Baaghi TV

Tag: مذاکرات

  • وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

    وزیراعظم آفس کے مطابق قریباً 50 منٹ تک جاری رہنے والی اس گرمجوش اور دوستانہ گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیاوزیراعظم نے 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت کو سراہا۔

    انہوں نے ایران کے اس فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایک وفد اسلام آباد بھیجا گیا، جس نے وزیراعظم سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جن میں وزیراعظم کے ساتھ 2 گھنٹے طویل تفصیلی ملاقات بھی شامل تھی۔

    وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی حالیہ سفارتی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ مختلف عالمی رہنماؤں سے روابط کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کے لیے مکالمے اور سفارتکاری کی حمایت میں وسیع تر اتفاق رائے پیدا کرنے میں مدد ملی ہے انہوں نے اس ماہ کے آغاز میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران کے دوران ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی مفید بات چیت کو بھی سراہا۔

    وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں اور احترام کا پیغام بھی پہنچایا اور پاکستان کے خطے میں امن کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

    اس موقع پر ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی امن کے لیے کوششوں کو سراہا اور ایران کی جانب سے خطے میں امن کی خواہش کا اظہار کیا انہوں نے کہاکہ ایران اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔

    دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطوں اور مشاورت کو جاری رکھنے پر اتفاق بھی کیا۔

  • ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران کا طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہ ہونے کا اعلان

    ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی،ایران کا مؤقف ہے موجودہ صورتِ حال میں بات چیت آگے بڑھانے کے لیے مناسب ماحول موجود نہیں ہے۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاحال منظوری نہیں دی متعلقہ حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ صورتِ حال میں کسی نئے مذاکراتی مرحلے پر اتفاق نہیں ہو سکا یہ تعطل امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکا بندی کے اعلان اور مذاکرات میں سخت مطالبات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں پیغامات کا تبادلہ ہوا، تاہم اس کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    خبر ایجنسی تسنیم کے مطابق ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے تسلسل کے لیے ضروری ہے کہ امریکا غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات سے گریز کرے، بصورت دیگر ایران طویل اور غیر نتیجہ خیز مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا ایران نے اپنا مؤقف امریکی حکام تک پاکستان کے ذریعے پہنچا دیا ہے، جب کہ آئندہ صورتِ حال کا دارومدار دونوں جانب کے فیصلوں پر ہوگا۔

    اس حوالے سے ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی، اس وقت فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر توجہ ہے، نہیں چاہتے کہ ایسے مذاکرات ہوں جو ناکامی کی طرف جائیں، جب تک فریم ورک طے نہیں ہوتا، مذاکرات کی تاریخ نہیں دے سکتے درحقیقت بڑی اچھی پیش رفت ہوئی تھی،لیکن پھر زیادہ سے زیادہ والی سوچ نے معاہدہ نہ ہونے دیابین الاقوامی قوانین سے بالاتر کوئی چیز تسلیم نہیں کریں گے، جو بھی وعدہ کریں گے وہ بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں کریں گے۔

    اس سے قبل، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا تھا،باقر قالیباف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام سات دعوے غلط ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانات کے ذریعے نہ ماضی میں کوئی نتیجہ حاصل کیا جا سکا اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہوگا۔

    انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کے تسلسل کی صورت میں اس آبی گزرگاہ کو کھلا نہیں رکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس راستے سے گزرنے کے لیے ایران کی اجازت اور مقررہ ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق فیصلے زمینی حقائق کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں نہ کہ سوشل میڈیا پر۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جنگی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن حد سے زیادہ مطالبات نہیں کرے گا، بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے ہیں، حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا۔

    ہفتے کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگ کے 10 ویں روز سے ہی امریکا نے پیغام دینے شروع کردیے، یہ پیغامات سیز فائر اور بات چیت کے لیے تھے، 40 ویں روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 نکات تسلیم کیے، یہ نکات جنگ روکنے کے فریم ورک کے طور پر دیے، ایران بھی پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات پر راضی ہوا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ نے کہا کہ بات چیت کے دوران دشمن نے مزید مطالبات شروع کردیے، انہیں معلوم ہوگیا کہ ایران پیچھے نہیں ہٹے گا، 21 گھنٹے کی بات چیت کا وہ دور بغیر نتیجہ ختم ہوا، بات چیت دوبارہ تب شروع ہوگی جب دشمن زیادہ مطالبات نہیں کرے گا اور وہ میدان جنگ کی حقیقت کے مطابق چلے گا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا کہ حال ہی میں امریکیوں نے نئی تجاویز پیش کی ہیں، ایران ان پر غور کررہا ہے لیکن ابھی تک جواب نہیں دیا۔

    ایرانی سیکریٹریٹ کے مطابق ایرانی قوم کے مفاد پر کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے، ایران کے مطالبات میں سے لبنان کی سیز فائر بھی شامل تھی، صیہونی حکومت نے شرط کی شروع سے ہی پامالی کی، ایران کے مؤقف پر اسرائیل لبنان میں سیزفائر پر راضی ہوا۔

    ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ نے کہا کہ پاسداران کے کنٹرول میں آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ کیا، آبنائے ہرمز مشروط طور پر کمرشل جہازوں کے لیے کھولی گئی، خلیج میں امریکی اڈوں کے لیے سامان آبنائے ہرمز سے ہی لے جایا جاتا ہے، یہ ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

    ایرانی سیکرٹیریٹ نے مزید کہا کہ جنگ ختم ہونے تک آبنائے ہرمز کا کنٹرول نہیں چھوڑ سکتے، جہازوں کو فیس ادا کر کے ان روٹس پر جانا ہوگا جو ہم بتائیں گے، امریکا کا محاصرہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے، جب تک محاصرہ ہے آبنائے ہرمز کو مشروط طور پر بھی نہیں کھولیں گے۔

    واضح رہے کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز میں بحری آمد ورفت شدید الجھن اور کشیدگی کا شکار ہو گئی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ہزاروں جہاز پھنسے ہوئے ہیں جب کہ کئی جہاز راستہ بدل کر واپس جا رہے ہیں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے مشترکہ فوجی کمانڈ نے امریکی ناکا بندی کو بنیاد بناتے ہوئے آبنائے ہرمز کا کنٹرول دوبارہ سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اگرچہ ایران نے ایک روز قبل کہا تھا کہ وہ تجارتی جہازوں کے لیے راستہ کھلا رکھے گا، تاہم متعدد بحری جہاز، جو آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے، خاص طور پر لراک جزیرے کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے کچھ جہاز خلیج عمان کی طرف آگے بڑھنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان میں سے بعض ایسے جہاز بھی شامل تھے جن پر پابندیاں عائد ہیں-

    بحری ٹریکنگ کے مطابق بڑی تعداد میں جہاز فی الحال راستہ بدل کر مغربی سمت میں واپس جا رہے ہیں، جب کہ ہزاروں بحری جہاز پھنسے ہوئے ہیں اور زیادہ تر کمپنیاں کسی بھی خطرے سے بچنے کے لیے انتظار کی پالیسی اختیار کر رہی ہیں۔

  • امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ،راستہ نکالا جا سکتا ہے،ایرانی صدر

    امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ،راستہ نکالا جا سکتا ہے،ایرانی صدر

    ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ہے اور اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکی حکومت اپنی آمرانہ روش ترک کر دے اور ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو امریکا کے ساتھ ایک معاہدہ ہونا ممکن ہو سکتا ہے،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کے ساتھ کسی نتیجے پر پہنچنا ناممکن نہیں ہے اور اس کے لیے راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

    صدر پزشکیان نے مذاکراتی ٹیم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ٹیم کے ارکان بالخصوص اپنے عزیز بھائی ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں مزید ہمت اور طاقت عطا فرمائے۔

    دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس پر لکھا کہ گزشتہ 47 سالوں میں اعلیٰ ترین سطح پر ہونے والے ان انتہائی اہم مذاکرات میں ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی،جب ہم اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے محض چند انچ کے فاصلے پر تھے، تو ہمیں حد سے بڑھے ہوئے مطالبات، بدلتے ہوئے مؤقف اور ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا۔

    عباس عراقچی نے امریکا کے لیے طنزیہ کہا کہ کوئی سبق نہیں سیکھا گیا، نیک نیتی سے نیک نیتی جنم لیتی ہے اور دشمنی سے دشمنی۔

  • ترک صدر کی مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی

    ترک صدر کی مذاکرات ناکام ہونے پر اسرائیل پر حملے کی دھمکی

    ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اسرائیل پر حملہ کردیں گے۔

    ترک صدر کا کہنا تھا کہ صرف فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کا نفاذ قانون کو نسل پرست فاشزم کے آلہ کار میں بدل دیتا ہے،انہوں نے نیتن یاہو کو ہٹلر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے ہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے۔

    اردگان نے مذاکرات ناکام ہونے پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے،غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں بے رحمی سے مارے جانے والے 72,000 شہریوں میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ ہمارے پڑوسی شام میں ساڑھے 13 سال کی خانہ جنگی میں، جن لوگوں نے سب سے زیادہ قیمت ادا کی وہ بھی خواتین اور بچے تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 2 مارچ سے لبنان میں شہری رہائشی علاقوں پر اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے 12 لاکھ لبنانیوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ان حملوں میں 1500 سے زیادہ لبنانی بہن بھائی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 4700 زخمی ہوئے جس دن جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، اسرائیل نے 254 لبنانیو ں کو بے دردی سے قتل کر دیا، خون اور نفرت میں اندھا ہو کر نسل کشی کا یہ نیٹ ورک معصوم بچوں اور عورتوں کو قتل کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات  اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے اشارے مل رہے ہیں، جہاں متعدد نشستیں خوشگوار اور نسبتاً مثبت ماحول میں منعقد ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان نہ صرف باضابطہ مذاکرات ہوئے بلکہ غیر رسمی سطح پر بھی روابط جاری رہے، حتیٰ کہ وفود نے ایک ساتھ عشائیہ بھی کیا، جس کے بعد اب باہمی نکات اور تجاویز کے تبادلے کا عمل جاری ہے۔

    سی این این کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا ہےکہ ایران امریکا مذاکرات آج یعنی اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں مذاکرات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت وفود کی سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق ممکنہ راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ ابھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا، لیکن رابطوں کا تسلسل برقرار ہے اور مختلف آپشنز پر غور ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکراتی عمل کو مزید وقت دیا جائے پاکستانی حکام چاہتے ہیں کہ کم از کم ایک اور دن، ایک اور مرحلہ یا مزید توسیع دی جائے تاکہ فریقین کسی ٹھوس اور نتیجہ خیز معاہدے تک پہنچ سکیں تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    پاکستانی سفارتی ذرائع اب بھی پرامید دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل دونوں فریقین، یعنی امریکہ اور ایران، کو مزید لچک دکھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار بالآخر دونوں ممالک کی قیادت پر ہوگا، جو یہ طے کرے گی کہ بات چیت کو کس انداز میں آگے بڑھانا ہے اور آئندہ کا طریقہ کار کیا ہوگامچونکہ دونوں فریق اب آمنے سامنے ملاقاتوں کا آغاز کر چکے ہیں، اس لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے، اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو مستقبل میں مذاکرات کے تسلسل اور ممکنہ کامیابی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات آج اسلام آباد میں جاری ہیں، جنہیں عالمی سطح پر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے،اس حوالے سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہنچنے والا اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد ایران کے مفادات کا محافظ ہے،ایرانی وفد بہادری کے ساتھ مذاکرات کرے گا،عوام کیلیے ہماری خدمات ایک لمحہ بھی نہیں رکیں گی۔

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز جلد کھلنے جا رہی ہے،امریکی تیل لینے کیلئے خالی ٹینکرز کی بڑی تعداد آ رہی ہے،امریکی میڈیا پر صرف منفی خبریں دکھائی جا رہی ہیں۔

  • بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    روسی وزارت خارجہ نے کہا ہےکہ عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پر مرکوز ہیں۔

    روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خلیج فارس کے خطے میں پیچیدہ بحران کے حل کا ایک اہم موقع پیدا ہو رہا ہے، بیشتر ممالک ان مذاکرات کی کامیابی کو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں اور اس سے امن کی راہ ہموار ہونے کی امید رکھتے ہیں۔

    تاہم روس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں بیان میں ان عناصر پر تنقید کی گئی جو ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد اب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسائل کا ذمہ بھی ایران پر ڈال رہے ہیں۔

    روسی وزارت خارجہ کے مطابق واقعات کی اصل ترتیب کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ 28 فروری تک آبنائے ہرمز ایک اہم عالمی گزرگاہ کے طور پر بلا تعطل فعال رہی اس وقت سب سے اہم ہدف خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک ، لبنان اور اسرائیل-لبنان سرحدی علاقوں تک پھیل چکے ہیں، جہاں فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند ہونا ضروری ہیں۔

    روس نے زور دیا کہ تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے اور اس سلسلے میں وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے روسی وزارت خارجہ نے اسلام آباد مذاکرات کے شرکا پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس اہم سفارتی موقع کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

    روس نے خلیج فارس کے لیے ایک جامع سیکیورٹی ڈھانچے کی اپنی دیرینہ تجویز کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام ساحلی ممالک، بشمول عرب ریاستوں اور ایران کے درمیان مکالمہ اور بیرونی شراکت داروں کی تعمیری شمولیت ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

  • حماس کا پاکستان میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم

    حماس کا پاکستان میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم

    حماس نے پاکستان میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔

    حماس نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اسرائیل کی جنگ کے مکمل اور جامع خاتمے کے مقصد کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے،وہ پاکستان اور دیگر شریک ممالک کی قیادت میں ثالثی کی کوششوں کی کامیابی کا منتظر ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد نے ملاقاتیں کیں جس میں اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    امریکی نائب صدر کی معاونت خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مسٹر جیرڈ کشنر جبکہ وزیراعظم کی معاونت نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن رضا نقوی نے کی –

    وزیراعظم نے ملاقات میں وفود کی تعمیری انداز میں بات چیت کے عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات خطے میں دیرپا امن کی جانب اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے،پاکستان خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے دونوں فریقین کے درمیان سہولت کاری جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

    ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے جبکہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

  • تحفظات کے باوجود ایرانی وفد  آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے،ایرانی سفیر

    تحفظات کے باوجود ایرانی وفد آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے،ایرانی سفیر

    پاکستان میں ایران کے سفیر کا کہنا ہے کہ تحفظات کے باوجود ایرانی وفد مذاکرات کے لیے آج رات اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سبو تاژ کرنے کے لیے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی وجہ سے ایران میں مذاکرات کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں، اسرائیلی ا قد ما ت کے کے باوجود وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر ایرانی وفد ایران کیجانب سے تجویز کردہ 10 نکاتی ایجنڈے پر سنجیدہ مذاکرات کے لیے آج رات اسلا م آباد پہنچ رہا ہے۔

    اس سے قبل گذشتہ رات وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، صدر ٹرمپ کی اسلام آباد پہنچنے والی ٹیم میں نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے مشیر سٹیو وٹکوف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہوں گے۔

  • ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ،امریکی میڈیا

    ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادہ ہو گیا ہے-

    امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کے لیے تمام ضروری ضمانتیں دینے پر تیار ہے، تاہم وہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے اپنے حق کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

    رپورٹس میں ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان رابطے ہوئے ہیں، تاہم یہ رابطے ابھی باضابطہ مذاکرا ت کی سطح تک نہیں پہنچے، ذرائع کے مطابق ایران جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور پائیدار تجاویز سننے پر آمادہ ہے۔

    ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر غور تجاویز صرف جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے مکمل خاتمے کے لیے ایک جامع معاہدے پر بھی غور کیا جا رہا ہے اس سلسلے میں مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے،ایرانی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کو بنیادی شرط کے طور پر شامل ہونا چاہیے-

    رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکا سے براہ راست ملاقات یا بات چیت کی کوئی باضابطہ درخواست نہیں کی، تاہم وہ ایسے ممکنہ معاہدے پر غور کر سکتا ہے جس میں اس کے قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

  • مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے،اسد قیصر

    مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے،اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے عمران خان سے مشاورت ناگزیر ہے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں اسد قیصر نےکہاکہ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی ایک آئینی اور قانونی ضرورت تھی، لیڈر آف دی اپوزیشن کے بغیر اسمبلی چل نہیں سکتی، لیڈرآف دی ہاؤس اوراپوزیشن کی یکساں حیثیت ہے اور آئین اس پر واضح ہےبانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا، کیا نوازشریف کے بغیر مسلم لیگ ن کچھ فیصلہ کر سکتی ہے؟ کیا آصف زرداری یا بلاول بھٹو کے بغیر پیپلز پارٹی کوئی فیصلہ کرے گی؟ یہ ناسمجھی ہوگی کہ عمران خان سے مشاورت یا ملاقات کے بغیر ہی کوئی فیصلہ ہو۔

    اسدقیصر کا کہنا تھاکہ جب تک ملاقات نہیں ہوگی تب تک کوئی بھی چیز آگے نہیں بڑھ سکتی، مذاکرات کی پہلی شرط بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت ہی ہے، مائنز اینڈ منرلز سے متعلق بل ہماری سیاسی سوچ اور بیانیہ کے خلاف نہیں ہوگا، ہمارے صوبے کے اختیار سے بڑھ کر کوئی بھی چیز بل میں نہیں ہوگی، صوبے کو کمزور یا پوزیشن کمپرومائز کرنے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوگا جو بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے اسی کے مطابق یہ بل پاس ہوگا ، اگر دائیں بائیں سے کوئی کوشش ہوتی ہے توہم ایسا بل پاس نہیں ہونے دیں گے۔