Baaghi TV

Tag: مقبوضہ کشمیر

  • بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے ثبوت مٹانا شروع کر دیئے

    بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے ثبوت مٹانا شروع کر دیئے

    بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کیے گئۓ جنگی جرائم اور نسل کشی کے ثبوت مٹانا شروع کر دیئے ہیں

    فرانسیسی رسالے لی ایکسپریس میں شائع ھونے والی رپورٹ کیمطابق مقبوضہ کشمیر میں کچھ عرصے سے مقامی میڈیا کے سینکڑوں آن لائن آرکائیوز پُراسرار طور پر غائب ہو نا شُروع ھو گئے ہیں اور اِس کے ساتھ کئی دہائیوں کے تشدد اور جنگی جرائم کا ریکارڈ بھی۔ گریٹر کشمیر اخبار میں 2010 میں 16 سالہ اشتیاق احمد کے قتل کے بارے میں ایک مضمون کے لنک پر کلک کرنے سے یہ صفحہ "error 404″دکھاتا ھے۔ یہی سلوک کشمیر ریڈر کے ریکارڈ کے ساتھ ھُوا۔ سجاد احمد ڈار جو 2012 میں پولیس کی تحویل میں لینے کے بعد ہسپتال میں دم توڑ گۓ: کو سرچ کرنے پر یہ جواب آتا ھے "معذرت، آپ جس صفحہ کی تلاش کر رہے ہیں وہ اَب نہیں ہے”۔

    سری نگر میں ایک اخبار کے چیف ایڈیٹر نے کہا کہ اس نے پہلے سوچا کہ یہ تکنیکی مسئلہ ہے۔▪️لیکن اپنے آن لائن آرکائیوز پر گہری نظر ڈالنے کے بعد انکشاف ھوا کہ جو معلومات غائب تھیں وہ زیادہ تر پچھلے کئ سالوں کی کشمیریوں کی بھارتی افواج کے ھاتھوں تشدد اور قتل و غارت گری کا احاطہ کرتی ہے جسکا مطلب ھے کہ کشمیر میں 2019 سے پہلے کچھ نہیں ہوا۔

    کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈہ، آخری حد تک جائیں گے، آرمی چیف کا دبنگ اعلان

    یوم دفاع و شہداء، چلو شہداء کے گھر،باغی ٹی وی کی خصوصی کوریج

    ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں،ترجمان پاک فوج کا راشد منہاس شہید کی برسی پر پیغام

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے ، دعا ہے علی سد پارہ خیریت سے ہو،ترجمان پاک فوج

    طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے،آپریشن ردالفسار کے چار برس مکمل، ترجمان پاک فوج کی اہم بریفنگ

    انسداد دہشت گردی جنگ تقریبا ختم ہو چکی،نیشنل امیچورشارٹ فلم فیسٹیول سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا خطاب

    افغان امن عمل، افغان فوج نے کہیں مزاحمت کی یا کرینگے یہ دیکھنا ہوگا، ترجمان پاک فوج

    وطن کی مٹی گواہ رہنا، کے نام سے یوم دفاع وشہداء منانے کا اعلان

    ▪ زیادہ تر غائب کی گئ معلومات کا تعلق 2008، 2010 اور 2016 میں ہندوستانی گورنمنٹ کے خلاف بڑے مظاہروں سے ہے، جن میں 300 سے زاہد کشمیریوں کو بھارتی فورسز نے شھید کیا اور ہزاروں کو زخمی جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

    ▪ صحافیوں نے دعویٰ کیا ھے کہ بھارت نے وہ تمام مضامین اور رپورٹس جنمیں ہندوستانی سیکورٹی فورسز کی قتل، عصمت دری، تشدد اور دیگر جرائم شامل ھیں کو انسانی حقوق کی تنظیموں سے چُھپانے کیلے آرکائیوز سے ختم کرنے کا کام شُروع کر رکھا ھے ۔▪️ ” سجاد حیدر ، چیف ایڈیٹر روزنامہ کشمیر آبزرور نے کہا کہ ہماری رسائی کو کم کرنے اور ہمارے قارئین کو محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،” اور "یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔”

    ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں کبھی 250 سے زیادہ اخبارات کے ساتھ ایک متحرک پریس تھا، لیکن آج انکی تعداد گنتی کی رہ چکی ھے۔میڈیا کی خودمختاری اور آزادی سلب کرنے کے بعد ایڈیٹرز کا کہنا ہے کہ ان پر بھارتی حکام کی جانب سے تنقید روکنے کے لیے منظم دباؤ ڈالا گیا ہے۔صحافیوں کو انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا یا پولیس کی طرف سے بار بار طلب کیا گیا ہے تاکہ ان کی رپورٹنگ کے بارے میں پوچھ گچھ کی جائے۔دسمبر میں، حکام نے کشمیر انڈیپنڈنٹ پریس کلب کو بند کر دیا، جس نے پولیس کو ہراساں کرنے پر تنقید کی تھی۔ امریکی صحافی مائیکل کوگل مین نے کہا کہ آرکائیوز کا غائب ہونا نئی دہلی کی کشمیر پر بیانیہ کو کنٹرول کرنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ لگتا ہے۔

    قبل ازیں بھارتی حکومت کے مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم پر لندن اسٹوک وائٹ لا فرم کی رپورٹ سامنے آ گئی ہے لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے 2 ہزار شہادتوں کو مدنظر رکھ کر رپورٹ تیار کی لندن اسٹوک وائٹ لا فرم نے 41 صفات پر مبنی رپورٹ ایک سال کی تحقیقات پر بنائی ،اسٹوک وائٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے اپنی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے لیے استثنیٰ کی راہ ہموار کی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکام واضح طور پر مسلح افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے ،مقبوضہ کشمیر میں تشدد کے 450 کیسز رپورٹ ہوئے ،پیلٹ گن سے متاثرہ 1500 اور جبری گمشدگیوں کے100 کیسز ریکارڈ کئے گئے، مقبوضہ کشمیر میں جنسی ہراسگی کے 30 کیسز سامنے آئے ہیں استثنیٰ کلچر سے جنگی جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف تک رسائی کا فقدان ہے، شہدا کے خاندان کو تدفین کے لیے رسائی نہیں دی جاتی،کیسز میں ماورائے عدالت قتل، تشدد، رات گئے بھارتی پولیس کے چھاپے بھی شامل ہیں بھارتی حکام نے اپنی فوج اور سیکیورٹی اداروں کے لیے استثنیٰ کی راہ ہموار کی ہے، مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی حکام واضح طور پر مسلح افراد کی حوصلہ افزائی کرتی ہے،

    کشمیر یوتھ الائنس کا مقبول بٹ شہید کو خراج عقیدت،

    مسئلہ کشمیر،توقع ہے بات چیت سے حل کرلیں گے ،وزیراعظم

    کشمیر بنے گا پاکستان لیکن شمشیر کے ساتھ، حافظ سعد رضوی

    پاکستان کا ہر جوان تحریک کشمیر کا ترجمان ہے،ورلڈ کالمسٹ کلب کے زیر اہتمام یکجہتی کشمیر سیمینار سے میاں اسلم اقبال کا خطاب

    مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

    یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

    کشمیر متنازعہ علاقہ، بھارت فوج بھیج سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟ سراج الحق

    تمام پارلیمانی فورموں پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا،سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یوم یکجہتی کشمیر پر وزیر داخلہ کا پیغام

    سینیٹ اجلاس،ہندو خاتون رکن نے کی صدارت ،کشمیریوں سے یکجہتی کی قرارداد منظور

    بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات،بھارت کی معاونت تھی،ترجمان دفتر خارجہ

    جی سی ویمن یونیورسٹی میں یوم یکجہتی کشمیرکی تقریب

    یوم یکجہتی کشمیر، آرمی چیف کا کشمیریوں کے لئے پیغام

    یوم یکجہتی کشمیر پر مولانا فضل الرحمان سی پیک کا افتتاح کرنے نکل پڑے

    شہدا کو سلام،آزادی زیادہ دور نہیں،آصف زرداری، بلاول ،شہباز شریف

    یوم یکجہتی کشمیر،الحمرا میں نمائش،ڈی سی آفس نے بھی نکالی ریلی

    مقبوضہ کشمیر میں مظالم،برطانیہ میں بھارتی آرمی چیف، وزیر داخلہ کو گرفتار کرنے کی درخواست

  • مقبوضہ کشمیر:600 بچوں کی پراسرار گمشدگی :بھارتی فوج ذمہ دارنکلی

    مقبوضہ کشمیر:600 بچوں کی پراسرار گمشدگی :بھارتی فوج ذمہ دارنکلی

    سرینگر:مقبوضہ کشمیر:600 بچوں کی پراسرار گمشدگی :بھارتی فوج ذمہ دارنکلی ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں 2020 تک 627 بچے لاپتہ ہو چکے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے لاپتہ بچوں میں 350 لڑکے اور 277 لڑکیاں شامل ہیں۔ صرف 2020 میں علاقے میں 230 بچے لاپتہ ہوئے جن میں 167 لڑکیاں اور 63 لڑکے شامل ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں لاپتہ بچوں کی بازیابی کی شرح محض 29.2 فیصد ہے۔ گمشدگی یا لاپتہ عموماً بھارتی فوجیوں، پولیس اور ایجنسیوں کے ہاتھوں ہوتی ہے۔ انسانی سمگلنگ میں غیر کشمیری افراد بشمول بھارتی پولیس اور فوجی اہلکار بھی ملوث ہیں۔

    گمشدہ افراد کے والدین پر مشتمل تنظیم ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس ایپئرڈ پرسنز(اے پی ڈی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق نوجوان لڑکوں سمیت کم از کم 8000 کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے گرفتارکرکے لاپتہ کر دیا۔شاید ہی کوئی دن ایساگزرا ہو جب مہران کے گھر والوں کو اپنے ساڑھے تین سالہ بچے کی یاد نہ آئی ہو جو 13 سال قبل گھرکے باہر سے لاپتہ ہو گیا تھا۔ یہ اب بھی ایک معمہ ہے کہ مہران گنجان آباد علاقے سے کیسے غائب ہو گیا۔

    مہران کے چچا شبیر احمد کلہ نے بتایا کہ ہم اندر سے ٹوٹے ہوئے ہیں لیکن ہم نے امید نہیں چھوڑی، ہمارا پختہ یقین ہے کسی دن وہ لوٹ آئے گا۔ مہران کورٹ روڈ سرینگر کے کینی مشن سکول میں داخلے کے چند ماہ بعد 13 مئی 2008 کو لاپتہ ہو گیاتھا۔ اہل خانہ نے اسی روز تھانہ کرال کھڈ میں گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔سی بی آئی کی تحقیقات کے باوجود آج تک مہران لا پتہ ہے۔

    شبیر احمد کلہ نے کہاکہ ہم نے گزشتہ کچھ سالوںسے کیس کی پیروی نہیں کی۔ ہم انفرادی طور پر کشمیر اور یہاں تک کہ نئی دہلی کے کئی مقامات پر گئے لیکن مہران کا پتہ نہیں چل سکا۔ اب ہم نے اسے اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ وہ مہران کو اپنے والدین کے ساتھ دوبارہ ملائے گا۔مہران مقبوضہ جموں وکشمیر میں لاپتہ ہونے والے بچوں کا واحد واقعہ نہیں ہے۔ضلع کپواڑہ کے علاقے آﺅورہ میں 15 فروری کو آٹھ سالہ طالب حسین کے لاپتہ ہونے سے ایک اور خاندان پر غموں پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ تب سے یہ خاندان طالب کا سراغ لگانے کے لیے دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔مقبوضہ علاقے میں لاپتہ ہونے والے زیادہ تر کیسز حل نہیں ہوئے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے کشمیری نوجوان کو شہید کردیا

    مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے کشمیری نوجوان کو شہید کردیا

    سری نگر: مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسزنے فائرنگ کر کے نوجوان کو شہید کر دیا-

    باغی ٹی وی : کشمیری میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیرکے علاقے شوپیاں میں بھارتی فورسز نے فائرنگ کرکے نوجوان کوشہید کردیا بھارتی فوج نے نام نہاد آپریشن کی آڑ میں شوپیاں اورقریبی علاقوں کا محاصرہ کیا اورگھروں میں گھس کرخواتین اوربچوں کوہراساں کیا۔

    یوم یکجہتی کشمیر پر مشعال ملک سب کی شکر گزار

    اس دوران بھارتی فورسزنے جعلی مقابلے میں نہتے نوجوان کوگولیاں برسا کرشہید کردیا قابض بھارتی فوج نے متعدد نوجوانوں کوگرفتاربھی کرلیا۔ شوپیاں کا محاصرہ جاری ہے اورلوگوں کوگھروں سے نہ نکلنے کا حکم دیا گیا ہے علاقے میں موبائل اورانٹرنیٹ سروس بھی بند کردی گئی۔

    صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے 24 فروری کو اسلام آباد میں کشمیر کے حوالے سے ریلی کا اعلان کیا ہے صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری نے یکجہتی کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیری عوام بھارت کی نو لاکھ فوج کے ساتھ جنگ لڑ رہی ہے۔

    بھارت نےکشمیری صحافی کودہشت گردی کے الزام میں گرفتارکرلیا

    بیرسٹر سلطان محمود چودھری کا کہنا تھا کہ پانچ اگست 2019 کو ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی۔بھارت مزید اقدامات کررہا ہے تاکہ آبادی کا تناسب کم کیا جائے۔بھارتی حکومت نے لاکھوں غیر کشمیریوں کو ڈومِسائل دیئے گئے ہیں۔بھارت کے ان اقدامات کیخلاف اس دفعہ یوم یکجہتی کشمیر کا بھر پور مظاہرہ کیا گیا۔صدرِ پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف بھی مظفرآباد تشریف لائے۔بھارت نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارت کے اندر دیگر اقلیتوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک روا رکھا ہے۔بیرونی دنیا اب کشمیریوں کے ساتھ ہے ہمیں پوری دنیا میں کشمیر نریٹیو کو پروموٹ کرنا ہے۔اقوام متحدہ نے بھی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے۔

    چوبیس فروری کو کشمیر کے حوالے سے اسلام آباد میں ریلی کا اعلان

    صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری کا کہنا تھا کہ مودی کی پالیسیوں سے اب ہندوستان ایکسپوز ہورہا ہے۔برطانوی پارلیمینٹ نے بھی کشمیر کے حق میں قرار دادیں منظور کی۔بیس کیمپ کو صحیح معنوں میں کشمیر کی آزادی کیلئے متحرک کرنا ہے۔ چوبیس فروری کو کشمیر کے حوالے سے اسلام آباد میں بڑی ریلی کا انعقاد کررہے ہیں۔ایک مضبوط پاکستان کشمیر کی آزادی کا ضامن ہے۔پاکستان اپنے مسائل پر قابو پارہا ہے۔کشمیر میں آئے روز چار سے پانچ نوجوانوں کو شہید کیا جارہا ہے۔سید علی گیلانی اور اشرف سحرائی کے جنازوں میں عوام کو شرکت سے روکا گیا-

    وقت کی پکار کشمیر بزور شمشیر ازقلم:غنی محمود قصوری

  • مقبوضہ کشمیر:مقبول بٹ کےیوم شہادت پرہڑتال کااعلان:    حریت کانفرنس کےخلاف بھارتی سازشوں کی مذمت

    مقبوضہ کشمیر:مقبول بٹ کےیوم شہادت پرہڑتال کااعلان: حریت کانفرنس کےخلاف بھارتی سازشوں کی مذمت

    سرینگر: مقبوضہ جموں وکشمیر:مقبول بٹ کے یوم شہادت پر کل ہڑتال کا اعلان:حریت کانفرنس کے خلاف بھارتی سازشوں کی مذمت ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ممتاز کشمیری رہنما محمد مقبول بٹ کی شہادت کی 38 ویں برسی کے موقع پر کل بروز جمعہ مکمل ہڑتال کی جائے گی۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، میر واعظ عمر فاروق اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے دی ہے۔بھارت نے محمد مقبول بٹ کو تحریک آزادی کشمیر میں اہم کردار ادا کی پاداش میں 11 فروری 1984 کو نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے کر انکا جسد خاکی جیل کے احاطے میں ہی دفن کر دیا تھا۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماو¿ں نے اپنے بیانات میں محمد مقبول بٹ کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداءکی عظیم قربانیاں تحریک آزادی کا ایک قیمتی اثاثہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شہداءکی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ان کے مشن کو ہر قیمت پر پایہءتکمیل تک پہنچایا جائے گا۔

    تحریک آزادی جموں و کشمیر اور جموں و کشمیر پولیٹیکل موومنٹ کی طرف سے بھی سرینگر اور دیگر علاقوں میں پوسٹرز چسپاں کیے گئے میں جن کے ذریعے لوگوں سے کل مکمل ہڑتال کی اپیل کی گئی ہے ۔ لوگوں سے کشمیری شہداءکے لیے دعائیہ اجتماعات منعقد کرنے کو بھی کہا گیا۔

    ھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکرٹری مولوی بشیر احمد عرفانی نے حق خودارادیت کے لیے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے بھارتی جابرانہ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مولوی بشیر احمد عرفانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف کشمیر کی مزاحمتی تحریک کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو تحریک آزادی کو بدنام کرنے کے حوالے سے بھارتی سازشوں اور مذموم عزائم کا تلخ تجربہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں حالات پر امن ہونے کا غلط تاثر دے کر بین الاقوامی برادری کو دھوکہ دینے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

    مولوی بشیر احمد عرفانی نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ کی طرف سے محمد مقبول بٹ کے یوم شہادت پر دی جانے والی ہڑتال کی کال کا اعادہ کرتے ہوئے آزادی پسند عوام سے اپیل کی کہ وہ ہڑتال کو بھر پور طریقے سے کامیاب بنائیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے آزادی پسند عوام شہید محمد مقبول بٹ کے مقدس مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عہد کرتے ہیں۔

  • مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا

    مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج نے 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا

    سری نگر: مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فوج کی دہشت گردی جاری، مزید 2 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    باغی ٹی وی : کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت کے زیر قبضہ جمو ں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشتگردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج سری نگر میں مزید دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

    :5 فروری: پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا جائے گا

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوج نے دو نوجوانوں کو ضلع سری نگر کے علاقے زکورہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران شہید کیا ہے بھارتی قابض افواج نے علاقے کی تمام داخلی اور خارجی راستوں کی ناکہ بندی کی اور موبائل فو ن انٹرنیٹ سروس کو بند کردیا ہے-

    واضح رہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یوم یک جہتی کشمیر منایا جا رہا ہے جس کا مقصد بھارتی فوج کے مظالم کا شکار کشمیری عوام سے اظہار ہمدردی اور اس بات کا عزم ہے کہ پوری پاکستانی قوم ان کے حق خود ارادیت کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔

    پاکستان جموں و کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر قائم ہے ،صدرمملکت، مودی کے جبر اور تشدد کی فاشسٹ پالیسیاں…

    یوم یک جہتی کشمیر کے موقع پر ملک کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، جلسوں اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا جا رہا ہےکوہالہ پُل پر انسانی ہاتھوں کی سب سے بڑی زنجیر بنائی جائے گی جبکہ مرکزی تقریب منگلا پل میر پور آزاد کشمیر میں ہوگی۔

    تقاریب میں مظلوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا جبکہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت خانوں میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے خصوصی تقاریب منعقد ہوں گی، تقاریب میں بیرون ملک مقیم پاکستانی دنیا کو بھارتی مظالم سے آگاہ کریں گے۔

    اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں…

  • مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے 914 دن گز گئے

    مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے 914 دن گز گئے

    قصور
    تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کل ضلع بھر میں مشترکہ پروگرام کرینگے، بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے 914 دن ہو گئے

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری بھرپور طریقے سے منایا جائے گا
    ضلع بھر کی تمام سیاسی و مذہبی تنظیمیں ایک ہو کر پورے ضلع میں کشمیریوں کے حقوق کیلئے بھارت کے خلاف پروگرام کرینگی
    قصور،نور پور،الہ آباد کھڈیاں،پتوکی،چونیاں،کوٹ رادہاکشن،پھولنگر،کنگن پور و دیگر ضلع بھر کے تمام گاؤں دیہات،قصبوں و شہروں میں تمام جماعتیں یک جان ہو کر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرینگی
    پورے ضلع بھر میں کشمیریوں کی حمایت پر مبنی بینرز لگ گئے ہیں جس میں بھارت کی فوجوں کی واپسی اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے
    واضع رہے کہ بھارت کی طرف سے ریاست مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اے کو 5 اگست 2019 کو منسوخ کیا گیا تھا

  • ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس

    اسلام آباد: ضیا مصطفی کا ماورائےعدالت قتل:مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر گول میز کانفرنس ،اطلاعات کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے اسلام آباد میں گول میز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں لیگل فورم کشمیر کے مرکزی رہنماؤں نے بریفنگ دی۔

    گول میزکانفرنس میں ضیاء مصطفی پر ڈوزئیر کا اجرا کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے وکیل ناصر قادری ایڈوکیٹ نے بریفنگ میں بتایا کہ ضیاء مصطفی کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا، ڈوزئیر میں 111 فرضی پولیس مقابلوں کا ذکر ہے جوسنہ 2000 سے 2021تک کیے گئے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضیاء مصطفے غلطی سے راولا کوٹ سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوا تھا، اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی جب اسے پکڑا گیا تھا ، اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کو قانونی طور پر جیل میں قید نہیں کیا جاسکتا ۔کیس ٹرائل کورٹ شپیاں میں چلا جس میں 38گواہوں کو پیش کیا گیا ۔

    پولیس ضیا کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ، ہائی کورٹ نے بھی اپیل خارج کرکے ضیا کو معصوم قراردیا ،بعد ازاں سپریم کورٹ میں تاخیر سے اپیل دائر کی گئی ، اکتوبر میں سری نگر میں ضیا کو جعلی پولیس مقابلے میں شہید کردیا گیا۔

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا کہ 5 اگست کے بعد سے بھارتی فوج کو کشمیریوں کی نسل کشی کے احکامات دئیے گئے ہیں ، عالمی برادری اپنی مجرمانہ خاموشی ختم کرے ۔

    مشتاق اسلام کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیر میں آزادی کی آواز دبانے کے لیے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کررہا ہے۔

    ڈوزیئر میں مزید کہا گیا ہے کہ اسٹوک وایئٹ کی رپورٹ میں اس بات کے دو ہزار سے زائد ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ بھارتی حکام جموں و کشمیر میں شہریوں کے خلاف جنگی جرائم میں ملوث ہیں۔

    آزاد جموں و کشمیر کے راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ضیا مصطفی کا کیس 18 سال سے زیر سماعت تھااور وہ جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں قید تھے۔ بھارتی پولیس کے مطابق ضیا مصطفی کو پونچھ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک ٹھکانے کی نشاندہی کے لیے بھاٹا دوریاں لے جایا گیا اور بعد ازاں کراس فائر میں شہید کر دیاگیا۔
    تاہم، ان کے اہل خانہ کے مطابق ضیا کو ایک جعلی مقابلے میں مارا گیا۔ انہوں نے 17 سال سے زائد عرصے سے جیل میں قید ایک شخص کو اس طرح شہید کرنے اور بھارتی فورسز کے ظلم پر بھی سوال اٹھایا۔
    ضیا مصطفی ولد عبدالکریم برمگ کلاں تحصیل راولاکوٹ ضلع پونچھ آزاد جموں و کشمیر کا رہائشی تھا جسے بھارتی فورسز نے 13 جنوری 2003 کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ نادانستہ طور پر لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پار کرکے دوسری جانب چلا گیا تھا۔ ضیا کے بھائی عامر حامد کے مطابق ایل او سی پار کرنے کے وقت ضیا مصطفی کی عمر15 سال تھی۔
    بھارت نے اس کی گرفتاری کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، کیونکہ وہ ایجنسیاں اس کی گرفتاری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتی تھیں، اس لیے ضیا کی باقاعدہ گرفتاری مارچ 2013 میں جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد سے نادیمرگ میں دکھائی گئی، جہاں نامعلوم مسلح افرادنے 24 کشمیری پنڈتوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ .
    ضیا کو شوپیاں کی ضلعی عدالت میں مقدمے کا سامنا تھا جہاں مقبوضہ کشمیر کے حکام ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ٹرائل کورٹ نے کیس کومستردد کر دیا ۔مقبوضہ جموں کشمیر کے حکام نے جموں کشمیر ہائی کورٹ سری نگر ونگ میں فوجداری اپیل دائر کی جسے بھی خارج کر دیا گیا۔

  • مقبوضہ کشمیرمیں ایک اور بھارتی فوجی نے خودکشی کرلی

    مقبوضہ کشمیرمیں ایک اور بھارتی فوجی نے خودکشی کرلی

    سری نگر: مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجی نے خودکشی کرلی۔

    باغی ٹی وی : کشمیری میڈیا کے مطابق بھارتی سیکورٹی فورسزکے اہلکارنے سرینگرمیں خودکشی کرلی۔ بھارتی فوجی نے سرکاری اسلحے سے خودکشی کی بھارتی فوجی کا تعلق گجرات سے تھا اوروہ کچھ عرصے سے ڈسٹرکٹ سرینگرمیں تعینات تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ خودکشی کے واقعہ کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

    بھارتی فوج کی فائرنگ سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    اس قبل بھی مقبوضہ کشمیرمیں متعدد بھارتی فوجی خودکشی کرچکے ہیں گزشتہ برس 13 دسمبر مقبوضہ کشمیرمیں قابض بھارتی فورسزکے میجرنے خودکشی کرلی تھی مقبوضہ کشمیر کے رام بن ضلع میں تعینات بھارتی فوج کے کمانڈر میجر پرویندر سنگھ نے سرکاری اسلحے سے اپنے گھرمیں خود کشی کی میجر پرویندر سنگھ 23 راشٹریہ رائفلز کی الفاکمپنی میں بطور میجر جنرل ذمہ داریاں انجام دے رہا تھا، جس نے اپنے کوارٹر میں اے کے 47 سرپر رکھ کر چلا دی۔

    13 سالہ کشمیری بچی کی دل دہلا دینے والی ویڈٰیو سوشل میڈیا پر وائرل

    اہلکاروں نے بتایا تھا کہ کہ انہوں نے دروازے کو طاقت سے کھولا تو اندر فوجی لہولہان پڑا تھا، جسے اسپتال لے کر پہنچے تو ڈاکٹرز نے موت کی تصدیق کی۔خودکشی کرنے والے میجر کے قریبی ساتھیوں نے بتایا تھا کہ وہ ڈیوٹی کی وجہ سے اہل خانہ سے دوری اور خاندانی مسائل کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھا اور اُس نے گھر جانے کے لیے چھٹی کی درخواست بھی دی تھی۔

    قبل ازیں اکتوبر 2021 میں مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے راجپورہ میں قائم فوجی کیمپ میں تعینات بھارتی فوجی نے گولی مار کر خودکشی کرلی، جس کی شناخت سیپوئے اسٹیفن کے نام سے ہوئی ہے تھی خودکشی کرنے والے فوجی کا تعلق 42 آر آر کیمپ سے تھا، جس نے خود کو کمرے میں سرکاری رائفل سے گولی ماری۔

    کیمپ میں موجود اہلکاروں نے بتایا تھا کہ وہ اپنے کاموں میں مصروف تھے کہ اسی دوران فائر کی آواز آئی، جس کی سمت کا تعین کرتے ہوئے ایک کمرے کے پاس پہنچے تو اُس کا دروازہ بند تھا انہوں نے دروازے کو طاقت سے کھولا تو اندر فوجی لہولہان پڑا تھا، جسے اسپتال لے کر پہنچے تو ڈاکٹرز نے موت کی تصدیق کی۔

    سید علی گیلانی اس دنیا سے جانے کے بعد بھی بھارت کا اصل چہرہ بےنقاب کر گئے

    جبکہ اس سے پہلے 20 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں تعینات بھارتی سیکیورٹی فورس بٹالین 90 کے اسسٹنٹ کمانڈنگ افسر’ی وی یادیو‘ نے 20 فروری کی صبح اپنی ہی سرکاری رائفل سے خود کو گولی ماری تھی۔

    واضح رہے کہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پرظلم ڈھانے والے تعینات سیکڑوں بھارتی فوجی اس سے پہلے بھی ذہنی اور نفسیاتی مسائل سے تنگ آکر خودکشی کرچکے ہیں۔ جنوری 2007 سے اب تک خودکشی کرنے والے فوجیوں کی تعداد 525 تک پہنچ گئی ہے۔

    سیاسی و دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی دماغی صحت ، پریشانیوں اور گھریلو مسائل کا شکار ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ انتہائی قدم اٹھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں-

    سری نگر:دہشتگردی کی مالی معاونت کے الزام میں کشمیری رہنما خرم جاوید گرفتار

  • کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا

    سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) نے کہا ہے کہ بجلی کے بریک ڈاون، سڑکوں کی بندش، راشن کی قلت اور عوام کو درپیش دیگر مشکلات سے حکام کے بلند و بانگ دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں۔کشمیریوں کواپنے ہی پانیوں سے بننے والی بجلی سے محروم کردیا گیا ہے

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سی پی آئی(ایم )کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ شدید برفباری خطے کے لیے کوئی نئی بات نہیں لیکن جو بلند وبانگ دعوے کیے گئے تھے، وہ ایک مذاق ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے بڑے پیمانے پر بجلی کے بریک ڈاون کا حوالہ دیتے ہوئے جس نے پوری وادی کو مکمل تاریکی میں ڈبو دیاہے، کہا کہ حکام بجلی کی سپلائی بحال کرنے میں ناکام رہے۔

    انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ چند انچ برف پڑنے سے پوری انتظامیہ ٹھپ ہوکررہ جاتی ہے جس سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاریوں کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہارکیاکہ ابھی تک کئی سڑکوں سے برف نہیں ہٹایاگیا ہے اور وادی کے دیہی علاقوں میں سڑکوں پر ابھی تک ٹریفک بحال نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے عوام کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    دریں اثناوادی چناب کے کشتواڑ، رامبن اور ڈوڈہ اضلاع میں بھی بارش اور شدید برف باری ہوئی جس کے نتیجے میں سردی کی لہر نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جبکہ زیادہ تر علاقوں میں بجلی معطل ہے۔

    اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ کشتواڑ شہر اور اس کے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ رات کے دوران شدید برف باری ہوئی جبکہ ضلع کے علاقوںبھجواہ، چھاترو، پڈر، ناگسنی، گندوہ، بھدرواہ، مرمت، ڈیسا اور ضلع ڈوڈہ کے کئی علاقوں میں بھی بھاری سے درمیانی درجے کی برف باری ہوئی ہے۔اسی طرح ضلع رامبن کے بہت سے علاقوں میں بھی شدید برف باری ہوئی اور سڑک کی پھسلن اور بڑے پیمانے پر مٹی کے تودے گرنے کے باعث حکام نے جموں سرینگر ہائی وے کو ٹریفک کے لئے بند کردیا ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر:مندر میں بھگدڑ سے 12  ہندو یاتری ہلاک 20 زخمی

    مقبوضہ کشمیر:مندر میں بھگدڑ سے 12 ہندو یاتری ہلاک 20 زخمی

    سری نگر: مقبوضہ کشمیرکے مندر میں بھگدڑ سے 12 ہندو یاتری ہلاک جبکہ20 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیرکے مندر میں بھگدڑ کا واقعہ کچھ افراد کے درمیان جھگڑے کے بعد ہوا بھگدڑ سے زخمی افراد کواسپتال منتقل کردیا گیا کچھ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    حکام کے مطابق کچھ لوگ مندر میں بغیر اجازت داخل ہوئے اورہجوم میں گھسنے کی کوشش کی تلخ کلامی کے دوران کچھ لوگ پھسل کرگرے جس کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔

    ہلاک ہونے والوں کا تعلق دہلی، ہریانہ، پنجاب اور جموں و کشمیر سے ہے۔ ان میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ موقع پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے گئے تھے۔ ایک عقیدت مند نے بتایا کہ بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔

    بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے ہلاک ہونے والے ہندویاتریوں کے خاندانوں کو2 لاکھ روپے فی کس اورزخمیوں کو50 ہزار روپے دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ جموں و کشمیر کے گورنر منوج سنہا نے بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 2 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے-

    مقبوضہ کشمیر میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہید

    دوسری جانب مودی سرکار اور قابض بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آئے طلبا پر مودی سرکار نے دہشت گردی کا الزام عائد کیا ہے مودی سرکار جو ہمیشہ پاکستان پر الزامات لگاتی رہتی ہے، اب تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاژ کرنے کے لئے ایک اور الزام عائد کیا ہے ، جموں کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ کشمیر سے پاکستان ایم بی بی ایس کے لئے جانے والے طلبا کو پاکستان رقم دیتا ہے اور وہ رقم کشمیر میں استعمال ہوتی ہے ،خبر رساں ادارے کے مطابق جموں کشمیر پولیس اس حوالہ سے گزشتہ برس ماہ جولائی سے تحقیقات کر رہی تھی اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان ان لوگوں کو تعلیم کے لئے بلایا جاتا ہے جن کے گھر کا کوئی فرد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہو

    ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی فتح پر جشن منانے والا بھارتی طالب علم دوستوں سمیت 2 ماہ سے قید

    جموں کشمیر پولیس نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشمیریوں کی مدد کی اور ان طلبا کو رقم دے کر واپس کشمیر بھیج کر بھارتی فوج کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے عسکریت پسندی ختم نہیں ہو رہی کیونکہ نئی کمک مل جاتی ہے ، خبر رساں ادارے کے مطابق حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمیں ثبوت ملے ہیں، سی آئی ڈی، سی آئی کے بھی اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں،

    بھارتی فورسزکی فائرنگ اور تشدد سے مزید 2 کشمیری نوجوان شہید

    پولیس نے حریت کانفرنس کے گروپ سالویشن موومنٹ کے صدر محمد اکبر بھٹ عرف ظفر اکبر بھٹ کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ دائر کی ہے جس میں عبدالجبار، فاطمہ شاہ، الطاف احمد بھٹ قاضی یاسر، محمد عبداللہ شاہ، سبزار احمد شیخ، منظور احمد شاہ، سید خالد گیلانی ، محمد اقبال میر کے نام بھی شامل ہیں، اس چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر پولیس نے تحقیقات کے دوران زبانی اور دستاویزی ثبوت جمع کئے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان طلبا کو بھیجا جاتا ہے جو شہید ہونے والوں کے قریبی رشتے دار ہوتے ہیں، پھر ان کو رقوم دے کر واپس بھیجا جاتا ہے اور کشمیر میں عسکریت پسندی کو فروغ دیا جاتا ہے-

    سری نگر:دہشتگردی کی مالی معاونت کے الزام میں کشمیری رہنما خرم جاوید گرفتار