Baaghi TV

Tag: مسلم لیگ ن

  • صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے آنے میں ابھی خاصا وقت باقی ہے،رانا ثنا اللہ

    صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے آنے میں ابھی خاصا وقت باقی ہے،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اسے پارلیمنٹ اور متعلقہ کمیٹیوں سے گزرنے میں 6 سے 8 ماہ لگ سکتے ہیں،تاہم مسلم لیگ (ن) نے صوبوں کی تقسیم کا منصوبہ شروع نہیں کیا-

    رانا ثنا اللہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اگر نئے صوبوں کے قیام کی کوئی باقاعدہ تجویز پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی ہے تو ہر سیاسی جماعت اور رکن پار لیمنٹ کو اس پر اپنی رائے دینے کا موقع ملے گا معاملہ مزید غور کے لیے پارلیمانی یا قائمہ کمیٹی کو بھی بھجوایا جا سکتا ہے، صوبوں کی تقسیم کا معاملہ پارلیمنٹ کے سامنے آنے میں ابھی خاصا وقت باقی ہے، جبکہ اس بحث کے نتیجے میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی تجاویز سامنے آسکتی ہیں یا مقامی حکومتوں کے انتخابات کے معاملے پر بھی بحث شروع ہوسکتی ہے۔

    انہوں نے اقتصادی فورم پر صوبوں کی تقسیم کی بحث شروع کیے جانے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے بڑے آئینی اور سیاسی منصوبو ں کے آغاز کے لیے اقتصادی فورم موزوں پلیٹ فارم نہیں منصوبے کے پس پردہ موجود لوگوں نے ممکن ہے مسلم لیگ (ن) سے بات کی ہو، لیکن اگر پارٹی نے یہ منصوبہ پیش نہیں کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اسے ڈنڈا لے کر روکنے کے لیے کھڑی ہوجائےمسلم لیگ (ن) کی جانب سے صوبو ں کی تقسیم کے حق میں کوئی بڑا منصوبہ یا تجویز سامنے نہیں آئی،جب مسلم لیگ (ن) نے یہ منصوبہ شروع ہی نہیں کیا تو آپ کو سمجھ جانا چاہیے کہ ہمار ی پالیسی کیا ہے-

    بہاولپور کے حوالے سے سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت اس خطے کو مجوزہ جنوبی پنجاب صوبے میں شامل کر نے کے حق میں نہیں پارٹی میں بعض لوگ الگ بہاولپور صوبے کے قیام کے حامی ہیں جبکہ کچھ اسے لاہور کے ساتھ منسلک رکھنے کے خواہاں ہیں، صو بوں کی تقسیم کے معاملے پر ہونے والی بحث سے پاکستان پیپلز پارٹی نے سیاسی فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ اس کے کارکن اس معاملے کے ساتھ جذباتی طور پر وابستہ ہوگئے ہیں۔

    متنازع نہری منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے اس منصوبے کی تعمیر کی حمایت کی تھی، تاہم بعد میں پیپلز پارٹی نے اس کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں منصوبہ روک دیا گیا بانی پی ٹی آئی عمران خان سے بیک ڈور رابطوں سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پسِ پردہ رابطے ہوسکتے ہیں، تاہم ایسے راستے اختیار کرنے کی ایک قیمت ہوتی ہے اور جو بھی اس راستے کا انتخاب کرے گا اسے وہ قیمت ادا کرنا ہوگی، وفاقی وزیر داخلہ کے ساتھ اختلافات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وزیر جب کابینہ یا سینیٹ میں بات کریں گے تو ان سے وضا حت طلب کی جا سکتی ہے-

  • بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں:2  ن لیگی رہنما عہدوں سے فارغ

    بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں:2 ن لیگی رہنما عہدوں سے فارغ

    مسلم لیگ (ن) پنجاب نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے لیے بھرپور تیاریاں شروع کرتے ہوئے مشکل وقت میں ساتھ دینے والے مخلص اور دیرینہ کارکنوں کو انتخابی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ :2 ن لیگی رہنما ؤں کو عہدوں سے فارغ کیا گیا ہے-

    مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کی زیرِ صدارت صوبائی تنظیم کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پارٹی عہدیداروں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں،اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں خالی تنظیمی عہدے جلد از جلد پُر کیے جائیں گے،صوبے کی تمام ڈویژن، اضلاع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر تنظیم کو متحرک کرنے، عوامی رابطوں کو تیز کرنے اور بھرپور مہم چلانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    تمام ڈویژنل عہدیداروں کو واضح پیغام دیا گیا کہ بلدیاتی الیکشن میں مشکل وقت کےساتھیوں اور پارٹی سےمخلص دیرینہ کارکنوں کو ہر صورت ترجیح دی جا ئے ،عہدیداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابات کی تیاریوں کا تفصیلی روڈ میپ اور حکمت عملی طے کر کے جلد از جلد مرکزی قیادت کو بھجوا ئیں، اجلا س میں واضح کیا گیا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار منعقد ہوں گے۔

    اجلاس کے دوران تنظیمی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں بھی عمل میں لائی گئیں چوہدری جاوید بوٹا اور محسن رانجھا کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کا نائب صدر مقرر کر دیا گیا ہے، جبکہ سمیرا ملک اور حافظ عثمان عباسی کو ان کے عہدوں سے ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے،اجلاس میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، جس پر مسلم لیگ (ن) پنجاب کی جانب سے یہ اصولی مؤقف اپنایا گیا کہ اس معاملے پر حتمی بحث اور فیصلہ پارلیمنٹ کے فورم پر ہونا چاہیے۔

  • بہاولپور ضمنی الیکشن، پیپلز پارٹی کا ن لیگی امیدوار کی حمایت کا اعلان

    بہاولپور ضمنی الیکشن، پیپلز پارٹی کا ن لیگی امیدوار کی حمایت کا اعلان

    این اے 168 بہاولپور کے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کردیا۔

    پیپلز پارٹی کے رہنما علی حیدر گیلانی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے ووٹرز ضمنی الیکشن میں شیر کے نشان کو تیر کا نشان سمجھیں اور مسلم لیگ ن کے امیدوار کو کامیاب کرائیں، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کے امیدوارکی حمایت کا فیصلہ جذبۂ خیرسگالی کے تحت کیا ہے، پیپلز پارٹی ضمنی انتخاب میں اپنے امیدواروں کو دستبردارکررہی ہے اورپارٹی قیادت کی ہدایت کے مطابق ن لیگ کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی۔

    اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری سعود مجید نے کہا کہ این اے 168 کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کی ٹکٹ کا حتمی فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت کرے گی،مسلم لیگ ن کی جانب سے ملک منیر چنڑ اور سعد مسعود کے کاغذات نامزدگی جمع ہیں تاہم امیدوار کے نام کا حتمی فیصلہ قیادت کرے گی۔

    پریس کانفرنس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کا اہم اجلاس بھی ہوا، جس میں ضمنی انتخاب کے حوالے سے سیاسی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے تمام امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ این اے 168 بہاولپور کی نشست سابق ایم این اے اقبال چنڑ کے انتقال کے باعث خالی ہوئی ہے، جس پر ضمنی انتخاب 27 ستمبر کو شیڈول ہے۔

  • آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر پولنگ مکمل، ن لیگ کی 6 نشستوں پر کامیاب

    آزاد کشمیر اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر پولنگ مکمل، ن لیگ کی 6 نشستوں پر کامیاب

    آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر پولنگ کاعمل مکمل ہوگیا، مخصوص نشستوں کےانتخابی نتائج کےمطابق مسلم لیگ ن مجموعی طور پر 6 نشستیں جیتنے میں کامیاب۔

    ٹیکنوکریٹ کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار افتخار گیلانی نے 26 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو 12 ووٹ ملےعلما و مشائخ کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کے پیر مظہر نے 26 ووٹ حاصل کرکے کامیابی اپنے نام کی، جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار حافظ طارق نے 12 ووٹ حاصل کیے،خواتین کی مخصوص نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کی مریم کشمیری، سحرش قمر اور مریم ادریس کامیاب قرار پائیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی فرزا نہ یعقوب اور زوبیہ خورشید بھی کامیاب ہوگئیں۔

    واضح رہے کہ اوورسیز نشست پر مسلم لیگ ن کے عبدالرحمان آرائیں بلامقابلہ کامیابی حاصل کرچکے ہیں،یوں مسلم لیگ (ن) نے مخصوص نشستوں میں ٹیکنوکریٹ، علما و مشائخ اور خواتین کی نشستوں سمیت مجموعی طور پر 6 نشستیں حاصل کیں، جبکہ پیپلز پارٹی نے خواتین کی 2 اور دیگر نشستوں پر 2 نشستیں حاصل کیں۔

  • آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم کے نام پرمشاورت

    آزاد کشمیر کے نئے وزیر اعظم کے نام پرمشاورت

    مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف کی زیر صدارت جاتی امرا میں اہم اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے شرکت کی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے مشاورت کی گئی اور متوقع امیدواروں کے ناموں پر غور کیا گیا، آزاد کشمیر کے وزیراعظم کے منصب کے لیے شاہ غلام قادر اور طارق فاروق کے نام زیر غور ہیں اور ان دونوں میں سے کسی ایک کو نامزد کیے جانے کا امکا ن ہے۔

    ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کی مشاورت مکمل ہونے کے بعد آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے نام کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے،جاتی امرا میں ہونے والی ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال سمیت دیگر اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مشاورت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پارٹی کو آزاد کشمیر میں حکومت کی تشکیل کے حوالے سے اہم فیصلے کرنا ہیں۔

  • سابق وزیراعظم سردار عتیق کو شکست دینے والے ساجد اقبال کا ن لیگ سے اتحاد کا اعلان

    سابق وزیراعظم سردار عتیق کو شکست دینے والے ساجد اقبال کا ن لیگ سے اتحاد کا اعلان

    عوامی دست وبازو پارٹی کےچیئرمین ساجد اقبال عباسی نے ن لیگ کےساتھ اتحاد کا اعلان کردیا۔

    نیوزکانفرنس میں رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ساجد اقبال بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے،وہ آزادکشمیر کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کریں گے آزاد کشمیر میں امن وامان کی صورتحال اولین ترجیح ہے ،الیکشن میں مسلم لیگ ن کو واضح برتری ملی ہے ،25نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدواروں کوکامیابی ملی ،مخصو ص نشستوں پر مسلم لیگ ن کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوجائےگی،مخصوص نشستوں کے بعدہمارانمبر33ہوجائےگا۔

    مشیر سیاسی امورنے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیرمیں اکثریت سے حکومت بنائے گی،آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن پر اعتماد کیا،یہاں تعمیر وترقی کی ضرورت ہے ،انتخابات میں کامیاب کرنے پر آزاد کشمیر کے عوام کے شکرگزار ہیں،آزاد کشمیر کےعوام نےنوازشریف کی جماعت کوواضح مینڈیٹ دیا،جو وعدے کئے ان کو پورا کیاجائےگا،پرامن احتجاج سب کا حق ہے ،آزاد کشمیر کی پسماندگی کے خاتمے کیلئے اقدامات کریں گے،آزاد کشمیر کے عوام پاکستان سے خصوصی محبت رکھتے ہیں، تعمیر وترقی کیلئے آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ ن کو چنا ہے ،پنجاب جیسی تعمیر وترقی کاآزاد کشمیر میں آغاز کریں گے۔

    دھرنوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ دھرنے میں بیٹھے 99فیصد لوگ محب وطن ہیں ،ایک سےڈیڑھ فیصدلوگ امن کوخراب کرنا چا ہتے ہیں ،کالعدم ایکشن کمیٹی والے چاہتے تھے الیکشن نہ ہوں،ہماری درخواست تھی ہمارے ساتھ کندھے سے کندھاملا کرچلیں۔

    اس موقع پر ساجد عباسی کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں غیر جانبدارانہ انتخابات کرنے پر الیکشن کمیشن کوسراہتاہوں،انتخابات میں واضح برتری پرمسلم لیگ ن کی قیادت کومبارکباد دیتا ہوں،مسلم لیگ ن کےتعمیروترقی کے وژن کوہمیشہ سے پسند کرتاہوں، حلقےکےعوام کےمسائل کےحل کیلئے کوئی کسر اٹھانہ رکھوں گا۔

    واضح رہے کہ چئیرمین عوامی دست و بازو پارٹی ساجد عباسی نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں سابق وزیراعظم و سینئر سیاستدان سردار عتیق احمد خان کو اپ سیٹ شکست دے کر بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔

  • آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے نام پر حتمی فیصلہ کرلیا گیا،اعلان آج متوقع

    آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے نام پر حتمی فیصلہ کرلیا گیا،اعلان آج متوقع

    مسلم لیگ ن کے اہم اجلاس میں آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کے نام پر حتمی فیصلہ کرلیا گیا، تاہم امیدوار کے نام کا باقاعدہ اعلان آج کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق مری میں ہونے والے اجلاس کی صدارت مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت پارٹی کے دیگر اعلیٰ رہنماؤں نے شرکت کی،اجلاس میں آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ کے لیے پارٹی کے صدر شاہ غلام قادر اور طارق فاروق کے نام مضبوط امیدواروں کے طور پر زیر غور رہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں مختلف نشستوں پر نامزدگیوں کے حوالے سے بھی مشاورت مکمل کرلی گئی ہے،مخصوص نشستوں کے لیے سحرش قمر، مریم کشمیری، ناصرہ خان اور نثارہ عباسی کے نام زیر غور آئے، جبکہ اوورسیز نشست کے لیے حاجی احسان دانش، عبدالرحمان آرائیں اور راجا وسیم کے ناموں پر غور کیا گیا۔

    مسلم لیگ ن کی قیادت نے تمام معاملات پر مشاورت مکمل کرلی ہے اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم سمیت دیگر نامزدگیوں کا اعلان آج کیا جائے گا،اجلاس کے اختتام پر نواز شریف اور مریم نواز لاہور روانہ ہوگئے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف خود آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور دیگر نشستوں کے لیے پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کریں گے۔

  • آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ:  کامیاب انعقاد اور مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری پروزیراعظم کی مبارکباد

    آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ: کامیاب انعقاد اور مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری پروزیراعظم کی مبارکباد

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے کامیاب انعقاد اور مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری پر مبارکباد دی ہے۔

    وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ قائد مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پارٹی کی ٹیم نے آزاد جموں و کشمیر میں انتہائی کامیاب انتخابی مہم چلائی،آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں تمام سیاسی جماعتوں نے بھرپور حصہ لیا، جو جمہوری عمل کے کامیاب انعقاد کی علامت ہے،انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتخابات کے آئندہ مرحلے میں بھی اسی جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لے کر جمہوری عمل کو مزید مضبوط بنائیں۔

    واضح،رہےکہآزاد جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات کے تمام غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج موصول ہوگئے ہیں، جن کے مطابق، میرپور ڈویژن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے میدان مار لیا ہے۔

    غیر حتمی نتائج کے مطابق میرپور ڈویژن کی کل 13 نشستوں میں سے مسلم لیگ (ن) نے نو نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی چار نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی استحکام پاکستان پارٹی یعنی آئی پی پی اس انتخابی معرکے میں کوئی بھی نشست حاصل نہ کر سکی۔

  • مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، مریم نواز

    مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، مریم نواز

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں وعدے نبھانے والوں کا ہے-

    مظفرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا ن لیگ کی حکومت آئی تو آزادکشمیر کے ہر گاؤں میں سڑکیں بنائیں گے، مسلم لیگ (ن) کی سیاست ترقی، تعلیم اور عوامی خدمت کی سیاست ہے، ہم کشمیری نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے نہیں بلکہ لیپ ٹاپ دیکھنا چاہتے ہیں، اگر عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا تو آزاد کشمیر کی قسمت بدل جائے گی اور ریاست میں بھی پنجاب طرز کے ترقیاتی اور فلاحی منصوبے شروع کیے جا ئیں گے۔

    مریم نواز نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان کا رشتہ لازوال ہے، جسے دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکتی،انہوں نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر سیاسی مخالفین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ آزاد کشمیر آ کر صرف تقریریں کرتے ہیں، دوسروں پر الزامات عائد کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں، لیکن وہ یہ بھی بتائیں کہ ریاست میں حکومت کس کی ہے اور عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے انہوں نے کیا اقدامات کیے۔

    مریم نواز نے اپناگھر اپنی چھت اسکیم کے تحت آزاد کشمیر میں 5 لاکھ تک گھر بنانے کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ آزاد کشمیر میں دھی رانی پروگرام شروع کریں گے، نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلا سود قرض دیں گے، نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور الیکٹرک بائیک بھی فراہم کریں گے، آزاد کشمیر کے 2 ہزار طلباء کو ہونہار اسکالرشپ دیں گے، آزاد کشمیر کے 400 بچوں کا لاہور میں مفت علاج کیا گیا، پنجاب کے فلاحی منصوبے آزاد کشمیر میں بھی شروع کریں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے مظفرآباد کے لیے 10 گرین بسوں کا تحفہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بسیں جلد آزاد کشمیر پہنچ جائیں گی تاکہ شہریوں کو جدید سفری سہولیات میسر آ سکیں،15 موبائل اسپتال بھی جلد اپنی خدمات کا آغاز کریں گے، جس سے دور دراز علاقوں کے عوام کو علاج معالجے کی بہتر سہولت حاصل ہوگی۔

    مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ جو ترقی پنجاب میں ہورہی ہے وہ آزاد کشمیر میں ہو، آزاد کشمیر جھوٹے وعدے کرنے والوں کا نہیں وعدے نبھانے والوں کا ہے، صرف وعدے نہیں پنجاب کی کارکردگی لے کر آپ کے پاس آئی ہوں، جتنا مضبوط پاکستان ہوگا اتنا ہی مضبوط آزاد کشمیر بھی ہوگامیں مظفرآباد مہمان بن کر نہیں آئی یہ آزاد جموں کشمیر میرا ہے، میں خون سے بھی کشمیری ہوں دل اور دماغ سے بھی کشمیری ہوں، میں روح سے اور نسلوں سے بھی کشمیری ہوں۔

    انہوں نے کہاکہ 2021 کے انتخابی مہم میں جتنی محبتیں اور دعائیں ملی تھیں وہ بھول نہیں سکتی، اس الیکشن میں آزاد کشمیر میں ہماری 17 نشستیں اور اس وقت کے وزیراعظم کی 3 نشستیں تھی، اس وقت کے وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر کے نتائج الٹ دو، اس لیے آج یہاں مسائل ہیں، انہوں نے مجھے نوازشریف کے سامنے گرفتار کیا تاکہ میں کشمیر نہ جاسکوں، آج وہی نواز شریف اور مریم نواز یہاں آزاد کشمیر میں کھڑے ہیں۔

    مریم نواز نے کہا کہ وہ یہاں ووٹ مانگنے نہیں آئے لیکن اگر آپ نے ن لیگ کو منتخب کیا تو یہ وعدہ ہے کہ آزاد کشمیر کی قسمت بدل جائیگی، انہوں نے کہا جہاں ن لیگ کی حکومت ہے وہاں کے حالات اور دیگر جگہوں کی حالات دیکھ لیں، حالات میں یہ فرق کیوں ہے، یہ فرق نواز شریف اور ن لیگ ہے، پنجا ب کے چپے چپے پر ترقی ہے، جب تک آزادکشمیر کے ہر بچے کو مفت تعلیم نہیں ملے گی، ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے دعویٰ کیا کہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی محنت کی وجہ سے پنجاب میں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں، پنجاب میں صوبائی وزیر تعلیم کا بیٹا سرکاری اسکول میں پڑھتا ہے،کل ایک ویڈیو دیکھی جس میں بابا جی جلسہ گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے، لوگوں نے پوچھا تو بابا جی نے کہا کہ نوازشریف کا جلسہ ہے، بابا جی کو بتایا گیا کہ جلسہ تو کل ہے باباجی نے کہا میں شوق میں آج آگیا، بابا جی نے کہا کہ جلسے میں ہماری بیٹی مریم نواز آرہی ہیں۔

    انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کریں تاکہ آزاد کشمیر میں ترقی، خوشحالی، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا سکےمیں وزیراعظم پاکستان سے کہوں گی کہ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو کاروبار کے لیے بلاسود قرضہ دیا جائے، جبکہ اسپیشل افراد کو ہمت کارڈ دیے جائیں گے۔

  • آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال،نواز شریف نے کل اجلاس طلب کر لیا

    آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال،نواز شریف نے کل اجلاس طلب کر لیا

    مسلم لیگ (ن) کے صدرنواز شریف نے آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر کل لاہور میں اہم اجلاس طلب کر لیا ۔

    اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی اعلیٰ قیادت شرکت کرے گی، جبکہ اہم سیاسی فیصلوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ذرائع کے مطابق اجلاس میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان، سینیئر رہنما طارق فاروق اور سابق وزیر اطلاعات مشتاق منہاس خصوصی طور پر شریک ہوں گے،وفاقی وزرا اور مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کے اہم رہنماؤں بھی اجلاس میں موجود ہوں گے-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے باعث پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جانے کا امکان ہے اجلاس میں آزاد کشمیر کی قیادت کو درپیش چیلنجز، سیاسی رابطوں، پارٹی تنظیم سازی اور آئندہ کے ممکنہ اقدامات پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

    سیاسی حلقوں کی نظریں اس اجلاس پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس کے فیصلے آزاد کشمیر کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں مبصرین کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کی سمت کا تعین بھی اسی اہم مشاورتی نشست میں ہونے کا امکان ہے۔