Baaghi TV

Tag: مصر

  • نوبیاہتا جوڑے کی شادی کے چند گھنٹوں بعد دسویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی

    نوبیاہتا جوڑے کی شادی کے چند گھنٹوں بعد دسویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی

    مصر:نوبیاہتا جوڑے نے شادی کے چند گھنٹوں بعد ہی اپارٹمنٹ کی بالکونی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی-

    باغی ٹی وی : پولیس حکام نے مصر میں طالبیہ کے علاقے میں شادی کے چند گھنٹے بعد نوبیاہتا جوڑے کی اپنے اپارٹمنٹ کی بالکونی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کے واقعے کی تفتیش شروع کی ہے۔

    اسلام آباد میں ماں نے تین بچوں کو چھری سے ذبح کر دیا

    مصری میڈیا کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوان اور لڑکی کی وقوعہ کی رات شادی ہوئی تھی اور انہوں نے طالبیہ کے علاقے میں دسویں منزل پر واقع اپنے اپارٹمنٹ کی بالکونی سے چھلانگ لگانے کا فیصلہ کیا ان کی خود کشی پرلوگ حیران و پریشان ہیں۔

    کزن کے ساتھ مل کربد بخت بیٹے نے باپ کو قتل کردیا

    تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ مرنے والے جوڑی کی عمر پچیس اور تیس سال تھی انہوں نے اپنی شادی کے چند گھنٹے بعد دسویں منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا اور واقعے کے پیچھے کوئی مجرمانہ شبہ نہیں ہے۔

    رپورٹس کے مطابق تحقیقاتی حکام وجوہات جاننے کے لیے متوفی کے اہل خانہ کے بیانات سنیں گے جب کہ پولیس نے فرانزک رپورٹ حاصل کرنے کے بعد دونوں لاشوں کی تدفین کی اجازت دے دی ہے۔

    اسلام آباد پولیس کا انوکھا کارنامہ ، گرفتار کئے گئے مبینہ دہشت گرد کے اغوا کا…

  • 17 سالہ طالبہ کی خودکشی:خواجہ سرا کو اغوا کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    17 سالہ طالبہ کی خودکشی:خواجہ سرا کو اغوا کرنے والے 5 ملزمان گرفتار

    قاہرہ :پشاور:: 17 سالہ طالبہ کی خودکشی:خواجہ سرا کو اغوا کرنے والے 5 ملزمان گرفتار،اطلاعات ہیں‌ کہ مصر میں آن لائن ہراساں کرنے پر 17 سالہ طالبہ نے خودکشی کر کے زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ اس جرم میں عدالت نے نوجوان کو قید کی سزا سنا دی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 17 سالہ طالبہ نے گزشتہ سال 23 دسمبر کو زہر پی کر خودکشی کر لی تھی کیوں کہ اس کی تصاویر کو آن لائن شیئر کیا گیا تھا۔

    مصر کی عدالت نے ہراساں اور خودکشی کے جرم میں 16 سالہ نوجوان کو پانچ سال قید کی سزا سنائی۔ ملزم کو ہراساں کرنے کے جرم میں دو سال اور اجازت کے بغیر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    طالبہ کی خودکشی کے بعد مجرم کی گرفتاری کے مطالبے نے زور پکڑا تھا جس کے بعد پولیس نے اسے رواں سال جنوری میں گرفتار کیا اور اس کے خلاف مقدمہ چلایا گیا۔ کیس میں نامزد دیگر ملزمان کے خلاف مئی میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

    رپورٹس کے مطابق مجرم نے طالبہ کو دوستی کرنے کے لیے بلیک میل کیا اور انکار کرنے پر اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال دیں جنہیں اس کے دوستوں اور والدین نے دیکھا۔

    پشاور میں تھانہ چمکنی پولیس نے کارروائی کی ہے جس کے نیتجے میں خواجہ سرا کو اغواء کرنے والے 5 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ خواجہ سراء ارسلان عرف شیزا کو فنکشن سے واپسی پر اغواء کیا گیا، اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کی گئی، ملزمان کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا گیا۔

    پولیس نے کہا کہ اغواء کاروں کی گاڑی کو غز چوک کے قریب روک کر مغوی کو بازیاب کروایا گیا، گرفتار ملزمان کا تعلق تاروجبہ، ارمڑ اور اندرون شہر کے علاقے سے ہے۔

  • شوہرنےبیوی کو بھوکا پیاسا رکھ کرموت کی نیند سلا دیا

    شوہرنےبیوی کو بھوکا پیاسا رکھ کرموت کی نیند سلا دیا

    مصر: الزینیہ شہر میں شوہر نے شک کی بنا پر بیوی کو بھوکا پیاسا کو مار 7 روز تک گھر کے کمرے میں لاش کو مدفون رکھا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق شقی القلب شوہر نے اپنی بیوی کو گھر کے اندر بھوکا پیاسا حبسِ بے جا میں رکھا اس کے بعد بیوی کی لاش دفن کر کے خاندان والوں کو اس کے لا پتہ ہونے کی اطلاع دی۔

    بیوی کا سرتن سے جدا کر کے سڑکوں پر گھمانے والا شخص گرفتار

    پولیس کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ مجرم نے تین خواتین سے شادی کر رکھی ہےاس نے گھریلو اختلافات کے سبب بیوی کو گھر کے اندرجبری قید کر دیا خاتون سے اس آدمی کا ایک چار سالہ بچہ بھی ہے عینی شاہدین کے مطابق یہ شخص ہمیشہ اپنی اس بیوی کے ساتھ مار پیٹ کیا کرتا تھا اور اسے بھوکا پیاسا چھوڑ دیتا تھا۔

    تحقیقات میں شوہر نے انکشاف کیا کہ سات روز تک گھر میں بھوکا پیاسا رکھنے پر اس کی بیوی ہلاک ہو گئی اس کے بعد گھر کے اندر گڑھا کھود کر بیوی کو دفن کر دیا اس گھناؤنے فعل سے فارغ ہو کر شوہر نے بیوی کے گھر والوں کو اس کے لا پتہ ہو جانے کی اطلاع دی۔

    نواب شاہ:زرعی زمین تنازعہ پرفائرنگ:ایس ایچ او سمیت 5افراد جاں بحق،8زخمی:پولیس

    قبل ازیں ایران میں سوشل میڈیا پر ایک شخص کو سڑکوں پرچلتے دیکھا گیا تھا جس کے ہاتھ میں ایک خاتون کا تن سے جدا کیا گیا سر موجود تھا۔ یہ سر اس کی بیوی کا بتایاگیا تھا جسے اس نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر قتل کیا ویڈیومیں ایک شخص کو ایک ہاتھ میں بڑا چاقو اٹھائے اور دوسرے ہاتھ میں دوسرے ہاتھ میں لمبے بالوں والا کٹا ہوا سر پکڑا ہوا ہے پولیس نے ملزم اور اس کےبھائی دونوں کو حراست میں لےکران سے پوچھ گچھ کی دونوں نے پولیس کے سامنے قتل کی گھناؤنی واردات کا اعتراف کیا تھا۔

    پسند کی شادی کرنے والے کوہستانی جوڑے کے قاتل گرفتار

  • مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    قاہرہ: توبنجن یونیورسٹی، جرمنی کے ماہرین نے مصر میں ’أتریب‘ (Athribis) کے مقام سے مٹی کی 18,000 قدیم تختیاں دریافت کی ہیں –

    باغی ٹی وی : ’بطلیموس خاندان‘ کے دورِ حکومت میں أتریب کا شہر مصری ریاست کا دارالحکومت تھا جو دریائے نیل کے کنارے آباد تھا البتہ قدیم مصری حکمرانوں کے اس خاندان میں سب سے زیادہ شہرت ملکہ قلوپطرہ کو حاصل ہوئی جو آج تک مشہور ہے۔

    کھدائی کے دوران جرمن سائنسدانوں نے مصر میں ’أتریب‘ کے مقام سے مٹی کی 18,000 قدیم تختیاں دریافت کی ہیں جو اپنے زمانے میں بچوں کو پڑھانے کے علاوہ روزمرہ کاموں کی تفصیلات لکھنے والی ’ڈائریاں‘ ہوا کرتی تھیں۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت


    قدیم زمانے میں ٹوٹے برتنوں کے ٹکڑوں سے لکھنے کےلیے تختیوں کا کام بھی لیا جاتا تھا کیونکہ وہ بہت کم خرچ ہوتے تھے اور آسانی سے دستیاب ہوجاتے تھے لکھائی کی تختیوں کے طور پر استعمال ہونے والے، مٹی کے ان ٹکڑوں کو ’اوسٹراکون‘ (ostracon) کہا جاتا ہے جس کی جمع ’اوسٹراکا‘ (ostraca) ہے یہ دنیا میں ’اوسٹراکا‘ کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی ہے جو وسطی مصر سے أتریب کے آثارِ قدیمہ سے دریافت ہوا ہے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

    مٹی کی ان تختیوں پر پکی روشنائی سے مختلف عبارتیں لکھی ہوئی ہیں جو تیسری صدی قبلِ مسیح سے چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کے زمانے سے تعلق رکھتی ہیں اسی مناسبت سے ان ’اوسٹراکا‘ پر الگ الگ ادوار کی زبانیں بھی لکھی ہوئی ہیں جن میں تصویروں اور الفاظ پر مشتمل مصری، قدیم یونانی زبانیں، قبطی (کوپٹک) اور عربی تک شامل ہیں۔

    البتہ ’ڈومینک‘ (Dominic) زبان میں لکھے گئے ’اوسٹراکا‘ کی تعداد سب سے زیادہ ہے جو یہ پہلی صدی قبلِ مسیح میں ملکہ قلوپطرہ کے والد (بادشاہ بطلیموس دوازدہم/ 12) کے زمانے میں سرکاری اور انتظامی زبان تھی کئی ’اوسٹراکا‘ پر خریداری کےلیے سامان کی فہرست (شاپنگ لسٹ)، تجارتی حساب کتاب اور ادبی نگارشات درج ہیں جبکہ زیادہ تعداد ایسے ’اوسٹراکا‘ کی ہے جو بچوں نے اپنی پڑھائی کے دوران لکھی تھیں اور جن میں تحریر کے علاوہ تصویریں بھی شامل ہیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    اس طرح کی تدریسی ’اوسٹراکا‘ پر بچوں نے مہینوں کے نام، اعداد، حسابی مسائل، گرامر کی مشقیں اور ’پرندہ حرف‘ بھی لکھا ہوا ہے جو غالباً مختلف پرندوں کے ناموں میں سب سے پہلے حرف کو تصویری شکل میں ظاہر کرتا ہے سینکڑوں ’اوسٹراکا‘ پر ایک ہی عبارت لکھی ہے جو بچوں کی تحریری مشقوں کو ظاہر کرتی ہے، جن کے دوران ایک ہی عبارت ان سے بار بار لکھوائی گئی ہوگی۔

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تدریس کے اس انداز میں جدید اسکولوں کی جھلکیاں بہت واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہیں۔ ’اوسٹراکا‘ کا یہ ذخیرہ بھی سائنسدانوں کی اسی ٹیم نے دریافت کا ہے۔

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

  • وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر،   مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں

    وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر، مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں

    بیجنگ: وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیراعظم ،قطری امیر،مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں جاری،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان اس وقت چین میں موجود ہیں جہاں ان سے چینی وزیراعظم ،امیر قطر،مصری ارو ازبک صدرسمیت بڑے بڑے عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں جاری ہیں اور یہ ملاقاتیں اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی ہیں‌

     

     

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کی چیانگ اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی۔

     

    فواد چودھری نے مزید لکھا کہ دونوں ملاقاتوں میں کشمیر اور افغانستان گفتگو کے اہم موضوعات رہے، چین پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور سٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

    اُدھر وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم

     

     

     

    عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کو سی پیک اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز میں چینی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال، کشمیری عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے عالمی برادری کی طرف سے فوری اقدام کی اہمیت کو اجاگر کیا، وزیراعظم نے افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے لیے پاکستان اور چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

     

     

     

    اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی روابط کو مزید گہرا کرنے پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، کثیر جہتی تزویراتی تعاون پر مبنی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔

     

    وزیراعظم عمران خان دورہ چین کے دوران دارالحکومت بیجنگ کے گریٹ ہال پہنچے جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کی۔

    وزیراعظم عمران خان نے چائنہ انرجی اینڈ انجینئرنگ کارپوریشن اور پاور چائنا کے چیئرمینز سے آن لائن ملاقات کی۔ آن لائن ملاقاتوں میں پاکستان کے توانائی کےشعبے کی بہتری اورسرمایہ کاری سے متعلق گفتگو ہوئی۔

     

     

    دوسری جانب دورے کے حوالے سے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھاکہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین انتہائی کامیاب جا رہاہے، چین کے صدر اور وزیراعظم سے معاشی، تجارتی تعاون پر بات ہوگی۔

    اُدھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی چین میں مصری صدر عبد الفتح السیسی اور قطری امیر تمیم بن حماد التھانی سے ملاقات کی۔

     

     

     

    وزیراعظم عمران خان کی بیجنگ میں ازبک صدر سے ملاقات ہوئی، سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے موقع پرملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں کا دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

     

     

    دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان شراکت داری کے فروغ کےعزم کا اعادہ کیا گیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، دو طرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ کو فعال کرنے اور ترجیحی تجارتی معاہدے پر بھی گفتگو کی گئی۔

    وزیراعظم نے ریلوے منصوبے کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ عمران خان نے سیاحت کے فروغ کے لیےبراہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں نے تعلیم اور ثقافت میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں علاقائی امن و استحکام پر بھی غور کیا گیا، دونوں رہنماوں کاعالمی برادری سے افغانستان کی اقتصادی امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور وزیراعظم نے ازبک صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

    اُدھر وفاقی وزیرمنصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت اور صنعت کے شعبہ میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

    ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دورہ چین کے دوران ہماری چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتیں ہو رہی ہیں جو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وزیراعظم خود ان کی براہ راست بات بھی سن رہےہیں اور جو نکات وہ اٹھارہے ہیں ان کا جواب اور تمام وزارتوں کو اس حوالے سے عملدرآمد کے لئے احکامات جاری بھی کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان چینی وزیراعظم لی سے ملاقات بھی کررہے ہیں اور پاکستان جن شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے درخواست کررہا ہے ان پر بھی غور ہو گا ۔ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اتوار کو ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم عمران خان یہی نکات اٹھائیں گے ۔امید ہے کہ اس دورے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت اور صنعت کے شعبہ میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

    چین میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان کی کل چین کے صدرشی جن پنگ سے اہم ملاقات ہوگی، چین نے ہمیشہ ہرمشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ وزیراعظم کے دورہ چین سے دوستی مزید مضبوط ہوگی۔ چین کشمیرکے معاملے پرپاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

  • مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال  پرانےدو مجسمے دریافت

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    قاہرہ: مصری اور جرمن ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے ’الاقصر‘ کے مقام سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت کرلیے ہیں-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق مصری وزارتِ سیاحت و آثارِ قدیمہ کے مطابق، یہ مجسمے فرعون توتنخ آمون (توتن خامن) کے دادا، فرعون آمنہوتپ سوم کو خراجِ تحسین پیش کرنے کےلیے بنائے گئے تھے ان میں سے ہر مجسمہ اپنی تعمیر کے وقت 26 فٹ اونچا رہا ہوگا لیکن 1200 قبلِ مسیح میں مصر کے بھیانک زلزلے اور بعد ازاں ریگستان کی خشک ہواؤں اور گرد و غبار کے طوفانوں نے انہیں تباہ کردیا ہے۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    فرعون آمنہوتپ کا دورِ حکومت 1390 قبلِ مسیح سے 1353 قبلِ مسیح تک رہا اسے قدیم مصر میں امن و خوشحالی کا زمانہ بھی سمجھا جاتا تھا اور یہ مجسمے بھی شاید اسی بناء پر آمنہوتپ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کےلیے بنائے گئے تھے موجودہ ’الاقصر‘ جسے انگریزی میں ’لکسر‘ بھی کہا جاتا ہے، فرعونوں کے زمانے میں مصر کا دارالحکومت تھا جسے مخطوطات میں ’طيبة‘ (Thebes) لکھا گیا ہےاس قدیم شہر کی کھدائی پچھلے کئی عشروں سے جاری ہے جبکہ یہاں سے فرعونوں کے زمانے کے نوادرات آج بھی گاہے گاہے برآمد ہو رہے ہیں ساتھ ہی ساتھ ان آثارِ قدیمہ کو عالمی ثقافتی ورثے کی حیثیت سے محفوظ کرنے کا کام بھی کیا جارہا ہے۔

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    الاقصر سے حال ہی میں برآمد ہونے والے یہ دونوں مجسمے ابوالہول کی طرز پر تعمیر کیے گئے تھے جن کے سروں پر بنائی گئی فراعنہ مصر کی مخصوص ٹوپیاں، چہروں پر ’شاہی ڈاڑھیاں‘ اور سینوں پر فرعونی ہار آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں ان میں سے ایک مجسمے کے سینے پر ’آمون رے کا پیارا‘ کی عبارت کندہ ہے جو واضح طور پر فرعون آمنہوتپ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    فرعون آمنہوتپ کی دیگر یادگاروں میں قدیم مصر کی دیوی ’سخمت‘ کے تین مجسمے بھی شامل ہیں جو خاصی بہتر حالت میں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ’سخمت‘ دیوی کا سر شیرنی کا اور دھڑ عورت کا تھا یہ تینوں مجسمےالاقصر میں ایک دربار کےدروازے پر نصب تھے انہیں آمنہوتپ پر ’سخمت‘ دیوی کی خصوصی مہربانی کا اظہار بھی قرار دیا جارہا ہے۔

    ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ الاقصر میں یہ سارا اہتمام شاید اس وقت کیا گیا تھا کہ جب مصر پر آمنہوتپ کی حکمرانی کے 30 سال مکمل ہونے پر ملک گیر تقریبات جاری تھیں اس موقع پر الاقصر میں خصوصی میلوں اور تقریبات کے علاوہ یادگاری مجسمے بھی تعمیر کیے گئے تھے ابوالہول جیسے یہ دونوں مجسمے بھی شاید اسی موقعے کی یادگار ہیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    قبل ازیں آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی تھیں یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    دیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

  • سال 2022 کے لیے مسلم دنیا کا ثقافتی دارالحکومت :قاہرہ نے اعزاز حاصل کرلیا

    سال 2022 کے لیے مسلم دنیا کا ثقافتی دارالحکومت :قاہرہ نے اعزاز حاصل کرلیا

    قاہرہ:سال 2022 کے لیے مسلم دنیا کا ثقافتی دارالحکومت :قاہرہ نے اعزاز حاصل کرلیاا،طلاعات کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ کو سال 2022 کے لیے مسلم دنیا کا ثقافتی دارالحکومت منتخب کرلیا گیا، مصری حکام کا کہنا ہے کہ قاہرہ کا انتخاب، تخلیقی اور فکر و فن کے مرکز کی عکاسی کرتا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل، سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن نے قاہرہ کو سال 2022 میں مسلم دنیا کا ثقافتی دارالحکومت منتخب کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    مصر کی وزیر ثقافت انس عبدالدائم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مختلف ثقافتوں کی آپس میں ملاقات کی جگہ کے لیے قاہرہ کا انتخاب، تخلیقی اور فکر و فن کے مرکز کی عکاسی کرتا ہے۔

    مصری وزیر ثقافت نے اسلامی ممالک کے دارالحکومتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور ان کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اسلامک ورلڈ ایجوکیشنل، سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن کی کوششوں کی تعریف بھی کی ہے۔

  • جامعتہ الا زہر الشریف مصر کے علماء و مشائخ پر مشتمل 5 رکنی وفد کی  لاہور آمد۔

    جامعتہ الا زہر الشریف مصر کے علماء و مشائخ پر مشتمل 5 رکنی وفد کی لاہور آمد۔

    لاہور07فر وری۔۔

    وزیرا وقاف و مذہبی امور پنجاب سید سعید الحسن شاہ اور دیگر افسران نے وفدکو پھولوں کے گلدستے پیش کر کے استقبال کیا۔
    وفد میں مشائخ ڈاکٹر عبد الرحمن حماد چئیرمین ازہری مشن،ڈاکٹر محمد عبدالبصیرخضیری الازہری، ڈاکٹر محمدالراسخالا زہری،ڈاکٹر احمد شبل الا زہری،ڈاکٹر خالد عبدالنبی الازہری شامل ہیں۔
    وفدنے داتا گنج بخش علی ہجویری کے دربار پر حاضری د ی، پھولوں کی چادر پوشی اور دعای کی۔
    وفد کو داتا دربار کمپلیکس کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرایا گیا۔
    وزیر اوقاف نے وفد کو محکمہ میں کی جانے والے اصلاحتی عمل بارے بریف کیا۔
    وفد کی آمد کا مقصدقرآن پاک کی تعلیم،سیرت النبیؐ،عربی زبان سمیت تصوف اور سلوک کیلئے جامع ازہر کی زیر سرپرستی مشترکہ کوششیں کرنا ہے۔ چیرمین ازہری مشن
    پاکستان میں ازہر کی معاونت سے ازہری چئیرکے قیام کے لئے اقدامات اور لائحہ عمل کیا جائے گا۔ڈاکٹر عبد الرحمن حمادچیرمین ازہری مشن
    دینی و عصری تعلیم کی بہتر امتزاج اور یکسان نصاب تعلیم کے لئے مشترکہ کوششیں کی جائیں گی۔ڈاکٹر عبد الرحمن حماد چیرمین ازہری مشن
    علماء و مشائخ کیلئے جامع ازہر میں شش ماہی خطیب کورس میں داخلوں کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ڈاکٹر عبد الرحمن حماد چ چیرمین ازہری مشن
    لاہور میں المعہد الا زہری کے قیام کے اقدامات کئے جائیں گے۔ڈاکٹر عبد الرحمن حماد چیرمین ازہری مشن
    وزیر اوقاف نے وفدکا حکومت پنجاب کی طرف سے اظہار تشکر کیا۔وزیر اوقاف نے نیک تمناؤں کے ساتھ وفد کو تحائف پیش کئے۔جامعتہ الا زہر الشریف مصرکے علماء و مشائخ قرآن و سیرت اکیڈمی اپر مال روڈ لاہور کا بھی دورہ کریں گے۔

  • مصر کے سابق مرحوم صدر محمد مرسی تاریخ کے آئینے میں،پیدائش سے سفر آخرت تک

    مصر کے سابق مرحوم صدر محمد مرسی تاریخ کے آئینے میں،پیدائش سے سفر آخرت تک

    قاہرہ:مصر کے سابق صدر مرحوم محمد مرسی 68 سال کی عمر میں وفات پا گئے .مصر کی عدالت میں اپنے خلاف زیرسماعت مقدمے کے دوران 20 منٹ تک جج کیساتھ گفتگو کرنے کے بعد وفات پا جانیوالے محمد مرسی مصر کے پہلے منتخب صدر تھے۔ محمد مرسی 1951ء میں ضلع شرقیا کے گاؤں ال ادوا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قاہرہ یونیورسٹی سے انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد امریکہ سے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ مرحوم نے 1980ء میں یونیورسٹی آف ساؤدرن سے بھی تعلیم حاصل کی اور بعد میں کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی نارتھرج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر پڑھاتے رہے۔ محمد مرسی 1985ء میں وطن واپس پہنچے اور تدریس کے ساتھ سیاسی سفر کا بھی آغاز کیا.مصر واپسی پر وہ زقازیق یونیورسٹی میں انجنیئرنگ کے شعبے کے سربراہ تعینات ہوئے۔ اور 2000ء سے 2005ء کے دوران اخوان المسلمین کے ممبر بھی رہے۔اس دوران وہ اخوان المسلمین کے نظم کے اندر بھی ترقی کرتے رہے اور جماعت کے اس شعبے میں شامل ہو گئے جس کا کام کارکنوں کو رہنمائی فراہم کرنا تھا۔

    2005ء کے انتخابات میں شکست کے باوجود سابق صدر نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے سیاسی قیدی کے طور پر پانچ سال سے زیادہ عرصہ اسیری میں بھی گزارا۔ اسلام پسندوں کی جماعت سمجھی جانے والے تنظیم اخوان المسلمین کے اراکین پر حسنی مبارک کے دور میں پابندی تھی کہ وہ الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔ سنہ 2000 سے لے کر سنہ 2005 کے درمیانی عرصے میں وہ آزاد رکن کی حیثیت سے اس پارلیمانی اتحاد میں بھی شامل رہے جس میں اخوان المسلمین بھی شامل تھی۔لیکن اس کے بعد وہ اپنے آبائی حلقے سے انتخابات ہار گئے۔ محمد مرسی کا دعویٰ رہا ہے کہ انھیں دھاندلی سے ہرایا گیا تھا۔

    محمد مرسی نے رکن پارلیمان کی حیثیت سے لوگوں کو اپنے انداز خطابت سے متاثر کیا، خاص پر ان کی وہ تقریر خاصی مشہور ہوئی تھی جب سنہ 2002 میں ریل کے بڑے حادثے کے بعد انھوں نے سرکاری نااہلی کے لتے لیے تھے۔ پابندیوں کا شکار مذکورہ جماعت نے 2011ء میں مرسی کی قیادت میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی قائم کی اور ساتھ ہی شرط بھی رکھی کہ ایک فرد ایک وقت میں اپنی مرضی سے ایک جماعت کی رکنیت رکھ سکتا ہے، (اخوان المسلمین یا فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی)۔

    مئی 2012ءکے وسط میں مصر صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ ہوا، جس میں محمد مرسی اور ملک کے سابق صدر احمد شفیق کو سب سے زیادہ ووٹ ملے۔ جون 2012ء میں مصر کے قومی الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ مرسی نے 51.7 فیصد ووٹ لے کر سابق وزیراعظم احمد شفیق کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اسی روز نومنتخب صدر محمد مرسی نے التحریر اسکوائر پر لاکھوں کے مجمعے میں فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کی رکنیت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا اور کہا کہ وہ صرف مصری عوام کے صدر ہیں۔ انہوں نے 20 جون 2012ء کو مصر کے جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے پہلے صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔

    جون 2013ء میں اقتدار کا ایک سال مکمل ہونے پر تحریر سکوائر اور مصر کے دیگر شہروں میں مظاہرے شروع ہوگئے، جس میں صدر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا۔ مصری فوج نے یکم جولائی 2013ء کو مرسی کو پیغام بھجوایا کہ 48 گھنٹوں میں عوامی مطالبات پورے کریں، بصورت دیگر اقتدار سے ہٹا دیا جائے گا، جسے مصر کی پہلی جمہوری حکومت نے نظر انداز کر دیا۔ اس وقت کے فوجی سربراہ اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں مصری فوج نے تین جولائی کو محمد مرسی کو معزول کرکے جیل میں ڈال دیا۔ مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق مرسی اور 132 دوسرے افراد پر 2011ء میں جیل توڑنے، ملکی دفاعی راز افشا کرنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون اور ان کے ذریعے مصر میں دہشت گردی پھیلانے کے الزام میں مقدمات بنائے گئے۔

    اپریل 2014ء میں عدالت نے مرسی کو 2012ء میں صدارتی محل کے باہر اشتعال انگیزی پھیلانے اور فسادات کے الزام میں 20 سال قید کی سزا سنائی۔ مصر کی ایک عدالت نے مئی 2015ء میں مرسی کو جیل توڑنے کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ سابق صدر پر الزام تھا کہ انہوں نے ودی نترون نامی جیل میں اسیری کے دوران غیر ملکی جنگجوؤں کے ساتھ مل کر قیدیوں کو رہا کرانے کی سازش تیار کی اور 2011ء میں جیل توڑ کر فرار ہوئے۔ عدالت نے انہیں جاسوسی کے الزامات کے تحت عمر قید کی اضافی سزا بھی سنائی۔ محمد مرسی نے سزائے موت کیخلاف اپیل دائر کی، جسے مسترد کر دیا گیا۔

    مرسی پر قطر کو قومی راز دینے کے الزام میں 25 سال قید کی سزا سنائی گئی اور دیگر جرائم میں 15 سال کی اضافی قید کا اعلان بھی کیا گیا۔ تین سال قبل 15 نومبر 2016ء کو مصر کی اعلیٰ ترین عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کو سنائی جانے والی موت کی سزا کو ختم کر دیا تھا، لیکن ان کے خلاف دیگر مقدمات آخری دم تک زیر التوا رہے۔ جیل میں چھ سالہ اسیری کے دوران انہیں نیند کے لیے صرف خالی فرش میسر رہا اور اہلخانہ سے بھی چند ملاقاتیں ہی نصیب ہوئیں۔ محمد مرسی نے انتخاب میں کامیابی کے بعد تمام مصریوں کا صدر بننے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کے نقادوں کا الزام تھا کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے اسلام پسندوں کو سیاسی منظر نامے پر چھا جانے کے مواقعے فراہم کیے اور وہ ملکی معیشت کو اچھی طرح چلانے میں ناکام رہے۔

    محمد مرسی کے اقتدار میں ایک سال مکمل ہونے پر لاکھوں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ مصر کی فوج نے 30 جون 2013ء کو محمد مرسی کو برطرف کرکے انہیں جیل میں بند کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ جولائی 2013ء میں مصر کے فوجی جنرل عبدالفتاح السیسی نے سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کے ایماء پر ان کا تختہ الٹ کر انہیں گرفتار کیا تھا اور خود مصر کے صدر بن گئے تھے۔ ان پر مخالف مظاہرن کے قتل کا الزام تھا، جس پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ محمد مرسی اپنے چار سالہ دورِ اقتدار میں سے صرف ایک سال ہی حکومت کرسکے اور اسی دوران ان کی مشہور سیاسی اسلامی جماعت اخوان المسلمون پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

  • سابق مصری صدر کو قتل کیا گیا .طیب اردوان کا دعویٰ

    سابق مصری صدر کو قتل کیا گیا .طیب اردوان کا دعویٰ

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے سابق مصری صدر محمد مرسی کی طبعی موت کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ‌کیا ہے کہ محمد مرسی کو قتل کیا گیا ہے.طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ وہ مصر کے خلاف عالمی عدالتوں میں کاروائی کرانے کے لیے لازمی اقدامات اٹھائیں گے۔

    ایردوان نے استنبول کے سانجاق تپے میں منعقدہ اجتماعی افتتاحی تقریب سے خطاب میں مصر کے جمہوری طریقے سے منتخب شدہ پہلے اور واحد صدر محمد مرسی کی وفات کے حوالے سے بتایا کہ "مرسی کی موت قضائے الہی سے واقع نہیں ہوئی بلکہ ان کا قتل کیا گیا ہے۔ بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مرحوم کمرہ عدالت میں 20 منٹ تک زندگی و موت کی جنگ لڑتے رہے۔ وہاں پر موجود حکام اس صورتحال کے سامنے ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہے۔ ہم اس چیز کا تعاقب جاری رکھی گے اور عالمی عدالت میں مصری حکومت کے خلاف کاروائی کے لیے لازمی اقدامات اٹھائیں گے۔ طیب اردوان نے کہا کہ ہم اسلامی تعاون تنظیم سے اس چیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس تنظیم کو اس حوالے سے لازمی قدم اٹھانا ہو گا۔