Baaghi TV

Tag: مسلم لیگ ن

  • خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ  کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    اسلام آباد: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی س دوران صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ یا آپ ہیں یا ہم؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اس کی کیا حیثیت،کس کا نام تم نے لے لیا خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے اگر آج نامعلوم پیچھے ہو جائیں تو یہ حکومت ختم ہو جائے، باجوہ صاحب اب کیا کہیں گے کہ شہباز شریف 40 منٹ جھاڑ کھاتے رہے۔

    عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ سکیورٹی سے مطمئن ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ سکیورٹی تو ہے ہی نہیں، سکیورٹی تو صرف اپنی ہے۔

    صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ اب آپ صحتیاب ہوگئے ہیں،کیا کوئی مذاکرات کریں گے؟پاکستان اور عوام کو سیاسی مفاہمت اور سیاستدانوں کی بات چیت کی ضرورت ہےاس پر عمران خان نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔

    عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    تام انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں اور جو امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتے رہے ہوں ان کو لیول پلینگ فیلڈ کا کیا پتہ، مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ الیکشن کروائیں۔ ان کو کیا پتہ لیول پلینگ فیلڈ کا، یہ تو امپائر ساتھ ملا کر کھیلتے ہیں۔

    ملک میں کس کی حکومت ہے؟ سوال کے جواب پر عمران خان نے کہا کہ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آپ سب کو معلوم ہے۔ ملک میں رول آف لاء ختم ہوچکا ہے، اظہر مشوانی کو اغوا کیا گیا ہے اور حسان کی ضمانت ہوئی اسے پھر گرفتار کر لیا گیا۔

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے جس میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا۔

  • عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی۔

    باغی ٹی وی : درخواست میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا عمران خان نے موقف اختیار کیا کہ رانا ثنا اللہ نے ایک انٹرویو میں ڈائریکٹ دھمکیاں دی ہیں، فریقین کو میری گرفتاری کر کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد سے روکا جائے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے-

    عمران خان نے سیاست کو دشمنی تک پہنچا دیا،ہم سے بھی جو بن پڑا ہم …

    واضح رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کو وہاں لاکر کھڑا کردیا ہے کہ اب دونوں میں سے ایک کا وجود ہی باقی رہنا ہے، اس لیے جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے، جس میں یہ نہیں سوچا جاتا کہ یہ کام کریں یہ نہ کریں یہ جمہوری ہے، اور یہ غیرجمہوری ہے، یہ اصولی ہے اور یہ غیر اصولی، یہ چیزیں ختم ہوجاتی ہیں۔

    عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوگئے

    انہوں نےکہا کہ عمران خان کےساتھ جتنے لوگ ہیں وہ ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، انارکی پھیل چکی ہےعمران خان جس سطح پر معاملات کو لے گئے ہیں اب یا وہ سیاست سے منفی ہوں گے یا ہم ہوجائیں گے، معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں بلکہ پوائنٹ آف نو ریٹرن سے بہت آگے جاچکے ہیں، جو بھی نتیجہ ہو اس کا ذمے دار صرف عمران نیازی ہوگا۔عمران خان نے سیاست کو دشمنی تک پہنچا دیا ہے تو پھر ہم سے بھی جو بن پڑا ہم کریں گے۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تعیناتی پر فیصلہ محفوظ

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے رانا ثنا اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے اور رانا ثنا اللہ کے وجود کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے رانا ثنا اللہ کے خلاف سارے مقدمات نیب کے تھے اور نیب کا سب کو معلوم ہے، ہمارے دور حکومت میں کسی پر مقدمات نہیں بنائے گئے مقدمات کی تعداد دیکھ لیں تو پتا لگ جاتا ہے جھوٹے مقدمات ہیں اور یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے، مجموعی طور تمام کیسز کے حوالے سے ہماری پٹیشن تیار ہوگئی ہے، صرف اسلام آباد کے 500 کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  • آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت عارف علوی کو 5 صفحات اور 7 نکات پر مشتمل جوابی خط ارسال کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں اور آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پنجاب میں انتخابات کے التوا اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 24 مارچ کو وزیراعظم شہبازشریف کو خط لکھا تھا جس میں صدرمملکت نے کہا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی ہے، سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےالیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ مختلف محکموں کے سربراہان کی بریفنگ کی بنیاد پر کیا اور ان سربراہان کو حکومت نے ہدایات دی تھیں۔


    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت وزیراعظم تمام پالیسی امور پر صدر کو آگاہ رکھنے کے پابند ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مشاورت نہیں کی جا رہی، وزیراعظم انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں،الیکشن کا التوا توہین عدالت ہے ، حکام کو انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہنے کی ہدایت کی جائے۔


    تاہم اب صدر عارف علوی کی جانب سے کو لکھےگئے خط کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کا خط پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے، آپ کا خط یک طرفہ اور حکومت مخالف خیالات کا حامل ہے جن کا آپ کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں، آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں، 3 اپریل 2022 کو آپ نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے سابق وزیراعظم کی غیر آئینی ہدایت پر عمل کیا، قومی اسمبلی کی تحلیل کے آپ کے حکم کو سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو غیر آئینی قرار دیا۔

    وزیراعظم کا کہنا ہےکہ آرٹیکل 91 کلاز 5 کے تحت بطور وزیراعظم میرے حلف کے معاملے میں بھی آپ آئینی فرض نبھانے میں ناکام ہوئے،کئی مواقع پر آپ منتخب آئینی حکومت کے خلاف فعال انداز میں کام کرتے آرہے ہیں، میں نے آپ کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پوری کوشش کی، اپنے خط میں آپ نے جو لب ولہجہ استعمال کیا اُس سے آپ کو جواب دینے پر مجبور ہوا ہوں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آپ کا حوالہ ایک جماعت کے سیاست دانوں اور کارکنوں کے حوالے سے ہے، آئین کے آرٹیکل 10اے اور 4 کے تحت آئین اور قانون کا مطلوبہ تحفظ ان تمام افراد کو دیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاستی عمل داری کے لیے قانون اور امن عامہ کے نفاذ کے مطلوبہ ضابطوں پر سختی سے عمل کیا ہے، تمام افراد نے قانون کے مطابق داد رسی کے مطلوبہ فورمز سے رجوع کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ جماعتی وابستگی کے سبب آپ نے قانون نافذ کرنے و الے اداروں پر حملوں کو یکسر فراموش کردیا، آپ نے نجی وسرکاری املاک کی توڑپھوڑ، افراتفری پیدا کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کردیا، پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے کنارے لانے کی کوششوں کو آپ نے نظرانداز کردیا، پی ٹی آئی کی وجہ سے آئین، انسانی حقوق اور جمہوریت کے مستقبل سے متعلق پاکستان کی عالمی ساکھ خراب ہوئی، آپ نے بطور صدر ایک بار بھی عمران خان کی عدالتی حکم عدولی اور تعمیل کرانے والوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ عدالت کے حکم کے خلاف کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی عسکریت پسندی پہلےکبھی نہیں دیکھی گئی، ہماری حکومت آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، آپ کی توجہ ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ ورلڈ رپورٹ 2022 کی طرف دلاتا ہوں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے خط میں لکھا کہ پی ٹی آئی اس وقت اقتدار میں تھی، اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا کو کنٹرول کرنےکی کوششیں تیز کرچکی ہے، رپورٹ میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اختلاف رائے کو کچل رہی ہے، رپورٹ میں صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، قید وبند اور نشانہ بنانے کی تمام تفصیل درج ہے، پی ٹی آئی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کا قومی کمیشن معطل رہا۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ قومی کمشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ پی ٹی آئی حکومت پر فرد جرم ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس میں پی ٹی آئی حکومت کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا موت ہے، پی ٹی آئی حکومت نے مرد و خواتین ارکان پارلیمان کو قید وبند اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم کے خاندان کی خاتون رُکن کو بھی معاف نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفین کا صفایا کرنے کے لیے نیب کو استعمال کیا گیا لیکن افسوس بطور صدر پاکستان آپ نے ایک بار بھی اِن میں سے کسی بھی واقعے پر آواز بلند نہ کی۔ آپ بطور صدر انسانی حقوق، آئین اور قانون کی اِن خلاف ورزیوں پر اُس وقت کی حکومت سے پوچھ سکتے تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صدر نے اپنے خط میں سابق حکومت کے وفاقی وزراء کے جارحانہ رویے اور انداز بیان پر اعتراض نہیں کیا جبکہ سابق حکومت کے وزراء مسلسل الیکشن کمشن کے اختیار اور ساکھ پر حملے کررہے ہیں آئین کےآرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کی شق15 پانچ بی کی صدر کی تشریح درست نہیں، صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کی آپ کی بات درست نہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 48 کلاز وَن کے تحت صدر کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے۔

    الیکشن کے حوالے سے وزیراعظم نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے آپ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دے دی، آپ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ 2023 کے حکم سے مسترد کر دیا، آپ نے 2 صوبوں میں بدنیتی پر مبنی اسمبلیوں کی تحلیل پر کوئی تشویش تک ظاہرنہ کی، یہ سب آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی انا اور تکبرکی تسکین کے لیےکیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں کسی آئینی و قانونی مقصد کے لیے نہیں، صرف وفاقی حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے تحلیل کی گئیں اور آپ نے یہ بھی نہ سوچا کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے الیکشن کروانے سے ملک نئے آئینی بحران میں گرفتار ہو جائے گا۔ آپ نے آرٹیکل 218 کلاز تین کے تحت شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے تقاضے کو بھی فراموش کر دیا، آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو آپ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جو نہایت افسوسناک ہے۔ کا یہ طرز عمل صدر کے آئینی کردار کے مطابق نہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر کو مطلع رکھنے کی حد تک اس کا اطلاق ہے، نہ زیادہ نہ اس سے کم اور وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو استعمال کرنے میں وزیراعظم صدر کی مشاورت کا پابند نہیں۔ جناب صدر، میں اور وفاقی حکومت آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، آئین کی مکمل پاسداری، پاسبانی اور دفاع کے عہد پر کار بند ہیں، آئین میں درج ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کاربند ہیں۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے اور ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئینی طور پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔

  • اقتدارکیلئےعمران خان پاکستانیوں کوغلامی کی زنجیریں پہنانا چاہتا ہے،خواجہ سعد رفیق

    اقتدارکیلئےعمران خان پاکستانیوں کوغلامی کی زنجیریں پہنانا چاہتا ہے،خواجہ سعد رفیق

    مسلم لیگ ن کےرہنماخواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ اقتدارکیلئےعمران خان پاکستانیوں کوغلامی کی زنجیریں پہنانا چاہتا ہے،دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنےوالے کو کپتانی واپس نہیں ملے گی-

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیرریلوے سعدرفیق نے اپنے بیان میں کہاکہ عمران خان نے گمراہی اور نفرت پھیلانے کیلئے فارن فنڈنگ کے بل پر زہریلا پرپیگنڈا کیا گیا،دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنےوالے کو کپتانی واپس نہیں ملے گی۔


    انہوں نےمزید کہا کہ عمران حکومت نےنالائقی سے ملک کوقرضوں کے ریکارڈ بوجھ تلےدبایا،اسٹیبلشمنٹ کا منظور نظرعمران اب پاکستان مخالف طاقتوں کامہرہ بنا ہواہےپی ٹی آئی کی خفیہ فارن فنڈنگ قومی مفادات کیخلاف استعمال کیجارہی ہے-


    انہوں مزید کہا کہ اقتدارکیلئے فاشسٹ عمران شیاطین سے بھی اتحاد کرلیتا ہے 2018 میں آئین جمہوریت اورعوامی امنگوں کو کُچل کر عمرانی حکومت مسلط نہ کی جاتی توپاکستان دنیا کی ابھرتی معیشت بن گیا ہوتا عمران خان کی 4 سالہ حکمرانی نے پاکستان کی معاشی بنیادیں ہلادیں ،ملکی سالمیت کوشدید خطرات لاحق ہوگئے-


    وفاقی وزیر نے کہا کہ سلیکٹڈ کا جھٹکا ہوا تو الیکٹڈ کی یاد آئی ظُلم جھوٹ سازش اور لوٹ مار کا حساب دیئے بغیر جان نہیں چھُوٹے گی۔چیخنا چلانا قلا بازیاں لگانا کچھ کام نہیں آئے گا۔

  • کارکنوں پرتشدد :پی ٹی آئی نےامریکی ،برطانوی پارلیمنٹ یورپی یونین اورانسانی حقوق کی تنظیموں کو خطوط ارسال کر دیئے

    کارکنوں پرتشدد :پی ٹی آئی نےامریکی ،برطانوی پارلیمنٹ یورپی یونین اورانسانی حقوق کی تنظیموں کو خطوط ارسال کر دیئے

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے امریکی ایوان نمائندگان، ہاؤس آف لارڈز، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے عمران خان، اراکین پارلیمنٹ اور کارکنوں پر تشدد کا نوٹس لینے کی اپیل کر دی۔

    باغی ٹی وی: سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دنیا بھر کے پارلیمانی و انسانی حقوق کے فورمز کو خطوط لکھ دیے ہیں، اسد قیصر کی جانب سے یورپی یونین، امریکی ایوان نمائندگان، ہاؤس آف لارڈز اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔

    اسد قیصر کی جانب سے لکھے گئے خطوط میں عمران خان، اراکین پارلیمنٹ اور پی ٹی آئی کارکنان پر تشدد کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بطور سابق اسپیکر پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں علم میں لانا چاہ رہا ہوں، پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں نگراں حکومتوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں۔

    اسد قیصر کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو سیاست سے نکالنے کے لیے جھوٹے فوجداری مقدمات درج کیے گئے، سابق وزیراعظم کے گھر پر متعدد حملے اور کارکنان پر تشدد کیا گیا، پی ٹی آئی پر غیر آئینی طور پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خِبرپختونخوا اور پنجاب میں نگراں حکومتوں نے سیاسی ورکروں کی آواز دبانے کے لیے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کیں، سابق وزیراعظم عمران خان کو سیاست سے نکالنے کیلئےجھوٹےفوجداری مقدمات درج کیے گئےعمران خان کو قاتلانہ حملے میں 11 گولیاں ماری اور 127 مقدمات درج کیے گئے۔

    پی ٹی آئی رہنما نے عالمی اداروں کو خطوط میں لکھا کہ صحافی ارشد شریف کو قتل کیا گیا، ان کی والدہ کو انصاف نہیں ملا، پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کو پنجاب پولیس حراست کے دوران تشدد سے قتل کیا گیا، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اعلیٰ عدلیہ پر جعلی آڈیو ویڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ حملے کر چکی ہے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیر آئینی طور پر دو صوبوں میں انتخابات ملتوی کیے،وزیراعظم شہباز شریف نے تشدد کے خلاف مزاحمت کرنے والے پارٹی کارکنان کوعسکریت پسندکہا،وزیراعظم کی بھتیجی مریم نواز نےسیاسی ورکرزکوتعصب اور نسل پرستانہ قرار دیا، پاکستانی عوام کی سیاسی نسل کشی، جمہوریت کی تباہی کو روکنے میں کردار ادا کریں۔

  • عمران خان سیاستدان نہیں اس کا رویہ جمہوری نہیں ہے،رانا ثنا اللہ

    عمران خان سیاستدان نہیں اس کا رویہ جمہوری نہیں ہے،رانا ثنا اللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کو عدالت کو یہ حکم دینا چاہیے تھا کہ گاڑی سے اتر کر پیش ہو-

    باغی ٹی وی : رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان پہلے بھی جتھے کےساتھ جوڈیشل کمپلیکس گیا تھا اور توڑ پھوڑ کی تھی، آج بھی 100 کے قریب لوگ مسلح تھے، انہیں کیسے عدالت میں جانے کی اجازت دی جاسکتی تھی؟عدالت کو یہ حکم دینا چاہیے تھا کہ گاڑی سے اتر کر پیش ہو-

    گرفتاری کی صورت میں پارٹی کون چلائے گا،عمران خان کا بیان سامنے‌آ گیا

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسا ہونا ضروری تھا تاکہ اس قسم کے واقعات کو مزید نہ پنپنے دیا جائے، انتہائی افسوس ہے کہ انہیں گاڑی میں ہی حاضری لگوانے کی سہولت دی گئی، بعد میں سنا ہے کہ دستخط والی فائل بھی کہیں غائب ہوگئی۔

    ن لیگی رہنما کا کہنا تھاکہ عدالتوں کا احترام ہے لیکن عدلیہ کے اس رویے نے عمران خان کی خرمستی میں اضافہ کیا ہے، لوگوں کو عمران خان نے ماہ و سال جیل میں رکھا اور خود جیل سے اتنا خوفزدہ ہے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر 2018 میں قوم ڈٹ جاتی اور اس کا راستہ روکتی تو حالات آج بہتر ہوتے، اس کو لانے والے بھی یقیناً آج پچھتا رہے ہیں، عمران خان سیاستدان نہیں اس کا رویہ جمہوری نہیں ہے، قوم اس کا ادراک کرے اور ووٹ کی طاقت سے اس کو مائنس کرے۔

    انہوں نے کہا کہ زمان پارک سے گرفتار 65 افراد میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب سے نہیں ہے ، زمان پارک سے جو اسلحہ برآمد ہوا ہے وہ سارا ناجائز اسلحہ ہے ، آج یہ لوگ جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونا چاہتے تھے اور بہت سے مسلح تھے۔ عمران خان نے اپنے ارد گرد تین چار سو مسلح افراد جمع کیے ہوئے ہیں۔

    عمران خان کا فاشسٹ اور انتہاپسند چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے،وزیر اعظم

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو کوئی شک ہو تو دیکھ لے کہ عمران نیازی کی گزشتہ چند دنوں کی حرکات نے اس کے فاشسٹ اور عسکریت پسندانہ رجحانات کو عیاں کر دیا ہے۔ لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے سے لے کر پولیس پر پٹرول بم پھینکنے سے ،عدلیہ کو دھمکانے کے لیے جتھوں کی قیادت تک، اس نے آر ایس ایس کی کتاب سے ایک پرچہ نکال لیا ہے-

    واضح رہے کہ عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر پی ٹی آئی کارکنوں کی بڑی تعداد نے بھی عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا گیا۔

    اسی دوران پی ٹی آئی کارکنوں نے جوڈیشل کمپلیکس کا دروازہ توڑ دیا اور مشتعل کارکنوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا گیا جبکہ احاطہ عدالت کے باہر کھڑی 10 موٹر سائیکلوں کو آگ بھی لگا دی، پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے سرکاری افسر کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور گاڑی الٹا دی۔

    وقت کی ضرورت ہے تمام سیاستدان یکجا ہوں،عارف علوی

  • وزیرِ اعظم کا موٹر سائیکل اور رکشا چلانے والوں کوسستا پیٹرول دینے کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم کا موٹر سائیکل اور رکشا چلانے والوں کوسستا پیٹرول دینے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکل اور رکشا چلانے والوں کو سستا پٹرول دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی: وزیرِاعظم کی زیرِصدارت غریب و متوسط طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کیلیے اقدامات پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کو موٹر سائیکل اور رکشہ والوں کیلیے رعایتی پٹرول پر بھی بریفنگ دی گئی، اجلاس کو اس حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیرِ اعظم نے پروگرام کو حتمی شکل دے کر جلد پیش کرنیکی ہدایت کی۔

    خاتون جج دھمکی کیس:عمران خان نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو چیلنج کردیا

    شہباز شریف نے کہا کہ موٹر سائیکل اور رکشہ والے معاشی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور حکومت ان کو مہنگائی سے بچانے کیلیے ہر ممکن اقدام کرے گی حکومت سالانہ 150ارب روپے کی سبسڈی کے ذریعے سستا پٹرول فراہم کرنا چاہتی ہے اور آئی ایم ایف کے اعتراض سے بچنے کیلئے سبسڈی کی رقم کارمالکان سے وصول کرنے کا منصوبہ ہے۔

    اجلاس میں تجویز دی گئی کہ کار مالکان کیلئے پٹرول قیمت بڑھا کر300سے325روپے لٹر جبکہ موٹر سائیکل سواروں کیلئے قیمت کم کر کے 225سے250روپے لٹر کر دی جائے سستا پٹرول دینے کیلئے ابھی کوئی میکنزم طے نہیں کیا گیا تاہم صارفین کو پری پیڈکارڈز یا نقد رقم دینے کے آپشنز زیر غور ہیں۔

    پاکستان میں سیاسی استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کا ماحول پیدا نہیں ہوسکتا ہے،گورنر اسٹیٹ …

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ موٹرسائیکل والوں کو مہینے میں کم از کم ایک ہزار روپے کی پٹرول سبسڈی دی جانی چاہئے۔

    دوسری جانب ذرائع کے مطابق حکومت آئی ایم ایف اور اپنے ووٹرز کیساتھ جوا کھیل رہی ہے کیونکہ نہ تو آئی ایم ایف اس تجویز کی حمایت کر سکتا ہے اور نہ ہی کار مالکان اضافی رقم دینے پر راضی ہوں گے اور یہ امتیازی اقدام عدالتوں میں چیلنج ہو سکتا ہے۔

    کراچی: پولیس کی مختلف کارروائیوں میں 8 ملزمان گرفتار،نامعلوم افراد کی گولی سے ایک بچہ …

  • میری  گرفتاری کی صورت میں پارٹی کی پلاننگ تیار  ہے،عمران خان

    میری گرفتاری کی صورت میں پارٹی کی پلاننگ تیار ہے،عمران خان

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری کی صورت میں پارٹی کی پلاننگ تیار ہے۔

    عمران خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ ویسے تو ملکی مسائل کا واحد حل فوری اور شفاف انتخابات ہیں اگر الیکشن کے علاوہ بھی ملک کو دلدل سے نکالنے کا کوئی راستہ ہے تو وہ بتا دیں ملک میں اس وقت خوف کا نظام قائم ہے، میں پوچھتا ہوں کہ کس نےفیصلہ کیا کہ عمران خان کو نہیں آنے دینا، ملک میں ایک ہی وفاقی پارٹی رہ گئی ہے ، آپ مجھے ختم کریں گے تو ملک کو اکٹھا کون کرے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی پی ٹی آئی کارکن کی موت کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے …

    ایک بیان میں عمران خان نے کہا کہ جنہوں نے این آر او لیا ان کو مجھ سے خطرہ تو ہونا ہی ہے، ملک کا کوئی قانون ہے یا اسے ملکہ کے حکم پر چلانا ہے؟ اختلاف کرتے ہیں تو اس کا مقصد یہ نہیں کہ ہم اداروں سے لڑائی کریں گے، مجھے نظر آرہا ہے کہ صرف عدلیہ ہی ملک کو تباہی سے بچا سکتی ہے-

    ان کا کہنا تھا کہ جام پورکے الیکشن سے ان کی کانپیں ٹانگنے لگی ہیں، ان کا ایک نکاتی ایجنڈا ہے کسی طرح الیکشن سے نکلو، ان کا پلان تھا ہم سب کو باہر کرکے الیکشن کراتے، آج جتنے لوگ تھے مجھے خوف ہوا کہ نکلے تو خون خرابہ ہو گا، ہم عدالت کے پاس جا رہے ہیں کہ ہمیں عدلیہ سے آر اوز چاہئیں۔

    عمران خان نے کہا کہ ملک میں کوئی قانون ہے یا ملکہ کے حکم پر چلنا ہے، میرا بھی لندن میں فلیٹ تھا اُس پر نواز شریف مجھے عدالت لے گیا ، میں نے اپنے فلیٹ سے متعلق ایک ایک دستاویز پیش کیے۔

    پی ٹی آئی نے لاہور میں کل کی ریلی کے شیڈول کا اعلان کردیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ میں آزاد آدمی ہوں اور کسی کا غلام نہیں بن سکتا اگر یہ ہم سے بہتر معیشت چلاتے تو میں چپ کرکے الیکشن کا انتظار کرتا ان کے پاس جو غیر قانونی دولت ہے اس کا ابھی تک جواب نہیں دیا، جو ملک کا پیسے چوری کر کے باہر لے گئے وہ کیسے ملک ٹھیک کر سکتے ہیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مریم نواز کو جلسوں کی اجازت ہے ہمیں نہیں، کیا یہ لیول پلیئنگ فیلڈ ہے؟ ن لیگ کا بیڑا غرق میری وجہ سے نہیں ہو رہا بلکہ اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ نواز شریف نے اپنی بیٹی کو اوپر بٹھا دیا ہے، ن لیگ کے پرانے لوگ اس خاتون سے آرڈر لیں گے جس نے ایک گھنٹہ کام نہیں کیا، وہ ہر دوسرے روز ایسی بات کر دیتی ہے جو ہمارا فائدہ کراتی ہے گرفتاری کی صورت میں پلاننگ تیار ہے، وقت پر بتائیں گے-

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا میں نے کبھی نہیں کہا کہ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو آرمی چیف بناؤ، یہ گیم اپنا کھیل رہے تھے اور مجھے استعمال کیا جا رہا تھا یہ لیول پلئینگ فیلڈ اسے کہتے ہیں کہ دوسرے کے ہاتھ باندھ دو اور اگلے کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دو۔

    سستی روٹی سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا

  • پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکرٹری ارسلان تاج گرفتار

    پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکرٹری ارسلان تاج گرفتار

    کراچی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ارسلان تاج کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی: پی ٹی آئی کے ترجمان کے مطابق پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکرٹری کراچی ارسلان تاج کو ان کی رہائش گاہ گلشن اقبال سے گرفتار کیا گیا ہے ارسلان تاج کو سادہ لباس اہلکاروں نے گرفتار کیا۔

    پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی

    ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ ارسلان تاج کے گھر تین پولیس کی گاڑیاں آئیں جس میں سادہ لباس کپڑوں میں پولیس اہلکار تھے وہ گھر میں داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ بھی کی۔

    ترجمان پاکستان تحریک انصاف نے ارسلان تاج کی گرفتاری کی مذمت کی ہے تاہم سندھ حکومت اور پولیس کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔

    دوسری جانب کراچی میں پولیس کی جانب سے فجر کے اوقات رکن سندھ اسمبلی راجا اظہر کے گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا۔

    شیخوپورہ: گالیاں دینے پر ملازم کے ہاتھوں کمپنی مالک سمیت 5 افراد قتل

    ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے راجا اظہر کی فیملی کو ہراساں کیا گیا کراچی پولیس کے چھاپے کے وقت ایم پی اے راجا اظہر گھر پر موجود نہیں تھے۔

    دوسری جانب عمران خان کی جانب سے آج ریلی نکالنے کے اعلان کے بعد پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ر ینجرز کو طلب کر لیا، ریلیاں نکالنے پر پابندی عائد ہوگی۔

    تُونس کے صدر کا شام کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنے کا ارادہ

  • پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی

    پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی

    پنجاب حکومت نے لاہور میں دفعہ 144 نافذ کر دی-

    باغی ٹی وی: نگران وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں کہا کہ لاہور میں جلسے،جلوس اور ریلیاں نکالنے پر پابندی ہوگی،لوگ عدالت میں جانا چاہتےہیں تو جاسکتےہیں،لاہور میں دفعہ 144صرف ایک روز کے لیے لگائی گئی ہے-

    عمران خان کا کل لاہور میں انتخابی ریلی کی قیادت کا اعلان

    نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے کہا کہ امیدواروں کی حتمی فہرست جاری ہونےکے بعد الیکشن مہم شروع کی جاسکتی ہے،پی ٹی آئی سے آج انتظامیہ کے مذاکرات ہوئے اور ریلی نہ نکالنے کا مشورہ دیا،12مارچ کیلئے پنجاب حکومت نے ریلی نکالنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا-

    عامر میر نے کہا کہ اگر ان کی جانب سے مزاحمت کی گئی تو دفعہ 144 کو آگے بڑھا دیا جائے گا،ہماری درخواست ہے قانون کو ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں،لاہور میں آج پی ایس ایل کا اہم میچ ہونےجارہاہے،لاہور میں آج میراتھون اور سائیکل ریس بھی ہوگی-

    صوبائی وزیرسردار عبدالرحمان کھیتران رہا

    نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران خان نے آج اہم دن پر ریلی نکالنے کا اعلان کیا ،ہمارے لیے آج سب سے بڑا ایونٹ پاکستان سپرلیگ کا ہے،اگر ان کی جانب سے مزاحمت کی گئی تو دفعہ144کو آگے بڑھا دیا جائے گا-

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے کل ریلی کے اعلان کے بعد لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا-

    عمران خان نے کل لاہور میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا کہ ریلی کی قیادت وہ خود کریں گے اس کے اعلان کے بعد ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہنا تھاکہ کرکٹ میچ کی وجہ سے کل ریلی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کرکٹ میچ اور ٹیم کی آمدو رفت کی وجہ سےانتہائی حساس دن ہےان کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی نے ریلی ملتوی نہ کی تو دفعہ 144کے نفاذ کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

    چین میں کیڑوں کی برسات ،لوگوں میں حیرت اور خوف پھیل گیا