Tag: مریم نواز
نیب کا مریم نواز کی ضمانت کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا
لاہور: مریم نواز کی ضمانت تو ہوگئی مگر اب نیب نے جو اعلان کیاہےوہ بھی بڑا ہی عجیب لگتا ہے ، اطلاعات کےمطابق قومی احتساب بیورو (نیب) حکام نے مریم نواز شریف کی چودھری شوگر ملز کیس میں ضمانت کی منظوری کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔لیکن قابل غور بات یہ ہےکہ یہ چیلنج کرنا بھی ایک فرضی کہانی کےسوا کچھ نہیں ہوگا
ریاستی اداروں کا تحفظ سب سے پہلے،تمام ادارے ایک پیج پر ہیں: آرمی چیف
نیب ذرائع کے مطابق شوگر مل کیس میں مریم نواز کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ وہ مکمل صحت مند ہیں اور بیمار بھی نہیں۔ اس کے علاوہ وعدہ معاف گواہ عبداللہ ناصر لوتھا نے بھی شریف فیملی کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے اپنا بیان ریکارڈ کروا رکھا ہے۔
رابی پیرزادہ نے اللہ سے معافی مانگتے ہوئے شوبزکی دنیا چھوڑنے کا اعلان کردیا
ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو کی جانب سے قانونی مشاورت کے بعد مریم نواز شریف ضمانت کے بارے میں عدالتی فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف کو چودھری شوگر ملز کیس میں رواں سال 8 اگست کو گرفتار کیا گیا تھا۔ نیب کی جانب سے مریم نواز پر منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے۔
شہبازاوربلاول بھی ساتھ چھوڑگئے،مولانا اکیلے رہ گئے

یہ ماننا پڑے گا کہ سارا کریڈٹ مریم نواز کو جاتا ہے، شیخ رشیدکے بیان پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا
لاہور : یہ ماننا پڑے گا کہ مریم نواز بہت خوبیوں کی مالک ہے. اطلاعات کے مطابق اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ن لیگ کو یہاں تک پہنچانے کا کریڈٹ مریم نواز کو جاتا ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا چودھری شوگر ملز کیس اہم ہے۔ شریف خاندان کو شوگر لگا دے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ میں کہتا تھا کہ مریم اپنے ابا حضور کو مروائے گی اور پھر وہی ہوا . شیخ رشید نے کہا آج شریف فیملی اس حال کو پہنچی ہے تو اس کی ذمہ دار مریم صاحبہ ہیں.

مریم نواز بھارت پر حملہ کرنا چاہتی تھیں ، حامد میر کا انکشاف
لاہور : پاکستان کے معروف اینکر پرسن حامد میر نے مریم نواز کی گرفتاری کو بہت بڑا نقصان بتاتے ہوئے کہا ہےکہ مریم عید کے روز بھارت پر حملہ کرنے والی تھیں. حکومت نے مریم کو گرفتار کرکے مریم کے حملے کا منصوبہ ناکام بنا دیا .
عید سے پہلے مریم نواز کو گرفتار کرنا بہت ضروری تھا عید کے دن وہ انڈیا پر حملے کا اعلان کرنے والی تھیں https://t.co/LSGsbn6KPZ
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) August 8, 2019
حسب روایت حامد میر نے شریف فیملی کا دم بھرتے ہوئے حکومت کو ہدف تنقید کا نشانہ بنایا اور تنقیدی انداز میں کہا کہ چونکہ مریم بھارت پر حملہ کرنے والی تھیں تو اس لیے ضرور ی تھا کہ مریم نواز کو گرفتار کرکے خطے کو جنگ سے بچایا جائے
مریم نواز کے رخسار پر لگنے والا گلاب کا پھول کس نے پھینکا ، کہانی سامنے آگئی
لاہور: مریم نواز جب اوکاڑہ جانے کے لیے پتو کی پہنچی تو اس دوران مریم نواز کے استقبال کے لیے کھڑے نوجوانوں نے خوشی سے گلاب کے پھولوں کی پتیاں مریم نواز کی طرف پھینکیں ، ان میں سے ایک پھول مریم کے دائیں رخسار پر آلگا .
ذرائع کے مطابق اس دوران جب مریم نواز لوگوں کو خوشی سے ہاتھ ہلا کر جواب دے رہی تھیں تو نوجوانوں نے مریم نواز کو دیکھ کر نعرے لگانا شروع کردیئے کہ وہ دیکھو کون آئی شیرنی آئی شیرنی آئی ، اس موقع پر مریم نواز نے اپنی طرف محبت سے پھول پھینکنے والے نوجوانوں کا شکریہ ادا کیا

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کیا کہہ بیٹھے کہ …….سب کی آنکھیں کھلی رہ گئیں
اسلام آباد :مریم نواز،جج ارشد ملک ویڈیو سکینڈل کی بازگشت تو ہر جگہ پہنچ ہی گئی ہے لیکن اس سلسلے میں پاکستان کے ایوان صدر سے جو پیغام آیا ہے وہ بھی کوئی کم نہیںجس کے اثرات مسقتبل میں مرتب ہوسکتے ہیں.اطلاعات یہی ہیں کہ صدرڈاکٹر عارف علوی نے کہاہے کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک سے متعلق آڈیو،ویڈیو ٹیپ اور مبینہ الزامات کی تحقیقات حکومت کی بجائے عدلیہ کو کرنی چاہیں۔
صدر نے کہا کہ اداروں کو اپنے فرائض آزادانہ طور پر انجام دینے چاہیں اور یہی ہم سب کی سوچ ہونی چاہیے۔صدر نے ملک میں انصاف کی مساویانہ فراہمی کیلئے امیروں اور غریبوں کے درمیان امتیازی نظام کے خاتمے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کے موقف پر حکومت کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے.یہ باتیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک نجی ٹی وی سے کیں.یاد رہے کہ اس سکینڈل کا سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لے لیا ہے .اندازہ یہی ہے کہ اس کے مرکزی کرداروں سے پردہ اٹھایا جائے گا

کرپٹ سیاستدانوں کے پروپیگنڈے
چوروں اور کرپٹ سیاستدانوں اور ایماندار لوگوں کے لیے احتساب کے عمل سے گزرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک تنگ گلی ہو اور وہ کانٹوں سے بھری ہوئی ہو اور وہ عبور کرکے آپ کو منزل مقصود کی طرف گامزن ہونا ہو اور یہ ایسے ہی ممکن نہیں ہے اس کے لیے یا تو کپڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروا کر زخمی حالت میں عبور کیا جا سکے گا یا پھر اس گلی یا رستے کو ہی صاف کروا لیا جاۓ گا.
اب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو گلی کو طویل محنت و کاوش سے صاف کروا کے گزر جائیں گے اور کئی ہوں گے جو وہاں پہ کھڑے شور ہی مچاتے رہ جائیں گے اور الزام تراشی کا سہارا لے کے دوسروں کو کوستے رہیں گے.
کچھ ایسی ہی مثال ان کرپٹ سیاستدانوں کی بھی ہے جو برسوں سے اس ملک کو لوٹ کے کھا چکے ہیں اور اپنی من مرضی کے قوانین بنا کے ان قوانین کی آڑ میں بدمعاشیاں کرتے پھرتے ہیں اور اس ملک کو اپنے باپ کی جاگیر گرداننا شروع کر دیتے ہیں.
جب بھی احتساب کی بات شروع ہوتی ہے تو یہ کرپٹ ٹولہ اکٹھا ہو جاتا ہے اور اپنی سازشوں کے جال بننا شروع کر دیتا ہے تاکہ وہ اس کانٹوں بھری گلی میں پھنسنے کی بجاۓ کسی چور رستے سے فرار ہو جائیں اس کے لیے کبھی وہ نیب کے چیئرمین کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیتے ہیں اور کبھی فوج پہ تنقید شروع ہو جاتی ہے.
مریم صاحبہ کی کل والی پریس کانفرنس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جو سواۓ پروپیگنڈے اور سازش کے کچھ نہیں ہے اس میں انہوں نے ایک جج صاحب کی ویڈیو جاری کی ہے اور بقول مریم صاحبہ کے ارشد ملک صاحب بتانا چاہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو سزا دینے کے لیے زبردستی فیصلہ لیا گیا ہے حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ محض جھوٹ اور سازش کا پلندہ ہے کیونکہ آج جج صاحب نے اس کی تردید کی ہے اور اس سلسلے میں وہ عدالت بھی پیش ہوۓ ہیں.
آئیے آپ کی خدمت میں اس ویڈیو کی کچھ جھلکیاں پیش کرتے ہیں ویڈیو کے پہلے حصہ میں یہ کہا گیا ہے کہ استغاثہ لندن پراپرٹیز کا ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا یہ بات تو اس نے دسمبر 2018 والے فیصلے میں بھی کہی تھی اس میں سرپرائز یا دھماکے دار بریکنگ نیوز والی بات تو نہیں ہے.
دوسرے حصے میں وہ کہہ رہے ہیں سازندے سرنگی بجاتے وقت مطلوبہ میوزک حاصل کرنے کے لیے کہیں سے تار ٹائٹ کر دیتے ہیں اور کہیں سے ڈھیلے کر دیتے ہیں. اب یہاں پہ مریم صاحبہ اس کی تعبیر لے رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے زبردستی میاں صاحب کو سزا دلوائی حالانکہ اس کی تعبیر کچھ یوں بنتی ہے کہ میاں صاحب کو سزا تو تینوں کیسز میں ملنی چاہئے تھی لیکن اوپر سے شاید ایک کیس پہ سزا کا حکم تھا.
مریم صاحبہ کے اپنے الفاظ کے پیش نظر کہ آڈیو اور ویڈیو ساؤنڈ علیحدہ علیحدہ ریکارڈ کیے گئے ہیں اس لیے ان میں مطابقت نہیں پائی جا رہی اب یہ مان بھی لیا جاۓ تو جس طرح ویڈیوز کے ٹوٹے ملا کے یہ بنائی گئی ہے یہ فرانزک رپورٹ میں ہی ایکسپوز ہو جاۓ گی اور یہ کورٹ میں بطور ثبوت ناکافی ہو گی.
دوسری اہم بات جو یہاں محسوس کی گئی ہے اگر یہ آواز ارشد ملک کی ہے تو قوی امکان ہے کہ اسے نشہ آور چیز پلا کے اسے نشے میں دھت کر کے اس کی ویڈیو بنانے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ آپ دیکھ سکتے ہیں ناصر بٹ جس طرح اسے ورغلا رہا ہے اور اس سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن نشے کی حالت میں بھی وہ العزیزیہ اسٹیل مل میں آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کا کیس غلط تھا یا اسے غلط سزا دی گئی ہو. یاد رہے کہ ناصر بٹ خود ماضی میں کئی کیسوں میں اشتہاری بھی رہ چکا ہے اور یہ ارشد ملک کا بہت قریبی دوست بھی ہے جو اسے نشہ آور چیز دے کے اس سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیان دلوانا چاہ رہا تھا لیکن ایسا کچھ تھا ہی نہیں جو وہ اگل دیتا.
یہ پروپیگنڈہ صرف اور صرف احتساب کے عمل کو شک میں ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ کوئی بھی اس پہ یقین نہ کرے اور حکومت و فوج پہ تنقید کرکے ان کو بدنام کیا جا سکے اور چوروں اور لٹیروں کے بیانیے کو تقویت ملے اور عوام ان چوروں کا ساتھ دیتے ہوۓ سڑکوں پہ نکلیں لیکن ایسا نہیں ہو گا کیونکہ اب عوام کسی بھی سازش میں نہیں آۓ گی اور اس ملک کو کھانے والے اس کے دشمنوں کا کھل کے مقابلہ کرے گی اور احتساب کے عمل میں حکومت پاکستان کا بھرپور ساتھ دے گی.
اللہ اس ملک کا حامی و ناصر ہو
پاکستان پائندہ باد
وطن عزیز فسطائیت کی زد میں … رانا اسد منہاس
فسطائیت کا لفظ ان دنوں پاکستانی سیاست میں زبان زد عام ہے۔انگریزی میں فسطائیت کو فاشزم کہتے ہیں۔گزشتہ دنوں سے پاکستانی میڈیا پر اس لفظ کا خوب پرچار ہورہا ہے۔پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر میاں محمد شہباز شریف نے بھی اپنے مختلف بیانات میں اس لفظ کا تزکرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں فسطائیت پروان چڑھ رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب فاشزم سے متاثر شخص ہیں اور وطن عزیز میں فسطائیت کے نظریات کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم وطن عزیز میں فسطائیت کو پروان نہیں چڑنے دیں گے بلکہ خان صاحب کے ان نظریات کا رد کر کے ان کا مقابلہ کریں گے۔میاں محمد شہباز شریف نے گزشتہ دنوں رانا ثناء اللہ کی گرفتاری اور دوسرے اپوزیشن ارکان،خصوصی طور پر پاکستان مسلم لیگ نون کے خلاف ہونے والی کاروائیوں کو فسطائیت قرار دیا۔
قارئین کرام آج کے کالم میں ہم لفظ فسطائیت کے مفہوم اور اس کی تاریخ سے پردہ ہٹانے کی کوشش کریں گے۔بنیادی طور پر لفظ فسطائیت لاطینی زبان کے لفظ Fascio سے ماخوذ ہے۔لاطینی زبان کی اگر بات کی جائے تو یہ زبان قدیم روم میں بولی جاتی تھی۔لاطینی زبان میں لفظ Fascio کے معنی ڈنڈوں کے مجموعہ کے ہیں۔یہ ڈنڈوں کا مجموعہ اس وقت کے مجسٹریٹ کے پاس ہوتا تھا۔مجسٹریٹ ان ڈنڈوں کواپنے سپاہیوں کو دے دیتا اور وہ ان ڈنڈوں کو ہاتھوں میں لیے بازاروں میں گشت کرتے تھے۔بازار میں اگر کوئی شخص قانون کی خلاف ورزی کرتے پکڑا جاتاتو وہ سپاہی اسی وقت اسے پکڑ کر سزا دیتے تھے۔ یہاں تک کے ان سپاہیوں کے پاس بڑی سے بڑی سزا دینے کے بھی اختیارات ہوتے تھے۔ڈنڈوں کا یہ مجموعہ وقت کے مجسٹریٹ کا نشان تھا جو بعد میں فاشزم یعنی فسطائیت بن گیا۔اگر ہم سیاسی تناظر میں اس لفظ کی وضاحت کریں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی قوم پرستی یا شدید وطن پرستی ہے جو آمریت کا رجحان رکھتی ہے۔عام فہم میں آمریت سے مراد طاقت کا استعمال کر کے اپنے سیاسی مخالفین کو دبانا اور اپنے نظریات کی پاسداری کرانا ہے۔
فاشزم کا آغاز بیسوی صدی میں ہوا،بنیادی طور پر یہ یورپ کی ایک تحریک تھی۔اس تحریک سے ایسے لوگوں کی اکژیت وابستہ تھی جو سوسائٹی پر اپنا کنٹرول چاہتے تھے۔فاشزم نے انڈسٹری،مارکیٹ،کامرس اور بینکنگ پر بھی کنٹرول حاصل کیا۔فسطائیت کی تحریک ایک جرمن فلاسفر فریڈرک نیطشے کی سوچ کا مظہر تھی۔اس کا خیال تھا کہ عیسائیت ایک غلام مذہب ہے،اور یہ لوگوں میں غلامی کو فروغ دیتا ہے۔لہٰذا ہمیں ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہونے کے لیے مذہب کو چھوڑ کر جدید سائنس کو اپنانا چاہیے۔فریڈرک نیطشے کا مشہور مقولہ ہے کہ God is dead جس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط میں سے خدا کو نکال کر زندگی کے تمام اصول اور قوانین خود طے کیے جائیں۔اس نے ایک سپر مین super men کا تصور بھی متعارف کرایا،جس کے مطابق انسان میں طاقت ہونی چاہیے کہ وہ مقتدر بن کر اقتدار کی قوت کو حاصل کر سکے۔فریڈک کے مطابق ہر وہ چیز اور نظریہ جو انسان کو طاقتور بنائے اچھا ہے جبکہ اس کے برعکس ہر وہ نظریہ جو اس طاقت کو حاصل کرنے سے روکے وہ برا ہے۔قارئین کرام اگر ہم فریڈک نیطشے کے فسطائیت کے مفہوم کو مختصر بیان کرنا چاہیں تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس نظریے کے مطابق طاقت اور اقتدار ہی اچھائی کا محور و مرکز ہیں۔اس طاقت اور اقتدار کو پانے کے لیے کوئی بھی اچھا یا برا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔یہاں تک کہ اس مقصد کے لیے تشدد کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔فسطائیت کا آغاز سب سے پہلے اٹلی میں ہوااور اس کاپہلا بانی بینیٹو مسولینی تھا۔مسولینی سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی کا ممبر تھا۔جنگ عظیم اول میں سوشلسٹ پارٹی آف اٹلی نے حکومت کا ساتھ دینے کی بجائے اس کی مخالفت کی جس وجہ سے مسولینی نے اس پارٹی کو خیر باد کہہ کر فاشسٹ پارٹی کی بنیاد رکھی۔اس پارٹی سے منسلک لوگ سیاہ شرٹ پہنتے تھے۔ان کا یہ دعوٰی تھا کہ وہ اٹلی کو ایک عظیم ملک بنائیں گے۔انہوں نے اٹلی کی عوام کو تبدیلی کا ایک نیا تصور دیا۔آغاز ہی میں انہوں نے اٹلی کی ایک مزدوروں پہ مشتمل منظم تحریک کو طاقت کا استعمال کرکے ختم کر دیا۔اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اٹلی کے جاگیرداروں اور سرمایہ دار طبقے نے اس تحریک کو تقویت بخشی اور اس کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔اس طرح فسطائیت کی یہ تحریک اٹلی کے ساتھ ساتھ پورے یورپ میں پھیل گئی،اور طاقت کے بل بوتے پر اپنے نظریات منوانے میں کامیاب ہو گئی۔قارئین کرام اس تحریک کا اصل مقصد نیشنلزم اور جمہوریت کی آڑ میں آمریت قائم کرنا تھا۔اگلے کالم میں ہم فسطائیت پہ مبنی نظریات اور اس کی علامات پہ روشنی ڈالیں گے اور یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کیا واقعی وزیر اعظم عمران خان وطن عزیز میں فسطائیت کو فروغ دینا چاہتے ہیں،اور وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر اپوزیشن کی جانب سے خان صاحب پہ یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
رانا اسد منہاس جڑانولہ
adiminhas562@gmail.com
جیل میں ڈالناہےتوڈال دو،قیدکرناہےتوکردو،ان چیزوں سےتم ڈرتےہو،میں نہیں،مریم نواز
لاہور:جیل میں ڈالناہےتوڈال دو،قیدکرناہےتوکردو،ان چیزوں سےتم ڈرتےہو،میں ڈرنے والی نہیں،سابق وزیر اعظم کی بیٹی مریم نوازکا اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر سخت رد عمل.اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا ہے کہ میں اس ظلم کےخلاف آوازاٹھاوں گی،لڑوں گی،آخری حدتک جاوں گی
مریم نواز نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ وہ عوام کےحقیقی نمائندےنوازشریف کو ان شاء اللہ انصاف دلواکررہوں گی
مریم نواز نے کہا کہ بہت جلدعوام کےسامنے آجائےگاکہ نوازشریف کےساتھ کیا کھیل کھیلاگیا.مریم نواز اس سے قبل بھی اشاروں کنایوں میں پاکستان کے مختلف اداروں پر سخت تنقید کرتی رہی ہیں. مریم نواز نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اپنےباپ کیلیےنہیں،بلکہ زنجیروں میں جکڑےان سب قیدیوں کیلیےلڑیں گی .مریم نواز نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے یقین ہےکہ عوام کی عدالت نہ ناانصافی کرتی ہےنہ کسی کےدباومیں آتی ہے .مریم نواز کے اس ردعمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں میاں محمد نواز شریف کے ضمانت کے لیے اپنے وکلا سے مشاورت کریں گی






