Baaghi TV

Tag: مذاکرات

  • امریکہ اورچینی دفاعی حکام کے درمیان سنگاپورمیں اہم ملاقات جاری

    امریکہ اورچینی دفاعی حکام کے درمیان سنگاپورمیں اہم ملاقات جاری

    لاہور:امریکہ اورچینی دفاعی حکام کے درمیان سنگاپورمیں اہم ملاقات جاری ،اطلاعات کے مطابق امریکہ اور چین کے درمیان عالمی معاملات پرمشاورت اور بات چین کا ایک دور شروع ہوچکا ہے، اس سلسلے میں مصدقہ اطلاعات ہیں کہ آج چینی اور امریکی دفاعی سربراہان سنگاپور میں اپنی پہلی آمنے سامنے ملاقات کے لیے ملاقات کر رہے ہیں۔آخری اطلاعات کے آنے تک ملاقات جاری تھی

    چین امریکہ ٹیکنالوجی کی جنگ میں شدت،ٹرمپ نے حکمنامے پر دستخط کر دیئے

    اس سلسلے مین معروف چینی روزنامہ گلوبل ٹائمز نے پہلے ہی انکشاف کردیا تھا کہ "چینی وزیر دفاع وی فینگے جمعے کی سہ پہرشنگری لا ڈائیلاگ میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن سے ملاقات کریں گے۔”

    شنگری-لا ڈائیلاگ سیکورٹی سمٹ کا 19 واں ایڈیشن دو سال کے وبائی امراض سے متاثرہ وقفے کے بعد آج دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔ اتوار تک جاری رہنے والے اس ایونٹ کے لیے 42 ممالک کے اعلیٰ دفاعی اور سکیورٹی حکام اکٹھے ہو رہے ہیں۔

    چین امریکہ تجارتی جنگ، ختم ہو گی یا نہیں؟

    جاپان کے وزیر اعظم فومیوکشیدا اہم خطاب کریں گے۔ آسٹن ہفتے کے روز تقریب میں تقریر کرنے والے ہیں، جبکہ وی اتوار کو مقررین میں شامل ہیں۔

    یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جنوری 2021 میں بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، آسٹن اور وی نے صرف ایک بار بات کی ہے — اس اپریل میں 45 منٹ کی ایک فون کال جسے پینٹاگون نے محض "اچھا” قرار دیا۔

    سنگاپور میں ان کی متوقع ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب واشنگٹن ایشیا پیسیفک کے خطے پر زیادہ توجہ دے رہا ہے، دو طرفہ اور کثیر جہتی تعاون کو فروغ دے رہا ہے کیونکہ وہ بیجنگ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    چین امریکہ پر برس پڑا،تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کا مطالبہ

    آسٹن نے سنگاپور میں پہنچتے ہی ٹویٹ کیا، "کہ میں ہند-بحرالکاہل میں اپنے اتحاد اور شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کا منتظر ہوں، اور امن اور سلامتی کے لیے خطے کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھاتا ہوں۔”

  • روس اور یوکرین میں مذاکرات کا تیسرا دور کل ہو گا

    روس اور یوکرین میں مذاکرات کا تیسرا دور کل ہو گا

    روس اور یوکرین میں مذاکرات کا تیسرا دور کل ہو گا۔

    باغی ٹی وی :روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جرمن چانسلر اولاف شولز سے ٹیلفونک رابطہ کیا اور کہا کہ روس یوکرین کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے اور امید ہے کیف معقول اور تعمیری مؤقف اپنائے گا۔

    واضح رہے کہ روس یوکرین مذاکرات کے دوسرے دور میں شہریوں کے انخلا کے لیے راہداریوں کے قیام پر اتفاق ہوا تھا۔

    دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین میں سب کچھ طے شدہ منصوبے کے تحت جاری ہے۔

    یوکرین کا روسی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ‌:ولادی میرپوتن نے اور بات کہہ دی

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملک میں مارشل لا کے نفاذ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مارشل لا کا اعلان کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور مارشل لا کی ضرورت تب ہوتی ہے جب ملک کو بیرونی جارحیت کا سامنا ہو۔

    چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام

    انہوں نے کہا کہ اس وقت ایسی کوئی صورت حال نہیں اور نہ ہی مستقبل میں ایسے حالات کا کوئی امکان ہے۔ یوکرین میں سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہے۔

    ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ جو ملک یوکرین کو نو فلائی زون قرار دے گا وہ تنازع میں شامل ہو جائے گا اور کسی بھی ملک کی ایسی کسی تحریک کو تنازع میں شامل ہونے کے برابر سمجھیں گے۔

  • یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

    یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار

    کیف: یوکرین بغیر کسی پیشگی شرط کے روس کے ساتھ امن مذاکرات پر تیار ہوگیا جب کہ روس بھی ہتھیار پھینکنے کی شرط سے دستبردار ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے ’’اے ایف پی‘‘ نے کیف میں صدارتی دفتر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین اب روس کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہوگیا تاہم یہ مذاکرات بیلاروس کی سرحد پر ہوں گے۔

    ابتدائی طور پر یوکرین اور روس کے نمائندے کسی قسم کی پیشگی شرائط کے بغیر ملاقات کریں گے جس کے بعد اعلیٰ سطح کی ملاقات بھی متوقع ہے یہ مذاکرات مشترکہ دوست ممالک کی کاوشوں سے ہو رہی ہے۔

    قبل ازیں روسی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر یوکرین کی فوج ہتھیار ڈال دے تو مذاکرات ہوسکتے ہیں جب کہ روسی صدر نے یوکرین سے بات چیت کے لیے ایک وفد بھی پڑوسی ملک بیلاروس بھیجا تھا۔

    تاہم یوکرین کے صدر کا مؤقف تھا کہ امن کے لیے بات چیت ہونا چاہیئے لیکن مذاکرات کا مقام بیلاروس نہیں بلکہ کوئی اور ملک ہونا چاہیئے انہوں نے استنبول کا نام بھی لیا تھا۔

    یوکرین پرروسی حملہ:روس سے سلامتی کونسل کی مستقل ممبرشپ واپس لینے کی منصوبہ بندیاں

    بیلاروس میں 2014 میں یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جنھیں منسک معاہدہ کہا جاتا ہے تاہم یوکرین کا کہنا ہے کہ روس نے معاہدے کی پاسداری نہیں کی۔

    گزشتہ روز ہی یوکرین نے عالمی عدالت انصاف پر زور دیا تھا کہ وہ روس کے یوکرین پر حملے کو فوری طور پر رکوائے اور اس حوالے سے یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں ریاستوں کے درمیان تنازعے کے حوالے سے روس کے خلاف مقدمہ بھی درج کرایا ہے۔

    ہمارے جانباز4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک جبکہ سیکڑوں‌ گرفتارکرچکےہیں:یوکرینی جنرل کا دعویٰ

    جنگ کے دوسرے روز ہی امریکا نے یوکرین کے صدر کو بحفاظت محفوظ مقام پر پہنچانے کی پیشکش کی تھی جسے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ مجھے لڑنے کے لیے اسلحہ چاہیئے بھاگنے کے لیے گاڑی نہیں۔

    روس کی فوجیں دارالحکومت کیف میں پارلیمنٹ سے صرف 9 کلومیٹر کی دوری پر ہیں جب کہ دوسرے بڑے شہر خارکیف میں داخل ہوگئی ہیں جہاں یوکرین کی فوج سخت مزاحمت دکھا رہی ہے۔

    یوکرین نے روسی جارحیت کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں درخواست جمع کرا دی ہے۔ روس کے خلاف درخواست جمع کرانے کے بعد یوکرین کے صدر زیلینسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ عدالت روس کو فوری طور پر حملے روکنے کا حکم دے گییوکرین کے صدر زیلینسکی نے اس حوالے سے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ ہفتے روس کا ٹرائل شروع ہو گاروس اپنی جارحیت اور نسل کشی کا جواب بھی دے۔

    روسی فوج یوکرین کے دوسرے بڑے شہرخارکیف میں داخل ہو گئی

    یوکرین کی وزارت دفاع نے 4 روز سے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار سے زائد روسی فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔یوکرین کی نائب وزارت دفاع ہنا مالیار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر 4 روز سے جاری جنگ کے بارے میں تفصیلات شیر کی ہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے جاری جنگ کے دوران 4 ہزار 300 روسی فوجی ہلاک اور27 طیاروں کو مار گرایا ہے یوکرین نے روس کے 26 ہیلی کوپٹر، 146 ٹینک، 706 بکتر بند گاڑیاں اور 49 توپیں تباہ کی ہیں۔علاوہ ازیں ایک بک ایئر ڈیفنس سسٹم، مختلف اقسام کے چارراکٹ لانچنگ سسٹم، 30 گاڑیاں، 60 ٹینکرز، دو ڈرون اور دو کشیاں تباہ کی ہیں-

    یوکرین پرحملہ روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گیا:سخت مزاحمت سے روسی فوج کے حوصلے ڈگمگانے…

  • ایک اور مسلم ملک کی کشمیر کے موقف پر پاکستان کی حمایت

    ایک اور مسلم ملک کی کشمیر کے موقف پر پاکستان کی حمایت

    اسلامآباد (حمزہ رحمن) ایک اور مسلم ملک کی کشمیر کے موقف پر پاکستان کی حمایت، ایسا اس موقع پر ہوا جب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے آزربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف کی ملاقات ہوئی.اس موقع پر صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پاکستان آزربائیجان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جبکہ پاکستان آزربائیجان تعلقات مشترکہ عقیدے ، تاریخی اور ثقافتی روابط پر مبنی ہی.
    صدر مملکت نے ناگورنو کاراباخ کی آزادی پر حکومت اور آزربائیجان کے عوام کو مبارکباد پیش کی، جبکہ پاکستان آزربائیجان کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا کا اعلان بھی کیا، انکا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم بڑھانے اور ثقافتی وتجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے.
    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ اسلام آباد میں پاک – آذربائیجان -ترکی سہ فریقی مذاکرات سے سہ رخی تعلقات اور برادر ممالک کے مابین تعاون کو فروغ حاصل ہو گا، صدر عارف علوی صدر مملکت نے کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کے ممبر کی حیثیت سے آزربائیجان کے کردار کو سراہا.اس موقع پر آزربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف پاکستان اور آذربائیجان کے مابین تجارتی اور ثقافتی تعاون میں اضافے کی صلاحیت موجود کا اعتراف کیا.
    جیہون بیراموف آزری وزیرِ خارجہ نے نگورنو کاراباخ پر آزربائیجان کے موقف کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ اداکیا، ان کا اعلامیہ تھا کہ آزربائیجان مسئلہ کشمیر پر تمام بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا.