Baaghi TV

Tag: مراد علی شاہ

  • نئے سال کے بجٹ میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے،مراد علی شاہ

    نئے سال کے بجٹ میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے،مراد علی شاہ

    سندھ کابینہ نے نئے مالی سال 27-2026ء کے صوبائی بجٹ کی منظوری دے دی، سندھ کے مالی سال 27-2026ء کے لیے 2.7 ٹریلین روپے سے زائد بجٹ تخمینے کا امکان ہے۔

    صوبائی کابینہ کے اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ نئے سال کے بجٹ میں ہر طبقے کا خیال رکھا گیا ہے سندھ حکومت بلاول بھٹو کی ہدایت پر غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہی ہے محنت کشوں کے لیے کم از کم اجرت کا بھی نئے بجٹ میں فیصلہ کیا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ آج سہ پہر سندھ اسمبلی میںے 3,500 ارب روپے سے زائد کا صوبائی بجٹ پیش کریں گے ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں صوبائی ترقیاتی بجٹ میں 298 ارب روپے کی بڑی کٹوتی جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ میں 418 ارب روپے کے نمایاں اضافے کی تجویز دی گئی ہے، غیر ترقیاتی بجٹ بڑھا کر 2,142 ارب روپے سے 2,560 ارب روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس کا بڑا حصہ تنخواہوں، پنشن اور دیگر جاری اخراجات پر مشتمل ہوگا۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق ضلعی ترقیاتی بجٹ کو 55 ارب روپے سے کم کرکے 15 ارب روپے تک محدود کرنے کی تجویز ہے، جبکہ مجموعی صوبائی ترقیاتی پروگرام کو 520 ارب روپے سے کم کرکے 385 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہےنئے مالی سال کے بجٹ میں مجموعی طور پر 3715 ترقیاتی اسکیمیں شامل کی گئی ہیں، تاہم ترقیاتی اخراجات میں کمی کے باوجود مختلف شعبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ بلدیات اور کراچی کے میگا منصوبوں کے لیے 99 ارب 76 کروڑ روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 7 ارب 94 کروڑ روپے، صحت کے لیے 17 ارب 43 کروڑ روپے اور تعلیم کے مختلف منصوبوں کے لیے 25 ارب 86 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    آبپاشی کے لیے 30 ارب 80 کروڑ روپے، ورکس اینڈ سروسز کے لیے 31 ارب 59 کروڑ روپے اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40 ارب 86 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے تعلیمی شعبے میں اسکول ایجوکیشن کے 404 منصوبوں کے لیے 13 ارب 95 کروڑ روپے، کالج ایجوکیشن کے لیے ساڑھے 3 ارب روپے اور جامعات و تعلیمی بورڈز کے لیے 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    بجٹ میں کچے کے علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایک ارب روپے جبکہ خصوصی افراد کے محکمے کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، اسی طرح ایس ڈی جی میگا اسکیموں کے لیے تقریباً 29 ارب 50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے بجٹ میں تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 8 فیصد اضافے جبکہ کم از کم اجرت میں 20 فیصد اضافہ بھی زیر غور ہے۔

    سندھ اسمبلی میں بجٹ پر عام بحث 5 روز تک جاری رہے گی، جبکہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ بجٹ تقریر میں رواں مالی سال کی کارکردگی اور حکومتی ترجیحات پر روشنی ڈالیں گے-

  • سندھ حکومت نے موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی تک توسیع کردی

    سندھ حکومت نے موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی تک توسیع کردی

    سندھ حکومت نے پیپلز موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام میں 31 مئی تک توسیع کرتے ہوئے اس مد میں 2 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کی۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ صوبائی کابینہ کے اہم اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں، شہری سہولیات اور انتظامی اصلاحات سے متعلق متعدد بڑے فیصلوں کی منظوری دی گئی کابینہ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اب تک 5 لاکھ 48 ہزار سے زائد افراد اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں جبکہ 1.096 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

    ترجمان سندھ حکومت کے مطابق، موٹر سائیکل کیب سروسز کے لیے سیلز ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کر دیا گیا، جس سے آن لائن ڈرائیورز کو ریلیف ملے گااسی طرح کابینہ نے کراچی میں سڑکوں کی بحالی کے لیے 6.5 ارب روپے کی منظوری دیتے ہوئے مرمت کا کام فوری شروع کرنے اور فنڈز جلد جاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    کابینہ اجلاس میں دریائے سندھ پر حیدرآباد اور کوٹری کے درمیان نئے پل کے ڈیزائن کی بھی منظوری دی، جس کے بارے میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ پل اندرونِ ملک ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور سفری سہولت میں اضافے کا باعث بنے گا،عدالتی نظام کی بہتری کے لیے اہم اقدامات کرتے ہو ئے ضلعی عدالتوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے 48.9 ملین روپے مختص کیے گئے جبکہ مورو میں 4 نئی عدالتوں کی تعمیر کے لیے 432.597 ملین روپے کی منظوری دی گئی۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ اقدامات عدالتی نظام کو جدید بنانے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے، اسی سلسلے میں دادو میں پیر الٰہی بخش لا کالج کے لیے 25 ملین روپے گرانٹ بھی منظور کی گئی۔

    ترجمان سندھ حکومت کے مطابق کابینہ اجلاس میں صحت کے شعبے پر بھی توجہ دیتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ سکھر ٹراما سینٹر کو جون 2026 تک فعال بنایا جائے انسداد تجاوزات کے حوالے سے شہید بینظیر آباد ڈویژن میں ٹریبونل کے قیام کی منظوری دی گئی، جو سندھ پبلک پراپرٹی ایکٹ 2010 کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنائے گا۔

    وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سندھ ہائیکورٹ سے مشاورت کے بعد پریزائیڈنگ آفیسر کی تقرری کا عمل جلد شروع کیا جائے، جبکہ آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں اس کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں گے، کراچی میں میگا قبرستان کے قیام کے لیے 500 ایکڑ زمین مختص کرنے کی منظوری بھی دی گئی یہ زمین ضلع ملیر کے دیہہ میٹھا گھر میں مختص کی جائے گی اور محکمہ بلدیات کے حوالے کی جائے گی۔

    توانائی کے شعبے میں سندھ الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ فیصل ملک کو ممبر فائنانس اینڈ پالیسی مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی،اجلاس میں سیس ترمیمی ایکٹ 2026 کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، جس کے تحت 132 درخواست گزاروں نے تصفیہ معاہدوں پر دستخط کیے جبکہ 18 ارب روپے سے زائد کی بینک گارنٹیز کیش ہو چکی ہیں۔

    انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سندھ پروٹیکشن آف ہیومن رائٹس (ترمیمی) بل 2026 کو اسمبلی کو بھجوا دیا گیا وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ بل کارپوریٹ زیاد تیوں کے خلاف مؤثر اقدامات یقینی بنائے گا اور متاثرین کو فوری انصاف فراہم کرے گا مذکورہ بل کے تحت چیئرپرسن اور اراکین کی مدت 4 سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے اور سابق ججز کو چیئرپرسن مقرر کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

  • وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےگندم فروخت کی حد ختم کر دی

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نےگندم فروخت کی حد ختم کر دی

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے گندم فروخت کی حد ختم کر دی جبکہ گندم خریداری مہم تیز کرنے کی ہدایت بھی دے دی۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت گندم کی خریداری کا جائزہ اجلاس ہوا،اجلاس میں صوبائی وزرا ، شرجیل میمن، مخدوم محبوب الزمان، چیف سیکر یٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری خوراک عباس نائچ، سندھ بینک کے نمائندے اور دیگر افسرا ن شریک ہوئے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ چھوٹے آبادگار اب بغیر کسی پابندی کے گندم فروخت کر سکیں گے، فی ایکڑ پانچ بوری کی شرط ختم کرنے سے ہاریوں کو بڑا ریلیف ملے گا، انہوں نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ آبادگاروں کو فوری ادائیگیاں یقینی بنائی جائیں،وزیر خوراک محبوب الزمان نے وزیراعلیٰ سندھ کو گندم کی خریدی سے متعلق بریفنگ دی، انہوں نے بتایا کہ گندم خریداری مہم یکم اپریل سے شروع کی گئی ہے، سندھ حکومت کا ہدف 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم حاصل کرنا ہے، اس سال امدادی قیمت ساڑھے 3ہزار روپے فی 40 کلو مقرر کی گئی ہے، تقریباً 19 لاکھ 40 ہزار ایکڑ رقبے پر گندم کاشتکار 3 لاکھ 32 ہزار سے زائد ہیں، اب تک تقریباً 8ہزار 958 میٹرک ٹن گندم خریدی جا چکی ہے۔

    وزیر خوراک نے مزید بتایا کہ ہدف پورا نہ ہونے کی بڑی وجہ چھوٹے آبادگاروں پر فی ایکڑ پانچ بوری نافذ کرنا ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے ہدف مکمل کرنے کے لیے فوری طور پر یہ حد ختم کر دی، چھوٹے آبادگار بغیر کسی مقدار کی پابندی حکومت کو گندم فروخت کر سکتے ہیں۔

    اجلاس میں آگاہی دی گئی کہ آبادکاروں کی ادائیگیوں کے نظام کو نمایاں طور پر تیز کر دیا گیا ہے، آبادگاروں کو رقم ایک دن کے اندر سندھ بینک کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہے اور اب تک 198.3 ملین روپے آبادگاروں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے آبادگاروں کو بہتر ادائیگی کے نظام پر ا طمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بروقت ادائیگی ہاریوں کے اعتماد کے لیے نہایت اہم ہے انہوں نے ہاریوں کو فوری اور شفاف ادائیگی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ تمام اہل آبادگار اپنی گندم سرکاری خریداری مراکز پر فروخت کریں، یہ نہ صرف غذائی تحفظ بلکہ ہاریوں کی مدد کے لیے بھی ضروری ہے، حکومت کو گندم فروخت کرنے والے آبادگار مستقبل کی سبسڈی کے اہل ہوں گے،وزیراعلیٰ سندھ نے کم خریداری والے اضلاع میں اقدامات مزید سخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو گندم کی خریدای مہم تیز کرنے کی ہدایت کر دی، انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکار باقاعدگی سے خریداری مراکز کا دورہ کریں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنرز، مختیارکار اور محکمہ زراعت کے افسران کسانوں سے رابطے میں ہیں، شکایات کے ازالے کے لیے کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ غیر فعال خریداری مراکز کو فوری طور پر فعال کریں،بریفنگ میں بتایا گیا کہ آبادگاروں کی سہولت کے لیے مزید 12 خریداری مراکز کھولے گئے ہیں، بے ضابطگیوں پر زیرو ٹالرنس ہے، پورا عمل ہاری دوست اور مؤثر ہونا چاہیے، ہاریوں کی مکمل حمایت جاری رہے گی، گندم خریداری مہم ہاریوں کی مدد اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدام ہے۔

  • ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور سستی اب قبول نہیں ،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر اور سستی اب قبول نہیں کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں تعمیر ہونے والا نیا برج مقررہ مدت یعنی 100 دن میں مکمل کیا جائے اور اضافی 5-4 دن کا بہانہ اب نہیں چلے گا جس دن سے کام شروع ہوگا، اسی دن سے گنتی ہوگی اور انہیں یقین ہے کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور ان کی ٹیم دن رات اس منصوبے کی نگرانی کریں گے تاکہ کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

    انہوں نے کہا کہ اس برج سے مقامی آبادی کو خاص فائدہ ہوگا، خصوصاً کیٹل کالونی اور ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کے لوگوں کو سہولت ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے بتایا کہ حال ہی میں کورنگی کاز وے کا تقریباً ساڑھے چھ ارب روپے کا منصوبہ مکمل کیا گیا، جبکہ اس سے پہلے پرانا پل خستہ حال ہونے کے باعث گرایا گیا تھا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ شارع بھٹو کا منصوبہ بھی تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہے اور آئندہ چار سے چھ ہفتوں میں اسے کیماڑی سے کاٹھور تک مکمل کر لیا جائے گا انہوں نے دوبارہ ہنستے ہوئے کہا کہ وہ تاریخ اس لیے نہیں دیتے کیونکہ کبھی کبھار مرتضیٰ وہاب کی جانب سے سستی ہو جاتی ہے، تاہم کام ہر صورت مکمل ہوگا۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ شارع بھٹو کو قیوم آباد سے کراچی پورٹ تک توسیع دینے کے منصوبے کی بنیاد بھی جلد رکھی جائے گی، صرف چند این او سی باقی ہیں دو سے تین سال میں یہ منصوبہ مکمل کر لیا جائے گا جس سے بھاری ٹریفک شہر سے باہر منتقل ہوگی اور ٹریفک جام اور حادثات میں کمی آئے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ رواں سال کراچی میں تقریباً 300 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ، کے ایم سی، کے ڈی اے، ٹرانسپورٹ، واٹر کارپوریشن اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سمیت مختلف ادارے ان منصوبوں پر کام کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ بلدیہ کو سڑکوں کی مرمت کے لیے اضافی فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں کابینہ نے آٹھ ارب روپے اور تیرہ ارب روپے کے دو بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے تاکہ شہر کی بڑی اور چھوٹی سڑکوں کی حالت بہتر بنائی جا سکے کراچی کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی منصوبے میں غیر ضروری تاخیر یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے،مراد علی شاہ

    حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ سندھ میں 2022 کے سیلاب سے 70 فیصد گھر تباہ ہوگئے تھے اور لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے تھے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 2022 کے سیلاب سے 70 فیصد گھر تباہ ہوگئے تھے اور لاکھوں افراد بےگھر ہوگئے تھے اس مشکل صورتحال میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بطور وزیر خارجہ اپنے تمام دورے منسوخ کرکے متاثرین کے پاس گئے اور ان کے لیے گھر بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت سندھ نے پہلے کبھی سیلاب متاثرین کو گھر بنا کر نہیں دیے تھے، لیکن بلاول بھٹو زرداری کے ویژن اور قیادت کی بدولت یہ ممکن ہوا، ابتدائی طور پر منصوبے کے لیے بجٹ ناکافی لگ رہا تھا، لیکن عالمی بینک اور دیگر اداروں کی امداد کے بعد منصوبے کو آگے بڑھایا گیا۔

    مراد علی شاہ نے بتایا کہ اب تک 7 لاکھ سے زیادہ گھر بنانے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے اور یہ سب چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کی بدولت ممکن ہوا ہے، جو اس وقت میونخ میں ہیں وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ متاثرین کی بحالی کے یہ اقدامات واقعی حیران کن اور متاثر کن ہیں-

  • آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ،مرادعلی شاہ

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہےکہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں بند نہیں کرنے دیں گے ۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں مراد علی شاہ نے کہا کہ احتجاج کے لیے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو سڑکیں نہیں بند کرنے دیں گے اور نہ ہی عوام کو تکلیف پہنچانے دیں گے۔

    اس کے علاوہ یوم کشمیر کی ریلی سے خطاب میں وزیراعلی سندھ نے کہا کہ سندھ کے عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، ہماری جدوجہد کشمیر کی آزادی تک جاری رہےگی۔

    گزشتہ روز کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ضیا لنجار کا کہنا تھاکہ شاہراہ بند کرنے کی کسی کو اجازت نہیں، زبردستی دکانیں بند کرائیں تو قانون حرکت میں آئےگاجماعت اسلامی نے شارع فیصل بند کرکے قانون کی خلاف ورزی کی، شارع فیصل بندکرنے کے مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات شامل ہونے چاہیے تھی، دہشت گردی کی دفعات شامل ہوں گی تو آئندہ کسی کو سڑک بند کرنے کی ہمت نہیں ہوگی، حافظ نعیم کو پیغام پہنچایا ہے سندھ اسمبلی کی سڑک بند نہ کریں، احتجاج کرنا ہے تو مرکزی سڑک پر نہیں بلکہ سروس روڈ پرکریں، اگر احتجاج کرنا ہے پریس کلب کے باہر کریں۔

    خیال رہے کہ جماعت اسلامی نے 14 فروری کو کراچی میں دھرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

  • سندھ امن، تنوع اور تخلیقی صلاحیتوں کی سرزمین ہے،مراد علی شاہ

    سندھ امن، تنوع اور تخلیقی صلاحیتوں کی سرزمین ہے،مراد علی شاہ

    کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں 39 روزہ عالمی ثقافتی میلے کی شاندار تقریب سندھ اور پاکستان کی بے مثال ثقافتی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ سندھی کلچر ڈے اور عالمی ثقافتی میلے نے اس تقریب کو ایک پُرجوش جشن میں تبدیل کردیا ہےوزیراعلیٰ سندھ نے بطور ِ مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور اس کے صدر محمد احمد شاہ کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے پاکستان کے ثقافتی منظر نامے میں ایک تاریخی اور قابل ذکر کارنامہ قرار دیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی نے 142 ممالک کے ایک ہزار سے زائد فنکاروں کا خیرمقدم کرتے ہوئے دنیا کے لیے اپنی باہیں کھول دی ہیں، یہ صرف ایک تقریب نہیں ہے بلکہ یہ ایک سنگ میل ہے جو سندھ کے امن، رواداری اور مہمان نوازی کے پائیدار جذبے کو اجاگر کرتا ہے،142 ممالک کے 1ہزار سے زائد فنکاروں کی شرکت صوبے کےلیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے بہترین میزبانی سندھ کی ثقافت کا قدیم ورثہ ہے-

    مراد علی شاہ نے کہاکہ جس دن سندھی کلچر ڈے منایا جا رہا ہےاسی دن ورلڈ کلچر فیسٹیول کا اختتام ایک خوشگوار اتفاق ہے، سندھ کے ثقافتی دن اور عالمی آرٹ کے اتحاد نے اس دن کو سچ میں یادگار بنا دیا ہےاس دھرتی نے معروف شاعر، ادیب، مصور اور موسیقار پیدا کیے ہیں جو ایک طرح سے سندھ دھرتی کی ایک خوبصورت روایت کے طورپر چلی آرہی ہے ان میں شاہ عبداللطیف بھٹائی، شیخ ایاز، اے آر۔ ناگوری، مسرت مرزا، محمد جمن اور عابدہ پروین بطور آئیکن ہیں، جنہوں نےسرزمین کے امن اور محبت کے پیغام کوعام کیا۔

    پاکستان ہماری ذات، انا اور سیاست سے مقدم ہے،خواجہ آصف

    انہوں نے کہا کہ سندھ نے ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کی عالمی زبان بولی ہے اس فیسٹیول کی پرفارمنس امن و محبت کے پیغام کی بازگشت ہےوزیراعلیٰ نے آرٹس کونسل کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ آرٹس کونسل نے وہ کرکے دکھایا جسے بہت سے لوگ ناممکن سمجھتے تھے، 140 سے زائد ممالک سے فنکاروں کویکجا کرنا ایک مشکل کام ہے مگر احمد شاہ نے ثابت کر دیا کہ وژن اور عزم کے ساتھ کچھ بھی ناممکن نہیں ہےتقریب میں صوبائی وزراء، سفارتکاروں، سفیروں، قونصل جنرلز، اعلیٰ سرکاری افسران، فنکاروں، ثقافتی وفود اور میڈیا اراکین نے شرکت کی۔

    اسموگ بڑھنے کا خطرہ،وزارت قومی صحت کی ایڈوائزری جاری

    وزیر اعلیٰ سندھ نے فیسٹیول کو عالمی سطح پر کامیاب بنانے پر تمام غیر ملکی مشنز، بین الاقوامی فنکاروں اور مقامی فنکاروں کا شکریہ ادا کیا اور صوبے بھر میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کیا،انہوں نے کہا کہ ہم نے مل کر دنیا کو دکھایا کہ کراچی ایک عالمی ثقافتی دارالحکومت ہے اور سندھ امن، تنوع اور تخلیقی صلاحیتوں کی سرزمین ہے-

  • ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ

    ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی کی ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کے سنسنی خیز واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنگین غفلت قرار دیا ہے۔

    مراد علی شاہ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ ملیر جیل میں اس وقت 6 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق 216 قیدی جیل سے فرار ہوئے جن میں سے کئی کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ واقعے میں ایک قیدی کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ جیل حکام کی جانب سے قیدیوں کو بیرکس سے باہر نکالنے کا اقدام غیر ذمہ دارانہ تھا اور اس غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو ہر صورت سزا دی جائے گی جیلوں میں سیکیورٹی کے انتظامات ازسرنو دیکھے جا رہے ہیں اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، زلزلے کے باعث قیدیوں میں گھبراہٹ ضرور ہوئی تھی، تاہم اس صورتحال میں قیدیوں کو بیرکس سے نکالنا سراسر غلط فیصلہ تھا جس کے سنگین نتائج سامنے آئے۔

    آج سے جمعرات تک بارشیں

    انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اس افسوسناک واقعے کو ہرگز نظرانداز نہیں کرے گی، اور نہ ہی قیدیوں کی سیکیورٹی کو معمولی سمجھا جا سکتا ہے وزیراعلیٰ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ فرار ہونے والے تمام قیدیوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل ارشد شاہ نے جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے کہا کہ زلزلے کے جھٹکوں کے بعد جیل میں خوف و ہراس پھیل گیا، جس پر قیدیوں نے شور شرابا شروع کر دیا۔ ان کے مطابق دو سے ڈھائی ہزار قیدی ایک ہی مقام پر جمع ہوگئے جس سے صورتحال بگڑ گئی۔

    ارشد شاہ نے بتایا کہ بھگدڑ کے دوران جیل کے دروازوں کے کنڈے ٹوٹ گئے اور اسی ہنگامے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 216 قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے قیدیوں کو روکنے کی کوشش پر ایف سی اہلکاروں نے فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں ایک رینجرز اہلکار زخمی ہوا۔

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری

    سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ زلزلے کے بعد انہوں نے قیدیوں کو تسلی دینے کی کوشش کی کہ گھبرائیں نہیں، لیکن افراتفری نے حالات کو بے قابو کر دیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جیل حکام نے کسی قسم کی غفلت نہیں برتی اور سیکیورٹی میں کوئی واضح کمی نہیں تھی، مجھے جیسے ہی کال موصول ہوئی، میں فوراً جیل پہنچا، مگر قیدیوں نے مجھ پر بھی حملہ کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ جیل میں سیفٹی کیمروں کی تنصیب کا عمل سندھ حکومت کے تعاون سے جاری ہے تاکہ آئندہ ایسی کسی بھی صورتحال پر قابو پایا جا سکے بھگدڑ کا واقعہ رات 11 بجے کے بعد پیش آیا جب قیدیوں نے خوف کی حالت میں قابو کھو دیا اس وقت جیل میں صرف 28 اہلکار سیکیورٹی پر مامور تھے فرار ہونے والے بیشتر قیدی منشیات کے عادی اور انڈر ٹرائل تھے جنہیں جیل کا مخصوص لباس فراہم نہیں کیا جاتا۔
    بلوچستان میں دو آپریشنز، فتنہ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاک

    کراچی میں منگل کی صبح اُس وقت ہلچل مچ گئی جب ملیر جیل سے اچانک سیکڑوں قیدی فرار ہو گئے۔ جیل میں اچانک زلزلے کے جھٹکوں کے بعد قیدیوں نے شورش برپا کی، گولیاں چل گئیں، اور قیدی دیواریں پھلانگ کر قریبی آبادیوں میں جا نکلے۔ پولیس، رینجرز اور ایف سی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اب تک 80 سے زائد قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے، تاہم 135 سے زائد تاحال لاپتہ ہیں۔

    واقعے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک قیدی مارا گیا جبکہ تین زخمی ہو گئے۔ ایف سی کے تین اہلکاروں سمیت پانچ سیکیورٹی اہلکار بھی شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    ڈی آئی جی جیل خانہ جات حسن سہتو کے مطابق صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے اور جیل اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں نے زلزلے کے بہانے سے بیرکس سے باہر نکلنے کا موقع بنایا، تاہم کسی بھی خطرناک مجرم کے فرار ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

    ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد: ملزمان دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

  • وزیراعلیٰ سندھ کا کسی قیمت پر نہروں کا منصوبہ نہ بننے دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ کا کسی قیمت پر نہروں کا منصوبہ نہ بننے دینے کا اعلان

    کراچی: پاکستان میں پانی کے وسائل کے معاملے پر صوبائی کشیدگی دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کسی قیمت پر نہروں کا منصوبہ نہ بننے دینے کا اعلان کیا ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ وہ ہر گارنٹی دینے پر تیار ہیں کہ سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی عوام کی طاقت سے نہروں کا منصوبہ بننے نہیں دے گی جولائی 2024 سے نہر منصوبے پر کام اور نومبر سے ایکنک میں منظوری رکی ہوئی ہے، اس بات پر ناخوش ہیں کہ اب تک اس منصوبے کو ختم کیوں نہیں کیا گیا۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم کو بھی نہروں کے نتائج کی سنگینی کا اندازہ ہے، امید ہے وزیراعظم انصاف سے کام لیں گے وکیل اور قوم پرست احتجاج ضرور کریں مگر اپنے لوگوں کو تکلیف دینے سے گریز کریں، پیپلزپارٹی اور مظاہرین کا مقصد ایک ہے، اگر ہم ناکام ہوئے تو پھر ہم بھی ہر طرح سے احتجاج کریں گے، ضمانت دیتا ہوں کہ کینالز نہیں بنیں گے، اگر بات ہاتھ سے نکل گئی، اگر ناکام ہو ئے تو احتجاج کی قیادت خود کریں گے۔

    علیمہ خان کے جیل حکام پر سنگین الزامات

    دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے نہروں کے معاملے پر مسلسل تیسرے روز وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن سے فون پر رابطہ کیا،شرجیل میمن نے بتایا کہ راناثنااللہ نے اس معاملے پر سنجیدگی دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف یہ معاملہ بات چیت سے حل کرنا چاہتے ہیں، ہم بھی چاہتے ہیں کہ وزیراعظم سندھ کے عوام کےخدشات دور کریں-

    پی ٹی آئی کو کرش کرنے کیلئے ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا،عمران خان

  • مراد علی شاہ کو گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    مراد علی شاہ کو گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے،عظمیٰ بخاری

    لاہور:وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مراد علی شاہ کو سندھ کے کسانوں سے زیادہ پنجاب کے کسانوں کی فکر لاحق ہے، سندھ 16 سالہ کارکردگی بتائے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مراد علی شاہ کو سندھ کے کسانوں سے زیادہ پنجاب کے کسانوں کی فکر لاحق ہے پنجاب کے کسانوں کی فکر کرنے کے لیے پنجاب کے وار ث خود موجود ہیں کیا سندھ میں کاشتکار نہیں؟ اور کیا سندھ حکومت نے گندم کی قیمت مقرر کی ہے؟ کیا سندھ حکومت نے کسانوں سے گندم خرید لی ہے؟

    انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ اور ان کی جماعت گزشتہ 16 سالوں سے سندھ میں حکمران ہیں، اب انہیں اپنی کارکردگی بتانی چاہیے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک سال میں پنجاب کے کسانوں کو 110 ارب روپے کا تاریخی پیکیج دیا ہے پنجاب کے کسانوں کو کسان کارڈ، گرین ٹریکٹر اور سپر سیڈر بھی فراہم کیے جا چکے ہیں مریم نواز نے ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن اور گندم پر 15 ارب روپے کا پیکیج دیا ہے۔

    بھارتی فضائیہ کا ایک اور طیارہ تباہ ہوگیا،پائلٹ ہلاک

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں اس سال ریکارڈ گندم کی پیداوار ہوئی ہے اور آئندہ سال اس سے بھی زیادہ پیداوار حاصل ہو گی، پنجاب کی ترقی اور خوشحالی اب دو صوبوں کی حکومتوں کے اعصاب پر سوار ہو چکی ہے مراد علی شاہ سندھ کی مرکزی شاہراہ بند کرنے والے مظاہرین کی حمایت کر رہے ہیں مراد علی شاہ کو گنڈا پور سے مختلف نظر آنا چاہیے۔

    واضح ر ہے کہ پاکستان میں پانی کے وسائل کے معاملے پر صوبائی کشیدگی دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے،وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو بارہا کہا گیا ہے کہ متنازعہ کینال منصوبے ختم کیے جائیں، لیکن وہ کہتے ہیں کہ منصوبے پر کام نہ ہونے کے برابر ہے اور جو کچھ ہوا وہ بھی صرف جولائی میں ہوا،سندھ کے عوام کو گمراہ نہ کیا جائے۔

    آسمان پر یہ ‘مسکراتا’ چہرہ دیکھنے کیلئے تیار ہو جائیں

    انہوں نے نہر معاملے پر احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی کہ احتجاج ضرور کریں مگر عوام کی تکلیف کا باعث نہ بنیں کہ ضمانت دیتا ہوں کہ کینالز نہیں بنیں گے، اگر بات ہاتھ سے نکل گئی، اگر ناکام ہوئے تو احتجاج کی قیادت خود کریں گے۔

    مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ حکومت نے معاملے کو سی سی آئی اور ایکنک تک پہنچایا، اور اب یہ منصوبہ ایکنک میں رکا ہوا ہے انہوں نے وکلاء برادری کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ کی عوام اور حکومت ایک پیج پر ہیں، اور کینالز کی مخالفت مشترکہ مقصد ہے پنجاب کے فارمر کی بات سنی، وہ کہہ رہے تھے کہ اگلےسال گندم کاشت نہیں کریں گے،چین میں 60 سے 65 من فی ایکڑ گندم پیداوار ہے، گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے ہمیں ٹیکنالوجی استعمال کرنی ہوگی۔

    علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری