں کہ جن کوابھی تک جھٹلایا نہیں جاسکتا

    سنیئرصحافی مبشرلقمان کہتے ہیں کہ سابق وزیراعظم کے مشیرخاص معاون خصوصی شہزاد اکبر نے مختلف حیلوں اوربہانوں سے اربوں روپے کمائے ہیں اوراس اندازسے کمائے ہیں کہ کسی کو احساس تک نہیں ہونے دیا گیا

    سینیرصحافی کا کہنا تھا کہ وہ ببانگ دہل سابق حکمرانوں کی کرپشن پرچیلنج کررہےہیں لیکن کوئی جواب نہیں آیا،ان کاکہنا تھا کہ بشریٰ بی بی ،خاورمانیکا،مونس الٰہی سمیت کئی اہم شخصیات کی کرپشن کے خلاف پروگرام کیئے لیکن کوئی جواب نہیں آیا

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں آج اس شخص کا ذکرکررہا ہوں جس نے کرپشن ختم کرنےکی آڑ میں کرپشن کی ، ان کا کہنا تھا کہ یہ شخص سابق وزیراعظم کے قریبی ساتھی مرزا شہزاد اکبر ہیں جنہوں نے اربوں روپے کمائے، ان کا کہنا تھا کہ احتساب کے نام پرہردور میں ایک بیانیہ دیا جاتا رہا لیکن حققیت میں اس بیانیئے کی آڑ میں لوٹا گیا، ان کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں بھی احتساب کا نعرہ لگایا گیا

     

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مشرف دور میں ایک احتساب افسر کی حیثیت سےکام کرنے والے شخص شزاد اکبرکوکوئی جانتا تک نہیں تھا ،ان کا کہنا تھاکہ مشرف دور میں کرپشن کیسز میں ناکامی کے بعد عمران خان نے اس شخص کومعاون خصوصی بناکراپنا منجن بیچنے کا پروگرام بنایا ، ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر کولگانے کا مقصد ن لیگ کی قیادت کی کرپشن کو بے نقاب کیا جائے ،جس کے لیے شہزاد اکبر نے بڑی قومی رقم ضائع کردی

    مبشرلقمان کہتےہیں کہ عمران خان نے جس شخص کو کوئی عہدہ دیا اس نے لوٹ مار کی ، ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو بھی شہزاد اکبرکے ماتحت کردیا گیا ، جس کے ذریعے مخالفین پرکرپشن کے کیسز بنائے گئے، ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبرنے تیل مافیا اورایسے ہی کچھ دیگرشعبہ جات سے اربوں روپے لوٹے ، شہزاد اکبر نے سرکاری اثرورسوخ استعمال کرکے اربوں روپے کمائے

    ان کا کہنا تھا کہ ایسٹ ریکوری یونٹ بنایا گیاجس کے ذریعے بڑی کرپشن کی گئی ، کچھ فرنٹ مین بنائے گئے ، ایسے ہی شہزاد اکبر نے بڑے ٹیکنیکل طریقے سے مال بنایا ، ان کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبرنے بہت زیادہ نقصان پہنچایا

  • یہ لوثبوت:کرپشن کےارسطو::ہوش رباانکشافات:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟

    یہ لوثبوت:کرپشن کےارسطو::ہوش رباانکشافات:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟

    لاہور:عثمان بزدارکی بےنامی جائیداد کی تفصیلات:15 ارب کی کرپشن کیسےکی؟اس حوالے سے انکشافات کرتے ہوئے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے کہا ہے کہ عمران خان کے پونے چار سالہ دور اقتدار میں جس چیز پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی وہ عثمان بزدار عرف وسیم اکرم پلس تھے۔ عمران خان نے عثمان بزدار کو ہر جگہ ڈِیفینڈ کیا، اور ہم ایک عرصہ تک یہ سنتے رہے کہ عثمان بزدار کام سیکھ رہے ہیں۔ لیکن اب حیران کن انکشاف ہوئے ہیں کہ عثمان بزدار نے اپنے پہلے سال کی نسبت چودہ گنا کام سیکھا اور کارکردگی بھی دیکھائی لیکن یہ کارکردگی ملک اور قوم کی عوام کے لیے نہیں بلکے اپنے اثاثے بنانے کے لیے دیکھائی گئی۔ عثمان بزادر پر اقتدار کے پہلے سال ایک ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے جبکہ اگلے دو سالوں میں انہوں نے مبینہ طور پر چودہ ارب روپے کی کرپشن کی۔ کرپشن کرنے کے نئی سائنسی اور پرانے روائیتی طریقوں پر انحصار کیا گیا۔ کہاں کیسے کس طرح اور کس چیز میں انہوں نے کیسے پیسے بنائے، کہاں کہاں انویسٹمنٹ کی ۔۔آج میں تمام تہلکہ خیز انکشافات آپ کے سامنے رکھوں گا جو آپ نے نہ تو پہلے سنے ہوں گے اور نہ ہی کہیں دیکھے ہوں گے۔

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ 2018 میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، جناب عثمان بزدار منظم مالی بدعنوانی کے ذریعے اختیارات کے ناجائز استعمال اور پبلک سیکٹر کے فنڈز میں غبن میں ملوث رہے۔ بدعنوانوں بیوروکریٹس کی ایک ٹیم کی مدد سے عثمان بزدار نے کرپشن میں مہارت حاصل کی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، اس کے طریقے اور غبن کا حجم بدعنوانی کے ایک نفیس اور باضابطہ نیٹ ورک میں تبدیل ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر اپنے پہلے سال کے دوران، عثمان بزدار نےگیارہ مبینہ کیسوں میں ایک ارب سولہ کروڑ روپے بنائے۔وہ گیارہ کیس کون سے ہیں ان کی تفصیل میں آگے جا کر آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔لیکن اگلے تین سالوں میں عثمان بزدار نے بدعنوانی اور کرپشن کی نئی بلندیوں کو چھولیا۔ انہوں نے منظم کرپشن کے لیے ایک باضابطہ نیٹ ورک تیار کیا ہے جس میں بدمعاش بیوروکریٹس اور بدنام زمانہ فرنٹ مین شامل تھے۔ دوسرے اور تیسرے سالوں کے دوران عثمان بزدار کی مبینہ کرپشن کم از کم 15.3 بلین روپے تھی اور ہر آنے والے سال اپنے ہی ریکارڈ کو مات دی ۔آج کے پروگرام میں ۔۔ میں آپ کو یہ بھی بتاوں گا کہ عثمان بزدار اور اس کے اعلان کردہ اور بے نامی اثاثون کی ثابت شدہ ٹریل کیا ہے۔لیکن اس سے پہلے آپ کو پہلے سال میں سوا ارب کی مبینہ کرپشن کی تفصیل بنا دوں۔

    ان کا کہناتھا کہ عثمان بزدار نے اپنے ساتھی مختیار احمد جتوئی کوTMO Tounsa مقرر کیا اور 50 ملین روپے کی منظوری دی۔ ایم سی تونسہ میں ترقیاتی کاموں کے لیے زمین پر کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا اور پانچ کروڑ کا چونا لگا دیا گیا۔لاہور میں Unicorn Prestige Hotelکے لیے الکوحل کا لائسنس۔ ستر لاکھ روپے لینے کا الزام۔عثمان بزدار نے سمیع اللہ چوہدری (ایم پی اے بہاولپور) کے ساتھ چینی پر سبسڈی دینے کے لیے 50 ملین روپے کی کابینہ کی منظوری کا انتظام کیا۔Hubb Gull Khanعثمان بزدار کے فرنٹ مین تھے ،نے بغیر کسی نیلامی کے ٹول ٹیکس وصول کرنا شروع کر دیا۔ اور تقریبا سوا کروڑ روپے سالانہ بنائے

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ ڈی ایس پی عامر تیمور (چچا) کو ڈی پی او بہاولپور تعینات کر دیا گیا۔ اسے پولیس اہلکاروں کی ہر مطلوبہ پوسٹنگ پر پانچ لاکھ سے پچیس لاکھ روپے ملنا شروع ہو گئے۔کیپٹن (ر) اعجاز جعفر (کزن) Ex-ACS Punjab نے دس لاکھ سے پچاس لاکھ روپے لے کر افسران کی متواتر پوسٹنگ شروع کر دی۔ ان کی مدت کے دوران، ہر افسر کی اوسط مدت تقریبا دو ماہ تھی۔عمر خان بزدار (بھائی) نے تونسہ میں ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن بند کروانے کے لیے دوکاندارون سے تیس لاکھ روپے وصول کیئے۔مسلم لیگ ن کے ایم پی اے عطا الرحمان پر اکیس سالہ لڑکی سدرہ سلیم کے ساتھ گیارہ ماہ تک زیادتی کے کیس میں مدد فراہم کرنے کے لیے عثمان بزدار کے قریبی دوست طاہر چیمہ نے مبینہ طور پر پانچ کروڑ روپے وصول کیئے۔ اس کیس میں میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہو گئی تھی۔عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار نے ڈی جی خان میں براہ راست زمینوں پر قبضہ کی سرپرستی بھی کی۔ جبکہ دوسرا بھائی طور خان بزدار اپنے فرنٹ مینوں کے لیے سڑکوں کے ٹھیکوں کا انتظام کرتا رہا۔یہ تو وہ معمولی سی مبینہ کرپشن ہے جو اناڑی عثمان بزدار نے کی، لیکن کھلاڑی عثمان بزدار نے کام سیکھ کر جو گل کھلائے ۔ آپ کو ابھی بتاتا ہوں۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ اگر عثمان بزدار کے مبینہ Un declared اثاثوں اور کاروبار کی بات کی جائے تو اس میں199کنال ایگری لینڈ Tuman khosa میں، بتیس کنال جگہ میاں چنوں میں، 35 کنال جگہ ملتان میں اور اکتیس مرلے رہائشی پلاٹ کی صورت میں ملتان میں ہی ہیں۔اگر کاروبار کی بات کی جائے تو ۔۔ تونسہ میں ایک پٹرول پمپ، سخی سرور روڈ ڈی جی خان میں ایک ٹیکسٹائل مل، انصاف فلور مل ۔۔کوٹ موڑ تونسہ شریف۔بحثیت انویسٹر ایک Toyota show room D G khan.Syed crush plant basti Buzdar یہ سب چیزیں وزیر اعلی کی نامزدگی کے بعد سامنے آئی ہیں جبکہ جو جائیداد وزیر اعلی بننے کے بعد بنائی ہے اس میں،4 acre Spanish villah multan.Tuff tile factory tounsaدوست محمد بزدار جو Brother in law ہے نے سوزوکی چوک ڈی جی خان میں چار کنال کمرشل جگہ کی ایک ڈیل فائنل کی جس کی مالیت ایک ارب کے قریب ہے۔عثمان بزدار کا دوست جاوید قریشی بحرین میں انویسٹمنٹ کرتا رہا۔اپنی آبائی زمینیوں پر سرکاری خرچے سے انفراسٹرکچر بنا کر ڈھائی ارب روپے کا فائدہ اٹھایا گیا۔ جبکہ درجنوں پراپرٹیز ایسی ہیں جو کبھی بھائی تو کبھی فرنٹ مین اقبال عرف دالی اور دیگر لوگوں نے مختصر عرصے میں خریدی ہیں۔

    اب بات کرتے ہیں جب عثمان بزدار کرپشن کے کھلاڑی بن گئے تو پھر کیا ہوا۔۔؟عثمان بزادر کے مرحوم والد جناب فتح محمد بزدار کے پاس پونے چار ارب روپے کی آٹھ پراپرٹیاں تھی جس کے آٹھ وارث ہیں۔ عثمان بزدار نے اپنے نام پر تقریبا بیس کروڑ روپے کی پراپرٹی ڈکلیئر کی ہیں۔ لیکن عثمان بزدار کے نام کے ساتھ بے تحاشا، غیر اعلانیہ اثاثے، کاروبار اور جائیدادیں جڑی ہوئی ہیں تقریبا بیس کروڑ روپے کے غیر اعلانیہ اثاثے۔۔ ستائیس کروڑ روپے کے کاروبار اور دس ارب روپے کی جائیدادیں اور اثاثے جو مبینہ طور پر حال ہی میں حاصل کیئے گئے ہیں۔ایک ایک کی تفصیل میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔یہاں یہ بات قابل غور ہے کہسابق وزیر اعلی عثمان بزدار کا پنجاب میں کرپشن کا نیٹ ورک پاکستان کے دوسرے صوبوں میں پہلے سے بنے ہوئے کرپشن نیٹ ورک سے کسی بھی صورت کم نہ تھا۔اور ان کے تمام معیاروں پر پورا اترتا تھا۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ اگرچہ پبلک سیکٹر کے فنڈز کی آمد محدود رہی ،لیکن عثمان بزدار حکومت کے دوران کرپشن نے نئی بلندیوں کو چھو لیا ۔ سالانہ ترقیاتی منصوبے کی مد میں آخری سال بڑے پیمانے پر فنڈز آنے کے بعد، بزدار اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے غیر معمولی بدعنوانی کی کوشش کی گئی جس کے گورننس اور صوبے کی مالیاتی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔شروع میں بدعنوانی انفرادی سطح پر کی گئی پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ منظم کرپشن میں تبدیل ہو گئی۔ سابق پرنسپل سکریٹری مسٹر طاہر خورشید جسے عثمان بزدار کی مکمل حمایت اور منظوری حاصل تھی نے بدعنوانی کے مشترکہ ایجنڈے کے تحت کلیدی اداروں اور محکموں کے سربراہان کی تقرریاں کی ۔ اس عمل سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے اور کرپشن کے نظام کو رواں دواں رکھنے کے لیے بار بار پوسٹنگ، ٹرانسفر کا طریقہ کار اپنا یا گیا۔ پیسے بنانے کے دیگر طریقوں میں ٹھیکے دینے کے دوران رشوت اور کک بیکس کی وصولیاں بھی شامل تھیں۔

    پنجاب میں تمام مالیاتی متعلقہ تقرریاں جن میں صوبائی سیکرٹریوں سے لے کر ہائی ویز میں ایس ای ، ایکس ای اینز ، ایس ڈی اوز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ اور منافع بخش حلقوں کے پٹواریوں تک کو عثمان بزدار اور ان کے ساتھیوں نے فروخت کیا۔ ایسا مایوس کن معاملہ انتہائی آمرانہ حکومتوں میں بھی نہیں ہوا۔پنجاب میں بدعنوانی اور حکمرانی کا فقدان بھی بیوروکریسی کے صفوں اور فائلوں میں مایوسی اور ناراضگی کو جنم دے رہا تھا، جہاں ایماندار بیوروکریٹس کو کسی نہ کسی بہانے اہم بلوں سے انکار کیا جاتا رہا۔ عثمان بزدار کی غلط حکمرانی اور بدعنوانی کا ایسا بے لگام جادو پنجاب میں پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کے لیے انتہائی نقصان دہ تھا۔ کرپشن کے دوسرے مرحلے میں طاہر خورشید، سابق سیکرٹری وزیراعلیٰ سارے کھیل کے مرکزی کردار تھے،

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ جب وہ ڈی جی خان قبائلی علاقے میں خدمات انجام دے رہے تھے تو وہ عثمان بزدار سے واقف تھے۔بزدار نے انہیں اپنے ابتدائی مرحلے میں کمشنر ڈی جی خان تعینات کر دیا۔ طاہر خورشید نے بزدار خاندان کے معاملات اس قدر اچھے طریقے سے چلائے کہ وزیراعلیٰ کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں عثمان بزدار نے انہیں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو مقرر کیا جہاں انہوں نے اربوں کمائے۔ اس کیس پر ان کے خلاف نیب انکوائری بھی جاری ہے۔پنجاب حکومت نے جب لوکل گورنمنٹ اور LG &CDکے لیے پچاسی ارب روپے کی منظوری دی تو عثمان بزدار نے طاہر خورشید کو ان فنڈز کی ترسیلات کے لیے سیکرٹری LG & CD لگا دیا۔ جب عثمان بزدار نے انہیں سیکرٹری سی ایم سیکرٹریٹ تعینات کیا تو طاہر خورشید نے ہم خیال بیوروکریٹس کی پوسٹنگ کا انتظام شروع کر دیا۔ جس سے ماہانہ ایک سے پانچ کروڑ روپے رشوت کا راستہ صاف کیا گیا۔ جبکہ دیگر بیوروکریسی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کے لیے خوف اور غلط الزامات کا سہارا لیا گیا۔وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں طاہر خورشید کی تعیناتی نے منظم طریقے سے عوامی فنڈز کے غلط استعمال کے سائنسی طریقہ کار کی راہ ہموار کی۔ایک ہاوسنگ سوسائٹی جولاہور میں ہے ۔۔ کو ٹیکنیکل Approvalکے بغیر پندرہ دن میںNOC دے دیا گیا، اور پچیس کروڑ روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی۔نظام کو ٹھیک کرنے کے دعوے داروں نے123پٹواریوں کو ایک دن میں پندرہ لاکھ فی پٹواری حاصل کر کے تعینات کر دیا۔ اور ایک ہی دن میں اٹھارہ کروڑ چالیس لاکھ روپے بنا لیے گئے۔طاہر خورشید نے کمشنر ساہیوال پر ہڑپہ ٹیکسٹائل ملز کی 800 کنال زمین کو صنعتی سے رہائشی میں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ حثیت کی تبدیلی سے زمین کی قیمت میں چالیس ارب روپے کا اضافہ ہوا اور آٹھ ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی ڈیل کی گئی۔عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار کو ملتان میں سٹی ہاؤسنگ کی توسیع کی منظوری دی گئی ۔ پچاس کروڑ کی مبینہ کرپشن۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمر بزدار کے فرنٹ مینوں نے ادویات کی مقامی خریداری اور ڈی جی خان میں ٹرانسپورٹ سے ٹول ٹیکس کی وصولی میں ملوث ہو کر ماہانہ ایک کروڑروپے کمائے، ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوریاں دے کر سالانہ پچاس کروڑ روپے کمائے گئے۔جعفر بزدار (بھائی) نے سرکاری پوسٹنگز کروا کر دو کروڑ روپے ماہانہ کہ بنیاد پر کمائے۔ CEO LWMCنے مشینری کی خریداری کے لیے چھ ارب روپے کے معاہدوں کو حتمی شکل دی جس میں دو ارب روپے کی مبینہ کرپشن کی گئی۔ محکمہ صحت میں لاہور کے پانچ بڑے ہسپتالوں میںLocal purchase کی مقدار ڈیڑھ ارب ہے، سپیشلائزڈ ہیلتھ کے ذریعے سابق وزیر اعلی کو بڑا حصہ دیا جاتا ۔ فارما کمپنیوں اور ہیلتھ انسپکٹرز کا ایک منظم گروپ تھا جو اس وصولی کا انتظام کرتا تھا۔صرف ایک ارب روپے توسرکاری افسران کی پوسٹنگ،تبادلوں پر کما لیئے گئے۔طور خان بزدار کو ڈی جی خان میں سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ چوبیس کروڑ روپے میں دیا گیا۔اورنگزیب چوہدری جو طاہر خورشید کا فرنٹ مین ہے نے ایم ایم عالم روڈ پر چار کنال کا بنگلہ خریدا۔زمین کی خریداری کے بعد، اسی گلی کو نئی سڑک کی تعمیر کے ساتھ ماڈل روڈ کا نام دیا گیا۔ اور ان سارے کاموں میں مبینہ طور پر پندرہ ارب روپے کے گھپلے کیئے گئےعمران خان کی بشری بی بی سے شادی ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ عوام کو تو یہ بتایا جاتا ہےکہ بشری عمران خان کی تیسری اہلیہ ہیں مگر سرکاری کاغذات کچھ اور ہی کہانی بتاتے ہیں ۔ کیونکہ بشری بی بی کا پاسپورٹ دیکھیں ۔ ایف بی آر کے ڈاکیومنٹ دیکھیں تو اس میں ان کا نام بشری خاور فرید ہے ۔ جبکہ شوہر کانام مانیکا خاور فرید ہے ۔ پاسپورٹ آپ سکرین پر دیکھ سکتے ہیں ۔ اسی طرح ایف بی آر کے ڈاکیومنٹس دیکھیں تو بشری بی بی کی جانب سے 2021کا ٹیکس ریٹرن جمع کروایا گیا اس میں بھی انکا نام بشری خاور فرید مانیکا ہے ۔ اسی طرح جب عمران خان اوربشری بی بی سعودی عرب گئے تو جو ویزے کا اجراء کیا گیا اس کے مطابق بھی ان کا نام بشری خاور فرید مانیکا ہی ہے ۔

    وہ کہتے ہیں کہ سوال یہ ہے کہ پاسپورٹ سمیت ویزہ اور جو 2021 میں بشری بی بی نے اپنی پہلی ریڑن جمع کروائی اس میں ان کا پرانا نام کیوں ہے کیونکہ قوم کو تو بتایا گیا تھا کہ 2018میں عمران خان اور بشری بی بی کا نکاح ہوا تھا ۔ اس سے پہلے یقیناً طلاق ہوئی ہوگی ۔ سرکاری طریقہ کار یہ ہے کہ طلاق نامہ پہلے ثالثی کونسل کے پاس جاتا ہے ۔ تو اس کا نوے دن کا procedureہوتا ہے ۔ پھر نوے دن کے بعد وہ Divorce certificateدیتی ہے ۔ وہ بڑے بڑے کھڑپینچ رپورٹرز نے کوشش کی کہ نکل آئے پاکپتن ، دیپالپور کسی جگہ سے نہیں ملا ۔ اچھا نکاح کی بات کی جائے تو اس حوالے سے دو رائے ہیں کہ بنی گالہ میں نکاح ہوا ۔ دوسرا فرح گجر کے گھر لاہور میں ہوا ۔ مگر ان دونوں جگہوں سے بھی کوئی ریکارڈ نہیں ملا ۔ یہاں سے اب میں آپکو پھر پیچھے لے کر جاوں گا کہ بار بار سوال اٹھایا جاتا ہے کہ بشری بی بی کا پاسپورٹ ، ایف بی آر اور ویزا اجراء میں نام کیوں تبدیل نہیں ہوا ۔ پرانا نام کیوں چلا آرہا ہے ۔ کیونکہ ملکی قانون اور اسلام کے مطابق بیٹی کے ساتھ والد کا نام لگتا ہے اور شادی کے بعد یہ عورت کی چوائس ہے کہ وہ والد کانام لگائے یا شوہر کا ۔۔۔اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے ۔ اب اس حوالے سے جب طلاق ہوجاتی ہے تو Divorce certificateملنے کے بعد نادرا کے ریکارڈ میں عورت کے نام کے ساتھ شوہر کا نام ہٹ جاتا ہے اور والد کا نام آجا تا ہے ۔ پھر جب وہ عورت شادی کرتی ہے تو نئے شوہر کا نام لگوانا چاہے تو آئی ڈی کارڈ اس حوالے سے اپڈیٹ ہوجاتا ہے ۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ یہ کہانی بڑی ہوش ربا اور انکشافات سے بھرپور ہے ۔اس حوالے سے بہت سے رپورٹ تجزیے اور خبریں ہم نے سن رکھی ہیں کہ بشری بی بی ایک روحانی خاتون ہیں اور عمران خان ان کو بہت مانتے تھے بلکہ کچھ نے تو یہاں تک کہا کہ بظاہر عمران خان کو وزیراعظم کی کرسی تک پہنچنے میں بشری بی بی کا بڑا اہم کردار ہے ۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بشریٰ بی بی پر پاکستان کی خاتون اول بننے کے بعد سے جادو ٹونے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔ اگرچہ بشریٰ بی بی کے بارے میں زیادہ معلومات عوام کے علم میں نہیں ہیں لیکن جب دونوں کی شادی ہوئی تو پاکستانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عمران خان 2015 سے بشریٰ بی بی سے روحانی رہنمائی کے لیے آ رہے تھے اور ان کی بہت سی سیاسی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئیں۔۔ پھر جب عمران خان اور بشری بی بی کی شادی منظر عام پر آئی تھی تو اس وقت سینئر صحافی و کالم نگار جاوید چوہدری نے اپنے کالم میں بہت سے انکشافات کیے تھے ۔ چوہدری صاحب کا لکھنا تھا کہ عائشہ گلا لئی نے یکم اگست2017ءکو عمران خان پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ عمران خان الزام کے فوراً بعد تین اگست کو بشریٰ بی بی کے ساتھ پاک پتن گئے اور مزار شریف پر سلام کیا۔ بشریٰ بی بی نے خان صاحب کو تسلی بھی دی اور یہ یقین بھی دلایا ۔۔۔ آپ اس بحران سے صاف نکل جائیں گے ۔۔۔۔ بشری بی بی کی یہ بات بالکل درست ثابت ہوئی اور یہ ایشو آہستہ آہستہ دب گیا۔

    سینئرصحافی کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان کہتےہیں کہ چوہدری صاحب کے مطابق یہ دونوں میاں بیوی (بشری اور خاور مانیکا) عمران خان کےلئے رشتہ بھی تلاش کرتے رہے۔ یہ کوئی ایسی خاتون تلاش کر رہے تھے جس کی عمر چالیس اور پچاس سال کے درمیان ہو‘ جو مذہبی ہو‘ گھریلو ہو اور جو عمران خان کےلئے خوش نصیب ثابت ہو‘ یہ دو سال تک رشتہ تلاش کرتے رہے لیکن رشتہ نہ مل سکا لیکن آخر میں بشارت ہو ئی ۔ روحانی رہنمائی ملی اور رشتہ قرب و جوار میں ہی مل گیا۔

  • نیا پاکستان،پرانی کرپشن۔۔|| بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا نےملک کیسے لوٹا۔خوفناک حقائق

    نیا پاکستان،پرانی کرپشن۔۔|| بشریٰ بی بی اور خاور مانیکا نےملک کیسے لوٹا۔خوفناک حقائق

    لاہور:سابق خاتون اول بشرہ بی بی، ان کے سابق خاوند خاور مانیکا، اس کے بچے، اس کے بھائی اس کے رشتہ دارکیسے ریاست کو لوٹتے رہے۔ اس حوالے سے سنیئرصحافی مبشرلقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پرانکشافات کرکے بہت سی چیزیں صارفین کے سامنےرکھ دی ہیں‌، وہ کہتے ہیں کس سے کتنی رقم لی، کس کی کتنی زمین پر قبضہ کیا، کس سے کتنے تحائف لیے، کہاں کہاں زمین خریدی اور کہاں کہاں انویسٹمنٹ کی۔ ایک ایک چیز آپ کے سامنے رکھوں گا اور یہ کہانی کروڑوں کے نہیں بلکے اربوں کے ہیں، پانچ قیراط کی انگوٹی صرف والدہ نے نہیں لی بلکہ سوا ارب روپے کی کک بیکس صرف بیٹے نے اسی پارٹی سے وصول کی۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میاں خاور مانیکا ولد میاں غلام فرید مانیکا کا تعلق ضلع پاکپتن کے معروف مانیکا وٹو خاندان سے ہے۔ ان کے دادا خان بہادر نور خان ایک زمیندار تھے اور تقریباً 3700 ایکڑ زرعی زمین کے مالک تھے۔خاور مانیکا کے والد میاں غلام فرید مانیکا بھی ضلع پاکپتن کے معروف زمیندار تھے۔ خاور مانیکا کو تقریباً400 ایکڑ زرعی زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھوں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان کسٹم کو 1983میں جوائن کیا اور 2018 میں ریٹائر ہوئے۔

     

    سنیئرصحافی نے اس حوالے سے مزید انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر اس کی شادی اپنے چچا مظہر فرید مانیکا کی بیٹی محترمہ روبینہ سے ہوئی جو دیپالپور ،ضلع اوکاڑہ کی رہائشی تھی۔ یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی اورپھربشریٰ بی بی سے دوسری شادی کر لی جس سے ان کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ آخر میں بشریٰ بی بی کو طلاق دینے کے بعد، اس نے دس اگست 2018 کو اپنی بیٹی کی دوست سمیرا جاوید، آغا جاوید اختر کی بیٹی کے ساتھ تیسری شادی کی، جس سے خاورمانیکا کی صرف ایک بیٹی ہے۔ نکاح کا سرٹیفکیٹ آپ سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔خاور مانیکا پر الزام ہے کہ وہ ایک روائیتی بدعنوان بیو روکریٹ کی عظیم مثال ہیں جو فرنٹ مین کے ایک باضابطہ نیٹ ورک کے ذریعے منظم بدعنوانی میں ماسٹر بن گئے۔ اس کے کچھ فرنٹ مینوں اور سماجی روابط کی تفصیلات میں آگے چل کر بتاوں گا جسے سن کر اپ کے اوسان خطا ہو جائین گے۔۔ بدعنوانی کی کچھ جھلکیاں میں آپ کو دیکھا دیتا ہون۔۔ خاور مانیکا نے اپنے ایک فرنٹ مین کے ذریعے چک بیدی،ڈسٹرکٹ عارف والا میں مرحوم چوہدری عبدالغفور جن کی وفات 2017 میں ہوئی کی چھوڑی ہوئی تقریباً چار سو ایکڑ زرعی زمین پر قبضہ کر لیا۔ خاور مانیکا نے روبینہ نامی خاتون جو خاور مانیکا کے فرنٹ مین محمد رفیق کی بہن ہےکا جعلی شناختی کارڈ تیار کرکے اور اس کا نام عائشہ رکھ کر مذکورہ زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور تو اور جعلی شادی کا سرٹیفکیٹ بھی تیار کیا گیا جس میں اسے مرنے والے کی بیوی ظاہر کیا گیا ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ جعلی نکاہ نامہ اور شناختی کارڈ کی کاپی آپ اپنی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں۔تاہم، جانچ پڑتال کے بعد مذکورہ گاؤں میں شادی کا کوئی ریکارڈ نہ ملا۔خاور مانیکا اور اس کے بیٹے ابراہیم مانیکانے اپنے مقامی فرنٹ مین محمد رفیق کے ساتھ مل کر موضع میر خان میں 45 ایکڑ اراضی دھوکہ دہی سے مقتول کی جعلی بیوہ پیش کر کے ہتھیا لی۔کیونکہ مقتول مقبول کا کوئی قانونی وارث نہیں تھا۔ اور یہ کارنامہ سر انجام دینے کے عوض خاور ما نیکا نے اپنے فرنٹ مین رفیق عرفPhikki کو 12 ایکڑ زمین تحفے میں دی۔خاور مانیکا اور ابراہیم مانیکا جوبشریٰ بی بی کا بیٹاہے، نے خاتون اول کی صورت میں حاصل ہونے والی شہرت کا استعمال کرتے ہوئے اور خاتون اول کی مبینہ حمایت کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً دس لاکھ روپے روزانہ کی بنیاد پروزیر اعلی، آئی جی، اور چیف سیکرٹری آفس کے ذریعے سرکاری افسران کے تبادلوں، پوسٹنگ کا انتظام کر کے کماتے رہے ، یعنی تین کروڑ روپے ماہانہ۔ لیکن یہ تو مونگ پھلی کا ایک دانہ ہے ، آپ آگے تفصیل سنیں گے تو آپ کے ہوش اڑ جائیں گے کہ یہ تو ڈرائی فروٹ کے پورے پورے ٹوکرے ہضم کر گئے اور ڈکار بھی نہیں ماری۔ آپ سنتے جائیں اور شرماتے جائیں۔

     

    https://youtu.be/3FLEnsydJ_4

    ٹرانسفر پوسٹنگ کی رقم کی دھوکہ دہی مسٹر سرفراز کے ذریعے کی جاتی تھی جو لاہور میں خاور مانیکا کے اہم فرنٹ مین ہیں اور اہم کام انجام دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، خاور مانیکا کے لاہور میں کئی ججوں کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات اور قریبی روابط ہیں۔سروس کے دوران، خاور مانیکا نے گاؤں موضع 22/K میں 135 ایکڑ زرعی زمین خریدی اور اسے بشریٰ بی بی خاتون اول کے نام کر دیا۔ ان کی طلاق کے بعد، مسٹر مانیکا اب بھی اپنے فرنٹ مین عامر نامی شخص کے ذریعے زمین کا سالانہ ٹھیکہ وصول کر رہے ہیں۔ یہ حقیقت محترمہ بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کے مسلسل مالی روابط کی تصدیق کرتی ہے۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان نے اپنی بیوی کے اثاثے اپنے گوشوارون میں ظاہر کیئے ہیں اور اگر نہیں کیئے تو یہ کتنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ اس ملک میں اکاموں پر نا اہل کرنے کی روائیت تو پہلے ہی پڑ چکی ہے۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ بھائی احمد مجتبی کے کارناموں پر ایک نظر :احمد مجتبیٰ ولد سردار ریاض خان (مرحوم) کا تعلق ضلع اوکاڑہ کے معروف وٹو خاندان سے ہے۔ وہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے بھائی ہیں۔ ان کے والد، سردار ریاض خان ضلع اوکاڑہ کے معروف زمیندار تھے۔احمد مجتبیٰ کو تقریباً 60 ایکڑ زرعی زمین اپنے والد سے وراثت میں ملی تھی۔ ان کا مستقل پتہ Koaky Bahawalتحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ ہے۔ ان کی شادی سردار لطف اللہ خان کی بیٹی محترمہ مہرالنساء سے ہوئی جس سے ان کے 2 بیٹے اور 1 بیٹی ہے۔ وہ مستقل طور پر لاہور میں آباد ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ اپنی بہن کی شادی کے بعد
    احمد مجتبی علاقے کی ایک بااثر شخصیت بن گئے ہیں۔ اپنے ساتھیوں، فرنٹ مینو اور دیگر لوگوں کی مد د سے ایک منظم گروپ بنایا جس میں
    وسیم رسول مانیکا ، حماد احمد مانیکا اور دیگر شامل ہیں،احمد مجتبی تحصیل دیپالپور میں زمینوں پر قبضے سمیت ہر طرح کی منفی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔جب عمران خان کی حکومت آئی تو خاتون اول کے بھائی احمد اپنے بھانجے ابراہیم مانیکا کے ساتھ سرکاری افسران کی تقرریوں،تبادلوں کا انتظام کر تے رہے ۔ کئی فرنٹ مینوں کے ذریعے روزانہ ضرورت مندوں سے پانچ لاکھ سے دس لاکھ روپے تک کی رقم چھین لی جاتی۔احمد مجتبی کے فرنٹ مین وسیم رسول نے ان کے کہنے پر 2017 میں موضع بونگہ صالح رفیع آباد، کھمبیا والی، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں561 کنال اراضی ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے کے ٹھیکے پر ہتھیا لی۔ یہ زمین دراصل دوبہنوں کی ہے جن کا نام بشریٰ بیگم اور عارفہ فخر حیات مانیکا ہے جو میاں فخر محمد مانیکا کی بیٹیاں ہیں۔ مقامی حکومت کے دباؤ سے کیس ابھی بھی زیر التوا ہے۔ملک حسین ولد برکت علی نے حماد احمد مانیکا اور وسیم رسول جو بشرہ بی بی کے بھائی احمد کا فرنٹ میں ہے کے ساتھ مل کر طاہر خورد، بصیر پور، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں مسٹر دین محمد کی 70 ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا ،زمین کی قیمت تقریباً 21 کروڑ روپے ہے۔ایف آئی آر نمبر 17/22 مورخہ گیارہ جنوری 2022 مسٹر ملک حسین اور حماد احمد کے خلاف تھانہ بصیر پور، ضلع اوکاڑہ میں درج کی گئی ہے۔

    سینئرصحافی کا کہنا ہے کہ حماد احمد مانیکا جو بشرہ بی بی کے بھائی احمد مجتبی کا فرنٹ مین ہے نے احمد کے کہنے پر بونگہ صالح، بصیر پور، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ میں 17 ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضہ کیا۔ یہ زمین دراصل بریگیڈیئر (ر) شاہد جمیل کی تھی ،زمین کی قیمت تقریباً پانچ کروڑ روپے ہے۔حماد احمد مانیکا نےجعلی دستاویزات کے ذریعے 2.5 ایکڑ اراضی بھی ہتھیا لی جسے اس کے قانونی ورثاء نے ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کے لیے کسی دوسری پارٹی کو فروخت کیا تھا۔ گفت و شنید کے بعد انہوں نے بڑا حصہ واپس کر دیا لیکن پھر بھی سوسائٹی میں 72 مرلہ کمرشل اراضی پر قابض ہیں۔ احمد مجتبی کے فرنٹ مین حماد احمد مانیکا نے پٹواری ٹھوکر نیاز بیگ کی تقرری کے لیے اسی لاکھ روپے لیے، اور پھر اگلے ہی دن نوٹیفکیشن میں ترمیم کر دی گئی اورحکام کی جانب سےایک اور شخص کو تعینات کر دیا گیا جس کی وجہ سے پٹواری اپنے پیسے واپس مانگتا رہ گیا۔ایک تخمینہ کے مطابق خاور مانیکا اور اس کے بیٹو ں نے ایک ارب 34کروڑ کی گاڑیاں، کاریں اور کیش کی صورت میں بنایا جبکہ زمین اور گھروں کی صورت میں تقریباایک ارب تین کروڑ روپے کے اثاثے ہیں۔احمد مجتبی کے پاس زمین اور کیش کی صورت میں تقریبا 520 millionروپے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ بشریٰ بی بی کے بیٹے مسٹر ابراہیم کو حال ہی میں لاہور میں چار کروڑ روپے کی ایک لینڈ کروزرگاڑی تحفہ میں ملی ہے جو تحفہ فراہم کرنے والے کے ایک مخصوص کام کو پورا کرنے اور اسے سنبھالنے کی صورت میں ملی ہے۔ اس الزام کے ثبوت۔ اس بندے کا نام اور کس کام کے عوض یہ دی گئی بہت جلد ایک اور پروگرام میں آپ کے سامنے لاوں گا۔مبینہ طور پر، بشرہ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا نے پنجاب حکومت کے ذریعے لاہور میں شاہقام چوک اوور ہیڈ برج کی تعمیر میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بحریہ ٹاؤن کے سی ای او ملک ریاض سے کک بیک کی صورت میں 80 کروڑ روپے بھی وصول کیے ۔ جبکہ ایک اور ڈیل میں پچیس کروڑ روپے الگ سے لیے۔خاور مانیکا کے چچا نے عرصہ دراز پہلے آٹھ کنال قیمتی جگہ جو287 Ferozpur lahore کے نام سے تھی کو تیس لاکھ روپے میں فروخت کیا تھا۔ خاور مانیکا نے ہیرا پھیری کر کے ، حال ہی میں اپنے دادا کے نام کروانے میں کامیاب ہو گئے ۔اب اس جگہ کی مالیت اربوں میں ہے، خاور مانیکا نے محکمہ لینڈ ریکارڈ کو خصوصی طور پر زمین کا ریکارڈ شیئر نہ کرنے کی ہدایت کی ۔اب یہ پاکپتن میں کس قسم کی بدمعاشی کرتے ہیں زرا یہ بھی سن لیں۔۔بھروان بی بی جو7-SPضلع پاکپتن کی رہائشی ہے نے SP صدر کو درخواست دی ، کہ اس کے بیٹے سہیل منظور ولد منظور جس کی عمردس سال تھی سے ذاکر حسین نامی شخص نے شدید جسمانی زیادتی کی ہے۔ جب وہ دوکان پر سودا لینے جا رہا تھا۔اور اس پر ایک ایف آئی آر بھی درج کی گئی۔اور بعد میں پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔ ملزم خاور مانیکا کے منیجر جاوید کا قریبی رشتہ دار نکلا۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ خاور مانیکا کے مینجر جاوید نے بھروان بی بی پر اپنی ایف آئی آر واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا، لیکن اس کے باوجود، نابالغ سہیل منظور نے صلح کرنے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد موسیٰ مانیکا سرگرم ہو گئے ۔موسی بشریٰ بی بی کا چھوٹا بیٹا ہے ، اس نے اپنے ڈیرہ میں پنچایت بلائی۔ متاثرہ کے رشتہ داروں کو بے جا دباؤ کا نشانہ بنایا گیا اور پولیس نے جھوٹے مقدمات بنا کرانہیں غیر قانونی حراست میں رکھا۔ ابھی تک، مصالحت زیر التواء ہے اور متاثرین کو اب بھی مسٹر خاور مانیکا مقامی پولیس کے ذریعے مجبور کر رہے ہیں۔ان لوگوں کے کام دیکھیں اور ان کے عزائم دیکھیں۔۔ اب ان کی نظر
    دربار بابا فرید پاکپتن کی گدی پرہے۔خاور مانیکا دربار حضرت بابا فرید، پاکپتن کی گدی لینے کے خواہشمند ہیں کیونکہ وہ دربار حضرت بابا فرید کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں خاص طور پر دربار کے سالانہ عرس کے موقع پرحال ہی میں دیوان مودود جودربار کے موجودہ نگران ہیں اور ان کے دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ ہوا تھا۔ دیوان فیملی کے ممبر ہونے کے ناطے خاور مانیکا نے ‏محکمہ اوقاف کے ذریعہ ساز باز کر کے اس صورٹھال سے فائدہ اٹھایا اور عرس کے پہلے دو دن کا نظام سنبھال لیا۔ دس دسمبر دوہزار اکیس کو جاری کیا گیا چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف کا یہ نوٹیفیکیشن آپ اپنی سکرین پر دیکھ سکتے ہیں جس میں ڈپٹی کمشنر پاکپتن کے بعد خاور مانیکا کا نام درج ہے۔جس نے دربار کی رسومات ادا کرنے میں ہیرا پھیری کرکے مزید اختلافات پیدا کیے ۔

    بشریٰ بی بی، خاور مانیکا، ان کے بیٹے ابراہیم اور بھائی احمد مجتبیٰ نے روابط کا استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس مقام پر پہنچا دیا جہاں وہ خاتون اول کی ملی بھگت سے ریاست کے کسی بھی فرد یا ادارے کو متاثر کرسکتے تھے۔ انہوں نےبیوروکریسی پولیس میں اثر و رسوخ کا اپنا کلب سرکل بنا لیا تھا۔

     

    https://youtu.be/3FLEnsydJ_4

    فرح شہزادی اور احسن جمیل گجرکےساتھ خاور مانیکا پنجاب بھر میں خاص طور پر ساہیوال ڈویژن کی مقامی انتظامیہ میں منافع بخش تقرریوں پر اپنے قریبی ساتھیوں اور دوستوں کو تعینات کرنے میں کامیاب رہی ۔خاتون اول نے اپنے کلب کے ساتھ Graana.com میں سرمایہ کاری کی ہے، جو کہ فرنٹ مین کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ گالف فلورس گارڈن سٹی اسلام آباد (عمران گروپ آف کمپنیز)۔عمارات رہائش گاہیں (ایکسپریس وے اسلام آباد)۔ایمیزون آؤٹ لیٹ (جی ٹی روڈ اسلام آباد)۔امارت مال (جی ٹی روڈ اسلام آباد)۔مال آف عربیہ (ایکسپریس وے اسلام آباد)۔فلورنس گیلیریا (ڈی ایچ اے فیز 2 اسلام آباد)۔Taj Residensia i-14
    اسلام آبادپارک ویو سٹی (ملت روڈ اسلام آباد)۔خاور مانیکا اور احمد مجتبیٰ بشریٰ بی بی کے ساتھ مل کر لاہور,اوکاڑہ اور پاکپتن میں متعدد منصوبے شروع کیئے ۔ مزید یہ کہ انہیں مختلف منصوبوں کی منظوری میں سہولت کے لیے نقد رقم اور مہنگے تحائف کی مد میں بھاری کک بیکس بھی ملے۔

    سینئرصحافی کا کہنا ہے کہ خاتون اول کے حمایت یافتہ کلب نے راولپنڈی کے مجوزہ رنگ روڈ منصوبے سے متعلقہ نووا ہاؤسنگ اور دیگر ہاؤسنگ سکیموں میں بھی نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔چکری انٹرچینج M2 کے قریب کنگڈم ویلی اسلام آباد کنگڈم گروپ کا ایک فلاپ/ڈیڈ پروجیکٹ تھا۔ بشریٰ بی بی کے بیٹے ابراہیم مانیکا نے، جسے اس کی والدہ کی حمایت حاصل ہے اوراثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئےنیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے ساتھ تعاون کرکے اس منصوبے کو تبدیل کیا ۔
    دو سو کنال زمین کا ایک پورا بلاک بلیو ورلڈ سٹی میں خریدا گیا۔ اس کی ڈویلپمنٹ ابراہیم مانیکا کی طرف سے منتخب کنسٹرکشن کمپنی نے کرنا تھی۔
    ان لوگوں کی ہوس کی انتہا دیکھیں کہ ابراہیم مانیکا کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں اپنےوالد خاورمانیکا کے تعلقات استعمال کرتے ہوئے ہیوی بائیکس درآمد کرتے رہے اور کسٹم میں اچھی خاصی چھوٹ اور ٹیکس چوری تک کرتے رہے۔

  • پی ٹی آئی کا بیانیہ ختم ہو چکا ہے : ناصر حسین شاہ

    پی ٹی آئی کا بیانیہ ختم ہو چکا ہے : ناصر حسین شاہ

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف کا بیانیہ ختم ہوچکا ، اب تو ان کے پاس ویسے ہی کوئی بیانیہ نہیں،ان خیالات کا اظہارپاکستان پیپلزپارٹی سندھ کے رہنما صوبائی وزیرناصرشاہ نے سینیئرصحافی مبشرلقمان سے بات کرتے ہوئے کیا ، ان کا کہنا تھاکہ جس طرح یہ بیانیہ بناتے رہے اب تو وہ بھی حقائق کھل کرسامنے آگئے ہیں

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ کھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشرلقمان سے بات کرتے ہوئے ناصر شاہ نے مبشرلقمان کی ایک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے آسٹریلیا سے 16 لاکھ کے بدلے ٹرینڈ بنوائے تھے ، ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کایہ چہرہ بھی بے نقاب ہوا، ناصرشاہ نے کہا کہ اب تو ان کے پاس کوئی بیانیہ نہیں ہے

     

    مبشرلقمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اناصر شاہ نے کہا کہ ان کا بیانیہ ختم ہوچکا یہی وجہ ہےکہ اسلام آباد کی طرف مارچ کا دعویٰ کرنے والوںکے پاس پنجاب ، سندھ اوردیگرعلاقوں سے لوگ ہی نہیں گئے جو بھی آئے وہ کے پی سے آئے ،مبشرلقمان نے ناصرشاہ کی بات کو مکمل کرتے ہوئے کہا کہ جس دن اسلام آباد کی طرف مارچ تھا اس دن پی ٹی آئی کے کئی لیڈر میرے گھر میں بیٹھ کرلنچ کرتےرہے ،

    مبشرلقمان کی گفتگو کوسمیٹتے ہوئے ناصرشاہ نے کہا کہ مبشرصاحب آپ ملکی اوربین الاقوامی حالات وواقعات اورسیاست سے اچھی طرح واقف ہیں ہم آپ کے پروگرام سے بیانیہ لے کراسے ثبوت کے طور پر پیش کرتےہیں ، ویسے بھی آپ حالات کو بہترسمجھتے ہیں ،اس پر مبشرلقمان نے ناصرشاہ کی متاثرکُن شخصیت کی کوالٹی بیان کرتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب ایک سمجھدارشخص ہیں

  • عامر لیاقت کی سیٹ پر پی ٹی آئی کا امیدوار کون ہو گا؟ سابق گورنر سندھ نے بتا دیا

    عامر لیاقت کی سیٹ پر پی ٹی آئی کا امیدوار کون ہو گا؟ سابق گورنر سندھ نے بتا دیا

    کراچی:عامر لیاقت کی سیٹ پر پی ٹی آئی کا امیدوار کون ہو گا؟اس حوالے سے سندھ کے سابق گورنرعمران اسمٰعیل نے سینئرصحافی مبشرلقمان سے گفتگو کرتے ہوئے متوقع صورت حال سے آگاہ کردیا،عمران اسمٰعیل نے گفتگو کرتے ہوئے اس حلقے کی ضمنی الیکشن میں پارٹی کی پوزیشن بھی واضح کردی

     

    باغی ٹی وی کے مطابق ایک موقع پر جب مبشرلقمان نے سابق گورنرسے پوچھا کہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ آپ اس حلقے سے الیکشن لڑرہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ویسے بھی گورنرشپ سے استعفے کے بعد دوسال تک الیکشن لڑہی نہیں سکتا، دوسری بات یہ ہےکہ اس حلقے سے پارٹی کس کوٹکٹ دیتی ہے یہ پارلیمانی بورڈ فیصلہ کرے گا کیونکہ پارلیمانی بورڈ کے سامنے امیدوارپیش ہوئے ہیں جسے بورڈ بہترخیال کرے گا اس کو ٹکٹ مل جائے گا

     

    ایک سوال کے جواب میں جس میں مبشرلقمان نے پوچھا کہ کیا الیکشن لڑنے کے بعد پی ٹی آئی ممبرپھراستعفیٰ دے دے گا تو انہوں نے کہاپارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اسمبلی میں نہیں بیٹھیں گے تو یقینی بات ہےکہ استعفیٰ دے دیں گے ، اس پر مبشرلقمان نے کہا کہ کیا اس عمل سے ووٹرکی محنت ووٹ کاسٹ کرنا بے کار ہوجائے گا،تو عمران اسمٰعیل نے کہا کہ ووٹربھی سمجھتا ہےکہ اس ملک کے ساتھ مخلص کون ہے تو اس پرشاید اعتراض نہ ہو

    ایک اور سوال کے جواب میں عمران اسمٰعیل نے کہا کہ ہم نےآئی ایم ایف سے بات چیت کی تھی لیکن اس بات چیت میں قومی مفادکا تحفظ کیا اورپھرایک ایسا معاہدہ کیاکہ پاکستان کے حالات بہتر ہونے لگےلیکن بعد میں آنے والی اس حکومت نے ڈالرکوناقابل کنٹرول حد تک پہنچا دیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتے