Baaghi TV

Tag: مذاکرات

  • حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات بے نتیجہ

    حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات بے نتیجہ

    حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جاری مذاکرات گزشتہ روز کسی حتمی اور مثبت نتیجے تک نہ پہنچ سکے، جس کے بعد ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی اپنی کال برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔

    حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی مثبت اور حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے، جس کے بعد 9 جون کو ہڑتال کی کال بدستور برقرار رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے حکومتی ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران حکومت نے مسلسل لچک اور مفاہمت کا مظاہرہ کیا اور تمام متعلقہ امور پر بات چیت کے دروازے کھلے رکھے، تاہم اس کے باوجود فریقین کسی قابلِ قبول نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

    حکومتی مؤقف کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب عوامی مسائل کے حل، معاشی سرگرمیوں کے تسلسل اور ریاستی استحکام کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کے راستے پر قائم رہنے کے فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اگر مذاکرات جاری تھے اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا عمل موجود تھا تو پھر ایسی کون سی مجبوری تھی جس کے باعث ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کے آپشن کو ترجیح دی،جس قیادت کا منشور مسائل کے حل کے بجائے مسلسل احتجاج اور دھرنوں پر مبنی ہو، وہ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی کشیدگی کو فروغ دینے کا سبب بن سکتی ہے ذمہ دار قیادت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل راستے تلاش کرے، نہ کہ ایسے اقدامات اختیار کرے جو معمولاتِ زندگی کو متاثر کریں۔

    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام سکون، ترقی، معاشی استحکام اور معمولاتِ زندگی کے تسلسل کے خواہاں ہیں، ایسی سیاسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو مسائل کے حل، باہمی مفاہمت اور ریاستی استحکام کو فروغ دے، نہ کہ ہر چند ماہ بعد ہڑتالوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے نظامِ زندگی کو مفلوج کرنے کا سبب بنے، حکومتی حلقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے بدستور کھلے رہیں گے اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔

  • امریکا ایران مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے،اسماعیل بقائی

    امریکا ایران مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے،اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جلد کوئی جامع معاہدہ ہوجائے گا کیونکہ موجودہ بات چیت صرف ابتدائی فریم ورک تک محدود ہے۔

    میڈیا بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں متعدد اہم نکات پر اتفاق ہوچکا ہے اور دونوں فریق ایک ابتدائی فریم ورک تک پہنچ گئے ہیں، تاہم ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جلد کوئی جامع معاہدہ ہوجائے گا کیونکہ موجودہ بات چیت صرف ابتدائی فریم ورک تک محدود ہے۔

    ایرانی ترجمان کے مطابق امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات کا محور صرف جنگ کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے، جبکہ ایران کا جوہری پروگرام اس وقت مذاکراتی ایجنڈے میں شامل نہیں امریکا کے ساتھ ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کے انتظام یا کنٹرول سے متعلق کوئی شق شامل نہیں ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے حوالے سے پاکستان کا کوئی وفد بھیجنے کا فی الحال پروگرام نہیں، تاہم پاکستان اس سفارتی عمل میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے،فریقین کے درمیان کئی اہم معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، لیکن مکمل اور حتمی معاہدے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

    اسماعیل بقائی نےاسرائیلی بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے کی موجودہ صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی جارحانہ اقدام کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا امن مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ

    وزیراعظم شہباز شریف کا امن مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کا عندیہ

    وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خطے میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کی قیادت کے ساتھ ہونے والی حالیہ مشاورت انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہی۔

    اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امن کے فروغ کے لیے غیرمعمولی کوششوں‘ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں کے ساتھ ہونے والا حالیہ ٹیلیفونک رابطہ انتہائی مفید اور مثبت رہا،انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان جلد امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرے گا، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کو بھی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس رابطے میں پاکستان کی نمائندگی کی انہوں نے امن عمل کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ’انتھک کوششوں‘ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا،انہوں نے کہا کہ اس گفتگو کے دوران خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری امن کوششوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ خطے میں دیرپا استحکام یقینی بنایا جا سکے پاکستان مکمل خلوص کے ساتھ اپنی امن کوششیں جاری رکھے گا اور امید ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد منعقد ہوگا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششوں کے سلسلے میں کی جانے والی غیرمعمولی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کرلی انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد ممکن ہوا۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم بات چیت تعطل کا شکار بھی نہیں ہوئی تھی۔

    بعدازاں صدر ٹرمپ نے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مشیر جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا مجوزہ دورہ منسوخ کردیا تھا، جہاں ایران کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہونا تھا۔ تاہم انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر جنگ بندی میں غیرمعینہ مدت تک توسیع کردی تھی۔

    تازہ سفارتی رابطے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور اس کے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ایران پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں، جبکہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں محدود وقت کے اندر دوبارہ حملوں کی دھمکی بھی دی تھی اسی ہفتے کے اختتام پر انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بڑی حد تک اتفاق ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، جبکہ اس معاہدے کی مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

    دریں اثنا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہفتے کے روز تہران کا اعلیٰ سطحی دورہ مکمل کیا، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ان مذاکرات کے نتیجے میں ’حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیشرفت‘ ہوئی ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا مسلسل ان سے رابطے میں ہے اور امریکی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر بھی ان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان امن معاہدے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو ’قابلِ تعریف‘ قرار دیا۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات اب محض سیاسی بیانات سے آگے بڑھ کر تفصیلی امور پر بات چیت کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جن میں آبنائے ہرمز، ایران کا جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور مستقبل میں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے خلاف ضمانتیں شامل ہیں پاکستان نے مذاکراتی تعطل ختم کرنے کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ کو ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ تہران بھیجا گیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر، اسپیکر پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں تاکہ مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔

  • ایرانی میڈیا نے امریکا اور ایران کے خفیہ مطالبات کی فہرست جاری کر دی

    ایرانی میڈیا نے امریکا اور ایران کے خفیہ مطالبات کی فہرست جاری کر دی

    ایران کی خبر ایجنسی نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق اہم تفصیلات اور دونوں ممالک کے مطالبات کی فہرست جاری کر دی ہے، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی اور سفارتی کوششوں پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے مذاکرات کیلئے کئی سخت شرائط پیش کی ہیں، جن میں ایران کو کسی قسم کا ہرجانہ یا جنگی معاوضہ نہ دینے کی شرط بھی شامل ہے امریکا نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم امریکا منتقل کرے اس کے علاوہ امریکا نے تجویز دی ہے کہ ایران کو صرف ایک جوہری تنصیب فعال رکھنے کی اجازت دی جائے امریکی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران کے منجمد اثاثے بحال نہ کیے جائیں، جبکہ جنگ بندی کو بھی مستقبل کے مذاکرا ت سے مشروط رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مذاکرات سے پہلے مکمل جنگ بندی بنیادی شرط ہوگی۔ ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر ہونی چاہیے ایران نے تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے، بیرون ملک منجمد اثاثے بحال کرنے اور جنگی نقصانات کا معاوضہ دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے ایرانی مؤقف میں آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کو تسلیم کرنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے، جسے خطے کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے سخت مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مذاکرات کا عمل انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جبکہ خطے میں جنگ بندی اور امن کے امکانات بھی انہی بات چیت پر منحصر ہیں۔

  • امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    امریکا کے ساتھ مذاکرات کا تبادلہ جاری، قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،عباس عراقچی

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اور پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے تاہم بات چیت کی موجودہ صورتحال کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے اتوار کو اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے کسی بھی قسم کی قیاس آرائی کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور جب تک واضح نتائج سامنے نہ آئیں، اس عمل کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی،ان کے بیان سے عندیہ ملتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے کے ذرائع بدستور فعال ہیں۔

    ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایرانی عوام کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم نہ کرے ایران کے لیے اصل معیار ٹھوس اور عملی نتائج کا حصول ہے اور اس وقت تک کسی معاہدے کی توثیق نہیں کی جائے گی جب تک قوم کے حقوق کے تحفظ کا مکمل یقین نہ ہو جائے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس بات کی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک بہت اچھے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں امریکا کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنائے اور ان کے بقول تہران اس نکتے سے اتفاق کر چکا ہے تاہم ٹرمپ نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر مذاکرات مطلوبہ نتائج نہ دے سکے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

    ادھر تہران نے بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے منجمد تقریباً 12 ارب ڈالر کے اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور توانائی کی عالمی ترسیل بھی ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے-

  • وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    وزیراعظم آفس کے مطابق قریباً 50 منٹ تک جاری رہنے والی اس گرمجوش اور دوستانہ گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاوزیراعظم نے 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت کو سراہا۔

    انہوں نے ایران کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک وفد اسلام آباد بھیجا گیا، جس نے وزیراعظم سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جن میں وزیراعظم کے ساتھ 2 گھنٹے طویل تفصیلی ملاقات بھی شامل تھی۔

    وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی حالیہ سفارتی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ مختلف عالمی رہنماؤں سے روابط کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کی حمایت میں وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مدد ملی ہے انہوں نے اس ماہ کے آغاز میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی مفید بات چیت کو بھی سراہا۔

    وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں اور احترام کا پیغام بھی پہنچایا اور پاکستان کے خطے میں امن کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

    اس موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی امن کے لیے کوششوں کو سراہا اور ایران کی جانب سے خطے میں امن کی خواہش کا اظہار کیا انہوں نے کہاکہ ایران اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔

    دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطوں اور مشاورت کو جاری رکھنے پر اتفاق بھی کیا۔

  • ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی،ایران کا مؤقف ہے موجودہ صورتِ حال میں بات چیت آگے بڑھانے کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں ہے۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی متعلقہ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ صورتِ حال میں کسی نئے مذاکراتی مرحلے پر اتفاق نہیں ہو سکا یہ تعطل امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان اور مذاکرات میں سخت مطالبات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں پیغامات کا تبادلہ ہوا، تاہم اس کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، بصورت دیگر ایران طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا ایران نے اپنا مؤقف امریکی حکام تک پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے، جب کہ آئندہ صورتِ حال کا دارومدار دونوں جانب کے فیصلوں پر ہوگا۔

    اس حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اس وقت فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہے، نہیں چاہتے کہ ایسے مذاکرات ہوں جو ناکامی کی طرف جائیں، جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، مذاکرات کی تاریخ نہیں دے سکتے درحقیقت بڑی اچھی پیش رفت ہوئی تھی،لیکن پھر زیادہ سے زیادہ والی سوچ نے معاہدہ نہ ہونے دیابین الاقوامی قوانین سے بالاتر کوئی چیز تسلیم نہیں کریں گے، جو بھی وعدہ کریں گے وہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں کریں گے۔

    اس سے قبل، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا،باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام سات دعوے غلط ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانات کے ذریعے نہ ماضی میں کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہوگا۔

    انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے تسلسل کی صورت میں اس آبی گزرگاہ کو کھلا نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت اور مقررہ ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں نہ کہ سوشل میڈیا پر۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن حد سے زیادہ مطالبات نہیں کرے گا، بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے ہیں، حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    ہفتے کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے 10 ویں روز سے ہی امریکا نے پیغام دینے شروع کردیے، یہ پیغامات سیز فائر اور بات چیت کے لیے تھے، 40 ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 نکات تسلیم کیے، یہ نکات جنگ روکنے کے فریم ورک کے طور پر دیے، ایران بھی پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ نے کہا کہ بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا، 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ دور بغیر نتیجہ ختم ہوا، بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن زیادہ مطالبات نہیں کرے گا اور وہ میدان جنگ کی حقیقت کے مطابق چلے گا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ کے مطابق ایرانی قوم کے مفاد پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے، ایران کے مطالبات میں سے لبنان کی سیز فائر بھی شامل تھی، صیہونی حکومت نے شرط کی شروع سے ہی پامالی کی، ایران کے مؤقف پر اسرائیل لبنان میں سیزفائر پر راضی ہوا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے کہا کہ پاسداران کے کنٹرول میں آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا، آبنائے ہرمز مشروط طور پر کمرشل جہازوں کے لیے کھولی گئی، خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان آبنائے ہرمز سے ہی لے جایا جاتا ہے، یہ ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    ایرانی سیکرٹیریٹ نے مزید کہا کہ جنگ ختم ہونے تک آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑ سکتے، جہازوں کو فیس ادا کر کے ان روٹس پر جانا ہوگا جو ہم بتائیں گے، امریکا کا محاصرہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جب تک محاصرہ ہے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولیں گے۔

    واضح رہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں بحری آمد ورفت شدید الجھن اور کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ہزاروں جہاز پھنسے ہوئے ہیں جب کہ کئی جہاز راستہ بدل کر واپس جا رہے ہیں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی ناکا بندی کو بنیاد بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رکھے گا، تاہم متعدد بحری جہاز، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، خاص طور پر لراک جزیرے کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے کچھ جہاز خلیج عمان کی طرف آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان میں سے بعض ایسے جہاز بھی شامل تھے جن پر پابندیاں عائد ہیں-

    بحری ٹریکنگ کے مطابق بڑی تعداد میں جہاز فی الحال راستہ بدل کر مغربی سمت میں واپس جا رہے ہیں، جب کہ ہزاروں بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں اور زیادہ تر کمپنیاں کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے انتظار کی پالیسی اختیار کر رہی ہیں۔

  • امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ،راستہ نکالا جا سکتا ہے،ایرانی صدر

    امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ،راستہ نکالا جا سکتا ہے،ایرانی صدر

    ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ہے اور اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی حکومت اپنی آمرانہ روش ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو امریکا کے ساتھ ایک معاہدہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ہے اور اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

    صدر پزشکیان نے مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کے ارکان بالخصوص اپنے عزیز بھائی ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں مزید ہمت اور طاقت عطا فرمائے۔

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ گزشتہ 47 سالوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے ان انتہائی اہم مذاکرات میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی،جب ہم اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے محض چند انچ کے فاصلے پر تھے، تو ہمیں حد سے بڑھے ہوئے مطالبات، بدلتے ہوئے مؤقف اور ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا۔

    عباس عراقچی نے امریکا کے لیے طنزیہ کہا کہ کوئی سبق نہیں سیکھا گیا، نیک نیتی سے نیک نیتی جنم لیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی۔

  • ترک صدر کی مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی

    ترک صدر کی مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی

    ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل پر حملہ کردیں گے۔

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ صرف فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا نفاذ قانون کو نسل پرست فاشزم کے آلہ کار میں بدل دیتا ہے،انہوں نے نیتن یاہو کو ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے ہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے۔

    اردگان نے مذاکرات ناکام ہونے پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے،غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جانے والے 72,000 شہریوں میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ ہمارے پڑوسی شام میں ساڑھے 13 سال کی خانہ جنگی میں، جن لوگوں نے سب سے زیادہ قیمت ادا کی وہ بھی خواتین اور بچے تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 2 مارچ سے لبنان میں شہری رہائشی علاقوں پر اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے 12 لاکھ لبنانیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ان حملوں میں 1500 سے زیادہ لبنانی بہن بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 4700 زخمی ہوئے جس دن جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اسرائیل نے 254 لبنانیو ں کو بے دردی سے قتل کر دیا، خون اور نفرت میں اندھا ہو کر نسل کشی کا یہ نیٹ ورک معصوم بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات  اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے اشارے مل رہے ہیں، جہاں متعدد نشستیں خوشگوار اور نسبتاً مثبت ماحول میں منعقد ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان نہ صرف باضابطہ مذاکرات ہوئے بلکہ غیر رسمی سطح پر بھی روابط جاری رہے، حتیٰ کہ وفود نے ایک ساتھ عشائیہ بھی کیا، جس کے بعد اب باہمی نکات اور تجاویز کے تبادلے کا عمل جاری ہے۔

    سی این این کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا ہےکہ ایران امریکا مذاکرات آج یعنی اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں مذاکرات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت وفود کی سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق ممکنہ راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ ابھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا، لیکن رابطوں کا تسلسل برقرار ہے اور مختلف آپشنز پر غور ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکراتی عمل کو مزید وقت دیا جائے پاکستانی حکام چاہتے ہیں کہ کم از کم ایک اور دن، ایک اور مرحلہ یا مزید توسیع دی جائے تاکہ فریقین کسی ٹھوس اور نتیجہ خیز معاہدے تک پہنچ سکیں تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    پاکستانی سفارتی ذرائع اب بھی پرامید دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل دونوں فریقین، یعنی امریکہ اور ایران، کو مزید لچک دکھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار بالآخر دونوں ممالک کی قیادت پر ہوگا، جو یہ طے کرے گی کہ بات چیت کو کس انداز میں آگے بڑھانا ہے اور آئندہ کا طریقہ کار کیا ہوگامچونکہ دونوں فریق اب آمنے سامنے ملاقاتوں کا آغاز کر چکے ہیں، اس لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے، اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو مستقبل میں مذاکرات کے تسلسل اور ممکنہ کامیابی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات آج اسلام آباد میں جاری ہیں، جنہیں عالمی سطح پر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے،اس حوالے سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہنچنے والا اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد ایران کے مفادات کا محافظ ہے،ایرانی وفد بہادری کے ساتھ مذاکرات کرے گا،عوام کیلیے ہماری خدمات ایک لمحہ بھی نہیں رکیں گی۔

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز جلد کھلنے جا رہی ہے،امریکی تیل لینے کیلئے خالی ٹینکرز کی بڑی تعداد آ رہی ہے،امریکی میڈیا پر صرف منفی خبریں دکھائی جا رہی ہیں۔