Baaghi TV

Tag: مسلمان

  • ہندو راشٹر کے قیام کیلئے ہندوستان کو مسلمانوں کا قبرستان بنادیں گے، انتہا پسند ہندو رہنما کی دھمکی

    ہندو راشٹر کے قیام کیلئے ہندوستان کو مسلمانوں کا قبرستان بنادیں گے، انتہا پسند ہندو رہنما کی دھمکی

    نئی دہلی: ہندو انتہا پسند رہنما بجرنگ منی داس نے ایک بار پھر ہندوؤں کو مسلمانوں کی نسل کشی پر اکسایا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی پر اکسانے والے انتہا پسند ہندو رہنما بجرنگ داس نے اپنے نئے متنازع بیان میں کہا ہے کہ ہندو راشٹر کے قیام کے لیے مسلمانوں کی نسل کشی ضروری ہے۔

    واضح رہے کہ بجرنگ منی داس کو مسلمانوں کے قتل عام اور عصمت دری پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے اور اب ضمانت پر ہے-

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں بجرنگ منی داس کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ ہم ہندوستان کو مسلمانوں کا قبرستان بنادیں گے بھارت کو ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے مسلم جہادیوں کو ختم کیا جانا چاہیے –

    منی داس نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ بھارت ماضی میں ایک پُر امن ملک تھا لیکن مسلمانوں کے داخلے کے بعد اس کا امن تباہ ہوا۔ بجرنگ دل پہلے بھی ہندوستان کو مسلمانوں کا قبرستان بنانے کی دھمکی دے چکا ہے۔

    واضح رہے کہ بجرنگ مونی داس لکھنؤ سے کچھ دور واقع سیتا پور میں مہارشی شری لکشمن داس اُداسی آشرم کا چیف پجاری ہےبجرنگ داس کو گزشتہ برس 13 اپریل کو مسلمان مردوں کو قتل اور خواتین کی عصمت دری پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    تاہم بجرنگ منی داس نے عدالت میں اپنے بیان پر معافی مانگ لی تھی اور آئندہ ایسا بیان نہ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر وہ اس وقت ضمانت پر رہا ہے-

    جیل سے رہائی کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئےمنی داس نے کہا تھا کہ وہ اپنے مذہب اور خواتین کا دفاع جاری رکھے گا، اس کے لئے اسے ہزار بار جیل کیوں نہ جانا پڑے۔ مہنت بجرنگ منی نے کہا تھا میں نے جو کہا اس کا مجھے کوئی احساس جرم نہیں ہے اور نہ ہی مجھے کسی بات پر کوئی افسوس ہے۔

    بجرنگ منی داس کے اس بیان سے قبل مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے کہا تھا کہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات ہندو راشٹر کے قیام کا باعث بنیں گے۔

  • بھارت میں مسلم نوجوان پر ہندو لڑکی سے بات کرنے پر بہیمانہ تشدد

    بھارت میں مسلم نوجوان پر ہندو لڑکی سے بات کرنے پر بہیمانہ تشدد

    بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی جنب سے ایک مسلم نوجوان کو ہندو لڑکی سے بات کرنے پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کرناٹکا کے ضلع دکشینا کنندا میں 20 سالہ مسلم نوجوان کو صرف اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ اس نے بس اسٹینڈ پر ایک 17 سالہ ہندو لڑکی سے گفتگو کی۔

    سڑک کنارے لڑکی کی برہنہ لاش،کار سواروں کی درندگی،چھ ملزم گرفتار

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لڑکے کے خلاف بچوں کو جنسی ہراسانی سے بچاؤ کے قوانین کے تحت مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے جبکہ لڑکے پر تشدد کے الزام میں 12 افراد کے خلاف بھی ایف آئی آر کاٹ دی گئی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مسلمان لڑکے اور ہندو لڑکی کی دوستی سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی اور دونوں اکثر بس اسٹاپ پر ایک دوسرے سے ملتے بھی رہتے تھے-

    5 جنوری کو جب وہ بس اسٹاپ پر لڑکی سے بات کر رہا تھا تو کچھ افراد وہاں پہچنے اور لڑکے کو اغوا کر کے اپنے ساتھ جیپ میں لے گئے اور پھر ایک دور دراز مقام پر لے جا کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا، اغوا کاروں نے لڑکے کو دھمکی بھی دی کہ اگر اس نے دوبارہ لڑکی سے ملنے کی کوشش کی تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔

    بھارت،مندر کے گنبد سے ٹکرا کر طیارہ تباہ،ایک کیپٹن ہلاک

    قبل ازیں بھارت میں انجلی نامی لڑکی کی برہنہ لاش برآمد ہوئی جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا تو پتہ چلا کہ لڑکی کی ٹریفک حادثے میں موت ہوئی ہے اور لڑکی کی کار سے ٹکر ہوئی، کار سوار لڑکی کو 12 کلو میٹر تک گھسیٹتا ہوا لے کر گیا، لڑکی چیختی چلاتی رہی لیکن کار سوار نے گاڑی نہ روکی، لڑکی کے اس دوران کپڑے پھٹ گئے، برہنہ ہو گئی اور راستے میں ہی اسکی موت ہو گئی-

    انجلی سنگھ کی میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسے طویل راستے تک گھسیٹے جانے کی وجہ سے اسکے دماغ کو شدید نقصان پہنچا، اسکے سینے کی ہڈیاں ، پسلیاں ٹوٹ گئیں، اسکے دماغ کا بہت سا حصہ راستے میں کہیں غائب ہو گیا تھا،اسکا سر پھٹہ ہوا تھا، اسکا جسم بھی کئی مقامات سے پھٹ چکا تھا،میڈیکل رپورٹ میں انجلی سے زیادتی کی تصدیق نہیں ہوئی-

    بھارتی مسلمانوں کو گھروں سے جبری بے دخلی کا حکم سپریم کورٹ نے معطل کردیا

  • بھارت میں ایک اور ٹیچرنے دوران لیکچرمسلمانوں کو دہشتگرد کہہ دیا،ویڈیو

    بھارت میں ایک اور ٹیچرنے دوران لیکچرمسلمانوں کو دہشتگرد کہہ دیا،ویڈیو

    بھارتی ریاست راجستھان میں کالج لیکچرار کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اسلاموفوبک ریمارکس کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا-

    باغی ٹی وی : یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کرناٹک میں ایک ٹیچر نے کلاس میں طلبا سے تعارف کرنے کے دوران ایک مسلم طالب علم کے نام بتانے پر کہا تھا کہ اوہ تم اجمل قصاب والے ہو جس پر مسلم طلبا نےٹیچرکو کرارا جواب دیاتھاجو سوشل میڈیا پروائرل ہوا اورتعلیمی ادارے نے استاد کو معطل کرکے انکوائری کمیٹی بٹھادی تھی-

    یورپی یونین کےبعد جی سیون ممالک اورآسٹریلیا کا بھی روسی تیل کی قیمتیں 60 ڈالر فی…

    بھارتی میڈیا کے مطابق ابھی یہ معاملہ ختم نہ ہوا تھا کہ راجستھان کے ایک کالج میں تعلیم یافتہ ٹیچر کی جانب سے اسلاموفوبیا کا ایک اور واقعہ پیش آیا راجستھان کے بلوترا کالج کی مسلم طالبہ حسینہ بانو نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئےکہاکہ تاریخ کے لیکچرار نے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر کی ان کی دل آزاری کی۔


    مسلم طالبہ نے مزید بتایا کہ لیکچرار نے کہا کہ آفتاب نے اپنی ہندو گرل فرینڈ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے کیوںکہ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ایک ہندو کو کاٹو گے تو حاجی بن جاؤ گےایسےلیکچرارہندو نوجوانوں کی ذہن سازی کا باعث بنتے ہیں اور وہ جذبات میں آکر میں مسلم طلبا سے بحث و مباحثہ کرتے ہیں اگر تعلیمی اداروں میں ایسا پڑھایا جائے گا تو ہندو انتہا پسندوں سے مسلم طلبا کی جان کو خطرہ بڑھ جائے گا۔

    شوہرنے 2 کروڑروپےانشورنس کی رقم کیلئےبیوی کو ٹریفک حادثے میں قتل کرادیا

    خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے کمرۂ جماعت میں ٹیچر طلبا کے نام پوچھ رہے تھے جیسے ہی ایک مسلم طالب علم نے اپنا نام بتایا، ٹیچر نے بے ساختہ کہا ’’ اوہ ۔۔ تم اجمل قصاب کی طرح ہو‘‘۔

    جس پر طالب علم نے کہا کہ ممبئی حملہ ایک مذاق نہیں۔ بحثیت مسلمان اس واقعے کے بعد سے ہم نے ملک میں بہت سہا ہے اور ہر روز جھیل رہے ہیں۔ آپ نے سب کے سامنے مجھے دہشت گرد کہا۔

    طالب علم کے جواب پر ٹیچر نے کہا کہ تم میرے بیٹے کی طرح ہو، جس پر طالب علم نے جواب دیا کہ کیا آپ اپنے بیٹے کو دہشت گرد بولیں گے؟ ٹیچر نے فوراً جواب دیا کہ ’’نہیں‘‘ اور میں تم سے معذرت کرتا ہوں طالبعلم نے کہا یہ مذاق قابلِ برداشت نہیں، آپ میرے مذہب کا مذاق نہیں اُڑا سکتے، بطور مسلم بھارت میں رہتے ہوئے مذہب کے خلاف بات برداشت کرنا مذاق نہیں۔

    امریکا نےپاکستان سمیت 12 ممالک کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنیوالےممالک کی فہرست…


    اس سارے مکالمے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی جس پر نہ صرف مودی سرکار بلکہ منیپال انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پر دباؤ بڑھا اور وہ چار و ناچار پروفیسر کے خلاف کارروائی پر مجبور ہوئے۔

    انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امتیازی سلوک اور نفرت آمیز جملوں کی ادارے میں کوئی گنجائش نہیں۔ مذکورہ واقعہ ناقابل برداشت ہے جس میں ایک پروفیسر نے نامناسب رویہ رکھا۔

    دوسری جانب پروفیسر کے نفرت آمیز جملوں کا سامنا کرنے والے مسلم طالب علم نے اپنے حق میں آواز اُٹھانے والے ہر فرد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے معلوم ہے اُس وقت ٹیچر کے ذہن میں کیا چل رہا تھا۔ انھوں نے ایک غلط بات کی جس کا میں نے مناسب انداز میں جواب دیا ایک ایسی شخصیت جنھیں ہم اپنا رول ماڈل بناتے ہیں کی جانب سے ایسا رویہ نامناسب ہے تاہم ٹیچر نے معافی مانگ لی اور فی الوقت اس بار کے لیے یہ معاملہ ختم ہوجانا چاہیئے-

  • بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا نمازیوں پر تشدد،ویڈیو وائرل

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا نمازیوں پر تشدد،ویڈیو وائرل

    بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں نے نماز پڑھنے پر مسلمانوں کو ہراساں کرنا شروع کر دیا –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر شاہ جہاں پور میں مسلمانوں کو ہراساں کیا گیا جس کی ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی انتہا پسند ہندوؤں نے اجمیر شریف جانے والے مسلمانوں کو سرعام نماز پڑھنے پر زمین پر بٹھایا اور کان پکڑوا پر معافی منگوائی ۔

    بھارت میں ای موٹرسائیکلوں کے شو روم میں آتشزدگی،8 افراد ہلاک متعدد زخمی


    ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انتہا پسند ہندو مسلمانوں کو زمین پر بیٹھ کر کان پکڑنے کا کہتے ہیں اور پھر پوچھتے ہیں کہ آپ لوگوں نے کیا غلطی کی ہے، جس پر بھارتی مسلمان جواب دیتے ہیں کہ ہم نے سڑک پر نماز پڑھی اور اس پر ہم معافی مانگتے ہیں۔

    کم سن طالب علم کے اپنی ٹیچر کو منانے کی ویڈیو وائرل،صارفین کے دلچسپ تبصرے

    ویڈیو میں انتہاپسند ہندو کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ اس بار معافی دے رہے ہیں لیکن آئندہ خیال رکھنا ایسی حرکت پوری یو پی میں کہیں نہ کرنا، کیوںکہ اتر پردیش میں مسجد کے سوا کسی اور جگہ نماز پڑھنے پر پابندی ہے-


    اس حوالے سے شاہ جہاں پور پولیس کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال سے راجستھان جاتے ہوئے بس میں کچھ لوگ شاہ جہاں پور میں سڑک پر نماز پڑھتے ہوئے پائے گئے جس پر انہیں چالان جاری کر دیئے گئے ہیں اور انہیں بتایا گیا کہ اس کی اجازت نہیں ہے۔

    ملکہ الزبتھ کی طرف سے عمرے کا دعویٰ کرنے والا شخص گرفتار

  • نیو میکسیکو میں پاکستانیوں سمیت 4 مسلمانوں کا قتل،مرکزی ملزم گرفتار

    نیو میکسیکو میں پاکستانیوں سمیت 4 مسلمانوں کا قتل،مرکزی ملزم گرفتار

    امریکی ریاست نیو میکسیکو میں 4 مسلمانوں کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے چار مسلمان افراد کے قتل میں مطلوب ملزم 51 سالہ محمد سید کو گرفتار کر لیا ہے۔

    جوبائیڈن کا نیومیکسیکو میں پاکستانیوں سمیت چارمسلمانوں کے قتل پر افسوس کا اظہار

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کے گھر پر چھاپے میں شواہد بھی برآمد کر لیے ،ملزم کی گرفتاری مسلم کمیونٹی کی مدد سے کی گئی محمد سید پر 2 پاکستانیوں اور 2 افغانوں کو قتل کرنےکا الزام ہے۔

    اس سےقبل پولیس نے مشتبہ ملزم کی قتل کے واقعات سے منسلک ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی اور نہ ہی گرفتار شخص کے حوالے سے مزید کوئی تفصیلات بتائی تھیں۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ قتل کے چاروں واقعات کا آپس میں ممکنہ تعلق ہے سراغ رساں اب اس بات کی تحقیقات کررہے ہیں کہ آیاان تینوں قتلوں کا تعلق افغانستان سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان شخص کی موت سے ہے جسے 7 نومبر2021 کوالبوکرک میں ایک کاروبار سے باہر قتل کردیا گیا تھا۔مقتول یہ کاروباراپنے بھائی کے ساتھ مل کرچلارہا تھا۔

    واضح رہے کہ امریکا کی ریاست نیو میکسیکو میں الگ الگ واقعات میں دو پاکستانیوں سمیت جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے چار مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔

    امریکا کا شہر جہاں پولیس محکمے کو تحلیل کر دیا گیا

    جس پر امریکی صدر جو بائیڈن نے نیومیکسیکو میں پاکستانیوں سمیت چارایشیائی نژاد مسلمانوں کےقتل پرگہرے دکھ اورافسوس کا اظہارکیا تھا امریکی صدر نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا تھا کہ ریاست کے شہرالبوکرک میں چار مسلمان افراد کی ہولناک ہلاکتوں پرمیں رنج وغم میں مبتلاہوں اگرچہ ہم مکمل تحقیقات کے منتظر ہیں مگرمیری دعائیں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں اور میری انتظامیہ مسلم کمیونٹی کے ساتھ پختگی سے کھڑی ہے ان نفرت انگیز حملوں کی امریکا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

    نیومیکسیکو کی گورنرمشعل لوجان گریشم نے ان ہلاکتوں پرغم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے انھیں”مکمل طورپرناقابل برداشت” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ تفتیش میں مدد کے لیے ریاستی پولیس کے اضافی افسروں کو البوکرک بھیج رہی ہیں ہم البوکرک اورعظیم تر نیومیکسیکو کی مسلم کمیونٹی کی حمایت کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔

    دوسری جانب امریکا میں مسلم شہری حقوق کے سب سے بڑے گروپ امریکی اسلامی تعلقات کونسل (سی اے آئی آر) نے ان افراد کے قاتل یا قاتلوں کی گرفتاری میں معاون معلومات فراہم کرنے والے کو10 ہزارڈالربہ طورانعام دینے کا اعلان کیا تھا۔

    امریکہ کی تائیوان میں مداخلت:متعدد ایشیائی ممالک چین کے ساتھ کھڑے ہوگئے

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-

  • اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اسلام اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں — نعمان سلطان

    اللہ پاک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی ذکر آیا ہے رب العالمین اور رحمت العالمین آیا ہے. یعنی رب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لئے ہیں.

    کسی جگہ بھی صرف مسلمانوں کا رب یا صرف مسلمانوں کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذکر نہیں آیا لیکن ہم لوگ اسلام کے خودساختہ ٹھیکیدار بن گئے.

    اگر اللہ پاک اپنی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود لوگوں کو بشمول مسلمان رزق دے رہا ہے ان پر اپنی عنایات کی بارش کر رہا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کسی پر تنقید کرنے والے اور اس کے ایمان کا فیصلہ کرنے والے.

    لیکن اس کے برعکس ہم نے لوگوں کے افعال کی بنیاد پر ان کے ایمان کا فیصلہ کر کے موقع پر ان کے ساتھ فوری انصاف کر کے دنیا میں اسلام کے بارے میں منفی تاثر کو اجاگر کیا.

    جب بھی کہیں بھی شدت پسندی کا ذکر آتا ہے تو توجہ بےاختیار مسلمانوں کی طرف چلی جاتی ہے اس کی وجہ دنیا بھر میں بننے والا ہمارا تنگ نظری اور شدت پسندی کا امیج ہے.

    دین اسلام میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کو وضاحت سے بیان کیا گیا.. ساتھ ہی حقوق اللہ پر یہ کہہ کر حقوق العباد کو فوقیت دی گئی کہ روزمحشر اللہ پاک حقوق اللہ کی ادائیگی میں کوتاہی کو تو اپنی رحمت سے درگزر کر دے گا.

    لیکن اگر کسی نے حقوق العباد کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی کی تو جب تک وہ شخص جس کا مذکورہ شخص نے حق غضب کیا اسے معاف نہیں کرے گا اللہ پاک بھی اس شخص کو معاف نہیں کرے گا.

    یہ بات تمام مسلمانوں کی تربیت کے لئے اللہ پاک نے تاکید سے بیان کی کیونکہ دنیا میں دین پھیلانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے قول و فعل سے دوسرے لوگوں کو متاثر کریں.

    لوگ آپ کی شخصیت دیکھ کر سوچیں کہ اگر یہ شخص اتنا اچھا ہے تو اس شخص کا دین کتنا اچھا ہو گا اور اس تجسس کی بنیاد پر وہ شخص دین کا مطالعہ شروع کرے اور آخرکار اسلام کی حقانیت کا قائل ہو جائے.

    لیکن ہم لوگوں نے اس کے بالکل برعکس طرزِ عمل شروع کر دیا.. ہماری ابتدا فرقہ ورانہ اختلافات سے شروع ہو کر اب اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ ہم کسی دوسرے شخص کا اپنے سے معمولی اختلاف رائے بھی برداشت نہیں کر سکتے.

    وہ دین جو ہمیں عفو درگزر کی تعلیم دیتا تھا اب ہم اس کے برعکس فوری بدلہ لینے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد اپنے طرز عمل پر پچھتاتے ہیں کہ ہم نے جذبات میں آکر غلط قدم اٹھا لیا.

    جذبات میں آکر فوری ردعمل دے کر ہم اپنا اور دوسروں کا گھر خراب کرتے ہیں.. پہلے چند مخصوص موضوعات یا افعال ایسے ہوتے تھے جن پر لوگ فوری ردعمل دیتے تھے اور عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے تھے لیکن اب تو لوگوں کو عدم برداشت اور ردعمل دینے کے لئے بہانہ درکار ہوتا ہے.

    ہم میں عدم برداشت پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے موقف کو سنتے، سمجھتے اور برداشت نہیں کرتے ہیں.ہم لوگوں کے بارے میں ایک مخصوص سوچ قائم کر لیتے ہیں اور ان کے ہر عمل کو اسی سوچ کے تناظر میں دیکھتے ہیں اور اس پر ردعمل دیتے ہیں.

    ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اگر کوئی بندہ دس باتیں غلط یا اختلافی کرتا ہے تو وہ ایک بات یا عمل ایسا کر دیتا ہے جو اس کے گزشتہ اعمال یا باتوں کا مداوا ہوتا ہے. ہم اس شخص سے اس کی دس غلط باتوں پر تنقید کے لئے نہیں ملتے بلکہ اس سے ایک صحیح بات حاصل کرنے کے لئے ملتے ہیں.

    ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہمارے عدم برداشت کے رویے کی وجہ سے دنیا میں ہمارا منفی امیج بن گیا ہے اور ہمیں خود میں برداشت پیدا کر کے اپنا امیج منفی سے مثبت کرنا ہے.

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بات پر ردعمل دینا ضروری نہیں ہوتا اگر آپ کو کوئی بات ناگوار یا اپنے عقائد کے خلاف محسوس ہوتی ہے تو آپ ایسی محفلوں میں جانے سے اجتناب کریں.

    اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے نظریے یا عقائد کے خلاف کوئی بات نہ ہو تو اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل اختیار کریں اور مزے کریں.

    اگر آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے ہم خیال لوگوں کی محفل سے باہر نکلنا پڑے گا اور خود میں تنقید سننے کا حوصلہ بھی پیدا کرنا پڑے گا کیونکہ علم دنیا میں موتیوں کی طرح بکھرا ہوا ہے اور اسے ہر جگہ گھوم پھر کے حاصل کرنا پڑتا ہے.

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارے نظریے کی ترویج ہو تو اس کے لئے ہمیں پہلے خود کو دنیا کے لئے قابل قبول بنانا پڑے گا اور اس کے بعد اپنے طرزِ عمل سے دوسروں کو متاثر کر کے انہیں اپنے نظریے کی طرف راغب کرنا پڑے گا اور یہ سب اس وقت ممکن ہو گا جب ہم میں برداشت پیدا ہو گی. نہیں تو لوگ یہ کہہ کر ہمارے نظریے سے دور ہوتے جائیں گے کہ اسلام تو اچھا ہے لیکن مسلمان اچھے نہیں ہیں.

  • میانمار:مسلمانوں کے سیکڑوں گھر نذر آتش: فوج لوگوں کوقتل کرنے لگی

    میانمار:مسلمانوں کے سیکڑوں گھر نذر آتش: فوج لوگوں کوقتل کرنے لگی

    رنگون:مسلمانوں پر ایک بار پھر عرصہ حیات تنگ کردیاگیا ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ میانمار کی فوج نے ایک گاؤں پر چھاپے کے دوران کم از کم 10 افراد کو ہلاک اور سینکڑوں مکانات کو نذر آتش کردیا۔

    عالمی میڈیا ذرائع کے مطابق میانمار کے ایک گاوں کے ایک مسلمان رہائشی نے بتایا کہ گاؤں ’’کی سو“ کے مسلم کوارٹرز میں تقریباً 400 مکانات جل کر خاکستر ہوگئے اور ایک مسجد کو آگ سے جزوی نقصان پہنچا۔

    مقامی میڈیا نے بتایا کہ کم از کم 10 جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں جن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور کی سو میں سینکڑوں گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے، اے ایف پی دور دراز کے علاقے سے موصول ہونے والی اطلاعات کی تصدیق نہیں کرسکی۔

    مقامی لوگوں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق شمال مغربی ساگانگ کے علاقے میں گزشتہ سال بغاوت کے بعد سے شدید لڑائی اور خونریز جھڑپیں جاری ہیں، جنتا فوج کے دستے مقامی “پیپلز ڈیفنس فورس” کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

    ایک مقامی رہائشی نے اے ایف پی کو بتایا کہ 18 جولائی کو کیسو گاؤں کے قریب فوجیوں کو دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اتارا گیا اور تقریباً 100 لوگوں کو فوج نے قید کرلیا، بوڑھے مردوں کو اگلے دن رہا کر دیا گیا تھا جبکہ کم عمر افراد کو وہاں رکھا گیا تھا۔

    ایک اور رہائشی نے بتایا کہ فوجیوں کے جانے کے بعد 20 جولائی کو واپس آنے پر گاؤں والوں کو 10 افراد کی لاشیں ملیں جن کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، ایک اور مقامی نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ 10 لاشیں ملی ہیں اور ان میں سے نو کی شناخت خاندان کے افراد نے کی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں کے کم از کم 30 لوگ لاپتہ ہیں۔

    مقامی لوگوں اور میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ساگانگ میں فوجیوں کے ذریعہ قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ وہ پچھلے سال آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹنے والی بغاوت کی مخالفت کو کچلنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

     

  • ہندوستان ممکنہ تباہی کے راستے پر چل رہا ھے:ہندوستان کے دانشور بھی  بول اُٹھے

    ہندوستان ممکنہ تباہی کے راستے پر چل رہا ھے:ہندوستان کے دانشور بھی بول اُٹھے

    ملک کا موجودہ ماحول خوفناک ہے،اگریہی صورتحال رہی توملک کوٹوٹنے سے کوئی نہیں بچا سکے گا، اس وقت ملک کی سلامتی کےلیے تمام طبقات سے اتحاد کو برقرار رکھنے سے ہی ممکن ہے

    نوبل انعام یافتہ امرتیہ سین نے ملک کی موجودہ صورتحال پر بہت سخت تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو مذہبی خطوط پر تقسیم نہیں کرنا چاہیے بلکہ سب میں اتحاد قائم رکھنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔ امرتیہ سین نے کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا میں کسی چیز سے ڈرتا ہوں؟ تومیں ہاں کہوں گا۔” ڈرنے کی ایک وجہ ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال خوف کا باعث بنی ہوئی ہے۔ امرتیہ سین نے یہ باتیں کولکتہ میں امرتیہ ریسرچ سینٹر کے افتتاح کے موقع پر کہیں۔

    امرتیہ سین نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ملک متحد رہے۔ میں ایسے ملک میں تقسیم نہیں چاہتا جو تاریخی طور پر سب کو ساتھ لے کر چلنا والا رہا ہے۔ ہمیں مل کر کام کرنا ہے۔ ہندوستان صرف ہندوؤں یا مسلمانوں کا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ملک کی روایات کی بنیاد پر متحد رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    انہوں نے کہا، ‘ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہو سکتا۔ نیز مسلمان اکیلے ہندوستان کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ امرتیہ سین نے کہا کہ ہندوستان میں رواداری کی موروثی ثقافت ہے کیونکہ یہودی، عیسائی اور پارسی صدیوں سے ہمارے ساتھ رہے ہیں۔

    انڈیا کے ماہر اقتصادیات اور نوبل انعام یافتہ امرتیا سین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو ‘ممکنہ تباہی’ کا سامنا ہے۔

    امرتیا سین نے کولکتہ میں ھونے والی ایک تقریب میں کہا کہ ہندوستان آج جس بھیانک بحران کا سامنا کر رہا ہے وہ "ملک کا ممکنہ تباہی” ہے۔کولکتہ میں امرتیا ریسرچ سینٹر کے افتتاح کے موقع پر سین نے کہا، کہ”مجھے لگتا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا میں کسی چیز سے ڈرتا ہوں، تو میں کہوں گا ‘ہاں’۔ اب ڈرنے کی کوئی وجہ ہے۔ ملک کی موجودہ صورتحال خوف کا باعث بن گئی ہے”۔

     

     

    "’’ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک نہیں ہو سکتا۔ اور اکیلے مسلمان بھی ہندوستان کو نہیں بنا سکتے”۔اگرہندوستان کوبچانا ہے توسب سے پہلے ملک کے اندراقلیتوں کے ساتھ نفرتیں ختم کرنا ہوں گی ان کے حقوق ان کو دینے ہوں گے اورپھران کو عزت بھی دینا ہوگی تب جاکرہندوستان کی واپسی ممکن ہے

     

    یاد رہے کہ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات اور فلسفی امرتیا سین کو جرمن بُک انڈسٹری کے معتبر ترین امن انعام سے نوازا گیا ہے۔ 86سالہ پروفیسر کے مطالعے اور تجزیے دنیا بھر میں سماجی ناانصافی کی نشاندہی کرتے ہیں۔جرمن کتابی صنعت کے بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس سال کے ’جرمن امن انعام‘ کے حقدار بھارتی معیشت دان اور فلسفی امرتیا سین قرار پائے ہیں۔ اس بورڈ کے بیان کے مطابق چھیاسی سالہ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر اور نوبل انعام یافتہ امرتیا سین کو کئی دہائیوں تک ’عالمی انصاف‘ کے امور پر غور و فکر کرنے کے احترام میں امن انعام سے نوازا جا رہا ہے۔بورڈ نے کہا کہ پروفیسر سین کا مطالعہ دنیا بھر میں سماجی ناانصافی کے خلاف جنگ میں ماضی کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ قابل اطلاق ہوتا ہے

  • بھارت میں 4 سال پرانی ایک ٹوئٹ پرمسلمان صحافی گرفتار

    بھارت میں 4 سال پرانی ایک ٹوئٹ پرمسلمان صحافی گرفتار

    محمد زبیر نے دہلی عدالت میں ضمانت کی درخواست دائر کردی،صحافی محمد زبیر کو آج دہلی عدالت میں پیش کیا جائے گا،محمد زبیر پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام ہے،

    کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بھارتی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ صحافی محمد زبیر کو فوری اور غیرمشروط طور پر رہا کریں اور ان کو ہراساں کرنا بند کریں واشنگٹن میں سی پی جے کے ایشیاء پروگرام کوآرڈینیٹر سٹیون بٹلر نے ایک بیان میں کہا کہ محمد زبیر کی گرفتاری بھارت میں آزادی صحافت پر قدغن کی ایک اور مثال ہے جہاں حکومت نے فرقہ وارانہ مسائل پر بات کرنے والے صحافیوں کیلئے مخالفانہ اور غیر محفوظ ماحول پیدا کر دیا ہے

    دہلی پولیس کے سائبر یونٹ نے صحافی کو 2018 کی ایک متنازع ٹوئٹ کے الزام میں گرفتار کر لیا- غیر ملکی میڈیا کے مطابق حقائق کی جانچ کرنے والی ویب سائٹ آلٹ نیوز (AltNews) کے بانی صحافی محمد زبیر کو ان کی 2018 کی ایک متنازع ٹوئٹ میں مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور دشمنی کو فروغ دینے کے الزام میں گرفتار کرلیا-

    یو این انسانی حقوق کونسل کو ہانگ کانگ کی صورتحال سے آگاہ کردیا گیا

    این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ صحافی محمد زبیر کے خلاف مذکورہ کیس ٹوئٹر ہینڈل balajikijaiin کی جانب سے رواں ماہ کی گئی ایک شکایت پر مبنی ہے۔

    پولیس کے مطابق محمد زبیر پر ’جان بوجھ کر ایک مخصوص مذہب کے دیوتا کی توہین‘ کرنے کے لیے ’قابل اعتراض‘ تصویر ٹوئٹ کا الزام ہے۔ محمد زبیر نے مبینہ ٹوئٹ مارچ 2018 میں کی تھی ۔

    انڈین ایکسپریس کے مطابق پولیس نے کہا کہ انہوں نے زبیر کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153-A (مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) اور 295-A (بدنیتی پر مبنی حرکتیں، مذہبی جذبات کو مجروح کرنا) کے تحت شکایت کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے ایک دن کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا ہے اور اسے منگل کے بعد ضمانت کی سماعت کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    امریکی صدر نےفیڈرل گن ریفارمز بل پر دستخط کر دیئے

    اس ماہ کے شروع میں، زبیر نے بی جے پی کے اس وقت کی ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام پر کیے گئے تبصروں پر روشنی ڈالی تھی، جس کی وجہ سے خلیج کے ممالک سمیت کئی ممالک کی طرف سے مذمت کی گئی تھی اور حکمراں جماعت بی جے پی نے انہیں معطل کردیا تھا اور پارٹی کے ایک اور ترجمان نوین کمار جندال کو برطرف کردیا۔


    اس حوالے سے آلٹ نیوز کے شریک بانی پراتک سنہا نے بتایا کہ محمد زبیر کو 2020 سے مختلف کیس میں پوچھ گچھ کے لیے دہلی بلایا گیا تھا، جس میں عدالت نے انہیں گرفتاری سے تحفظ دیا ہے لیکن محمد زبیر کو ایک نئے کیس میں بغیر نوٹس کے گرفتار کیا گیا جبکہ متعدد مرتبہ درخواست کے باوجود ایف آئی آر کی کاپی نہیں دی جا رہی۔

    وٹامن کی گولیا ں پیسے کا ضیاع ہیں،ورزش اور غذا سے ہی صحت و تندرستی ممکن ہے،امریکی…

    متعدد کانگریس رہنماؤں نے محمد زبیر کی گرفتاری کو بھارتیہ جتنا پارٹی (بی جے پی) کی کمزور سوچ اور تعصب پر مبنی سیاست قرار دیا ہے کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ جس نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت ان لوگوں کے خلاف کریک ڈاؤن کررہی ہے جو "اس کی نفرت انگیز تقریر اور جعلی پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے ہیں”۔


    کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے اس گرفتاری کے خلاف ٹوئٹ کیا اور بی جے پی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ “حق کی ایک آواز کو گرفتار کرنے سے مزید ایک ہزار آواز بلند ہوں گی۔

    محمد زبیر کی گرفتاری پر بولے اسد الدین اویسی کا کہنا ہے کہ اگر اُس کی جان کو کچھ ہوا تو بی جے پی اور نریندر مودی کی حکومت ذمہ دار ہوگی؟