Baaghi TV

Tag: مراد علی شاہ

  • ملکی ترقی میں ملازمت پیشہ خواتین برابر کا کردار ادا کر رہی ہیں، مراد علی شاہ

    ملکی ترقی میں ملازمت پیشہ خواتین برابر کا کردار ادا کر رہی ہیں، مراد علی شاہ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ملکی ترقی میں ملازمت پیشہ خواتین برابر کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی میں مراد علی شاہ کا ملازمت پیشہ خواتین کے قومی دن پراپنےپیغام میں کہنا تھا کہ ملازمت پیشہ خواتین کے جمہوریت اور معیشت کے لیے کردار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ملکی ترقی میں ملازمت پیشہ خواتین برابر کا کردار ادا کر رہی ہیں، حکومت سندھ ملازمت پیشہ خواتین کے کردار کو ناگزیر سمجھتی ہے، حکومت سندھ نے ملازمت پیشہ خواتین کےلیے پورے ملک سے زیادہ اقدامات کیے۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ شہید بے نظیر بھٹو نے ملازمت پیشہ خواتین کے لیے فرسٹ ویمن بینک کا آغاز کیا، پیپلزپارٹی حکومت نے خواتین کو زرعی زمین، گھروں کی اسناد اور بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے بااختیار بنایا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملازمت پیشہ خواتین کےلیے پنک بس کا آغاز کیا گیا،صوبے میں ملازمت پیشہ خواتین کے تحفظ کے لیے الگ محتسب مقرر کیا ہے، خواتین کے لیے مزید روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں ، خواتین کو محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

    پاراچنار رستے بند، ادویات قلت، 50 بچے انتقال کرگئے

    پاکستان سپر لیگ 10 ،فینز چوائس ایوارڈز متعارف کرانے کا فیصلہ

    بھارتی شہر اندور میں نئے سال سے بھکاریوں کو خیرات دینے پر پابندی

  • وزیراعلیٰ سندھ سے سابق آئی جیز کی ملاقات، پولیس اصلاحات پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ سندھ سے سابق آئی جیز کی ملاقات، پولیس اصلاحات پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ کی فراہمی، جدید آلات اور خصوصی تربیت کے ذریعے پولیس کو مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سابق آئی جیز کی تنظیم اے ایف آئی جی پی کے وفد سے خطاب کر رہے تھے۔ وفد کی قیادت تنظیم کے سربراہ افضل شگری کر رہے تھے۔ ملاقات میں وزیرداخلہ ضیاالحسن لنجار، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر ملاقات خوشگوار رہی، انتظامی بہتری، احتساب اور محکمے کے اندر اتنظامی خودمختاری پر بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ میں اضافے، جدید آلات کی فراہمی اور خصوصی ٹریننگ پروگرامز کے ذریعے پولیس کو مستحکم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے احتساب اور دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے عوام کے اعتماد کی بحالی پر زور دیا، پولیس کے اندرونی تنازعات سے بچنے کےلیے انتظامی خود مختاری پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2002 کے بعد پولیس اور سول سروس کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل ہوگیا ہے اس لیے تمام سروسز کے درمیان بہتر تعاون کی ضرورت ہے۔ سابق آئی جیز نے کانسٹیبلز کو تعلیمی قابلیت، لکھنے کی صلاحیت اور آئی ٹی اسکلز کے ذریعے بااختیار بنانے اور تحقیقات کا آغاز کانسٹیبل لیول سے کرنے کی تجویز دی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے مالیاتی اختیارات تھانے کی سطح تک منتقل کردیے ہیں لیکن کانسٹیبل کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ سابق آئی جیز نے وزیراعلیٰ سندھ سے اپیل کی کہ شکایات کے اندراج اور نگرانی کےلیے سیںٹرلائزڈ ریسورس منجمنٹ سسٹم ( آر ایم ایس) قائم کیا جائے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آر ایم ایس کمپلیمنٹ سیل بنانے کی ضرورت ہے جہاں شکایات درج کرنے کےلیے پولیس کے علاوہ لوگ تعینات کیے جائیں۔ اس موقع پر اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرز پر اربن پولیسنگ کا ماڈل اختیار کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جرائم کی کھوج لگانے اور متاثرین کے تحفظ کے نظام پر بھی بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے سابق آئی جیز سے کہا کہ اس سلسلے میں وہ اپنی تجاویز ارسال کریں۔ ملاقات میں پولیس کو 1972 میں حیدرآباد میں الاٹ کی گئی 150 ایکڑ زمین کے جاری تنازعے پر بھی تبادلہ خیال گیا۔ اس موقع پر کراچی میں ٹریفک کے انتظام میں بہتری اور سی پی ایل سی کو دیگر شہروں تک پھیلانے پر بھی بات کی گئی۔ سابق آئی جیز نے پولیس افسران اور ان کی فیملیز کےلیے حکومت سندھ کے حال میں میں متعارف کرائے گئے میڈیکل انشورنس کی تعریف کی اور اس کو پورے ملک کےلیے ایک مڈال اقدام قرار دیا۔ ملاقات کا اختتام اصلاحات کےلیے تعاون بڑھانے کے عزم پر کیا گیا۔ افضل شگری نے دعوت دینے پر وزیراعلیٰ سندھ کا شکریہ ادا کیا۔ تعاون کی یہ سوچ پبلک سیفٹی میں اضافے اور سندھ پولیس میں اعتماد کی بحالی کی جانب اہم قدم ہے۔

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    چیٹ جی پی ٹی بھی واٹس ایپ پر آگیا، نمبر جاری

  • وزیر اعلیٰ سندھ سے پنجاب و  خیبر پختونخواہ گورنرز کی ملاقات

    وزیر اعلیٰ سندھ سے پنجاب و خیبر پختونخواہ گورنرز کی ملاقات

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے گورنرز نے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ملاقات میں صوبائی وزراء،شرجیل انعام میمن، جام خان شورو، سعید غنی اورجام اکرام اللہ دھاریجو بھی شریک تھے۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو خوش آمدید کہا۔ملاقات میں پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں پیپلز پارٹی کی مضبوطی پر بات چیت کی گئی اور دونوں صوبوں کی عوام تک چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا پیغام پہچانے پر گفتگو ہوئی۔ملاقات میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے یوم شہادت کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔وزیراعلیٰ سندھ اور دونوں گورنرز نے ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    لیبیا کشتی حادثے میں ملوث زمانہ اشتہاری ملزم گرفتار

    نئے دریافت علاقے سے تیل و گیس کی پیداواری سرگرمیاں شروع

    ڈی جی رینجرز سندھ کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

  • وزیراعلی سندھ سے مشیر اطالوی وزارت دفاع کی  وفد سمیت ملاقات

    وزیراعلی سندھ سے مشیر اطالوی وزارت دفاع کی وفد سمیت ملاقات

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سے اطالوی وزارت دفاع کے سینئر مشیر فرانسسکو ماریا ٹالو کی قیادت میں اعلی سطح کے وفد کی ملاقات میں تجارت، تعلیم ، کلچر اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ملاقات میں اطالوی سفیر ای مارلینا آرمیلن اور دیگر اہم سفارت کار بھی موجود تھے۔ملاقات اٹلی اور پاکستان خصوصا سندھ کے درمیان تعاون بڑھانے کی جانب اہم قدم ہے۔ اس موقع پر فریقین نے مختلف شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دے کر لوگوں کے لئے مواقع پیدا کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اطالوی مہمان وفد کے ساتھ بات چیت میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اطالوی ماہرین کو افرا اسٹرکچر کی بہتری کے لئے دعوت دینے، مقامی صنعتوں کی بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ترقی اور سندھی طلبہ کو اطالوی انسٹی ٹیوشنز میں تعلیم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی پر زور دیا۔ملاقات کے دوروان پرجوش گفتگو سے یہ بات سامنے آئی کہ تمام مقاصد کی تکمیل ممکن ہے۔ وزیراعلی اور اطالوی وفد نے تجارت، کلچر، تعلیم کے میدان میں تعلقات بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سندھ اور اطالوی صنعتوں کے درمیان کپڑے، چمڑے اور زراعت میں تعاون سے معاشی ترقی کی نئی منڈیاں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ سیکیورٹی، انسداد دہشتگردی اور آفات سے نمٹنے کیلیے اٹلی کی جدید مہارتوں پر بھی بات کی گئی۔وزیراعلی کا کہنا تھا کہ سندھ کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو تربیت اور شہری علاقوں میں آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں میں اضافے کے وسیع امکانات موجودہ ہیں۔ ملاقات میں سندھ کے انفراسٹرکچر قابل تجدید توانائی منصوبوں اور مواصلاتی نظام میں اطالوی سرمایہ کاری میں دلچسی کا اظہار کیا گیا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں اطالوی مدد سے سندھ کی معیشت کو بڑا سہارا مل سکتا ہے۔وزیراعلی سندھ نے نشاندہی کی کہ سندھ کے قابل طلبہ اسکالر شپ لے کر اطالوی اداروں میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور فیشن ، ڈیزائن اور انجنیئرنگ کے ووکیشنل ٹریننگ پروگراموں میں شرکت کرسکتے ہیں۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے میں اٹلی کی ورلڈ کلاس مہارت سے سندھ کے تاریخی مقامات کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ اس موقع پر وزیراعلی نے مشترکہ میلے اور ثقافتی پروگرام منعقد کرنے پر بھی بات کی تاکہ دونوں علاقوں کے زرخیز ثقافتی ورثے کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔ملاقات میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، اربن فلڈنگ کے خاتمے اور پائیدار زرراعت کے فروغ کیلیے اطالوی معاونت کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ کا ایک خاص طور پر متاثر کن پہلو خصوصی بچوں اور پسماندہ طبقات کی مدد سے متعلق انسانی ہمدردی کے منصوبوں پر زور دینا تھا،۔ یہ ایک ایسا مقصد ہے جو وزیر اعلی مراد علی شاہ کے دل کے قریب ہے۔یہ ملاقات ٹھوس نتائج کی امید دلاتی ہے، جن میں مفاہمتی یادداشتیں اور مشترکہ منصوبے شامل ہو سکتے ہیں۔ سندھ اور اٹلی کے درمیان تعاون اس شراکت داری کو دونوں خطوں کے لیے ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور میں داخل کر سکتا ہے۔

    شرپسندوں کے خلاف سخت کاروائی کے لئے اقدامات تیز کئے جائیں،وزیراعظم

    ٹرمپ کا امریکی شہریت کا پیدائشی حق ختم کرنے کا اعلان

    بشریٰ بی بی جیل سے روانہ،وارنٹ منسوخ،فردجرم عائد نہ ہو سکی

  • پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    پیپلزپارٹی گورنر راج ،پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی گورنر راج اور سیاسی پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کے نجی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پیپلزپارٹی گورنر راج اور پارٹی پر پابندی کے حق میں نہیں ہے۔ صوبے اور سیاسی جماعت کو اپنی اصلاح کرنی ہوگی، سی سی آئی اجلاس بلانے کا ہمارا مطالبہ آئینی ضرورت ہے۔ہر صوبہ اپنے فائدے کے لیے منصوبہ بناتا ہے، آئین میں لکھا ہے پانی کی کوئی اسکیم سی سی آئی کے بغیرنہیں ہوگی۔مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ سندھ کے حصے کا ایک قطرہ کوئی لے سکے، سستی شہرت لینا بہت آسان ہے۔ہم نے جے یو آئی کی اے پی سی میں شرکت کی، کچھ جماعتوں کا مقصد صوبے کے مفاد کے خلاف جانا ہے لیکن میں سستی شہرت کے پیچھے نہیں۔
    وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی صحافت کی آزادی پر یقین رکھتی ہے، آصف زرداری مسلسل 11 سال جیل میں رہے جب کہ نوازشریف اور شہباز شریف بھی جیل میں رہے لیکن کسی نے ایسا نہیں کیا اور ہم عدالتوں سے سرخرو ہوئے۔

    سڑکوں ،موٹرویز کی بندش کیخلاف درخواست نمٹا دی گئی

    ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ

    پشاورمیں رواں برس قتل واقدام قتل کے واقعات میں اضافہ

    چیمپئنز ٹرافی کے لیے بلائے اجلاس میں پاکستان ڈٹ گیا

  • پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کو ایک موثر، ٹیکنالوجی سے لیس فورس میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ عوام کے تحفظ اور سندھ کے عوام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کو فروغ دیا جاسکے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس میں 51ویں خصوصی تربیتی پروگرام اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) کے 27ویں ابتدائی کمانڈ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1843 میں قائم ہونے والی سندھ پولیس برصغیر کا سب سے قدیم پولیس ادارہ ہے اور عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کےلیے اسے جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ 1 لاکھ62 ہزار اہلکاروں پر مشتمل سندھ پولیس پاکستان کی دوسری بڑی فورس ہے جو جرائم کی روکتھام، سراغ رسانی اور قیام امن کےلیے پرعزم ہے۔ ۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، سیکرٹری داخلہ اقبال میمن، پی ایس سی ایم آغا واصف، آئی جی پولیس غلام نبی میمن اور دیگر نے شرکت کی۔مراد علی شاہ نے پولیس کی کارکردگی اور صلاحیت بڑھانے کےلیے کئی اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ اسمارٹ سرویلئینس سسٹم ( ایس 4 منصوبہ ) ہے جس کے تحت سندھ بھر کے 40 ٹول پلازوں پر نگراں کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ اس سسٹم کی تنصیب کا مقصد اہم داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی ، بروقت کارروائی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس آپریشنز کو یقینی بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، کراچی سیف سٹی پراجیکٹ سندھ پولیس کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔جرائم کے خاتمے کی حکومتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے سندھ ہیبیچوئل آفنڈرز مانیٹرنگ ایکٹ 2022 کا ذکر کیا جس کے تحت ڈکیتی، بھتہ خوری اور گاڑیوں کی چوری میں ملوث عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جی پی ایس سے منسلک کڑے اور بریسلٹس مجرموں کی بروقت نگرانی کو یقینی بنائیں گے تاکہ صوبے میں محفوظ علاقوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ محکمہ پولیس کی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ اہم شعبوں کو مضبوط کرنے کےلیے خاطرخواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کو 2 ارب 70 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اسپیشل برانچ نے 1 ارب 20 کروڑ روپے وصول کیے ہیں جبکہ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کو 60 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انویسٹی گیشن آفیسرز کےلیے بھی انعامات رکھے گئے ہیں۔ پولیس تھانوں کےلیے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ایس ایچ اوز کو ڈی ڈی او کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ سندھ پولیس کے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی مدد کےلیے حکومت سندھ نے 4 ارب 96 کروڑ اور 10 لاکھ روپے مالیت کا انشورنس پروگرام متعارف کرایا ہے۔ شہدا پیکج میں اضافے پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے جس کے تحت معاوضے کی رقم ایک کروڑ سے بڑھا کر 2 کروڑ 30 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ شہید کے خاندان کو ریٹائرمنٹ کی عمر تک تنخواہ کی ادائیگی اور خاندان کے 2 افراد کو ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ مہارت میں اضافے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت پالیسیوں اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کےلیے پولیس افسران، وکلا اور ججز کےلیے تربیتی پروگرام پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اہلکاروں کو جدید چیلنجز اور قیام امن کے قابل بنانے کےلیے صلاحیتوں میں اضافے کے اقدامات جاری ہیں۔ سندھ حکومت کے جامع اقدامات سندھ پولیس کو جدید ، مستعد اور ٹیکنالوجی سے لیس فورس بنانے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان اقدامات سے عوام کے تحفظ اور قانون پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے سندھ پولیس پاکستان کی مثالی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی بننے جا رہی ہے۔

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • مراد علی شاہ کا مشترکہ مفادات کونسل اجلاس بلانے کا مطالبہ

    مراد علی شاہ کا مشترکہ مفادات کونسل اجلاس بلانے کا مطالبہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت سے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آئین کی دفعہ 154 (4) کے تحت ہر نوے روز میں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانا لازمی ہے۔ 9 ماہ ہو چکے ہیں اور مشترکہ مفادات کونسل کا ایک اجلاس بھی نہیں بلایا گیا، انہوں نے نشاندہی کی کہ آئین کی رو سے اب تک تین اجلاس ہو جانے چاہئیں تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت کو ہر صورت میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانا چاہیے۔ دسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس کے پروبیشنری آفسرز نے بھی ملاقات کی۔ مراد علی شاہ نے افسران کے وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطالعاتی دورے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے افسران کے مستقبل کے بارے میں نیک تمناؤں کا اظہار کیا تاہم واضح کیا کہ کیریئر میں پروفیشنلزم اور ایمانداری اہم ہے۔ ہمارے ملک کو باصلاحیت آڈٹ و اکاؤنٹس افسران کی ضرورت ہے اور یقین ہے آپ اس پر پورا اتریں گے۔ ملاقات میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف ، ریکٹر اکیڈمی سمینا فیاض، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، پیپلز ہاؤسنگ کے سی ای او خالد شیخ اور دیگر حکام شریک تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے افسران کو حکومت سندھ کے کئی اقدامات کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ کا سالانہ ترقیاتی پروگرام493.09 ارب روپے کا ہے جس میں وفاقی پی ایس ڈی پی کا حصہ76.97 ارب روپے ہے۔ 334 ارب روپے کے بیرونی امدادی منصوبے ہیں جبکہ ضلعی ترقیاتی پروگرام کےلیے 55 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کی ترجیحات بتاتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ابتدائی تعلیم کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت اور سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی دوبارہ تعمیر اولین ترجیحات ہیں۔ صحت کے میدان میں حکومت سندھ کی توجہ بنیادی صحت اور زچہ و بچہ کی دیکھ بھال کی سہولیات پر ہے۔ مراد علی شاہ نے اپنی انتظامیہ کی ترجیحات کے اہم شعبوں پر بھی روشنی ڈالی، انہوں نے بتایا کہ سماجی تحفظ ، خواتین کو بااختیار بنانے، غربت کے خاتمے اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کےلیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے کے بارے میں وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس وقت کئی منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی 2025 تک تکمیل متوقع ہے۔ کم آمدن والے گھرانوں کو سولر ہوم سسٹم کی فراہمی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    وی پی این کے متعلق اسلامی کونسل کا فتویٰ نہیں آیا،راشد سومرو

    مالی تنگدستی،نارتھ کراچی میں 2 بچوں کے باپ کی خود کشی

    اسپیکر سندھ اسمبلی سے ترکی کے سفیر کی ملاقات

  • وزیر اعلیٰ سندھ  کا بچوں کےلیے سندھ بھر میں مخلوط تعلیم کی ضرورت پر زور

    وزیر اعلیٰ سندھ کا بچوں کےلیے سندھ بھر میں مخلوط تعلیم کی ضرورت پر زور

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اجالا سنٹر کا دورہ کیا-

    باغی ٹی وی: انتظامیہ سے ملاقات میں خصوصی ضروریات کے حامل بچوں خصوصاً آٹزم کا شکار بچوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا وزیرا علیٰ سندھ کو اجالا 2 سی آرٹس پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی،منصوبے کا مقصد آٹزم اور اس سے متعلقہ حالات کا شکار بچوں کی مدد کرنا ہے-

    سید مراد علی شاہ نے بچوں کےلیے سندھ بھر میں مخلوط تعلیم کی ضرورت پر زور دیا، وزیراعلیٰ سندھ نے خصوصی ضروریات کے حامل بچوں کےلیے کلفٹن میں وقف پارک بنانے کا اعلان کیا،وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پارک میں جسمانی اور ذہنی معذوری کا شکار بچوں کی ضروریات کے مطابق سہولیات ہوں گی –

    زیادہ ورکرز جمع نہیں کر سکیں گے،قیادت کی عمران خان سے 24 نومبرکی کال واپس …

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ویل چیئر راستہ اور سینسرز سے لیس پلے ایریا بھی بنایا جائےگا، ہم بچوں کی ایسے ماحول میں نشونما چاہتے ہیں جہاں وہ خود کو ماحول کا حصہ، با اختیار اور حمایت یافتہ محسوس کریں، وزیراعلیٰ سندھ نے مجوزہ خصوصی شہر کے منصوبے پر بھی روشنی ڈالی –

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ منصوبے میں تمام رہائشیوں خصوصاً معزوری کا شکار افراد کےلیے جامع ماحول موجود ہوگا، منصو بے میں پبلک انفرا اسٹرکچر، خصوصی ٹرانسپورٹ سہولیات اور آگاہی پھیلانے کا بندوبست بھی ہوگا-

    اے آر رحمان کی گٹارسٹ کا بھی شوہر سے علیحدگی کا اعلان

  • وزیرِ اعلی سندھ کے ہیلی کاپٹر کی مرمت کیلئے سوا 2 کروڑ روپے سے زائد طلب

    وزیرِ اعلی سندھ کے ہیلی کاپٹر کی مرمت کیلئے سوا 2 کروڑ روپے سے زائد طلب

    وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ کے ہیلی کاپٹر کی مرمت کے لیے 2 کروڑ 26 لاکھ 72 ہزار روپے طلب کیے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں چیف انجینئر بلڈنگز کراچی کا سیکریٹری محکمہ ورکس اینڈ سروسز کو خط لکھ کر رقم کی فراہمی کی گزارش کی گئی ہے۔وزیرِ اعلی سندھ کے ہیلی کاپٹر کی مرمت کے لیے 4 کروڑ 38 لاکھ 35 ہزار روپے مختص تھے تاہم رواں مالی سال اس کے لیے 2 کروڑ 26 لاکھ 72 ہزار روپے منظور کیے گئے۔سرکاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی مرمت کا کام کنٹریکٹر نے پہلے ہی شروع کر دیا ہے، گزشتہ مالی سال ہیلی کاپٹر کی مرمت کی ہدایت کی گئی تھی، اب کام تقریبا مکمل ہو چکا۔مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کنٹریکٹرز کو تاحال کوئی ادائیگی نہیں کی گئی، رواں مالی سال فنڈ جاری نہیں کیے گئے۔سرکاری مراسلے میں چیف انجینئر نے سیکریٹری ورکس سے استدعا کی ہے کہ اعلی حکام سے رابطہ کر کے رقم جاری کرائیں تاکہ کنٹریکٹر کو ادائیگی کی جا سکے۔مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کنٹریکٹر کو ادائیگی کی جائے گی تاکہ ہیلی کاپٹر وزیرِ اعلی کے استعمال میں لایا جا سکے۔

    پی ٹی آئی کے وفد کا کراچی میں چین کے قونصل جنرل کا دورہ

    ایف بی آر نے جعلی انوائسنگ میں ملوث عناصر کی گرفتاریاں شروع کردیں

    پاکستان اور امریکی بحریہ کی بحیرہ عرب میں مشترکہ مشقیں

  • وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ اور عالمی بینک کے وفد کے درمیان جاری منصوبوں کے جائزہ کے لیے اجلاس

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ اور عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بینہسن کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد کے درمیان سندھ مین چلنے والے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کی تکمیل کے اہداف مقرر کیے گئے۔ ملاقات وزیراعلی ہاس میں ہوئی جس میں صوبائی وزرا، چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک کی ٹیم میں مختلف شعبوں کے سربراہوں نے شرکت کی جنہوں نے کنٹری ڈائریکٹر کی معاونت کی۔ عالمی بینک کے تحت سندھ میں 3 ارب ، 12 کروڑ اور چالیس لاکھ ڈالر کے 13 ترقیاتی منصوبے جاری ہیں جن کیلیے ایک ارب 36 کروڑ ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں۔ منصوبوں میں کراچی میں پانی و نکاسی کی بہتری کا منصوبہ، کچرے کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ، سندھ سولر انرجی پروجیکٹ، کراچی موبیلٹی پروجیکٹ، سندھ میں ابتدائی تعلیم کی بہتری کا منصوبہ، کراچی کو قابل رہائش بنانے کا منصوبہ ، سندھ صحت و آبادی منصوبہ، سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ، سندھ میں سماجی تحفظ کی بہتری کا منصوبہ، سیلاب متاثرین کی بحالی کا منصوبہ، بیراجوں کی مرمت کا منصوبہ، سندھ پانی و زرعی ترقیاتی منصوبہ ، سندھ لائیو اسٹاک اینڈ ایگریکلچر سیکٹر ٹرانفارمیشن پروجیکٹ شامل ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی بحالی کے ہنگامی پروگرام کے تحت 2022 کے سیلاب متاثرین کیلیے رہائش کے انتظامات اور حکومت سندھ کی موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو بہتر کرنا شامل ہے۔ پروگرام کے چار شعبے ہیں جن میں گھروں کی تعمیر، گذر بسر کیلیے امداد، تکنیکی امداد کیلیے اداروں کو مضبوط کرنا اور پروجیکٹ مینجمنٹ و لاگت کا تخمینہ شامل ہیں۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ گذربسر کیلیے دی جانے والی امداد کے واجبات اس ماہ کے آخر تک ادا کردیے جائیں گے۔ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کے منصوبے کے تین مراحل ہیں جن میں گھروں کی تعمیر کیلیے امداد دینا، اداروں کی مضبوطی و تکنیکی امداد اور منصوبے کے عملدرآمد میں مدد شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بیزمین متاثرین کو زمین الاٹ کرکے انہیں بسایا گیا ہے۔
    مالکانہ حقوق انہیں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ کراچی موبیلٹی پروجیکٹ کے تحت مختلف شاہراہوں پر نقل و حمل کی بہتری، رسائی میں آسانی اور تحفظ کی بہتری شامل ہے۔ اس کے تحت ییلو لائن کیلیے سڑک کی تعمیر، بی آر ٹی سسٹم کی تعمیر و روانگی اور استعداد میں اضافے و ٹکنیکی امداد شامل ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ اور نئی جام صادق پل کا ابتدائی خاکہ منظور ہو چکا ہے ، ستمبر 2024 میں حتمی ڈیزائن بھی جمع کرایا جا چکا ہے۔
    چونکہ پلرز کا ڈیزائن منظور ہو چکا ہے اس لیے پلرز کا کام شروع ہو چکا ہے جبکہ بھرائی اور دیگر کام عملدرآمد کے مراحل میں ہے۔ ییلو لائن بی آر ٹی سسٹم کی تعمیر کیلیے 13 اور 19 اگست 2024 کو معاہدوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور کام پر پیش رفت جاری ہے۔ ڈپو ون پر ستر اکتوبر 2024 کو کام کا آغاز ہوگا۔ کنسلٹنٹس نے تعمیراتی ماڈلز پیش کردیے ہیں جس پر بحث اور تجاویز کا تبادلہ ہوچکا اور بارہ اکتوبر 2024 کو اپ ڈیٹ رپورٹ پیش کی جائیگی۔
    کلک پروگرام کے تحت شہری انتظام ، خدمات اور کاروباری ماحول کی بہتری اور ہنگامی حالات میں امداد کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ کارکردگی کی بنیاد پر مقامی اداروں کو 14 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی امداد ، پراپرٹی ٹیکس کے نظام کی بہتری، کاروباری ماحول کی بہتری، کچرا ٹھکانے لگانے کیلیے تکنیکی امداد اور ہنگامی امداد کے آلات کی خریداری شامل ہے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام نو منصوبوں کے ٹھیکے دیے جا چکے ہیں۔ تمام 18 منصوبوں پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔25 ٹان میونسپل کمیٹیوں میں دو کروڑ ، 25 لاکھ اور 80 ہزار ڈالر کی 73 اسکیمیں فائنل کردی گئی ہیں۔ 64 اسکیموں کے اشتہارات شایع کردیے گئے ہیں جبکہ 9 منصوبے ٹان میونسپل کمیٹیوں میں منظوری کے مراحل میں ہیں۔ کے ایم سی نے 1 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی7 منصوبے تجویز کیے ہیں جن میں سے 2 منصوبے ٹھیکیداری کے مرحلے میں ہیں جبکہ پانچ باقی اسکیموں کے ابتدائی ڈیزائن پیش کیے گئے ہیں جن کو فائنل کیا جا رہا ہے۔
    کے ایم سی کی سال 26-2025 کے چھ اسکیموں کی جانچ پڑتال مکمل کرلی گئی ہے جن میں فلائی اوورز، سڑکیں، نکاسی، ایک اسپورٹس کمپلیکس اور ایک فٹ بال اسٹیڈیم شامل ہے جبکہ ٹان کمیٹیوں کی اسکیموں کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ کراچی میں پراپرٹی سروے کیلیے 15 سے 22 اگست کے درمیان گلبرگ اور نارتھ ناظم آباد میں سروے کیا گیا، سو سے زیادہ جائدادوں کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔
    اابتدائی سروے کی تفصیلات عالمی بینک کو فراہم کردی گئیں۔ منصوبے کیلیے بولی 25 ستمبر 2024 کو دی گئی تھی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں انتظامی، مالیاتی اور آپریشنل اصلاحات کے منصوبے کی 20 ستمبر 2024 کو منظوری دی گئی ہے۔ تمام بڑی خریداری کے ٹینڈر جاری کیے جاچکے ہیں اور کام تیزی سے جاری ہے۔ 20 اکتوبر 2024 تک تمام معاہدوں پر دستخط کا امکان ہے۔
    اس سلسلے میں اب تک 76 فیصد کام ہو چکا ہے جبکہ 20 اکتوبر تک یہ 95 فیصد تک ہو جائیگا۔ منصوبے کیلیے چیف انفارمیشن ٹیکنالوجی آفسر اور چیف انٹرنل آڈیٹر مقرر کیے جا چکے ہیں جبکہ چیف فنانشل آفسر کا تقرر 15 نومبر 2024 تک ہو جا چاہیے۔ سندھ میں چار سولر پارکس کے قیام، سرکاری عمارتوں کی شمسی توانائی پر منتقلی اور سولر ہوم سسٹم کے بارے میں بتایا گیا کہ سولر پارکس کے قیام کیلیے کامیاب بولی دہندہ اور لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے درمیان زمین کی لیز کا معاہدہ کیا جائیگا۔
    مانجھند میں نیشنل گرڈ کے ساتھ جوڑنے کے منصوبے کی منظوری ابھی باقی ہے۔ 10 ستمبر 2024 کو ایک اجلاس میں این ٹی ڈی سی کی جانب سے جون 2028 تک بجلی کی ترسیل کا زبانی وعدہ کیا گیا تھا تاہم یہ تصدیق تحریری طور پر کرنے کیلیے رابطہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ سولر ہوم سسٹم کی کٹس فراہم کرنے کے پہلے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں اور نومبر کے اوائل میں پہلی کھیپ پہنچ جائیگی۔
    15 اکتوبر تک دوسرے معاہدے پر بھی دستخط کے امکانات ہیں۔ اس کیلیے انتظامات تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ پرائمری سطح پر تعلیم کی بہتری کے پروگرام سلیکٹ کے بارے میں اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کے پی سی ون کی منظوری دی جا چکی ہے۔ پلاننگ کمیشن سے درخواست کی جائے گی کی اس عمل کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ انہوں نے منصوبے کیلیے 23 لاکھ ڈالرز مختص کیے ہیں۔
    میرپور خاص ضلع کیلیے سول ورک شروع کرنے کے احکامات دیے جا چکے ہیں۔ ٹھٹہ کیلیے اشتہارات جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ ٹنڈو محمد خان اور مٹیاری کیلیے منصوبہ تیاری کے مراحل میں ہیں۔ پہلی سے دوسری جماعت کیلیے اشاعتی مواد کی رپورٹ عالمی بینک کو یکم کتوبر 2024 کو فراہم کردی گئی تھی۔ کتب جنوری 2025 تک فراہم کردی جائیں گی۔ تیسری سے پانچویں جماعت کی کتابیں بھی اپریل 2025 تک فراہم کردی جائیں گی۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں آبپاشی نظام کی بہتری کے منصوبے کے ٹھیکے دیے جا چکے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی ٹیمیں متحرک کردی گئی ہیں۔ سندھ واٹر پالیسی عملدرآمد کمیٹی کا پہلا اجالس تین نومبر 2023 کو ہوا۔ پانی کی فراہمی میں بہتری کے منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ اکرام واہ کی بحالی کا کام جاری ہے۔ اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کینال کی ڈیزائن میں تبدیلی پر تفصیلی تبادلہ خیال گیا۔
    کینال کی آر ڈی زیرو سے 193 تک لائننگ پر اتفاق کیا گیا۔ اس حوالے سے رپورٹ عالمی بینک کو فراہم کردی گئی ہے۔ بنیادی صحت کی بہتری کے پروگرام کے حوالے سے بتایا گیا کہ موجودہ مالی سل میں 121 مزید گورنمنٹ ڈسپنسریز قائم کردی جائیں گی۔ 171 ڈسپنسریز کے قیام کیلیے ایک ارب 60 کروڑ روپے کا بجٹ جمع کرایا گیا ہے جس کیلیے ادائیگیوں کے مرحلے کا آغاز کردیا گیا ہے۔
    متعلقہ فورمز سے مںظوری کے بعد اضافی ایمبولینسز کے حصول کا کام شروع کردیا جائیگا۔ نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کے بارے میں بنیادی صحت میں بہتری کے حوالے سے رپورٹ عالمی بینک کو فراہم کردی گئی ہے تاہم اس کی نیشنل ٹی بی پروگرام اور گلوبل فنڈ سے توثیق باقی ہے۔ یہ توثیق آ جانے کے بعد رپورٹ کو حتمی شکل دی جائے گی۔ کراچی میں کچرا ٹھکانے لگانے کے منصوبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ گاربیج ٹرانسفر اسٹیشن کی تعمیر کیلیے یکم فروری 2024 کو ٹینڈر جاری کیا گیا اور 12 اگست 2024 کو منظوری کا لیٹر جایر کیا گیا ۔
    گڈو اور سکھر بیراج سمیت سندھ میں کینالوں کی حفاظت اور محکمہ آبپاشی کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبے کے بارے میں بتایا گیا کہ ہنگامی کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ سکھر بیراج کے گیٹ نمبر 44 اور 47 اگلے سیزن میں دوبارہ تبدیل کیے جائیں گے۔ منصوبے کے ٹیم لیڈر ڈاکٹر کلیمنٹ کو سکھر بیراج کے دورے کی دعوت دی جا چکی ہے تاکہ گیٹ ٹوٹنے کی وجوہات کا پتہ لگایا جاسکے تاہم ویزہ مسائل کے باعث ان کا دورہ تاخیر کا شکار ہوگیا۔
    اب وہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں آئیں گے۔ سندھ کے منتخب اضلاع میں زچہ و بچہ سروسز کو بہتر بنانے کے پروگرام کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ سوشل پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے درمیان 27 اگست 2027 کو معلومات کی فراہمی کے معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔ اگلے نوے روز میں پی ایس پی کی پہلی قسط جاری ہو جائے گی۔

    پیپلز پارٹی شہداء کارساز کو کبھی فراموش نہیں کرے گی،سید وقار مہدی

    ویران کالج کو آباد کرنے والی پرنسپل کا اچانک تبادلہ، طالبات سراپا احتجاج

    کراچی میں 10 دن میں 90 ڈینگی کیسز سامنے آ گئے