Baaghi TV

Tag: منکی پاکس

  • منکی پاکس کی روک تھام کیلئے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو خصوصی ٹاسک

    منکی پاکس کی روک تھام کیلئے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو خصوصی ٹاسک

    کومت پنجاب نے منکی پاکس کی روک تھام اور ہیلتھ پروفیشنلز کی تربیت کیلئے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کو خصوصی ٹاسک سونپ دیا۔ اس ضمن میں ڈین آئی پی ایچ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے صوبہ بھر کے ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان سے فوکل پرسنز کے نام طلب کر لئے ہیں۔ جنہیں 2مئی کو وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج، تشخص و کیس مینجمنٹ بارے تربیت فراہم کی جائے گی۔

    اس امر کا انکشاف ڈین آئی پی ایچ پروفیسر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے کمیٹی روم میں اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا جس میں دونوں محکمہ صحت کے افسران، پی آئی ٹی بی، ریسکیو1122، نمائندہ عالمی ادارہ صحت کے علاوہ ڈائریکٹر سی ڈی سی نے بھی شرکت کی۔ پروفیسر ذرفشاں طاہر نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں انسٹی ٹیوٹ منکی پاکس کی سرویلنس، ہیلتھ ایجوکیشن، مانیٹرنگ اور تشخیص بارے پر ٹریننگ ماڈیولز تیار کرے گا اور آئی پی ایچ میں ایک ہفتہ کے اندر ڈیزیز مانیٹرنگ سنٹر قائم کیا جائے گا جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے کر الرٹ جاری کرے گا۔ انسٹی ٹیوٹ میں سول ایوی ایشن اتھارٹی، ریسکیو1122 اور دیگر متعلقہ محکموں کے اسٹاف کو بھی بیماری بارے ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔

    ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا کہنا تھا کہ منکی پاکس کی روک تھام اور متوقع مریضوں کے علاج معالجہ کیلئے تمام ہسپتالوں میں پیشگی انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں اور حکومت کی ہدایت کے مطابق آئیسولیشن وارڈز بھی فنکشنل ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، احتیاط برتیں، ہجوم میں جانے سے گریز کریں اور فیسک ماسک کے استعمال اور صابن سے ہاتھ دھونے کو یقینی بنائیں تاکہ وائرس منتقل نہ ہو سکے۔ پروفیسر زرفشاں طاہر نے تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ سے کہا کہ اگر منکی پاکس کا کوئی مشتبہ کیس رپورٹ ہو تو بلا تاخیر اعلیٰ حکام کے نوٹس میں لایا جائے تا کہ بروقت کیس مینجمنٹ یقینی بنائی جا سکے۔

     ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات

     پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا،

     اسلام آباد میں منکی پاکس کے 20 مشتبہ کیسز رپورٹ 

    کانگو وائرس کے مریض کی موت

  • منکی پاکس کے بعد کانگو وائرس، پاکستان میں ایک موت

    منکی پاکس کے بعد کانگو وائرس، پاکستان میں ایک موت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کانگو وائرس کے مریض کی موت ہو گئی ہے، مریض فاطمہ جناح اسپتال میں زیر علاج تھا

    ہسپتال انتظامیہ کے مطابق کانگو وائرس سے مرنے والے متاثرہ مریض کا تعلق بلوچستان کے ضلع چمن سے تھا اور مریض فاطمہ جناح اسپتال میں تشویشناک حالت میں زیر علاج تھا ،انتظامیہ کے مطابق فاطمہ جناح ہسپتال میں کانگو وائرس کا ایک متاثرہ مریض زیر علاج ہے

    دوسری جانب شہر قائد کراچی میں منکی پاکس کے تین مشتبہ کیسز سامنے آئے ہیں ،میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی میں منکی پاکس کے تین کیس سامنے آئے، دوران اسکریننگ مسافروں میں علامات پائی گئیں، مسافروں کی مزید جانچ پڑتال آئسولیشن سینٹرز میں جاری ہے اور تصدیق ہونے پر مسافروں کو ایک سے دو ہفتے تک آئسولیشن سینٹر میں رکھا جائےگا

    کانگو وائرس جس کا سائنسی نام کریمین ہیمریجک کانگو فیور یا کریمین ہیمریجک کانگو بخار ہے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا مرض ہے ،کانگو وائرس مختلف جانوروں مثلاً بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد میں پایا جاتا ہے کانگو وائرس سے متاثرہ جانور ذبح کرنے کے دوران کسی شخص کے ہاتھ میں کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔

    عللامات:
    کانگووائرس کامریض تیزبخارمیں مبتلا ہو جاتا ہےاسےسردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اورغنودگی، منہ میں چھالے ،اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہےتیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعدادانتہائی کم ہوجاتی ہےجس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

     ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات

     پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا،

     اسلام آباد میں منکی پاکس کے 20 مشتبہ کیسز رپورٹ 

  • پاکستان میں منکی پاکس کے 2 کیسز ،پنجاب میں علاج کے لئے 6 رکنی کمیٹی تشکیل

    پاکستان میں منکی پاکس کے 2 کیسز ،پنجاب میں علاج کے لئے 6 رکنی کمیٹی تشکیل

    حکومت پنجاب کی ہدایت پر پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ و امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے ملک میں منکی پاکس کیس رپورٹ ہونے پر لاہور جنرل ہسپتال کے سینئر پروفیسرز/کنسلٹنٹ پر مشتمل 6 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی جس کے فوکل پرسن پروفیسر آ ف میڈیسن ڈاکٹر طاہر صدیق ہوں گے۔ کمیٹی کے ارکان میں پروفیسر انیلہ اصغر، پروفیسرمحمد فہیم افضل، ڈاکٹر محمد عرفان ملک، ڈاکٹر غزالہ روبی، اور ڈاکٹر سید جعفر حسین شامل ہیں۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمیٹی صورتحال پر کڑی نگاہ رکھے گی اور کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں منکی پاکس کے کیسز کی تشخیص اور علاج معالجے کے بھرپور ا نتظامات کی ذمہ دار ہوگی۔

    پروفیسر الفرید ظفر نے اس حوالے سے امید ظاہر کی کہ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کے بر وقت اقدامات کی وجہ سے انشا ء اللہ منکی پاکس کی بیماری کے پھیلاؤ کو ابتدا ہی میں کنٹرول کر لیا جائے گا تاہم کسی ایمرجنسی صورتحال سے عہدہ برآ ہونے کیلئے ایل جی ایچ کی انتظامیہ نے سینئر پروفیسرز ، کنسلٹنٹ اور پیتھیالوجسٹ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ایس او پیز کے مطابق مرض کی تشخیص، کیس مینجمنٹ اور مریض کے علاج معالجے کے انتظامات کو حتمی شکل دینے اور بہترین دیکھ بھال کے اقدامات کو ممکن بنائے گی۔ پرنسپل پی جی ایم آئی نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ بیرون ملک سفر کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر پر عملدآمد یقینی بنائیں، ماسک پہنیں، ایک دوسرے سے مصافحہ اور بغل گیر ہونے سے اجتناب برتیں اورصابن سے ہاتھ دھونا نہ بھولیں تاکہ بیماری ایک سے دوسرے میں منتقل نہ ہو سکے اور اپنے ساتھ ساتھ دوسرو ں کی زندگیاں بھی محفوظ بنائی جا سکیں۔

    دوسری جانب نگران صوبائی وزراء صحت ڈاکٹرجاوید اکرم اور ڈاکٹرجمال ناصرکی زیرصدارت ڈی جی ہیلتھ کے دفتر میں اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈی جی ہیلتھ سروسزڈاکٹرالیاس گوندل،عالمی ادارہ صحت کے ڈاکٹر جمشید ،یونیسف کے ڈاکٹر قرۃالعین،ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کئیرڈاکٹریونس،ڈاکٹرعاصم الطاف ،ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹرزرفشاں طاہر،کنگ ایڈورڈمیڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین،رجسٹراریونیورسٹی آف چائلڈہیلتھ سائنسزپروفیسرڈاکٹرجنیدرشید،ڈاکٹریداللہ،محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن کے ڈپٹی سیکرٹریزڈاکٹربختیار اور ڈاکٹرعبدالرحمان،بریگیڈئیروحید، لاہورایئرپورٹ کے نمائندہ ڈاکٹرسکندرودیگرحکام نے وڈیولنک کانفرنس کے ذریعے شرکت کی۔نگران صوبائی وزراء صحت ڈاکٹر جاوید اکرم اور ڈاکٹرجمال ناصرنے صوبہ میں منکی پاکس پرقابوپانے کیلئے اقدامات کاتفصیلی جائزہ لیا جبکہ متعلقہ افسران نے نگران صوبائی وزراء کو اس حوالہ سے بریفنگ دی۔

    نگران صوبائی وزیرمحکمہ سپیشلائزڈہیلتھ کئیراینڈمیڈیکل ایجوکیشن ڈاکٹرجاویداکرم نے اجلاس سے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھرکے سرکاری ہسپتالوں کو منکی پاکس کے حوالہ سے الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔لاہور میں منکی پاکس کے حوالہ سے بچوں کیلئے چلڈرن ہسپتال اور بڑوں کیلئے جنرل ہسپتال کو مختص کردیا گیا ہے پاکستان میں ابھی تک منکی پاکس کے 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ ڈاکٹرزرفشاں طاہرکو منکی پاکس کے الرٹس ودیگرمعلومات کے حوالہ سے فوکل پرسن بنا دیا گیا ہے۔ڈاکٹرجاویداکر م نے کہا کہ ایئرپورٹ حکام کو منکی پاکس کے حوالہ سے الرٹ رہناہوگا۔ عوام کیلئے منکی پاکس کی معلومات حاصل کرنے کیلئے ہیلپ لائن بھی قائم کی جارہی ہے پنجاب میں منکی پاکس کی ٹیسٹنگ کی سہولت بھی موجودہے۔لاہورکے علاوہ تمام اضلاع میں منکی پاکس کے حوالہ سے ہسپتالوں میں بستروں کو مختص کردیا جائے گا۔منکی پاکس پرقابوپانے کیلئے احتیاطی تدابیراپنانے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے تمام ایئرلائنزکو گائیڈلائنزبھی جاری کردی گئی ہیں۔

    نگران صوبائی وزیرمحکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کئیرڈاکٹرجمال ناصر نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں منکی پاکس کے حوالہ سے عوام کوہراساں نہیں کرنا بلکہ معلومات فراہم کرنی ہیں۔جہازکے اندرہی اس حوالہ سے مسافروں کی سکریننگ کرنی چاہئے۔تمام اضلاع میں ہسپتالوں کو منکی پاکس کے حوالہ سے بستروں کو مختص کرنے اور ڈی ایچ کیوہسپتالوں میں پی سی آرکٹس اورضروری ٹیسٹنگ سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ دونوں محکمہ جات کے ہسپتالوں میں علیحدہ وارڈزمختص کئے جائیں گے۔منکی پاکس کی روک تھام کیلئے ادویات کی خریداری اور سپلائی چین کیلئے جامع لائحہ عمل تیارکیاجائے گا۔ اس حوالے سے ویکسین کی خریداری کی تجویزبھی زیرغورہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا، سعودی عرب سے بے دخل شخص میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی ہے وفاقی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے 17 اپریل کو پاکستان آنے والے شخص میں منکی پاکس کی علامات تھیں، متاثرہ شخص کے نمونے قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد بھیجےگئے، گزشتہ روز قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد نے متاثرہ شخص میں منکی پاکس کی تصدیق کی۔

     ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں

  • ممکنہ منکی پاکس کیسز، ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات، ایوی ایشن حکام متحرک

    ممکنہ منکی پاکس کیسز، ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات، ایوی ایشن حکام متحرک

    ترجمان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ ممکنہ منکی پاکس کیسز اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہدایات کی روشنی میں ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات کئے جا رہے ہیں، تمام بین الاقوامی ائرپورٹس مینیجرز منکی پاکس سے بچاو کے لئے دیگر ایجنسیز کے ساتھ کوآرڈینیشن میٹنگز کررہے ہیں مشتبہ منکی پاکس کیس کی صورت میں مسافر ائرپورٹ سے باہر جانے کے لئے معمول کے راستے استعمال نہیں کرے گا ،ائرلائین مسافر کی امیگریشن حفاظتی تدابیر کے ساتھ کرائے گی جس میں دستانے اور ماسک پہننا لازمی ہے،

    ترجمان سی اے اے کے مطابق بارڈر ہیلتھ سروسزاور ائیرلائن سٹاف ایمبولینس میں مریض کو ہسپتال منتقل کریں گے،ائرلائن مریضوں کو قرنطینہ منتقل کرنے کی زمہ دار ہوگی جبکہ بی ایچ ایس تعاون فراہم کرے گی ،فلائیٹ پر ‘ڈی پورٹیز’ ہونے کی صورت میں ائرلائین کو اپنے سٹیشن مینیجر کے ذریعے لینڈنگ سے 3 گھنٹے پہلے آگاہ کرے گی مشتبہ یا کنفرم کیسز/مسافروں کو جہاز کے پچھلے حصے میں منتقل کیا جائے جہاں وہ ایک سیٹ کے وقفے سے بیٹھے ہوں گراونڈ ہینڈلنگ ایجنسیز ویل چئیر ہینڈلرز کو ماسک اور دستانے فراہم کررہی ہیں،بیگیج ہینڈلرز جہاز سے اترنے والے سامان کو فیومیگیشن کے ذریعے ڈس انفیکٹ کررہے ہیں احتیاطی تدابیر کےتحت لگیج ایریا، میڈیکل انسپیکشن ایریا، ایف آئی اے کاونٹرز، کوریڈورز، ایسکلیٹرز اور تمام متصل ایریا بشمول ٹوائلیٹس پر جراثیم کش سپرے کیا جا رہا ہے۔بارڈر ہیلتھ سروسز (بی ایچ ایس) ائرپورٹس پر پہلے سے موجود ہے اور جلد کارگو ایریاز میں جگہ فراہم کر دی جائیگی پورٹرز دستانے اور ماسک کی پابندی کریں گے اور ٹرالیز کو باقاعدگی سے صابن اور پانی سے دھویا جارہا ہے بی ایچ ایس اور سی اے اے سٹاف لفٹس اور ہینڈ ریلز کی ڈس انفیکشن کو یقینی بنارہے ہیں، ائرکرافٹ ویسٹ کو پہلے سے طے شدہ ایس او پیز کے تحت ٹھکانے لگائے جانے کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے،

    واضح رہے کہ پاکستان میں منکی پاکس کا پہلا کیس سامنے آگیا، سعودی عرب سے بے دخل شخص میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی ہے وفاقی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے 17 اپریل کو پاکستان آنے والے شخص میں منکی پاکس کی علامات تھیں، متاثرہ شخص کے نمونے قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد بھیجےگئے، گزشتہ روز قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد نے متاثرہ شخص میں منکی پاکس کی تصدیق کی۔

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج
    جماعت اسلامی سےمذاکرات،عمران خان کی ہدایات پر پی ٹی آئی کی تین رکنی کمیٹی قائم
    بھارتی مسلمان رکن اسمبلی کوبھائی سمیت پولیس حراست میں ٹی وی کیمروں کے سامنے گولیاں ماردی گئیں

  • ایک ہی وقت میں منکی پاکس، کورونا اور ایچ آئی وی میں مبتلا

    ایک ہی وقت میں منکی پاکس، کورونا اور ایچ آئی وی میں مبتلا

    اٹلی :ایک ہی وقت میں منکی پاکس، کورونا اور ایچ آئی وی میں مبتلا ،اطلاعات کے مطابق اٹلی سے تعلق رکھنے والے ایک شص کو انتہائی بد قسمت تصور کیا جارہا کیونکہ وہ منکی پاکس، کورونا اور ایچ آئی وی جیسی خطرناک بیماریوں میں ایک ہی وقت میں مبتلا ہوگیا۔

    ماہرین صحت کے مطابق 36 سالہ شخص میں ان بیماریوں کی تشخیص گزشتہ ماہ جولائی میں ہوئی تھی جب وہ چھٹیاں گزار کر اسپین سے واپس آیا تو بخار میں مبتلا ہوگیا جس پر وہ اپنا معائنہ کرانے اسپتال پہنچ گیا۔

    ڈاکٹروں نے اسکا کورونا کا ٹیسٹ کیا تو 2 جولائی کو اسکی رپورٹ مثبت آگئی، بعد میں ایک ڈاکٹر نے اسکا معائنہ کیا اور بتایا کہ اس میں منکی پاکس کی علامات بھی ہیں، ہسپتال میں اسکے مختلف ٹیسٹ ہوئے جس کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ HIV-1 کا شکار بھی ہوچکا ہے۔

    منکی پاکس کا پھیلاؤ:کیلیفورنیا میں ایمرجنسی نافذ

    ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص حال ہی میں ہی ان تینوں بیماریوں کا شکار ہوا ہے اور 11 جولائی تک اسے ہسپتال میں رکھا گیا تھا جہاں وہ کورونا اور مونکی پوکس سے صحت یاب ہونے کا منتظر تھا۔

    جب وہ ہسپتال پہنچا تو اس شخص کے جسم پر ایسے زخم تھے جو ترقی کے مختلف مراحل میں بندر کی طرح نظر آتے تھے۔ اس کے ہاتھ کی ہتھیلی اور اس کے پاؤں کے اطراف میں پستولیں پیپ کے ساتھ ابھری ہوئی تھیں اور سرخ رنگ میں لپٹی ہوئی تھیں۔ دوسرے زخم افسردہ مراکز کے ساتھ خارش میں تبدیل ہو گئے تھے –

    امریکا میں منکی پاکس وائرس بے قابو ،حکومت کا ہیلتھ ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ

    ماہرین کو مونکی پوکس کی جنسی منتقلی کے امکان پر شبہ ہے کیونکہ اس وباء نے بنیادی طور پر ان مردوں کو متاثر کیا ہے جو اپنے قریبی علاقوں میں مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھتے ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او نے ’منکی پاکس‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

    چونکہ مریض نے انکشاف کیا کہ اس نے اسپین میں چھٹیوں پر دوسرے مردوں کے ساتھ غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کیے تھے، اس لیے ڈاکٹروں نے اس کا مانکی پوکس کا ٹیسٹ کیا اور ہسپتال میں داخل ہونے پر مکمل STI پینل کا حکم دیا۔ اس کی طبی تاریخ کے مطابق، اس شخص کو 2019 میں بھی آتشک ہوا تھا اور ستمبر 2021 میں اس کے آخری ٹیسٹ میں ایچ آئی وی منفی تھا۔

  • ڈبلیو ایچ او نے ’منکی پاکس‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

    ڈبلیو ایچ او نے ’منکی پاکس‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ’منکی پاکس‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق متعدد ماہرین اور ممالک کی جانب سے’منکی پاکس‘ کے نام کو توہین آمیز اور نسل پرستانہ قرار دیئےجانے کے بعد عالمی ادارے نے اس کا نام تبدیل کرنے کے لیے دنیا بھر کے افراد سے مدد مانگ لی۔

    عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ادارے کو ایسے ناموں کی تجاویز دی جائیں، جس سے کسی علاقے، جنس، قوم، خطے، مذہب، نسل، گروہ یا ثقافت پر منفی اثرات نہ پڑیں۔

    ہائپرٹینشن کورونا کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ساتھ ہی ڈبلیو ایچ او نے واضح کیا ہے کہ اس نے منکی پاکس کے دونوں پرانی قسموں کے وائرسز کے نام تبدیل کرکے اس میں رومن ہندسے بھی شامل کرلیے ہیں، تاکہ اس سے وائرسز کو بھی کسی ثقافت، خطے یا علاقے سے نہ جوڑا جا سکے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب سے وسطی افریقہ میں پائے جانے والے ’کانگو بیسن‘ وائرس کو ’کلیڈ I‘ جب کہ مغربی افریقی خطے میں پائے جانے والے وائرس کو ’کلیڈ II‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    اسی طرح بعد میں یورپ سمیت دیگر خطوں میں میں پائے گئے ’منکی پاکس‘ کے وائرسز کو ’کلیڈ I اے‘ اور ’کلیڈ II بی‘ کا نام دیا گیا ہے جبکہ جلد ہی عالمی ادارہ بیماری کا نام بھی تبدیل کردے گا ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ یہ فیصلہ اس ہفتے سائنسدانوں کی میٹنگ کے بعد کیا گیا ہے-

    کورونا وائرس چین سے نہیں بلکہ امریکی لیبارٹری سے لیک ہوا،امریکی پروفیسر کا انکشاف

    عالمی ادارے کی جانب سے منکی پاکس کے مختلف قسموں کو الگ الگ نام دیئے جانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بیماری کی بھی کورونا کی طرح متعدد قسمیں ہیں۔

    اس بیماری پر ’منکی پاکس‘ نام 1958 میں اس وقت رکھا گیا تھا جب اسے پہلی بار یورپی ملک ڈنمارک میں پایا گیا تھا، جس کے بعد یہ بیماری 1970 کے بعد بڑے پیمانے پر افریقہ میں پائے گئی۔

    مئی 2022 سے اب تک منکی پاکس کے افریقہ کے باہر 31 ہزار کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں اور یہ بیماری دنیا کے 80 کے قریب ممالک تک پہنچ چکی ہے۔

    موڈرنا ویکسین کے استعمال سے دل کے ورم کا خطرہ رہتا ہے:ماہرین صحت

  • امریکا میں منکی پاکس وائرس بے قابو ،حکومت کا ہیلتھ ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ

    امریکا میں منکی پاکس وائرس بے قابو ،حکومت کا ہیلتھ ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ

    امریکا میں منکی پاکس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اب تک کیسز کی تعداد 7 ہزار تک جا پہنچی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن، نیویارک اور جارجیا میں منکی پاکس کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں بائیڈن انتظامیہ نے بیماری کے سبب ہیلتھ ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے اطلاق سے مریضوں کا علاج کرنے کے لیے ہنگامی امداد جاری کی جاسکے گی ۔

    سعودی عرب میں بھی منکی پاکس کے کیسز سامنے آگئے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلتی منکی پاکس کی وبا کو روکنا چیلنج بن گیا ہے اور منکی پاکس کے پھیلاؤ کو روکنا شاید اب ممکن نہیں رہا۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں امریکی ریاست کیلیفورنیا میں منکی پا کس کے بڑھتے کیسسزکے باعث گورنر کیلیفورنیا نےایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا کیلیفورنیا ، نیویارک اور الینوائے کے بعد تیسری ریاست ہے جس نے منکی پوکس کے خطرے کے پیش نظر ریاستی ایمرجنسی کا اعلان کیا ۔

    منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    گورنرکیلیفورنیا کا کہنا تھا کہ کیلیفورنیا حکومت تمام سطحوں پر فوری طور پر منکی پوکس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ سب سے زیادہ خطرے والے افراد ویکسین، علاج اور ہماری توجہ کا مرکز رہیں تاکہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکےعالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس کو عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا ہے-

    واضح رہے کہ افریقا میں منکی پاکس بنیادی طور پر چوہوں جیسے متاثرہ جنگلی جانوروں سے لوگوں میں پھیلتا ہےاس نے ماضی میں کبھی وبائی شکل اختیار نہیں کی اور نہ یہ کسی متاثرہ ملک سے سرحد پار پھیلی ہے تاہم یورپ، شمالی امریکا اوردیگر جگہوں پر منکی پاکس کا وائرس ان لوگوں میں بھی پھیل رہا ہے جن کا جانوروں سے کوئی تعلق نہیں یا جنھوں نے حال ہی میں افریقا کا سفر بھی نہیں کیا ہے۔

    منکی پاکس کا پھیلاؤ:کیلیفورنیا میں ایمرجنسی نافذ

  • منکی پاکس کا پھیلاؤ:کیلیفورنیا میں ایمرجنسی نافذ

    منکی پاکس کا پھیلاؤ:کیلیفورنیا میں ایمرجنسی نافذ

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں منکی پا کس کے بڑھتے کیسسزکے باعث گورنر کیلیفورنیا نےایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کردیا،کیلیفورنیا ، نیویارک اور الینوائے کے بعد تیسری ریاست ہے جس نے منکی پوکس کے خطرے کے پیش نظر ریاستی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ میں منکی پاکس کیسوں کی تعداد 5 ہزار 800 تک پہنچ گئی ہے، منکی پاکس کے 800 کیس کیلیفورنیا میں پائے گئے ہیں

    منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    گورنرکیلیفورنیا کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا حکومت تمام سطحوں پر فوری طور پر منکی پوکس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے، اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ سب سے زیادہ خطرے والے افراد ویکسین، علاج اور ہماری توجہ کا مرکز رہیں تاکہ اس وبا کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

    عالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس کو عالمی ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیا ہے، تاہم بائیڈن انتظامیہ نے ایمرجنسی کا اعلان نہیں کیا ہے۔

    واضح رہے کہ افریقا میں منکی پاکس بنیادی طور پر چوہوں جیسے متاثرہ جنگلی جانوروں سے لوگوں میں پھیلتا ہے۔اس نے ماضی میں کبھی وبائی شکل اختیار نہیں کی اور نہ یہ کسی متاثرہ ملک سے سرحدپارپھیلی ہے تاہم یورپ، شمالی امریکااور دیگر جگہوں پرمنکی پاکس کا وائرس ان لوگوں میں بھی پھیل رہا ہے جن کا جانوروں سے کوئی تعلق نہیں یا جنھوں نے حال ہی میں افریقا کا سفر بھی نہیں کیا ہے۔

    سعودی عرب میں بھی منکی پاکس کے کیسز سامنے آگئے

    منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد میں بخار، سردی لگنا، تھکن اور جسم دردر کی شکایات نمایاں ہوتی ہیں۔وائرس سے زیادہ متاثر ہونےوالے افراد کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    منکی پاکس وائرس کے علاج کے لیے فی الحال دو ویکسین استعمال کی جا رہی ہیں۔ جو سمال پاکس یا چیچک کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھیں۔

    دس سال بعد امریکا میں پولیو کا پہلا کیس سامنے آ گیا

  • ’بائیو نارڈوک‘ نےمنکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی

    ’بائیو نارڈوک‘ نےمنکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی

    یورپی ملک ڈنمارک کی بائیوٹیکنالوجی کمپنی ’بائیو نارڈوک‘ نے تیزی سے پھیلنے والی بیماری منکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی، جسے یورپین یونین (ای یو) نے استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی۔

    خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ’بائیو نارڈوک‘ نے کچھ عرصہ قبل ہی (Imvanex) ’اموانیکس‘ نامی ویکسین تیار کی تھی، جسے ابتدائی طور پر امریکا اور کینیڈا کی حکومتوں نے استعمال کی اجازت دی تھی۔

    امریکی ممالک کے بعد یورپین یونین کی ہیلتھ ایجنسی نے بھی اسے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، جس کے بعد 26 جولائی کو یورپین یونین نے اس کے ہنگامی استعمال کی اجازت دی۔

    کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ یونین کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ویکسین کے ڈوز تمام یورپی ممالک کو فراہم کیے جائیں گے جب کہ پہلے ہی امریکا اور کینیڈا کو اس کے ڈوز فراہم کیے جا چکے ہیں۔

    یورپین یونین کی جانب سے منظوری سے قبل ہی مذکورہ ویکسین کو متعدد یورپی ممالک میں تقسیم کیا گیا تھا اور اسے منکی پاکس سمیت سمال پاکس کے مریضوں پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

    یورپین یونین نے مذکورہ ویکسین کو استعمال کی اجازت ایک ایسے وقت میں دی ہے جب کہ حال ہی میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منکی پاکس کے پیش نظر عالمی سطح پر صحت کی ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے 24 جولائی کو ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا تھا اور یورپین یونین نے 26 جولائی کو ویکسین کے استعمال کی اجازت دی۔

    ’اموانیکس‘ اب تک کی واحد ویکسین ہے، جسے خصوصی طور پر منکی پاکس اور اس سے ملتی جلتی بیماریوں کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاہم اس سے قبل بھی اس بیماری کے لیے دیگر ویکسینز استعمال کی جا رہی تھیں۔

    منکی پاکس کے علاج کے لیے اب تک ماہرین خارش سمیت چکن پاکس کے علاج میں استعمال ہونے والی ویکسین کا استعمال کر رہے تھے۔

    ماہرین کے مطابق عام طور پر منکی پاکس کے مریض 4 سے 6 ہفتوں میں صحت یاب ہوجاتے ہیں، تاہم بعض مریضوں میں بیماری کئی ماہ تک چل سکتی ہے۔

    مذکورہ بیماری اگرچہ براعظم افریقہ میں عام وبا کی صورت میں پائی جاتی تھی، تاہم رواں برس مئی سے یورپ اور امریکا سمیت ایشیائی ممالک میں پائی جانے والی بیماری مختلف ہے، جو صرف قریبی جسمانی روابط یا پھر مریض کے استعمال شدہ کپڑوں پر لگے خون اور دیگر گندگی سے دوسرے شخص کو متاثر کر سکتی ہے۔

  • منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    منکی پاکس وبا بھارت بھی پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں پہلا منکی پاکس کیس رپورٹ ہو گیا۔نئی دہلی کے 31 سالہ رہائشی منکی پاکس سے متاثر ہوئے متاثرہ شخص کی غیر ملکی ٹریول ہسٹری بھی نہیں ہے۔منکی پاکس سے متاثرہ شخص کو اسپتال داخل کرلیا گیاہے۔

    اس سے قبل 74 ممالک میں منکی پاکس کے 16 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے منکی پاکس کو عالمی ایمرجنسی بھی قرار دے دیا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق منکی پاکس کی وبا ایک ’’غیرمعمولی واقعہ‘‘ ہے اور یہ مزید ممالک میں پھیل سکتی ہے۔اس سے نمٹنے کے لیے مربوط عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔

    امریکا کے سنٹرفار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق مئی سے اب تک 74 ممالک میں منکی پاکس کے 16 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔البتہ اب تک صرف براعظم افریقا میں منکی پاکس سے اموات کی اطلاع ملی ہیں جہاں اس وائرس کی زیادہ خطرناک قسم پھیل رہی ہے۔

    ڈبلیوایچ او کے منکی پاکس کے سرکردہ ماہر ڈاکٹر روزمنڈ لیوس کا کہنا تھاکہ افریقا کے علاوہ دوسرے ممالک میں منکی پاکس کے تمام متاثرہ کیسوں میں سے 99 فی صد مرد تھے اور ان میں 98 فی صد ہم جنس پرست مرد شامل تھے۔

    واضح رہے کہ افریقا میں منکی پاکس بنیادی طور پر چوہوں جیسے متاثرہ جنگلی جانوروں سے لوگوں میں پھیلتا ہے۔اس نے ماضی میں کبھی وبائی شکل اختیار نہیں کی اور نہ یہ کسی متاثرہ ملک سے سرحدپارپھیلی ہے تاہم یورپ، شمالی امریکااور دیگر جگہوں پرمنکی پاکس کا وائرس ان لوگوں میں بھی پھیل رہا ہے جن کا جانوروں سے کوئی تعلق نہیں یا جنھوں نے حال ہی میں افریقا کا سفر بھی نہیں کیا ہے۔