Baaghi TV

Tag: معاہدہ

  • پاک اور سعودیہ  نے حج 2024 کے معاہدے پر دستخط کر دئیے

    پاک اور سعودیہ نے حج 2024 کے معاہدے پر دستخط کر دئیے

    اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب نے حج 2024 کے معاہدے پر دستخط کر دئیے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق حج معاہدے پر سعودی وزیر حج توفیق الربیعہ اور پاکستان کے وزیر مذہبی امور انیق احمد نے دستخط کیےنگراں وفاقی وزیر مذہبی امور انیق احمد نے کہا کہ پاکستانی عازمین حج کو بہتر سے بہتر سہولتیں فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، منٰی میں خصوصی جگہ دی جائے گی اور اس کے نرخ بھی کم ہوں گے،سعودی وزیرحج نے پاکستانی عازمین کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے تعاون کا یقین دلایا۔

    واضح رہے کہ رواں سال مختصر دورانیے کا حج بھی متعارف کروایا گیا ہے شارٹ حج میں عازمین 20 یا 21 دن میں حج کرکے واپس آجائیں گے، اسپانسرز اسکیم میں قرعہ اندازی نہیں ہوگی، حاجی اگر مدینہ میں8 کی بجائے4 دن رہنا چاہیں توپیکج مزید 30 سے 35 ہزار روپےکم ہوجائےگا-

    ملکی تاریخ کے بدترین پاور بریک ڈاؤن کی تحقیقات ایک سال بعد مکمل

    برطانوی جریدے میں شائع آرٹیکل عمران خان کی اپنی تحریر نہیں،جیل حکام

    نگران حکومت ملک میں بہتری کیلئے اقدامات کر رہی ہے،نگران وزیراعظم

  • سعودی عرب نے پاکستان کو 2ارب ڈالر دینے کی تصدیق کر دی،اسحاق ڈار

    سعودی عرب نے پاکستان کو 2ارب ڈالر دینے کی تصدیق کر دی،اسحاق ڈار

    اسلام آباد: سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 2ارب ڈالر دینے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان کو 3 ارب ڈالرکی فنانسنگ سے متعلق عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو مطلع کردیا ہے۔

    پیپلزپارٹی کا سندھ کے بعد پنجاب میں بھی احتجاج کا اعلان

    اسحاق ڈار نے بتایا کہ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان کو 2 ارب ڈالردینےکی تصدیق کی گئی ہے جبکہ یو اے ای کی طرف سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر دینےکی تصدیق کی گئی ہے۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہےکہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدےکی تمام شرائط پوری ہوگئی ہیں وزیر خزانہ نے امید ظاہرکی ہےکہ آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدہ جلد کرکے ایگزیکٹو بورڈ سے منظور کرائےگا۔

    کوشش کریں سندھ کےہرگھر میں سولرسسٹم لگوایا جائے،آصف زرداری کی وزیر توانائی کو تاکید

  • پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ شرح سود بڑھانے پر اتفاق کرلیا

    پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ شرح سود بڑھانے پر اتفاق کرلیا

    اسلام آباد: پاکستان نے قرض کی قسط کیلیےآئی ایم ایف کی ایک اور پیشگی شرط مان لی پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ پالیسی ریٹ(شرح سود) بڑھانے پر اتفاق کرلیا-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہےکہ پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان ہونیو الے ورچوئل مذاکرات میں تکنیکی سطح کی بات چیت ہوئی ہے جس میں پاکستان نے پالیسی ریٹ بڑھانے پر اتفاق کرلیا ہے،توقع ہے کہ پاکستان شرح سود میں دو فیصد تک اضافہ کرے گا-

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے پیشگی اقدامات میں سے زیادہ تر اقدامات پورے کردیئے گئےہیں، پاور سیکٹرکے معاملے پر کچھ معاملات ہیں جو حتمی مرحلے میں ہے پاکستان نے آئی ایم ایف حکام کو جون تک غیر ملکی زرِمبادلہ حاصل ہونے کے ذرائع پر بھی تفصیلی بریفنگ دی ہے، اور توقع ہے کہ اس بارے بھی جلد پیشرفت ہوگی-

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے معاملات طے ہونے کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف سطع معاہدہ ہوجائے گا آئی ایم ایف سے اسٹاف سطع کا معاہدہ طے پانے کے بعد آئی ایم ایف جائزہ مشن نویں اقتصادی جائزے اور اگلے قسط آئی ایم ایف بورڈ کو منظوری کیلئے بھجوائے گا۔

  • کے الیکٹرک اور چینی کمپنی کے درمیان 1000 میگاواٹ قابل تجدید توانائی کا معاہدہ

    کے الیکٹرک اور چینی کمپنی کے درمیان 1000 میگاواٹ قابل تجدید توانائی کا معاہدہ

    اسلام آباد: کےالیکٹرک اور چینی کمپنی کےدرمیان 1000 میگاواٹ قابل تجدید توانائی کا معاہدہ طے پاگیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق کے الیکٹرک اور چینی کمپنی کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے ایم او یو کے تحت آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں میں توانائی کے منصوبے لگائے جائیں گے کے الیکٹرک کے نیٹ ورک میں بڑے گرڈز پر بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم لگانے کی حکمت عملی بنائی جائےگی۔

    تھر میں 5 ہزار میگا واٹ بجلی پیداکرنے کی صلاحیت ہے،مشاہد حسین سید

    چینی کمپنی کے سی ای او وانگ منشینگ نے کہا کہ کم لاگت، صاف توانائی سلوشنز کی فراہمی کیلئے نئی منصوبہ بندی کی ہے، گرین انرجی موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے، ملک کے انرجی مکس میں قابل تجدیدتوانائی کے ذرائع میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔

    کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مونس علوی کا کہنا ہے کہ ایم او یو کراچی کے صارفین کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، ملکی جنریشن مکس میں صاف، پائیدار اور سستی توانائی کا حصہ بڑھانے کیلئے پر عزم ہیں، چینی کمپنی کا عالمی تجربہ قابل تجدید توانائی کی کوششوں میں معاون ثابت ہوگا۔

    قابل تجدید توانائی سے مراد ایسی توانائی ہے جو مختلف قدرتی ذرائع مثلا سورج کی روشنی، ہوا بارش اور لہروں وغیرہ سے حاصل ہوری ہے-

    وزیر اعظم کی وکی پیڈیا سے پابندی فوری ہٹانے کی ہدایت

  • پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا

    پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا

    اسلام آباد:پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور افغانستان ن کے مابین دوطرفہ تجارت خاص طور پر کوئلے کی تجارت کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

     

    Tag

    عالمی منڈی میں فرنس آئل مہنگا ہونے کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان نے دوطرفہ تجارت خاص طور پر کوئلے کی تجارت کے لیے معاہدہ کیا ہے۔دوطرفہ معاہدے کا مقصد پاکستان میں بجلی کی کمی کے پیش نظر پیداوار کے لیے مہنگے فرنس آئل کے استعمال کے بجائے نسبتا سستے کوئلے کا حصول ہے۔

     

     

    اس معاہدے سے قبل ہی بلوچستان میں چمن بارڈر اسٹیشن کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے لیے کم مقدار میں کوئلہ درآمد کیا جا رہا ہے جب کہ نئے معاہدے کے تحت خیبرپختونخوا میں خرلاچی اور غلام خان کے کسٹم اسٹیشنز سے بھی کوئلے کی درآمد شروع ہوجائے گی۔

     

     

    درآمد شدہ کوئلہ دو پلانٹس حبکو اور ساہیوال پلانٹس میں بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے گا. سرکاری ذرائع کے مطابق کوئلے کی درآمد سے پاکستان کی توانائی کی کمی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہونے کی توقع ہے۔

    اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سے پاکستان افغانستان سے اشیا درآمد کرنے والا بڑا ملک بن چکا ہے، اس عرصے کے دوران بینکنگ چینلز کے ذریعے قابل تجارت کرنسی کی عدم دستیابی کی وجہ سے افغانستان کو پاکستان کی برآمدات میں کافی کمی دیکھی گئی۔

    واضح رہے کہ یہ فیصلے پاکستان کے تجارتی وفد کے کابل کے 18 جولائی سے 20 جولائی تک ہونے والے 3 روزہ دورے کے دوران ہوئے۔

  • اجناس کی برآمدات بحال کی جائیں :انسانوں کی زندگی کوخطرہ ہے:روس اور یوکرین میں اتفاق

    اجناس کی برآمدات بحال کی جائیں :انسانوں کی زندگی کوخطرہ ہے:روس اور یوکرین میں اتفاق

    ماسکو:یوکرین اور روس کے درمیان تین یوکرینی بندرگاہوں سے اجناس کی برآمدات بحال کرنے کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔معاہدے کی منظوری سے پہلے فریقین کو اس بات کا احساس دلایا گیا کہ اجناس کی برآمدات بحال کی جائیں ورنہ انسانوں کی زندگی کوخطرہ ہے

    عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاہدے کے بعد یوکرین جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی غذائی بحران پر قابو پایا جا سکے گا۔ معاہدے کے لیے پچھلے دو ماہ سے مذاکرات جاری تھے اور نتیجے تک پہنچنے میں اقوام متحدہ اور ترکیہ سرگرم عمل رہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس کے مطابق معاہدے کے بعد یوکرین کی اجناس کی برآمدات بحال ہوجائیں گی جبکہ روسی اجناس اور فرٹیلائزز کی برآمدات سے بھی پابندی کا خاتمہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ تین یوکرینی بندرگاہوں، اوڈیسا، چرنومورسک اور یزنی سے اجناس برآمد کی جا سکیں گی اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اقوام متحدہ ایک کوآرڈی نیشن سینٹر قائم کرے گا۔

    دونوں ممالک نے اپنے وزرائے دفاع کو تقریب میں شرکت کے لیے بھیجا جہاں ترک صدر طیب اردوغان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی موجود تھے۔

    خیال رہے کہ روس نے یوکرین کی بندرگاہوں کو سیل کر دیا تھا جس کے بعد ہزاروں ٹن اجناس کی بیرون ملک ترسیل رک گئی تھی اور غذائی بحران کا اندیشہ تھا۔

  • ایلون مسک نےمقدمے کی سماعت جلد شروع کرنےکی درخواست چیلنج کردی

    ایلون مسک نےمقدمے کی سماعت جلد شروع کرنےکی درخواست چیلنج کردی

    اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے ٹوئٹر کی جانب سےکمپنی خریدنے کے معاہدے سے دستبرداری کے خلاف مقدمے کی سماعت جلد شروع کرنےکی درخواست چیلنج کردی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ریاست ڈیلاویئرکی عدالت میں ایلون مسک کے وکلا نے اپیل دائر کی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 44 ارب ڈالرز میں کمپنی خریدنےکے معاہدے سے دستبردار ہونے پر ٹوئٹرکی جانب سے ایلون مسک کے خلاف دائر مقدمےکی سماعت 2 ماہ میں شروع کرنےکی بلاجواز درخواست مسترد کی جائے۔

    مون سون بارشیں،سیلابی ریلے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں داخل

    ایلون مسک کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ 2 ماہ تک تاخیری حربوں کے بعد ٹوئٹر کی جانب سے مقدمے کی سماعت میں جلدی کرنا اس کا تازہ حربہ ہے تاکہ جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ مزید طویل ہوجائے۔

    مسک کے وکلا نے عدالت سے درخواست کی ہےکہ آئندہ سال فروری کے وسط میں یا اس کے بعد ٹرائل شروع کیا جائے۔

    خیال رہے کہ رواں سال اپریل کے آخر میں ایلون مسک اور ٹوئٹر کے درمیان 44 ارب ڈالرز میں سوشل میڈیا کمپنی خریدنےکا معاہدہ طے پایا تھا تاہم گزشتہ دنوں اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے بانی ایلون مسک ٹوئٹر خریدنے کے معاہدے سے دستبردار ہوگئے تھے۔

    ویرات کوہلی کی بابر اعظم کیلئے کی گئی ٹویٹ وائرل

    یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے پاس جمع کروائی گئی دستاویزات کے مطابق ایلون مسک نے کہا تھا کہ ٹوئٹر انتظامیہ جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی اس لیے میں سوشل میڈیا کمپنی کو خریدنے کے اپنے معاہدے سے دستبردار ہورہا ہوں تین روز قبل ٹوئٹر نے 44 ارب ڈالرز میں کمپنی خریدنے کے معاہدے سے دستبردار ہونے پر ایلون مسک کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

    امریکی ریاست ڈیلاویئر کی عدالت میں دائر مقدمے میں ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ دنیا کے امیر ترین شخص کو 54.20 ڈالر فی شیئرمیں کمپنی خریدنےکےمعاہدے کی پاسداری کاحکم دےعدالت میں دائرمقدمے میں ٹوئٹر انتظامیہ نے مقدمےکی سماعت ستمبر کے آغاز میں شروع کرنےکی درخواست کی ہےکیونکہ مسک کے ساتھ انضمام کا معاہدہ 25 اکتوبر کو ختم ہو رہا ہے۔

    پنجاب کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز

  • پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

    واشنگٹن: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ای ایف ایف کے تحت ساتویں اور آٹھویں جائزے کے معاملات طے پا گئے ہیں تاہم آئی ایم ایف بورڈ معاہدے کی حتمی منظوری دے گا۔

    آئی ایم ایف کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام نے پاکستان کی توسیعی فنڈ سہولت (EFF) کے مشترکہ 7ویں اور 8ویں جائزے کو مکمل کرنے کے لیے پالیسیوں پر عملے کی سطح پر معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔

    بلند بین الاقوامی قیمتیں، اور تاخیری پالیسی کارروائی نے مالی سال 22 میں پاکستان کی مالی اور بیرونی پوزیشن کو خراب کیا، شرح مبادلہ میں نمایاں کمی واقع ہوئی، اور غیر ملکی ذخائر میں کمی واقع ہوئی۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوری ترجیح مالی سال 23 کے لیے حال ہی میں منظور کیے گئے بجٹ کے مستقل نفاذ، مارکیٹ سے طے شدہ شرح مبادلہ کی مسلسل پابندی، اور ایک فعال اور محتاط مالیاتی پالیسی کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔ سب سے زیادہ کمزوروں کی حفاظت کے لیے سماجی تحفظ کو بڑھانا، اور ریاستی ملکیتی اداروں (SOEs) اور گورننس کی کارکردگی کو بہتر بنانے سمیت ساختی اصلاحات کو تیز کرنا ضروری ہے۔

    آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عالمی مہنگائی اور اہم فیصلوں میں تاخیر سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہوئے، زائد طلب کے سبب معیشت اتنی تیز تر ہوئی کہ بیرونی ادائیگیوں میں بڑا خسارہ ہوا۔

    عالمی مالیاتی فنڈ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو 1 ارب 17 کروڑ ڈالر دستیاب ہوں گے تاہم پاکستان کو حالیہ بجٹ پر سختی سے عمل کرنا ہو گا، صوبوں نے بجٹ خسارے کو محدود رکھنے کیلیے یقین دہانی کرائی ہے۔

    آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایکسپورٹ ری فنانس اسکیمیں شرح سود سے منسلک رہیں گی۔

    آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق بورڈ کی منظوری سے مشروط، تقریباً 1,177 ملین ڈالر (SDR 894 ملین) دستیاب ہوں گے، جس سے پروگرام کے تحت کل ادائیگی تقریباً 4.2 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ مزید برآں، پروگرام کے نفاذ میں مدد کرنے اور مالی سال 23 میں اعلیٰ فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اضافی فنانسنگ کو متحرک کرنے کے لیے-

    آئی ایم ایف بورڈ جون 2023 کے آخر تک EFF کی توسیع اور SDR 720 ملین تک رسائی میں اضافے پر غور کرے گا۔ EFF کے تحت کل رسائی کو تقریباً 7 بلین امریکی ڈالر تک لے آئیں۔

    پاکستان ایک مشکل معاشی موڑ پر ہے۔ ایک مشکل بیرونی ماحول جو کہ گھریلو پالیسیوں کے ساتھ مل کر گھریلو مانگ کو غیر پائیدار سطح تک پہنچاتا ہے۔ نتیجتاً معاشی حد سے زیادہ گرمی نے مالی سال 22 میں بڑے مالی اور بیرونی خسارے کو جنم دیا، افراط زر میں اضافہ ہوا، اور ریزرو بفرز کو ختم کیا۔

    "معیشت کو مستحکم کرنے اور آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کے مطابق پالیسی اقدامات لانے کے لیے، کمزوروں کی حفاظت کرتے ہوئے، پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہیں:

    مالی سال 2023 کے بجٹ کا مستقل نفاذ۔ بجٹ کا مقصد جی ڈی پی کے 0.4 فیصد کے بنیادی سرپلس کو ہدف بنا کر حکومت کی بڑی قرض لینے کی ضروریات کو کم کرنا ہے، جو کہ موجودہ اخراجات پر پابندی اور وسیع ریونیو کو متحرک کرنے کی کوششوں کے ذریعے خاص طور پر زیادہ آمدنی والے ٹیکس دہندگان پر مرکوز ہے۔

    ترقیاتی اخراجات کا تحفظ کیا جائے گا، اور سماجی معاونت کی اسکیموں کو وسعت دینے کے لیے مالی گنجائش پیدا کی جائے گی۔ صوبوں نے مالی اہداف تک پہنچنے کے لیے وفاقی حکومت کی کوششوں کی حمایت کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور اس سلسلے میں ہر صوبائی حکومت نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

    پاور سیکٹر میں اصلاحات میں تیزی پہلے سے طے شدہ منصوبے کے کمزور نفاذ کی وجہ سے، مالی سال 22 میں پاور سیکٹر کے گردشی قرضے (CD) کا بہاؤ نمایاں طور پر بڑھ کر تقریباً 850 بلین پی آرز تک پہنچنے کی امید ہے، پروگرام کے اہداف کو اوور شوٹنگ، پاور سیکٹر کی عملداری کو خطرہ، اور بار بار بجلی کی بندش کا باعث بنتا ہے۔

    پاور سیکٹر کی صورتحال کو بہتر بنانے اور لوڈ شیڈنگ کو محدود کرنے کے لیے حکام اصلاحات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے پرعزم ہیں، جن میں تنقیدی طور پر، بجلی کے نرخوں کی بروقت ایڈجسٹمنٹ بشمول تاخیر سے ہونے والی سالانہ ری بیسنگ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں۔

    مہنگائی کو مزید معتدل سطح تک لے جانے کے لیے فعال مانیٹری پالیسی۔ جون میں ہیڈ لائن افراط زر 20 فیصد سے تجاوز کر گئی، خاص طور پر سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو نقصان پہنچا۔ اس سلسلے میں، مانیٹری پالیسی میں حالیہ اضافہ ضروری اور مناسب تھا، اور مانیٹری پالیسی کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہوگی کہ افراط زر کو 5-7 فیصد کے درمیانی مدتی مقصد تک مسلسل نیچے لایا جائے۔

    اہم بات یہ ہے کہ مانیٹری پالیسی کی ترسیل کو بڑھانے کے لیے، دو بڑی ری فنانسنگ اسکیموں EFS اور LTFF (جن میں حالیہ مہینوں میں بالترتیب 700 bps اور 500 bps کا اضافہ کیا گیا ہے) کی شرحیں پالیسی کی شرح سے منسلک رہیں گی۔ زر مبادلہ کی شرح میں زیادہ لچکدار سرگرمی کو بڑھانے اور ذخائر کو مزید محتاط سطح تک دوبارہ بنانے میں مدد کرے گی۔

    غربت کو کم کرنا اور سماجی تحفظ کو مضبوط کرنا۔ FY22 کے دوران، غیر مشروط کیش ٹرانسفر (UCT) کفالت سکیم تقریباً 80 لاکھ گھرانوں تک پہنچ گئی، وظیفہ میں مستقل اضافہ کے ساتھ PRs 14,000 فی خاندان، جب کہ PRs 2,000 (Sasta Fuel Sasta Diesel, SFSD) کی ایک بار کیش ٹرانسفر کے ساتھ۔ تقریباً 8.6 ملین خاندانوں کو دی گئی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے۔ FY23 کے لیے، حکام نے BISP کے لیے 364 بلین PRs مختص کیے ہیں (FY22 میں PRs 250 سے زیادہ) تاکہ 9 ملین خاندانوں کو BISP حفاظتی جال میں لایا جا سکے، اور SFSD سکیم کو اضافی غیر BISP، نچلے متوسط ​​طبقے تک بڑھایا جا سکے۔

    فائدہ اٹھانے والے گورننس کو مضبوط کریں۔ گورننس کو بہتر بنانے اور بدعنوانی کو کم کرنے کے لیے، حکام ایک مضبوط الیکٹرانک اثاثہ جات کے اعلان کا نظام قائم کر رہے ہیں اور انسداد بدعنوانی کے اداروں (بشمول قومی احتساب بیورو) کا ایک جامع جائزہ لینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تاکہ بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات اور قانونی کارروائی میں ان کی تاثیر کو بڑھایا جا سکے۔

    "مشترکہ ساتویں اور آٹھویں جائزوں کے لیے SLA کو بنیاد بناتے ہوئے، بیان کردہ پالیسیوں کا مستقل نفاذ، پائیدار اور زیادہ جامع ترقی کے لیے حالات پیدا کرنے میں مدد کرے گا۔ اس کے باوجود حکام کو عالمی معیشت اور مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پروگرام کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ضروری اضافی اقدامات کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    "آئی ایم ایف کی ٹیم مذاکرات کے دوران نتیجہ خیز بات چیت اور تعاون پر پاکستانی حکام، نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتی ہے۔”

    دوسری جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان معاہدہ ہوجانے کا اعلان کیا ہے-

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایک ارب 17 کروڑ ڈالر جلد مل جائیں گے جبکہ معاہدے میں مدد اور کوششوں پر وزیر اعظم، ساتھی وزرا، سیکرٹریز اور وزارت خزانہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں پاکستان کو بجٹ پر سختی سے عمل کرنا ہو گا جبکہ پاکستان کو طلب اور رسد پر مبنی ایکسچینج ریٹ بھی برقرار رکھنا ہو گا۔

  • روسی قونصل جنرل کا پی ٹی آئی حکومت کیساتھ  تیل کی خریداری کے معاہدے پر لاعلمی کا اظہار

    روسی قونصل جنرل کا پی ٹی آئی حکومت کیساتھ تیل کی خریداری کے معاہدے پر لاعلمی کا اظہار

    روسی قونصل جنرل نے پی ٹی آئی حکومت کے روس سے تیل کی خریداری کے معاہدے پر لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں اردو نیوزکو دیئے گئے انٹرویو میں روسی قونصل جنرل آندرے وکٹرووچ فیڈروف نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں، ہم پاکستان کو دوست ملک سمجھتے ہیں اور پاکستان سے بھی روس کو دوست ملک سمجھنےکی امید رکھتے ہیں ساتھ ہی روسی قونصل جنرل نے پاکستان سے تجارتی اور معاشی تعاون قائم کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا-

    پرویز مشرف کا پاکستان آنےسےانکار نوازشریف کےآنےمیں رکاوٹ بن گیا،شیخ رشید

    روسی قونصل جنرل نے کہا کہ مغرب کی ’غیرقانونی پابندیوں‘ کی وجہ سے پاکستان اور روس کے درمیان تجارت کا عمل متاثر ہے۔ دونوں ممالک کو مل کر بیٹھنا ہو گا اور اس کا حل تلاش کرنا ہو گا روس تیل، گیس اور توانائی سمیت کئی شعبوں میں پاکستان کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ پاکستان زراعت، میڈیکل و سرجیکل سمیت کئی شعبوں میں روس کو مدد فراہم کر سکتا ہے۔

    اردو نیوز کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا سابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ روس میں بھی تجارت سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا تاہم تیل کی خریداری کے معاہدے کی تفصیل یا پاکستانی وزرا کے روس سے تجارتی رابطے کی تفصیلات کا انہیں علم نہیں۔ البتہ یہ معاملات زیر غور ضرور رہے ہیں۔

    کے الیکٹرک کی بجلی 11 روپے 34 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست

    روس یوکرین تنازع پرروسی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ ہمارا موقف بالکل واضح ہے ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ روسی شہریوں کو قتل کرے گزشتہ آٹھ سال سے یوکرین سے بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی تاہم مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں سپیشل آپریشن شروع کیا گیا یہ کوئی جنگ نہیں ہے یہ ایک سپیشل آپریشن ہے۔ مغربی ممالک اس میں جلتی آگ پر تیل کا کام کر رہے ہیں-

    اردو نیوز کے مطابق آندرے وکٹرووچ فیڈروف نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کے حل میں مغربی ممالک سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب بھی پرامن مذاکرات کا عمل شروع ہونے لگتا ہے روک دیا جاتا ہے اور اس کے تانے بانے واشنگٹن سے ملتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر چین، روس اور یورپی ممالک سمیت ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں بہتر ہوجائے گی تو اس خطے میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں رہے گا، اس لیے وہ اس خطے کو مستحکم نہیں ہونے دیتے۔

    انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں کمی

  • ٹویٹر پر موجود جعلی اکاؤنٹس کا ڈیٹا دیا  جائے، ایلون مسک کا مطالبہ

    ٹویٹر پر موجود جعلی اکاؤنٹس کا ڈیٹا دیا جائے، ایلون مسک کا مطالبہ

    ٹویٹر پر موجود جعلی اکاؤنٹس کا ڈیٹا دیا جائے، ایلون مسک کا مطالبہ

    باغی ٹی وی : امریکی سرمایہ کار جن کا نام ایلون مسک ہے انہوں نے ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹس کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر ٹویٹر پر موجود جعلی اکاؤنٹس کا ڈیٹا نہیں دیا گیا تو ایسی صورت حال میں میں ٹویٹر کے ساتھ معاہدہ ختم کر دوں گا ۔

    اس حوالے سے امریکی سرمایہ کار ایلون مسک کا کہنا تھا کہ ٹویٹر پر بہت سے اکاؤنٹ جعلی ہیں لیکن کمپنی جعلی اکاؤنٹس کا ڈیٹا فراہم کرنے میں بلکل نا کام رہی ہے ۔

    مزید یہ کہ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کو ٹویٹر پر موجود جعلی اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تو وه اس صورت میں پھر چوالیس بلین ڈالر کی ڈیل سے دستبرار ہو جائیں گے۔

    ایلون مسک ایک مشہور اور معروف ارب پتی ہیں ۔جنہوں اپریل کے مہینے میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر کو خریدنے کا معاہدہ کیا تھا ۔