Baaghi TV

Tag: مغربی ممالک

  • ایران کا جوہری معاہدہ ختم، پابندیوں پر مزید عمل درآمد سے انکار

    ایران کا جوہری معاہدہ ختم، پابندیوں پر مزید عمل درآمد سے انکار

    ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب اپنے جوہری پروگرام پر عائد کسی بھی پابندی کا پابند نہیں رہا کیونکہ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پایا 10 سالہ تاریخی جوہری معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق 2015 میں ویانا میں طے پانے والے اس معاہدے پر ایران، چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھا لی گئی تھیں۔تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا کے یکطرفہ علیحدگی اختیار کرنے کے بعد یہ معاہدہ کمزور ہو گیا، جس کے بعد ایران نے بھی اپنے وعدوں سے بتدریج انحراف کیا۔

    گزشتہ ماہ معاہدے کے تین یورپی دستخط کنندگان کی درخواست پر اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی بحالی نے اس معاہدے کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا۔ایرانی وزارتِ خارجہ نے معاہدے کی مدت ختم ہونے کے دن جاری بیان میں کہا کہ آج سے معاہدے کی تمام شقیں، بشمول ایرانی جوہری پروگرام پر پابندیاں، ختم تصور کی جائیں گی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران اب بھی سفارتکاری سے وابستہ ہے اور پرامن مقاصد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

    واضح رہے کہ مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران پر خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے رہے ہیں، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی کی پیداوار اور شہری مقاصد کے لیے ہے۔معاہدے کے خاتمے کی تاریخ 18 اکتوبر 2025 مقرر تھی، جب اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت باضابطہ طور پر نافذ ہوئے 10 سال مکمل ہوئے

    پاکستان نے شاندار سفارت کاری سے ٹرمپ کو اپنا ہمنوا بنا لیا،امریکی میڈیا

    ون ڈے کپتانی کا نیا معرکہ، مضبوط امیدوار نے ضمانت مانگ لی

    والدین کو بچوں کے اے آئی چیٹ بوٹس تک رسائی حاصل ہوگی،میٹا کا اعلان

    پیراماؤنٹ نے ایم ٹی وی کے پانچ مشہور میوزک چینلز بند کرنے کا اعلان کر دیا

  • مغربی ممالک میں آزادی اظہار رائے لیکن کن شرائط  پر، جانیے

    مغربی ممالک میں آزادی اظہار رائے لیکن کن شرائط پر، جانیے

    مغربی ممالک عام طور پر آزادیٔ اظہار اور تقریر کی حمایت کرتے ہیں، لیکن وہ بھی کچھ حدود عائد کرتے ہیں، جیسا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت کیا گیا ہے۔ یہاں کچھ مغربی ممالک کی مثالیں دی گئی ہیں جہاں آزادیٔ اظہار کو تحفظ دیا گیا ہے لیکن مخصوص پابندیاں بھی موجود ہیں:

    1. ریاستہائے متحدہ امریکہ :
    * پہلا ترمیمی حق آزادیٔ اظہار کی ضمانت دیتا ہے، لیکن بدنامی، فحاشی، تشدد پر اکسانا، اور قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے بیانات (مثلاً جنگ کے دوران) پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    2. برطانیہ:
    * اگرچہ کوئی واحد تحریری آئین موجود نہیں ہے، لیکن انسانی حقوق کا ایکٹ 1998 یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق (ECHR) کو قانون میں شامل کرتا ہے۔ ECHR کا آرٹیکل 10 آزادیٔ اظہار کی حفاظت کرتا ہے، لیکن قومی سلامتی، عوامی تحفظ، یا جرائم کی روک تھام کے لیے پابندیوں کی اجازت دیتا ہے۔

    3. جرمنی:
    * جرمن بنیادی قانون کا آرٹیکل 5 آزادیٔ اظہار کی ضمانت دیتا ہے، لیکن نفرت انگیز تقاریر، ہولوکاسٹ کے انکار، نفرت پر اکسانے، اور انسانی وقار کی خلاف ورزی پر پابندیاں عائد کرتا ہے۔

    4. فرانس:
    * فرانسیسی آئین اور یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق آزادیٔ اظہار کی حفاظت کرتے ہیں۔ تاہم، نفرت انگیز تقاریر، بدنامی، اور عوامی نظام یا قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے مواد پر پابندیاں ہیں۔

    5. کینیڈا:
    * چارٹر آف رائٹس اینڈ فریڈمز آزادیٔ اظہار کی حفاظت کرتا ہے، لیکن سیکشن 1 کے تحت معقول حدود کی اجازت دیتا ہے، اگر وہ آزاد اور جمہوری معاشرے میں جائز ہوں (مثلاً نفرت انگیز تقریر، بدنامی، اور فحاشی کے قوانین)۔

    6. آسٹریلیا:
    * آسٹریلیا میں آزادیٔ اظہار کے لیے کوئی واضح آئینی تحفظ نہیں ہے، لیکن عدالتوں نے سیاسی اظہار کی ضمنی آزادی کو تسلیم کیا ہے۔ تاہم، بدنامی، نفرت انگیز تقاریر، اور تشدد پر اکسانے پر پابندیاں ہیں۔

    7. یورپی یونین کے ممالک:
    * زیادہ تر یورپی یونین کے ممالک یورپی کنونشن برائے انسانی حقوق (ECHR) کی پیروی کرتے ہیں، جو آرٹیکل 10 کے تحت آزادیٔ اظہار کی ضمانت دیتا ہے۔ تاہم، قومی سلامتی، عوامی تحفظ، اور دیگر افراد کے حقوق و عزت کے تحفظ کے لیے پابندیاں بھی لاگو کی جا سکتی ہیں۔ان تمام مثالوں میں، آزادیٔ اظہار مطلق نہیں ہے بلکہ اکثر قومی سلامتی، عوامی نظم، اخلاقیات، یا دیگر افراد کے حقوق کے تحفظ جیسے عوامل کے ساتھ متوازن ہوتی ہے۔ یہ فریم ورک کسی حد تک پاکستان کے آرٹیکل 19 سے مشابہ ہے، حالانکہ پابندیوں کا دائرہ کار اور ان کا نفاذ کافی مختلف ہو سکتا ہے۔

    مشہور کمپنی کے نام سے جعلی آئل بنانے والے2 ملزمان گرفتار

    کراچی سیف سٹی پروجیکٹ، جدید کیمروں سے لیس گاڑیاں سڑکوں پرآگئیں

    کراچٰی میں پولیس مقابلے، مفرور ڈاکو مارا گیا، 3 گرفتار

  • انتخابات میں تاخیر کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے،مغربی ممالک کا انتباہ

    انتخابات میں تاخیر کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے،مغربی ممالک کا انتباہ

    مغربی ممالک نے پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ انتخابات میں تاخیر کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے جس میں ممکنہ طور پر تعلقات میں کمی بھی شامل ہے،مغربی ممالک چاہتے ہیں نہ صرف انتخابات وقت پر ہوں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کا میدان فراہم کیا جائے-

    باغی ٹی وی : سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین پاکستان میں انتخابات کے حوالے سے پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں یہ ممالک ہمیشہ جمہوریت کی وکالت کرتے رہے ہیں اور سمجھتے ہیں انتخابات کا انعقاد کسی بھی ترقی پسند جمہوری معاشرے کا نچوڑ ہےمغربی دارالحکومتوں میں خدشات ہیں کہ پاکستان میں انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے اور موجودہ نگراں سیٹ اپ مقررہ مدت سے آگے جا سکتا ہے۔

    اسامہ بن لادن کوقتل کرنے والا امریکی فوجی گرفتار

    آئین کے مطابق اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد انتخابات 90 دن کے اندر کرانا ہوں گے تاہم پی ڈی ایم حکومت کے دور میں مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) نے مردم شماری کے نئے نتائج کی منظوری دی تھی،سفارتی ذرائع نے بتایا حلقہ بندیوں اور بعض تکنیکی معاملات کی وجہ سے چند ماہ کی تاخیر برداشت کی جا سکتی ہے تاہم، اگر انتخابات اگلے سال فروری سے آگے تاخیر کا شکار ہوئے تو ملک کیلیے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں اس سے آئی ایم ایف سمیت امریکی زیر قیادت مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کی شمولیت پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے-

    خواتین مردوں سے زیادہ دھوکے باز ہوتی ہیں، نئی تحقیق

    ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ سچ کہوں تو اگر انتخابات فروری سے آگے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، تو ہمارے لیے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کی یہی سطح برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا ایک اور سفارتی ذرائع نے میڈیا پر پابندی اور بعض سیاسی جماعتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جس پر ہماری گہری نظر ہے۔

    کینیڈا میں ملازمت ایک شکنجہ ہے. افریقی مہاجر

  • جھوٹےدعووں کےذریعہ ہی یوکرین مغربی ملکوں سےہتھیاراورمالی امداد حاصل کرسکتا ہے،ایران

    جھوٹےدعووں کےذریعہ ہی یوکرین مغربی ملکوں سےہتھیاراورمالی امداد حاصل کرسکتا ہے،ایران

    تہران: ایران کا کہنا ہے کہ یوکرینی صدر زیلنسکی روس کو ڈرون سپلائی روکنے کا مطالبہ کرکےایران مخالف بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہے ہیں-

    باٍغی ٹی وی: صدر زیلنسکی نے بدھ کے روز ایک ویڈیو خطاب میں مطالبہ کیا تھا کہ ایران ماسکو کو ڈرون فراہم کرکے تاریخ کے تاریک پہلو کی طرف جارہا ہے اور ایران کو ایسا کرنے سے روکا جائے۔

    پی ٹی آئی چھوڑنے والے رہنماؤں کی جہانگیر ترین سےملاقاتیں

    ایران نے ابتدائی طور پر روس کو ڈرون ’’شاہد‘‘ کی فراہمی سے انکار کیا تھا لیکن بعد میں کہا کہ اس نے تنازع شروع ہونے سے قبل ان ڈرونز کی بہت کم تعداد روس کو فراہم کی تھی۔ دوسری طرف کیف کا کہنا ہے کہ یوکرین کے شہروں اور انفراسٹرکچر پر روسی حملوں میں ڈرونز نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا ہے کہ یوکرینی صدر کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فریب پر مبنی دعوے اور ایران مخالف پروپیگنڈے پر مبنی بیانات میڈیا جنگ کا ایک حصہ ہیں ان جھوٹے دعووں کے ذریعہ ہی یوکرین مغربی ملکوں سے زیادہ سے زیادہ ہتھیار اور مالی امداد حاصل کرسکتا ہے یوکرین اپنے ان دعوؤں کی آزادانہ تحقیقات کی اجازت دینے سے انکار کرتا رہا ہے۔

    عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے کمیٹی کا اعلان کردیا

    واضح رہے روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر اپنے مکمل حملے کے آغاز کے بعد سے ایران کے ساتھ اپنے فوجی تعاون کو بڑھایا ہے۔ روس نے ایرانی ساختہ ڈرون استعمال کرنے کا اعتراف بھی کیا ہے تاہم اب روس ڈرون کی اپنی پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • مغربی ممالک کی نااہلی کی قیمت دنیاچُکا رہی ہے،معاشی بحران کےذمہ داربھی یہی ہیں:ولادی میرپوتن

    مغربی ممالک کی نااہلی کی قیمت دنیاچُکا رہی ہے،معاشی بحران کےذمہ داربھی یہی ہیں:ولادی میرپوتن

    ماسکو:کیا دنیا کو یہ احساس نہیں ہورہا کہ مغرب نے ساری دنیا میں معاشی تباہی پھیلائی ہے اور یہ سلسلہ اب رُکنے کا نام ہی نہیں‌ لے رہا ، ان خیالات کا اظہارکرتےہوئےسینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF) سے قبل ایک خطاب کے دوران روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا کہ مغربی ممالک نے عالمی معیشت کو غلط طریقے سے سنبھالا ہے، اور پوری دنیا اب ان کی نااہلی کی قیمت چکا رہی ہے۔

     

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    ولادی میر پوتین نے یہ حقیقت اس وقت بیان کی جب سالانہ بین الاقوامی ایونٹ اس سال 25 ویں مرتبہ منعقد ہو رہا ہے۔ شرکاء سے استقبالیہ خطاب میںجو فورم کے آغاز سے ایک ہفتہ قبل شائع ہوا،ولادی میر پوتن کہتے ہیں کہ ساری دنیا اس کی قیمت چُکا رہی ہے

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ "مغربی ممالک کی طرف سے اپنی اقتصادی پالیسی میں کئی سالوں کی غلطیوں اور ناجائز پابندیوں کی وجہ سے مہنگائی کی عالمی لہرپیدا ہوئی ہے ،ان کا کہنا تھا کہ لاجسٹک اور مینوفیکچرنگ چین میں بدنظمی ، غربت میں اضافہ اور خوراک کے خسارے میں اضافہ ہوا ہے۔”

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے پاکستان کے کپتان عمران خان کے موقف کی تائید کردی

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے پیشین گوئی کی کہ موجودہ دہائی ایک ایسا وقت بن جائے گی جب روس اپنے بنیادی ڈھانچے اور مینوفیکچرنگ بیس کی تعمیر، اپنے کارکنوں کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کرکے اور ایک آزاد مالیاتی نظام تشکیل دے کر "اپنی اقتصادی خودمختاری کا دعویٰ کرے گا”۔ ملک کی معیشت وسیع دنیا کے لیے کھلی رہے گی،

    یاد رہے کہ یہ فورم اگلے ہفتے بدھ سے ہفتہ تک ہو گا۔ منتظمین کے مطابق، 1،000 سے زیادہ سی ای اوز سمیت 2,700 سے زیادہ کاروباری رہنماؤں نے اس فورم میں‌ یکم جون تک اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔اس اجتماع کا مقصد روس کی مغربی دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور اسے سفارتی اور اقتصادی طور پر باقی دنیا سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرنا ہے

    امریکہ کا ایران کے خلاف طاقت کا استعمال تباہ کن ہو گا، روسی صدر ولادی میر پوتین

    یاد رہے کہ فروری کے آخر میں ماسکو کی جانب سے یوکرین کے خلاف فوجی حملے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے روس پر اقتصادی پابندیوں کا ایک بے مثال سلسلہ عائد کر دیا تھا۔ چین اور بھارت جیسے اقتصادی طاقتوں سمیت کئی غیر مغربی ممالک نے دباؤ کی مہم میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

  • روس کا یوکرینی افواج کو مغربی ممالک کے مہیاکردہ اسلحہ کے ڈپو پرمیزائل حملہ

    روس کا یوکرینی افواج کو مغربی ممالک کے مہیاکردہ اسلحہ کے ڈپو پرمیزائل حملہ

    روس نے اوڈیسا کے نزدیک یوکرینی افواج کو مغربی ممالک کے مہیاکردہ اسلحہ کے ڈپو پرمیزائل حملہ کر دیا-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے اوڈیسا کے نزدیک یوکرینی افواج کو امریکا اور یورپی ممالک کی جانب سے مہیا کردہ ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ایک ڈپو پرفوج کے میزائل حملے کی اطلاع دی ہے۔

    برطانیہ کا یوکرین کو بحری جہاز شکن میزائل فراہم کرنے پرغور

    وزارت دفاع نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ روسی مسلح افواج نے آج اوڈیسا کے قریب فوجی ہوائی اڈے پر ایک لاجسٹک ٹرمینل پرہدف کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے اورطویل فاصلے تک مارکرنے والے میزائل داغے ہیں اس جگہ امریکا اور یورپی ممالک کی جانب سے مہیّا کردہ غیرملکی ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کیا گیا تھا۔

    وزارت نے مزید بتایا کہ روسی فوج نے میزائلوں کے ذریعے یوکرین میں مجموعی طور پر22 فوجی مقامات کو نشانہ بنایاہے ان میں الیچیوفکا اور کرماٹورسک کے قریب اسلحہ اور گولہ بارود کے تین ڈپو بھی شامل تھے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہفتے کے روز روسی جنگی طیاروں نے 79 فوجی مقامات پربمباری کی ہے ان میں ہتھیاروں اورایندھن کے 16ڈپوؤں کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔

    یوکرینی فضائیہ کا کارگو طیارہ گر کر تباہ،پائلٹ ہلاک دو افراد زخمی

    واضح رہے کہ دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے یوکرین کے لیے فوجی امداد کے نئے پیکج میں 155 ملی میٹرکی ہواِٹزر 72 ہاؤٹزر توپیں شامل ہیں جب کہ توپ کے 144,000 گولے،155 ملی میٹرہواِٹزرتوپوں کو کھینچنے کے لیے72 ٹیکٹیکل گاڑیاں یوکرین کو بھیجے جائیں گی اس کے علاوہ 121 "گھوسٹ” ٹیکٹیکل ڈرون بغیرانسان فضائی نظام اور فیلڈ آلات اور فاضل پرزہ جات تک بھی کیف کو دیئے جا رہے ہیں یوکرین نے نئی ہاؤٹزر بندوقیں 5 آرٹلری بٹالین (72 بندوقیں اور 144,000 راؤنڈز)بھی حاصل کیے ہیں امریکی صدر کی جانب سے اعلان کردہ امداد 24 گھنٹوں میں میدان جنگ تک پہنچنا شروع ہو جائے گی امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ یوکرین کے لیے امریکی امداد میں 150 ہووٹزر، بکتر بند گاڑیاں اور ریڈار شامل ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ”سپرٹ آف دی فینکس” ڈرون یوکرینیوں کی درخواست پر امریکی افواج نے تیار کیے ہیں یہ ڈرون صرف چند ہفتوں میں تیار کیے گئے تھے یہ خودکش ڈرون ہیں جو اپنے اہداف پر پھٹتے ہیں۔یہ سوئچ بلیڈ ڈرون کی طرح ایک ہتھیار ہے-

    امریکی حکام نے تصدیق کی تھی کہ یہ ہتھیار یوکرینیوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں اور وہ انہیں ٹھکانے لگا رہے ہیں۔

    قبل ازیں جمعرات کوامریکی صدرجو بائیڈن نے یوکرین کے لیے 80 کروڑ ڈالر کی نئی فوجی امداد دینے کااعلان کیا تھا جبکہ روس کے اپنے پڑوسی ملک پر حملے کے خاتمے کے فوری طور پرکوئی آثار نظرنہیں آتے ہیں۔

    فرانس کے صدارتی انتخاب کے دوسرےمرحلے کی ووٹنگ آج ہوگی،میکرون اور اپوزیشن امیدوار کے درمیان سخت…

  • یوکرین تنازع: امریکا،برطانیہ کے بعد جرمنی ،آسٹریلیا اور جاپان کا روس پر پابندیوں کا اعلان

    یوکرین تنازع: امریکا،برطانیہ کے بعد جرمنی ،آسٹریلیا اور جاپان کا روس پر پابندیوں کا اعلان

    لندن: صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے یوکرین کے دو صوبوں کو خود مختار ریاستیں تسلیم کرنے اور وہاں اپنی فوج بھیجنے کے اعلان کے بعدامریکا، برطانیہ آسٹریلیا اور جاپان نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کا آغاز کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق وزیراعظم بورس جانسن نے تین ارب پتی روسی تاجروں گنیڈی تمشینکو، بورس روٹنبرگ اور ایگو روٹنبرگ کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے وزیر اعظم بورس جانسن نے ان تینوں تاجروں کے برطانیہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی جب کہ برطانوی شہریوں اور کمپنیوں کو ان کے ساتھ لین دین سے روک دیا ہے علاوہ ازیں برطانوی وزیراعظم نے 5 بینکوں پر پابندی عائد کی ہے جس کے بعد برطانوی شہری اور کمپنیاں ان بینکوں کے ساتھ لین دین نہیں کرسکیں گے۔

    برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ پابندیوں کا آغاز ہے اور مزید پابندیاں بھی عائد کی جا سکتی ہیں تاہم تنازع کے سفارتی حل کے لیے کاوشیں آخری وقت تک جاری رہیں۔

    یوکرینی وزیردفاع کا فوجیوں کو روس سے جنگ کیلئے تیار رہنےکا حکم

    دوسری جانب جرمنی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ ساڑھے 11 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے نارڈ اسٹریم 2 گیس پائپ لائن منصوبے کو معطل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ پائپ لائن ایک ہزار 230 کلومیٹر پر محیط ہے اور ایک دن میں 15 کروڑ کیوبک میٹر گیس کی ترسیل کرسکتی ہے۔

    روس پر پابندیوں کا اعلان برطانیہ کی جانب سے روسی بینکوں اور اعلیٰ مالیت کے حامل افراد پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد امریکا کی جانب سے بھی یہ اقدام سامنے آیا –

    الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کے خلاف پابندیوں کا آغاز کردیا جس میں ملک کو فنانسنگ سے محروم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں جو بائیڈن نے کہا کہ ہم روس کے قرضوں پر پابندیاں عائد کر رہے ہیں روس کی حکومت اب مغربی فنانسنگ سے منقطع ہوچکی ہے ان اقدامات سے مالیاتی اداروں اور روسی ’اشرافیہ‘ کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔

    تاہم جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ہم یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ ہماری طرف سے مکمل طور پر دفاعی اقدام ہیں، ہمارا روس سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ہم ایک غیر متزلزل پیغام دینا چاہتے ہیں کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نیٹو کی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گا اور ان وعدوں کی پاسداری کرے گا جو ہم نے نیٹو کے ساتھ کیے ہیں۔

    علاوہ ازیں جاپان نے بھی روس پر پابندیوں کا اعلان کر دیا غیرملکی میڈیا کے مطابق جاپان کے وزیراعظم فومیوکی شی دہ نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جاپان میں روسی بانڈز کے اجرا پرپابندی لگائی جارہی ہے اورکچھ روسی شہریوں کے اثاثے منجمد کئے جارہے ہیں۔

    جاپانی وزیراعظم کا مزید کہنا تھاکہ روس نے یوکرین کی سالمیت کونقصان پہنچا کرعالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔جاپان ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے روس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سفارتی بات چیت کی طرف واپس آئے۔

    دوسری جانب آسٹریلیا نے بھی روس پرپابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ آسٹریلیا کی سیکورٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس کےبعد آسٹریلوی وزیراعظم اسکاٹ موریسن نے کہا کہ دیگرممالک کے ساتھ روس کے متنازع اقدامات کیخلاف کھڑے ہیں۔روسی فوجیوں کی مشرقی یوکرین میں نقل وحرکت حملہ ہے۔

    روس جنگ کےلیے تیار:ولادی میرپوتن نے ملک سے باہر فوج استعمال کرنے کیلیے قانونی رائے مانگ لی

    آسڑیلیوی وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ان تمام افراد پرپابندی لگائی گئی جن پرامریکا نے پابندی عائد کی ہے۔

    دوسری جانب روس نے مغرب کی طرف سے انتقامی اقدامات کو غیر موثر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس اس سے قبل بھی پابندیوں کا عادی رہ چکا ہے۔

    قبل ازیں یوکرین کے صدر نے قوم سے خطاب میں مغربی ممالک سے روس کے خلاف مدد طلب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب پتہ چل جائے گا کون کون ہمارا دوست ہے۔

    واضح رہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے روس پر پابندیوں کا اعلان صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے مشرقی یوکرین کے دو صوبوں کو خودمختار ریاست تسلیم کرنے اور اپنی فوج کو ان علاقوں میں بھیجنے کے بعد کیا گیا ہے۔

    یوکرائن بحران شدید سےشدید تر:روس کا گھیراؤ جاری:برطانیہ نے5 روسی بینکوں…