Baaghi TV

Tag: مبشرلقمان

  • وزیراعظم کوگفتگوکرتےوقت تحمل اورحکمت عملی سےکام لیناچاہیے،جارحانہ اندازاچھا نہیں‌:مبشرلقمان

    وزیراعظم کوگفتگوکرتےوقت تحمل اورحکمت عملی سےکام لیناچاہیے،جارحانہ اندازاچھا نہیں‌:مبشرلقمان

    لاہور:وزیراعظم کوگفتگوکرتےوقت تحمل اورحکمت عملی سےکام لیناچاہیے،جارحانہ اندازاچھا نہیں‌:اطلاعات کے مطابق سینئر صحافی مبشرلقمان جو وزیراعظم کے ان دوستوں میں سے ایک ہیں جن کو وزیراعظم کی دوستی اور وزیراعظم کی صاف شفاف شخصیت پر فخرہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سچ اور حقیقت بیان کرنے کا وقت آتا ہے تو مبشرلقمان دوستیوں اور تعلقات کی پرواہ نہیں کرتے

     

    شاید یہی وجہ ہے کہ مبشرلقمان جو کہ وزیراعظم عمران خان پرتنقید کے ساتھ ساتھ اچھائی کا پہلو بھی بیان کرتے ہیں وزیراعظم کی طرف سے پاکستان میں موجودہ جارحانہ رویے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انداز کسی کے لیے بھی اچھا نہیں ،یہ بھی کہا ہے کہ اپنی غلطی مان لینے میں ہی بہتری ہے ،

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ پچھلے چند دنوں سے جو ملک کے اندر سیاسی رسہ کشی جاری ہے اس میں‌ وزیراعظم کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا ، وہ کہتے ہیں کہ یہ رویہ بہت غیر صحت مند اور خوفناک ہے۔ ملک کے لیے شدید بدامنی کا باعث بن سکتا ہے۔

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میری وزیراعظم سے عرض ہے کہ اپوزیشن کے جارحانہ انداز میں دھیما پن اپنائیں اور اپنی ذمہ داری ادا کریں‌

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ مجھےمعلوم نہیں کہ وزیراعظم کے دماغ میں کیا گزرا ہے۔ میرے ساتھیوں اور میں نے برسوں تک کتپان کا ساتھ دیا اور دے رہے ہیں لیکن ان کا یہ موجودہ رویہ اچھا نہیں لگا احتیاط برتنی چاہیے تھی

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ میں دیکھ رہا ، سُن رہا ہوں کہ بیان کے جواب میں بیان اور وہ بھی جارحانہ انداز، ان کا کہنا تھا کہ دلیل اپنی جگہ لیکن حکمت کے فوائد بہت ہی زیادہ ہوتے ہیں اس لیے وزیراعطم ذمہ داری کا مظآرہ کریں‌

     

     

    مبشرلقمان کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا دور ہے بیان کو غلط رنگ دے کر بار بار شیئرکیا جائے توپھرسننے والا بھی متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، ا سلیے کوشش کریں کہ پہلے تولیں پھر بولیں اور اسی میں ہی بھلائی ہے

  • چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوکی مبشرلقمان سے ملاقات:زیربحث آئے اہم معاملات

    چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوکی مبشرلقمان سے ملاقات:زیربحث آئے اہم معاملات

    لاہور:چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوکی مبشرلقمان سے ملاقات:زیربحث آئے اہم معاملات،اطلاعات کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کا مارچ لاہور میں داخل ہورہا ہے اور ساتھ ہی اس وقت بلاول بھٹواپنے اہم اورقابل اعتماد ساتھیوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں ، اس اہم ملاقات میں‌ ایک ملاقات سینیئر صحافی مبشرلقمان سے بھی ہوئی ہے

    باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق سینیئرصحافی مبشرلقمان سے ملاقات کے دوران اہم معاملات بھی زیربحث آئے ہیں ، اس موقع پر عدم اعتماد اور پیپلزپارٹی کے مستبقل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی کچھ معاملات پرسیر حاصل گفتگو ہوئی

    ادھرذرائع کےمطابق دیگر ملاقتوں میں بڑی بڑی شخصیات بھی شامل ہیں جن میں ممتاز قانون دان چوہدری اعتزاز احسن کو بھی ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا ، وہ ان ملاقاتوں میں زیادہ ترخاموش ہی دکھائی دیئے اور حالات کا ادراک کرتے رہے

    اس موقع پر بلاول بھٹو نے کہا کہ “اس وقت ہم اپنی ذات اور جماعت کیلئے نہیں نکلے، ہم قوم کے مفاد اور صاف و شفاف انتخابات کیلئے نکلیں ہیں۔”

    ادھر اس سے پہلے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ندیم افضل چن سے ملاقات کے دوران دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت پر انہیں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ سلیکٹڈ لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے سے پہلے اپنے گھر کی راہ لے گا۔

    پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کے آٹھویں روز قافلے لاہورپہنچ گئے ہیں، شرکا کیلئے ٹینٹ سٹی قائم کر دیا گیا۔ شہر بھر میں پارٹی پرچموں کی بہار ہے، بلاول بھٹو کے ناصر باغ جلسے سے خطاب کے بعد جی ٹی روڈ سے اسلام آباد روانگی شیڈول ہے۔ جلسے سے قبل جیالوں کے لیے پیپلز پارٹی لاہور انتظامیہ کی جانب سے ناشتے کا انتظام کیا گیا جس میں پوری، حلوہ اور پٹھوروں سے تواضع کی گئی، جیالے لاہوری ناشتے سے بھرپور لطف اندوز ہوتے رہے۔

    بلاول بھٹو زرداری جلسے سے قبل جوہر ٹاؤن لاہور میں واقع ندیم افضل چن کی رہائش گاہ پر پہنچے، اس موقع پر ندیم افضل چن نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ پی ٹی آئی عوامی جماعت ہے لیکن یہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں مکمل ناکام رہی، اب پی ٹی آئی کا مقدر گھر جانا رہ گیا ہے۔ بلاول بھٹو نے ندیم افضل چن کو کہا کہ پیپلزپارٹی آپکا گھر ہے واپس آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں، اسلام آباد پہنچنے سے پہلے سلیکٹڈ اپنے گھر کی راہ لے گا، پیپلزپارٹی عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے اب عوام ہی فیصلے کریں گے۔

    بلاول بھٹو ناصر باغ جلسے سے خطاب کے بعد عوامی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اپنی اگلی منزلوں کی جانب روانہ ہوں گے،ان کی دوسری تقریر مریدکے جبکہ تیسرا خطاب گوجرانوالہ کے شیرانوالہ باغ میں ہوگا، بلاول بھٹو کی حتمی منزل آج وزیرآباد ہوگی۔

    لاہور میں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کا سفر چالیس کلو میٹر پر محیط ہے، لاہور پولیس لانگ مارچ کو بحریہ ٹاون سے امامیہ کالونی تک سیکورٹی مہیا کرے گی ۔شہر میں لانگ مارچ کے شرکا کے لیے آٹھ مقامات پر ویلکم کیمپ لگائے گئے ہیں ۔ ناصر باغ پر بارہ سو پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ لانگ مارچ کے روٹ پر چودہ سو اہلکار تعینات کئے گئے ہیں ، سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اونچی عمارتوں پر 335 روف ٹاپ اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔ لانگ مارچ پر ایس ایس پی آپریشنز مستنصر فیروز سمیت سات ایس پیز ، سولہ ڈی ایس پیز اور 38 ایس ایچ اوز بھی تعینات رہیں گے۔

  • آصفہ بھٹوڈرون کیمرہ لگنے سے زخمی ہیں،دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ جلد صحت کاملہ عطافرمائیں:مبشرلقمان

    آصفہ بھٹوڈرون کیمرہ لگنے سے زخمی ہیں،دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ جلد صحت کاملہ عطافرمائیں:مبشرلقمان

    لاہور:آصفہ بھٹوڈرون کیمرہ لگنے سے زخمی ہیں،دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ جلد صحت کاملہ عطافرمائیں،اطلاعات کے مطابق سینیئر صحافی مبشرلقمان نے پی پی رہنما صابق صدر آصف علی زرداری کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو کوخانیوال جلسے میں ڈرون کیمرہ لگنے کی وجہ سے پہنچنے والی تکلیف پردُکھ کا اظہارکیا ہے اور ان کی مکمل اور جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے

    مبشرلقمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی ابھی آصفہ بھٹوزرداری کے بارے میں‌ سُنا ہے کہ وہ خانیوال میں جلسے میں ڈرون کیمرہ لگنے سےزخمی ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرا تو مشورہ یہ ہےکہ اس قسم کی رپورٹنگ سے پرہیز کی کیا جانا چاہیے جس میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا جاتا ہے

     

    سینیئر صحافی مبشرلقمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں اچھے انداز اپنانے چاہیں کہ جس سے اس قسم کے ایونٹ کے دوران خطرات کے خدشات سے محفوظ رہیں‌

    یاد رہے کہ آج خانیوال میں کنٹینر پر کھڑی آصفہ بھٹو زرداری سے ڈرون کیمرہ ٹکرا گیا ہے۔ ڈرون کیمرہ کنٹینر پر کھڑی آصفہ بھٹو زرداری کے چہرے سے ٹکرایا، ڈرون ٹکرانے کے بعد آصفہ اور بلاول کنٹینر کے اندر چلے گئے۔اس کے علاوہ بلاول بھٹو کی سیکیورٹی نے ڈرون آپریٹر کو پکڑ لیا ہے۔

    آصفہ بھٹو کو ڈرون لگنے سے انکا خون بہا ہے، وہ زخمی ہیں ان کو اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔آصفہ بھٹو زرداری کو جلوس سے روانہ کردیا گیا ہے جبکہ جلوس کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ڈرون اڑانے سے منع کردیا گیا ہے۔

    دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے ٹوئٹر پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ آصفہ بی بی کے چہرے پر ڈرون کیمرہ لگنے کا افسوس ہے- اُمید ہے کہ وہ خیریت سے ہونگی۔

    اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد تحریک میں کامیابی کے بعد عبوری سیٹ اپ کے لیے وزیراعظم ن لیگ سے ہوگا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ ہمارا مشن کامیاب ہوگا، ہمارا ہدف اس وزیراعظم کو ہٹانا ہے، عبوری سیٹ اپ کے دوران ہدف انتخابی اصلاحات کرنا ہوگا، انتخابی اصلاحات کا مقصد صاف و شفاف انتخابات کرانا ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی مارچ کے باعث عمران خان خوف میں ہے، جیالوں کے خوف سے عمران خان حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کردی، پشاور دھماکے کی مذمت کرتا ہوں۔

    آصفہ بھٹو زرداری کو جلوس سے روانہ کردیا گیا ہے جبکہ جلوس کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ڈرون اڑانے سے منع کردیا گیا ہے۔

  • شہبازشریف کےکرپشن کیسزکےمتعلق مرتضیٰ علی شاہ        کی خبردرست ثابت ہوئی:زبردست رپورٹنگ ہے:مبشرلقمان

    شہبازشریف کےکرپشن کیسزکےمتعلق مرتضیٰ علی شاہ کی خبردرست ثابت ہوئی:زبردست رپورٹنگ ہے:مبشرلقمان

    لندن :شہبازشریف کے متعلق کرپشن کیسزکے متعلق سید مرتضیٰ علی شاہ کی خبردرست ثابت ہوئی:زبردست رپورٹنگ ہے:اطلاعات کے مطابق سینئرصحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے سینئرصحافی مرتضیٰ علی شاہ کو زبردست رپورٹنگ پران کو خراج تحسین پیش کیا ہے ہے

    سینئر صحافی مبشرلقمان نے مرتضیٰ علی شاہ کے کام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے جو حقائق پیش کیے تھے آج ان کی تصدیق ہوگئی ہے اور یہ چیز ثابت کرتی ہے کہ آپ واقعی ایک تحقیقاتی جرنلزم کے ماہر ہیں

    مبشرلقمان نے بھی برطانوی ادارے کی رپورٹ کے متعلق کہاہے کہ میاں شہباز شریف کو NCA نے کسی بھی مجرمانہ سرگرمی یا منی لانڈرنگ سے بری کر دیا ہے۔ اس کا مطلب ہے دو چیزیں اب واضح ہوچکی ہیں ; ایک یہ کہ شہباز شریف بطور ملزم مجرم نہیں اور دوسرا یہ کہ شہزاد اکبر کو ان کے کرتوتوں اور جھوٹے الزامات کا جوابدہ ہونا چاہیے۔

     

     

    یاد رہے کہ سید مرتضیٰ علی شاہ نے گزشتہ سال نومبر میں خبر دی تھی کہ این سی اے نے شہباز شریف اور ان کے بیٹے سلیمان کے خلاف منی لانڈرنگ کی بڑی تحقیقات مجرمانہ طرز عمل، منی لانڈرنگ اور عوامی عہدے کے غلط استعمال کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر مزید کارروائی اور اثاثوں کو غیر منجمد کئے بغیر ختم کردی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سرکاری عدالتی کاغذات کے مطابق برطانیہ کی سپر اینٹی کرپشن فورس نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے 19 دسمبر 2019 کو ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کی عدالت کو بتایا تھاکہ اسے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے بیٹے سلیمان شریف کے خلاف منی لانڈرنگ، فراڈ، بدعنوانی اور عوامی عہدے کے غلط استعمال میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کو ’ثابت یا غلط ثابت‘ کرنے کے لیے ہائی پروفائل تحقیقات شروع کرنے کے لیے اثاثے منجمد کرنے کے احکامات (اے ایف اوز) کی ضرورت تھی۔ انکشافات عدالتی کاغذات میں موجود ہیں جو کہ اب تک منظر عام پر نہیں آئے۔

     

    اس کے بعد وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ شہباز شریف تحقیقات کا حصہ نہیں تھے کیونکہ ان کا نام اے ایف اوز کو الگ کرنے والے آرڈر کا حصہ نہیں تھا۔

    نئے کاغذات سے واضح طور پر ثابت ہوگیا ہے کہ ساری تفتیش شہباز شریف اور ان کے بیٹے اور ان کے دوست ذوالفقار احمد پر مرکوز تھی جنہوں نے کارٹر رک میں شہباز شریف کے وکلاء کو ادائیگی کی تھی۔

    این سی اے نے شہباز شریف کی ملکیت والے دو فلیٹس، ان کے متعلقہ بینک اکاؤنٹ اور سلیمان کے اکاؤنٹس میں تقریباً 700000 پاؤنڈز کی منی ٹریل کی چھان بین کی جسے ایجنسی کے خیال میں شہباز شریف نے پاکستان سے منتقل کیا تھا۔

    شہزاد اکبر اور ڈیوڈ روز نے جولائی 2019 میں ڈیلی میل کے مضمون میں اعلان کیا تھا کہ این سی اے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ این سی اے کا کہنا تھا کہ شریفوں کے برطانیہ کے فنڈز پاکستان میں مجرمانہ طرز عمل سے حاصل ہونے کا شبہ ہے۔

    این سی اے نے ڈیلی میل کے الزامات، نیب ریفرنس، ایف آئی اے کی ایف آئی آر اور منی لانڈرنگ کے ثبوت کے طور پر اثاثوں کی بازیابی یونٹ (اے آر یو) کی جانب سے دیے گئے دیگر شواہد پر انحصار کیا جبکہ شہباز شریف سے آف شور اکاؤنٹس کے لیے آف شور علاقوں میں بھی تفتیش کی۔

    این سی اے نے غلط کام، منی لانڈرنگ یا مجرمانہ طرز عمل کا کوئی ثبوت نہ ملنے پر شہباز اور بیٹے کے خلاف فوجداری تفتیش ختم کردی تھیں ۔ کسی قابل بازیافت اثاثے کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔ شہباز شریف کے خلاف این سی اے کی تحقیقات تقریباً دو سال تک جاری رہیں اور مجرمانہ طرز عمل یا دھوکہ دہی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

    نومبر 2021 میں تحقیقات کو بند کر دیا گیا جب این سی اے یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ شہباز شریف اور ان کا خاندان کسی بھی قسم کے غلط کام میں ملوث ہے۔ شہباز شریف کو مؤثر طریقے سے کلین چٹ دے دی گئی۔

    یہ ثابت کرنے میں ناکام ہونے کے بعد کہ نقد رقم اور اثاثے مجرمانہ منی لانڈرنگ سے حاصل کیے گئے تھے،تقریباً دو سال تک تحقیقات کے بعد این سی اے نے کیس خارج کر دیا اور شریفوں کے تمام اثاثے جاری کر دیئے۔

  • چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو:جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے:مبشرلقمان

    چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو:جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے:مبشرلقمان

    لاہوار:چہرہ کھلی کتاب ہے عنوان جو بھی دو:جس رخ سے بھی پڑھو گے مجھے جان جاؤ گے:مبشرلقمان کا جی سی یونیورسٹی میں خطاب ،اطلاعات کے مطابق آج جی سی یونیورسٹی لاہور میں بک کلب اور نذیر احمد میوزک سوسائٹی کے تعاون سے ایک شاندارتقریب کا اہتمام کیا گیا تھا ، جس میں جی سی کے وائس چانسلر اصغر زیدی میزبان کی حیثیت سے تشریف لائے ، وائس چانسلر نے معروف صحافی مبشرلقمان کا بھی استقبال کیا

    پاکستان کی بڑی اور ممتازیونیورسٹی جسے جی سی یونیورسٹی کےنام سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے بڑے بڑے نام جانتے ہیں میں آج شام ایک بہت بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں بک کلب کی طرف سے "میٹ دی آتھر”کے سیشن کا اہتمام کیا گیا ہے جس کے مہمان خصوصی سینئرصحافی مبشرلقمان تھے

    سینیئر صحافی نے خطاب کے ساتھ ساتھ مختلف سوالات کے جوابات بھی دیئے جن کو سن کر شرکائے تقریب مہموز ہوتے رہے

    باغی ٹی وی کے مطابق جی سی یو بک کلب کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ 1978 میں بخآری آڈیٹوریم کا ساؤنڈ سسٹم ٹھیک نہیں تھا آج بھی ٹھیک نہیں کوشش کریں گے ٹھیک کروائیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آپ لوگ خوش قسمت ہیں ہمارے زمانے میں بک کلب نہیں تھا ۔ میں گزشتہ شب شو میں لڑائی کی وجہ سے گھبر آگیا تھا جو لڑائیاں کالج کیفے ٹیریا میں ہوتی تھیں اب وہ ٹی وی پر ہو رہی ہیں پیچھے سے ہم ہندوستانی ہیں میچ ہو تو پاکستانی ہیں مرنا مکے میں ہے اور دفن مدینے میں ہے ۔پیسہ قسمت میں ہے وہ ملنا ہے لیکن تعلیم نہیں ۔ اگر تعلیم حاصل کرنی ہے اور سینس آف جسٹس نہیں تو پھر رہنے دیں جو قانون توڑے سزا اسی کو ملنی چاہیے ۔ قانون کی عملداری نہیں ہو گی تو پھر صرف کرپٹ لوگ ہی پاکستان میں بچیں گے

    جب کتاب لکھ رہا تھا تو اردو لکھنے میں مشکل ہوتی تھی۔ میں نے آسان زبان میں لکھی تاکہ ریڑھی والے کو بھی سمجھ آئے مشکل اردو نہیں شامل کی۔ ایک ماہ میں یہ کتاب کھرا سچ کی تاریخی سیل ہوئی اور سب ریکارڈ توڑے ۔ کفن کی جیب نہیں ہوتی یہ کتاب کا خلاصہ ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایک درخت لگائیں اسکا نام رکھیں تاکہ آپکے بعد بھی لوگ دنیا میں سانس لے سکیں ۔پیسہ کافی نہیں جس کے پاس ہو گا اس نے بھی مرنا ہے ۔

    تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کے سیشن میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ انار کلی کے فٹ پاتھ پر کتابیں اور جوتے شوروم میں بک رہے ہیں ایسی قوم کے ساتھ کیا ہونا چاہیے ۔میڈیا اس صورت میں آزاد ہے جب اپنے کمرشل انٹرسٹ کے خلاف بات کرے کسی کے خلاف بات کرنا یہ میڈیا کی آزادی نہیں ہے۔

     

    ایک اور سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کھرا سچ پاکستاں میں پہلی بار ہندو برادری کو شناختی کارڈ کھرا سچ کی وجہ سے ملا ۔ سپریم کورٹ سے خواجہ سراؤں کو حقوق کھر ا سچ کی وجہ سے ملے۔ کھرا سچ نے جعلی ڈگریاں پکڑنا شروع کیں اس میں پائلٹ سیاسی لوگ تھے ۔ کھرا سچ ایکسپوز کرتا ہے اور حقائق سامنے لاتا ہے۔

     

    سینیئر صحافی مبشرلقمان آج اگر ہم نے سب نہ بولا تو ہو سکتا ہے یہ ملک ٹوٹ جائے ہم خودنمائی کا شکار ہو چکے ہمیں صرف تعریف اچھی لگتی ہے سچ دوسروں کے بارے اچھا لگتا ہے اپنے بارے نہیں ۔ جب تک سچ کو نہیں تسلیم کریں گے کچھ نہیں سیکھ سکتے ۔ ہمارے آباؤ اجداد بہتر تھے ہم کچھ مانیں گے تو نظام چلے گا۔ زمہ دارانہ رپورٹنگ کرنی پڑتی ہے ۔ جی سی کا چینل بنائیں آواز اٹھائیں میں چینل کے لیے ڈونیٹ کرون گا ۔

    ایک اور سوال کے جواب میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہم برائیاں نہیں بیان کرتے محرومیوں کو اجاگر کرتے ہیں ہم نے ازاں دینی ہے ہم تھانیدار یا جج نہیں کہ فیصلون پر عملدرآمد کروائیں ہم رائے دے سکتے ہیں ۔دشمن کے لیے ہم ایک ہیں ۔ ابھی تک 57 کیسز بھگت رہا ہوں دنیا کا واحد پروگرام ہے جو ایک سال میں تین بار لائف ٹائم بین ہوا ۔

     

    وائس چانسلر اصغر زیدی نے کہا کہ مبشر لقمان کا آنا اور کامیابی ہمارے لیے مثال ہے ہم طلبا کی صلاحیتوں کو نکھارنا چاہتے ہیں ہماری خواہش ہے کہ بچوں کی تربیت اچھی طرح کریں آپ ہمارے لیے مثال ہیں مبشر لقمان اور احمر بلال کیمپیٹیشن ڈیبیٹ کا جیتتے تھے ۔ بچے بک کلب کی طرف مائل ہونا شروع ہو گئے ہیں گزشتہ برس بک کلب بنایا گیا تھا اور بھی کئی سوسائٹی بنائی ہیں ۔ کتاب بازار بنا رہے ہیں کمشنر آفس ہمارے ساتھ تعاون کر رہا ہے ۔

    تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر احتشام نے سینیر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا شکریہ ادا کیا

  • لاہور:2 فروری کی شام:جی سی یونیورسٹی میں”کھرا سچ”کی سچائی پرشاندارپروگرام:آرہےہیں مبشرلقمان

    لاہور:2 فروری کی شام:جی سی یونیورسٹی میں”کھرا سچ”کی سچائی پرشاندارپروگرام:آرہےہیں مبشرلقمان

    لاہور:2 فروری کی شام:جی سی یونیورسٹی میں”کھرا سچ”کی سچائی پرشاندارپروگرام:آرہےہیں مبشرلقمان ,اطلاعات کے مطابق پاکستان کی بڑی اور ممتازیونیورسٹی جسے جی سی یونیورسٹی کےنام سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے بڑے بڑے نام جانتے ہیں ، اس ہفتے یعنی فروری کی 2 تاریخ کو ایک بہت بڑے ایونٹ کا مرکز بننے جارہی ہے

     

     

    اس حوالے سے جی سی یونیورسٹی کی طرف سے ایک بہت بڑی  تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں بک کلب کی طرف سے "میٹ دی آتھر”کے سیشن کا اہتمام کیا گیا ہے جس کے مہمان خصوصی سینئرصحافی مبشرلقمان ہیں

     

    باغی ٹی وی ذرائع کےمطابق جی سی یونیورسٹی کے بخاری آڈیٹوریم میں 2 فروری کی شام ساڑھے تین بجے سے لیکر شام ساڑھے پانچ بجے تک یہ سیش چلے گا جس میں پاکستان کی بڑی بڑی نامورشخصیات بھی شرکت فرما رہی ہیں

     

     

    ذرائع کے مطابق اس سیشن میں جہاں مبشرلقمان کھرا سچ کےحوالے سے گفتگو فرمائیں گے وہاں وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی ڈاکٹر اصغر زیدی بھی گفتگو فرمائی گے

     

    2 فروری کی شام اس اہم پروگرام   ڈاکٹراحتشام علی جو کہ بک کلب جی سی یونیورسٹی لاہور کے ایڈوائزر ہیں وہ بھی حصہ لے رہے ہیں ، ان کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرکنیتا شاہ بھی اس اہم تقریب سے خطاب فرمائیں گی جو کہ جی سی یونیورسٹی نمز کی ایڈوائرز ہیں

     

     

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تقریب کے انعقاد میں بک کلب اور نذیراحمد میوزک سوسائٹی کی کنٹری بیوشن ہے اور یہ بھی امکان ہے کہ اس موقع پرتقریب کو ذائقہ دار بنانے کےلیے میوزک کی پھلجھڑیاں بھی پیش کی جائیں

     

     

  • نور مقدم کو انصاف :ظاہر جعفر کو سزا ملنی چاہیے:ٹویٹر سپیس میں مبشر لقمان کا اظہار خیال

    نور مقدم کو انصاف :ظاہر جعفر کو سزا ملنی چاہیے:ٹویٹر سپیس میں مبشر لقمان کا اظہار خیال

    لاہور:نور مقدم کو انصاف ۔ظاہر جعفر کو سزا ملنی چاہیے۔ٹویٹر سپیس میں مبشر لقمان کا اظہار خیال ،اطلاعات کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ٹویٹر پر سپیس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بیس جولائی کو نور مقدم کی لاش ملی ۔پاکستانی کمیونٹی نے احتجاج کیا جسٹس فار نور کر ٹرینڈ ٹاپ پر رہا ۔ ظاہر جعفر گرفتار ہوا ۔ ظاہر جعفر کے برطانیہ میں جنسی ہراسگی کے کیس کی بھی تحقیقات کرنے کی بات کی گئی پچیس جولائی کو ظاہر جعفر کے والدین کو بھی گرفتار کیا گیا گارڈ کو بھی گرفتار کیا گیا تھراپی ورکس کے دفتر کو سیل کر دیا گیا۔ ظاہر جعفر نے قتل کا پولیس کے مطابق اعتراف کیا۔ 27 جولائی کو موبائل ریکور کیے گیے تحقیقاتی افسر کا کہنا تھا کہ موبائیل رہائشگاہ سے ملے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی چیک کی گئیں ۔ ظاہر جعفر کے پولی گراف ٹیسٹ ہویے ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے کرداروں بارے بھی جانچا گیا۔ یکم اگست کو ملزم کا 14 روزہ جوڈیشیل ریمانڈ دیا گیا 15 اگست کو ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت مسترد ہوئی عدالت نے لکھا کہ جرم کی حوصلہ افزائی کی۔ تھراپی ورکس کے عہدیداروں کو بھی مالک سمیت گرفتار کیا گیا 23 اگست کو تھراپی ورکس والوں کو ضمانت مل گئی ۔26 اگست کو نور کے والد نے ضمانت کی درخواست پر اپیل دائر کی ۔ پھر بیاں آیا تھراپی ورکس کی جانب سے کہ ظاہر شرابی تھا پاگل نہیں تھا ۔ فزیو تھراپی کے لیے ظاہر آیا تھا ۔ پولیس نے اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں چالان جمع کروایا ۔ 13 ستمبر کو نور کے دوستوں نے عدالت کے باہر احتجاج کیا ۔ پھر فرد جرم عائد کی گئی ۔ شوکت مقدم کا بیان اہم ہے عدالت سے درخواست کی ملزم کو پھانسی کی سزا دی جائے ۔ پہلے درندہ کہتا تھا کہ جیل میں نہ رکھو ۔ اب ڈرانا شروع کیا کبھی کرسی پر کبھی سٹریچر پر ۔ پاگل بننے کے ڈرامے کر رہا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت سی باتیں ایسی ہوئیں جس سے محسوس ہوا کہ بچانے والوں نے غلط سٹوریز فیڈ کروائیں ۔ مجھے کہا گیا کیونکہ ہم روز رپورٹنگ کر رہے تھے کہ غلط کر رہے ہو۔ لیگل نوٹس بھجوایا گیا مجھے ،میں نے وہ کیمرے سامنے پھاڑ دیا پھر آفر ہوئی کہ مل لو۔ وہ بہت ایکٹو ہیں ۔اور ملزم کو بچانے کی کوشش کر رہے ۔قتل ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ۔ جب تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ اسلام آباد میں اسی طرح کے چار قتل ہوئے ۔ اسلام آباد اور اسکے گردونواح میں جو ہو رہا ہے بڑا سیریس مسئلہ ہے۔ سائبر کرائم کیوں اس پر چپ ہے

    سینیٹر سحر کامران نے سپیس میں کہا کہ اگر والدین ذمہ داری پوری کرتے تو یہ قتل نہ ہوتا ۔ ظاہر جعفر کے والدین نے ذمہ داری ادا نہیں کی ایک لڑکی کیوں گیوں اور کہاں گئی اگر کوئی کسی پر بھروسہ کرتا ہے تو یہ قتل کا جواز نہیں قتل ایک جرم ہے اسکی سزا ہونی چاہیے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ قتل کے ایک ہفتے بعد بچی کی کردار کشی کے حوالہ سے مہم چلائی گئی وہ گھٹیا لوگ تھے جنہوں نے چلائی ہم کرایم کو برا نہیں کہہ رہے جواز تلاش کر رہے ہیں

    سینیٹر سحر کامران کا کہنا تھا کہ لڑکی جانتی تھی تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ سر تن سے جدا کر دیں اسکا مطلب رشتوں پر بھروسہ ختم کر دیں لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی دفن نہیں کر سکتے کیا ہم زمانہ جہالت میں جا رہے ہیں ۔کچھ بھی ہو قتل کا جواز نہیں اعتماد کو دھوکا دینا اس سے بھی بڑا جرم ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اولاد میں فرق کرنا چھوڑنا ہو گا لڑکوں کے لیے اور بات لڑکیوں کے لیے اور ایسے نہیں چلے گا

    سحرکامراں کا کہنا تھا کہ ہم جواز تلاش کرنے کے بجائے ملزم کو سزا دلوائیں جواز تلاش کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے ،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہمیں سوسائٹی کو دیکھنا ہے

    فاطمہ نے کہا کہ والدین کو بھی اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے لڑکے کو دنیا کی بہترین یونیورسٹی میں پڑھانے کا خواب دیکھتے ہیں لڑکی کو بوجھ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تعلیم کی بجائے اسے پراے گھر جا کر رہنا ہے شادی کرنی ہے بجائے لڑکی کو تعلیم دی جایے یہ کہا جاتا ہے۔ ہمیں اس طرح معاشرے کو صحیح کرنا ہو گا تا کہ والدین لڑکے اور لڑکی میں فرق نہ کریں ایک جیسا سلوک کریں

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایسا کچھ ہوتا ہے تو لوگوں کی باتیں سن کر حیراں ہوتے ہیں بطور قوم اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا اور اپنے کردار کو دیکھنا ہو گا نور مقدم کیس میں انصاف ہونا چاہیے

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ نور مقدم کیس میں انصاف ہونا چاہیے اس سے پہلے کہ عوام پھر انصاف اپنے ہاتھ میں لے لے۔ عادل قیوم کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم کو متحرک کرنا ہو گا انکے پاس لمٹڈ فنڈ ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ درندے کو دو گھنٹے کے لیے پنجاب پولس کے حوالے کریں سب پاسورڈ بتا دے گا ۔ پندرہ سال میں تیزاب کے آٹھ ہزار کیسز پاکستان میں ہوئے، سزا ایک کو بھی نہیں ہوئی ۔ ایک لڑکی جو ٹھیک ہونے والی تھی اس نے ڈپریشن میں خودکشی کر لی اگر ہم قوانین نہیں بناتے اور عملدرآمد نہیں کرواتے تو سیریس ایشو ہیں ۔

    قصور ہمیشہ بچی کا نکالا جاتا ہے کیوں ۔ چولہے پھٹنے کے واقعات ہوتے مگر کسی کمپنی پر کوئی مقدمہ نہیں ہوا ہمیں خواتین کے حق کے لیے کھڑا ہونا ہو گا

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ ایک خاتون کو برہنہ گاؤں میں گھسیٹا گیا چار سال ہو گئے اسکو انصاف نہیں ملا اب علاقہ معززین نے تین چار لاکھ دلوانے کی بات کی ہے ۔خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں کیا کر رہی ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ نور مقدم کی جس وقت ڈیڈ باڈی آئی ایک لڑکی وہاں سیلفی بنا رہی تھی ہم کس طرف جا رہے ہیں میں ایک والد ہوں تین دن میں کھانا نہیں کھا سکا۔ ہمیں اسکو ٹیسٹ کیس بنانا ہے اور ملزم کو پھانسی دینی ہے پھر ہم مزید ٹریس کر سکتے ہیں مین چاہتا ہوں کہ نورمقدم کو انصاف دلوائیں ایک کو پھانسی ہو گئی دس اور بچیاں ب جائیں گی

    سینیٹر سحر کامران نے کہا قانون کی عملداری کی مہم بھی چلانی چاہیے میں سعودی عرب میں رہی وہاں ملزم کو فوری سزا ملتی قانون پر عمل نہیں ہوتا یہاں جب تک قانون پر عمل نہیں ہو گا کچھ نہیں ہو سکتا خواتین کے ساتھ واقعات ہوتے رہیں گے

    صحافی ہارون رشید کا کہنا تھا کہ اس ملزم کی پروفائلنگ ہونی چاہیے کہ اسکی زندگی دوستوں کے ساتھ کیسی رہی والدین کے ساتھ کیسی اسکے روئیے جو بھی جانچنا چاہیے ۔اس نے ایسا کیوں کیا اس پر بھی سوچنا چاہیے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ جب سب کچھ ہیں ویڈیو ہیں تو سزا کیوں نہیں دی جاتی ۔کتے قاتل تھے انکو فوری مار دیا جاتا ہے لیکن جس نے انسان کو قتل کیا اس کو سزا کیوں نہیں ۔ قوانین ہیں ان پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے۔ قانون میں ایک ترمیم کرنی چاہیے ریپسٹ مرڈر کو سرعام پھانسی دینی چاہیے ۔ضیا دور میں ایک واقعہ ہوا تو واقعات ختم ہو گیے ۔ وکٹم شیمنگ کرنیوالوں کو بھی اندر کرنا چاہیے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ہر گھر کی ایک کہانی ہوتی تھی میرا بیٹا اور بیٹی ۔ تربیت کرنی چاہیے کراٹے سکھانے کی بجایے تربیت کرنی چاہیئے ۔ نورمقدم کو انصاف دلوانے کے لیے اتنا کریں کہ کوئی نہ بھولے۔ ہمیں قاتلوں اور اسکے جو سہولت کار ہیں ان سب کی تصاویر شیر ہوں تاکہ سوشل بائیکاٹ ہو انکا ہم ہاتھ نہیں اٹھا سکتے لیکن جس تقریب میں قاتل ہوں اسکا بائکاٹ تو کر سکتے ہیں

    نیلم کا کہنا تھا کہ مبشر لقمان نے جس طرح نور مقدم کو انصاف دلوانے کے لیے آواز اٹھائی خراج تحسین پیش کرتی ہوں ایک مجرم جو بیمار بھی نہیں اس کو سٹریچر پر کیوں لایا جاتا ہے

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہ ملزم بالکل ٹھیک ہے اسکو پراپر ڈریس پہنایا گیا تھا ملزم بخشی خانے تک ٹھیک آیا یہ ڈرامہ ہو رہا کسی نے چند پیسے کمائے ہوں گے ہم انصاف نہیں دے سکتے مگر آواز بلند کر سکتے ہیں انسانیت کا خیال آنا چاہیے ۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ ثبوت کے باوجود کیس طول کیوں پکڑ رہا ہے جس طرح ازیت دی گئی مان نہیں سکتی کہ پڑوسیوں کو پتہ نہ چلا ہو گارڈز کو پتہ نہ چلا ہو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ گارڈز کو پتہ تھا انہوں نے والدین کو فون کیا یہ ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا فکر نہ کرو ۔ان سب کو سزا ہونی چاہیے۔

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ عصمت آدم جی کو ضمانت کیسے مل گئی ؟ ثبوت ہونے کے باوجود ک…کیس لیٹ ہو رہا ایسا لگتا نہیں کہ کچھ ہو گا ۔انکھوں سے دیکھ رہے ہیں ملزم ٹھیک ہے عوام کو بیوقوف کیوں بنایا جا رہا ہے سٹریچر پر لا کر

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ملک میں چیک اینڈ بیلنس نہیں تھراپی ورکس کی کمپنی کا وہ پیسے بناتے ہیں لوگوں کو خراب کرتے ہیں ۔ میں کورٹ کی پروسیڈنگ پر ویڈیو کرتا ہوں رپورٹ کرتا ہوں ۔آج ہم سپیس کر رہے ہیں کیوںکہ ہم حق ہے اور انصاف کی امید رکھتے ہیں انصاف چاہتے ہیں

    وسیم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اس میں دو رائے نہیں ۔مین آسٹریلیا میں ہون مبشر لقمان ہمارے آئیڈیل ہیں مدینہ کی ریاست اللہ کرے پاکستان بن جائے گا کہ غریب کو بھی انصاف مل سکے۔ بیرون ممالک میں انصاف سب کے لیے برابر ہے اسی لیے ترقی ہوئی پاکستان میں بھی جب تک انصاف کا نظام برابر نہیں ہو سکتا ملک ترقی نہیں کر سکتا

  • زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کااستعمال درست نہیں:حکمت عملی:پھرخلوص نیت سےعملداری ضروری:مبشرلقمان

    زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کااستعمال درست نہیں:حکمت عملی:پھرخلوص نیت سےعملداری ضروری:مبشرلقمان

    لاہور:زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کا استعمال درست نہیں : پہلے حکمت عملی اورپھرخلوص نیت سے عملداری ضروری ہے:اطلاعات کے مطابق ٹویٹر کے سپیس فورم پرجہاں اوپن ڈسکشن ہوتی ہے اس فورم پرآج پاکستان کے سینئر صحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے پاکستانی معیشت کودرپیش مسائل کے حوالے سے بہت اچھے جوابات دیئے ،

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میری اتنی عمر اور تجربہ ہے کہ کچھ باتوں کا پتہ ہے ۔ دو سیکٹرز ایسے ہیں پاکستان میں ایک بیک بون ہے دوسرا بچت پاکستان جب بنا تھا تو زراعت ہماری بہتر تھی ۔آج تک ہم نے کسی بھی حکومت نے یہ نہیں کوشش کی کہ اس کو ریسرچ کریں کہ 56 فیصد جو اسوقت تھی اسکو بہتر کریں ۔ہمارے پاس سرٹیفائیڈ بیج ہی نہیں ۔

    سپیس میں اس موضوع پر بھی بات ہوئی کہ زراعت پر ہم نے محنت نہیں کی ۔زراعت کی ایک یونیورسٹی پاکستان میں وہ بھی یو ایس ایڈ سے بنی ۔ ہم کوشش کریں گے تو آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ آئی ٹی میں ہم بہت پیچھے ہیں اسکو پروموٹ کرنا ہے تا کہ فاءدہ اٹھا سکیں ۔تیسری چیز پاکستان چائنہ کا فری ٹریڈ کا بہت پرانا کنٹریکٹ ہے اس میں بارہ سو آئٹم ہیں ابھی تک ہم 273 کور کر ہے ہمیں ہزار ایٹم کا پتہ ہی نہیں ۔ہماری حکومت میڈیا کی نالائقی ہے کہ ہم عوام کو بتا نہیں سکے کہ کیسے اور کس پر بزنس کرنا ہے

    اس خوبصورت معاشی سوچ وبچار کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جب تک پاکستان میں سٹوڈںٹ یونین اور لوکل باڈیز بحال نہیں ہوتی جمہوریت میں بہتری نہیں آ سکتی ۔ ان دونوں کو بحال اور ایکٹو کرنا ہو گا اس سے نئے لیڈر نکلیں گے ۔ منی لانڈرنگ کرپٹو کے تھرو ہو رہی ہے چند سال تک کرپٹو کئی چیزوں کو ری پلیس کرے گی ہم جتنا جلدی قانون بنائیں گے اتنا جلدی فایدہ اٹھا سکتے ہیں

    اس موقع پر مبشرلقمان نے کہا کہ زراعت میں بہت کچھ آتا ہے پنجاب میں وزیر رہا ہوں تو پنجاب کا مجھے زیادہ پتہ ہے اگلی بار مفتاح اسماعیل شاہد خاقان عباسی اسحاق ڈار کو بھی دعوت دین گے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق سات ملین جانور ذبح ہوتے ہیں ہر سال قربانی ہوتی ہمارے جانور ایکسپورٹ نہیں ہوتے ،چارہ اگانے کے لیے لوگوں کے پاس زمینیں ہیں اگر ونڈہ دینا شروع کر دیں کہ حکومت فری دے تو پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔گوشت ایکسپورٹ کریں تو اسکا کتنا فائدہ ہے لیکن توجہ نہیں ہے

    مبشرلقمان نے پھر کہا کہ سیاحت کے لیے کیا کر رہے ہیں کتنے انتظامات کیے پہلے انفراسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے اسکے بعد سیاحوں کو سہولیات دیں پھر فایدہ ہو گا ہم نے سیاحوں کو کوئی سہولیات نہیں دی ہوئی صرف ٹول ٹیکس لے کر خوش ہونے سے کوئی فایدہ نہیں

    ان بہت قوانین موجود ہیں ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے ۔ اوورسیز والوں کو جس طرح ایئر پورٹ پر ٹریٹ کیا جاتا ہے لگ پتہ جاتا ہے جب تک بزنس مین کو اعتماد نہیں ہو گا کوئی بزنس نہیں کرے گا ۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے احسن بھون کا انٹرویو کر رہا تھا ان سے پوچھا ہائیکورٹ کے ججز کی تقرری کیسے ہوتی ہے تو اسکا کوئی امتحان نہیں جس کو ججز لگا دیا جائے ۔ میڈیا میں کسی کو اکانومی کی سینس ہی نہیں جنکو اکانومی کا پتہ ہے ایک شاہزیب خانزادہ ہے اور ایک شہزاد اقبال ۔یہ دونوں اچھا پروگرام کرتے ہیں رپورٹنگ بھی کرتے رہے ہیں ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلی بار مہاتیر محمد کو پاکستان عمران خان نے انوائیٹ کیا تو عمران خان نے کافی شکایات کی کہ پاکستان میں کرپشن بڑھی تو انہوں نے کہا کہ کرپشن اکانومی بہتر کرنے کا طریقہ ہے اسکو لیگل کر دیں جس کو جو دینا ہے پرمٹ کے پیسے ملیں گے بزنس سیو ہو گا تو اکانومی بہتر ہو گی

    اس حوالے سے انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین نے چالیس سال میں کوئی لڑائی نہیں کی یہ اسکی کامیابی ہے انڈیا کو صرف اسکی حیثیت یاد کرواتا ہے امریکہ نے چالیس سال میں جنگیں کیں مریکہ کا وہ سٹیٹس نہیں جو چین کا ہے ۔ پالیسیز کو ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے

    مبشرلقمان نے کہا کہ سبسڈیز غریب کو نہیں ملتی ۔ غریب کو ملنی چاہیے ۔ بجلی کا بل جھگی والے کا اور تین کنال والے کا سبسڈیز میں فرق کیوں نہیں ۔ تین مرلے سے کم والے گھر کو بجلی فری ملنی چاہیے

    مبشرلقمان نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا گالی دینے میں آزاد ہے میڈیا اس دن آزاد ہے جس دن کمرشل انٹرسٹ سے آزاد ہو گا جب تک ہم یہ پروگرام نہیں کر سکتے کہ دنیا کی کوئی کریم جلد گورا نہیں کر سکتی میڈیا آزاد نہیں ۔اسمبلی میں جب کسی کو ٹریکٹر ٹرالی کہا جایے آڈیو لیک ہو جائے کتابیں پھینکی جایے تو پھر میڈیا کیا کرے ۔ڈر لگ رہا ہے کسی کی عزت ہی نہیں رہی ۔ لوز ٹاک کو بھی کنٹرول کرنا ہے ۔جسدن میڈیا ریٹنگ اور اشتہار کو چھوڑ کر بات نہیں کرے گا میڈیا آزاد نہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ بے حیائی والے ڈرامہ کی ریٹنگ آتی ہے کشمیر پر ریٹنگ نہیں کیونکہ ریٹنگ ایجنسی سنگاپور کی ہے پاکستان میں ریٹنگ ایجنسی بنانی پڑے گی ۔میڈیا پر مادر پدر آزادی بہت خوفناک ہے اس سے مجھے بھی ڈر لگتا ہے

    مبشرلقمان نے اس موقع پر گفتگو کو سمیٹتےہوئے کہا کہ اچھے آئی ٹی کے لوگ نوکریوں میں نہیں آئیں گے حکومت کو ایسے لوگوں کو استعمال کرنا چاہیے اگر بل گیٹس پاکستان ہوتا تو میں میں ب حساب کتاب دے رہے ہوتے کہ کہان سے پیسہ ایا۔ دنیا کہاں جا رہی ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ۔جمہوریت میں عوام ووٹ دیتی ہے اور حکومت بدل جاتی ہے لیکن اداروں پر چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ۔ میرا رائیٹ ہے کہ میں خط لکھوں تو جواب ملے لیکن نہیں ملے گا یہ جمہوریت نہیں ۔

  • "کھرا سچ” آتے ہی چھا گیا”ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھنے لگی،لوگوں کے دلوں میں چاہت بڑھنے لگی

    "کھرا سچ” آتے ہی چھا گیا”ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھنے لگی،لوگوں کے دلوں میں چاہت بڑھنے لگی

    لاہور:”کھرا سچ” آتے ہی چھا گیا”ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھنے لگی،لوگوں کے دلوں میں چاہت بڑھنے لگی ،فیک نیوز اور فیک تجزیوں اور تبصروں کا شاید ختم ہونے والا ہے کہ سچ نے اپنی حقیقت ثابت کردی ہے، جو کچھ بھی ہے سچ ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے اور صحافت کے میدان میں تواس کی بڑی ہی اہمیت ہے،چند دن پہلے سُنا تھا کہ فیک کے مقابلے میں‌ سچ آرہا ہے اورآج سُنا ہےکہ سچ چھا گیاہے

    اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک خوبصورت گفتگو ہورہی ہے جس میں‌ شائقین کہتے ہیں‌ کہ معروف صحافی سنیئر تجزیہ نگار مبشرلقمان جو کہ ہمیشہ سچ کی دعوت کے ساتھ میدان صحافت میں اترتے ہیں اور اس سچ کی بنیاد پران کا خصوصی پروگرام جسے "کھرا سچ” کے نام سے دنیا جانتی ہے ،آتے ہی سب کے دلوں کی دھڑکن بن گیا ہے

    "کھراسچ "پروگرام جو کہ پی این این پر اپنا رنگ جماتے ہوئے تیسرے ہفتے میں‌ داخل ہوگیا ہے اور اس وقت کم ترین وقت میں بڑی تیزی سے مقبول ہورہا ہے اور اس کی ریٹنگ بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے

    اس وقت پی این این پراس کی ابتدا تیسرے ہفتے میں داخل ہوئی ہے اور اس کی ریٹنگ 0.3 کی حد کو پارکرنے والی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دیگرقومی ٹی وی چینلز جو کہ پہلے ہی بہت زیادہ انویسٹمنٹ کے ساتھ اپنی ریٹنگ بڑھانے میں لگے ہیں‌ ایسے لگ رہا ہے کہ اگلے چند ہفتوں تک پی این این کی ریٹنگ ان معروف میڈیا برانڈز کو پار کرجائے گی

    دیگر ٹی وی چینلز کی ریٹنگ کچھ اس طرح ہے دنیا نیوز اس وقت 0.38 ،ایکسپریس ٹی وی 0.41 ، اے آر وائی 0.73 اور جیو نیوز1.17 ہے

    یہ بھی یاد رہے کہ معروف صحافی نے پی این این پر کچھ زیادہ نہیں‌ بلکہ دو ہفتوں میں چند پروگرام ہی کیئے جن میں سے ایک پروگرام مری پر سپیشل کیا، ایک منی بجٹ پر، ایسے شاہد خاقان عباسی کا انٹرویو کیا اور اس کے علاوہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا انٹرویو کیا تھا

    پی این این پر "کھرا سچ ” پروگرام میں حنا پرویز بٹ اور مسرت جمشید چیمہ تھیں جبکہ ایک میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی تھے اور ایسے ہی ایک میں بلاول زرداری کا ترجمان ۔مسرت جمشید تھیں

  • "باغی ٹی وی”کی10ویں سالگرہ:پاکستان سمیت دنیا    بھرکےدلوں کی دھڑکن:مبارکباد،نیک خواہشات کےپیغامات

    "باغی ٹی وی”کی10ویں سالگرہ:پاکستان سمیت دنیا بھرکےدلوں کی دھڑکن:مبارکباد،نیک خواہشات کےپیغامات

    لاہور:”باغی ٹی وی”کی آج 10 ویں سالگرہ:پاکستان سمیت دنیابھرمیں‌ لوگوں کے دل کی دھڑکن بن گیا،تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا کی دنیا کے نئے اورابھرتے ہوئے ٹی وی چینل جسے دنیا”باغی ٹی وی ” کے نام سے جانتی ہے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 10 سال مکمل کرلیئے ہیں‌

    "باغی ٹی وی ” جس کا آغازآج سے ٹھیک 10 سال پہلے لاہورشہر میں ہوا آج دنیا کے کم وبیش 195 ممالک میں دیکھا اورسنا جاتا ہے ، سوشل میڈیا کے اس نئے ٹی وی چینل کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی

    اس چینل نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے

    اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں

    اس ٹی وی چینل نے پہلی مرتبہ پچھلے سال رمضان المبارک میں 24 گھنٹے پورا مہینہ لائیو نشریات چلاکرایک ریکارڈ قائم کردیا جوکہ اس سے پہلے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کسی ٹی وی چینل کو یہ اعزاز حاصل نہیں

    باغی ٹی وی کا ہیڈ آفس یا سینٹرل آفس لاہور ڈی ایچ اے میں ہے ،جبکہ کراچی میں باغی ٹی وی کا صوبائی دفتر ہے جہاں سے کراچی سمیت پورے سندھ میں معیاری خبریں اورتجزیے تبصرے فراہم کیے جارہے ہیں‌ اس کے ساتھ ساتھ باغی ٹی وی کے ملک بھرمیں نمائندے ہیں

    باغی ٹی وی کی نشریات اس وقت 4 بین الاقوامی زبانوں میں جاری ہیں ، ان میں قومی زبان اردو،انگلش ، چینی اور پشتوزبان میں نشریات جاری ہیں اور اس بات کا بھی امکان ہےکہ اگلے چند ہفتوں تک ہمسائیہ ممالک میں نشریات پہنچانے کے لیے وہاں کی زبانوں میں بھی نشریات شرو ع ہوجائیں اور زیادہ امکان بھارت کے کونے کونے تک اس چینل کی نشریات کو پہنچانا ہے

    اس کے علاوہ باغی ٹی وی کے چاہنے والوں کا حلقہ پوری دنیا تک پھیلا ہوا ہے ، اگریہ کہا جائے کہ باغی ٹی وی کے دنیا کے تمام براعظموں میں چاہنے والے موجود ہیں‌

    جہاں اس ٹی وی چینل کی کامیابی کا ذکربڑی خوشی سے کیا جارہا ہے وہاں اگر باغی ٹی وی کی رہنمائی کرنے والی اہم شخصیت کا اگرذکرنہ کیا جائے تو ناانصافی ہوگی

    یہ شخصیت ہیں معروف صحافی ، سنیئر تجزیہ نگار،مشرق وسطیٰ ، جنوبی ایشیا اوردفاعی امور کے ماہر مبشرلقمان ہیں ، مبشرلقمان باغی ٹی وی کی سرپرستی فرما رہے ہیں

    اس موقع پر یہ بھی یاد رہےکہ مبشرلقمان نے اس دور میں باغی ٹی وی کے ملازمین کوحوصلے دیئے جب بڑے بڑئے میڈیا ڈان اپنے ملازمین کی تنخواہیں اورمراعات ہڑپ کرچکے تھے

    ان حالات میں مبشرلقمان نے نہ صرف ملازمین کے حوصلے بلند کئے بلکہ ان کو بروقت تنخواہیں اورمراعات دینے کا سلسلہ قائم رکھا جوآج تک جاری وساری ہے

    باغی ٹی وی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اس چینل سے معاشرے میں فرقہ واریت کے خاتمے اورباہمی بھائی چارے کی فضا قائم کرنے کے لیے جدوجہد کے انداز میں کوششیں جاری وساری رکھی ہیں‌

    باغی ٹی وی پردست شفقت رکھنے والے سنیئر تجزیہ نگارمبشرلقمان نے کبھی بھی اس چینل پرعریانی وفحاشی کوپروموٹ کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ سختی سے اسلامی اور ملی اقدار کی پاسداری کرنے کا حکم دیا جو ان کی دینی شعار سے محبت کا ایک فطری انداز ہے

    باغی ٹی وی کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے جب کرونا وائرس نے چین میں پنجے گاڑنے شروع کیئے تو اس وقت باغی ٹی وی ہی تھا جس نے سب سے پہلے اس خطرے سے آگاہ کیا اوراج تک رہنمائی کا یہ سلسلہ جاری ہے

    ان حالات میں جب کرونا نے دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا اورنظام زندگی درہم برہم ہوگیا بڑے بڑے ادارے تباہ ہوگئے ، ان حالات میں میڈیا کی دنیا میں بھی بہت زیادہ مشکلات آئیں اوراکثروبشتر میڈیا گروپس میں ایک سقوط سا آگیا تھا لیکن اس مشکل دور میں بھی "باغی ” ٹی وی ہی وہ ایک ایسا منظم ادارہ ہے جس کی مینجمنٹ نے اس مشکل دور میں بھی نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھا بلکہ پاکستان بھر میں اپنے نمائندگان کو بھی متحرک رکھا

    اس دوران "باغی ” ٹی وی نے ایک نیا انداز نیا اسٹائل دیا جوپہلے پاکستان میں اس قدر متعارف نہیں تھا ،

    "باغی ” ٹی وی نے اپنے ایڈیٹرز کوورک فرام ہوم کا نیا انداز دیا

    اس نئے انداز میں "باغی ” ٹی وی کے ایڈیٹران کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی اورپھرایسا میکنزم ڈیزائن دیا کہ لاہور میں بیٹھ کرپورے ملک سے ایڈیٹراان اورنمالئندگان کے کام کی لائیو مانیٹرنگ کرکے سب کو پیچھے چھوڑ دیا

    باغی ٹی وی کے اس اسٹائل کے بعد اب ایسے کئی ٹی وی چینلز نے بھی یہی اندازاختیارکیا ہے

    باغی ٹی وی کے 10 سال کے مکمل ہونے پر پاکستان سمیت دنیا بھر سے مبارک باد کے پیغامات بھیجے جارہے ہیں‌ اور اس کی دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کے لیے دعاوں کا سلسلہ بھی جاری ہے

    جہاں اس موقع پر دنیا بھر سے مبارکباد کے پیغامات آرہے ہیں وہاں باغی ٹی وی کے سرپرست مبشرلقمان نے بھی چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا ہے اوراس عزم کا اظہارکیا ہے کہ وہ پہلے سے بہتر انداز میں باغی کی خدمات کوپیش کرنے کی کوشش کریں گے اوراپنے قارین کو کبھی مایوس نہیں کریں‌گے