Baaghi TV

Tag: مبشر لقمان

  • یو اے ای کا پچاس برسوں کا سفر مکمل،ایک نئے باب کا آغاز

    یو اے ای کا پچاس برسوں کا سفر مکمل،ایک نئے باب کا آغاز

    یو اے ای کا پچاس برسوں کا سفر مکمل،ایک نئے باب کا آغاز
    متحدہ عرب امارات میں آج قومی دن شایان شان طریقے سے منایا جا رہا ہے

    عرب امارات آج گولڈن جوبلی منا رہا ہے، یو اے ای کی 50 سالگرہ پر شہری پوجوش ہیں، عرب امارات کے قومی دن کے حوالہ سے یو اے ای میں تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے، حکام کی جانب سے پیغامات جاری کئے گئے ہیں، حکومت کی جانب سے عام چھٹی کا اعلان بھی کیا گیا ہے، یو اے ای نے پچاس برسوں کا سفر طے کیا ہے جو پورے خطے کے لئے ایک اہم موڑ ثابت ہو گا،آج سے یو اے ای ایک نئے باب کا آغاز کر رہا ہے .یو اے ای نے ان پچاس سالوں میں بہت سے سنگ میل عبور کئے اور بہت ساری غیر معمولی کامیابیاں سمیٹیں، اب ترقی کے اگلے مرحلے کی جانب سفر جاری ہے

    دنیا میں چین سے پھیلنے والا کرونا وائرس پھیل چکا ہے جو ابھی تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ،کرونا کے ہوتے ہوئے اس دن کو عوامی سطح پر منانا مشکل ترین کام تھا مگر گولڈن جوبلی کی وجہ سے یو اے ای میں جشن منایا جا رہا ہے، متحدہ عرب امارات ان چند ممالک میں سے ایک تھا جس نے اعلان کیا کہ اس نے کرونا وبا جو بدترین مرض ہے کیخلاف جنگ جیت لی ہے، یو اے ای میں تقریبا پوری آبادی کو ویکیسن لگائی جا چکی ہے اور کرونا سے نمٹنے کے حوالہ سے بہترین ممالک کی فہرست میں شامل ہو چکا ہے

    اسی کرونا وبا کے دوران ہی یو اے ای میں ایکسپو دبئی کا آغاز ہوا جو دنیا کا سب سے بڑا اجتماع ہے، اس ایکسپو میں 190 سے زائد ممالک حصہ لے رہے ہیں اور یہ خطے کی سب سے بڑی ایکسپو ہے ،یہ وہ سال بھی تھا جب یو اے ای نے برقہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کا آغاز کیا تھا، جو عرب خطے کا پہلا ملٹی یونٹ ہے، جس نے قابل تجدید توانائی کے علاقائی اور عالمی مرکز کے طور پر ملک کی قابل فخر حیثیت کو مزید مستحکم کیا۔ یہ چند سال پہلے کا خواب تھا۔ آج برقہ ایٹمی توانائی پلانٹ کے یونٹ 3 کی تعمیر مکمل ہو گئی ہے۔

    یہ پچھلے 12 مہینوں میں یواے ای کے سنگ میل کی صرف تین مثالیں ہیں۔ یہ فہرست درحقیقت ایک طویل ہے جس میں یو اے ای کی تاریخ کی سب سے بڑی قانون سازی اور قانونی ترمیم بھی شامل ہے، جس کا اعلان شیخ خلیفہ بن زید النہیان نے گزشتہ ہفتے کیا تھا۔

    یو اے ای میں پاکستان کے سفیر افضال محمود کی جانب سے یو اے ای کے قومی دن کے موقع پر پیغام میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی کمیونٹی اور اپنی جانب سے، میں متحدہ عرب امارات کی قیادت اور اماراتی بھائیوں کو ان کے قومی دن کے پرمسرت موقع پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ایک ایسے وقت میں یو اے ای میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا ہوں جب یو اے ای اپنی گولڈن جوبلی منا رہا ہے اور ہم اپنے برادرانہ دوطرفہ تعلقات کے 50 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔آج متحدہ عرب امارات امن، ترقی اور گڈگورنینسانی کی پہچان کے طور پر اقوام عالم میں فخر کے ساتھ کھڑا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ پانچ دہائیوں میں جو شاندار پیش رفت حاصل کی ہے وہ ملک کو ایک جدید ریاست اور ترقی کرتی ہوئی معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے اماراتی قیادت کے وژن اور عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یواے ای نے تجارت، مالیاتی خدمات، سیاحت، ٹرانزٹ اور ٹرانسپورٹ کے لیے عالمی معیار کے مرکز کے طور پر ابھرنے کے لیے شاندار پیش رفت کی ہے۔ یہ متاثر کن ترقی رواداری، جامع اقتصادی ترقی اور اختراع کو فروغ دینے سے ممکن ہوئی ہے۔پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی موجودہ دور اندیش قیادت میں ہمارے دوطرفہ تعلقات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ یہ باہمی فائدہ مند برادرانہ تعلقات سیاسی، اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور دفاعی تعاون سمیت کثیر جہتی تعاون پر محیط ہیں۔ متحدہ عرب امارات تقریباً 1.6 ملین پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہے جو نہ صرف ہماری دونوں قوموں کے لیے فخر کا باعث ہے بلکہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک موثر پل کا کام بھی کرتے ہیں۔ ہمارے بھائی چارے کے رشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں کی طرف سے دیا جانے والا تعاون کئی دہائیوں سے قابل ذکر رہا ہے۔

    پاکستان سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے یوا ے ای کے قومی دن پراپنے دلی جذبات کا اطہار کرتے ہوئے کہا کہ یواے ای نے جس تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کیں اسکی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی اسکے پیچھے آل نہیان کی حب الوطنی اور دانش مندانہ پالیسیاں ہیں کورونا وبا نے پوری دنیا کامعاشی نقشہ تبدیل کر دیا مگرعرب امارات کے حکمرانوں کی بہترین حکمت عملی سے متحدہ عرب امارات میں حالات بہت کنٹرول میں رہے ،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ امارات کا قومی دن بڑی اہمیت کاحامل ہے یو اے ای کی موجودہ تعمیر وترقی یہاں کے حکمرانوں کی اپنے ملک اور عوام سے گہری محبت اورخلوص کامنہ بولتا ثبوت ہے پوری اماراتی قوم کو دل کی گہرائیوں سے 50ویں نیشنل ڈے کی خوشیاں مبارک ہوں اللہ تعالی یواے ای کومزید کامیابیوں اورکامرانیوں سے نوازے آمین

    یو اے ای اور پاکستان دونوں برادرانہ ملک ہیں اور دونوں ممالک کے مابین بہترین تعلقات ہیں دونوں ممالک کےمابین دوستی کا رشتہ برسوں پرانا ہے جس کے قیام کے لیے ریاست کے بانی عزت مآب مرحوم شیخ زید بن سلطان النہیان کی خدمات کوکبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔مرحوم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے تھے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد پاکستان دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے نہایت پرجوش انداز میں نہ صرف اسے تسلیم کیا تھا بلکہ اس کی جانب دست تعاون بھی دراز کیا تھا اس وقت سے لے کر آج تک پاکستان نے دوستی کے اس رشتے کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اسے وسیع سے وسیع تر کرنے کی کوشش کی ہے

    یو اے ای کے 50 ویں قومی دن پر "1971” کے عنوان سے دستاویزی فلم پیش

    یو اے ای کی ترقی کے گذشتہ 50 سالوں کے اعدادو شمار جاری

    متحدہ عرب امارات کا قومی دن،حکام کا شہریوں کو اسپیشل سہولیات فراہم کرنے کا اعلان

    متحدہ عرب امارات کا جھنڈا طاقت، فخر اور ناقابل تسخیر ہونے کی علامت ہے صدر شیخ خلیفہ

  • امریکہ نے قیامت روکنے کی ٹھان لی، قدرت سے پنگا،دنیا تباہ ہو سکتی

    امریکہ نے قیامت روکنے کی ٹھان لی، قدرت سے پنگا،دنیا تباہ ہو سکتی

    امریکہ نے قیامت روکنے کی ٹھان لی، قدرت سے پنگا،دنیا تباہ ہو سکتی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ناسا نے زمین کو تباہی سے بچانے کے لئے ایک انوکھی کوشش شروع کر دی ہے۔اس کے لئے Dart نامی ایک مشن کو خلا میں روانہ کیا گیا ہے۔ زمین کو کیا خطرات لاحق ہیں اور اس سے بچاو کے لئے ناسا کیا کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سے پہلے زمین کے مستقبل یعنی قیامت کے بارے میں قرآن پاک میں جو آیات نازل ہوئیں ہیں ان میں سے چند ایک میں آپ کے سامنے بیان کروں گا

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سورة القارعہ میں قیامت کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ۔۔۔ یعنی جب وہ حادثہ عظیم برپا ہوگا جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا اس وقت لوگ گھبراہٹ کی حالت میں اس طرح بھاگے بھاگے پھریں گے جیسے روشنی پر آنے والے پروانے ہر طرف پراگندہ و منتشر ہوتے ہیں اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ایک اور آیت ہے۔۔اس دن جب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔۔ بدل جائے گا۔۔ اور سب کے سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔یہ قرآن پاک میں روز محشر کے منظر کی طرف اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یوں لگتا ہے جیسے محشر کا میدان اسی زمین کو بنایا جائے گا۔ اس کے لیے زمین کی شکل میں مناسب تبدیلی کی جائے گی، جیسا کہ اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔
    سورۃ الفجر میں اس تبدیلی کی ایک صورت اس طرح بتائی گئی ہے:
    جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کر دیا جائے گا۔
    پھر سورۃ الانشقاق میں فرمایا گیا ہے۔
    اور جب زمین کو کھینچا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح تمام تفصیلات کو جمع کر کے جو صورت حال ممکن ہوتی محسوس ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین کے تمام نشیب و فراز کو ختم کر کے اسے بالکل ہموار بھی کیا جائے گا اور وسیع بھی۔ اس طرح اسے ایک بہت بڑے میدان کی شکل دے دی جائے گی۔ جب زمین کو ہموار کیا جائے گا تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا اور سمندر بھاپ بن کر اُڑ جائیں گے۔ اسی طرح نظام سماوی میں بھی ضروری رد وبدل کی جائے گی۔
    جس کے بارے میں سورۃ القیامہ میں اس طرح بتایا گیا ہے۔
    یعنی سورج اور چاند کو یکجا کر دیا جائے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کی اور بھی بہت سی آیات ہیں جس سے اندازہ یہ لگایا جاتا ہے کہ شاید آنے والے وقتوں میں زمین کے ساتھ کچھ ٹکرائے گا اور زمین کا نقشہ بدل جائے گا۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے بہت سے سائنسدان اس وقت مختلف تحقیق اور تجربے کرنے میں مصروف ہیں اور اب ایسا ہی ایک تجربہ ناسا کی طرف سے کیا گیا ہے۔چند دن پہلے ناسا کے سائنسدانوں نے اپنی ایک نئی ٹیکنالوجی کو آزمانے کے لیے ایک خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے جو مستقبل میں کسی بھی خطرناک سیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے روک سکے گا۔ایک لمبے عرصے سے یہ بات کی جاتی رہی ہے کہ زمین کو مختلف خلائی چٹانوں سے خطرہ ہے اور ان چٹانوں میں سے کوئی بھی چٹان آنے والے وقتوں میں زمین سے ٹکرا سکتی ہے یہ مشن انھیں چٹانوں کو ناکارہ بنانے کے لئے شروع کیا گیا ہے۔ اور اس مشن کا نام ڈارٹ مشن رکھا گیا ہے۔ یہ خلائی جہازDimorphosنامی شہابیے سے ٹکرائے گا۔ جس کے بعد ناسا کے سائنسدان یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ کیا اس ٹکراو کے بعد Dimorphosکی رفتارمیں کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں اور اس کے علاوہ یہ بھی نوٹ کیا جائے گا کہ کیا اس ٹکر کے بعد وہ شہابیہ اپنا راستہ کس حد تک تبدیل کرتا ہے یا واپس اسی راستے پر آجائے گا۔ناسا کا یہ مشن کتنا اہم ہے یا یہ کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اگر خلائی چٹانوں کا کوئی ملبہ صرف چند سو میٹر سے زمین کے کسی حصے سے ٹکرائیں تو وہ پورے Continentمیں تباہی مچا سکتا ہے۔ اس ڈارٹ مشن کو خلا میں بھیجنے کے لئےSpace x کے بنائے گئے Falcon 9نام کے خلائی راکٹ کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ مشن چوبیس نومبر دوہزار اکیس کو صبح چھ بج کر بیس منٹ پرCaliforniaکے Vandenberg Space Force Baseسے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن یہاں میں آپ کو یہ بات بتا دوں کہ Dimorphosایک ایسی خلائی چٹان یا شہابیہ ہے جس سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دراصل یہ خلائی چٹانیں ہمارے سولر سسٹم کے ایسے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں سے اکثر زمین کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ لیکن کچھ ایسی چٹانیں ہیں جو سورج کے گرد گھومتے ہوئے زمین کی طرف بڑھتی ہیں تو پھر ان کے زمین سے ٹکرانے کا امکان ہو سکتا ہے۔ اور اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو یہ زمین کے لئے بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔ اس لئے صرف مستقبل میں ایسے خطروں سے نمٹنے کے لئے یہ تجربہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ سیکھنے کی کوشش کی جائے کہ مستقبل میں کوئی ایسا ملبہ یا شہابیہ زمین کی طرف آئے تو اسے کیسے دور رکھا جا سکتا ہے۔اس مشن میں پہلے تو سب سے مشکل کام یہ ہے کہ اسےDimorphosتک پہنچایا جائے تاکہ وہ اصل ٹارگٹ کو ہٹ کر سکے۔ کیونکہ باقی کا تجربہ اس کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔اس ڈارٹ مشن کو تقریبا 32 کروڑ ڈالرلگا کر تیار کرنے کے بعد ہمارے Binary system of orbit میں بھیجا گیا ہے جو ستمبر2022 تک خلا میں گھومتا رہے گا اور پھر زمین سے67 لاکھ میل دور جا کر سیارچوں کے ایک جوڑے کو نشانہ بنائے گا جو اس وقت ایک دوسرے کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ ان دونوں میں سے بڑے سیارچے کا نامDaddy mossہے جو تقریبا 780 میٹر چوڑا ہے۔ اور دوسرا سیارچہDimorphosہے جو تقریبا 160 میٹر چوڑا ہے۔خلا میں بڑے سیارچوں کے مقابلے میں چھوٹے سیارچے زیادہ ہیں اور اس لیے سب سے زیادہ خطرہ بھی انہی سے ہے۔ لیکن ان دومختلف سائز کے سیارچوں کو ٹارگٹ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پتا لگایا جا سکے کہ اس ٹکراو کے بعد کس سائز کا سیارچہ کس حد تک اپنی جگہ سے ہٹ سکے گا۔ یہ چیک کرنا اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اگر Dimorphos کے سائز والا کوئی سیارچہ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس کا اثر کئی ایٹم بموں کی توانائی جتنا ہو گا۔ اس سے لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ لیکن اگر تین سو میٹر اور اس سے زیادہ چوڑائی والی کوئی خلائی چٹان زمین سے ٹکراتی ہے تو وہ کئی براعظموں کو تباہ کرسکتی ہے اور ایک کلومیٹر کے سائز کے خلائی پتھر تو پوری زمین کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔یہ ڈارٹ مشن تقریبا 15,000میل فی گھنٹہ کی رفتار سے Dimorphosسے ٹکرائے گا۔ جس کی وجہ سے ان سیارچوں کی سمت صرف چند ملی میٹر تبدیل ہونے کی امید ہے۔ اگر حقیقت میں ایسا ممکن ہو گیا تو اس کی کلاس بدل جائے گی۔ اس بارے میں کچھ حد تک غیر یقینی صورتحال بھی ہے کہ اس ٹکراو کے بعد ان سیارچوں کا رویہ کیا ہو گا کیونکہ ابھی ناسا کے سائنسدان اس کی اندرونی ساخت کے بارے میں نہیں جانتے۔ اگر یہ اندر سے ٹھوس ہوئے تو ظاہری بات ہے کہ بہت سا ملبہ باہر آئے گا جس سے ڈارٹ کو مزید دھکا لگے گا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ویسے تو یہ ایک بہت چھوٹی سی تبدیلی لگتی ہے لیکن ایک خلائی چٹان کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے اور تباہی سے بچانے کے لیے بس اتنا ہی کرنا کافی ہے۔ لیکن ایسا کرنا آسان نہیں ہے۔ڈارٹ مشن کی نگرانی کے لئے اس خلائی جہاز پرDraicoنامی ایک کیمرہ بھی لگایا گیا ہے جو اس کے مشن کی تصاویر لے گا تاکہ خلائی جہاز کے ٹکرانے کے لیے صحیح سمت کا تعین کیا جا سکے۔ اوراپنے ہدف کو نشانہ بنانے سے تقریبا دس دن پہلے ڈارٹLessia qubeنام کی ایک چھوٹی سیٹلائٹ کا استعمال کرے گا جو ٹکراو کے بعد کی تصاویر واپس ناسا کے آفس بھیجے گی۔ اس کے علاوہ ان سیارچوں کی گردش کے راستے میں آنے والی چھوٹی تبدیلیوں کو زمین پر لگی دوربینوں سے بھی ناپا جائے گا۔اس کا زرلٹ تو ستمبر دو ہزار بائیس کے بعد ہمارے سامنے آئے گا کہ بتیس کروڑ ڈالر لگا کر ناسا نے جو یہ تجربہ کیا ہے اس میں کس حد تک سائنسدانوں کو کامیابی ملی ہے۔ کیا واقعی زمین کو ایسے خطرات سے بچایا جا سکے گا یا پھر آنے والے دنوں میں تباہی ہی انسانوں کا مقدر بنے گی۔

  • خبردار،ورزش کرنے سے پہلے یہ ویڈیو دیکھ لیں

    خبردار،ورزش کرنے سے پہلے یہ ویڈیو دیکھ لیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جب بھی ہم اپنے ادرگرد لوگوں کو موٹاپے اور مختلف بیماریوں کی شکایت کرتے سنتے ہیں تو جو سب سے پہلا خیال ہمارے دماغ میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ یہ ورزش نہیں کرتے اس لئے ان کی صحت خراب ہے یہ موٹاپے کا شکار ہیں اور موٹاپے کے ساتھ پھر باقی بیماریاں تو سمجھیں مفت میں ہی انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو روزانہ جم یا ورزش کرتے ہیں اپنی فٹنس کا خیال رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہم یہ ہی خیال کرتے ہیں کہ ان کوکبھی کوئی بیماری ہو ہی نہیں سکتی اور بیماریاں نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری بات ہے کہ ان کی عمر بھی بہت لمبی ہو گی۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں ہرسال صرف دل کے مریضوں میں تقریبا دولاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال انڈیا میں بھی ہے۔جبکہ دل کی بیماری ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ابھی تک بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بیماری شاید بڑھاپے میں ہی ہوتی ہے لیکن اس وقت سب سے تشویشناک بات یہ ہے پچھلے چند سالوں میں کم عمرافراد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ 2017میں ایس جے آئی سی ایس آر کی جانب سے دو ہزار لوگوں پر ایک سروے کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ25سے40سال کی عمر کے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے کیسزمیں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک سال میں دل کی بیماری والے مریضوں میں پچھلے سال کی نسبت22فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ایسے نوجوان جو بظاہر بہت صحتمند اور فٹ لگتے تھے روزانہ جم اور ورزش کرتے ہیں ان کو کم عمری میں دل کا دورہ پڑا جوان کی جان لے گیا۔ اس کی دو بہت ہی مشہور مثالیں جو ہمارے سامنے ہیں وہ انڈیا کی ہیں۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ایک مثال جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے مشہور اداکار پنیت راجکمار ہے جس کی عمر صرف 46سال تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔اور دوسری مثال انڈین ٹیلی وژن کا نوجوان اداکار سدھارتھ شکلا ہے جس کی 40سال کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔پنیت راجکمار جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کا ایک بے حد مشہور اداکار، گلوکار، ٹی وی میزبان، اور فلم پروڈیوسر تھا اور اس کے بارے میں عام طور پر یہ ہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے حد فٹ یا صحت مند ہے۔وہ نہ صرف خود صحت مند دکھائی دیتا تھا بلکہ وہ ایک ڈاکٹر کا بیٹا تھا اس کے والد کا نام راج کمارہے۔ جس سے ایک عام طور پر ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ اس کے گھر کا ماحول بھی صحت کے حوالے سے بہت اچھا ہوگا۔لیکن اس کی اچانک موت نے نہ صرف اس کے مداحوں اور پوری فلم انڈسٹری کو صدمے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ایک ایسا انسان جس کی عمر اتنی کم تھی وہ ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دیتا تھا روزانہ جم اور ورزش کرتا تھا تو اس کو کیسے اچانک دل کا دورہ پڑ سکتا ہے کہ جو اس کی جان ہی لے گیا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ دراصل ہوا یہ کہ پنیت راجکمار کو جم میں ورزش کرتے ہوئے سینے میں درد کی شکایت ہوئی جس پر اس نے اپنے فیملی ڈاکٹر اور مشہور کارڈیالوجسٹ رامنا راؤ سے رابطہ کیا۔ جس اس ڈاکٹر نے پنیت کی نبض اور بلڈ پریشر کا جائزہ لیا تو وہ نارمل تھیں۔ لیکن جب اس کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اسے اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے تو اس نے بتایا کہ جم کرتے ہوئے اسے بہت پسینہ آتا ہے۔ خیر اس کی ای سی جی کروائی گئی اور فورا ہسپتال لے جایا گیا۔لیکن پنیت کو راستے میں ہی دل کا دورہ پڑ گیا اور اسے بچانے کی ساری کوششیں ناکام رہیں۔اب پنیت راجکمار کی موت سے صرف دو ماہ پہلے ستمبر میں اداکار سدھارت شکلا کی ایسے ہی اچانک موت ہوئی تھی تب بھی لوگوں کو بہت صدمہ ہوا تھا کہ بظاہر ایک بے حد فٹ انسان جس کی عمر صرف چالیس سال تھی وہ کیسے اچانک اس دنیا سے چلا گیا؟سدھارتھ شکلا انڈین ٹیلی وژن کا انتہائی مقبول اداکار تھا۔ اور ساتھ ہی وہ فلم انڈسٹری میں بھی انٹری کر چکا تھا۔ اور اہم بات یہ کہ وہ بھی اپنی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ روزانہ جم جا کر ورزش کرتا تھا۔ اسے بھی پنیت کی طرح اچانک دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا تھا۔حالانکہ یہ وہ افراد تھے جن کو دل سے متعلق پہلے سے کوئی بیماری یا شکایت نہیں تھی۔ ان میں کوئی ایسی عادتیں جیسے تمباکو نوشی جو دل کی بیماری کا خطرہ پیدا کرتی ہے وہ عادت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کی اس بیماری کی کوئی خاندانی ہسٹری تھی۔ انھیں ذیباطیس، ہائپرٹینشن اور ہائی کولیسٹرول بھی نہیں تھا۔اب ان دونوں کی موت کے بعد اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ بہتر صحت اور ایک فٹ باڈی کی خواہش میں جم جانے والے افراد کہیں نہ کہیں کوئی ایسی غلطی کر رہے ہیں جو کہ اس کم عمری میں جان لیوا دل کے دورے کی وجہ بن رہی ہے۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اور میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی مشہور شخصیت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو یہاں بڑے پیمانے پر اس بحث نے جنم نہیں لیا ورنہ یہ خطرہ ہمارے سروں پر بھی اتنی شدت سے ہی منڈلا رہا ہے جتنا کہ انڈین عوام کے۔۔۔دراصل آج کے دور میں نوجوانوں کو جم جاکر مسلز بنانے کا جنون سا پیدا ہو گیا ہے۔ جم میں تو کوئی ڈاکٹر ہوتا نہیں ہے پھر وہ خود بھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ نہیں لیتے اور جم جا کر نہ صرف سخت قسم کی ورزش کرتے ہیں بلکہ Gym instructorکے کہنے پر پروٹین سپلیمنٹ بھی کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے instructorsنوجوانوں کوsteroidsلینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بالکل اچھے نہیں ہوتے۔اس حوالے سے کئی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دراصل جب لوگ وزن اٹھانے جیسی ورزش کرتے ہیں تو ان کے پٹھوں میں تناؤ ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وزن اٹھانے کی وجہ سے نسوں پربھی دباؤ پڑتا ہے۔ اس لئے ایک حد سے زیادہ ورزش دل کے Valvesکے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔دراصل آج کل کے نوجوان مختلف Actors and playersوغیرہ کو دیکھتے ہیں اور باڈی بنانے کے چکر میں جم جاتے ہیںSupliments and steroidsکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایکٹرز یا کھلاڑی اگر کوئی سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے ڈاکٹرز اور ہیلتھ کوچز کے مشورے کے بعد کرتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہوگا کہ Excess of everything is badیعنی کوئی بھی کام جب آپ اپنی برداشت سے زیادہ شروع کر دیں تو وہ لازمی آپ کے لئے خطرناک ہوگا۔

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حالانکہ کوئی بھی سخت والی ورزش کرنے سے پہلے ہمیں کسی cardiologistسے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ جم جاتے ہیHigh intensityورک آؤٹ نہیں شروع کرنا چاہیے۔ پہلے جم جا کر ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم کوWarm upکرنا چاہیے۔ اورمشکل یا زیادہ سخت والی وزرش روزانہ نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ دوسری صورت میں ایسا کرنے سے دل سے جڑے مسائل کی شروعات ہو سکتی ہے۔اور ورزش کا انتخاب ہمیشہ اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرنا چاہیے کہ کون سی ورزش کرنی ہے اور کون سی نہیں۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں آپ بہت دیر تک تو اس طرح کی ورزش نہیں کر رہے۔ کیونکہ اگر آپ کا جسم باہر سے اچھا دکھائی دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا دل بھی صحت مند ہے۔اور ایک چیز جس کا خیال جم والوں کو بھی کرنا چاہیے وہ یہ کہ جم میں لوگوں کی جسمانی صحت پر نظر رکھنے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ضرور ہونا چاہیے۔ جو لوگوں کو ان کی جسمانی صورتاحل کے مطابق مشورہ بھی دیں اور ایمرجنسی کی صورت میں لائف سپورٹ بھی فراہم کرسکیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کے مطابق اگر پنیت راجکمار دس منٹ پہلے ہسپتال پہنچ گئے ہوتے یا ان کو میڈیکل ایڈ مل گئی ہوتی تو شاید انھیں بچایا جا سکتا تھا۔ جس کے بعد وہ مزید کئی سالوں تک زندہ بھی رہ سکتے تھے

  • تقریب حلف برداری میں مبشر لقمان کی نصیحت

    تقریب حلف برداری میں مبشر لقمان کی نصیحت

    ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کے نو منتخب عہدیداروں کی تقریب حلف برداری

    صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنان کو سلام پیش کرتا ہوں اینکر پرسن مبشر لقمان

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کی تقریب حلف برداری عمارت پریس کلب میں منعقد ہوئی تقریب کے مہمان خصوصی اینکر پرسن مبشر لقمان تھے تقریب میں بختیار محمود قصوری،راو مشتاق حیدر صدر یونین آف جرنلسٹس اوکاڑہ، ڈی پی او قصور عمران کشور ، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر محمد بلال ،رانا نوید مرکزی صدر پاکستان تحریک اتحاد راجہ نبیل کیانی، ڈاکٹر فضل رحیم، ڈی ایس پی یعقوب اعوان، سمیت ضلع بھر سے ممبران ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور نے شرکت کی انہوں نے ظفر اقبال صدر، سنئیر نائب صدر رانا منصور احمد،جنرل سیکرٹری سید تنویر اقبال، نائب صدر سید عامر حسین تقوی، انفارمیشن سیکرٹری عمران نجفی، سیکرٹری فنانس سید عابد بخاری، سید افضل حیدر، ملک شرافت علی گوہر چئیرمین ایگزیکٹو کونسل، سیکرٹری کامران اشرف الیکٹرانک میڈیا صابر چوہدری چئیرمین، سیکرٹری حافظ وحید اشرف، یونین آف جرنلسٹ کے چیرمین طالب حسین بھٹہ، محمد عرفان سندھو سمیت عہدیداران سے ان کے عہدوں کا حلف لیا
    حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوے سینئر صحافی اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا کہ ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور میں دوسری دفعہ آنے کا اتفاق ہوا جمہوری روایات کے مطابق عہدداران کا چناو خوش آئند ہے صحافیوں کی تنخواہ اور بچوں کی تعلیم کے لیے وسائل کی کمی ہے بیروزگاری کے مسائل بڑھ رہے ہیں گورنمنٹ کو صحافیوں کی مالی مدد کرنی چاہیے ڈی پی او قصور عمران کشور نے کہا کہ صحافی معاشرے کی آنکھ ہیں مسائل اور جرائم میں کمی لانے میں صحافیوں کا کلیدی کردار ہے راجا نبیل کیانی نے اپنے خطاب نو منتخب عہدیداروں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی. قصور کے نامور صحافی سید عامر حسین تقوی اور کامران اشرف کو محکمہ جنگلات کی جانب سے ایوارڈ ملنے پر مبارکباد پیش کی ، صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور ظفر اقبال نے اپنے خطاب میں آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور صحافیوں کے مسائل کے حل کے لیے ہر سطح پر کام کرنے کی یقین دہانی کروائی بانی چیئرمین ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور سردار شریف سوہڈل نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحافی معاشرے کے مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ شعور اور اگہی پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور کی نئے عہدیداران اپنے حلف کا پاس رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کریں گے تقریب کے اختتام پر سابق صدر حافظ شریف اشرف کی صحتیابی کے لیے خصوصی دعا کی گئی

  • تقریب حلف برداری میں مبشر لقمان اور دیگر کی

    تقریب حلف برداری میں مبشر لقمان اور دیگر کی

    قصور
    ڈسٹرکٹ پریس کلب , ڈسٹرکٹ الیکٹرانک میڈیا, اور ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ قصور الیکشن 2020 میں کامیاب ہونے والے عہداران کی حلف برداری کی تقریب میں سنئیر اینکر پرسن مبشر لقمان, سنئیر اینکر پرسن عمران خان , ندیم عباس بارا, مولانا ناصر مدنی,سردار فاخر علی ایڈووکیٹ ,علامہ ضیاءاللہ شاہ بخاری, کی خصوصی شرکت سردار شریف سوہڈل صدر اور جنرل سیکرٹری کے خطابات
    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پریس کلب اور ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ کے الیکشن 2020 کے بعد جناح ہال قصور میں کل حلف برداری کی تقریب کا اہتمام کیا گیا تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پیش کی گئی بعد اذاں سنئیراینکر پرسن مبشر لقمان نے ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور اورسنئر صحافی عمران خان ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ اور علامہ ضیاءاللہ شاہ نے ڈسٹرکٹ الیکٹرانک میڈیا قصور کے عہداران سے حلف لیا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پریس کلب کے سنئیر صحافی شریف سوہڈل نے کہا کہ ہم نے جو پودا لگایا تھا وہ ماشاء اللہ اب ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کر چکا ہے

  • قبل از وقت الیکشن ہوسکتے ہیں ،مبشرلقمان

    لاہور:قبل از وقت الیکشن ہوسکتے ہیں ،پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت حال جس طرف جارہی ہے اس سے صاف ظاہر ہورہا ہےکہ پاکستان میں قبل از وقت الیکشن ہوسکتے ہیں اور یہ بات بڑے حلقوں‌میں‌گردش بھی کررہی ہے ، پاکستان کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات پرعقاب کی طرح نظررکھنے والے معروف اینکر،تجزیہ نگار مبشرلقمان نے اس حوالے سے اشارہ دے دیا ہے

    احمد نواز کے برطانیہ کے شاہی محل میں تذکرے، بدل سکتا ہے دنیا کو "احمد…

    باغی ٹی وی کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں مبشرلقمان نےکہاہےکہ وہ مسلسل پاکستان کے سیاسی منظرنامے پرنظررکھے ہوئے ہیں‌اوراس سلسلےمیں‌حکومت اور اپوزیشن کے ذمہ داران سے بھی مکمل رابطہ ہے ، ان حالات کے تناظراوراسلام آباد کے مقتدرحلقوں سے ملنے والی اطلاعات اور خبروں سے یہ بات واضع ہورہی ہےکہ ملک میں قبل از وقت انتخابات ہوسکتے ہیں‌،

    آئس نشےمیں دھت شخص نےماں اوربیوی کوقتل کردیا،باقی خاندان شدید زخمی

    مبشرلقمان نے حسب روایت اپنے صحافتی تجربے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں اور عمران خان اور ان کے بڑے ساتھیوں کی چئہ مگوئیوں‌سے اخذ کرتے ہوئے کہا ہےکہ یہ بات تو یقینی نظر آرہی ہےکہ ملک میں اگلے 6 سے 8 مہینوں کے اندرالیکشن ہونے کا امکان ہے ، اور جس طرح کپتان نے منصوبہ بندی کی ہے اپوزیشن دیکھتی رہ جائے گی

    ٹویٹرکابہت بڑااعلان،جونہیں کرے گادھیان،ہوگاپریشان

    مبشر لقمان نے اپنے ٹویٹ پیغام میں کہا کہ ہاں اگراگلے چند ماہ تک حالات حکومت کے حق میں ہوئے تو الیکشن کے انعقاد میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے لیکن یہ طے ہے کہ اب گیند حکومت کی کورٹ میں ہے اوراپوزیشن کی تمام چالیں بےکارگئیں‌

  • معروف اینکرمبشرلقمان کی وزیراعظم سے ملاقات، اہم معاملات پر گفتگو

    معروف اینکرمبشرلقمان کی وزیراعظم سے ملاقات، اہم معاملات پر گفتگو

    لاہور: پاکستان کےممتاز صحافی معروف اینکر مبشرلقمان کی آج وزیراعظم عمران خان سے اہم ملاقات بنی گالہ میں ہوئی ، اس ملاقات میں پاکستان کی موجودہ سیاسی ،معاشی اور عالمی منظرنامے کی صورت حال پر سیر حاصل گفتگوبھی ہوئی ، دورہ ایران اوردورہ سعودی عرب بھی زیربحث آئے

    غیرت کے نام پر مرد اور عورت کو "پھانسی”

    باغی ٹی وی کے مطابق معروف اینکر کھراسچ پروگرام کے میزبان مبشر لقمان کی وزیراعظم سے اہم ملاقات میں ملک کی موجودہ صورت حال پر اہم صلاح ومشورے بھی زیربحث رہے ، اطلاعات کےمطابق اس ملاقات میں عمران خان نے اپنے دورہ ایران کے نتیجے میں ہونی والی پیش رفت پر آگاہ کیا،وزیراعظم نے بتایا کہ ایرانی قیادت بھرپوراعتماد کا اظہار کیا ،معروف اینکر مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب ، ایران ، امریکہ اور کئی اور ممالک نے بھی وزیراعظم عمران خان کو خطے میں‌اہم کردار اداکرنے کے لیے درخواست کی تھی ، وزیراعظم نے اس بات کے عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان یمن کے معاملے پر بھی مصالحت کرانے کی کوشش کرے گا ، پھر شام کی خانہ جنگی بھی پاکستان ہی ختم کرائے گا

    پروفیسرملک کے نئے صدر ، 72.53 فیصد ووٹ حاصل کیے

    ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران وزیراعظم نے مبشر لقمان سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کو احتجاج کرنے سے نہیں روکا جائے گا ،یہ ان کا حق ہے، وزیراعظم عمران خان نے ایک بہت ہی اچھی مثال قائم کرتے ہوئےاس بات کے عزم کا اظہار بھی کیا کہ نہ تو وہ خود پسند کرتے ہیں کہ کوئی مولانا فضل الرحمن کی ذاتیات پر اتر آئے اور نہ ہی حکومت اور پارٹی کے کسی فرد کو اجازت ہوگی

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ نہ صرف مولانا فضل الرحمن کی ذات پر بلکہ کسی بھی جے یو آئی ف کے کسی دوسرے فرد کی ذات پر کسی قسم دل آزاری والی بات گفتگو نہیں کرنے دوں گا، وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ بات اصل میں یہ ہے کہ اگلے چند دنوں‌تک ان کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے وہ اس پھندے سے جان چھڑانے کے لیے یہ مارچ کررہے ہیں ،وزیراعظم نے اس موقع پر واضح کیا کہ آزادی مارچ کے نام سیاست کریں‌ مگر اگر کوئی شرارت کی گئی تو پھر ریاست کے ادارے بہتر انداز میں نبٹنا بھی جانتے ہیں ،وزیراعظم نے اس موقع پر پاکستان کی معاشی صورت حال سے متعلق بھی گفتگوکی اور اسے تسلی بخش قرار دیا

    اب بھارت نہیں ترکی جائیں گے ،مشاورت شروع

    مبشر لقمان نے وزیراعظم سے اپنی گفتگو کی اہم اہم باتوں کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ چینی صدر سے بہت متاثر ہیں چینی صدر چینی قوم کے لیڈر ماو کے بعد دوسرے رہنما ہیں جو بہت زیادہ خوبیوں کے مالک ہیں‌، وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح‌چینی صدر نے معیشت کو کھڑا کیا وہ بھی قابل قدر ہے ،چین پاکستان کو معاشی طور کھڑے ہونے میں‌مدد دے گا ، مبشر لقمان نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم نے کہاکہ چین کی حکومت اس بات پر پریشان تھی کہ پاکستان میں‌ کرپٹ حکومت تھی چین ان پر اعتماد نہیں کرتا تھا اب چین کا اعتماد بحال ہوا ہے

    پاکستان کی معاشی صورت حال سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معاشی صورت حال جنوری فروری تک بہت بہتر ہوجائے گی ، پاکستان کا مستقبل روشن ہے، بلوچستان اور گردونواح میں‌100 بلین ڈالرز سونے کےذخائر ہیں‌،اس کے علاوہ اور بھی پاکستان میں‌ ذخائر ہیں جن سے پاکستان مضبوط ترین معاشی ملک ہوگا

    وزیراعظم سے ملاقات کی اہم باتیں‌شیئر کرتے ہوئے کہا کہ سنا ہے ملک میں‌ ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی باتیں ہورہی ہیں‌تو وزیراعظم نے بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں یہی پارلیمنٹ ہی کام کرے گی ٹیکنٹوکریٹس کا حکومت کرنا کیسے ممکن ہے، مبشر لقمان نے بتایا کہ ملک میں‌ڈینگی کی موجودہ صورت حال پر بھی بات کی تو وزیراعظم نے کہا مشکل ضرور ہے لیکن بہت جلد اس پر بھی قابوپالیں‌گے

    معروف صحافی مبشر لقمان اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم پر بھی بات چیت ہوئی ، اس موقع پر مبشر لقمان نے وزیراعظم کو بتایا کہ حکومت کے ساتھ ساتھ پاکستانی میڈیا بھی کشمیریوں کی اس مشکل گھڑی میں‌ نہ صرف ان کے ساتھ ہے بلکہ ان کی جدوجہد آزادی کے حصول کے لیے اپنا صحافتی کردار ادا کرتا رہے گا ، مبشر لقمان نے اس موقع پر ہر جمعۃ المبارک کے دن لاہو رمیں صحافیوں کی طرف سے کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کے بلاتعطل پروگراموں ، ریلیوں، جلسوں اور جلوسوں سے بھی آگاہ کیا

    فیصل واڈا کو ترس آگیا

    اس ملاقات کے دوران دونوں پرانے دوستوں کے درمیان کھل کی گفتگو ہوئی ، اس موقع پر مبشر لقمان نے وزیراعظم کو ملک میں ہونے والی مہنگائی پر جلد از جلد قابوپانے پر بھی زور دیا ، وزیراعظم نے بھی اس موقع پر سنیئر صحافی ، معروف اینکر مبشر لقمان کی تجاویز کو غور سے سنا اور انہیں مثبت قرار دیا ، وزیراعظم نے سنیئر صحافی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ ریاست کے لیے ان کی صحافتی خدمات قابل قدر ہیں

  • مبشرلقمان کےخلاف حکومتی شخصیت نےحریم شاہ اورصندل خٹک کےذریعےسازشی کھیل کھیلا، بھرپور مذمت کرتے ہیں ، رانا عظمیم ، شہزاد حسین بٹ ود یگر

    مبشرلقمان کےخلاف حکومتی شخصیت نےحریم شاہ اورصندل خٹک کےذریعےسازشی کھیل کھیلا، بھرپور مذمت کرتے ہیں ، رانا عظمیم ، شہزاد حسین بٹ ود یگر

    لاہور : معروف اینکر ، کھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشر لقمان کے خلاف ایک حکومتی شخصیت نے دو ٹک ٹاک گرلز کے ذریعے کھیل کھیلا ، ان خیالات کا اظہار پاکستان کی تمام جرنلسٹ یونینز کے سربراہان اور ذمہ داران نے ایک مذمتی بیان میں‌ کیا ،

    اطلاعات کےمطابق پاکستان فیڈریل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری جنرل رانا محمد عظیم ،پنجاب یونین آ ف جرنلسٹس کے صدر شہزاد حسین بٹ نے پاکستان کےمعروف ترین صحافی اور معروف اینکر مبشر لقمان پر ایک پالننگ کےتحت الزام لگانے پر ٹک ٹاک گرلز حریم شاہ اور صندل خٹک کی شدیدمذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی کچھ اہم شخصیات باقائدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت یہ سب کچھ کر وا رہی ہیں ان کا اصل مقصد سچ کودبانا اور مبشر لقمان جیسی شخصیت کو متنازعہ بنانے کی کوشش ہے

    مبشرلقمان سے ہمیشہ حق اور سچ کی بات کی ہے ان کے خالف یہ پراپیگنڈہ آزادی صحافت کو دبانے کی ایک سازش ہے۔ حکومت پنجاب اس بات پر جواب دے کہ کیوں ہیں اب تک مقدمہ درج کیا گیا کیوں اور کس کے کہنےپر اقرار کے باوجود ٹک ٹاک گرلز کو بچایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ اب ہم کسی صورت میں بھی اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے پی ایف یو جے اور تمام پریس کلبز مبشر لقمان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اب یہ آزادی صحافت پر حملہ کرنے والوں کو ہم جواب دیں گے

  • مبشر لقمان کے خلاف سازش:حریم شاہ ،صندل خٹک اورماسٹر مائنڈ فیاض الحسن چوہان کے خلاف درخواست دائر

    مبشر لقمان کے خلاف سازش:حریم شاہ ،صندل خٹک اورماسٹر مائنڈ فیاض الحسن چوہان کے خلاف درخواست دائر

    لاہور : معروف اینکر مبشر لقمان کے‌خلاف تمام سازشی عناصربے نقاب ہوگئے ، دوسری طرف مبشر لقمان نے ان سازشی عناصر کی گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے اور نقصان پہنچانے پر ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور ان کو قرار واقعی سزادینے کے لیے درخواست دائر کردی ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق معروف اینکر مبشر لقمان کے خلاف اس سازش کو تیار کرنے کا سہرا صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے سر ہے جنہوں‌نے دو سوشل میڈیا نام نہاد سٹارز کو مبشر لقمان کے خلاف استعمال کرنے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا

    ذرائع کے مطابق مبشر لقمان نے سوشل میڈیا سٹار حریم شاہ، صندل خٹک اور ان کے سرپرست صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کےخلاف درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ حریم شاہ اور صندل خٹک نے ٹی وی پر آکر اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے وہاں اس سازش کے ماسٹر مائنڈ کے بارے میں بھی سب کچھ بتا دیا ہے

    یاد رہے کہ چند قبل حریم شاہ اور صندل خٹک نے والٹن ایئر پورٹ پر مبشر لقمان کے جہاز سے قیمتی چیزیں چور ی کرنے کے بعد مبشر لقمان کےخلاف پرواپیگنڈہ بھی کیا تھا ، جس پر مبشر لقمان نے ان نام نہاد سٹار ز کے خلاف درخواست دی تھی کہ مذکورہ خواتین نے بہت زیادہ مالی نقصان پہنچایا ہے ، دلچسپ بات ہے کہ ان دو سوشل میڈیا سٹارز کی طرف سے جرم تسلیم کیے جانے کے باوجود فیاض الحسن چوہان نے ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہونے دیا تھا ،

  • معروف اینکر مبشر لقمان کے خلاف سازشی عناصر ننگے ہوگئے ، سازش فیاض الحسن چوہان نے تیار کی ، سازشی کرداروں نے راز اگل دیئے

    معروف اینکر مبشر لقمان کے خلاف سازشی عناصر ننگے ہوگئے ، سازش فیاض الحسن چوہان نے تیار کی ، سازشی کرداروں نے راز اگل دیئے

    لاہور : معروف اینکر ، تجزی نگار اور کھرا سچ پروگرام کے میزبان مبشر لقمان کے خلاف تیار کی گئی سازش کا پول کھل گیا ، سازش میں شریک کرداروں نے قوم کے سامنے آگر یہ تسلیم کرلیا کہ انہیں کسی خاص شخصیت نے مبشر لقمان کی شہرت ، عزت اور شخصیت کو نقصان دینے کے لیے کسی اہم شخصیت نے ہدف دے رکھا تھا

    ذرائع کے مطابق لاہور رنگ ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے سوشل میڈیا سٹار حریم شاہ اور صندل خٹک نے میزبان رائے ثاقب کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مبشر لقمان کے جہاز تک کسی نے پہنچایا ہے، رائے ثاقب نے پوچھا کہ وہ کہ کیا مقاصد تھے تو صندل خٹک اور حریم شاہ نے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ فی الحال اس بڑی شخصیت کا نام نہیں بتاسکتیں لیکن یہ حقیقت ہےکہ مبشر لقمان کے خلاف یہ کہانی گھڑی گئی ہے اور اس کے لیے ہمیں استمعال کیا گیا

    رائے ثاقب کے سوال کے جواب میں سوشل میڈیا سٹارز نے یہ بھی تسلیم کیا کہ اسی شخصیت نے مبشر لقمان کے جہاز تک اور پھر جہاز کے اندر تک لے جانے میں مرکزی کردار ادا کیا ، جب رائے ثاقب نے پوچھا کہ کیا وہ شخصیت صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان ہیں‌تو دونوں سٹارز نے یہ تو تسلیلم کرلیا کہ وہ شخصیت تو ہے مگر اس کا نام لینے سے گریز کیا . رائے ثاقب نے اس موقع پر کہا کہ آپ نے غلط بیانی کی ہے تو ان سٹار ز نے یہ بھی تسلیم کرلیا

    یاد رہے کہ مبشر لقمان کے جہاز سے قیمتی چیزیں چرانے والی ان سٹارز کے خلاف جب ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی تو پولیس نے ٹال مٹول سے کام لینا شرو ع کردیا ، بعد ازاں پولیس حکام کے ذریعے ہی پتہ چلا کہ صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے حکم پر ہی مقدمہ درج نہیں‌کیا جارہا .یہ بھی یاد رہے کہ فیاض الحسن چوہان ایک انتہائی متنازعہ شخصیت کے طور پر سامنے آرہے ہیں