Baaghi TV

Tag: مداخلت

  • عدلیہ میں مداخلت روکنے کے لیے پانچ نکاتی ایس او پیز جاری

    عدلیہ میں مداخلت روکنے کے لیے پانچ نکاتی ایس او پیز جاری

    لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے عدلیہ میں مداخلت روکنے کے لیے پانچ نکاتی ایس او پیز جاری کئے ہیں

    اے ٹی سی کے جج کو ہراساں کرنے کے معاملہ پر جسٹس شاہد کریم نے 4 صفحات کا تحریری عبوری حکم جاری کیا ہے حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اے ٹی سی کے ججز اپنے موبائل میں ہر کال کو ریکارڈ کریں۔پنجاب کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں 9 مئی کے تمام کیسز کا ترجیحی بنیادوں پر فیصلہ کریں۔وزیراعظم آفس آئی بی اور آئی ایس آئی سمیت تمام سول اور ملٹری ایجنسیوں کو ہدایت جاری کریں کہ وہ مستقبل میں اعلی عدلیہ اور ماتحت عدلیہ کے کسی بھی جج یا ان کے عملے کو اپروچ نہ کریں۔ آئی جی پنجاب بھی ماتحت افسروں کو عدلیہ میں مداخلت سے روکنے کی ہدایات جاری کریں،اے ٹی سی عدالتوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے اگر کوئی حفاظتی اقدامات کرنے ہیں تو متعلقہ جج سے مشاورت اور اتفاق رائے کے بغیر نہیں کیے جائیں گے۔

    جسٹس شاہد کریم نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری عبوری حکم نامہ میں کہا کہ اے ٹی سی جج سرگودھا کے معاملہ پر عدالتی عملہ تفتیش میں مکمل تعاون کرے۔عدالتی عملہ سے تفتیش کی وڈیو ریکارڈ کرکے ہائیکورٹ کو فراہم کرے۔ عدالت نےعمل درآمد رپورٹ 8 جولائی تک جمع کروانے کا حکم دے دیا،

    سرگودھا جج کے ساتھ ناخوشگوار واقعہ،کیس کی سماعت ملتوی

    احمد فرہاد کی بازیابی کیس، گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    وفاقی حکومت نے شاعر اور صحافی احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    عدالت کا احمد فرہاد کے طبی معائنے کا حکم

  • سرگودھا جج کے ساتھ ناخوشگوار واقعہ،کیس کی سماعت ملتوی

    سرگودھا جج کے ساتھ ناخوشگوار واقعہ،کیس کی سماعت ملتوی

    سرگودھا اے ٹی سی جج کے ساتھ ناخوش گوار واقعہ پر از خود نوٹس کیس پر سماعت ہوئی
    عدالت نے درخواست پر سماعت جولائی کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی ،عدالت نے حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے اعلی حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائیں،ذمہ دار سینئر پولیس افسر اے ٹی سی جج سرگودھا سے رابطہ کرسکتا ہے، اے ٹی سی ججز ایسے واقعات کی ریکارڈنگ کو یقینی بنائیں،

    عدالت نے سوموٹو نوٹس کیس کو آئینی درخواست میں تبدیل کر دیا ،عدالت نے کیس کی معاونت کے کیے وکلا کو پراسیکیوٹر مقرر کر دیا،عدالت نے پرنسپل سیکرٹری کے ذریعے وزیر اعظم کو ہدایات جاری کر دیں کہ وہ سیکورٹی اداروں کے لیے گائیڈ لائن تعین کریں ،عدالت نے آئی جی پنجاب پولیس کو پابند کر دیا کہ عدالتوں میں اس طرح کا واقعہ ہوا تو پولیس ذمہ دار ہوگی ،عدالت نے پولیس افسران کو توہیں عدالت کے شوکاز نوٹس کے جوابات داخل کرانے کیلئے مہلت دے دی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصر احمد نے وفاقی حکومت کی طرف سے جواب کے لیے مہلت مانگی ،وکیل وفاقی حکومت نے کہا کہ وفاقی حکومت پولیس اور دیگر اداروں سے تعاون کے کیے تیار ہے،آر پی او سرگودہا ۔ڈی پی او سرگودہا ۔ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ۔ایس ایچ او اور دیگر نے توہیں عدالت کے شوکاز کے جوابات داخل نہ کرائے ،عدالت میں پولیس افسران اور ملازمیں نے شوکاز نوٹس کے جواب داخل کرانے کےلئے مہلت کی استدعا کی،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سوموٹو نوٹس کیس پر سماعت کی

    احمد فرہاد کی بازیابی کیس، گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری

    وفاقی حکومت نے شاعر اور صحافی احمد فرہاد کی گرفتاری ظاہر کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ،اٹارنی جنرل کی احمد فرہاد کی بازیابی کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی

    عدالت کا احمد فرہاد کے طبی معائنے کا حکم

  • یقین ہے عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا جلد اختتام ہو گا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    یقین ہے عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا جلد اختتام ہو گا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد نے کہا کہ ہم نے فیصلہ قانون اور آئین کےمطابق کرناہوتاہے،جلد انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے ،

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اکثریت ان لوگوں کی ہے جو کمزور ہیں، کمزور طبقے کااہم مسئلہ عدالتوں سے بروقت فیصلہ نہ ہونا ہوتا ہے،کئی مقدمات ایسے ہیں جو 30،30 سال سے زیرالتوا ہوتے ہیں،وکیل بھائیوں کیساتھ پرانا تعلق ہے،جوڈیشری کے افسران کا محفل میں آنے پر شکرگزار ہوں، اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے ہوجاتے ہیں،پہلے بھی کہا عدالتی نظام کمزور کیلئے بنایا گیا ہے،سب سے پہلے ہم نے مسائل کی نشاندہی کرنی ہے،حلف اٹھایا تو سب سے گزارش کی سرجوڑ کر بیٹھیں،کئی مقدمات میں فیصلے ہونے تک 2نسلیں گزر جاتی ہیں،آج کادن پنجاب کے عوام اور ضلعی عدلیہ کیلئے تاریخی ہے،آج سے ای کورٹس سے شہادت قلمبند کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے، فیصلے سے لوگوں کو جلد اور سستاانصاف مہیا کرنے میں مدد ملے گی،کسی بلیک میلنگ میں آئے بغیر فرائض انجام دیں گے،

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ ملک شہزاد احمد کا مزید کہنا تھا کہ عدلیہ میں مداخلت مولوی تمیز الدین کیس سے شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے، عدلیہ میں مداخلت کاسلسلہ جلد ختم ہوگا، عدلیہ بغیر کسی ڈر اور خوف کے فرائض انجام دے رہی ہے، کسی بلیک میلنگ کاشکار نہیں ہونا،کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا،عدلیہ مداخلت سے نجات کےلیے جدوجہد کررہی ہے،فل کورٹ میٹنگ میں فیصلہ کیا کہ ہڑتال کلچر برداشت ہوگا،ہڑتال کی کال ہو یا نہیں کام قانون کے مطابق کریں ،پنجاب کے تمام وکلاء نے ہڑتال اور تالا بندی کے کلچر کو دفن کر دیا پنجاب میں 2 لاکھ سے زائد کیسز دائر ہوئے ، پنجاب میں فیصلہ 3 لاکھ سے زائد کیسز کا فیصلہ ہوا،وکلاء کا یہ کام نہیں کہ عدالت کو تالا لگائیں،کچھ سیاسی عناصرسے درخواست ہے آپ وکالت چھوڑ دیں،ہمیں دیں،ہم آپ کو بھرتیاں کریں گے شام کو تالا لگا لیجیے گا، جج صاحب ( انسدادِ دہشتگردی عدالت سرگودھا) سے فون پر بات ہوئی، انہوں نے کہا تمام اقدامات کے باوجود کسی بھی قسم کی قربانی کیلئے تیار ہوں، لیکن کسی سے ناانصافی نہیں کروں گا۔عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت ہے جس سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یقین ہے عدلیہ میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا جلد اختتام ہو گا،

    لاہور ہائیکورٹ نے طلبا کو الیکٹرک بائیکس تقسیم کرنے سے روک دیا

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں،چیف جسٹس

    اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان سپریم کورٹ میں پیش ہوئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پریس کانفرنس سنی ہے؟ کیا پریس کانفرنس توہین آمیز ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو میں نے سنی ہے اس میں الفاظ میوٹ تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف اس سے زیادہ گفتگو ہوئی ہے لیکن نظرانداز کیا، نظرانداز کرنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سوچا کہ ہم بھی تقریر کر لیں،برا کیا ہے تو نام لیکر مجھے کہیں ادارے کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دینگے، ادارے عوام کے ہوتے ہیں، اداروں کو بدنام کرنا ملک کی خدمت نہیں، اداروں میں فالٹس ہوسکتے ہیں۔میں کسی اور کا وزن برداشت نہیں کرسکتا۔اگر میں نے کوئی غلط کام کیا ہے تو بتائیں تنقید کریں۔ہر روز ہم اچھا کام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پر عمل کررہے ہیں۔ معاشرے میں سب سے زیادہ کمزور وہ ہے جو بندوق اٹھاتا ہے۔ اور اس سے زیادہ کمزور وہ ہے جو گالیاں دیتا ہے۔جس کے پاس دلائل ہونگے وہ ہم ججز کو بھی چپ کرادے گا۔میں نے اپنے ذات کے لئے نہیں بلکہ ادارے کے لئے حلف لیا ہے،مہذب معاشرے میں توھین عدالت کے قانون کا استعمال نہیں ہوتا کیونکہ وہاں کوئی نہیں ایسے بولتا ،کیا چیخ پکار کرکے آپ ادارے کو سرو کررہے ہیں،تنقید کی ایک حد ہونی چاھئے۔

    مانتے ہیں کہ آپ نے تقریر کرنا ہے تو پارلیمنٹ میں کریں نا، پریس کلب کیوں؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بعد ایک اور صاحب آگئے جن کا نام مصطفی کمال ہے انہوں نے بھٹو کا ذکر کیا۔بھائی اگرہم نے غلط کیا ہے تو بتائیں۔ بھٹو کے بارے میں آپ نے کیا کیا ہے، صرف ایک کام کرنا ہے کہ ادارے کو بدنام کرنا ہے۔ آپ نے بڑی جدوجہد کردی ، تقریر کرکے،لیکن بہتری کے لئے کوئی بھی تحریری طور پر نہیں جاتا۔مانتے ہیں کہ آپ نے تقریر کرنا ہے تو پارلیمنٹ میں کریں نا۔ پریس کلب کیوں؟کیا کسی صحافی نے ان سے سوال کیا کہ یہاں کیوں بول رے ہیں؟ بس ان کو کیپٹو آڈیئنس چاھئے۔ فیصل واووڈا کے بعد مصطفٰی کمال بھی سامنے آ گئے، دونوں ہی افراد پارلیمنٹ کے ارکان ہیں ایوان میں بولتے، ایسی گفتگو کرنے کیلئے پریس کلب کا ہی انتخاب کیوں کیا؟پارلیمان میں بھی ججز کے کنڈکٹ پر بات نہیں کی جا سکتی،

    فیصل واوڈا، مصطفیٰ کمال دونوں کو بلا لیتے ہیں ہمارے منہ پر تنقید کریں، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کی تفصیلات طلب کرلیں،ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شفافیت لانے کیلئے اپنے اختیارات کم کیے، سیکرٹری فنانس سپریم کورٹ بار نے بھی توہین عدالت کی کارروائی کی حمایت کر دی ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ماضی کے ججز کے کام ہمارے کھاتے میں نہ ڈالے جائیں،دونوں کو بلا لیتے ہیں تنقید ہمارے منہ پر کر دیں،سینیٹر فیصل واوڈا نے 15 اور مصطفیٰ کمال نے 16 مئی کو پریس کانفرنس کی، پریس کانفرنس میں فیصل واوڈا نے عدلیہ پر سنگین الزامات لگائے اور زیرالتواء مقدمات پر رائے دی، فیصل واوڈا اور مصطفی کمال کو نوٹس جاری کرتے ہیں، دونوں کو بلا لیتے ہیں، ہمارے منہ پر آکر تنقید کر لیں

    سپریم کورٹ نے آج کی کاررواٸی کا حکمنامہ لکھوانا شروع کردیا،سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفی کمال کو طلب کر لیا،سپریم کورٹ نے مصطفی کمال اور فیصل واوڈا سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ،دونوں رہنماوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا،کیس کی سماعت 5 جون تک ملتوی کردی گئی

    گزشتہ روز سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں ،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • پاکستان کی کوئی پگڑی اُچھالے گا ہم اس پگڑی کا فٹ بال بنائیں گے،فیصل واوڈا

    پاکستان کی کوئی پگڑی اُچھالے گا ہم اس پگڑی کا فٹ بال بنائیں گے،فیصل واوڈا

    سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار بار انٹیلی جنس اداروں کا نام لیا جارہا ہے،شواہد دیں ہم آپکے ساتھ کھڑے ہیں،
    اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں ،

    بہت مذاق ہوگیا ، ججز اپنے الزامات کا ثبوت دیں، نہیں تو لیں گے ،فیصل واوڈا
    فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ نسلہ ٹاور گرایا گیا لوگ سڑکوں پر آگئے کوئی شنوائی نہیں ہوئی،آصف زرداری کو 14 سال قید ہوئی وہ کس قانون کے تحت ہوئی ، قانون میں کہاں لکھا ہے کہ فوج سرحدوں پر جانیں دے اور انکا تمسخر اڑیا جائے، نواز شریف کو پیسے نہ لینے پر نااہل کیا گیا کوئی پوچھنے والا نہیں، 46 سال بعد آپ بتا رہے ہیں کہ بھٹو صاحب کا عدالتی قتل ہوا ، آپ کیلئے حلال ہمارے لیے حرام کیوں ہے، قوم چاہتی ہے کہ اتنے بڑے آئینی اور قانونی عہدوں پر بیٹھے ہیں تو کلیئر کریں ، بہت مذاق ہوگیا ، ججز اپنے الزامات کا ثبوت دیں، نہیں تو لیں گے ،اگر یہ فوج نہیں ہو گی تو پاکستان بھی نہیں بچے گا،اگر اداروں کی کہیں مداخلت ہے تو ثبوت دیں ہم ساتھ کھڑے ہوں گے, اب پاکستان کی کوئی پگڑی اُچھالے گا ہم اس پگڑی کا فٹ بال بنائیں گے،پیار دو گے پیار ملے گا،ہمارے اداروں کو نشانہ بنانا بندکریں،پردوں کے پیچھے بیٹھ کر بات نہ کریں کھل کر آگے آئیں، 2میڈیا ہاوسز کو بتانا چاہتا ہوں وہ دن چلے گئے، جب آپ آئین و قانون کے ٹھیکداروں کو ملا کر سیاستدان کو اُٹھاتے اور بٹھاتے تھے،کوئی پیار دے گا تو پیار دیں گے بدمعاشی کرے گا تو ڈبل بدمعاشی کریں گے، کسی کی پرائیویسی میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں،آپ پر بات آئی تو ایکشن لیا، کسی اور پر بات ہو تو چپ ہو جاتے ہیں،کوئی میری پگڑی اچھالے گا تو میں اس کی پگڑی کا فٹبال بنا دوں گا،میں بتاوں گا اُٹھانا اور بٹھانا کسے کہتے ہیں، کوئی یہاں پگڑیاں نہیں اچھال سکتا،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • ججز مداخلت از خود نوٹس، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے،چیف جسٹس

    ججز مداخلت از خود نوٹس، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں ججز اذ خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 6 رکنی بینچ نے سماعت کی

    اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا،اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہاکہ مجھے گزشتہ آرڈر کی کاپی ابھی نہیں ملی،مجھے اس کیس میں وزیراعظم سے بھی بات کرنی تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آرڈر پر تین دستخط ابھی بھی نہیں ہوئے۔کمرہ عدالت میں ججزکو آرڈرکاپی دستخط کرنے کیلئے دے دی گئی،جسٹس منصور علی شاہ نے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو کتنا وقت چاہئے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہاکہ مجھے کل تک کا وقت دے دیں ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آج کون دلائل دینا چاہے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ ہم 45منٹ میں دلائل مکمل کر لیں گے،

    اعتزاز احسن کی جانب سے خواجہ احمد حسین سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،لاہور ہائیکورٹ بار، بلوچستان ہائیکورٹ بار اور بلوچستان بار کے وکیل حامد خان پیش ہوئے،وکیل حامد خان نے دلائل کیلئے ایک گھنٹہ مانگ لیا،سپریم کورٹ بار کے صدر اور ایڈیشنل سیکرٹری شہباز کھوسہ کے درمیان روسٹرم پر اختلاف ہو گیا،سپریم کورٹ بار کے صدر شہزاد شوکت نے دلائل کیلئے آدھا گھنٹہ مانگ لیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ہم پہلے وکلا تنظیموں کو سنیں گے، ایڈیشنل سیکرٹری شہبازکھوسہ نے کہاکہ ذاتی حیثیت میں الگ درخواست دائرکی ہے ،ایگزیکٹو کمیٹی کی کل رات میٹنگ ہوئی ہے ،صدر شہزادشوکت نے کہایہ معلوم نہیں کیوں اپنی تشہیر چاہتے ہیں،ایڈیشنل سیکرٹری شہباز کھوسہ نے کہاکہ میں کوئی تشہیر نہیں چاہتا،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تعجب ہو رہا ہے کہ اتنے وکیل ہیں لیکن ایک پیج پر نہیں آسکتے، تعجب ہے کہ وکیل عدلیہ کی آزادی کے لیے بھی ایک پیج پر نہیں آ سکتے، پاکستان بار کونسل سے شروع کرتے ہیں، ہر شخص کہہ رہاہے کہ اپنی بات کرنی ہے,جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نے یہ تجویز نہیں کیا کہ انفرادی طور پر یہ کریں، میں یہ تجویز کر رہا تھا کہ ایک باڈی کی میٹنگ کر لیتے، جمہوری ادارے پارلیمنٹ میں اپوزیشن اہم حصہ ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل کو گزشتہ سماعت کا حکمنامہ پڑھنے کی ہدایت کی،اٹارنی جنرل کو جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ بھی پڑھنے کی ہدایت کی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ ایک جج کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے وہ پڑھیں،اٹارنی جنرل کو پڑھنے پردشوارپرجسٹس اطہر من اللہ نے خود اپنا نوٹ پڑھ دیا،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ نوٹ میں لکھا ہے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ مطمئن کرے مداخلت نہیں،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہایہ بات اصل آرڈر کے پیراگراف 5میں بھی ہے،جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ اس پیرا گراف میں صرف تجاویز مانگنے کی بات تھی۔

    ہم نے 76 سال جھوٹ بولا، سچ کو چھپایا، لوگوں کو سچ پتہ چلنا چاہیے،جسٹس اطہرمن اللہ
    دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی جج کچھ نہیں کر سکتا تو گھر بیٹھ جائے، ایسے ججز کو جج نہیں ہونا چاہیے جو مداخلت دیکھ کر کچھ نہیں کرتے، صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ سپریم کورٹ کی لائیو سماعت روکی جائے، یہاں جو ہوا اس سے اچھا پیغام نہیں گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہم نے 76 سال جھوٹ بولا، سچ کو چھپایا، لوگوں کو سچ پتہ چلنا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پلیز پروسیڈ،

    پاکستان بار کونسل کے وکیل ریاضت علی نے دلائل کا آغاز کر دیا ، وکیل نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز کے معاملے پر جوڈیشل تحقیقات کرانا چاہتی ہے، ایک یا ایک سے زیادہ ججوں پر مشتمل جوڈیشل کمیشن بنا کر قصورواروں کو سزا دی جائے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ 2018/19 میں ہائی کورٹس کا سب سے بڑا چیلنج سپریم کورٹ کا مسائل پر خاموشی اختیار کرنا تھا،لگتا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے جو سفارشات مرتب کی ہیں وہ ہائیکورٹس کے جواب کی روشنی میں نہیں کیں، پاکستان بار کونسل یہ توقع کرتی ہے کہ ضلعی عدالت کا جج وہ کام کر لے جو سپریم کورٹ کا جج بھی نہیں کر سکتا؟ حقیقت بہت مختلف ہے، وکیل شہزاد شوکت وائس چیئرمین سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ جب آپ براہ راست نشریات میں کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ مداخلت پر خاموش رہی تو اس سے عوام میں اچھا پیغام نہیں جاتا،سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن مداخلت پر سزاؤں کا قانون لانے کی سفارش کرتی ہے،اس معاملے سے عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو دھچکا پہنچا ہے،

    سب سے بدترین توہینِ عدالت 3 نومبر کی تھی، لیکن کاروائی نہیں ہوئی،جسٹس اطہرمن اللہ
    احسن بھون نے کہا کہ جج کے پاس توہین عدالت سمیت دیگر آپشنز موجود ہیں کاروائی کر سکتے ہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں جو کام سپریم کورٹ نہیں کر سکتی وہ ڈسٹرکٹ جج کرے ۔ سب سے بدترین توہینِ عدالت 3 نومبر (جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی) کی تھی جس پر عوامی طاقت پر بحال ہونے والی سپریم کورٹ کے 7 رکنی بنچ نے بحالی کے بعد کوئی توہینِ عدالت کی کارروائی شروع نہیں کی اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ہائیکورٹ اور ماتحت عدلیہ کے ججز توہینِ عدالت کی کارروائی کریں،ہائیکورٹس کے ججز نے جو کہا ہے اسکو دیکھیں وہ ججز ہیں وہ غلط نہیں کہہ سکتے۔

    سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ وفاقی حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے، ہائیکورٹ کے ججز نے نشاندہی کی کہ مداخلت کا سلسلہ ابتک جاری ہے اور سب مان رہے ہیں کہ مداخلت ہورہی ہے، ساری ہائیکورٹس نے اپنی رپورٹس میں سیاسی مقدمات پر سنگین باتوں کو اجاگر کیا ہے اور ایک ہائیکورٹ نے تو یہ کہا کہ یہ آئین کو سبوتاژ کیا گیا ہے،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا مداخلت تو ہورہی ہے لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی، ہم سب کو ماننا چاہیے انڈر ٹیکنگ دیں کہ وکلا کی مداخلت بھی روکی جائے گی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ تحقیقات ہو یا نہ ہو؟ مجھے بار بار کہنا پڑ رہا ہے کہ آگے بڑھتے ہیں کیونکہ دیگر افراد بھی ہیں، میں سپریم جوڈیشل کونسل کا چیئرمین ہوں لیکن میں بطور خود سپریم جوڈیشل کونسل نہیں بلکہ سپریم جوڈیشل کونسل میں دیگر ممبران بھی ہیں۔

    پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ جس کا جو دل میں آئے بول دو، چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک کمشنر نے جھوٹ بولا، سارے میڈیا نے چلایا، کسی نے نہیں پوچھا اس کا کوئی ثبوت ہے، دوسرے ممالک میں ایسا الزام لگے تو ہتک عزت کیس میں ان کی جیبیں خالی ہوجاتی ہیں، آزاد عدلیہ ہمارا فرض ہے ، حلف اٹھایا ہے، سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں کا قبضہ ہے۔میں نے جج بنتے وقت حلف لیا ہوا ہے، یہ میرا فرض ہے، ہمیں تنخواہ اسی چیز کی ملتی ہے، اس میں دو رائے نہیں کہ میں آزاد بیٹھنا چاہوں یا نہیں، پریشرمیں آنا چاہوں یا نہیں، یقیناً آپ بھی اپنے دلائل یا ڈانٹ ڈپٹ کر مجھ پر پریشر ڈالیں گے، پریشر بہت سارے ہو سکتے ہیں،پاکستان میں آزادی اظہار رائے کا یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ جس کا جو دل میں آئے بول دو،

    عدلیہ میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے، سپریم کورٹ بار
    دوران سماعت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی عدالت میں اپنی تجاویز جمع کرائیں جس میں سپریم کورٹ بار کا کہنا تھا کہ بارعدلیہ کی آزادی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی اور عدلیہ میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کو کسی بھی قسم کی مداخلت پر توہین عدالت کی کارروائی کرنی چاہیے تھی، ہائیکورٹ کی جانب سے توہین عدالت کی کارروائی نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    توہین عدالت اور مداخلت سے زیادہ برا عمل قتل،، قتل کرنا کب سے منع ، کیا وہ رک گیا ہے؟ چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ توہین عدالت اور مداخلت سے زیادہ برا عمل قتل ہوتا ہے، قتل کرنا کب سے منع ہے، کیا وہ رک گیا ہے؟ معاشرے ہوتے ہیں، لوگ ہوتے ہیں، یہ چیزیں چلتی رہتی ہیں، آج حکم دیں کہ قتل ہونا بند کر دیا جائے، یہ رکے گا تو نہیں چلتا رہے گا، بات یہ کہ ہم اسے کیسے ڈیل کرتے ہیں، سزا و جزا کا عمل ہے جو چلتا رہے گا، ایک ڈیٹرنس تو یہ ہو سکتا ہے کہ سزائے موت دیکھ کر دوسرے کہیں قتل نہیں کرنا چاہیے، دوسرا یہ کہ کچھ نہ ہو، سزا نہ ہو تو وہ کہیں گے کہ ہم بھی کر لیتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس بات پر تو سب متفق ہیں کہ عدلیہ میں مداخلت ہو رہی ہے، حکومت اس مداخلت کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہی، سوال یہ ہے کہ اس مداخلت کو ختم کیسے کیا جائے؟ مداخلت کا معاملہ اب 6 ججز کے خط سے آگے بڑھ چکا ہے،پاکستان بار کے وکیل نے کہا کہ حکومت کچھ نہیں کر رہی، عدلیہ کو خود ایکشن لینا ہو گا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ عوام کو سچ جاننے کا پورا حق ہے، عوام کو سب جواب دہ ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وائس چیئرمین صاحب! ہم آپ سے بحث میں نہیں پڑنا چاہتے، آپ کو سننا چاہتے ہیں، سب لوگوں نے لمبا وقت لیا، کب تک مکمل کریں گے؟پاکستان بار کے وکیل نے کہا کہ ججوں کی حوصلہ افزائی کرنا چاہیے کہ ان کے پاس جو قانون موجود ہے اسے استعمال کریں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ 3 چیزیں کہہ رہے ہیں، ایک تو تحقیق ہو، دوسرا فوجداری قوانین کو جج استعمال کریں، تیسرا یہ کہ توہینِ عدالت کی کارروائی ہو۔

    ججز کو تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے چاہے جتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پاکستان بار کو یہ بھی تجویز دینا چاہیے تھی کہ وکلاء کی جانب سے مداخلت کو کیسے روکیں؟جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ملک کے وکلاء کی نمائندگی کر رہے ہیں، ججز کو تنقید سے ڈرنا نہیں چاہیے چاہے جتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، چیف جسٹس کافی مشکل وقت سے بھی گزرے، 2018 سے آج تک میری دیانتداری پر سوال اٹھا، لیکن کچھ فرق پڑا؟ ججز کو تنقید سے فرق نہیں پڑنا چاہیے، عوام کا ججز پر اعتماد ہونا چاہیے، ملک میں جوڈیشل تاریخ میں سب سے بڑی توہینِ عدالت کیا تھی؟

    خطرناک بات جج کے بیڈروم سے کیمرا نکلے، کسی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے،احسن بھون
    احسن بھون نے کہا کہ لاہور اور پشاور ہائی کورٹ سے جو ردِ عمل آیا ہم نے وہ عدلیہ پر چھوڑا ہے، کوئی دوسری رائے نہیں کہ ڈیٹرنس ہونا چاہیے، انتہائی خطرناک بات ہے کہ جج کے بیڈروم سے کیمرا نکلے، کسی شخص کی نجی زندگی میں مداخلت نہیں ہونا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان سے کہا کہ یہ کیسے روکا جا سکتا ہے؟ کیا ایسے واقعات کی تفتیش ہو یا نہ ہو؟.جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ میں نے جو بذات خود ٹھیک سمجھا وہی کہا ہے، میری رائے ہے کہ دنیا بھر میں سماعتوں میں مداخلت ہوتی ہے، 3 نومبر کو سپریم کورٹ کے 8 ممبر بینچ نے عدلیہ بحال کی، کیسے ہائی کورٹ یا ڈسٹرکٹ کورٹ کے ججز توہینِ عدالت کی کارروائی کر سکتے ہیں؟ ابھی تک معاملہ زیرِ التواء ہے، آپ توہینِ عدالت کی درخواست لائیں، اب تو سب ریٹائرڈ ہو چکے، یہی تو المیہ ہے،احسن بھون نے کہا کہ اسی لیے کہا ہے کہ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

    تنقید اور جھوٹ میں بہت فرق ہوتا ہے، چیف جسٹس
    ریاضت علی خان نے کہا کہ عدلیہ کو آزاد کرنے کے لیے ایگزیکٹیو کی ایک فورس عدلیہ کے ماتحت ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا ایگزیکٹیو اب عدلیہ کے ماتحت نہیں ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آگے بڑھیں، کیونکہ ایسے باتیں ختم نہیں ہوں گی، بیوروکریٹ کے پاس تو کوئی توہینِ عدالت کا اختیار نہیں، عدالت کے پاس تو توہینِ عدالت کا اختیار ہوتا ہے، تنقید اور جھوٹ میں بہت فرق ہوتا ہے، ایک کمشنر نے جھوٹ بولا، میڈیا نے جھوٹ چلایا، دنیا میں ایسا نہیں ہوتا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ان سے پوچھا کہ آپ توقع کرتے ہیں کہ ماتحت عدلیہ کا جج وہ کام کرے جو سپریم کورٹ کے جج نہیں کر سکتے؟ 6 ججز نے ایک ایشو اٹھایا، جس کی ساری ہائی کورٹس نے توثیق کی، ساری ہائی کورٹس نے کہا کہ ہمارے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے، اگر کوئی نشاندہی کرے گا تو اس کے ساتھ ایسا ہو گا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسی ڈیٹرنس ہونی چاہیے کہ جو ایسا کرے اس کو بھگتنا پڑے، میرے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے،صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر کہا گیا کہ جج کمپرومائز ہیں،چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سماعت سے کیا عدلیہ کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، ایسا نہ کہیں کہ سب برابر ہے، ہر معاشرے میں اچھے اور برے لوگ ہوتے ہیں، کہیں کہ کچھ اچھے نکلے اور کچھ برے نکلے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پچھلے 50 سال میں کیا ہوا، میں آپ سے ہمدردی کر سکتا ہوں، بدل نہیں سکتا،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ بتائیں کہ ایسی صورتِ حال میں کیا کیا جائے جس پر ہائی کورٹس بھی روشنی ڈال رہی ہیں؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ اگر یہ پیغام جائے گا کہ آپ ججز ملے ہوئے ہیں تو کیا پیغام جائے گا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ دلائل دیں ورنہ ہم آپس میں لگے رہیں گے، لائٹر نوٹ پر بتاؤں مجھے کسی نے کہا تھا کہ جج کو سنیں اور وکیل کو بولنے دیں،جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ کیسے یقین دہانی کی جائے کہ مداخلت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا؟صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ سچ کہیں اور اسے نظر آنا چاہیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوری مجھے یہاں مداخلت کرنا پڑے گی،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ آپ یہ کہہ کر قبول کر رہے ہیں کہ آپ ملے ہوئے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تو پھر آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ آپ کو یہاں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں، سوری میں بہت بلنٹ بات کر رہا ہوں کہ آپ یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ کو نہیں بیٹھنا چاہیے، ہائی کورٹ کے ججوں کا خط باہمی خفیہ ادارہ جاتی خط و کتابت تھی جو میڈیا میں آئی،صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا کہ ججز کا خط لیک ہونے کی انکوائری ہونی چاہیے، خط کوئی شکایت نہیں ہے اور یہ عوام کے لیے خط و کتابت نہیں تھی، جسٹس بابر ستار نے یہ کہا ہے جو کہ خط پر دستخط کنندہ ہیں

    جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں کوئی گولی تو نہیں ملتی کہ جس سےمضبوط جج بنا جاسکے، سسٹم بنانا ہوگا،کمپرومائزڈ جج کو ایک منٹ میں سسٹم سے باہر نکال دینا چاہیے، اگر کوئی جج کھڑا ہو تو اُس کیساتھ کھڑے ہوجائیں،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • عدلیہ میں مداخلت ، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    عدلیہ میں مداخلت ، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    عدلیہ میں مداخلت کا کیس، کراچی بار نے تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں

    کراچی بار کی جانب سے تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ججز کو پابند بنایا جائے کہ مداخلت کی ہر کوشش س 7 دن میں مجاز اتھارٹی کو آگاہ کریں، مجاز اتھارٹی کو بھی پابند کیا جائے کہ رپورٹ کرنے والے ججز کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، عدم تحفظ کے باعث بہت سے ججز ایسے واقعات سے مجاز حکام کو آگاہ ہی نہیں کرتے،مداخلت کی کوشش ریاستی اداروں سے ہو، خود عدلیہ سے یا نجی سیکٹر سے، ہر صورت آگاہ کیا جائے،عدلیہ اور حکومت کے درمیان آگ کی دیوار ہمیشہ قائم رہنی چاہیے،قریبی رشتہ داروں کے علاوہ ججز کو سرکاری حکام اور انٹیلی جنس نمائندوں کیساتھ ملنے سے اجتناب کرنا چاہیے، اگر سرکاری کام کیلئے حساس اداروں کے افسران سے ملنا ضروری ہو تو مجاز حکام کو آگاہ کیا جائے، مداخلت سے آگاہ کرنے کو جج کا مس کنڈکٹ قرار دیا جائے،مداخلت کے حوالے سے غلط بیانی کرنے والے ججز کی خلاف کارروائی کی جائے، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس مداخلت رپورٹ کرنے کیلئے خصوصی سیل قائم کریں، ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کے صوابدیدی اختیارات کا بھی جائزہ لیا جائے، بنچز کی تشکیل اور مقدمات مقرر کرنے کا اختیار صرف چیف جسٹس کے پاس ہونا درست نہیں، ہائی کورٹس میں بنچز کی تشکیل اور مقدمات مقرر کرنے کا فیصلہ ججز کی تین رکنی کمیٹی کرے،سپریم کورٹ چھ ججز کے خط کی آزادانہ انکوائری کرائے، عدالت ذمہ داران کا تعین کرکے سخت کارروائی کا حکم دے،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ: ججز کے خط پر ازخود نوٹس کی سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    سماعت کے اغاز ہر وکلا کی جانب سے گفتگو پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ برہم ہو گئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کوئی گفتگو کرتا نظر آیا تو اسے کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا جائے گا،میں آپکو 184(3) کے استعمال کے حوالے سے بتانا چاہتا ہوں، کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تمام دستیاب ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دیا جائے ،فل کورٹ بناتے ہوئے انتخاب نہیں کیا گیا، جسٹس یحییٰ آفریدی کو صرف بینچ سے علیحدہ نہیں کیا، جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے علیحدہ ہوتے وقت کچھ آبزرویشنز بھی دی ہیں ،دو ججز کے عدم دستیابی کے باعث فل کورٹ تشکیل نہیں ہوسکتی،سابقہ چیف پر اعتراضات کئے گئے تو وہ کمیشن سے علیحدہ ہوگئے،ہر کوئی اپنی خواہش عدلیہ ہر مسلط کرنا چاہتا ہے، یہ بھی دباؤ کی ایک قسم ہے، میں سپریم کورٹ کی تاریخ کا ذمہ دار نہیں، جب سے چیف جسٹس بنا ہو ں تب سے ذمہ داری ہے، عدالتی مداخلت اندر، باہر ، انٹیلیجنس ایجنسیز سمیت سوشل میڈیا اور فیملی سے بھی ہوسکتی ہے،میں اس عدالت کی تاریخ کا ذمہ دار نہیں ہوں، اپنے دور کا ذمہ دار ہوں،پارلیمان نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ بنایا کیوں کہ ہم ناکام ہوئے، ہم عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کریں گے جیسے بھی ہو، ماضی کی غلطیاں سامنے آنے پر ہم نے اپنی تصحیح کی،تبدیلی راتوں رات نہیں آتی ،ہمیں اپنی مرضی کے راستے پر چلانے کیلئے مت دباؤ دیں ، عدلیہ کو اپنی مرضی کے راستے پر دھکیلنا بھی مداخلت ہے، بہت سے لوگ مقدمہ میں فریق بننا چاہتے، مثبت بات کو بغیر فریق بنائے بھی سنیں گے، کیا تجاویز اٹارنی جنرل آپکے پاس ہیں،ہائیکورٹ کی تجاویز سے شروع کرتے ہیں، آپ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی سفارشات دیکھی ہیں؟اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ ہ میں نے ہائیکورٹ کی سفارشات ابھی نہیں دیکھیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیا کہ اب اس معاملے کو کیسے آگے چلائیں؟

    صرف تجاویز نہیں ،چارج شیٹ ہے،ہائیکورٹ جج کا پرسنل ڈیٹا سوشل میڈیا پر ڈالا گیا ،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف تجاویز نہیں ،چارج شیٹ ہے، ریاست کا ججز کے خلاف ہونا ہائیکورٹ خط میں بتایا گیا ہے،ہائیکورٹ جج کا پرسنل ڈیٹا سوشل میڈیا پر ڈالا گیا ،اندرونی مسائل کا ہم نے حل تلاش کرنا ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس کیس میں ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ معاملے کو حل کریں،ہمیں مداخلت کے سامنے ایک فائر وال کھڑا کرنی ہو گی، ہمیں بیٹھ کر اس مسئلے کو حل کرنا ہو گا، ہمیں طے کرنا ہو گا کہ اگر کوئی مداخلت کرتا ہے تو اس کے خلاف کیسے ایکشن لینا چاہئے،

    ہائیکورٹ کے کام میں مداخلت نہیں کرنی، ماضی میں مداخلت کے نتائج اچھے نہیں نکلے،چیف جسٹس
    بعد ازاں اٹارنی جنرل نے عدالت میں ہائیکورٹ کی سفارشات پڑھ کر سنائی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہائیکورٹ کے کام میں مداخلت نہیں کرنی، ماضی میں ہائیکورٹس کے کام میں مداخلت کے نتائج اچھے نہیں نکلے،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کہہ رہے ہیں کہ مداخلت تسلسل کے ساتھ ہوتی ہے، کیا اسلام آباد ہائیکورٹ کی تجاویز متفقہ ہیں؟اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں بظاہر متفقہ نظر آ رہی ہیں،جسٹس اطہر من اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کیا کہ اس کا مطلب ہے کہ کسی جج نے اختلاف نہیں کیا۔

    آج سنہری موقع ہے عدلیہ پر دباؤ اور مداخلت کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ دو بینچ کے ممبران کو ٹارگٹ کیا گیا،ہم نے نوٹس لیا ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے، فیصلہ ایک نہیں دس دے دیں کیا ہو گا ،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بچے ،فیملی ممبران کا ڈیٹا حکومتی اداروں سے چرایا گیا، ججز کو صرف کہہ دیں تمہارا بچہ فلاں جگہ پڑھتا ہے،میں نے 2018 میں بطور چیف جسٹس 4 سال کام کیا اس دوران مداخلت نہیں ہوئی،ایسا لگتا ہے کہ لوگ مداخلت کی کوشش کرتے ہیں کہیں ان کو فائدہ ہوتا ہے کہیں نہیں ہوتا،ایسا کلچر چل رہا ہے،جسٹس بابر ستار کے ساتھ جو ہوا ہے سامنے ہے،بیوی بچوں تک کا ڈیٹا پبلک ہو جائے تو ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے، 76 سال سے اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشری میں پارٹنرشپ چل رہی ہے، جسٹس بابر ستار کے ساتھ جو ہوا ہے سامنے ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ مہربانی کریں 76 سال میں مجھے شامل نہ کریں، کوئی مداخلت ہوئی ہے تو ظاہر کریں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آج اس ایشو کو حل نہ کیا تو بہت نقصان ہوگا ،اس کمرے میں نہ بیٹھو ادھر بیٹھو ، فون ادھر رکھ دو کس طرح کا کلچر ہے یہ، آج سنہری موقع ہے عدلیہ پر دباؤ اور مداخلت کو ہمیشہ کیلئے ختم کیا جائے،ہائیکورٹ خود کارروائی کر سکتی تھی مگر نہیں کی، سپریم کورٹ اس معاملے پرطریقہ کار واضح کرتی ہے توعدلیہ مضبوط ہوگی۔یہ کس قسم کی ریاست ہے کہ ہر وقت اس چیز کا ڈر لگا رہتا ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے، کوئی ہمیں سن رہا ہے، کوئی ہماری ریکارڈنگ کر رہا ہے، کیمرے ہماری ویڈیو بنا رہے ہیں،کیا ریاست اس طرح چلائی جاتی ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مخصوص نتائج کے حصول کیلئے یہاں مخصوص اقدامات اٹھائے جاتے رہے میں نے پہلے دن کہا تھا کہ کوئی مداخلت نہیں کروں گامیں جب سے چیف جسٹس پاکستان بنا کوئی شکایت نہیں آئی. اگر میرے کام میں مداخلت ہو اور وہ نہ روک سکوں تو میں گھر چلا جاؤں،ہم تو چاہتے ہیں پارلیمنٹ کو مضبوط بنائیں، اگر پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہوگی تو دوسری قوتیں مضبوط ہونگی۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا رہا،وکلا اور سیاست دان عدلیہ میں مداخلت کرتے رہے،چیف جسٹس کےچیمبر میں ملاقاتیں ہوتی تھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرعدلیہ کے اندر سے مداخلت ہے تو عدلیہ کی کمزوری ہے،مداخلت اب بھی جاری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ 2018 میں جو ہمارے خلاف مہم چلائی گئی اس پر کچھ نہیں کہا کیونکہ ہم نے حلف لیا ہے،مکران کا سول جج بھی اتنا ہی طاقت ور ہے جتنا چیف جسٹس پاکستان ہے،میں نے عدلیہ کے آزادی کے لیے اندرونی مداخلت سے جنگ لڑی ہے، عدلیہ کی آزادی کو اندرونی مداخلت سے خطرہ ہے، فیض آباد دھرنا کیس پر عملدرآمد رکوانے کے لیے متعدد پٹیشنرز سامنے آئے، اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا، تحریک انصاف نے بھی کیا، ضیا الحق کے صاحبزادے نے بھی پٹیشن دائر کی اور متعدد پٹیشنر سامنے آئے،5 سال تک نظرثانی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئیں، کیا اس کی کوئی وضاحت دی جاسکتی ہے؟سوشل میڈیا پر جو کچھ ہوا اسی وجہ سے سابق چیف جسٹس نے کمیشن کی سربراہی سے انکار کیا. مداخلت ایجنسیوں کے علاوہ خود عدلیہ کے اندر سے، ججز کی فیملیز سے، ساتھ کام کرنے والوں سے، سوشل میڈیا سے بھی ہوسکتی ہے.اگر ہم مانیٹرنگ جج لگائیں گے تو وہ بھی عدلیہ کی مداخلت ہے، اگر جے آئی ٹی میں انٹیلیجنس ایجنسیز کے بندے شامل کریں گے تو وہ بھی مداخلت ہے.

    چاہے کوئی بھی ریٹائرڈ چیف جسٹس ہو یا موجودہ چیف جسٹس کوئی قانون سے بالاتر نہیں ،جسٹس اطہرمن اللہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سچ سب کو پتا ہے، بولتا کوئی نہیں ہے، جو سچ بولتا ہے اس کے ساتھ بھی وہی ہوتا ہے، جو چھ ججز کیساتھ ہو رہا ہے، انٹیلی جنس ادارے وزیراعظم کے ماتحت ہوتے ہیں،انٹیلی جنس ادارے کچھ کرتے ہیں تو اسکے ذمہ دار وزیراعظم اور انکی کابینہ ہے، آئین دیکھ لیں کچھ بھی آزادانہ نہیں ہوتا، ہمیں اپنی آرمڈ فورسز کا امیج بھی برقرار رکھنا ہے، یہ ہماری ہی مسلح افواج ہے جو ملک کے محافظ ہیں، یہ ہمارے سولجرز ہیں جو ملک کا دفاع کرتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دباو ہر جگہ ہوتا ہے کیا بیوروکریسی میں فونز نہیں آتے ، کوئی مان لیتا ہے اور کوئی کام کر دیتا ہے جو نہیں مانتا اس کو او ایس ڈی کر دیا جاتا ہے۔ وہ اس دباو میں پر تو کچھ کر ہی نہیں سکتا، دباو تو ہر جگہ ہوتا ہے، بیوروکریسی کے پاس تو کوئی اختیار ہی نہیں ہمارے پاس تو اختیارات ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اختیارات کیوں استعمال نہیں کرتا،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دروازے خود کھولے ہیں اس لیے دباو آرہا ہے، یہ دروازے بند ہونے چاہیے بدقسمتی سے ہم نے خود دروازے کھولے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے دروازے کھولے ہیں ان کے خلادف مس کنڈیکٹ کی کارروائی کریں نا، ہر بندہ اتنا تگڑا نہیں ہوتا کہ وہ کھڑا ہو جائے یہ سسٹم مضبوط ہونا چاہیے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ ہمیں سب سے پہلے سپریم کورٹ کا دروازہ بند کرنا ہوگا، اس کے بعد دوسرے لوگوں کو ہمت ملے گی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ اگر کوئی جج کھڑا ہوتا ہے وہ اس کے خلاف ریفرنس دائر ہوجاتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریفرنس کس کے پاس آتا ہے کسی ایجنسی کے پاس تو نہیں آتا نا ، اٹھا کر پھینک دے اس ریفرنس کو باہر پھینک دیں جرمانے عائد کر دیں، ہم نے ایسا کیا ہے؟ جسٹس اطہرمن اللہ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ ہے جسٹس شوکت صدیقی کا آپ نے کیا کیا ہے؟ کس کا احتساب کیا ہے؟ کیا کوئی کارروائی ہوئی ہے؟ صرف فیصلے دینے سے کچھ نہیں ہوگا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ مائی لارڈ اس میں سابق چیف جسٹسز ملوث ہیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی بھی ریٹائرڈ چیف جسٹس ہو یا موجودہ چیف جسٹس کوئی قانون سے بالاتر نہیں ، جب تک کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ ہم سب ہائیکورٹس میں رہ چکے ہیں ہمیں فئیر ہونا چاہیے، ہائیکورٹ کے ججز کی شکایات پر پاورفل جواب نہیں ملتا، احکامات سے انحراف کا کلچر معمول بننے سے ججز کی بولنے میں حوصلہ شکنی ہوتی ہے،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اب آپ جسٹس یحیی آفریدی کا نوٹ پڑھیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ پڑھنے سے پہلے آپ دیکھیں آپ خود مان چکے 2017 میں آپ کیخلاف پولیٹیکل انجینئرنگ تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سیاست کو چھوڑ دیا جائے ، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ یہ سیاست نہیں حقیقت ہے،کبھی بھی سول بالادستی نہیں رہی، جب ریاست خود جارحیت پر اتر آئے کوئی شہری اس سے لڑ نہیں سکتا، ادارہ جاتی رد عمل ہی اس کا حل ہے، ‏ہم سچ بولیں گے، کیونکہ سچ بولنا ہماری ذمہ داری ہے، بدقسمتی سے سچ کیوں نہیں بولتا اور کوئی بول دیتا ہے تو اس کے ساتھ وہ ہوتا ہے جو اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے ساتھ ہورہا ہے اور پورے ملک کی عدالتیں اب اس کی تصدیق کر رہی ہیں،

    کوئی مداخلت برداشت کر جاتا ہے، ختم کرنے کیلئے کچھ نہیں کرتا تو ایسے جج کو اپنی کرسی پر بیٹھنا ہی نہیں چاہیے،جسٹس مسرت ہلالی
    سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی بھجوائی گئی تجاویز پبلک کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہر چیز ہی میڈیا پر چل رہی ہے تو ہم بھی پبلک کر دیتے ہیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شکایات کرنے والوں کو چھوڑیں، ازخود نوٹس لینے پر سپریم کورٹ کیساتھ کیا کچھ ہوا یہ دیکھیں،کیا عدلیہ کی آزادی ایسے ہو سکتی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مداخلت برداشت کر جاتا ہے اور اُسے ختم کرنے کیلئے کچھ نہیں کرتا تو ایسے جج کو اپنی کرسی پر بیٹھنا ہی نہیں چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہائیکورٹس کے ججز نے لکھا ہے، کیوں نہ اس پر تینوں حساس ادارے اپنا جواب تحریری طور پر جمع کرائیں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ان کو چاہئے کہ اس پر ایک بیان حلفی جمع کرائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے خیال میں اس معاملے پر قانون سازی ہونی چاہئے ،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایجنسیوں کو بیانات حلفی دینے دیں کہ ان کی طرف سے مداخلت نہیں ہوتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے گا تو میں تو کہوں گا کہ مداخلت ہوئی لیکن ہمیں مستقبل کا دیکھنا ہے،

    پوری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے ،اگر ہم متحد ہونگے تو مضبوط ہونگے ،چیف جسٹس
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور دیگر بار کونسلز اپنی تحریری معروضات جمع کروا دیں ،ہم اس کیس کو زیادہ لمبا نہیں لے کر جا سکتے،لوگوں کے دیگر کیسز بھی لگے ہوئے ہیں ،ہدف ایک ہے سب کا اس طرف پہنچنا کیسے ہے آپ معاونت کر دیں،پوری قوم ہماری طرف دیکھ رہی ہے اگر ہم متحد ہونگے تو مضبوط ہونگے ، نمائندہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ اداراتی ریسپانس کے دو طریقے ان میں فل کورٹ بھی شامل ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اب کوئی دو ججز نہیں آئے تو کیا کریں انکا ؟ پھر ملتوی کرنا پڑ جاتا کیس،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ججز خط پر از خود نوٹس کیس کی سماعت 7 مئی تک ملتوی کر دیتے ہیں،جن لوگوں نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں سب فریقین کو سننا مشکل ہوجائے گا،تمام فریقین تحریری معروضات دے دیں،فریقین چھ مئی تک جوابات جمع کرا دیں،

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوادیا،حکمنامے میں کہا کہ 5 ہائیکورٹس نے اپنی تجاویز جمع کرائیں،اٹارنی جنرل نے دوران سماعت تجاویز پڑھ کر سنائیں، پاکستان بار کونسل نے اپنی تجاویز بھی جمع کرائیں، مناسب ہو گابار ایسوشی ایشنز اور بار کونسلز متفقہ طور پر کوئی جواب جمع کرائیں، جن نکات پر اتفاق نہ ہوان کو الگ دائر کیا جاسکتا ہے، بتایا گیا ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ بار کا اجلاس نہیں ہوا،بتایا گیا سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن آئندہ سماعت سے قبل تجاویز جمع کرا دے گی، حکومت اور انٹیلیجنس ایجنسیز، اٹارنی جنرل کے ذریعے اپنے اوپر لگے الزامات کا جواب دیں اور اگر کوئی تجاویز ہیں تو وہ بھی دیں.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز نے تجاویز دیں کہ شکایات خفیہ رکھی جائیں،عدلیہ اور حکومتی شاخوں سے بات چیت کرکے طریقہ کار طے کرنے کا سنہری موقع ہے، ججز کو ایجنسیوں یا انکے نمایندگان سے ملاقاتیں نہیں کرنی چاہیے، ججز کو سوشل میڈیا جیسے کہ وٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک سے دور رہنا چاہیے، عدالتی احاطے میں ایجنسیوں کے نمائندگان کا داخلہ بند ہونا چاہیئے،

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔

  • سپریم کورٹ، عدلیہ میں مبینہ مداخلت کیخلاف سوموٹو پر سماعت کیلئے نیا بنچ تشکیل

    سپریم کورٹ، عدلیہ میں مبینہ مداخلت کیخلاف سوموٹو پر سماعت کیلئے نیا بنچ تشکیل

    سپریم کورٹ، عدلیہ میں مبینہ مداخلت کیخلاف سوموٹو پر سماعت کیلئے نیا بنچ تشکیل دے دیا گیا

    چیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی بنچ 30 اپریل کو سماعت کرے گا ،جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ بنچ میں شامل ہیں،جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی چھ رکنی بنچ کا حصہ ہونگے ،نئے میں گزشتہ سماعت کرنے والے جسٹس یحییٰ آفریدی شامل نہیں ہونگے،انہوں ے اپنے تحریری نوٹ میں خود کو بنچ سے الگ کر لیا تھا ،جسٹس یحیnی آفریدی کے علاوہ گزشتہ بنچ کے تمام ارکان نئے بنچ کا بھی حصہ ہونگے

    سیاسی اثرات رکھنے والے کیسز میں مداخلت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر سوموٹو کیس کی پہلی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے،سپریم کورٹ کی جانب سے جاری حکم نامے میں جسٹس اطہر من اللہ کا اختلافی نوٹ بھی سامنے آیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں حکم نامے کے 12 پیرا گراف سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پیراگراف ایک سے 12 تک سے اتفاق کیلئے خود کو قائل نہیں کر سکا، وزیر اعظم کو طلب کیا جا سکتا ہے یا نہیں اس سوال پر فل کورٹ نے ابھی غور کرنا ہے،حکومت کے کمیشن بنانے سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے یا نہیں ابھی طے ہونا ہے، جو سوال عدالت کے سامنے ہیں ان پر ابھی رائے دینا مناسب نہیں، ہائیکورٹ ججز کا خط دکھاتا ہے وہ ہر متعلقہ فورم پر معاملہ اٹھاتے رہے، معاملے کی سنجیدگی کے باوجود ادارے نے رسپانس نہیں دیا، ہائیکورٹ ججز نے وہی کیا جو ہر جج حلف کے مطابق کرنے کا پابند ہے، ہائیکورٹ کے 6 ججز پر شک کی کوئی وجہ موجود نہیں

    اختلافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ کا مزید کہنا تھاکہ ہائیکورٹ ججز نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے، سیاسی اثرات رکھنے والے کیسز میں مداخلت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں عدالت خود یہ مان چکی، مداخلت کس حد تک ہے یہ دکھانے کیلئے اصغر خان کیس کافی ہے

    ججز خط،از خود نوٹس، جسٹس یحییٰ آفریدی بینچ سے الگ،کہا آرٹیکل 184/3ہائی کورٹس کی آزادی پر استعمال نہیں ہونا چاہیے
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ سے جسٹس یحییٰ آفریدی نے خود کو علیحدہ کر لیا،جس کے بعد کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا، اب دوبارہ سماعت ہو گی تونیا بینچ تشکیل دیا جائے گا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے خود کو ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے بینچ سے علیحدہ کرنے کے ساتھ اضافی نوٹ بھی لکھا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ میں کہا کہ ہائی کورٹس آئین کے تحت آزاد عدالتیں ہیں، آرٹیکل 184/3ہائی کورٹس کی آزادی پر استعمال نہیں ہونا چاہیے، از خود نوٹس اچھی نیت سے لیا گیا لیکن از خود نوٹس سے ہائی کورٹس اور ان کے چیف جسٹسز کی آزادی کو نقصان پہنچ سکتا ہے،6 ججز کے خط میں اٹھائے گئے معاملات سپریم جوڈیشل کونسل کے ضابطہ اخلاق میں دیکھے جانے چاہئیں، میں خود کو از خود نوٹس کے بینچ سے الگ کرتا ہوں

  • عدلیہ میں مبینہ مداخلت کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    عدلیہ میں مبینہ مداخلت کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر

    عدلیہ میں مبینہ مداخلت،سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر کر دی گئی

    سپریم کورٹ میں عدلیہ میں مبینہ مداخلت بارے درخواست بلوچستان بارکونسل اوربلوچستان ہائیکورٹ بارنے دائر کی ہے، بلوچستان کی وکلا تنظیموں نے الگ الگ درخواست دائر کی اور سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ اس حوالہ سے فل کورٹ تشکیل دے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئےگائیڈلائنز دی جائیں، وفاقی حکومت کا قائم کردہ کمیشن کالعدم قراردیا جائے اور عدلیہ کے امور میں مداخلت کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ بار نے ججز کے خط کی تحقیقات کیلئے آئینی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ عدالت عظمیٰ ہائیکورٹ ججز کے خط کی روشنی میں شفاف تحقیقات کرائے۔

    سیاسی اثرات رکھنے والے کیسز میں مداخلت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ

    8 ججز کو پاؤڈر والے دھمکی آمیز خط،شیر افضل مروت نے الزام ن لیگ پر لگا دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو دھمکی آمیز خطوط بھیجنے کا مقدمہ درج

    اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کے خط کے بعد نئی صورت حال سامنے آگئی

    عمران خان کو رہا، عوامی مینڈیٹ کی قدر کی جائے،عارف علوی کا وکلا کنونشن سے خطاب

    جماعت اسلامی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن کو مسترد کر دیا۔

    ججز خط کی انکوائری، سپریم کورٹ بار کا تصدق جیلانی کو کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کا اقدام خوش آئند قرار

    ججز کا خط، سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی انکوائری کمیشن کے سربراہ مقرر

    ہائیکورٹ کے 6 ججز نے جو بہادری دکھائی ہیں یہ قوم کے ہیرو ہیں،اسد قیصر

    لاہور ہائیکورٹ کے ججز کو بھی مشکوک خط موصول

    قبل ازیں سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر سوموٹو کیس کی پہلی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے،سپریم کورٹ کی جانب سے جاری حکم نامے میں جسٹس اطہر من اللہ کا اختلافی نوٹ بھی سامنے آیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں حکم نامے کے 12 پیرا گراف سے عدم اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پیراگراف ایک سے 12 تک سے اتفاق کیلئے خود کو قائل نہیں کر سکا، وزیر اعظم کو طلب کیا جا سکتا ہے یا نہیں اس سوال پر فل کورٹ نے ابھی غور کرنا ہے،حکومت کے کمیشن بنانے سے عدلیہ کی آزادی متاثر ہوتی ہے یا نہیں ابھی طے ہونا ہے، جو سوال عدالت کے سامنے ہیں ان پر ابھی رائے دینا مناسب نہیں، ہائیکورٹ ججز کا خط دکھاتا ہے وہ ہر متعلقہ فورم پر معاملہ اٹھاتے رہے، معاملے کی سنجیدگی کے باوجود ادارے نے رسپانس نہیں دیا، ہائیکورٹ ججز نے وہی کیا جو ہر جج حلف کے مطابق کرنے کا پابند ہے، ہائیکورٹ کے 6 ججز پر شک کی کوئی وجہ موجود نہیں

    اختلافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ کا مزید کہنا تھاکہ ہائیکورٹ ججز نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا ہے، سیاسی اثرات رکھنے والے کیسز میں مداخلت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں عدالت خود یہ مان چکی، مداخلت کس حد تک ہے یہ دکھانے کیلئے اصغر خان کیس کافی ہے

    ججز خط،از خود نوٹس، جسٹس یحییٰ آفریدی بینچ سے الگ،کہا آرٹیکل 184/3ہائی کورٹس کی آزادی پر استعمال نہیں ہونا چاہیے
    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے خط کے معاملے پر ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے بینچ سے جسٹس یحییٰ آفریدی نے خود کو علیحدہ کر لیا،جس کے بعد کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا، اب دوبارہ سماعت ہو گی تونیا بینچ تشکیل دیا جائے گا،جسٹس یحییٰ آفریدی نے خود کو ازخود نوٹس کی سماعت کرنے والے بینچ سے علیحدہ کرنے کے ساتھ اضافی نوٹ بھی لکھا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ میں کہا کہ ہائی کورٹس آئین کے تحت آزاد عدالتیں ہیں، آرٹیکل 184/3ہائی کورٹس کی آزادی پر استعمال نہیں ہونا چاہیے، از خود نوٹس اچھی نیت سے لیا گیا لیکن از خود نوٹس سے ہائی کورٹس اور ان کے چیف جسٹسز کی آزادی کو نقصان پہنچ سکتا ہے،6 ججز کے خط میں اٹھائے گئے معاملات سپریم جوڈیشل کونسل کے ضابطہ اخلاق میں دیکھے جانے چاہئیں، میں خود کو از خود نوٹس کے بینچ سے الگ کرتا ہوں