Baaghi TV

Tag: مبشر لقمان

  • سیاسی محاذ گرم، مختاریہ گل ود گئی اے،

    سیاسی محاذ گرم، مختاریہ گل ود گئی اے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جیسے جیسے مارچ قریب آرہا ہے ۔ حالات ، واقعات اور منظر نامہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا ہے ۔ ویسے تو روز ہی قومی اسمبلی میں آجکل ہنگامہ ہورہا ہے ۔ آج بھی ہوا ۔ جس سے یہ تو واضح ہوگیا ہے کہ حکومت دھونس اور زبردستی سے تو ایوان کو چلاسکتی ہے ۔ ویسے اب اسمبلی چلتی نہیں دیکھائی دیتی ۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پھر اس وقت پاکستان کو درپیش چیلنجز ایک طرف اور عمران خان ایک طرف ۔۔۔ ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں ۔ کہ بات دعاؤں سے بدعاؤں تک پہنچ چکی ہے ۔ بات منت سماجت سے گالم گلوچ تک پہنچ چکی ہے ۔ کیونکہ ایک جانب بجلی اور دوسری جانب پیڑول کی قیمتیں بڑھا بڑھا کپتان نے عوام کو دن میں تارے دیکھا دیئے ہیں ۔ ۔ تو دوسری جانب اس وقت سیاسی محاذ خاصا گرم ہوچکا ہے کہیں ان ہاؤس تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں اور کہیں لانگ مارچ کے انتظامات جاری ہیں۔ حکومت اپنے لئے تین ماہ اہم قرار دے رہی ہے اور اپوزیشن حکومت کو ایک دن بھی دینے کے لئے تیار نہیں ایسے میں نوازشریف کی نا اہلی ختم کرانے کے لئے درخواست دینے کے فیصلے نے ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ ۔ اسی لیے تیزی سے رونما ہونے والے واقعات کافی حیران کن ہیں۔ سات سال بعد فارنگ فنڈنگ کیس میں سکروٹنی رپورٹ کا سامنے آنا۔ خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں حکومت کی واضح شکست، منی بجٹ منظور کرانے میں حد درجہ بڑھتی مشکلات، نوازشریف کی نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ، آصف علی زرداری کا متحرک ہونا۔ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کی جانب سے لانگ مارچ کے فیصلے، ایسے عوامل ہیں جو اس بات کا اشارہ ہیں کہ حالات نارمل نہیں۔ اس لیے لوگ بڑے وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کے برے دنوں کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو چکا ہے۔؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میرے حساب سے ایک بار پھر عدالتی جنگ کا موسم شروع ہونے والا ہے۔ اور کورٹ رپورٹرز کی چاندی ہونے والی ہے ۔ کیونکہ ایک جانب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نوازشریف کی تاحیات نا اہلی کے خلاف سپریم کورٹ جا رہے ہیں تو حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے شہباز شریف کی نا اہلی کے لئے ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ یعنی دونوں طرف شریف برادران ہیں، ایک طرف نا اہلی ختم کرانے کی کوشش ہے اور دوسری طرف نا اہل کرانے کی۔۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ البتہ اس حوالے سے بہت سے سازشی تھیوریاں مارکیٹ میں چل رہی ہیں کہ دونوں اطراف سے عدالتی جنگ کے لئے یہی وقت کیوں چنا گیا ہے۔ خاص طور پر نوازشریف کی تا حیات نا اہلی ختم کرانے کے لئے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اب ہی کیوں متحرک ہوئی ہے۔ دیکھا جائے تو عام انتخابات ہونے میں تقریباً ڈیڑھ برس کا عرصہ رہ گیا ہے۔ حکومت نے مدت پوری نہ کی تو انتخابات پہلے بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لیے سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا نوازشریف کو تا حیات نا اہلی سے نکال کر انہیں اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی راہ نکالی جا رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے تو پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے اب ایک بار پھر لوگ ہواؤں کا رخ دیکھنا شروع ہوگئے ہیں کہ کس طرف کو یہ رواں دواں ہیں ۔ کیونکہ چین ، سعودی عرب اور ترکی کی میاں صاحب کے لیے سفارشوں کی خبریں بھی بڑے زور و شور سے جاری ہیں ۔ فی الحال نوازشریف کا معاملہ بہت زیادہ ہائی پروفائل بن چکا ہے۔ اس پر سب کی نظریں جمی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ بھی اپنی توجہ اس پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ کیونکہ نوازشریف کی نا اہلی اور سزا ختم ہو جاتی ہے تو یہ ایک بہت بڑا سیاسی دھماکہ ہوگا۔ مسلم لیگ ن کو پھر روکنا شاید ممکن نہ رہے۔ آج جو پرویز خٹک کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آرہی ہیں اور جو عثمان بزادر کے دیے گئے ڈنر سے تیس سے زائد ارکان غائب رہے ۔ تو کل پرویز خٹک کے بھانجوں جلال خٹک اور بلال خٹک نے پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ان کے علاوہ بھی پی ٹی آئی والے دھڑا دھڑ پیپلز پارٹی ، جے یوآئی ف سمیت دیگر کی جانب بھاگے جا رہے ہیں ۔ یہ سب اس جانب اشارہ ہے کہ خوب اکھاڑ پچھاڑ چل رہی ہے ۔ کیونکہ تحریک انصاف کے ٹکٹ پر خاص طور پر پنجاب میں الیکشن لڑنا اور جیتنا تقریباً ناممکن دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے ۔ ظاہر ہے حکومت اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ بار کی جانب سے نااہلی والی درخواست کی بھرپور مخالفت کرے گی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہدو فروری کو سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال ہوں گے۔ وہ اس بنچ میں بھی شامل تھے جس نے نوازشریف کو نا اہل قرار دیا تھا۔ احسن بھون نے اگرچہ یہ خواہش ظاہر کی ہے نوازشریف کی نا اہلی کے خلاف درخواست کی سماعت کرنے والے بنچ میں عمر عطا بندیال شامل ہوں۔ تاہم یہ فیصلہ چیف جسٹس آف پاکستان کریں گے۔ احسن بھون نے اس کی سماعت کے لئے فل بنچ بنانے کی درخواست بھی کی ہے کیونکہ اس درخواست میں ایسے نکات اٹھائے جا رہے ہیں، جن کا تعلق بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔ سپریم کورٹ جب اس کیس کا فیصلہ دے گی تو یقیناً بہت سے وہ معاملات بھی واضح ہو جائیں گے جن کے بارے میں ابھی ابہام پایا جاتا ہے۔ ایک عام خیال یہ ہے کسی شخص کو نمائندگی کے لئے تا حیات نا اہل قرار دینا آئین کی بنیادی روح اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اگر سپریم کورٹ کیس کی سماعت کے بعد اس نکتے کو مان لیتی ہے تو یہ ایک نئی تاریخ رقم ہو گی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پر سوال ہے کہ کیا یہ معاملہ اتنا ہی آسان ہے؟ سپریم کورٹ کے سامنے اپنا ہی فیصلہ پڑا ہے، جس پر نظرثانی کی اپیل بھی خارج ہو چکی ہے۔ ایسے ہی ایک کیس میں جہانگیر ترین بھی نا اہل قرار پائے اور ان کی نظر ثانی اپیل بھی خارج ہو گئی تھی۔ یقیناً یہ درخواست اگر سماعت کے لئے منظور ہو جاتی ہے تو ایک بہت اہم قانونی و آئینی نکتے کی وضاحت کا باعث بن جائے گی۔ درخواست کے حق میں فیصلہ آیا تو ملک کا سیاسی منظر نامہ ہی تبدیل ہو جائے گا اور اگر رد ہو گئی تو نوازشریف سمیت جہانگیر ترین کی سیاسی زندگی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔ ابھی تو ن لیگی اس امید میں مبتلا ہیں کہ نوازشریف اہل ہو کر سیاست اور ملک میں واپس آئیں گے۔ اگر ان کی نا اہلی پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت ہو گئی تو تمام امیدیں دم توڑ جائیں گی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت حکومت اور کسی سے اتنی خوفزدہ نہیں جتنی نوازشریف سے ہے۔ وزراء یہ جانتے ہیں وہ نوازشریف کو کسی بھی قانون کے تحت پاکستان واپس نہیں لا سکتے مگر اس کے باوجود وہ تاثر یہی دیتے ہیں جیسے نوازشریف کو وطن واپس لانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہوں۔ دوسری طرف حکومت شہباز شریف کو نا اہل کرانے کے لئے سرگرم ہو چکی ہے۔ اگرچہ ماہرین قانون نے حکومت کی اس خواہش کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے کیونکہ شہباز شریف نے اپنے بھائی نوازشریف کو زبردستی ملک سے فرار نہیں کرایا تھا بلکہ وہ عدالت کے حکم اور حکومت کی دی گئی میڈیکل رپورٹوں کے بعد بیرون ملک روانہ ہوئے تھے۔ میرے خیال سے یہ صرف ایک سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہو سکتی ہے۔ ویسے بھی یہ کیس جلد ختم ہونے والا نہیں، فیصلہ ہوتے ہوتے کئی برس بھی گزر سکتے ہیں۔ صاف لگ رہا ہے حکومت صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے ایک تیرسے دو شکار کرنا چاہتی ہے۔ ایک طرف یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ نوازشریف کو واپس لانے کے لئے وہ بہت سنجیدہ ہے اور دوسری طرف شہباز شریف کو ایک جھوٹا اور وعدہ خلاف شخص ثابت کرنا چاہتی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر آج نیپرا نے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں چار روپے تیس پیسے کا اضافہ کر دیا ہے ۔ بجلی کی قیمت میں یہ اضافہ نومبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا۔ ویسے ابھی عوام گزشتہ ماہ جو بجلی کے بل ملے تھے اس shock باہر نہیں نکلی ہے جو یہ نیا بم عوام پر پھوڑ دیا گیا ہے ۔ ۔ پھر پیڑول کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیٹرول 150 روپے فی لیٹر ہونے کا خدشہ ہے۔ کیونکہ آئل مارکیٹنگ ذرائع کا کہناہےکہ 16 جنوری سے پیٹرولیم قیمتیں 6 روپے لیٹر تک بڑھنے کا امکان ہے جس میں پیٹرول 5 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 6 روپے فی لیٹر تک جانے کا تخمینہ ہے۔ اس کے بعد کل جو اختر مینگل نے کہا تھا وہ بات یاد آجاتی ہے کہ اس حکومت صرف موت پر ٹیکس نہیں لگایا ۔ باقی تو انھوں نے کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ یاد رکھیں ابھی منی بجٹ کے اثرات آنے ہیں ۔ اس کے بعد عوام کا کیا حال ہوگا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ دیکھا جائے تو آئی ایم ایف ماضی میں بھی یہ مطالبہ کرتا رہا مگر کسی نے غیر مقبول فیصلے کرنے کی ہمت نہیں کی۔ ایسے فیصلے کئے جن کا فائدہ عوام کو نہیں صرف اشرافیہ کو پہنچا ۔ ۔ سچ یہ ہے کہ نئے پاکستان میں ہر نیا سال گذشتہ برس کی نسبت زیادہ مہنگا ثابت ہوا ہے ۔ ۔ آپ ان کی فنکاریاں دیکھیں کہ پنجاب میں ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کو ختم کرکے عمران خان 400 ارب روپے سے انشورنس اور پرائیویٹ کلینکس کا کاروبار چمکانے جارہے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں کسانوں کوکھاد کی قلت کا سامنا ہے کھاد افغانستان میں سمگل کی جا رہی ہے۔ آج عمران خان نے اس پر سخت نوٹس لے لیا ہے اور اب کسان مزید پریشان ہوگئے ہیں ۔ ۔ عمران خان تبدیلی کانعرہ لگاکر سیاست میں آئے تھے۔ دعویٰ ان کا یہ تھا کہ وہ اقتدار میں آکرملک کے لئے معاشی وسماجی حالات،سیاسی ماحول کو تبدیل کردیں گے۔ روزگار،خوشحالی اورانصاف کادوردورہ ہوگا۔اقتدار میں آنے کے بعد مگر سب کچھ اس کے برعکس ہوا ۔ تبدیلی مثبت کی بجائے منفی انداز میں رونما ہوئی۔

  • پاکستان کے مایہ ناز اور سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان کو سالگرہ مبارک

    پاکستان کے مایہ ناز اور سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان کو سالگرہ مبارک

    پاکستان کے مایہ ناز اور سینئر صحافی واینکر پرسن مبشر لقمان نے زندگی کی 58 بہاریں دیکھ لیں-

    باغی ٹی وی : سینئر صحافی واینکر پرسن 11 جنوری 1963ء کو لاہور میں 50 اور 60 کی دہائی کے فلم ڈائریکٹر پروڈیوسر ، لقمان کے ہاں پیدا ہوئے- مبشر لقمان نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر سے حاصل کی انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کے لئے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔

    سینئر صحافی واینکر پرسن نے بطور میزبان چینل بزنس پلس سے صحافت میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ ٹیلی وژن اسکرین پر اپنے پہلے تجربے کے دوران ، سینئیر اینکر پرسن نے پاکستان کے بہت سے معاشی و معاشی اور سیاسی مسائل کا احاطہ کیا تھا۔ ملک کے متعدد اہم امور کے بارے میں اپنے شاندار موقف کی وجہ سے صحافت کے میدان میں اپنی الگ شناخت بنائی-

    اس کے بعد وہ ایکسپریس نیوز کے پروگرام اور پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ ، ایکسپریس نیوز میں بطور میزبان پروگرام پوائنٹ بلینک میں شامل ہوئے ، اور پھر بعد میں دنیا نیوز میں منتقل ہوگئے اور پروگرام کھری بات ود لقمان کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیئے-

    اس کے بعد انہوں نے کھرا سچ کی میزبانی میں اے آر وائی نیوز میں شمولیت اختیار کی ، جس کے ذریعے انہوں نے متعدد سیاستدانوں کے کرپشن اور جھوٹ کو بے نقاب کیا۔

    مبشر لقمان نہ صرف ایک مایہ ناز اور پاکستان کے صف اول کے صحافی بلکہ انہوں نے شوبز میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں اور انہوں نے کئی سال تک پاکستان کی اشتہاری صنعت میں کام کیا اور کوکا کولا ، نیسلے اور بہت سے دوسرے ممالک سمیت پاکستان کے اعلی مقامی اور ملٹی نیشنل برانڈز کے اشتہار کے لئے اپنی اسکرپٹ کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔ اس کے بعد ، مبشر لقمان نے اپنی ایک پروڈکشن کمپنی قائم کی جس نے پاکستان کے ٹیلی وژن چینلز کے لئے سافٹ ویئر اور مواد تیار کیا تھا۔

    بعد ازاں انہوں نے ریشم اور علی تابش کی اداکاری میں 2006 میں فلم پہلا پہلا پیار کی ہدایتکاری بھی کی صرف یہی نہیں مبشر لقمان 2007 اور 2008 میں انفارمیشن ٹکنالوجی ، مواصلات پنجاب کےنگران وزیربھی رہے اور اب فی الحال وہ پی این این میں ایک ٹاک شو کھرا سچ کی میزبانی کررہے ہیں جو رواں برس کے آغاز پرٕ دوبار ہ شروع کیا گیا ان کا پروگرام کھرا سچ عوام میں مقبول ترین پروگراموں میں سے ہے ۔

    مبشر لقمان کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر HBD_Mubasherlucman ٹرینڈ میں مداحوں سمیت معروف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں اور ساتھ ہی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے-

     

    https://twitter.com/umesalma_/status/1480589562468610058?s=20

    https://twitter.com/CCtheLegendd/status/1480589893256585220?s=20

    https://twitter.com/jnab__/status/1480593580309708801?s=20

  • سیاسی منظر نامے پر شدید دھند، کون حکومت گرائے گا کون بنائے گا؟

    سیاسی منظر نامے پر شدید دھند، کون حکومت گرائے گا کون بنائے گا؟

    سیاسی منظر نامے پر شدید دھند، کون حکومت گرائے گا کون بنائے گا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج کی اس ویڈیو میں ہم بات کریں گے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے گھر جانے کے کیا امکانات ہیں، نئے الیکشن کب متوقع ہیں، سیاست کا کیا کھیل چل رہا ہے، موسم میں دھند کی طرح سیاسی منظر نامے پر بھی دھند چائی ہوئی ہے، کون حکومت گرائے گا اور کون حکومت بنائے گا کے ساتھ ساتھ مریم نواز کی نئی آڈیو لیک پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت بد قسمتی یہ ہے کہ تمام مسائل کی جڑ اسٹیبلشمنٹ کو قرار دینے والی تمام سیاسی جماعتیں اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں۔ساتھ ساتھ حکومت کے حواری یہ بیان دے رہے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے وہ اپنی مدت پوری کرے گی۔ اس حوالے سے کئی خدشات ہیں۔ کیونکہ اگر عمران خان کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع مل گیا تو وہ اپوزیشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں، اہم عہدوں پر اہم تعیناتیوں کے بعد وہ اگلے الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی پوری کوشش کریں گے اور اگر آپ اس وقت حکومت کی بھاگ دوڑ پر نظر ڈالیں تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ سب کچھ تحریک انصاف کی حکومت کو اگلے پانچ سال کے لیے دوبارہ لانے کے لیے لگ رہی ہے۔جبکہ اپوزیشن کے ساتھ ڈیل کی خبریں دینے والوں کا کہنا ہے کہ ڈیل یا ڈھیل اس سیٹ اپ کو اڑانے کے لیے نہیں بلکے اگلے سیٹ اپ کے لیے کی جا رہی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ قانون بنانے والے خود قانون شکن بنے ہوئے ہیں، جمہوریت کی بقا کا نعرہ مارنے والے خود جمہوریت کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔ ان کے لیے طاقت کا حصول عوام نہیں بلکے کوئی اور طاقت ہے اور ایسی حکومتیں کیا کبھی عوامی توقعات کو پورا کر سکتی ہیں لیکن بڑی ڈھٹائی سے عوام کے ساتھ دھوکہ کر کے ان کی آنکھوں میں دھول جھونک کر تمام پارٹیاں اس تگ و دو میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اقتدار کی سیڑھی پر چڑھ جائیں چاہے اس کے لیے انہیں کسی کی بھی قدم بوسی کیوں نہ کرنی پڑے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کی خبریں باہر لانے کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ بااثر سیاسی دھڑے اور امیدوار جو کسی بھی پارٹی کے بغیر اپنے حلقوں میں جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہوا کا رخ دیکھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    گھر میں گھس کر خاتون سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سابق پولیس ملازم گرفتار

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    خواجہ سرا پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    خواجہ سراؤں کو ملازمتوں میں کوٹہ مقرر کرنے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    خواجہ سرا کا یہ کام دوسروں کیلئے مشعل راہ ہے،لاہور ہائیکورٹ

    سگی بیٹی کو فحش ویڈیو دکھا کر سفاک باپ سمیت 28 افراد نے کیا ریپ

  • نئے سال کا پہلا پیغام،مبشر لقمان پھٹ پڑے

    نئے سال کا پہلا پیغام،مبشر لقمان پھٹ پڑے

    نئے سال کا پہلا پیغام،مبشر لقمان پھٹ پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مجھے بڑا دکھ ہو رہا ہے، منی بجٹ آیا اس میں دودھ کی قیمت بڑھ گئی، کھانے کی قیمت بڑھ گئی، بچوں کے دودھ کی قیمت بڑھ گئی، ہر ضروری چیز جو زندگی کا حصہ ہے اسکی قیمت بڑھ گئی لیکن حکمرانوں سے کئی بار درخواست کی کہ سگریٹ کی قیمت بڑھائیں ،2017 سے لے کر آج تک سگریٹ کی قیمت نہیں بڑھی، تمباکو کی قیمت نہیں بڑھی،یہ کون سی انڈسٹری ہے جو سگریٹ کی قیمت نہیں بڑھنے دے رہے، غریب کے لئے آٹا دال پر ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن جس چیز سے لوگ مر رہے ہیں، اس پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا، اسکی قیمت بڑھاتے ہوئے حکمران گھبراتے ہیں

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کہا جا رہا ہے کہ ٹوبیکو کمپنیز کی جانب سے فنڈنگ کی گئی ہے، کینسر ہسپتال کیسے فنڈ لے سکتا ہے ٹوبیکو کمپنیز سے، ہمیں دنیا کی مثالیں دی جاتی ہیں کہ دنیا میں مہنگائی ہو گئی یہاں بھی ہو گئی، برطانیہ میں سگریٹ کے ریٹ بھی دیکھ لیں اور یہاں کے دیکھ لیں، وہاں سگریٹ مہنگا، یہاں قیمتیں نہ ہونے کے برابر، 12 پاؤنڈ کی ڈبی کریں، غریب کے آٹے دال پر کیوں ٹیکس لگا رہے ہیں، ٹوبیکو پر ٹیکس لگائیں،سگار پر ٹیکس لگائیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ک حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ زیر بحث ہے ابھی منظور ہو گا لیکن اگر بازار چلے جائیں تو ہر چیز کی قیمت بڑھ چکی ہے، ااگر کابینہ اس منی بجٹ کو رد کر دیتی ہے تو ان قیمتوں کو واپس کون لائے گا، اسوقت یہ بیچارے ہو جائیں گے، ہم حکمرانوں کی نالائقیاں بتاتے رہیں گے، گورننس کا آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک کے کوئی تعلق نہیں،

    #سگریٹ_ٹیکس_بڑھاؤ ، ٹویٹر پر صارفین کا مطالبہ

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    پولیس اہلکار نے لڑکی کو منہ بولی بیٹی بنا کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، نازیبا ویڈیو بھی بنا لیں

    نوجوان لڑکی سے چار افراد کی زیادتی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس ان ایکشن

    خاتون سے زیادتی اور زبردستی شادی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    واش روم استعمال کیا،آرڈر کیوں نہیں دیا؟گلوریا جینز مری کے ملازمین کا حاملہ خاتون پر تشدد،ملزمان گرفتار

    سگریٹ پر پچھلے تین سال میں ٹیکس نہ بڑھنے کا انکشاف

     

    شکریہ عمران خان، ہر چیز ڈبل مگر،سگریٹ کی قیمت کئی سال سے نہیں بڑھی

  • 2022 کی خطرناک پیشنگوئیاں، تین دن کا اندھیرا اور خوفناک جنگ

    2022 کی خطرناک پیشنگوئیاں، تین دن کا اندھیرا اور خوفناک جنگ

    2022 کی خطرناک پیشنگوئیاں، تین دن کا اندھیرا اور خوفناک جنگ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ سال 2021اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے جو کہ کئی حوالوں سے ہم انسانوں کے لئے ایک بہت ہی مشکل سال تھا خاص کر بیماریوں اور ان سے ہونے والی اموات کے حوالے سے تو یہ سال بہت ہی مشکل تھا پھر معاشی لحاظ سے بھی جو معاملات تھے وہ کوئی بہت زیادہ بہتر نہیں تھے لیکن اب نیا سال شروع ہونے والا ہے۔ اور ہر گزرتے سال کی طرح اس سال کے بارے میں بھی بہت سے مشہور نجومیوں نے بہت اہم پیشن گوئیاں کر رکھی ہیں۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آج کی اس ویڈیو میں۔۔ میں آپ کو بتاوں گا کہ مشہور و معروف نوسٹرا ڈیمس اور باباونگا نے سال
    2022کے بارے میں کون سی اہم پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔ لیکن پہلے میں آپ کو بتادوں کہ نوسٹرا ڈیمس ایک بہت ہی مشہورفرانسیسی ماہرعلم نجوم تھا۔ جبکہ بابا ونگا کا تعلق بلغاریہ سے تھا جس کی ایک حادثے کی وجہ سے بینائی چلی گئی تھی۔ لیکن اس کے بارے میں مشہور ہے کہ بینائی نہ ہونے کے باوجود وہ آنے والے مستقبل کو واضح طور پر محسوس کرسکتی تھی۔ اور ان دونوں نے سال 2022کے بارے میں بہت ہی خطرناک پیشن گوئیاں کی ہوئی ہیں۔نوسٹرا ڈیمس کی بات کی جائے تو اس کی پہلی پیشن گوئی کے مطابق سمندر میں ایک بہت بڑی خلائی چٹان گرے گی جس سےایک بہت بڑی سمندی لہر پیدا ہو گی۔ اور سمندری لہر سے دنیا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔ اس چٹان کے گرنے پر پہلے ایک شدید زلزلہ آئے گا اور اس کے بعد پھر یہ سونامی کا باعث بنے گا۔اس کے علاوہ اس کی یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ آسمان سے سیارچوں کی بارش ہوگی جس سے بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہو سکتیں ہیں۔نوسٹراڈیمس کی ایک پیشن گوئی یہ بھی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی اچانک سے موت ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو یہ 2022 کی ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن نوسٹرا ڈیمس کی جو سب سے زیادہ خطرناک پیشن گوئی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں تین دن تک اندھیرا چھایا رہے گا اور اس اندھیرے کی وجہ سے دنیا میں جاری جنگ تھم جائے گی۔ یعنی اس سال میں ایک بڑی جنگ عظیم کا خطرہ ہے جس میں بڑے پیمانے پر تباہی ہو گی یہاں تک کہ دنیا اندھیرے میں ڈوب جائے گی اور اس اندھیرے کی وجہ سے جب کوئی حل باقی نہیں رہے گا تو وہ جنگ تھم جائے گی۔اس کے علاوہ نوسٹرا ڈیمس نے فرانس اور جاپان میں قدرتی آفات آنے کی بھی پیشن گوئی اسی سال میں کی ہوئی ہے اس کے مطابق فرانس میں ایک بہت بڑا سمندری طوفان آئے گا ویسے تو دنیا کے کئی ممالک میں اس طوفان کا غلبہ ہوگا لیکن نوسٹراڈیمس نے فرانس پر کافی زور دیا ہے کہ وہاں اس طوفان سے بہت بڑی تباہی آئے گی۔جبکہ جاپان سے متعلق پیشن گوئی یہ ہے کہ وہاں دن کے وقت زلزلہ آ سکتا ہے جو کہ مالی تباہی کا باعث بنے گا البتہ جانی نقصان کا اندیشہ کم ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین کے ٹوٹ جانے کی بھی پیشن گوئی ہوئی ہے جس کی شروعات بریگزٹ یعنی برطانیہ کے انخلا سے ہوچکی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی سے متعلق پیشن گوئی ہے کہ دنیا میں مہنگائی کا ایک سونامی آئے گا جس سے ہزاروں افراد فاکہ کشی پر مجبور ہوں گے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔یہ تو تھیں نوسٹراڈیمس کی پیشن گوئیاں اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ بابا ونگا نے آنے والے سال 2022کے بارے میں کیا پیشن گوئیاں کی تھیں۔اس کی پہلی پیشن گوئی یہ ہے کہ سائنسدانوں کی ٹیم ایک نیا اور انتہائی مہلک وائرس تلاش کرے گی یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلے گا اور اس وائرس سے نمٹنے میں دنیا کے تمام انتظامات ناکام ہوجائیں گے۔ اور پچھلے دو سالوں سے ہم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ کرونا وائرس اور اس کی دوسری اقسام نے پوری دنیا کا کیا حال کیا ہے۔ ایوی ایشن انڈسٹری کا بھٹہ بٹھا دیا ہے زیادہ تر کاروباروں کا جو ان سالوں میں دھچکا لگا ہے وہ ابھی تک Recoverنہیں کر سکے۔ آئے دن نئی سے نئی سفری پابندیاں لگیا شروع ہو جاتیں ہیں۔ کون سا ملک کب لاک ڈاون کی وجہ سے بند ہو جائے کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ اس لئے کوئی بعید نہیں کہ واقعی کوئی نیا وائرس اس سال میں بھی پھیل جائے۔ اور اگر ایسا ہوا تو سوچ لیں کہ کتنی تباہی ہو سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بابا ونگا نے یہ بھی پیشن گوئی کی ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اس سال تباہ کن ثابت ہوگی گرمی کی وجہ سے روس کے علاقے سائبریا میں برگ پگھلنا شروع ہوجائے گی۔ اور ٹھنڈے علاقوں ک جب یہ حال ہوگا تو سوچ لیں کہ گرم علاقوں کا ٹمپریچر بھی پہلے سے کہیں زیادہ ہو جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی پیشن گوئی ہے کہ گلوبل وارمنگ سے ہمارا ہمسایہ ملک بھارت بھی بہت زیادہ متاثر ہوگا ملک کے کئی حصوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پچاس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا اور درجہ حرارت میں ہونے والے اس اضافے کی وجہ سے ٹڈی دل کی پیداواربہت زیادہ بڑھ جائے گی اور وہ کھیتوں میں موجود لاکھوں سبزہ زار پر حملہ کرکے انھیں تباہ کر دیں گے۔ جس سے ملک میں قحط کے حالات پیدا ہوں گے۔ اور یہ پیشن گوئی ہمارے لئے بھی برابر خطرناک ہے کیونکہ بھارت اور پاکستان کوئی زیادہ دور نہیں ہیں اور پچھلے ایک دو سالوں میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی ٹڈی دل کو حملہ بھارت میں ہوتا ہے تو پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں ضرور آجاتا ہے۔ کیونکہ دونوں ملکوں کا موسم ایک جیسا ہے اس لئے اس پیشن گوئی کے حوالے سے تو ہمیں بھی بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
    نوسٹرا ڈیمس کی طرح بابا وانگا کے مطابق بھی سال2022میں دنیا میں زلزلے اور سونامی کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا بحر ہند میں زلزلے کے بعد ایک بڑا سونامی آئے گا جو آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انڈونیشیا، بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک کے ساحلی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا اور اس سونامی میں ہزاروں لوگوں کو اپنی قیمتی جانیں گنوانی پڑسکتی ہیں۔بابا وانگا کے مطابق ایک طرف دنیا میں سونامی کا خطرہ ہے تو دوسری دنیا میں پانی کا بحران آنے والے سال میں بہت شدید ہو جائے گا۔ کئی شہروں میں پینے کے پانی کی قلت ہو جائے گی۔ دریاؤں کا پانی آلودہ ہو جائے گا اور جھیلیں اور تالاب سکڑ جائیں گے اور پانی کی اس کمی کی وجہ سے لوگوں کا اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑ کر نئے علاقوں کی طرف نقل مکانی کرنا پڑے گی۔ ظاہری بات ہے جہاں لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ہوگا تو وہ اس جگہ پر کیسے رہ سکتے ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ سال2022کے بارے میں بابا ونگا کی ایک پیشن گوئی تو ایسی ہے جو میرے خیال میں پہلے ہی پوری ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس سال میں لوگ موبائل لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر زیادہ وقت گزاریں گے اور آہستہ آہستہ ان کو نشے کی حد تک ان چیزوں کی عادت پڑ جائے جس سے لوگوں کی ذہنی حالت خراب ہو جائے گی اور ان میں ذہنی امراض بہت زیادہ بڑھ جائیں گے۔ اور یہ ہم اپنے آس پاس ہوتا دیکھ ہی رہے ہیں کہ کرونا کی وجہ سے جب لوگوں نے زیادہ ٹائم گھروں میں گزارہ بچے گھروں میں بند ہو گئے کلاسز بھی آن لائن شروع ہو گئیں تو بچوں اور بڑوں سب کا ہی واچ ٹائم بہت زیادہ بڑھ چکا ہے اور ذہنی امراض والی بات بھی ٹھیک ہے کہ آج کل لوگوں کے رویوں میں اتار چڑھاو دیکھنے کو ملتا ہے جس طرح لوگ ڈپریشن اور ٹینشن کے مریض بنتے جو رہے ہیں وہ پہلے نہیں ہوتا تھا۔
    لیکن آنے والے سال کے حوالے سے اتنی خطرناک پیشن گوئیوں میں ایک اچھی پیشگوئی بھی ہے اور وہ یہ کہ انسانیت کو لاحق دیرینہ مرض کینسر کا مکمل علاج دریافت ہوجائے گا اور سورج سے توانائی کے حصول کے انقلابی راستے کھلیں گے۔
    یہ تھی وہ مشہور پیشن گوئیاں جو یہ دونوں ماہر نجوم نوسٹرا ڈیمس اور بابا ونگا آنے والے سال2022کے بارے میں کرکے گئے ہیں۔ لیکن ان کے حوالے سے میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ ان دونوں کی ماضی میں جہاں بہت سی پیشن گوئیاں درست ثابت ہوئی ہیں وہیں ان کی کئی پیشن گوئیاں پوری نہیں بھی ہوئی ہیں۔ اس لئے ہم ابھی ان کے بارے میں بالکل یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آنے والے سال میں کونسی پیشن گوئی پوری ہوتی ہے اور کونسی نہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن یہ سب کی سب پیشن گوئیاں جتنی خطرناک ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اگرپوری ہوتی ہے تو دنیا میں کافی تباہی پھیل سکتی ہے اس لئے آنے والے نئے سال کے بارے میں ہمیں یہ ہی دعا کرنی چاہیے کہ یہ ہم تمام انسانوں اور اس پوری دنیا کے لئے خیر و سلامتی کا سال ہو۔

  • کیا تبدیلی واقعی ہار چکی، سال 2021،ڈیل،ڈھیل، واپسی،اقتدار

    کیا تبدیلی واقعی ہار چکی، سال 2021،ڈیل،ڈھیل، واپسی،اقتدار

    کیا تبدیلی واقعی ہار چکی، سال 2021،ڈیل،ڈھیل، واپسی،اقتدار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ملکی سیاست میں اکیسویں صدی کا اکیسیواں سال بہت سے حوالوں سے سرد و گرم رہا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن کی جنگ کے ساتھ مہنگائی نے عوام کو خون کے آنسو رلائے۔ پھر کورونا کی عالمی وباء نے پاکستانیوں کو بھی عذاب میں مبتلاء کئے رکھا ہے ۔ پر لگتا ہے کہ نئے سال میں بھی سیاست کی گرم بازاری کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا جیسے پہلے تھا بلکہ اس کی شدت میں اضافہ ہی ہوگا۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کیونکہ کوئی چاہتا ہے کہ موجودہ حکومت کو ختم کر کے اُس کے لیے رستہ بنایا جائے تو کسی دوسرے کی یہ خواہش ہے کہ اُس کے لیے ملک اور سیاست میں واپسی کا راستہ ہموار کر کے آئندہ الیکشن کو آزادانہ کروایاجائے تو وہ راضی ہو گا۔ جبکہ جو اقتدار کے مزہ لے رہے ہیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ ڈیل والے اُن کے ساتھ ہی کھڑے رہیں ۔ چاہے اُن کی کارکردگی جیسی بھی ہو اُن کی حمایت جاری رکھیں اور اُن کے مخالفین کو کوئی رعایت نہ دیں۔ ۔ اس وقت جہاں ہر خاص وعام کی زبان پر اپوزیشن سے ڈیل کی باتیں جاری ہیں توعمران خان کی گفتگو بھی معنی خیز ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل جس دن عمران خان نے اپنے وزیروں اور ترجمان کے خصوصی اجلاس میں یہ راز فاش کیا کہ نواز شریف کو چوتھی بار وزیر اعظم بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس دن اس بحث کو مزید تقویت مل گئی جو ملک میں کئی دن سے جاری تھی۔ حقیقت میں عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ ان کا بیان یہ بتاتا ہے کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں وہ اس سے باخبر ہیں۔ وہ جواب میں کیا کریں گے۔ اس کا اندازہ ان کے ردعمل سے لگایا جائے گا۔ میرے خیال میں یہ کپتان کا بہت بڑا امتحان ہے۔ فی الحال اس امتحان میں وہ کامیاب نہیں جا رہے۔ ان کا ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ محسوس کر رہے ہیں وہ جنگ ہار رہے ہیں۔ اور جوابی لڑائی کے لئے ان کی حکمت عملی بھی کوئی ایسی نہیں جس پر کسی کو پریشانی ہو۔ حقیقت میں پاکستان میں تبدیلی ہار چکی ہے ۔ جس کی واضح مثال کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں شکست اور پے درپے ضمنی انتخابات میں حکومتی شکست ہے ۔ یوں صحیح معنوں میں عوام نے تحریک انصاف کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔ دراصل اپوزیشن وہ کام نہ کر پائی ہے جو تحریک انصاف نے بذات خود انجام دے ڈالا ہے ۔ آپ دیکھیں ۔ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں شکست کا اثر یہ ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی آپس میں لڑ لڑ پاگل ہونے کو ہیں ۔ جس نے اس شکست کو مزید بڑا کر دیا ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی ارباب شہزاد کے بھتیجے ارباب محمد علی نے گورنر کے پی شاہ فرمان کے احتساب کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ۔ تو دوسری جانب یہ خبریں کہ گورنرخیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر نے میئر پشاور کا ٹکٹ سات کروڑ میں بیچا۔ تاہم میئر پشاور کی نشست کیلئے تحریک انصاف کے امیدوار رضوان بنگش نے ٹکٹ کے عوض پارٹی قائدین کو رقوم دینے کی تردید کرتے ہوئے ارباب خاندان کو پارٹی کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔۔ اس سب کا پنجاب کے مقامی انتخابات میں جو اثر پڑنے جا رہا ہے اُس کی خبر شاید تحریک انصاف کو لانے والے کو بھی نہیں ہے۔ پی ٹی آئی اس طرح منتشر ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس طرح کسی تباہ شدہ جہاز کا ملبہ اور شاید اگلا انتخاب اس کا آخری انتخاب ہو۔ جس سے قبل اس پارٹی کے جہاز پر چڑھائے گئے مسافر ایسے جان چھڑانے کی تیاری میں ہیں ۔ جیسے ہمیں کابل کے ایئر پورٹ پر نظر آیا تھا۔ دیکھا جائے تو عمران خان کی سیاست کارکردگی کی نہیں۔ بلکہ صرف الزامات کی سیاست ہے اور لوگوں کے کان اتنے سالوں سے وہی الزامات سن سن کر پک چکے ہیں۔ عمران خان نے پی ٹی آئی کی تمام تنظیمیں توڑ کر نئے عہدیدار لگائے ہیں۔ لیکن یہ وقت ٹیم کا نہیں۔ بلکہ کپتان کی تبدیلی کا آ چکا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ عوام اب مزید اس ناکام تجربہ کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی اس قابل رہے ہیں کیونکہ ان کی برداشت کی سکت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔ پھر جو لوگ ڈیل کے دعوے کر رہے ہیں وہ یہ بتانے سے گریزاں ہیں کہ ڈیل کس کیساتھ اور کیا ہو رہی ہے؟ ن لیگ سے ، مولانا سے یا پھر پیپلزپارٹی سے ؟؟۔ جہاں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ نواز شریف کی واپسی کے بعد ن لیگ کا وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا جبکہ بہت سے سرگرم ن لیگی شہباز شریف کے امیدوار ہونے پر امید لگائے بیٹھے ہیں ۔ جبکہ کچھ کا ماننا ہے کہ وقت آنے پر مریم نواز، شہباز شریف کی تجویز کنندہ ہوں گی۔ فرض کریں اگر نواز شریف واپس آتے ہیں تو انہیں عدالت میں پیش ہونے کے لئے گرفتاری دینا ہو گی ۔ ضمانت کرانا ہو گی۔ سزا پر نظرثانی کے لئے دائر درخواستوں پر عدالتی فیصلہ کا انتظار کرنا ہوگا۔نا اہلی ختم کرانا ہو گی۔ اس کے بعد الیکشن میں حصہ لے سکیں گے۔ اور یہ سب کچھ پاکستان میں ممکن ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری ستر سالہ تاریخ ایسی چیزوں سے بھری پڑی ہے ۔ یوں جوں جوں نواز شریف کی یقینی وطن واپسی کا وقت قریب آ رہا ہے۔ حکومتی ترجما نوں کی فوج کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔ ویسے ان ترجمانوں کی تعداد کتنی ہے شاید خود حکومت کو بھی معلوم نہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومتی کیمپوں میں تھرتھلی مچی ہوئی ہے ۔ کہ کچھ ہونا والا ہے ۔ اس سب کے باوجود خبریں یہ ہیں کہ خود حکومتی پارٹی کے ممبران اسمبلی اپنا اپنا بائیوڈیٹا نواز شریف کے پاس پہنچانے کے لئے ہاتھوں میں لئے پھر رہے ہیں اور نواز شریف کی ہلکی سی نظر کرم کے منتظر ہیں۔ کیونکہ ان پی ٹی آئی ممبران اسمبلی کو بھی معلوم ہے کہ اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ یقینی شکست اور ضمانت ضبط کروانے کا ٹکٹ ہے۔ پھر جہاں مسلم لیگ ن کا حوصلہ مزید بلند ہوا ہے۔ تو زرداری صاحب بھی دو دو ہاتھ کرنے کے لیے بے چین ہو رہے ہیں۔ ان کی نظریں بھی جنوبی پنجاب سمیت بلوچستان پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اور ان کی بھی خواہش ہے کہ کسی طرح کوئی بات بنے ۔ اور ایک بار پھر پیپلز پارٹی وفاق میں ابھر کر سامنے آجائے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے کہا تو بہت جا چکا ہے ۔ پھر ابھی گزشتہ ہفتہ ہی سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ فارمولے والے اُن کی مدد لینے آئے تھے کہ کس طرح ملک کو اس موجودہ بھنور سے نکالا جائے۔ جس پر اُنہوں نے فارمولے والوں کو کہا کہ پہلے عمران خان کو نکالو۔ یعنی ہر طرف ڈیل ہی ڈیل کی کہانیاں چل رہی ہیں۔ ڈیل ہو چکی۔ یا ڈیل ہو رہی ہے۔ اسکرپٹ فائنل ہو چکا یا ابھی اُس پر کام ہو رہا ہے، ان سب سوالات پر ہر طرف بحث و مباحثہ جاری ہے۔ نام کوئی نہیں لے رہا۔ نام عمران خان نے بھی نہیں لیا کہ کون نواز شریف کی نااہلی کے خاتمہ کا رستہ نکال رہا ہے۔ ایاز صادق بھی کھل کر نہیں بتا رہے کہ کون غیر سیاسی لوگ نواز شریف سے لندن میں ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ صحافی حضرات بھی نہیں بتا رہے ہیں کہ وہ اسکرپٹ کس کا ہے جس سے نواز شریف مطمئن ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ یہاں یاد کروادوں کہ کہا جاتا تھا کہ عمران خان کا خیال تھا کہ اس نے ملک کی مقتدر قوتوں کے لئے کوئی آپشن ہی نہیں چھوڑا۔ ن لیگ نہ پیپلز پارٹی اور یہ بھی کہ یہ تبدیلی ن لیگ کو آن بورڈ لئے بغیر نہیں آسکتی۔ اس لئے حکومت کا سارا زور ن لیگ کو ملیا میٹ کرنے پر رہا۔ جس میں وہ ہر دوسرے کام طرح مکمل ناکام رہے ۔ دراصل اس تمام صورت حال کی بڑی اور بنیادی وجہ خراب حکومتی کار کردگی ہے۔ عوام کو فوری ریلیف دینے میں حکومت اب تک ناکام ہے۔ ایسی بے چینی اور غیر یقینی کیفیت سے فائدہ اٹھانا اپوزیشن کا حق تھا اور اس نے اندرونی اختلافات کے باوجود اس سے سیاسی فوائد حاصل کر لیے ہیں ۔ پر ایک چیز طے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے سب کو کچھ نہ کچھ دانا ڈالا ہوا ہے ۔ اور وہ شاید اس بار safe play کررہے ہیں کہ کوئی اگر آنکھیں دیکھائے تو ان کے پاس اس بار دوسرا آپشن موجود ہو ۔ مگر اپوزیشن کو بھی قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جہاں اس وقت واضح طور پر اِن ہاؤس تبدیلی کیلئے حالات خاصے تیار ہیں ۔ تو اپوزیشن نے اگر کسی فوری تبدیلی کیلئے مقتدرہ کا دروازہ کھٹکھٹایا توعمران خان سے بھی زیادہ مصیبت میں پھنس جائے گی۔ اس تمام شور شرابے میں مارچ بہت اہم ہے ۔ اور آپ دیکھیں گے عنقریب بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوں گی ۔ ایسے ایسے معجزے بھی ہوں گے جن کا کبھی کسی نے خواب وخیال بھی نہ سوچا ہوگا ۔ کیونکہ پاکستانی سیاست سب چلتا ہے اور سب کچھ ممکن ہے ۔ کیونکہ یہاں ڈیل اور ڈھیل کے بغیر کچھ ممکن نہیں ۔ ۔ یوں اب سیاسی گیند میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کیساتھ ساتھ آصف زرداری کے کورٹس میں ہے۔

  • نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی

    نواز شریف آخری گرین سگنل کا منتظر،کپتان کو سردی میں گرمی لگنے لگی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ویسے تو پاکستان بہت سے مسائل میں گھیرا ہوا ہے ۔ مگر ٹی وی سکرینوں کو جن خبروں نے جکڑا ہوا ہے ۔ ۔ ان میں نوازشریف واپس آئیں گے کہ نہیں ۔ ۔ حکومت پانچ سال پورے کرے گی یا نہیں ۔ ۔ خیبر پختونخواہ کے بعد پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کو مار پڑے گی ؟۔ منی بجٹ کب اور کیسے منظور ہوگا ؟

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ملک پھر الیکشن موڈ میں آگیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے تو جنرل الیکشن کی تیاری بھی شروع کردی ہے ۔ اس حوالے سے ایک ریہرسل خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں ہوچکی ہے ۔ ایک اب پنجاب کے بلدیاتی الیکشن میں ہونی ہے ۔ پھر فائنل شو جنرل الیکشن میں دیکھنے کو ملے گا ۔ ابھی پنجاب کا بلدیاتی الیکشن عثمان بزدار کے حواس پر ایسا سوار ہو چکا ہے کہ انھوں نے لاہور سمیت پورے پنجاب کے لیے تجوریوں کے منہ کھول دیے ہیں ۔ اب وہ بھی دھڑا دھڑ نئے نئے منصوبے بنوانے کے چکروں میں ہیں کہیں کسی کا افتتاح ہورہا ہے تو کسی کا اعلان ۔۔۔ یوں جو عمران خان جنگلہ بس اور کنکریٹ کا شہر کہہ کر شہباز شریف پر تنقید کیا کرتے تھے اب انکا اپنا وزیر اعلی الیکشن کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہے ۔ پر یہ جو مرضی کر لیں پنجاب میں پی ٹی آئی کے لیے رزلٹ ۔۔ کے پی کے ۔۔ سے بھی زیادہ خوفناک آنا ہے ۔ جس کے بعد ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ ہواؤں کا رخ کیا ہے ۔ اب اس حوالے سے ن لیگی تو بہت ہی پراعتماد دیکھائی دیتے ہیں جو کے ان کے بیانات سے ظاہر بھی ہورہا ہے جیسے کہ ۔ جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہفتوں میں پاکستان نظر آئیں گے، 23 مارچ سے پہلے حکومت سے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ اٹھ جائے گا۔ اس لیے نوازشریف کی واپسی کا سن کرحکومت کےہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں۔ پھر ایاز صادق کہتے ہیں کہ میں نواز شریف سے مل کر آیا ہوں میری مسکراہٹ بتا رہی کہ حالات کیا ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہونے والاہے، ان کے گھبرانے کا وقت آنے والا ہے۔ ۔ تو رانا ثنااللہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت ملاقاتیں کررہی ہے تو ہم بھی کسی نہ کسی سے مل رہے ہیں، اپنے نمبر پورے اور حکومت کے نمبر کم کرنے کی کوشش کریں گے۔ منی بجٹ کی بھر پور مخالفت کریں گے۔ ۔ میں یہاں بتاتا چلوں کہ موجودہ صورتحال میں منی بجٹ بھی انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے ۔ آپ دیکھیں جیسے خیبرپختونخواہ کے بلدیاتی الیکشن میں کوئی مدد نہ ملی ۔ اگر منی بجٹ کے معاملے میں مدد نہ ملی تو یہ پاس کروانا حکومت کے لیے جان جوکھوں کا کام ہوگا ۔ اس حوالے سے خبریں یہ بھی ہیں کہ نوازشریف بس اس کا ہی انتظار کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کرتی ہے ۔اگر تو وہ نیوٹرل رہتی ہے تو پھر یہ نواز شریف کے لیے گرین سگنل ہے۔ کہ بساط لپیٹنے کی تیاری ہوچکی ہے ۔ ۔ آپ دیکھیں آصف زرداری نے اپنی خراب صحت کے باوجود کراچی سے اسلام آباد جا کر چند روز گزارے ۔ لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی مل کر منی بجٹ کی مخالفت میں ووٹ دینے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اگر یہ بل اسمبلی سے منظور نہ ہوا تو پارلیمانی روایات کے مطابق اسے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ سمجھا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ تاہم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کے پاس مل کر بھی اِتنے ارکانِ قومی اسمبلی نہیں ہیں کہ وہ حکومت کو شکست دے سکیں۔ البتہ حکومتی اتحادمیں شامل اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم اورمسلم لیگ ق اپوزیشن سے مل جائیں تو حکومت کے لیے خطرہ ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ اس منی بجٹ کا بوجھ اٹھانا ان اتحادی جماعتوں کے لیے بھی مشکل دیکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ پر اگر یہ منی بجٹ پاس ہوگیا تو حکومت کی جو اگر کہیں کوئی مقبولیت ہے بھی ۔۔۔ وہ بالکل ختم ہو کر رہ جائے گی ۔ کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کی خاطرنئے ٹیکسوں کا نفاذہے۔ جسے مِنی بجٹ کا نام دیا گیا ہے۔ فی الحال شیخ رشید نے اصل بات کہہ دی ہے کہ ہر جماعت کی خواہش ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اس کے سر پر ہاتھ رکھے مگر اسٹیبلشمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جماعت اقتدار میں آئے گی وہ اس کے ساتھ ہے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس بات کو yard stick بنا لیا جائے تو جو عمران خان کی کارکردگی ہے اس سے تو صاف نظر آرہا ہے کہ باقی ماندہ ڈیڑھ سال بھی ان کو مل گیا تو انھوں نے کون سا کوئی تیر چلا لینا ہے ۔ الٹا مزید بیڑہ غرق کرنے کی چانسز زیادہ ہے ۔ تو عمران خان کی دوبارہ حکومت بنتے تو نہیں دیکھائی دے رہی ہے ۔ جس کا مطلب ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اب پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں ہوگی ۔ ۔ لاکھ اختلاف کے باوجود ایک بات ماننے چاہیے کہ نواز شریف ایک مظبوط اعصاب کے مالک سیاستدان ثابت ہوئے ہیں ۔ آپ دیکھیں شہباز شریف نے لاہور میں خواجہ محمد رفیق کی برسی کے موقع پر ہونے والی تقریب جس میں نواز شریف بھی بذریعہ ٹیلی فون شامل تھے ۔۔۔ کہا ہے کہ میں امید کرتا ہوں آپ سے پاکستان میں جلد ملاقات ہو گی۔ ۔ اس لیے ایک بات تو طے ہے کہ نواز شریف پاکستان واپس آگئے اور کیسز سے بچ نکلے اور اگر الیکشن دوبارہ لڑنے کی اجازت مل گئی ۔ تو پھر نواز شریف کیا ۔۔ کوئی ن لیگی بھی نہیں پکڑا جائے گا ۔ بلکہ اس کے بعد تو شاید آدھی سے زیادہ پی ٹی آئی جاتی عمرہ کے باہر اپنی سی وی لیے کھڑی ہو ۔ بڑی تبدیلی اس وقت یہ ہی ہے کہ موجودہ حکومت کی رخصتی کی بات چل نکلی ہے۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بات کہاں تک پہنچتی ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں اداروں،عدالتوں اور عوام کے مزاج سارا سال بدلتے رہتے ہیں۔ ان کا جب جی چاہتا ہے کسی کو ہیرو بنا نے کے لئے نکل پڑتے ہیں اور جب جی نہ چاہے ہیرو کو زیرو بنانے کے لئے ساری توانائیاں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ پھر کے پی کے میں تحریک انصاف کی ہار نے بتادیا ہے کہ حکومتی جماعت میں غلط فیصلے کرنے کی صلاحیت کس قدر ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل تحریک انصاف کی حکومت تین سال میں عوام کے لئے ایک بھی خوشی کی خبر نہیں لا سکی ہے اور اگلے الیکشن میں وقت تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ۔ جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین خان صاحب سے ناراض ہو کے علیحدہ گروپ بنا چکا ہیں ۔ شاہ محمود قریشی ہمیشہ سے کسی کے اشارے کے انتظار میں رہتے ہیں ۔ گورنر چودھری سرور کے بیانات خوب رونق لگا چکے ہیں ۔ شمالی پنجاب میں چودھری برادران اپنے قدم مضبوطی سے جمائے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو تحریک انصاف کے لیے پنجاب سے بیس سیٹیں نکالنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ۔ اس لئے نواز شریف کے لیے یہ بہت مناسب وقت ہے کہ سیاسی میدان میں واپسی کی جائے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں میاں نواز شریف وطن واپس آتے ہیں اور جیل میں بند کر دیئے جاتے ہیں تو امید ہے کہ اگلے تین چار ماہ بعد وہ عدالتوں سے رہائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر ایک پورا سال ان کے پاس ہو گا کہ نہ صرف اپنی جماعت کی صفیں دوبارہ سیدھی کرنے کی کوشش کریں بلکہ ملک کے طول و عرض میں جا کے عوام تک اپنا پیغام لے کر جائیں ۔ نواز شریف کی واپسی سے مریم اور شہباز کو لے کے چلنے والی باتیں بھی دم توڑ جائیں گی کہ نواز شریف کے سامنے ان کے لوگ سر تسلیم خم کرنے کے عادی رہے ہیں۔ کیونکہ ورکر نواز شریف کا ہے ووٹر نواز شریف کا ہے۔ جلسے میں لوگ انہی کے نام پہ آتے ہیں۔اس لئے ان کی واپسی سے مسلم لیگ ن میں دوسری جماعتوں سے ناراض لوگوں کی آمد کا سلسلہ چل نکلے گا۔ اسی لیے کپتان کی باتوں سے اب لگنا شروع ہوگیا ہے کہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے کہ دسمبر کی سخت سردی میں گرمی لگنے لگی ہے۔ اور اپوزیشن کے مردہ جسم میں جیسے جان سی پڑ گئی ہے۔ میں آپکو بتاوں یہ سب تب ہوتا ہے ۔ جب آپ کے اردگرد صرف خوشامدی ہوں ۔ جو یہ نہ بتائیں لوگ آپکو کیا کیا بدعائیں دے رہے ہیں ۔ کیا کیا کہہ رہے ہیں ۔ جو یہ نہ بتائیں کہ ملک اوپر جانے کی بجائے غریب اوپر جانے شروع ہوگئے ہیں ۔ پھر آپ کو صرف اپنا آپ سچ دیکھائی دے باقی سب جھوٹ ۔ حالانکہ آپ نے وعدے یا دعوے تو کیا پورے کرنے تھے ۔ الٹا میرے کپتان آپ تو اس عوام کو دلاسہ دینے میں بھی ناکام رہے ۔ جب اس انتہا کا عوام پر ظلم ہو اور ان کی زندگی اجیرن کر دی جائے تو پھر قدرت اپنا انصاف کرتی ہے ۔ پھر آپ جتنے مرضی طاقتور ہوں ۔ جو مرضی آپ کے ساتھ ہو ۔ حکومت چلانا تو دور کی بات بچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ کوئی بھی شخص ہر وقت ہر کسی کو بے وقوف نہیں بنا سکتا ۔

  • تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار

    تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار

    تحریک انصاف کا نقاب اتر گیا، حکومت کو گھر بھیجنے کا فارمولا تیار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے ۔ کہ ایک تو عوام کو کوئی ریلیف نہیں دینا دوسرا روزانہ کوئی نہ کوئی ایسا بیان ضرور دینا ہے جو عوام کے زخمی پر نمک پاشی کے مترادف ہو ۔ جہاں وزیر اطلاعات فواد چوہدری مہنگائی پر اپنی ماہرانہ رائے دینے سے باز نہیں آرہے ہیں تو شہریار آفریدی بیرون ملک جا کر صحافیوں کو تڑیاں لگا رہے ہیں تو شبلی فراز قومی بھنگ پالیسی کا اعلان کررہے ہیں ۔ رہی بات علی امین گنڈا پور کی ۔ تو وہ ہر کسی کے ساتھ ہی چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب جب ایسی کارکردگی ٹی وی سکرینوں کی زینت بنی ہوتو پھر وہ ہوتا ہے ہے جو آج لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شہبازگِل کے ساتھ ہوا ہے ۔ جہاں خاتون پروفیسرنے شہبازگِل سے ڈگری لینے سے انکار کردیا اور خاتون پروفیسر کا نام باربار پکارنے پر بھی وہ اسٹیج پرنہ آئیں۔ اس حوالے سے جب صحافی نے شہباز گل سے سوال کیا گیا کہ خاتون پروفیسر نے ٹوئٹ کے ذریعے آپ سے ڈگری لینے سے انکار کیا ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھاکہ ملک میں جمہوریت ہے اور ہر ایک کو حق حاصل ہے۔ ویسے یہ جس طرح کے بیانات دے رہے ہیں مجھ تو ڈر ہے کہ کہیں جب یہ ووٹ مانگنے جائیں گےتو بات کہیں برابھلا کہنے سے جوتیاں اور گندے انڈے پڑنے تک نہ پہنچ جائے ویسے اس کا ایک مظاہرہ ہم آزاد کشمیر کے الیکشن میں دیکھ چکے ہیں جب علی امین گنڈاپور پر ایسی ہی کاروائی کی گئی تھی جب وہ سنجے دت کے طرح فائرنگ کرتے ہوئے ایک جگہ سے گزرے تھے ۔ اب تازہ تازہ جو علی امین گنڈا پور نے فضل الرحمان کو ٹارگٹ کیا ہے اس ہر جے یو آئی ف کے حافظ حمد اللّٰہ نے علی امین گنڈا پور کوتسلی بخش جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ جس میں انھوں نے علی امین گنڈا پور کو سیاست کے بجائے فلم انڈسٹری میں سلطان راہی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ علی امین گنڈا پور آج کل اس لیے خوش ہیں کہ ان کے لیڈر نے بھنگ کی کاشت شروع کر دی ہے۔ بھنگ کے بعد آپ کو بلیک لیبل شہد استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بات تو ہے رسوائی کی ۔ پر مجھے امید ہے کہ جلد علی امین گنڈا درعمل میں مزید کوئی نئی بونگی ماریں گے ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ فی الحال تحریک انصاف کے لیے اچھی خبر نہیں آرہی ہے ۔ کے پی کے میں جو بلدیاتی الیکشن ہورہا ہے اس میں پی ٹی آئی کی حالت کافی پتلی ہے ۔ اسکی وجہ ہے ۔ جب فواد چوہدری کبھی کہیں گے کہ دواؤں کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف فضول مہم بنا دی جاتی ہے کہ جی قیمت میں اضافہ ہو گیا، اگر تین روپے قیمت ہے سات روپے ہو گئی تو کیا قیامت آگئی؟تو کبھی کہتے ہیں کہ گیس ختم ہوگی اب سستی گیس نہیں ملے گی۔ ان بیانات اور حرکتوں کے بعد کیا یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ عوام کیوں پی ٹی آئی سے متنفر ہوچکے ہیں ۔ وزیراعظم کی طرح حکومتی وزراء جو مرضی دعوے کرتے رہیں۔ عالمی ادارے پاکستان کو مہنگائی کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا ملک قرار دے چکے ہیں۔ یوں پاکستان دنیا کے کرپٹ ترین ممالک شام، صومالیہ اور جنوبی سوڈان کی صف میں آکھڑا ہوا ہے۔ سچ یہ ہے کہ حکومتی صفوں میں شامل مٹھی بھر اشرافیہ نے ملک کے وسائل پر قبضہ کر رکھا ہے جن کی دولت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ ملک کی نصف آبادی غربت اور افلاس کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اپوزیشن کے حوالے سے بات کی جائے تو خبر یہ ہے کہ جہانگیر ترین بھی پاکستان سے لندن پہنچ گئے ہیں ۔ وہ دو ہفتے لندن میں رہیں گے۔ جہاں وہ اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان سے پہلے ایاز صادق بھی لندن میں ہی موجود ہیں ۔ اور پچیس لوگوں کے حوالے سے خبر بھی زیر گردش ہے کہ جنرل الیکشن میں ٹکٹ کا وعدہ کیا جائے تو وہ پانسہ پلٹ دیں گے ۔ میں تصدیق سے تو نہیں کہہ سکتا مگر کہنے والے تو کہہ رہے ہیں جہانگیر ترین شاید اسی سلسلے میں لندن پہنچے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے اس وقت جہانگیر ترین نے بھی ساری ہی آپشنز رکھی ہوئی ہیں ۔ گزشتہ دنوں انکی یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی تصویر بھی وائرل تھی جس کے بعد چہ مگویاں شروع ہوگئی تھیں ۔ میں آپکو یہ بتادوں کہ اس وقت ترین گروپ میں لگ بھگ 25 سے 30 قومی اور صوبائی اسمبلی کے اراکین ہیں ۔ اور ان میں زیادہ تر electables ہیں ۔ ویسے چند ہفتے قبل ہی جہانگیر ترین یہ دعوی کر چکے ہیں ۔ کہ میری تاحیات انتخابی نااہلی ٹیکنیکل بنیادوں پر ہے۔ یہ جلد ختم ہو جائے گی۔ میں یہ جانتا ہوں کہ آنے والے الیکشن میں پنجاب میں جہانگیر ترین گروپ ایک بڑا گروپ ہوگا ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے ساتھ نتھی رہے گا یا پرواز کرکے کس اور جگہ چلا جائے گا ۔ اچھا صرف جہانگیرترین ہی نہیں اپنی نااہلی کے حوالے سے دعوے کر رہے ہیں بلکہ محمد زبیر بھی مریم نواز کے حوالے سے دعوی کر رہے ہیں کہ اگلا الیکشن وہ لڑیں گی اور تمام کیس بھی ختم ہونگے ۔ اچھا مجھے غیب کا علم تو نہیں پر اگر زبیرعمر کہہ رہے ہیں تو یقینی طور پر وہ کسی انفارمیشن کی بنیاد پر ہی کہہ رہے ہوں گے ۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ ان کے تعلقات پنڈی اور اسلام آباد دنوں جگہ کافی اچھے ہیں ۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر اسی حوالے سے خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ایاز صادق اگر لندن جاکر اپنی رائے نوازشریف کو دینا چاہتے ہیں تو ان کا حق بنتا ہے، میرا خیال ہے عام انتخابا ت2022ء کے اوائل یا درمیان میں ہوں گے۔ ۔ فارمولہ بھی خواجہ آصف نے بتا دیا ہے کہ کیسے اس حکومت کو گھر بھیجا جائے گا ۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔موجود حکومت کو نکالنا ہے تو تحریک عدم اعتماد سے نکالیں، کسی غیر آئینی طریقے سے ان کو نہیں نکالنا چاہیے۔ ان کی اس بات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ اسی صورت ممکن ہے جب اتحادی تحریک انصاف کا ساتھ چھوڑ دیں یا پھر پی ٹی آئی کے اپنے عمران خان سے داغا کریں اور تحریک عدم اعتماد میں ان کے خلاف ووٹ ڈالیں ۔ جو حالات بنتے دیکھائی دے رہے ہیں اس میں ممکن دیکھائی دیتا ہے ۔ کیونکہ حکومت کی کسی بھی قسم کی کوئی کارکردگی نہ ہونے کہ وجہ سے پی ٹی آئی کی popularityمیں روز بروز کمی ہوتی جارہی ہے اور اگلے جنرل الیکشن میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنا بڑے جگرے والا کام ہے ۔ اس کی مثال میں آپکو دے دیتا ہوں جیسے لاہور این اے 133کے الیکشن میں جمشید اقبال چیمہ نے راہ فرار اختیار کی وہ بھی سب کے سامنے ہے اور جیسے کے پی کے میں بلدیاتی الیکشن میں پی ٹی آئی کو ٹکٹیں دیتے ہوئے جو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ بھی آپکے سامنے ہے کہ لوگ تحریک انصاف کا ٹکٹ نہیں لے رہے تھے یہاں تک پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے ہیں ۔ اب جو بلدیاتی الیکشن اور خانیوال میں ہونے والے ضمنی انتخابات کا رزلٹ سامنے آئے گا اس سے چیزیں مزید واضح ہوجائیں گی ۔ کہ حکومت وقت پورا کرے گی یا وقت سے پہلے انتخابات ہون گے ۔ دوسرا خانیوال میں ضمنی الیکشن کی بڑی وجہ شہرت یہ بھی بنی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی نے مسلم لیگ نون جبکہ مسلم لیگ نے پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر کو اپنا امیدوار بنا لیا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پھر خانیوال میں ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے ٹی ایل پی کی پرواز کیا ہوگی یہ بھی معلوم ہوجائے گا کیونکہ علامہ سعد رضوی وہاں ایک تگڑا جلسہ بھی کر آئے ہیں ساتھ ہی انھوں نے اہلسنت کی تمام جماعتوں سے رابطے بھی شروع کر دیے ہیں کہ ہر جگہ مشترکہ امیدوار لائے جائیں ۔ اب یہ ٹی ایل پی فیکڑ ن لیگ کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے یا پی ٹی آئی کو ۔۔۔ اس خانیوال کے ضمنی الیکشن کے رزلٹ سے واضح ہوجائے گا ۔ اس لیے یہ الیکشن مستقبل کا سیاسی منظر نامہ ہوگا اس لیے یہ کافی اہم مانا جا رہا ہے ۔ ۔ میں آپکو بتاوں جب اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی تو کہا جائے گا کہ ۔۔۔ سیاسی شعبدہ بازیوں ۔۔۔ نے ہمیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ ہم نے اپنی معیشت تو کیا سنبھالنی تھی۔ مقروض ہی ہوتے چلے گئے۔ قرضے اتارنے کے لیے مزید نئے قرضے لیے اور قرضوں کے اس جال سے کبھی نہ نکل سکنے کی بنیاد ڈال دی گئی ہے ۔ ۔ لب لباب یہ ہے کہ ایک طرف حکمرانوں کے رنگین و سنگین بیانات ہیں اور دوسری طرف عام آدمی کی حالت زار دیدنی ہے۔ ۔ اب تو یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارے ہاں مہنگائی پر قابو پانا مریخ پر آکسیجن کی تلاش کی طرح ناممکن ہوچکا ہے ۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کوئی منتخب جمہوری حکومت آٹا ، چینی ،دودھ ، گھی ، سبزی،گوشت اور دالوں جیسی کچن آئٹمز کی قیمتوں میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو عوام اسے دوسرا آئینی دورانیہ انعام کے طور پر بخش دیتے ہیں ورنہ اسکے خلاف ووٹ ڈال کر اسکو تاریخ بنا دیتے ہیں

  • لیسکو کا کارنامہ سردیوں میں بھی بجلی غائب مبشر لقمان پھٹ پڑے

    لیسکو کا کارنامہ سردیوں میں بھی بجلی غائب مبشر لقمان پھٹ پڑے

    لیسکو کا کارنامہ سردیوں میں بھی بجلی غائب مبشر لقمان پھٹ پڑے-

    باغی ٹی وی : شدید دھند اور فوگ کے باعث جہاں موٹروے ،رنگ روڈ اور علامہ اقبال موٹر وے کی رابطہ سڑکیں بند کر دی گئیں 5 پروازیں مسوخ جبکہ 17 کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا وہیں بجلی کی غیر اعلانیہ طویل دورانیہ لوڈ شیڈنگ کا شدید ترین سلسلہ شروع ہے جس کی وجہ سے عوام پریشانی کا شکار ہے –

    سرگودھا : واپڈا فیسکو ایس ای کی جوہرآباد میں کھلی کچہری ۔

    بجلی کی طویل بندش سے مسجدوں اور گھروں میں پانی بھی نایاب ہوگیا ہے جبکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہونے کی وجہ سے بجلی نہ ہونے کی صورت میں کیا جانیوالا متبادل نظام بھی ختم ہو گیا ہے جس وجہ سے صارفین کو اضافی مشکلات کا سامنا ہے-

    ریلوے میں افسرشاہی ختم نہ ہوسکی

    جبکہ دوسری طرف لیسکو واپڈا کے افسران حکومت کی طرف سے ملنے والے سرکاری موبائل فون پر شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے فون سننا بھی پسند نہیں کرتے حالانکہ بجلی کے بل پر شکایات نمبر درج ہیں مگر ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ شہریوں کی طرف سے فون کرنے کے باوجود ایس ڈی او کسی شہری کا فون نہیں سنتے اور ان کی بجلی کے متعلق شکایات کا ازالہ نہیں ہورہا –

    لاہور: دھند اور سموگ کے باعث ائیر پورٹ بند،فلائٹ آپریشن متاثر

    فی الوقت پاکستان کاسب سے بڑا اور اہم عوامی مسئلہ ہے۔ یہی وہ ایشو ہے جس پر ‘عام آدمی’ سے لیکر ‘خاص آدمی’ تک سبھی اس سے متاثر ہیں تاہم لیسکو کی وجہ سے پریشانی کا شکار عوام کے لئے معروف صحافی مبشر لقمان نے آواز اٹھائی ہے-https://twitter.com/mubasherlucman/status/1471198303337521159?s=20
    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مبشر لقمان نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ لیسکو کی ایک بار پھر نا اہلی ناقابل یقین ہے بجلی کے مکمل وولٹیج نہیں آ رہے جس سے الیکڑونکس ڈیوائسز خراب ہو جاتے ہیں جبکہ


    انہوں نے لکھا کہ کل رات سے اب تک لائٹ نہیں ہے لیسکو حکام فون تک نہیں اٹھا رہے کہ یہ بتانے یا جواب دینے کے لیے کہ یہ لائٹ کب تک آئے گی اس حکومت میں حقیقی معنوں میں کوئی کسی کو جوابدہ نہیں یہ ملک کی بدترین حکمرانی ہے۔

    عمران نیازی کھلاڑی نہیں کھلواڑ کرنے والا شخص ہے، حمزہ شہباز

    اے پی ایس کے شہید بچوں کیلئے دعائیہ تقریبات

  • محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے

    محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے

    محمد بن سلمان گھٹنوں پر آ گئے، 5 ملکوں کے ہنگامی دورے
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک طویل عرصے تک قطر پر پابندیاں لگانے کے بعد اب آخر وہ وقت بھی آ ہی گیا ہے جب محمد بن سلمان خود قطر کا دورہ کرنے کے لئے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔ محمد بن سلمان ایک بہت ہی چالاک انسان ہیں وہ کوئی بھی کام بلاوجہ نہیں کرتے۔ پہلے انہوں نے ایک طویل عرصے تک قطر پر مختلف الزامات لگاتے ہوئے پابندیاں لگائے رکھیں لیکن پھر اس سال جنوری سے قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا پہلے ریاض اور قاہرہ نے دوحہ میں اپنے نئے سفارت کار مقرر کئے اس کے بعد قطر کے امیر کوسعودی عرب کے دورے پر بھی بلایا گیا۔ اور اب محمد بن سلمان خود قطر کے دورے پر بھی تشریف لے گئے ہیں۔ آخر ایسی کیا وجہ بنی کہ وہ خود دوحہ کا دورہ کرنے پہنچ گئے۔ اور صرف دوحہ ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے خلیجی ممالک کا بھی دورہ کیا جا رہا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اس وقت سعودی عرب کے حقیقی حکمران ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہی ہیں ان کے بغیر اجازت وہاں پتا بھی نہیں ہل سکتا شاہ سلمان بھی اگر کوئی فیصلہ لیتے ہیں تو وہ محمد بن سلمان سے پوچھ کر ہی لیا جاتا ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ قطر تنازعے کی شروعات 2017 میں اس وقت ہی ہوئی تھی جس شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد مقررکیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے اپنے دیگر اتحادیوں کو ساتھ ملا کر نہ صرف قطر پر پابندیاں عائد کر دیں تھیں بلکہ اس کی ناکہ بندی بھی کردی گئی تھی تاکہ قطر کو تنہا کیا جا سکے۔ لیکن پھر اس سال کے شروع میں امریکہ کے کہنے پر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کا کام شروع ہوا۔ اور اب کیونکہ اس مہینے خلیجی ممالک کی تعاون تنظیم گلف کوآپریشن کونسل جی سی سی کی بیالیسویں سربراہی کانفرنس چودہ دسمبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والی ہے تو اس سلسلے میں محمد بن سلمان خلیجی ممالک کے دورے کر رہے ہیں۔ دوحہ سے پہلے انہوں نے عمان اور متحدہ عرب امارت کا دورہ کیا تھا یو اے ای کے دورے کے دوران دبئی ایکسپو میں بھی شرکت کی تھی۔ اور قطر کے دورے کے بعد محمد بن سلمان بحرین اور کویت کے دورے پر بھی جائیں گے۔جب سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے قطر کے ساتھ خارجہ پالیسی پر اپنے تنازعات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے اس کے بعد یہ جی سی سی کا پہلا سربراہی اجلاس ہونے جا رہا ہے۔گلف کوآپریشن کونسل کے علاوہ یہ دورے اس لئے بھی اہم ہیں کیونکہ اس وقت عالمی طاقتیں 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں۔ لیکن اسرائیل کی طرح سعودی عرب بھی ایران کے ایٹمی پروگرام کی مخالفت کے ساتھ ساتھ اس کے خلاف پابندیوں کا بھی حامی ہے۔ویسے تو ان خلیجی ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور قبائلی تعلقات کافی مضبوط رہے ہیں لیکن ماضی میں قطر پر لگائی پابندیوں کی وجہ سے جی سی سی کے درمیان تعلقات پر کافی فرق پڑا اور ان میں اب وہ پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اہم معاملات کے ساتھ ساتھ ایران اور اسرائیل والے معاملے پر بھی ان خلیجی ممالک کی کوئی ایک رائے نہیں ہے بلکہ ہر ایک نے اپنی الگ الگ پالیسی بنائی ہوئی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس تمام عرصے کے دوران عمان، کویت اور قطر نے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھے جبکہ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ایران کے ساتھ حالات دن بہ دن خراب ہوتے گئے۔ اور اب کیونکہ عالمی سطح پر ایران کو لیکر بڑے فیصلے ہو رہے ہیں تو محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ تمام خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر ایران کے حوالے سے کوئی ایک پالیسی بنائی جائے اس لئے خلیجی ممالک کی یہ سربراہی کانفرنس محمد بن سلمان کے لئے بہت اہم ہے تاکہ تمام خلیجی ممالک کے درمیان حالات کو معمول پرلانے کی کوشش کی جا سکے۔لیکن اس سب کے علاوہ ان دوروں کے پیچھے محمد بن سلمان کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔دراصل جنوری 2021 میں جب سے جو بائیڈن نے امریکہ میں اقتدار سنبھالا ہے محمد بن سلمان کی پوزیشن ملکی اور عالمی سطح پر ہل کر رہ گئی ہے۔ اور اب وہ خود کوسیاسی طور پر تنہا محسوس کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے دور اقتدار میں کیونکہ ایم بی ایس کی ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد Jared Kushnerکے ساتھ گہری دوستی تھی تو اس دوران محمد بن سلمان عالمی سطح پر جو فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتا تھا اس میں اسے کبھی کوئی مشکل پیش نہیں آئی تھی یہاں تک کہ ٹرمپ نے ایم بی ایس کو جمال خاشقجی کے قتل کیس میں بھی بچایا۔ لیکن اب جوبائیڈن کے آنے کے بعد امریکہ کی طرف سے محمد بن سلمان کو اتنی اہمیت نہیں دی جا رہی جو پہلے دی جاتی تھی۔سعدوی عرب کی اندرونی سیاست کی بات کی جائے تو محمد بن سلمان اب بھی سب سے مضبوط ہیں اور ان کے لئے سعودی تخت حاص کرنا کوئی مشکل نہیں ہے لیکن عالمی سطح پر مشکل یہ ہے کہ محمد بن نائف سمیت اس کے کچھ حریفوں کے بائیڈن حکومت کے ساتھ کافی گہرے تعلقات ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لئے اس وقت محمد بن سلمان کا رویہ پہلے سے کافی زیادہ تبدیل اور محتاط بھی ہو گیا ہے۔ اس پورے سال میں محمد بن سلمان نے کوئی بیرون ملک سفر نہیں کیا یہاں تک کہ برسلز میں ہونے والی حالیہ G20 سربراہی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ محمد بن سلمان کی پچھلے گیارہ ماہ میں امریکی صدر جوبائیڈن سے ایک بار بھی کوئی بات چیت نہیں ہو سکی۔ یعنی سعودی عرب کے ہاتھ سے امریکہ بھی گیا جس کے چکر میں محمد بن سلمان نے خلیجی ممالک کو بھی اگنور کیا ہوا تھا۔ محمد بن سلمان کی علاقائی پالیسی مکمل طور پر فلاپ ثابت ہوئی اور اس کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آیا جبکہ دوسری طرف متحدہ عرب امارات معاشی تعقی اور مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بھی کافی آگے نکل چکا ہے۔ قطر بھی عالمی دنیا میں اپنی اہمیت منواچکا ہے جس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اب اپنے سفارت خانے کھولنے کی بجائے قطر کے ذریعے اپنے مفادات کی نگرانی کروارہا ہے۔ اب یہ سب محمد بن سلمان کو برداشت کرنا مشکل ہوا رہا ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس لئے محمد بن سلمان کے حالیہ دوروں میں ایک قابل غور بات یہ بھی ہے کہ یہ دورے یو اے ای کے اماراتی حکام کے شام اور ترکی کے دورے اور تہران میں یو اے ای کے قومی سلامتی کے مشیر طحنون بن زاید کے دورہ کے بعد ہو رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کتنی بڑھ چکی ہے۔ محمد بن سلمان کو یہ برداشت ہی نہیں ہے کہ متحدہ عرب امارات اس کی مرضی کے بغیر ایران اور شام سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔الخلیج الجدید نیوزکی ایک رپورٹ کے مطابق۔۔ اس وقت سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کا کنٹرول کھو چکا ہے اور متحدہ عرب امارات اب علاقائی سیاست میں اس کا اہم حریف ہے۔اس کے علاوہ ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید امریکہ کے بھی قابل اعتماد اتحادی ہیں اس لئے اب محمد بن سلمان اپنی بنائی گئی سعودی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ محمد بن سلمان کی بنائی گئی پالیسی کی وجہ سے سعودی عرب نے 2017میں دہشت گردی کی حمایت اور علاقائی معاملات میں مداخلت کے نام پر قطر کا بائیکاٹ کیا۔ لیکن پھر جوبائیڈن کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ محاصرہ ختم بھی کر دیا گیا جس سے انہیں کوئی فائدہ تو حاصل نہیں ہوا لیکن اس کے نتائج بھگتنے پڑ گئے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف سعودی عرب 2015میں یمن کے خلاف جنگ میں داخل ہوا، لیکن سات سال بعد اسے وہاں بھی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور اس طرح سعودی عرب ایک طرح سے سیاسی تنہائی کا شکار ہو کر رہ گیا۔اس لئے عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ ان دوروں کے کچھ ذاتی مقاصد بھی ہیں۔ تاکہ آنے والے گلف کوآپریشن کونسل کے اجلاس میں عالمی اور علاقائی مسائل پر خلیجی ممالک کو اعتماد میں لیا جائے۔ اور ایک بار پھر اپنی پوزیشن مضبوط کی جائے اور اپنے آپ کو دنیا کی نظر میں دوبارہ سے اہم ثابت کیا جائے