Baaghi TV

Tag: معاہدہ

  • امریکا نے ایران کو معاہدے کے لیے مجبور کیا، امریکی وزیر دفاع

    امریکا نے ایران کو معاہدے کے لیے مجبور کیا، امریکی وزیر دفاع

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی امن معاہدہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا،، تاہم معاہدے پر عمل درآمد اور مستقبل کے مذاکرات کو بھی قریب سے مانیٹر کیا جائے گا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے برسلز میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے ایران کو معاہدے کے لیے مجبور کیا، ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے یا خرندنے کی اجازت نہیں ہوگی، امریکا خطے میں استحکام اور جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم معاہدے پر عمل درآمد اور مستقبل کے مذاکرات کو بھی قریب سے مانیٹر کیا جائے گا۔

    امریکی وزیر دفاع نے نیٹو اتحادیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں زیادہ کردار ادا کریں، انہوں نے بعض اتحادی ممالک پر ایران جنگ کے دوران امریکا کو مطلوبہ سہولتیں اور فضائی رسائی فراہم نہ کرنے پر تنقید کی،ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ حتمی معاہدے کے لیے آئندہ مذاکرات میں متعدد اہم امور پر پیشرفت متوقع ہے، امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے لیے کام جاری رکھے گا۔

  • ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں،قالیباف

    ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں،قالیباف

    ایران کے پارلیمانی اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں، اور یہی کامیابیاں موجودہ سفارتی عمل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں۔

    ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات ایک مضبوط اور بااعتماد پوزیشن سے کر رہا ہے اور حالیہ عسکری کامیابیوں نے تہران کے مؤقف کو مزید مضبوط بنایا ہےموجودہ مذاکرات اور ماضی کے ادوار میں ہونے والی بات چیت کے درمیان بنیادی فرق یہ ہے کہ آج ایران میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی پشت پناہی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران کی عسکری کامیابیوں کو عالمی سطح پر دوست اور مخالف دونوں تسلیم کر چکے ہیں، اور یہی کامیابیاں موجودہ سفارتی عمل کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہیں کسی بھی جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابی اس وقت تک مکمل فائدہ نہیں دیتی جب تک اسے قانونی اور سیاسی معاہدوں کی شکل میں محفوظ نہ کیا جائے۔

    انہوں نے زور دیا کہ ایران کی حالیہ کامیابیوں کو ایسے سیاسی اور قانونی نتائج میں تبدیل کرنا ضروری ہے جو ملک کے طویل المدتی مفادات کا تحفظ کر سکیں اگر جنگ میں حاصل ہونے والی فتوحات کو باضابطہ دستاویزات اور معاہدوں میں شامل نہ کیا جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کامیابیوں کے فوائد ضائع ہو سکتے ہیں ایران کی قیادت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ موجودہ کامیابیاں ملک کے سیاسی، سفارتی اور قومی مفادات کے لیے دیرپا ثمرات پیدا کریں۔

  • امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    امریکا اور ایران کے صدور نے جنگ ختم کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، جس کے بعد معاہدہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔

    اس بارے میں وائٹ ہاؤس اور ایران نے تصدیق کر دی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں،امریکی ویب سائٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے صدور نے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کیے ہیں، معاہدے پر دستخط پہلے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونا تھے تاہم ایک ثالث ملک کے سفارتکار اور ایک دوسرے ذریعے نے گزشتہ روز بتایا کہ فریقین کے درمیان اس عمل کو پہلے مکمل کرنے اور جلد عملدرآمد شروع کرنے پر بات چیت جاری تھی۔

    سفارتی ذریعے کے مطابق اس پیشرفت کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنا تھا کیونکہ دونوں فریق اس معاملے پر پہلے ہی متفق تھے، اس عمل میں ایک وجہ وائٹ ہاؤس پر معاہدے کے متن کو جاری کرنے کیلئے بڑھتا ہوا سیاسی دباؤ بھی ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے متن پر باضابطہ دستخط ہو چکے ہیں اور معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے فوری مذاکرات شروع کیے جائیں گے ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور میزائل پروگرام پر کسی بھی فریق کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے،ایران کے میزائل صرف فائر کرنے کے لیے ہیں، مذاکرات کے لیے نہیں۔

    ترجمان نے واضح کیا کہ ایرانی جوہری مواد ملک سے باہر نہیں بھیجا جائے گا، تاہم افزودہ یورینیم کو کم افزودہ کرنے کا آپشن موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فارسی اور انگریزی زبان میں موجود دستاویزات ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہیں اور دوسرے فریق نے بھی اس یادداشت پر دستخط کیے ہیں معاہدے کے تحت آئندہ 60 روز کے دوران دوسرا فریق خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا اور نہ ہی ایران پر نئی پابندیاں عائد کرے گا۔ بقائی نے زور دیا کہ ایران پر عائد تیل کی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں اور ایران کو فوری طور پر تیل کی فروخت شروع کرنے کے قابل ہونا چاہیے، جبکہ یہ صورتِ حال کم از کم 60 دن تک برقرار رہنی چاہیے۔

    اسماعیل بقائی کے مطابق امریکا ایران کے منجمد فنڈز تک رسائی میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کرنے کا پابند ہوگا، آبنائے ہرمز کا معاملہ ایران اور عمان کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کسی بھی حملے کو معاہدے کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا 60 روزہ مدت کا آغاز آج سے ہو رہا ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک نے جاری تنازع کے سفارتی حل پر اتفاق کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے اس معاہدے کی ثالث کے طور پر توثیق کی ہےدونوں فریق تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے پُرعزم ہیں جبکہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا ابتدائی اقدامات کے تحت ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے گا جبکہ امریکا ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا،یہ پیش رفت خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

    شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سفارتی عزم اور مذاکراتی عمل پر اعتماد نے ایک ایسے تنازع کے خاتمے میں مدد دی جو خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا،انہوں نے امریکی مذاکراتی ٹیم کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی مسلسل کاوشوں نے معاہدے کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی دوراندیشی اور امن کے لیے عزم کو بھی خراج تحسین پیش کیا، انہوں نے کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے صبر، ثابت قدمی اور تعمیری مذاکراتی انداز نے اس معاہدے کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا بیان میں قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی سراہا گیا، ان ممالک کی سفارتی معاونت اور تعمیری تعاون مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے نہایت اہم ثابت ہوا۔

    شہباز شریف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتھک کوششیں، غیر معمولی لگن اور علاقائی امن و استحکام کے لیے خدمات اس پیش رفت میں فیصلہ کن ثابت ہوئیں وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پورے خطے میں امن، باہمی اعتماد، اقتصادی تعاون اور مشترکہ خوشحالی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھے گی انہوں نے دعا کی کہ یہ معاہدہ مستقبل میں مستقل استحکام اور علاقائی ترقی کا ذریعہ ثابت ہو۔

    ایرانی صدر نےدستخط شدہ معاہدے کی کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکا کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کی کاپی میڈیا کے ساتھ شیئر کر دی جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی دستخط موجود ہیں یہ پہلا موقع ہے کہ بین الاقوامی سطح پر دو ملکوں کے درمیان ہونے والا معاہدہ الیکٹرانک دستخط کے ذریعے ہوا ہے۔

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی تقریب جعمہ کو سوئزرلینڈ میں طے ہے جس میں امریکی، ایرانی وفود سمیت ثالثی کا اہم کردار ادا کرنے والے پاکستان سمیت سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کے قائدین بھی شریک ہوں گے، معاہدے پر ایرانی اور امریکی دونوں صدور کی دستخط کے بعد سوئزرلینڈ میں ہونے والی طے شدہ ملاقات کے حوالے سے فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

  • ایران امریکا معاہدے کے باوجود عالمی معیشت کو منفی اثرات کا سامنا رہے گا،آئی ایم ایف کا انتباہ

    ایران امریکا معاہدے کے باوجود عالمی معیشت کو منفی اثرات کا سامنا رہے گا،آئی ایم ایف کا انتباہ

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور تنازع دوبارہ ابھرنے کا امکان موجود ہے۔

    آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا نے پیر کو ادارے کےاپنے بلاگ میں لکھا کہ بہت کچھ توانائی بحران کی مدت اور شدت پر منحصر ہے، جتنا جلد یہ بحران ختم ہوگا اتنا ہی بہتر ہوگا، خصوصاً اس لیے کہ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے بڑے نقصانات کے باعث توانائی کی فراہمی کی مکمل بحالی میں وقت لگے گا،’اتوار کو جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، تاہم اگر تنازع یا رسد میں رکاوٹیں دوبارہ بڑھتی ہیں تو یہ عالمی اقتصادی ترقی کے لیے واضح خطرہ ہوگا۔‘

    انہوں نے موجودہ ’مسلسل غیر یقینی صورتحال‘ کے پیش نظر مالیاتی اور مانیٹری حکام پر زور دیا کہ وہ افراطِ زر کو قابو میں رکھنے اور مالیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے نظم و ضبط اور لچک کا مظاہرہ کریں ان کے مطابق ایسے مخصوص اور عارضی اقدامات کیے جانے چاہییں جو سرکاری مالیات کو نقصان نہ پہنچائیں آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ ایران امریکا معاہدے کے باوجود آنے والے مہینوں میں عالمی معیشت کو منفی اثرات کا سامنا رہے گا۔

    کرسٹالینا نے کہا کہ یہ بحران مختلف ممالک پر یکساں اثرات مرتب نہیں کرے گا، اگرچہ بیشتر ممالک اب تک اس کے شدید ترین اثرات کو محدود رکھنے میں کامیاب رہے ہیں تیل کی قیمتیں اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے بلند ہیں، اگرچہ دنیا کی 2 بڑی معیشتیں، امریکا اور چین ذخائر کے استعمال اور امریکا میں پیداوار بڑھانے جیسے اقدامات کے باعث اپنی معاشی مضبوطی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے متعدد معیشتوں میں افراطِ زر کو بڑھا دیا ہے، جیسا کہ امریکا اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں دیکھا گیا،حکومتیں گھریلو صارفین اور کاروباری اداروں کی قوتِ خرید میں کمی کے خطرات پر گہری نظر رکھیں۔

    کرسٹالینا جورجیوا کے مطابق یہ اطمینان بخش ہے کہ عالمی معیشت اب تک اس بحران کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خطرات ٹل گئے ہیں، آئی ایم ایف مسلسل ہائی الرٹ پر ہے ہم اس معاشی نقصان سے بھی بخوبی آگاہ ہیں جس کا سامنا ہمارے بعض رکن ممالک پہلے ہی کر رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ مل کر بحران کے انتظام اور اس کے منفی اثرات، خصوصاً کمزور طبقات پر پڑنے والے اثرات، کو محدود کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔‘

  • امریکا ایران معاہدہ ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

    امریکا ایران معاہدہ ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں

    امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 4 فیصد گر گئیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی اطلاعات کے بعد عالمی سرمایہ کاروں کے خدشوں میں کمی آئی، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد تک کمی دیکھی گئی-

    عالمی مارکیٹ میں برطانوی خام تیل کی قیمت میں 4 ڈالر کی کمی ہوئی جس کے بعد برطانوی خام تیل کی نئی قیمت 83.70 ڈالر فی بیرل ہو گئی اس کے علاوہ امریکی خام تیل کی قیمت 3.75 ڈالر کمی کے بعد 80.76 ڈالر فی بیرل پر آ گئی۔متحدہ عرب امارات کے مربن کروڈ آئل کی قیمت بھی مندی کی لہر سے متاثر ہوئی مربن کروڈ آئل کی قیمت میں پانچ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 83 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی۔

    معاشی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور امن معاہدے کی پیش رفت کی خبریں عالمی توانائی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے اور قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

    یاد رہے کہ امریکا ایران کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے امن معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے پر باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزر لینڈ میں ہوں گے۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

    امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

    امریکہ اور ایران کے درمیان زیرِ غور مجوزہ امن و مفاہمتی معاہدے کی اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں جن کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ اور خطے میں استحکام لانا ہے تاحال ایران کی جانب سے اس معاہدے پر حتمی دستخط نہیں کیے گئے ہیں اور تہران میں اس کا تفصیلی جائزہ جاری ہے-

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے اعلیٰ ایرانی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس بات پر متفق ہوا ہے کہ وہ نہ تو جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی حاصل کرے گا ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم ذخائر کو ملک کے اندر ہی کم درجے پر لائے گا جبکہ اس کے طریقہ کار پر آئندہ 60 دنوں میں مزید بات چیت کی جائے گی۔

    عہدیدار کے مطابق امریکا ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو مخصوص مدت کے لیے نرم کرے گا جس سے ایران کو تیل فروخت کرنے اور اس کی آمدنی حاصل کرنے کی اجازت ہو گی حتمی معاہدہ ہونے تک امریکا ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد نہیں کرے گامجوزہ معاہدے کے تحت امریکا ایران کے 25 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بھی جاری کرے گا ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھول دے گا جبکہ امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔

  • صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ  شیئر کردی

    صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ شیئر کردی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا ایران معاہدے سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں وزیراعظم پاکستان شہاز شریف نے کہا تھا کہ امریکا اور ایران پہلے سے کہیں زیادہ امن معاہدے کے قریب ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں معاہدے کو حتمی شکل دیدی جائے گی پاکستان امن معاہدے کو حتمی شکل ملنے کے فوراً بعد اس پر الیکٹر ا نک دستخط کے لیے تیاریاں کررہا ہے، جبکہ اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی متوقع ہیں۔

    وزیراعظم نے ممکنہ امن معاہدے کے سلسلے میں مثبت رویے پر امریکا اور ایران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس عمل کے دوران فریقین کے مثبت کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان مذاکراتی عمل میں تعاون کرنے والے برادر ممالک کے کردار کو سراہتا ہے اور امید کرتا ہے یہ تاریخی امن معاہدہ خطے میں دیرپا استحکام اور امن کے قیام کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہوگا۔

    شہباز شریف نے گزشتہ روز بھی ایک بیان میں امریکی صدر ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس، مارکو روبیو، اسٹیو وٹکوف، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو ٹیگ کرتے ہوئے ایران امریکا معاہدے پر اتفاق کا اعلان کیا تھاکہا تھا امریکا اور ایران میں امن معاہدہ پرحتمی فیصلہ ہوچکا ہے، پاکستان اب فریقین کے ساتھ مل کر اگلے اقدامات کو حتمی شکل دینے کے لیے کام کررہا ہے۔

    دوسری جانب یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اس ممکنہ امن معاہدے پر مکمل اتفاق کی صورت میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں ہوگی جس میں وزیراعظم شہبازشریف بھی شریک ہوں گے، تاہم اس خبر کی تاحال سرکاری حکام نے تصدیق نہیں کی ہے۔

    البتہ نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا سوئس وزیر خارجہ اگنازیو کاسس سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں خطے کی صورت حال اور امن کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے سوئس وزیر خارجہ نے امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا جبکہ پاکستان کی علاقائی استحکام کے لیے کوششوں کی تعریف بھی کی ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور اس پر اتوار کو جنیوا میں دستخط ہوں گے، مکمل طور پر غلط ہے،فارس کے مطابق اتوار کی تاریخ اور جنیوا کے مقام، دونوں کی مکمل طور پر تردید کی گئی ہے۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایک مغربی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر اتوار تک دستخط ہو سکتے ہیں، جبکہ مذاکرات کے انعقاد کے لیے جنیوا سب سے زیادہ متوقع مقام قرار دیا جا رہا تھا۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں 60 روزہ مدت مقرر کی گئی ہے، جس کے دوران ایرانی جوہری پروگرام اور امریکی بنیادی و ثانوی پابندیوں کے مکمل خاتمے سے متعلق مذاکرات کیے جائیں گے۔

    یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ تہران نے واضح کیا تھا کہ اس حوالے سے اس کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔

  • امریکا، ایران امن معاہدے کا مجوزہ مسودہ منظر عام پر آگیا

    امریکا، ایران امن معاہدے کا مجوزہ مسودہ منظر عام پر آگیا

    عرب میڈیا العربیہ نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے مجوزہ معاہدے کے حتمی مسودے کی تفصیلات جاری کر دیں۔

    العریبیہ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں جنگ بندی میں مزید 60 دن کی توسیع اور اہم آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز شامل ہے مسودے کے مطابق امریکا ایران پر عائد پابندیاں اور ناکہ بندی ختم کرے گا، جبکہ دونوں ممالک جنگ بندی کی 60 روزہ توسیع کے دوران ایران کے افزودہ یورینیئم سے متعلق مذاکرات کریں گے۔

    مسودے میں تمام فریقوں کو فوری طور پر جارحانہ فوجی کارروائیاں روکنے کا پابند بنانے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ معاہدے پر عمل درآمد کے دوران کسی بھی قسم کے فوجی حملے سے گریز کیا جائے گا،جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں تنازع کو ثالثی اور رابطہ کاری کے ایک متفقہ نظام کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

    رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان امن تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کی کوششیں جاری ہیں-

    دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک خصوصی مونتاج ویڈیو نشر کی ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق بار بار کیے گئے دعوؤں کو یکجا کیا گیا۔

    سی این این کے معروف میزبان اینڈرسن کوپر نے پروگرام کے دوران کہا کہ ٹرمپ ایک بار پھر ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب انہوں نے ایسی بات کی ہو،ٹرمپ اب تک کم از کم 39 مرتبہ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ ایک اہم معاہدہ یا مفاہمت ہونے والی ہے یا اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

    سی این این کی جانب سے نشر کیے گئے ویڈیو مونتاج میں مختلف اوقات میں ٹرمپ کے وہ بیانات شامل کیے گئے جن میں انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات، امن معاہدے اور سفارتی پیش رفت کے بارے میں امید ظاہر کی تھی، حالیہ دنوں میں بھی ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک مضبوط اور موثر معاہدہ آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور جلد پیشرفت متوقع ہے۔

    تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی ایسے متعدد دعوے کیے گئے تھے لیکن ان میں سے کئی عملی نتائج تک نہیں پہنچ سکے دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں اور مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

    سی این این کی رپورٹ اور اینڈرسن کوپر کے تبصرے نے امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے تازہ دعوے اس بار حقیقت کا روپ دھار سکیں گے یا نہیں۔

  • ایران کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں اور بالآخر اس کے پاس معاہدے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔

    وسکونسن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنگوں اور تنازعات کے حل میں وقت لگتا ہے اور ایسے معاملات فوری طور پر طے نہیں ہوتے انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مستقبل میں ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوگا جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔

    امریکی صدر کے مطابق ایران نے جنگ بندی کے لیے کسی معاہدے پر اتفاق نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران نے ایسا اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ خود کو طاقتور اور غیور سمجھتا ہے ایران کے ساتھ معاملات اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں اور ایران کی موجودہ صورتحال بھی مثبت سمت میں پیش رفت کر رہی ہے۔

    اپنی تقریر میں انہوں نے امریکی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں نئی فیکٹریاں قائم ہو رہی ہیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

  • امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کے اہم نکات منظر عام پر آگئے

    امریکا اور ایران ایک اہم معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کو آزادانہ تیل فروخت کی اجازت دی جا سکتی ہے،تاہم خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا-

    امریکی خبر ایجنسی ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا بتانا ہےکہ دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جائیں گے جس کی مدت 60 روز ہوگی اور اس میں توسیع بھی کی جا سکے گی معاہدے کے تحت ان 60 دنوں کے دوران ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے بحری آمدورفت کے لیے کھلا رکھا جائے گا اور ایران آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹانے پر آمادہ ہوگا تاکہ جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو سکے جبکہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات بھی جاری رکھے جائیں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس کے بدلے امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا اور بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی دی جائے گی تاکہ ایران عالمی منڈی میں آزادانہ تیل فروخت کر سکے اور اس اقدام سے ایرانی معیشت کو فائدہ ہوگا تاہم عالمی تیل مارکیٹ کو بھی نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے امریکی حکام کے مطابق معاہدے کا بنیادی اصول ’کارکردگی کے بدلے ریلیف‘ ہوگا، یعنی ایران جتنی تیزی سے آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہٹائے گا اور بحری تجارت بحال کرے گا، امریکا اسی رفتار سے ایرانی بندرگاہوں پر عائد پابندیاں نرم کرے گا۔

    خبر ایجنسی کا ذرائع کے حوالے سے کہنا ہے کہ ایران فوری طور پر منجمد فنڈز کی بحالی اور مستقل پابندیوں کے خاتمے کا خواہاں تھا تاہم امریکی مؤقف یہ ہے کہ یہ اقدامات صرف عملی رعایتوں کے بعد کیے جائیں گے مجوزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں ایران اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا جبکہ یورینیم افزودگی پروگرام کی معطلی اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر ختم کرنے سے متعلق مذاکرات بھی ہوں گے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق ایران نے ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے امریکا کو زبانی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ یورینیم افزودگی محدود کرنے اور حساس جوہری مواد سے متعلق رعایتوں پر آمادہ ہے امریکی حکام کا بتانا ہے کہ خطے میں تعینات امریکی افواج 60 روزہ مدت کے دوران خطےمیں ہی موجود رہیں گی اور صرف حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں انخلا ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدے میں لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے کا نکتہ بھی شامل ہے پاکستانی فریق اس معاہدے میں مرکزی ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے جس کی قیادت فیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں اور فیلڈ مارشل معاہدے کو حتمی شکل دلوانے کی کوششوں کے سلسلے میں جمعہ اور ہفتے کو تہران میں موجود رہےامریکی حکام کا کہنا ہےکہ وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ باقی معاملات آئندہ چند گھنٹوں میں حل ہو جائیں گے اور معاہدے کا اعلان آج اتوار کے دن کیا جا سکتا ہے۔