Baaghi TV

Tag: مراد علی شاہ

  • ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور سستی اب قبول نہیں ،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور سستی اب قبول نہیں کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں تعمیر ہونے والا نیا برج مقررہ مدت یعنی 100 دن میں مکمل کیا جائے اور اضافی 5-4 دن کا بہانہ اب نہیں چلے گا جس دن سے کام شروع ہوگا، اسی دن سے گنتی ہوگی اور انہیں یقین ہے کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور ان کی ٹیم دن رات اس منصوبے کی نگرانی کریں گے تاکہ کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ اس برج سے مقامی آبادی کو خاص فائدہ ہوگا، خصوصاً کیٹل کالونی اور ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کے لوگوں کو سہولت ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حال ہی میں کورنگی کاز وے کا تقریباً ساڑھے چھ ارب روپے کا منصوبہ مکمل کیا گیا، جبکہ اس سے پہلے پرانا پل خستہ حال ہونے کے باعث گرایا گیا تھا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ شارع بھٹو کا منصوبہ بھی تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے اور آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں اسے کیماڑی سے کاٹھور تک مکمل کر لیا جائے گا انہوں نے دوبارہ ہنستے ہوئے کہا کہ وہ تاریخ اس لیے نہیں دیتے کیونکہ کبھی کبھار مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سستی ہو جاتی ہے، تاہم کام ہر صورت مکمل ہوگا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ شارع بھٹو کو قیوم آباد سے کراچی پورٹ تک توسیع دینے کے منصوبے کی بنیاد بھی جلد رکھی جائے گی، صرف چند این او سی باقی ہیں دو سے تین سال میں یہ منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا جس سے بھاری ٹریفک شہر سے باہر منتقل ہوگی اور ٹریفک جام اور حادثات میں کمی آئے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ رواں سال کراچی میں تقریباً 300 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ، کے ایم سی، کے ڈی اے، ٹرانسپورٹ، واٹر کارپوریشن اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سمیت مختلف ادارے ان منصوبوں پر کام کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ بلدیہ کو سڑکوں کی مرمت کے لیے اضافی فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں کابینہ نے آٹھ ارب روپے اور تیرہ ارب روپے کے دو بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے تاکہ شہر کی بڑی اور چھوٹی سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جا سکے کراچی کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی منصوبے میں غیر ضروری تاخیر یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے،مراد علی شاہ

    حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ سندھ میں 2022 کے سیلاب سے 70 فیصد گھر تباہ ہوگئے تھے اور لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے تھے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 2022 کے سیلاب سے 70 فیصد گھر تباہ ہوگئے تھے اور لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے تھے اس مشکل صورتحال میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بطور وزیر خارجہ اپنے تمام دورے منسوخ کرکے متاثرین کے پاس گئے اور ان کے لیے گھر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے، لیکن بلاول بھٹو زرداری کے ویژن اور قیادت کی بدولت یہ ممکن ہوا، ابتدائی طور پر منصوبے کے لیے بجٹ ناکافی لگ رہا تھا، لیکن عالمی بینک اور دیگر اداروں کی امداد کے بعد منصوبے کو آگے بڑھایا گیا۔

    مراد علی شاہ نے بتایا کہ اب تک 7 لاکھ سے زیادہ گھر بنانے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے اور یہ سب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کی بدولت ممکن ہوا ہے، جو اس وقت میونخ میں ہیں وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ متاثرین کی بحالی کے یہ اقدامات واقعی حیران کن اور متاثر کن ہیں-

  • آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے کہا کہ احتجاج کے لیے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں نہیں بند کرنے دیں گے اور نہ ہی عوام کو تکلیف پہنچانے دیں گے۔

    اس کے علاوہ یوم کشمیر کی ریلی سے خطاب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ کے عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہماری جدوجہد کشمیر کی آزادی تک جاری رہےگی۔

    گزشتہ روز کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ضیا لنجار کا کہنا تھاکہ شاہراہ بند کرنے کی کسی کو اجازت نہیں، زبردستی دکانیں بند کرائیں تو قانون حرکت میں آئےگاجماعت اسلامی نے شارع فیصل بند کرکے قانون کی خلاف ورزی کی، شارع فیصل بندکرنے کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہونے چاہیے تھی، دہشت گردی کی دفعات شامل ہوں گی تو آئندہ کسی کو سڑک بند کرنے کی ہمت نہیں ہوگی، حافظ نعیم کو پیغام پہنچایا ہے سندھ اسمبلی کی سڑک بند نہ کریں، احتجاج کرنا ہے تو مرکزی سڑک پر نہیں بلکہ سروس روڈ پرکریں، اگر احتجاج کرنا ہے پریس کلب کے باہر کریں۔

    خیال رہے کہ جماعت اسلامی نے 14 فروری کو کراچی میں دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

  • سندھ امن، تنوع اور تخلیقی صلاحیتوں کی سرزمین ہے،مراد علی شاہ

    سندھ امن، تنوع اور تخلیقی صلاحیتوں کی سرزمین ہے،مراد علی شاہ

    کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں 39 روزہ عالمی ثقافتی میلے کی شاندار تقریب سندھ اور پاکستان کی بے مثال ثقافتی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ سندھی کلچر ڈے اور عالمی ثقافتی میلے نے اس تقریب کو ایک پُرجوش جشن میں تبدیل کردیا ہےوزیراعلیٰ سندھ نے بطور ِ مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور اس کے صدر محمد احمد شاہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے پاکستان کے ثقافتی منظر نامے میں ایک تاریخی اور قابل ذکر کارنامہ قرار دیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی نے 142 ممالک کے ایک ہزار سے زائد فنکاروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے دنیا کے لیے اپنی باہیں کھول دی ہیں، یہ صرف ایک تقریب نہیں ہے بلکہ یہ ایک سنگ میل ہے جو سندھ کے امن، رواداری اور مہمان نوازی کے پائیدار جذبے کو اجاگر کرتا ہے،142 ممالک کے 1ہزار سے زائد فنکاروں کی شرکت صوبے کےلیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے بہترین میزبانی سندھ کی ثقافت کا قدیم ورثہ ہے-

    مراد علی شاہ نے کہاکہ جس دن سندھی کلچر ڈے منایا جا رہا ہےاسی دن ورلڈ کلچر فیسٹیول کا اختتام ایک خوشگوار اتفاق ہے، سندھ کے ثقافتی دن اور عالمی آرٹ کے اتحاد نے اس دن کو سچ میں یادگار بنا دیا ہےاس دھرتی نے معروف شاعر، ادیب، مصور اور موسیقار پیدا کیے ہیں جو ایک طرح سے سندھ دھرتی کی ایک خوبصورت روایت کے طورپر چلی آرہی ہے ان میں شاہ عبداللطیف بھٹائی، شیخ ایاز، اے آر۔ ناگوری، مسرت مرزا، محمد جمن اور عابدہ پروین بطور آئیکن ہیں، جنہوں نےسرزمین کے امن اور محبت کے پیغام کوعام کیا۔

    پاکستان ہماری ذات، انا اور سیاست سے مقدم ہے،خواجہ آصف

    انہوں نے کہا کہ سندھ نے ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کی عالمی زبان بولی ہے اس فیسٹیول کی پرفارمنس امن و محبت کے پیغام کی بازگشت ہےوزیراعلیٰ نے آرٹس کونسل کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ آرٹس کونسل نے وہ کرکے دکھایا جسے بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے، 140 سے زائد ممالک سے فنکاروں کویکجا کرنا ایک مشکل کام ہے مگر احمد شاہ نے ثابت کر دیا کہ وژن اور عزم کے ساتھ کچھ بھی ناممکن نہیں ہےتقریب میں صوبائی وزراء، سفارتکاروں، سفیروں، قونصل جنرلز، اعلیٰ سرکاری افسران، فنکاروں، ثقافتی وفود اور میڈیا اراکین نے شرکت کی۔

    اسموگ بڑھنے کا خطرہ،وزارت قومی صحت کی ایڈوائزری جاری

    وزیر اعلیٰ سندھ نے فیسٹیول کو عالمی سطح پر کامیاب بنانے پر تمام غیر ملکی مشنز، بین الاقوامی فنکاروں اور مقامی فنکاروں کا شکریہ ادا کیا اور صوبے بھر میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا،انہوں نے کہا کہ ہم نے مل کر دنیا کو دکھایا کہ کراچی ایک عالمی ثقافتی دارالحکومت ہے اور سندھ امن، تنوع اور تخلیقی صلاحیتوں کی سرزمین ہے-

  • ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ

    ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی کی ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کے سنسنی خیز واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنگین غفلت قرار دیا ہے۔

    مراد علی شاہ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ ملیر جیل میں اس وقت 6 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق 216 قیدی جیل سے فرار ہوئے جن میں سے کئی کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ واقعے میں ایک قیدی کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ جیل حکام کی جانب سے قیدیوں کو بیرکس سے باہر نکالنے کا اقدام غیر ذمہ دارانہ تھا اور اس غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو ہر صورت سزا دی جائے گی جیلوں میں سیکیورٹی کے انتظامات ازسرنو دیکھے جا رہے ہیں اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، زلزلے کے باعث قیدیوں میں گھبراہٹ ضرور ہوئی تھی، تاہم اس صورتحال میں قیدیوں کو بیرکس سے نکالنا سراسر غلط فیصلہ تھا جس کے سنگین نتائج سامنے آئے۔

    آج سے جمعرات تک بارشیں

    انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اس افسوسناک واقعے کو ہرگز نظرانداز نہیں کرے گی، اور نہ ہی قیدیوں کی سیکیورٹی کو معمولی سمجھا جا سکتا ہے وزیراعلیٰ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ فرار ہونے والے تمام قیدیوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل ارشد شاہ نے جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے کہا کہ زلزلے کے جھٹکوں کے بعد جیل میں خوف و ہراس پھیل گیا، جس پر قیدیوں نے شور شرابا شروع کر دیا۔ ان کے مطابق دو سے ڈھائی ہزار قیدی ایک ہی مقام پر جمع ہوگئے جس سے صورتحال بگڑ گئی۔

    ارشد شاہ نے بتایا کہ بھگدڑ کے دوران جیل کے دروازوں کے کنڈے ٹوٹ گئے اور اسی ہنگامے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 216 قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے قیدیوں کو روکنے کی کوشش پر ایف سی اہلکاروں نے فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں ایک رینجرز اہلکار زخمی ہوا۔

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری

    سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ زلزلے کے بعد انہوں نے قیدیوں کو تسلی دینے کی کوشش کی کہ گھبرائیں نہیں، لیکن افراتفری نے حالات کو بے قابو کر دیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جیل حکام نے کسی قسم کی غفلت نہیں برتی اور سیکیورٹی میں کوئی واضح کمی نہیں تھی، مجھے جیسے ہی کال موصول ہوئی، میں فوراً جیل پہنچا، مگر قیدیوں نے مجھ پر بھی حملہ کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ جیل میں سیفٹی کیمروں کی تنصیب کا عمل سندھ حکومت کے تعاون سے جاری ہے تاکہ آئندہ ایسی کسی بھی صورتحال پر قابو پایا جا سکے بھگدڑ کا واقعہ رات 11 بجے کے بعد پیش آیا جب قیدیوں نے خوف کی حالت میں قابو کھو دیا اس وقت جیل میں صرف 28 اہلکار سیکیورٹی پر مامور تھے فرار ہونے والے بیشتر قیدی منشیات کے عادی اور انڈر ٹرائل تھے جنہیں جیل کا مخصوص لباس فراہم نہیں کیا جاتا۔
    بلوچستان میں دو آپریشنز، فتنہ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاک

    کراچی میں منگل کی صبح اُس وقت ہلچل مچ گئی جب ملیر جیل سے اچانک سیکڑوں قیدی فرار ہو گئے۔ جیل میں اچانک زلزلے کے جھٹکوں کے بعد قیدیوں نے شورش برپا کی، گولیاں چل گئیں، اور قیدی دیواریں پھلانگ کر قریبی آبادیوں میں جا نکلے۔ پولیس، رینجرز اور ایف سی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اب تک 80 سے زائد قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے، تاہم 135 سے زائد تاحال لاپتہ ہیں۔

    واقعے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک قیدی مارا گیا جبکہ تین زخمی ہو گئے۔ ایف سی کے تین اہلکاروں سمیت پانچ سیکیورٹی اہلکار بھی شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    ڈی آئی جی جیل خانہ جات حسن سہتو کے مطابق صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے اور جیل اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں نے زلزلے کے بہانے سے بیرکس سے باہر نکلنے کا موقع بنایا، تاہم کسی بھی خطرناک مجرم کے فرار ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

    ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد: ملزمان دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

  • وزیراعلیٰ سندھ کا کسی قیمت پر نہروں کا منصوبہ نہ بننے دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ کا کسی قیمت پر نہروں کا منصوبہ نہ بننے دینے کا اعلان

    کراچی: پاکستان میں پانی کے وسائل کے معاملے پر صوبائی کشیدگی دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کسی قیمت پر نہروں کا منصوبہ نہ بننے دینے کا اعلان کیا ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ ہر گارنٹی دینے پر تیار ہیں کہ سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی عوام کی طاقت سے نہروں کا منصوبہ بننے نہیں دے گی جولائی 2024 سے نہر منصوبے پر کام اور نومبر سے ایکنک میں منظوری رکی ہوئی ہے، اس بات پر ناخوش ہیں کہ اب تک اس منصوبے کو ختم کیوں نہیں کیا گیا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کو بھی نہروں کے نتائج کی سنگینی کا اندازہ ہے، امید ہے وزیراعظم انصاف سے کام لیں گے وکیل اور قوم پرست احتجاج ضرور کریں مگر اپنے لوگوں کو تکلیف دینے سے گریز کریں، پیپلزپارٹی اور مظاہرین کا مقصد ایک ہے، اگر ہم ناکام ہوئے تو پھر ہم بھی ہر طرح سے احتجاج کریں گے، ضمانت دیتا ہوں کہ کینالز نہیں بنیں گے، اگر بات ہاتھ سے نکل گئی، اگر ناکام ہو ئے تو احتجاج کی قیادت خود کریں گے۔

    علیمہ خان کے جیل حکام پر سنگین الزامات

    دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے نہروں کے معاملے پر مسلسل تیسرے روز وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن سے فون پر رابطہ کیا،شرجیل میمن نے بتایا کہ راناثنااللہ نے اس معاملے پر سنجیدگی دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف یہ معاملہ بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں، ہم بھی چاہتے ہیں کہ وزیراعظم سندھ کے عوام کےخدشات دور کریں-

    پی ٹی آئی کو کرش کرنے کیلئے ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا،عمران خان

  • مراد علی شاہ کو گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    مراد علی شاہ کو گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    لاہور:وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ کو سندھ کے کسانوں سے زیادہ پنجاب کے کسانوں کی فکر لاحق ہے، سندھ 16 سالہ کارکردگی بتائے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مراد علی شاہ کو سندھ کے کسانوں سے زیادہ پنجاب کے کسانوں کی فکر لاحق ہے پنجاب کے کسانوں کی فکر کرنے کے لیے پنجاب کے وار ث خود موجود ہیں کیا سندھ میں کاشتکار نہیں؟ اور کیا سندھ حکومت نے گندم کی قیمت مقرر کی ہے؟ کیا سندھ حکومت نے کسانوں سے گندم خرید لی ہے؟

    انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ اور ان کی جماعت گزشتہ 16 سالوں سے سندھ میں حکمران ہیں، اب انہیں اپنی کارکردگی بتانی چاہیے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک سال میں پنجاب کے کسانوں کو 110 ارب روپے کا تاریخی پیکیج دیا ہے پنجاب کے کسانوں کو کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر اور سپر سیڈر بھی فراہم کیے جا چکے ہیں مریم نواز نے ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن اور گندم پر 15 ارب روپے کا پیکیج دیا ہے۔

    بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ تباہ ہوگیا،پائلٹ ہلاک

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں اس سال ریکارڈ گندم کی پیداوار ہوئی ہے اور آئندہ سال اس سے بھی زیادہ پیداوار حاصل ہو گی، پنجاب کی ترقی اور خوشحالی اب دو صوبوں کی حکومتوں کے اعصاب پر سوار ہو چکی ہے مراد علی شاہ سندھ کی مرکزی شاہراہ بند کرنے والے مظاہرین کی حمایت کر رہے ہیں مراد علی شاہ کو گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے۔

    واضح ر ہے کہ پاکستان میں پانی کے وسائل کے معاملے پر صوبائی کشیدگی دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو بارہا کہا گیا ہے کہ متنازعہ کینال منصوبے ختم کیے جائیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ منصوبے پر کام نہ ہونے کے برابر ہے اور جو کچھ ہوا وہ بھی صرف جولائی میں ہوا،سندھ کے عوام کو گمراہ نہ کیا جائے۔

    آسمان پر یہ ‘مسکراتا’ چہرہ دیکھنے کیلئے تیار ہو جائیں

    انہوں نے نہر معاملے پر احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی کہ احتجاج ضرور کریں مگر عوام کی تکلیف کا باعث نہ بنیں کہ ضمانت دیتا ہوں کہ کینالز نہیں بنیں گے، اگر بات ہاتھ سے نکل گئی، اگر ناکام ہوئے تو احتجاج کی قیادت خود کریں گے۔

    مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ حکومت نے معاملے کو سی سی آئی اور ایکنک تک پہنچایا، اور اب یہ منصوبہ ایکنک میں رکا ہوا ہے انہوں نے وکلاء برادری کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ کی عوام اور حکومت ایک پیج پر ہیں، اور کینالز کی مخالفت مشترکہ مقصد ہے پنجاب کے فارمر کی بات سنی، وہ کہہ رہے تھے کہ اگلےسال گندم کاشت نہیں کریں گے،چین میں 60 سے 65 من فی ایکڑ گندم پیداوار ہے، گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنی ہوگی۔

    علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

  • پیپلزپارٹی کینال معاملےپر ہر چیز کی قربانی دےسکتی ہے،مراد علی شاہ

    پیپلزپارٹی کینال معاملےپر ہر چیز کی قربانی دےسکتی ہے،مراد علی شاہ

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ غلط باتیں پھیلا کر پیپلزپارٹی کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گڑھی خدا بخش بھٹو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غلط باتیں پھیلا کر پیپلزپارٹی کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہےآئین کےمطابق ہر3 ماہ میں سی سی آئی اجلاس ہونا چاہئیےلیکن یہ اجلاس نہیں بلاتےسی سی آئی میں کینالز کو چیلنج کیا ہوا ہے آپ سےزیادہ میرے لیےکینال اہم معاملہ ہے پیپلزپارٹی کینال معاملےپر ہر چیز کی قربانی دےسکتی ہے،ن لیگ ہماری سپورٹ سےحکومت میں ہے حکومت گرانااپوزیشن چاہتی ہے-

    مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاق نےکینال کی منظوری نہیں دی ہم کینال نہیں بننےدینگےنہ بن رہے ہیں، دھرنوں سےلوگ نہیں رکیں گے، جلسےمیں لوگ آئیں گے پنجاب حکومت نے کینالز کا منصوبہ بنایا ہے، کینالز کےخلاف احتجاج کریں، ہمارے خلاف احتجاج نہ کریں۔

    یونان میں تارکین وطن کی ایک اور کشتی ڈوب گئی، 7 افراد ہلاک

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عوام جانتے ہیں صوبوں کی ہم آہنگی کتنی ضروری ہے، سندھ حکومت کوشش کررہی ہے کہ کسان کو اسکی محنت کا پورا صلہ ملے جنوری میں نگراں دور میں ارسا نےسرٹیفکیٹ دیا، ہم نےارسا سرٹیفکیٹ پر دس ماہ قبل اعتراض کیا تھا،میرا خط سوشل میڈیا پر بہت پھیل رہا ہے، لوگ ڈس انفارمیشن پھیلاتے ہیں۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا جواب ہم نےبھیجا ہے، کینالز پر سب سے پہلےمخالفت ہم نے کی تھی ایکنک اجلاس کےایجنڈا پر کینال نہیں لایا گیا سختی سےتردید کرتا ہوں کہ کینال پر کام ہورہا ہے چھوٹےواٹرکورسز کو کینال نہ سمجھیں کینال کوئی نہیں نکلا ہے،انہوں نے سوال کیا کہ پیسوں کےبغیر کینال کا کام کیسےہوگیا؟ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گمراہ کرکے پیپلزپارٹی کو ہدف نہ بنایا جائے۔

    ماہرین فلکیات نے ایک دور دراز کہکشاں دریافت کر لی

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سی سی آئی اجلاس بلانے پر جواب نہیں آیا آئین میں ہے کہ ہر تین ماہ میں سی سی آئی اجلاس ہوآئین کہتا ہےکہ سی سی آئی اجلاس ہونا چاہئے ہم نےسی سی آئی میں ارسا کی اپروول کو چیلنج کیا ہے وہ خود ہی سی سی آئی سےبھاگ رہے ہیں، صدر زرداری نےدنیا کےسامنےکہاکہ کینالز کو سپورٹ نہیں کرتا کینالز کےخلاف ہمارا کیس مضبوط ہے وہ کبھی کینالز نہہں بنا سکتے وزیراعظم سےدرخواست ہےکہ وہ فی الفور کینالز منصوبہ واپس لینےکا اعلان کریں۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ پنجاب حکومت کینالز کا کیس لائی وفاقی وزارت منصوبہ بندی نےبھی اس پر اعتراض کیا تھا سب جانتےہیں صوبوں کی ہم آہنگی کتنی ضروری ہے سب انشااللہ سازشوں کو ناکام کریں گے حکومت گندم کی امدادی قیمت کا تعین نہیں کررہی ہے۔

    باغبانپورہ قبرستان سے لڑکی کی لاش ملنے کے معاملے میں اہم انکشافات

  • سندھ  میں اراضی ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ

    سندھ میں اراضی ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ

    وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے اراضی ریکارڈ کو جدید بنانے کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے سندھ حکومت نے ایک جدید ڈیجیٹلائزیشن اقدام شروع کیا ہے جس کا مقصد جائیداد کے انتظام میں درستگی، تحفظ اور کارکردگی کو یقینی بنانا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلی ہائوس میں ہونے والے اجلاس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (ایس ایم بی آر)بقا اللہ انڑ، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر آصف شیخ، سیکریٹری آئی ٹی نور احمد سموں، اسپیشل سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن زمان ناریجو اور دیگر نے شرکت کی۔شروع میں وزیراعلی مراد شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ زمین کی منتقلی کے پچھلے 12 اقدامات کے عمل کو سنگل سٹیپ ڈیجیٹل میکانزم میں ہموار کیا جانا چاہیے جس سے رسائی میں آسانی کو یقینی بنایا جائے اور بیوروکریٹک تاخیر کو ختم کیا جائے۔

    انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سندھ کا ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم جدید، ٹیکنالوجی سے چلنے والی گورننس، بدعنوانی کو کم کرنے، حق ملکیت کو یقینی بنانے اور جائیداد کے لین دین کو تیز کرنے کے لیے ایک مثال قائم کرے گا۔ چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ نے وزیر اعلی کو ای سسٹم کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے ایک حصے کے طور پر زمینی ریکارڈ کو دوبارہ لکھا جا رہا ہے اور اس کی تصدیق کی جا رہی ہے، ایک ڈیجیٹل لینڈ رجسٹر بنایا جا رہا ہے اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ چھیڑ چھاڑ سے محفوظ ریکارڈ کو یقینی بنایا جا سکے۔

    انھوں نے وزیراعلی کو بتایا کہ اس کے علاوہ ویب پر مبنی ای-ٹرانسفر سسٹم سرکاری دفاتر کے دوروں کی ضرورت کے بغیر ،بغیر کسی رکاوٹ کے جائیداد کے لین دین کی سہولت فراہم کرے گا۔نظر ثانی اور تصدیق: درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ولیج کے فارم-VII-A اور ولیج فارم-II کے ریکارڈ کو دستی طور پر دوبارہ لکھ رہی ہے جو کہ زمین کی ملکیت کے ڈیٹا کی بنیاد کے طور پر کام کرتے ہیں، چیف سیکرٹری نے وزیراعلی کو بتایا کہ ایک کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) لنکیج سسٹم کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ مالکیت کی تصدیق اور دستاویزات کی غلطیوں کی تصدیق کی جا سکے۔

    ڈیجیٹل لینڈ رجسٹر کی تشکیل: چیف سیکرٹری نے وزیر اعلی کو بتایا کہ ایک جامع ڈیجیٹل لینڈ رجسٹر تیار کیا جا رہا ہے تاکہ پورے دیہوں(دیہات)کے سروے نمبر وار رقبہ کی تفصیلات درج کی جا سکیں۔ آصف حیدر شاہ نے وزیر اعلی کو بتایا کہ یہ سسٹم ناقابل منتقلی زمین کے زمرے کا ڈیٹا بھی رکھے گا، بشمول جنگل کی زمین، گاں کی زمین، قبرستان، اور بھاڈا زمین (لیز پر دی گئی زمین)، اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یہ جائیدادیں محفوظ رہیں اور غیر مجاز لین دین سے بالاتر ہوں۔

    چیف سیکرٹری نے وزیر اعلی مراد شاہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام میں سب سے اہم پیش رفت بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔انہوں نے کہا کہ دوبارہ تحریری اور تصدیق شدہ ریکارڈ (V.F.VII-A&V.F.II) کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے گا اور بلاک چین پر مبنی ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جائے گا، جس سے وہ ناقابل تغیر اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رہیں گے۔اور مزید کہا کہ یہ انفراسٹرکچر CNIC سے منسلک ملکیت کی تصدیق کو بھی قابل بنائے گا، ایک محفوظ اور شفاف لینڈ رجسٹری سسٹم تشکیل دے گا۔

    زمین کے عنوانات کی ویب پر مبنی ای ٹرانسفر:وزیراعلی مراد علی شاہ نے کہا کہ نیا نظام بغیر کاغذ کے، بغیر چہرے کے اور بغیر کسی رکاوٹ کے زمین کے ٹائٹل کی منتقلی کا طریقہ کار متعارف کرائے گا، جس سے ریونیو دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے، عوامی خدمت کے مراکز پر بائیو میٹرک تصدیق ہی واحد ضرورت ہوگی، جس سے اس عمل کو زیادہ محفوظ اور موثر بنایا جائے گا،اور مزید کہا کہ سسٹم کو نادرا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، بینکوں اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ ریئل ٹائم ڈیٹا کی تصدیق کے لیے مربوط کیا جائے گا۔
    پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری:وزیراعلی مراد شاہ نے چیف سیکریٹری کی سفارش پر اس ڈیجیٹل فریم ورک کی تاثیر کو جانچنے کے لیے سندھ حکومت نے دیہہ مٹیاری اور پلیجانی (ضلع اور تعلقہ مٹیاری)اور دیہہ باگرجی (تعلقہ اور ضلع سکھر)میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری دی ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ ان علاقوں کا انتخاب آئی بی اے سکھر کے تعاون سے زمینی ریکارڈ کی دوبارہ تحریر اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے کیا گیا ہے جو اس تبدیلی کے لیے تکنیکی فریم ورک تیار کر رہا ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی، بائیو میٹرک تصدیق، اور ویب پر مبنی جائیداد کی منتقلی کے انضمام کے ساتھ، سندھ مستقبل کے زمینی انتظام کے نظام کی طرف بڑھ رہا ہے جو زیادہ کارکردگی، تحفظ اور عوامی اعتماد کا وعدہ کرتا ہے۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی صوبے بھر میں عملدرآمد کی راہ ہموار کرے گی، سندھ میں زمین کی ملکیت اور جائیداد کے لین دین میں انقلاب برپا کرے گی۔

    دبئی میں گداگروں کے خلاف کارروائیاں، 127 گرفتار

    دبئی میں گداگروں کے خلاف کارروائیاں، 127 گرفتار

    گزشتہ کئی ماہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    تربیلا ڈیم میں پانی کی کمی،لوڈشیڈنگ کا خدشہ

  • سندھ حکومت نے پانی کے بحران سے نمٹنے کیلئے مؤثر حکمت عملی تیار کر لی ہے،مراد علی شاہ

    سندھ حکومت نے پانی کے بحران سے نمٹنے کیلئے مؤثر حکمت عملی تیار کر لی ہے،مراد علی شاہ

    کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پانی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں عوام سے اپیل کی کہ پانی کے ضیاع کو روکا جائے تاکہ ہماری نسلوں کے لیے محفوظ مستقبل یقینی بنایا جا سکے زمین کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے پانی کے وسائل کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔

    باغی ٹی وی : مراد علی شاہ نے سندھ میں پانی کی شدید قلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے بحران کی وجہ سے زراعت اور معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جبکہ سندھ کے کسان اور ماہی گیر مشکلات کا شکار ہیں، دریائے سندھ کے بہاؤ میں کمی کے باعث لاکھوں لوگوں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے، جبکہ ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم نے دریائے سندھ کے وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ سندھ کے پانی کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا انہوں نے دریائے سندھ پر نئے کینال بنانے کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے پانی کے بحران کو مزید سنگین بنا دیں گےپانی کی غیر منصفانہ تقسیم سے سندھ میں قحط کا خدشہ ہے اور اس بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں،دریائے سندھ کی خشک لہریں زندگی اور زرا عت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔

    علی امین گنڈاپور اور عاطف خان کے اختلافات: ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استعفیٰ طلب

    مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم دریائے سندھ کے محافظ ہیں اور پیپلز پارٹی ہمیشہ پانی کے معاملے پر فرنٹ لائن پر رہی ہے جب سندھ کی زرخیز زمین کے لیے پانی دستیاب نہیں، تو نئے کینال کیسے بنائے جا رہے ہیں؟ دریائے سندھ کا پانی کئی سالوں سے انڈس ڈیلٹا تک نہیں پہنچا، جس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ اراضی سمندر برد ہو چکی ہے۔

    پاکستانی شخص کا قانونی طور پر بغیر ویزا بھارت کا سفر

    انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے تاکہ سب کو اپنے حصے کا پانی مل سکےسندھ حکومت نے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کر لی ہے انہوں نے عوام سے عہد لینے کی اپیل کی کہ ہم پانی کے ہر قطرے کی حفاظت کریں گے، کیونکہ پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔

    اسرائیلی سپریم کورٹ نے نیتن یاہو کا انٹیلیجنس سربراہ کی برطرفی کا حکم روک دیا