Baaghi TV

Tag: مسلمان

  • ہندوستان مسلمان مظاہرین پر پرتشدد کریک ڈاؤن بند کرے،ایمنسٹی انٹرنیشنل

    ہندوستان مسلمان مظاہرین پر پرتشدد کریک ڈاؤن بند کرے،ایمنسٹی انٹرنیشنل

    ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت میں جاری مسلمانوں پر تشدد کے واقعات پر مذمت کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بھارت میں سربراہ آکار پٹیل نے کہا ہے کہ ہندوستان مسلمان مظاہرین پر پرتشدد کریک ڈاؤن بند کرے۔


    انہوں نے کہا کہ امتیازی سلوک پر آواز اٹھانے والے مسلمانوں پر حکومت کریک ڈاؤن کررہی ہے، من مانی حراست،گھروں کی مسماری بھی انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

    اس کے علاوہ ایمنسٹی انٹر نیشنل نے مظاہرین کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ جمعے کو بھارت کے مختلف شہروں میں توہین رسالت ﷺ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے لیکن انتہاپسند ہندوؤں اور پولیس نے بھارتی شہر رانچی میں فائرنگ کر کے 16 سالہ نوجوان سمیت 2 افراد کو قتل کیا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلمان مظاہرین کو پولیس اور ہندو انتہا پسند جتھوں نے گولیاں ماریں اور تھانوں کے اندر بھی بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

    بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت کو مسلمانوں پر بد ترین تشدد اور فائرنگ کرنے کے بعد بھی چین نہ آیا اور احتجاج میں شرکت کرنے والے مسلمانوں کے اسرائیلی طرز پر گھر مسمار کرنا شروع کردیے ہیں۔

    ان تمام واقعات میں سب سے اہم بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر الہٰ باد میں ویلفیئر پارٹی کے رہنما محمد جاوید کی گرفتاری اور ان کا گھر مسمار کرنا ہے-

    واضح رہےکہ بھارت میں حکمران جماعت بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سابق خاتون ترجمان نوپور شرما کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں گستاخانہ بیان کے بعد پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے-

    احتجاج مہم کے باعث کئی عرب ممالک نے بھارتی سفیروں کو طلب کرکے احتجاج کیا اور بھارتی حکومت سے معافی کا بھی مطالبہ کیا۔ عرب ممالک کے بعد یہ سلسلہ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی پھیل گیا اور کئی اسلامی ممالک نے بھی بھارت کے سفیروں کو بلا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا اس سب کے باوجود حکومتی سطح پر بی جے پی نے معافی نہیں مانگی بلکہ بھارت میں احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر ہی تشدد کا بازار گرم کردیا۔

  • بھارت:گستاخانہ بیان پر احتجاج کرنیوالے مسلم رہنماؤں کے گھر مسمار

    بھارت:گستاخانہ بیان پر احتجاج کرنیوالے مسلم رہنماؤں کے گھر مسمار

    لکھنؤ: بھارت میں بی جے پی رہنماؤں کی جانب سے پیغمبرِ اسلام ﷺ کی شان میں گستاخی پر احتجاج کرنے والے مسلمان رہنماؤں کے گھر مسمار کر دیے گئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت میں اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا جرم بن گیا۔ الہ آباد میں مسلمان سیاسی شخصیت کے گھر پر بلڈوزر چلا دیا گیا۔

    بی جےپی رہنماکاگستاخانہ بیان:”اوآئی سی سخت ایکشن لے“یہ گُستاخی اوربدتمیزی برداشت…

    مسلم رہنما محمد جاوید کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے مسلمان پیغمبرِ اسلام ﷺ کے خلاف توہین آمیز بیان کے خلاف احتجاج کی قیادت کی تھی۔ محمد جاوید کے گھر کو غیر قانونی قرار دے کر منہدم کیا گیا۔

    سرکاری کارروائی کا نوٹس دینے کے صرف تین گھنٹے بعد ان کا گھر گرا دیا گیا۔ گذشتہ روز سہارن پور میں احتجاج کرنے والے دو مسلمانوں کے گھر بھی منہدم کر دیے گئے تھے۔

    ہالینڈ کےگُستاخ نےایک بارپھرحضرت محمدﷺکی شان میں گُستاخی کردی:عمران خان کوبھی آڑے…

    خیال رہے کہ بی جے پی کی ملعون رہنما نوپور شرما نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی جس کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں میں غصہ پایا جاتا ہے۔

    نوپور شرما کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد انہیں ممبئی پولیس نے طلب کرلیا ہے۔ نوپور شرما کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے 25 جون کو بلایا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ چینل سے توہین آمیز بیان کی ویڈیو طلب کی گئی تھی جس کے بعد انہیں بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

    حرمت رسولﷺپرجان بھی قربان:نبی رحمتﷺکی شان میں گستاخی :شریف خاندان مودی کیخلاف…

  • بھارت:توہینِ رسالت ﷺ کیخلاف احتجاج کرنے والوں پرپولیس فائرنگ:2 مسلم مظاہرین شہید

    بھارت:توہینِ رسالت ﷺ کیخلاف احتجاج کرنے والوں پرپولیس فائرنگ:2 مسلم مظاہرین شہید

    دہلی :بھارتی پولیس کی فائرنگ سے دو مسلمان شہید ہوگئے،اطلاعات کے مطابق بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمانوں نوپور شرما اور نوین کمار کے توہین آمیز کلمات کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ رانچی شہر میں مظاہرے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے دو مسلمان مظاہرین شہید ہو گئے۔

    بی جے پی رہنماؤں کے توہین آمیز الفاظ پر دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھی بھارت سے شدید احتجاج کیا تھا جس کے بعد پارٹی حکام کی جانب سے ترجمانوں کے خلاف معطلی کی کارروائی کی گئی تھی تاہم مسلمان اس رسمی کارروائی سے قطعی مطمئن نہیں ہیں۔

    بھارتی مسلمان اس معاملے پر مسلسل احتجاج کناں ہیں۔ گزشتہ روز بھی بھارتی مسلمانوں نے نماز جمعہ کے بعد مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔ بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں بھی اسی سلسلے میں مسلمانوں کا احتجاج جاری تھا جب پولیس اہلکاروں کی جانب سے ان پر گولی چلائی گئی۔

    بھارت کے مشرقی شہر رانچی میں پولیس نے احتجاج کرتے مسلمان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کر دی۔ ایک مقامی پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کو مجبور کر دیا گیا تھا کہ وہ مظاہرین پر گولی چلا دے جس کے نتیجے میں دو مسلمان جاں بحق ہو گئے۔ تاہم اس پولیس افسر نے یہ نہیں بتایا کہ پولیس اہلکار کس کے دباؤ میں آ کر گولی چلانے پر مجبور ہوئے۔

    واضح رہے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں ایک حالیہ امریکی رپورٹ میں بھی بھارت پر کڑی تنقید کی گئی تھی کہ بھارت میں اقلیتوں کی عبادت گاہیں تک محفوظ نہیں ہیں تاہم بھارت نے روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرکاری طور پر اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔ رپورٹ میں بھارت کے سرکاری عہدیداروں کو بھی اقلیتوں کے خلاف متعصب اور سرگرم بتایا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے چند روز بعد ہی یہ واقعہ سامنے آیا تھا۔

  • برطانیہ میں 69 فی صد مسلمان اسلاموفوبیا کا شکار ہیں،سروے

    برطانیہ میں 69 فی صد مسلمان اسلاموفوبیا کا شکار ہیں،سروے

    لندن: 10 میں سے 7 برطانوی مسلمان اپنے پیشہ ورانہ کام کے مقامات پر اسلامو فوبیا کا شکار ہیں،سروے

    باغی ٹی وی : برطانیہ اور یورپ میں مسلمانوں کو درپیش مسائل پر توجہ رکھنے والے آن لائن پبلشنگ ادارے ہائفن نے یہ سروے پولنگ کمپنی Savanta ComRes کے ذریعے کروایا ہے اس دوران 22 اپریل تا 10 مئی مجموعی طور پر 1503 برطانوی مسلمانوں سے ان کے تجربات سے متعلق انٹرویو کیا گیا۔

    امریکا میں پُر تشدد واقعات کے خطرات ہیں، ہوم لینڈ سیکیورٹی نے انتباہ جاری کر دیا

    جس کے نتائج میں سامنے آیا ہے کہ برطانیہ میں ملازمت کرنے والے تقریباً 69 فی صد مسلمان پیشہ ورانہ مصروفیات کے دوران کسی نہ کسی شکل میں اسلامو فوبیا یعنی مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے نفرت کا سامنا کررہے ہیں۔

    سروے کے نتائج کے مطابق برطانیہ میں سیاہ فام مسلمانوں کو دیگر کے مقابلے میں زیادہ اسلامو فوبیا کا سامنا کرنا پڑا سروے میں شامل 37 فی صد افراد کو بھرتیوں کے مرحلے پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا جب کہ اسی معاملے میں سیاہ فام مسلمانوں کی تعداد 58 فی صد ہے۔

    برطانوی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہاں زندگی گزارنا پانچ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑا چیلنج بن چکا ہے، تاہم وہ اب بھی پُرامید ہیں 55 فی صد شرکا نے کہا ہے کہ برطانیہ میں مسلمانوں کے لیے کامیابی کے بہتر مواقع موجود ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مساوی معاشرے کی تشکیل کے لیے حکومت کو سیاہ فام، ایشیائی اور دیگر اقلیتی برادریوں کے لیے اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

    ناموسِ رسالت ﷺ:سینیٹ کا تین رکنی وفد اقوام متحدہ کے دفتر جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ…

  • بھارت:انتہاپسند ہندووں نے مسلمان ہونے کے شبے پر بزرگ کو تشدد سے ہلاک کردیا

    بھارت:انتہاپسند ہندووں نے مسلمان ہونے کے شبے پر بزرگ کو تشدد سے ہلاک کردیا

    مدھیہ پردیش: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے غنڈوں کے بہیمانہ تشدد سے 65 سالہ بزرگ شہری ہلاک ہوگئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش کے علاقے نمیچ میں 15 مئی سے ذہنی طور پر معذور گمشدہ بزرگ شہری کی لاش مل گئی۔ 65 سالہ بھنور لعل جین راجستھان میں مذہبی میلے میں کھو گئے تھے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بزرگ شہری کو دو سے زائد افراد نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ ضروری کارروائی کے بعد لاش کو پولیس نے لواحقین کے حوالے کردیا۔ اہل خانہ نے آخری رسومات ادا کردیں تاہم ہلاکت کی وجہ سامنے نہیں آسکی تھی۔
    بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز سے پتہ چلا کہ ذہنی طور پر معذور بزرگ شہری کو بی جے پی کے غنڈے تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

     

     

     

    https://twitter.com/Anurag_Dwary/status/1527928132656717825

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تشدد کا نشانہ بنانے والا شخص بار بار بزرگ شہری سے پوچھتا ہے کہ تمھارا نام محمد ہے؟ اپنا پورا نام بتاؤ؟ ادھار کارڈ دکھاؤ۔جس پر ذہنی طور پر معذور کچھ بتانے سے قاصر نظر آتے ہیں اور پار پیٹ کرنے والے شخص سے پیسے لیکر چھوڑنے کی درخواست کر رہے ہیں۔

    پولیس کے مطابق ویڈیو میں تشدد کرنے والے مرکزی شخص کا نام دنیش ہے جو بی جے پی کی خاتون کوآرڈینیٹر کا شوہر ہے۔

  • بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نےایک اورمسجد نذرآتش کر دی،مسلمانوں کےگھروں کو آگ لگا دی

    بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نےایک اورمسجد نذرآتش کر دی،مسلمانوں کےگھروں کو آگ لگا دی

    نئی دہلی: بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری، بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہندوانتہا پسندوں نے مسجد نذر آتش کردی اورمسلمانوں کے گھروں کوآگ لگا دی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش میں ہندوانتہاپسندوں نے مسلمانوں کے گھروں پرحملے کئے اورایک مسجد کوآگ لگا دی ہندوانتہاپسندوں کےگروپوں نےمسلمانوں پرتشدد کیااورلوٹ مارکی مسلمانوں کی دکانیں لٹنے اورمسجد نذرآتش ہونے کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا۔

    تاج محل معاملہ : آثار قدیمہ نے 22 بند کمروں کی تصاویر جاری کردیں

    مسلمانوں پرحملوں کے دوران مقامی انتظامیہ اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی اورحملہ آوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہندوانتہاپسندوں نے مسلمانوں کے گھروں کے سامنے مذہبی نعرے لگائے اورمزید حملوں کی دھمکیا ں دیں۔


    دوسری جانب مغربی بنگال میں ہندوانتہا پسندوں نے مسجد کے پیش امام کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ اترپردیش کے ہندو انتہا پسند وزیراعلی آدیتیہ ناتھ نے قدیم تاریخی شہرلکھنو کا نام بدل کرہندوکی مقدس ہستی کے نام پررکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
    https://twitter.com/ashoswai/status/1527018699760312320?s=20&t=C8o5Xt6jGQVMhwy1ApbnKA
    قبل ازیں ہندوانتہاپسندوں نے متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کومندرقراردےدیا ہے اتر پردیش کے شہرمتھرا کی عدالت میں شاہی عید گاہ مسجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی کے لئے درخواست دائرکی گئی درخواست ہندوانتہاپسند وکلا کے 10 ارکان پرمشتمل گروپ نے دائرکی-

    تاج محل پر درخواست خارج،عدالت برہم ، درخواست گزار کی سخت سرزنش

    ہندوانتہاپسند وکیلوں کے گروپ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متھرا عید گاہ مسجد اصل میں مندر اور لارڈ کرشن کی جائے پیدائش ہے انہوں نے مسجد میں نماز کی ادائیگی پرفوری اورمستقل پابندی لگانے کی استدعا بھی کی ہے۔

    اترپردیش کی گیان واپی مسجد پربھی ہندو انتہاپسند قبضے کی کوشش کررہے ہیں اوراس سلسلے میں انہیں مقامی انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے وارانسی کی گیان واپی مسجد کا سروے کرانے کے وارانسی کورٹ کے حکم کے خلاف مسلم فریق کی عرضی پر سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کیا تھا سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ احاطے میں جس جگہ شیولنگ ملا ہے اسے محفوظ رکھا جائےلیکن، عدالت نے یہ بھی کہا کہ لوگوں کو نماز پڑھنے سے نہ روکا جائے۔

    ہندوانتہا پسندوں نے متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کومندرقراردے دیا

  • بھارتی انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے بعد اب سکھوں کےجانی دشمن، پُرتشدد جھڑپیں

    بھارتی انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے بعد اب سکھوں کےجانی دشمن، پُرتشدد جھڑپیں

    بھارتی ریاست پنجاب کے شہر پٹیالہ میں دوگروہوں میں جھڑپوں کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے ہڑتال کی کال دیتے ہوئے خالصتان کے حامیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ شہر میں زبردست کشیدگی کی وجہ سے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کر دی گئی ہے۔

    پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جبکہ تناؤ کے سبب جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست پنجاب میں علیحدگی پسند تحریک خالصتان کے حامی 29 اپریل کو علامتی طور پر یومِ خالصتان مناتے ہیں۔ ہندو گروہوں نے اس کی مخالفت میں گزشتہ روز پٹیالہ میں ’’خالصتان مردہ باد‘‘ کے نام سے ایک ریلی کا اہتمام کیا تھا۔

    ہندو ریلی کی قیادت انتہا پسند جماعت شیو سینا کے ایک مقامی رہنما کر رہے تھے۔ جب یہ ریلی کالی ماتا مندر کے پاس پہنچی تو وہاں بڑی تعداد میں سکھ آ گئے اور دونوں گروہوں میں جھڑپ شروع ہو گئی جس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

    ریاست پنجاب کی حکومت نے پولیس کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے تین اعلیٰ افسران کا تبادلہ کر دیا ہے جبکہ پولیس نے اب تک متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔

    بھارتی صوبے پنجاب کو سکھوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست خالصتان بنانے کی مہم کافی پرانی ہے جس سے وابستہ بیشتر رہنما امریکا، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک میں رہ کر اپنی مہم چلاتے ہیں۔ خالصتان تحریک کی حامی ایک معروف تنظیم سکھ فار جسٹس (ایس جے) ہے۔

    گزشتہ برس اکتوبر میں سکھ فار جسٹس تنظیم نے مجوزہ خالصتان ریاست کے لیے ایک آن لائن ریفرنڈم کا اعلان بھی کیا تھا جس میں 18 برس سے زائد عمر کے تمام سکھوں سے حصہ لینے کی اپیل کی گئی تھی۔

    بھارت میں 2014ء سے اقتدار پر براجمان انتہا پسند جماعت بی جے پی کے وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں مسلم، سکھ اور عیسائی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگیاں مشکل کر دی گئی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوستان میں ہندوؤں کے علاوہ کسی اور کا وجود گوارہ نہیں۔

  • بھارت،تجاوزات کے نام پر مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا جانے لگا

    بھارت،تجاوزات کے نام پر مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا جانے لگا

    بھارت،تجاوزات کے نام پر مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کیا جانے لگا

    بھارت میں ہندو انتہا پسند مسلمانوں پر زمین تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے

    دہلی کے علاقے جہانگیر پوری میں فرقہ وارانہ تشدد کے نتیجے میں تقریباً نو  افراد زخمی ہوئے ہندو انتہا پسندوں نے ان فسادات کا الزام علاقے کے رہائشی مسلمانوں پر لگا دیا پر تشدد اور دہشت گردی کے واقعات کے بعد سرکاری طور پر مسلمانوں کو سزا دینے کا منصوبہ بنایا گیا مسلمانوں کے علاقوں میں تجاوزات کے خاتمے کے نام پر ان گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے

    جہانگیر پوری میں بدھ کی صبح مسلمانوں کے گھروں کو تجاوزات کے نام پر مسمار کرنے کے لئے بلڈوزر پہنچ گئے، کارپوریشن کی ٹیم اور پولیس کی بھاری نفری ہمراہ تھی، علاقہ میں 15 سو کے قریب پولیس اہلکار تعینات تھے، جب بلڈوزر چلائے گئے تو علاقہ مکینوں نے روکنے کی کوشش کی تا ہم پولیس نے ان پر تشدد کیا، اس دوران مسلمان چیختے چلاتے رہے لیکن کسی نے انکی ایک نہیں سنی، مودی سرکار اب بھارت میں مسلمانوں کی زمینوں پر بھی قبضے کر رہی ہے، انکے گھروں کو مسمار کر کے انہیں بے دخل کر رہی ہے، حکومت کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ غیر قانونی تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے تا ہم اس میں کوئی سچائی نہیں، مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے،

    دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ کوئی کاروائی نہ کی جائے سپریم کورٹ نے کہا کہ اس معاملے میں سماعت 21 اپریل کو کی جائے گی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ایم سی ڈی کی انہدامی کارروائی جاری ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد بھی بلڈوزر کے ذریعہ مسلمانوں کے گھرون کو توڑا جا رہا ہے، سپریم کورٹ کے حکم کو بھی سرکار نے پاؤں تلے روند دیا، افسران کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس ابھی تک کوئی تحریری حکم نہیں آیا، جب تحریری حکم آئے گا تو کاروائی روک دیں گے

    دہلی کے جہانگیر پوری میں رونما ہونے والے فرقہ وارانہ تصادم پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے اسے لاء اینڈ آرڈ کی ناکامی قرار دیا ہے اور اس پورے واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ کیاہے مولانا مدنی نے کہا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں کو اپنی ذمہ داری ایماندارنہ طور پر ادا کرنی چاہیے اور اصل واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے، نیز ان افراد اور گروہوں کا پتہ لگانے کی ضرورت ہے جو اشتعال انگیز نعرے لگاتے رہے

    بدنامہ زمانہ کلب نے مسلمانوں کے لئے "حلال سیکس” متعارف کروا دیا

    لاک ڈاؤن میں سوشل میڈیا پر لڑکیوں کا "ریپ” کرنے کی منصوبہ بندی

    لندن پلٹ جوان نے کئے گھریلو ملازمہ سے جسمانی تعلقات قائم، ملازمہ میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    کرونا کے مریض صحتیاب ہونے کے بعد کب تک کریں جسمانی تعلقات قائم کرنے سے پرہیز؟

    کرونا کا خوف،60 سالہ مریض کو 4 گھنٹے میں 3 ہسپتالوں میں کیا گیا ریفر،پھر ہوئی ایمبولینس میں موت

    کرونا کے بہانے بھارت میں مسلمان نشانہ،بیان دینے پر مودی نے ہندو تنظیم کے سربراہ کو جیل بھجوا دیا

    وزیراعظم عمران خان کا موبائل فون ہیک کرنے کا انتخاب بھارت نے کیا،تہلکہ خیز انکشاف

    بھارت کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کی جاسوسی،دفتر خارجہ کا ردعمل آ گیا

    مودی سرکار صحافیوں سمیت اہم شخصیات سے جاسوسی کرنے لگی

    فیس بک کے ذریعے دو بھارتیوں نے چند روپوں کے عوض دیں آئی ایس آئی کو بھارتی فوج کی حساس معلومات، بھارتی میڈیا کا دعویٰ

    جاسوسی اوردہشتگردی کیس کے مزید 2 بھارتی قیدی پاکستان نے رہا کر دیئے

    واٹس ایپ کے ذریعے بھارتی فوج میں جاسوسی کی خبریں،تحقیقات کا حکم

    بھارتی وزیراعظم مودی کی نقل اتارنے والا مسلمان شہری گرفتار

  • امریکا کا بھارت میں مسلمانوں پر تشدد اور مذہبی آزادی کی پابندی پر تشویش کا اظہار

    امریکا کا بھارت میں مسلمانوں پر تشدد اور مذہبی آزادی کی پابندی پر تشویش کا اظہار

    واشنگٹن: امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بالخصوص مسلمانوں پر تشدد پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت اقلیتوں اور دیگر مذاہب کے معاملے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہوا ہےمسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا ہے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں اور نوجوانوں کا سرکاری اور غیر سرکاری فورسز کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔

    بھارت میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شرمناک ہیں،امریکا

    رپورٹ کے مطابق امریکا کی انسانی حقوق کے گروپوں نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ حال ہی میں مودی حکومت نے ریاست کرناٹک میں طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کی گئی اگرچہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے لیکن آزادیٔ اظہار رائے اور میڈیا پر پابندیاں عائد ہیں صحافیوں پر تشدد کیا گیا، دھمکیاں دی گئیں اور بلاجواز گرفتاریاں کی گئیں بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور سول سوسائٹی کی فنڈنگ، یا آپریشنز اور پناہ گزینوں کی بحالی پر حد سے زیادہ پابندی والے قوانین بھی نافذ کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے رہے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ ہ بھارت میں حالیہ دنوں میں ہونے والے واقعات تشویشناک ہیں۔ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہورہا ہے انسانی حقوق کی پامالی میں سرکاری افسر، پولیس اہلکاراورجیل حکام ملوث ہیں بھارتی حکام سے ملاقاتوں میں انسانی حقوق کی اہمیت اوراس کی بلاتفریق فراہمی سے متعلق اپنے موقف سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

    بھارت انتہا پسندی میں تمام حدود پار کررہا ہے بالخصوص مسلم دشمن اقدامات نے دنیا بھر میں اس کے نام نہاد سیکولر ازم کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا ہے کرناٹک جہاں رواں سال کے آغاز پر اسکولوں میں حجاب تنازع نے جنم لیا تھا وہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلم دشمنی میں ہندو انتہا پسند اقدامات بڑھتے جارہے ہیں مسلمانوں پر آئے دن نئی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور اب انہوں نے مسلمانوں کو معاشی بدحال کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے مندروں اور مذہبی میلوں میں حلال، مسلم تاجروں پر پابندی اور لاؤڈ اسپیکر پراذان کی پابندیاں لگائی گئیں بعد ازاں مسلم ٹیکسی ڈرائیورزکی خدمات حاصل کرنے اور مسلم پھل فروشوں سے پھل لینے پر بھی پابندیاں عائد کی گئیں-

    دہلی فسادات،14 افراد گرفتار،بے گناہ مسلمان پھنسا دیئے گئے

    ہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے صدر راج ٹھاکرے نے مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ کیاتھا اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اگرایسا نہیں کیا گیا تووہ لاؤڈ اسپیکرپر اذان سے قبل پہلے ‘ہنومان چالیسہ’ پڑھیں گے علاوہ ازیں ہندو تنظیموں نے مساجد میں اذان کے وقت ہندوؤں کی بھجن نشر کرنے کا منصوبہ بنایا ہندو کارکن بھرتھ شیٹی نے کہا تھا کہ یہ مہم بنگلورو میں یلہنکا کے انجنیا مندر میں صبح 5 بجے اذان کے وقت شروع ہوگی اس مہم کی منصوبہ بندی ریاست بھر میں کی گئی ہے ہندو تنظیمیں مسجدوں میں اذان کے عین وقت "اوم نمہ شیوائے”، "جئے شری رام” کے نعرے اور دیگر عقیدتی دعائیں نشر کریں گی-

    جبکہ بھارت میں ماہ رمضان میں مسلماںوں پر جینا تنگ کر دیا گیا ہے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر تشدد، املاک کی تباہی کے واقعات جاری ہیں مسجدوں سے لاؤڈ اسپیکر اتارنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور مودی سرکار خاموش ہے، بھارتی پولیس نے نئی دہلی میں ایک ہندو مذہبی جلوس کے دوران ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے فسادات کے سلسلے میں 14 افراد کو گرفتار کیا ہے نئی دہلی کے مضافاتی علاقے جہانگیر پوری میں ایک تہوار کے موقع پر ہونے والی جھڑپوں کے دوران گزشتہ روز 6 پولیس افسر اور متعدد دیگر افراد زخمی ہو گئے تھے پولیس نے بتایا ہے کہ فساد میں ملوث دیگر افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے لیے شناخت کی جارہی ہے-

    سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی،ہنگامے جاری،سعودی عرب،ایران کا ردعمل آ گیا

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکمرانی نے حالیہ برسوں میں سخت گیر ہندو مذہبی گروہوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اپنے عقائد کا دفاع کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں جبکہ ان کی پارٹی نے نریندر مودی کے دور حکومت میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے کی تردید کی ہے-

    دہلی کے بعد آندھرا پردیش کے علاقے کرنول میں بھی فسادات ہوئے ہنومان جینتی کے موقع پر نکالے گئے جلوس کے دوران دو گروپوں کے درمیان پتھراؤ ہوا۔ اس واقعہ میں کم از کم 15 افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس نے 20 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ صورت حال مکمل طور پر پرامن ہے۔

    حالات کشیدہ اس وقت ہوئے تھےجب شام کو ایک مسجد کے سامنے سے جلوس نکل رہا تھا چونکہ مسجد میں افطار اور نماز کا وقت تھالہذا نمازیوں نے جلوس کے دوران اونچی آواز میں موسیقی بجانے پر اعتراض کیا جس پر ہندو انتہا پسندوں نے نعرے بازی شروع کر دی اور مسلمانوں پر پتھراؤ شروع کر دیا تھا مسلمانوں نے بھی جوابی پتھراؤ کیا، ہندو انتہا پسندوں نے مسجد کے سامنے جے شری رام کے نعرے لگائے،جبکہ مسلمانوں کی جانب اللہ اکبر کے نعرے لگائےاطلاع پر پولیس موقع پر پہنچی اور صورتحال پر قابو پایا، پولیس نے واقعہ کی ویڈیو کی مدد سے 20 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور اضافی فورس تعینات کی گئی تھی جبکہ علاقہ میں دفعہ 144 کا نفاذ بھی کیا گیا-

    اسرائیلی فورسز کا مسجد اقصٰی میں تشدد کا مسلسل چوتھا روز، یہودیوں کی عبادت کیلئے مسلمانوں کو بے دخل…

  • بھارت میں مسلمانوں پرحملوں میں اضافہ:مسلمان سخت پریشان

    بھارت میں مسلمانوں پرحملوں میں اضافہ:مسلمان سخت پریشان

    بھارت میں انتہا پسند ہندووں کی طرف سے مسلمانوں پرحملوں میں بہت زیادہ تیزی دیکھنے میں آئی ہے ، انسانی حقوق کی تنظیمون کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں بھارت میں دو سو سے زائد واقعات ہوئے ہیں ،

    پہلے بڑے واقعہ میں بھارتی ریاست بہار میںہندوتوا غنڈوں نے ایک مسجد اور اس کے دروازے پر اپنازعفرانی رنگ کا جھنڈا لگادیا ہے جو ہندوتوا نظریے کی علامت ہے ۔
    رام نومی کے موقع پر بہار کے علاقے مظفر پور میں پیش آنے والے اس واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں ہندوتواغنڈوں کو ایک مسجد کے مینار اور اس کے دروازے پر ہندوتوا نظریہ کی علامت زعفرانی جھنڈا لگاتے ہوئے دکھاگیا ہے جبکہ ہندوتوا غنڈے اس موقع پرمسجد پر زعفرانی جھنڈا لگانے کے بعد خوشیاں منا رہے ہیں۔

    ویڈ یو میں مزید دکھایاگیا ہے کہ آر ایس ایس، بی جے پی، وی ایچ پی اور بنجرنگ دل سے وابستہ بڑی تعداد میں ہندوتوا کارکن اس موقع پرموٹر سائیکلوں پر تلواریں اور ہاکیاں لہراکر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہندوتواغنڈوں نے رام نومی کا جشن مناتے ہوئے محمد پور گائوں میں ڈاک بنگلہ مسجد کے سامنے ایک جلوس بھی نکالا۔ایس ایس پی مظفر پور جینت کانت نے واقعے کی ایف آئی آر کے اندراج کی تصدیق کی ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

    بھارت میں ہندوئوں کے بھگوان رام کے جنم دن کی مناسبت سے منائے جانے والے تہوار نوراتری کے موقع پر بھارت بھر میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    اتواراورپیر کے دوران بھارت بھرمیں خصوصا چار ریاستوں گجرات، مدھیہ پردیش، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پیش آئے،جن میں ہندتوابلوائیوں کی طرف سے مسلمانوں پر کئے گئے حملوں کی وجہ سے ایک شخص ہلاک ، درجنوں افراد زخمی اوردرجنوں گھروں، دکانوں اور گاڑیوں کو آگ لگادی گئی، جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔

    ہندو توابلوائیوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بلند کئے اور مساجد پر حملوں کے علاوہ مسلمانوں کے گھروں کو نظر آتش کر دیا ۔نئی دلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں نوراتری کے موقع پر نان ویج یا گوشت والے کھانے دیے جانے پر اسٹوڈنٹس یونین جے این ایس یو اور بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے درمیان تنازعے نے شدت کے بعدتشدد کی شکل اختیار کرلی۔جس سے کم از کم 16طلبہ زخمی ہوگئے۔پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس درج کرلیا ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔

    نوراتری کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کے شہروں کھمبات اور ہمت نگر شہروں میں تصادم کے مختلف واقعات پیش آئے۔ ہمت نگر میں ہندو بلوائیوں کے جلوس میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بلند کئے جانے اورتیز آواز میں گانے بجانے کے بعدتصاوم ہوا ۔ریاست مدھیہ پردیش کے کھرگون اور دیگر قصبوں میں بھی فرقہ وارانہ تصادم کے واقعات پیش آئے۔ دلی فسادات کے ملزم، بی جے پی لیڈر، کپل مشرا بھی کھرگون میں نوراتری کے جلوس میں شامل تھے۔

    مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی دگ وجے سنگھ نے ایک ٹوئیٹ میں لکھاہے کہ جہاں جہاں مشرا کے قدم پڑتے ہیں وہاں فسادات ہو جاتے ہیں۔جھارکھنڈ کے لوہردگا ضلع میں بھی رام نومی کے جلوس کے دوران تصادم میں کم از کم 10 افراد زخمی ہوگئے جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔مغربی بنگال میں ہوڑہ کے علاقے شب پور میں ہندوتوا کارکنوں کے جلوس کے دوران تصادم کے واقعات پیش آئے۔

    معروف سماجی کارکن اور دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر اپوروانند کا کہنا تھا کہ ہندو تہواروں کے موقع پر ہونے والے تشدد میں تمام ہندو شامل نہیں ہیں لیکن یہ ہندوں اور ہندو دھرم کے نام پرکیے جا رہے ہیں۔انہوں نے ہندوں سے سوال کیا کہ کیا اس سے انہیں سکون مل رہا ہے کہ ان کے تہوار کے نام پر دوسروں کو تکلیف پہنچائی جائے۔ اور اگر نہیں تو کیا وہ ایسا کرنے والوں کو روک نہیں سکتے؟ اپوروانندکا کہنا تھا کہ تہواروں کے مبارک موقع پر تشدد کے واقعات پر خاموشی اختیار کیے رہنا بھی گناہ ہے۔