Baaghi TV

Tag: مسلم لیگ ن

  • مسلم لیگ ن کے رہنما نذر گوندل نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    مسلم لیگ ن کے رہنما نذر گوندل نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی

    مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق رکن پنجاب اسمبلی نذر گوندل نے پارٹی کو خیر باد کہہ دیا-

    باغی ٹی وی : جہلم کی ممتاز سیاسی شخصیت نذر گوندل نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا سابق ن لیگی رہنما نے بلاول ہاؤس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اورسابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی،بلاول بھٹو زرداری نے نذر گوندل اور تمام شخصیات کو خاش آمدید کہا-

    عمران خان نے پیمرا کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا نذر گوندل کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے نظریات اور منشور سے مطمئن ہوں۔ اگلا الیکشن پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے لڑوں گا پچھلے الیکشن میں فواد چوہدری کی سپورٹ کی تھی ، پارٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی تھی –

    منصوررانا نے پاکستانی شاہینز کےساتھ زمبابوےجانےسےمعذرت کرلی

    ملاقات کے دوران نذر گوندل کے ہمراہ،چوہدری اصغر گوندل،بلال نذر گوندل،تصور عباس پھپھرا اور پیر حمزہ کرامانی بھی موجود تھے انہوں نے بھی پورے گروپ کے ہمراہ پی پی میں شمولیت اختیار کی-

    چند ججز عمران خان کوریلیف دینا چاہتے ہیں،مولانا فضل الرحمان

  • جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے بڑا مفرور ہے،مریم نواز

    جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے بڑا مفرور ہے،مریم نواز

    قصور: مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا نام لیے بغیرتنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے بڑا مفرور ہے۔

    باغی ٹی وی: قصور میں عوامی جلسہ سےخطاب کے دوران انہوں نےکہا کہ کھڈیاں والوں نے مینار پاکستان پر جلسہ کرنے والوں کو کھڈے میں پھینک دیا سوچا بھی نہیں تھا کہ پورا کھڈیاں باہر آجائے گا، ملک احمد خان زندہ باد، کھڈیاں اور قصور کل اور آج بھی نوازشریف سے محبت کرتا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ جتنے مرضی "پامبڑ” مچ جائیں سچ بولنے سے باز نہیں آؤنگی، 5 سال ان "پامبڑوں” سے گزر کر آئی ہوں نہیں ڈروں گی، قصور والوں کا شعور بہت زبردست ہے، جب الیکشن چوری کیا گیا قصورسے پوری سیٹیں جیتی تھیں، کھڈیاں والوں نے سب سے پہلے گھڑی چور کو پہچانا تھا پوری دنیا جان گئی ہے یہ فتنہ حکومت میں ہو تو تباہی اور باہر ہو تو بربادی ہے، گیدڑ کو لیڈر کا ماسک پہنانے کی پوری کوشش کی گئی،ماسک اترا تو گھڑی چور نکلا جب لیڈر کا ماسک نکلا تو بیچ میں توشہ خانہ چور نکلا، جب لیڈر کا ماسک اترا ہیروں کے سیٹ لینے والا نکلا، گزشتہ 6 سے 7 سال گدھے پرلکیریں ڈال کر زیبرا بنانے کی کوشش کی گئی، گدھا تو گدھا ہی ہوتا ہے، سہولت کار ہٹے تو گدھے کی لکیریں مٹ گئیں، اب وہ گدھا ریاست کو لاتیں مار رہا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ جس طرح اس کی درگت بنی سہولت کاروں نے بھی کانوں کو ہاتھ لگا لیا، کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے، آج قانون کا یہ سب سے بڑا مفرور ہے، عدالتوں نے کہا کہ پیش ہو لیکن وہ ٹانگ پر پلستر چڑھا کر بیٹھا ہے، چھتوں کے پلستر بھی کھل جاتے ہیں لیکن اس کی ٹانگ کا پلستر نہیں کھل رہا کبھی کہتا ہے بیمار ہوں کبھی کہتا ہے بزرگ ہوں، زمان پارک سے پولیس والوں پر پٹرول بم پھینکے گئے، بڑا معصوم سا منہ بنا کر کہتا ہے کہ میری بیوی زمان پارک میں اکیلی تھی، اگر تمہاری بیوی اکیلی تو زمان پارک میں پٹرول
    https://twitter.com/pmln_org/status/1641066552857358336?s=20


    مریم نواز نے کہا کہ

    مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے زمان پارک میں دہشت گرد چھپائے ہوئے تھے، گلگت بلتستان کی پولیس کو بلا کر پنجاب پولیس پر حملہ کرایا گیا، اس آدمی کو شرم نہیں آتی، دنیا کی تاریخ میں اس سے زیادہ بزدل انسان نہیں دیکھا، پہلے کئی ماہ چارپائی کے نیچے سے نہیں نکلا تھا، اب نکلتا ہے تو جنگلا نما گاڑی میں بیٹھ جاتا ہے، جب گاڑی سے نکلتا ہے تو کالا ڈبہ سر پر رکھ لیتا ہے، کالا سا گھونگٹ نکال کر دلہن بن جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان کے سٹیج کو بنکرمیں تبدیل کر دیا، بلٹ پروف بنکر سے قوم کو کہتا ہے خوف کے بت کو توڑ دو، اتنا ڈرپوک شخص تاریخ میں نہیں دیکھا، تمہاری جان اگر قیمتی ہے تو جلسے میں آنے والوں کی بھی قیمتی ہے اس کے اپنے بچے لندن میں محفوظ ہیں، قوم کے بچوں کو سڑکوں پر مار کھانے کے لیے چھوڑا ہےیاد رکھنا اگر آپ پر کوئی تکلیف آئی تو میں سامنے کھڑی ہوں گی، مینار پاکستان میں اس کی تقریر ایک ہارے ہوئے شخص کی تھی، عمران خان سن لو یہ قوم اب تمہیں کبھی اقتدار میں نہیں آنے دے گی، دس نکاتی ایجنڈا پیش کر رہا تھا، جب 4 سال اقتدار میں تھا تب دس نکاتی ایجنڈا کہاں سو رہا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ پہلا شخص ہے جو روز قتل کی کہانی گھڑ کر سناتا ہے، کبھی رانا ثنا اللہ، کبھی کہتا ہے آئی جی پنجاب قتل کرنا چاہتا ہے، ایسے بندے کو چڑیا گھر میں رکھنا چاہیے اور ٹکٹ لگنی چاہیے، آج اس ذہنی مریض کے کہنے پرعدالتیں سوموٹو لے رہی ہیں، عمر عطا بندیال صاحب اس بندے کے پیچھے نہ لگیں، اس نے ہر سہولت کار کو استعمال کیا پھر مٹی پلیت کرتا ہے۔

    جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ انشااللہ الیکشن ہو گا، ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، ہم عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں، الیکشن ہو گا لیکن الیکشن سے پہلے سلیکشن کا فیصلہ ہو گا، ایک منشیات زدہ شخص کے کہنے پر پنجاب کی اسمبلی کیوں توڑی گئی، حمزہ شہبازکی حکومت توڑکر 25 ارکان کو عمران کی جھولی میں پھینکا گیا چار، تین کا فیصلہ دو، تین سےکس نے تبدیل کیا، کیا یہ پاکستان کے عوام سے دھوکہ نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پرویز الہیٰ کی حکومت لانے کے لیے 25 ایم پی ایز کوعمران کی جھولی میں ڈالا گیا تب آئین نے دستک نہیں دی، جب منتخب وزیراعظم کو نکالا گیا اس وقت آئین پاکستان نے دستک نہیں دی، کھڈیاں والو اپنے دشمن کا نام سنو جسٹس کھوسہ، ثاقب نثار نے کہا نوازشریف کے خلاف درخواست لاؤ ہم باہر کرتے ہیں، اس وقت آئین پاکستان نے دستک نہیں دی؟ نوازشریف کو سزا دینے والوں کی گواہیاں آچکی ہیں-

  • انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس:حکومتی اتحاد کا سپریم کورٹ فریق بننے کا فیصلہ

    انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس:حکومتی اتحاد کا سپریم کورٹ فریق بننے کا فیصلہ

    اسلام آباد: حکومتی اتحاد نے انتخابات ملتوی کرنے سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ میں فریق بننے کا فیصلہ کر لیا ہے

    باغی ٹی وی: سپریم کورٹ میں الیکشن ملتوی کرنے کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست کے بعد حکومتی اتحاد نے فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے آج ن لیگ، پیپلزپارٹی اور جے یو آئی فریق بننے کی درخواست دائر کریں گی-

    انتخابات ملتوی کرنے کا کیس: سپریم کورٹ نے سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا

    حکومتی اتحاد کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) اپنا موقف عدالت میں پیش کریں گی۔

    پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ آج دوبارہ کچھ دیر بعد سماعت کرےگا، بینچ میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل شامل ہیں۔

    جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کا مقدمہ، فرخ حبیب کی عبوری ضمانت مسترد

  • زمان پارک میں بجلی چوری:عمران خان ایک اورمقدمےسےبچنا چاہتے ہیں تو بجلی کا بل ادا کریں،خرم دستگیر

    زمان پارک میں بجلی چوری:عمران خان ایک اورمقدمےسےبچنا چاہتے ہیں تو بجلی کا بل ادا کریں،خرم دستگیر

    اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ عمران خان بجلی کا بل ادا کریں تو ایک اور مقدمے سے بچ جائیں گے-

    باغی ٹی وی: وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عمران خان زمان پارک گھر کے بجلی کا بل ادا کریں اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اسٹاف کو زمان پارک گھر کو چیک کرنے دیں اگر عمران خان ایک اور مقدمے سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے گھر کا بجلی کا بل ادا کریں مقدمے سے بچ جائیں گے۔

    جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لیسکو نے زمان پارک میں تحریک انصاف کے کیمپوں میں بجلی کی مبینہ چوری پر نوٹس جاری کیا تھا لیسکو کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا کہ عمران خان کے گھر کے باہر کیمپوں میں بجلی چوری ہورہی ہے، بجلی چوری کی نشاندہی سوشل میڈیا پر کی گئی ہے لیسکو نے جی او آر سب ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ فوری ایکشن لیا جائے زمان پارک کے اطراف میں کیمپس میں نصب فلڈ لائٹس میں بجلی چوری ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔

    ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے موسلا دھار بارشوں، ژالہ باری کا امکان

    لیسکو حکام کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اسٹاف نے لیسکو عملے کو زمان پارک میں داخل نہیں ہونے دیا، زمان پارک میں قائم کیمپوں میں بجلی چوری کی جارہی ہے، لہٰذا لیسکو کے اسٹاف کو بجلی کی املاک تک جانے کی اجازت دی جائےاگر اسٹاف کو چیکنگ کی اجازت نہ دی تو لیسکو یکطرفہ قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

  • جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ ڈالا تھا،بشیر میمن

    جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں عمران خان اور ان کے پرنسپل سیکرٹری نے دباؤ ڈالا تھا،بشیر میمن

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق سربراہ بشیر میمن نے انکشاف کیا ہے کہ جج ارشد ملک ویڈیو کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور اُن کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان نے ان پر دباؤ ڈالا۔

    باغی ٹی وی : نجی خبر رساں ادارے کے مطابق بشیر میمن کا کہنا تھا کہ بار بار اُن پر دباؤ ڈالا گیا کہ ناصر جنجوعہ پر تشدد کرکے انھیں نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف بیان دینے پر مجبور کریں عمران خان کا اصرار تھا کہ بیان دلوانے کیلئے ہر قانونی اور غیرقانونی طریقہ استعمال کیا جائے، ایف آئی اے نے تحقیقات کی تو پتا چلا کہ ناصر جنجوعہ کا ویڈیو اسکینڈل سے کوئی تعلق نہیں ناصر جنجوعہ کے بے گناہ ہونے کا سن کر عمران خان بہت ناراض ہوئے-

    بشیر میمن نے حکمرانوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے بے نقاب کردیا ،سینیٹر روبینہ خالد

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال اپریل کو بشیر میمن نے انکشاف کیا تھا کہ کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور شریف خاندان کیخلاف مقدمات بنانے کیلئے کہا تھا پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عثمان ڈار بھی خواجہ آصف کیخلاف کیس بنانے کیلئے گھر آئے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنما نے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بشیر میمن کو خواجہ آصف کو گھیرنے کیلئے نہیں کہا۔

    بشیر میمن نےکہا تھا کہ عمران خان نے شریف فیملی کیخلاف مقدمات بنانے کو کہا متعدد بار کہا گیا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت پر مقدمات بناؤ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بھی مقدمہ بنانے کا کہا گیا تو میں نے صاف انکار کر دیا تھا مجھے وزیراعظم ہاؤس بلایا گیا، جہاں پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر مجھے سابق وزیراعظم کے پاس لے کر گئے۔ انہوں نے مجھے احتیاط کے ساتھ نئے مقدمات بنانے کا کہا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ وہ کس بارے میں بات کر رہے تھے۔

    سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کو عدالت نے بے قصور قرار دیا

    ان کا کہنا تھا کہ اعظم خان اور شہزاد اکبر کے ساتھ بات چیت میں یہ عقدہ کھلا کہ سابق وزیراعظم عمران خان سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف منی لانڈرنگ کیس بنانے کی بات کر رہے تھے میں نے انہیں بتایا کہ ایف آئی اے ایسا کیس نہیں بناسکتی، جس کی وجہ سے سے ہم تینوں کے درمیان بات چیت کشیدہ ماحول میں ختم ہوئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے لیگی نائب صدر مریم نواز سے متعلق غلیظ زبان استعمال کی تو وہ غصے میں آگئے،اعظم خان اپنے دفتر لے گئے اور مجھے اور خود کو واش روم میں بند کرلیا، وہ مجھےغصے پر قابو پانے کا کہتے رہے۔

    واضح رہے کہ 6 جولائی 2019 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے پریس کانفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کوالعزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا اس بنیاد پر مریم نواز نے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ جج نے خود اعتراف کرلیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔

    فل بنچ تشکیل دے کر سیاسی، مخصوص پالیسی کے فیصلوں کا قلعہ قمع کیا جائے. …

    تاہم جج ارشد ملک نے ویڈیو جاری ہونے کے بعد اگلے روز ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اوپرعائد الزامات کی تردید کی اور مریم نواز کی جانب سے دکھائی جانے والی ویڈیو کو جعلی۔ فرضی اور جھوٹی قرار دیا تھا

    اس معاملے پر کابینہ اجلاس کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم وزیراعظم عمران خان نے مؤقف اپنایا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد جج ارشد ملک کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم قام چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات ہوئی، اس کے بعد قائمقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے ملاقات کی۔

    ان ملاقاتوں کے بعد 12 جولائی 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس عامر فاروق نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد وزرات قانون نے ان کو مزید کام سے روکتے ہوئے ان کی خدمات لاہور ہائیکورٹ کو واپس کردیں۔

    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری

    اس دوران جج ارشد ملک کا ایک بیان حلفی بھی منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز نے انہیں رشوت کی پیشکش کی جج ارشد ملک نے بیان حلفی میں بتایا تھا کہ وہ مئی 2019 کو خاندان کے ساتھ عمرے پر گئے، یکم جون کو ناصر بٹ سے مسجد نبویؐ کے باہر ملاقات ہوئی، ناصر بٹ نے ویڈیو کا حوالہ دے کر بلیک میل کیا۔

    بیان حلفی کے مطابق انہیں (ارشد ملک) کو حسین نواز سے ملاقات کرنے پر اصرار کیا گیا جس پر انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی، پورے خاندان کو یوکے، کینیڈا یا مرضی کے کسی اور ملک میں سیٹل کرانے کا کہا گیا، بچوں کیلئے ملازمت اور انہیں منافع بخش کاروبار کرانے کی بھی پیشکش کی گئی تھی-

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

  • خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ  کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگررانا ثنااللہ کہہ رہے ہیں تومیں کہوں گا وہ نہیں رہیں گے،عمران خان

    اسلام آباد: وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے-

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران کمرہ عدالت میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی س دوران صحافی نے سوال کیا کہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ یا آپ ہیں یا ہم؟ اس پر چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اس کی کیا حیثیت،کس کا نام تم نے لے لیا خواہش تو یہی ہے دونوں رہیں لیکن اگر وہ کہہ رہے ہیں تو میں یہی کہوں گا وہ نہیں رہیں گے اگر آج نامعلوم پیچھے ہو جائیں تو یہ حکومت ختم ہو جائے، باجوہ صاحب اب کیا کہیں گے کہ شہباز شریف 40 منٹ جھاڑ کھاتے رہے۔

    عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ سکیورٹی سے مطمئن ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ سکیورٹی تو ہے ہی نہیں، سکیورٹی تو صرف اپنی ہے۔

    صحافی نے عمران خان سے پوچھا کہ اب آپ صحتیاب ہوگئے ہیں،کیا کوئی مذاکرات کریں گے؟پاکستان اور عوام کو سیاسی مفاہمت اور سیاستدانوں کی بات چیت کی ضرورت ہےاس پر عمران خان نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا۔

    عمران خان کی 7 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور

    تام انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہوتے ہیں اور جو امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتے رہے ہوں ان کو لیول پلینگ فیلڈ کا کیا پتہ، مذاکرات ہو سکتے ہیں لیکن ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ الیکشن کروائیں۔ ان کو کیا پتہ لیول پلینگ فیلڈ کا، یہ تو امپائر ساتھ ملا کر کھیلتے ہیں۔

    ملک میں کس کی حکومت ہے؟ سوال کے جواب پر عمران خان نے کہا کہ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آپ سب کو معلوم ہے۔ ملک میں رول آف لاء ختم ہوچکا ہے، اظہر مشوانی کو اغوا کیا گیا ہے اور حسان کی ضمانت ہوئی اسے پھر گرفتار کر لیا گیا۔

    عمران خان کیخلاف ملک بھرمیں مقدمات کی تفصیلات جاری،پارٹی کے دعوے غلط ثابت

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی ہے جس میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا۔

  • عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    عمران خان نےرانا ثنا اللہ کے بیان پراسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی

    اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے بیان سے متعلق درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی۔

    باغی ٹی وی : درخواست میں وفاق، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشن کو فریق بنایا گیا عمران خان نے موقف اختیار کیا کہ رانا ثنا اللہ نے ایک انٹرویو میں ڈائریکٹ دھمکیاں دی ہیں، فریقین کو میری گرفتاری کر کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد سے روکا جائے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کھلی وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے-

    عمران خان نے سیاست کو دشمنی تک پہنچا دیا،ہم سے بھی جو بن پڑا ہم …

    واضح رہے کہ گزشتہ روز نجی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کو وہاں لاکر کھڑا کردیا ہے کہ اب دونوں میں سے ایک کا وجود ہی باقی رہنا ہے، اس لیے جب ہم سمجھیں گے کہ ہمارے وجود کی نفی ہورہی ہے تو ہم تو ہر اس حد تک جائیں گے، جس میں یہ نہیں سوچا جاتا کہ یہ کام کریں یہ نہ کریں یہ جمہوری ہے، اور یہ غیرجمہوری ہے، یہ اصولی ہے اور یہ غیر اصولی، یہ چیزیں ختم ہوجاتی ہیں۔

    عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوگئے

    انہوں نےکہا کہ عمران خان کےساتھ جتنے لوگ ہیں وہ ہمیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، انارکی پھیل چکی ہےعمران خان جس سطح پر معاملات کو لے گئے ہیں اب یا وہ سیاست سے منفی ہوں گے یا ہم ہوجائیں گے، معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں بلکہ پوائنٹ آف نو ریٹرن سے بہت آگے جاچکے ہیں، جو بھی نتیجہ ہو اس کا ذمے دار صرف عمران نیازی ہوگا۔عمران خان نے سیاست کو دشمنی تک پہنچا دیا ہے تو پھر ہم سے بھی جو بن پڑا ہم کریں گے۔

    نگراں وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تعیناتی پر فیصلہ محفوظ

    دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے رانا ثنا اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کے بیان کا نوٹس لینا چاہیے اور رانا ثنا اللہ کے وجود کو ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے رانا ثنا اللہ کے خلاف سارے مقدمات نیب کے تھے اور نیب کا سب کو معلوم ہے، ہمارے دور حکومت میں کسی پر مقدمات نہیں بنائے گئے مقدمات کی تعداد دیکھ لیں تو پتا لگ جاتا ہے جھوٹے مقدمات ہیں اور یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے، مجموعی طور تمام کیسز کے حوالے سے ہماری پٹیشن تیار ہوگئی ہے، صرف اسلام آباد کے 500 کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

  • آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    آپ کا خط پی ٹی آئی کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے،وزیر اعظم کا صدر مملکت کو جوابی خط ارسال

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے صدر مملکت عارف علوی کو 5 صفحات اور 7 نکات پر مشتمل جوابی خط ارسال کر دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں اور آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پنجاب میں انتخابات کے التوا اور تحریک انصاف کے کارکنوں کی گرفتاریوں پر صدر ڈاکٹر عارف علوی نے 24 مارچ کو وزیراعظم شہبازشریف کو خط لکھا تھا جس میں صدرمملکت نے کہا تھا کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی ہے، سیاستدانوں، سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےالیکشن کمیشن نے پنجاب میں انتخابات اکتوبر تک ملتوی کرنے کا فیصلہ مختلف محکموں کے سربراہان کی بریفنگ کی بنیاد پر کیا اور ان سربراہان کو حکومت نے ہدایات دی تھیں۔


    صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت وزیراعظم تمام پالیسی امور پر صدر کو آگاہ رکھنے کے پابند ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی مشاورت نہیں کی جا رہی، وزیراعظم انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں،الیکشن کا التوا توہین عدالت ہے ، حکام کو انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہنے کی ہدایت کی جائے۔


    تاہم اب صدر عارف علوی کی جانب سے کو لکھےگئے خط کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا کہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آپ کا خط پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پریس ریلیز دکھائی دیتا ہے، آپ کا خط یک طرفہ اور حکومت مخالف خیالات کا حامل ہے جن کا آپ کھلم کھلا اظہار کرتے ہیں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ آپ کا خط صدر کے آئینی منصب کا آئینہ دار نہیں، آپ مسلسل یہی کر رہے ہیں، 3 اپریل 2022 کو آپ نے قومی اسمبلی تحلیل کرکے سابق وزیراعظم کی غیر آئینی ہدایت پر عمل کیا، قومی اسمبلی کی تحلیل کے آپ کے حکم کو سپریم کورٹ نے 7 اپریل کو غیر آئینی قرار دیا۔

    وزیراعظم کا کہنا ہےکہ آرٹیکل 91 کلاز 5 کے تحت بطور وزیراعظم میرے حلف کے معاملے میں بھی آپ آئینی فرض نبھانے میں ناکام ہوئے،کئی مواقع پر آپ منتخب آئینی حکومت کے خلاف فعال انداز میں کام کرتے آرہے ہیں، میں نے آپ کے ساتھ اچھا ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنے کی پوری کوشش کی، اپنے خط میں آپ نے جو لب ولہجہ استعمال کیا اُس سے آپ کو جواب دینے پر مجبور ہوا ہوں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے لکھا ہےکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا آپ کا حوالہ ایک جماعت کے سیاست دانوں اور کارکنوں کے حوالے سے ہے، آئین کے آرٹیکل 10اے اور 4 کے تحت آئین اور قانون کا مطلوبہ تحفظ ان تمام افراد کو دیا گیا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ریاستی عمل داری کے لیے قانون اور امن عامہ کے نفاذ کے مطلوبہ ضابطوں پر سختی سے عمل کیا ہے، تمام افراد نے قانون کے مطابق داد رسی کے مطلوبہ فورمز سے رجوع کیا ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نےکہا ہےکہ جماعتی وابستگی کے سبب آپ نے قانون نافذ کرنے و الے اداروں پر حملوں کو یکسر فراموش کردیا، آپ نے نجی وسرکاری املاک کی توڑپھوڑ، افراتفری پیدا کرنے کی کوششوں کو نظر انداز کردیا، پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کو معاشی ڈیفالٹ کے کنارے لانے کی کوششوں کو آپ نے نظرانداز کردیا، پی ٹی آئی کی وجہ سے آئین، انسانی حقوق اور جمہوریت کے مستقبل سے متعلق پاکستان کی عالمی ساکھ خراب ہوئی، آپ نے بطور صدر ایک بار بھی عمران خان کی عدالتی حکم عدولی اور تعمیل کرانے والوں پر حملوں کی مذمت نہیں کی۔

    وزیراعظم نے لکھا کہ عدالت کے حکم کے خلاف کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ایسی عسکریت پسندی پہلےکبھی نہیں دیکھی گئی، ہماری حکومت آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے، آپ کی توجہ ہیومن رائٹس واچ کی سالانہ ورلڈ رپورٹ 2022 کی طرف دلاتا ہوں-

    وزیراعظم شہباز شریف نے خط میں لکھا کہ پی ٹی آئی اس وقت اقتدار میں تھی، اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان میڈیا کو کنٹرول کرنےکی کوششیں تیز کرچکی ہے، رپورٹ میں لکھا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اختلاف رائے کو کچل رہی ہے، رپورٹ میں صحافیوں، سول سوسائٹی اور سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، قید وبند اور نشانہ بنانے کی تمام تفصیل درج ہے، پی ٹی آئی حکومت کے دور میں انسانی حقوق کا قومی کمیشن معطل رہا۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ قومی کمشن برائے انسانی حقوق کی رپورٹ پی ٹی آئی حکومت پر فرد جرم ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس میں پی ٹی آئی حکومت کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ بنایا گیا جس کی سزا موت ہے، پی ٹی آئی حکومت نے مرد و خواتین ارکان پارلیمان کو قید وبند اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سابق وزیراعظم کے خاندان کی خاتون رُکن کو بھی معاف نہ کیا گیا اور سیاسی مخالفین کا صفایا کرنے کے لیے نیب کو استعمال کیا گیا لیکن افسوس بطور صدر پاکستان آپ نے ایک بار بھی اِن میں سے کسی بھی واقعے پر آواز بلند نہ کی۔ آپ بطور صدر انسانی حقوق، آئین اور قانون کی اِن خلاف ورزیوں پر اُس وقت کی حکومت سے پوچھ سکتے تھے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صدر نے اپنے خط میں سابق حکومت کے وفاقی وزراء کے جارحانہ رویے اور انداز بیان پر اعتراض نہیں کیا جبکہ سابق حکومت کے وزراء مسلسل الیکشن کمشن کے اختیار اور ساکھ پر حملے کررہے ہیں آئین کےآرٹیکل 46 اور رولز آف بزنس کی شق15 پانچ بی کی صدر کی تشریح درست نہیں، صدر اور وزیراعظم کے درمیان مشاورت کی آپ کی بات درست نہیں کیونکہ آئین کے آرٹیکل 48 کلاز وَن کے تحت صدر کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس کے مطابق کام کرنے کا پابند ہے۔

    الیکشن کے حوالے سے وزیراعظم نے لکھا کہ پی ٹی آئی کی طرف سے آپ نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات کی تاریخ دے دی، آپ کا یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے یکم مارچ 2023 کے حکم سے مسترد کر دیا، آپ نے 2 صوبوں میں بدنیتی پر مبنی اسمبلیوں کی تحلیل پر کوئی تشویش تک ظاہرنہ کی، یہ سب آپ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی انا اور تکبرکی تسکین کے لیےکیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی اسمبلیاں کسی آئینی و قانونی مقصد کے لیے نہیں، صرف وفاقی حکومت کو بلیک میل کرنے کے لیے تحلیل کی گئیں اور آپ نے یہ بھی نہ سوچا کہ دو صوبائی اسمبلیوں کے پہلے الیکشن کروانے سے ملک نئے آئینی بحران میں گرفتار ہو جائے گا۔ آپ نے آرٹیکل 218 کلاز تین کے تحت شفاف، آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے تقاضے کو بھی فراموش کر دیا، آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو آپ نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جو نہایت افسوسناک ہے۔ کا یہ طرز عمل صدر کے آئینی کردار کے مطابق نہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ صدر کو مطلع رکھنے کی حد تک اس کا اطلاق ہے، نہ زیادہ نہ اس سے کم اور وفاقی حکومت کے انتظامی اختیار کو استعمال کرنے میں وزیراعظم صدر کی مشاورت کا پابند نہیں۔ جناب صدر، میں اور وفاقی حکومت آئین کے تحت اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں، آئین کی مکمل پاسداری، پاسبانی اور دفاع کے عہد پر کار بند ہیں، آئین میں درج ہر شہری کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ پر کاربند ہیں۔

    وزیراعظم نے خط میں کہا کہ حکومت پرعزم ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے اور ریاست پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی اجازت نہ دی جائے۔ آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آئینی طور پر منتخب حکومت کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائیں گے۔

  • اقتدارکیلئےعمران خان پاکستانیوں کوغلامی کی زنجیریں پہنانا چاہتا ہے،خواجہ سعد رفیق

    اقتدارکیلئےعمران خان پاکستانیوں کوغلامی کی زنجیریں پہنانا چاہتا ہے،خواجہ سعد رفیق

    مسلم لیگ ن کےرہنماخواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ اقتدارکیلئےعمران خان پاکستانیوں کوغلامی کی زنجیریں پہنانا چاہتا ہے،دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنےوالے کو کپتانی واپس نہیں ملے گی-

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیرریلوے سعدرفیق نے اپنے بیان میں کہاکہ عمران خان نے گمراہی اور نفرت پھیلانے کیلئے فارن فنڈنگ کے بل پر زہریلا پرپیگنڈا کیا گیا،دشمنوں کے ہاتھوں میں کھیلنےوالے کو کپتانی واپس نہیں ملے گی۔


    انہوں نےمزید کہا کہ عمران حکومت نےنالائقی سے ملک کوقرضوں کے ریکارڈ بوجھ تلےدبایا،اسٹیبلشمنٹ کا منظور نظرعمران اب پاکستان مخالف طاقتوں کامہرہ بنا ہواہےپی ٹی آئی کی خفیہ فارن فنڈنگ قومی مفادات کیخلاف استعمال کیجارہی ہے-


    انہوں مزید کہا کہ اقتدارکیلئے فاشسٹ عمران شیاطین سے بھی اتحاد کرلیتا ہے 2018 میں آئین جمہوریت اورعوامی امنگوں کو کُچل کر عمرانی حکومت مسلط نہ کی جاتی توپاکستان دنیا کی ابھرتی معیشت بن گیا ہوتا عمران خان کی 4 سالہ حکمرانی نے پاکستان کی معاشی بنیادیں ہلادیں ،ملکی سالمیت کوشدید خطرات لاحق ہوگئے-


    وفاقی وزیر نے کہا کہ سلیکٹڈ کا جھٹکا ہوا تو الیکٹڈ کی یاد آئی ظُلم جھوٹ سازش اور لوٹ مار کا حساب دیئے بغیر جان نہیں چھُوٹے گی۔چیخنا چلانا قلا بازیاں لگانا کچھ کام نہیں آئے گا۔

  • کارکنوں پرتشدد :پی ٹی آئی نےامریکی ،برطانوی پارلیمنٹ یورپی یونین اورانسانی حقوق کی تنظیموں کو خطوط ارسال کر دیئے

    کارکنوں پرتشدد :پی ٹی آئی نےامریکی ،برطانوی پارلیمنٹ یورپی یونین اورانسانی حقوق کی تنظیموں کو خطوط ارسال کر دیئے

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے امریکی ایوان نمائندگان، ہاؤس آف لارڈز، یورپی یونین اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے عمران خان، اراکین پارلیمنٹ اور کارکنوں پر تشدد کا نوٹس لینے کی اپیل کر دی۔

    باغی ٹی وی: سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دنیا بھر کے پارلیمانی و انسانی حقوق کے فورمز کو خطوط لکھ دیے ہیں، اسد قیصر کی جانب سے یورپی یونین، امریکی ایوان نمائندگان، ہاؤس آف لارڈز اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کو خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔

    اسد قیصر کی جانب سے لکھے گئے خطوط میں عمران خان، اراکین پارلیمنٹ اور پی ٹی آئی کارکنان پر تشدد کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بطور سابق اسپیکر پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں علم میں لانا چاہ رہا ہوں، پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے، خیبرپختونخوا اور پنجاب میں نگراں حکومتوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کیں۔

    اسد قیصر کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو سیاست سے نکالنے کے لیے جھوٹے فوجداری مقدمات درج کیے گئے، سابق وزیراعظم کے گھر پر متعدد حملے اور کارکنان پر تشدد کیا گیا، پی ٹی آئی پر غیر آئینی طور پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خِبرپختونخوا اور پنجاب میں نگراں حکومتوں نے سیاسی ورکروں کی آواز دبانے کے لیے انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کیں، سابق وزیراعظم عمران خان کو سیاست سے نکالنے کیلئےجھوٹےفوجداری مقدمات درج کیے گئےعمران خان کو قاتلانہ حملے میں 11 گولیاں ماری اور 127 مقدمات درج کیے گئے۔

    پی ٹی آئی رہنما نے عالمی اداروں کو خطوط میں لکھا کہ صحافی ارشد شریف کو قتل کیا گیا، ان کی والدہ کو انصاف نہیں ملا، پی ٹی آئی کارکن ظل شاہ کو پنجاب پولیس حراست کے دوران تشدد سے قتل کیا گیا، پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اعلیٰ عدلیہ پر جعلی آڈیو ویڈیو کے ذریعے بلیک میلنگ حملے کر چکی ہے۔

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے غیر آئینی طور پر دو صوبوں میں انتخابات ملتوی کیے،وزیراعظم شہباز شریف نے تشدد کے خلاف مزاحمت کرنے والے پارٹی کارکنان کوعسکریت پسندکہا،وزیراعظم کی بھتیجی مریم نواز نےسیاسی ورکرزکوتعصب اور نسل پرستانہ قرار دیا، پاکستانی عوام کی سیاسی نسل کشی، جمہوریت کی تباہی کو روکنے میں کردار ادا کریں۔