Baaghi TV

Tag: منکی پاکس

  • منکی پاکس کاخطرہ موجود،احتیاط سب پرلازم:لیکن گھبرانا نہیں:عالمی ادارہ صحت

    منکی پاکس کاخطرہ موجود،احتیاط سب پرلازم:لیکن گھبرانا نہیں:عالمی ادارہ صحت

    نیویارک:منکی پاکس کےخطرے سےنمٹنےکےلئےاس وقت کوششوں کی ضرورت ہے:لیکن گھبرانا نہیں:اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے برائے بین الاقوامی صحت کے ضوابط (آئی ایچ آر) کی ہنگامی کمیٹی نے کہا ہے کہ موجودہ منکی پاکس کے خطرے سے نمٹنے کے لئے اس وقت کوششوں کی ضرورت ہے لیکن عالمی صحت کی ہنگامی حالت کے اعلان کی ضرورت نہیں ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری بیان کے مطابق کچھ اراکین نے الگ الگ خیالات کا اظہار کیا تھا اور آئی ایچ آر کی ہنگامی میٹنگ میں کچھ اراکین نے وسیع آبادی میں منکی پاکس وائرس کے اور پھیلنے کے خطرے کی وارننگ دی تھی۔

    جاری کئے جانے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں منکی پاکس سے آلودہ لوگوں کی سب سے بڑی تعداد برطانیہ میں پائی جاتی ہے۔ برطانیہ میں منکی پاکس کے سات سو ترانوے معاملات سامنے آچکے ہیں جبکہ برطانیہ کے بعد اسپین، جرمنی، پرتگال، فرانس، کینڈا، امریکہ اور ہالینڈ میں منکی پاکس کے زیادہ مریض پائے جاتے ہیں۔

    برطانیہ کا دارالحکومت لندن، دنیا کا سب سے زیادہ منکی پاکس سے آلودہ شہر ہے۔برطانیہ کے بعض طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں ہمجنس پرستی کے نتیجے میں منکی پاکس سے آلودہ لوگوں کی تعداد اس تعداد سے کہیں زیادہ ہے کہ جس کا اعلان کیا گیا ہے۔

  • منکی پاکس میں مبتلا امریکی شہری ہسپتال سے فرار

    منکی پاکس میں مبتلا امریکی شہری ہسپتال سے فرار

    میکسیکو:منکی پاکس میں مبتلا ایک امریکی شہری میکسیکو کے ایک ریزورٹ میں واقع ہسپتال سے فرار ہو گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گزشتہ روز میکسیکو کے محکمہ صحت کے عہدیداروں نے اس واقعے کے بارے میں اطلاع دی ہے۔ محکمہ صحت کے بیان کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس کا رہائشی 48 سالہ شخص گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بحر الکاہل کے میکسیکو کے ساحلی علاقے پورٹو والارٹا کے ہسپتال سے فرار ہو گیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کے پانچ نئے کیسوں کی تصدیق

    یہ بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ اس شخص کو طبی عملے کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ منکی پاکس کا ٹیسٹ کرائے اور دیگر لوگوں سے دوری اختیار کرے کیونکہ اس میں کھانسی، سردی، پٹھوں میں درد جبکہ چہرے اور گردن پر آبلوں جیسی علامات تھیں۔ ہسپتال سے فرار ہونے کے بعد وہ اس ہوٹل میں گیا جہاں وہ اپنے ساتھی کے ساتھ مقیم رہا تھا۔ بعد ازاں وہ 4 جون کو پورٹو والارٹا سے ایک پرواز کے ذریعے فرار ہو گیا۔امریکا کے ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن سنٹرز نے پیر کے روز میکسیکو کے حکام کو تصدیق کی کہ مشتبہ مریض امریکا واپس آ گیا ہے جہاں اس کے ٹیسٹ سے تصدیق ہوئی ہے کہ اسے منکی پاکس ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کےمزید 3 کیسز رپورٹ،21 دن کا قرنطینہ لازمی قرار

    27 مئی کو میکسیکو کے شہر پورٹو والارٹا پہنچنے سے پہلے یہ شخص جرمنی کے شہر برلن اور اس کے بعد امریکی شہر ڈیلاس میں تھا۔ میکسیکو میں اپنے قیام کے دوران مذکورہ شخص نے جلیسکو کے ریزورٹ ٹاؤن میں مانتامار بیچ کلب میں مختلف پارٹیوں میں بھی شرکت کی۔ میکسیکو کے محکمہ صحت کے حکام نے 27 مئی سے 4 جون کے درمیان کلب میں آنے والے ہر شخص سے اپنا ٹیسٹ کرانے کو کہا ہے۔خیال رہے کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ روز کہا ہے کہ مختلف ممالک میں منکی پاکس کے ایک ہزار سے زیادہ کیسز پائے گئے ہیں۔

    پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

  • متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کے پانچ نئے کیسوں کی تصدیق

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کے پانچ نئے کیسوں کی تصدیق

    متحدہ عرب امارات کی وزارت صحت نے منکی پاکس کے پانچ نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے،جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 13ہوگئی جبکہ دو مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق اس مرض کی علامات دو سے چار ہفتوں تک رہ سکتی ہیں متحدہ عرب امارات میں پہلے کیس کی 24 مئی کو تصدیق کی گئی تھی غیرملکی مسافر مغربی افریقا سے یو اے آئی جہاں اس میں ٹیسٹ کے بعد وائرس کی تشخیص ہوئی۔

    واضح رہے کہ جانوروں سے لگنے والی اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے یو اے ای میں ابتدائی طور پرسخت اقدامات متعارف کرائے گئے تھے۔جن میں مکمل صحت یاب ہونے تک مریضوں کو مکمل تنہائی میں رہناشامل ہوگا اور جوکوئی بھی متاثرہ افراد کے رابطے میں آیا ہے،اسے کم سے کم 21 دن کے لیے گھرمیں قرنطینہ کردیا جائے گا۔

    آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو…

    ڈبلیو ایچ او نے انکشاف کیا تھا کہ اب تک کی معلومات کے مطابق یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔

    متعدی بیماریوں کے ماہر ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈیوڈ ہیمن نے کہا تھا کہ اب یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کی طرح پھیل رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے انسانوں کا قریبی رابطہ اس وائرس کی منتقلی کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس بیماری کے بعد پیدا ہونے والے مخصوص گھاؤ متعدی ہوتے ہیں بیمار بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے والدین اور طبی عملے کے افراد خطرے میں ہیں۔

    روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ بہت سے کیسز کی نشاندہی جنسی صحت کے کلینکس میں کی گئی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں منکی پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق رہنمائی اور مشورے بھی فراہم کریں گے۔

    یہ وائرس صرف افریقی ممالک میں نظر آتا تھاپہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا میں بھی پھیل رہاہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات زیادہ تشویشناک ہےکہ منکی پاکس کی تشخیص ایسے افراد میں بھی ہوئی ہے جو کبھی افریقہ گئے ہی نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس یورپ اور امریکہ کے اندر بھی پھیل چکا ہےتاہم ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے کسی بڑی آبادی کو نقصان پہنچنے کا فی الحال امکان موجود نہیں۔

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    برٹش ایئرویز کا 15 جون سے اسلام آباد کیلئے پروازیں معطل کرنے کا اعلان

    منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد میں بخار، سردی لگنا، تھکن اور جسم دردر کی شکایات نمایاں ہوتی ہیں وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    منکی پاکس کے اثرات پانچ سے تین ہفتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور عام طور پر اس سے متاثرہ افراد دو سے چار ہفتوں کے درمیان صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جن میں سے اکثر کو اسپتال منتقل کرنے نوبت نہیں آتی۔یہ وائرس 10 میں سے ایک فرد کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے اوربچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

    یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول نے دنیا بھر کے ماہرین کو یہ مشورہ دیا کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جائے اور زیادہ متاثرہ افراد کو سمال پاکس کی ادویات دی جائیں۔

    اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد فوری الیکشن میں دلچسپی نہیں،برطانوی وزیراعظم

  • متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کےمزید 3 کیسز رپورٹ،21 دن کا قرنطینہ لازمی قرار

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کےمزید 3 کیسز رپورٹ،21 دن کا قرنطینہ لازمی قرار

    متحدہ عرب امارات میں منکی پاکس کےمزید 3 کیسز سامنے آگئے۔

    باغی ٹی وی : اماراتی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سخت نگرانی سے منکی پاکس کے کیسز کی شناخت ممکن ہوئی، امارات میں کورونا وائرس کے مقابلے میں منکی پاکس کا پھیلاؤکم ہے۔

    آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو…

    وزارت صحت کا کہنا ہے کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو صحتیابی تک اسپتال میں رکھاجائےگا، مریض سے ملنے والے افراد کو 21 روز تک قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ منکی پاکس 11 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے اس سے پہلے یہ وائرس صرف افریقی ممالک میں نظر آتا تھاپہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا میں بھی پھیل رہاہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات زیادہ تشویشناک ہےکہ منکی پاکس کی تشخیص ایسے افراد میں بھی ہوئی ہے جو کبھی افریقہ گئے ہی نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس یورپ اور امریکہ کے اندر بھی پھیل چکا ہےتاہم ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے کسی بڑی آبادی کو نقصان پہنچنے کا فی الحال امکان موجود نہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ،لوگوں کی ننید کا دورانیہ کم ہو گیا

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد میں بخار، سردی لگنا، تھکن اور جسم دردر کی شکایات نمایاں ہوتی ہیں وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    منکی پاکس یورپ کے بعد امریکا پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    منکی پاکس کے اثرات پانچ سے تین ہفتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور عام طور پر اس سے متاثرہ افراد دو سے چار ہفتوں کے درمیان صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جن میں سے اکثر کو اسپتال منتقل کرنے نوبت نہیں آتی۔یہ وائرس 10 میں سے ایک فرد کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے اوربچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

    یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول نے دنیا بھر کے ماہرین کو یہ مشورہ دیا کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جائے اور زیادہ متاثرہ افراد کو سمال پاکس کی ادویات دی جائیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق تقریباً ایک درجن افریقی ممالک میں اس وائرس کے ہزاروں کیسز ہر سال رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے تقریباً 6000 کا کانگو اور 3000 کا تعلق نائیجیریا سے ہوتا ہےحالیہ لہر میں جن ممالک میں منکی پاکس انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں فرانس، بیلجیم، جرمنی، آسٹریلیا، اسپین، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

    یورپ میں ایک اورخطرناک بیماری پھیلنا شروع

  • پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ،الرٹ جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی منکی پاکس پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، اس ضمن میں قومی ادارہ صحت اسلام آباد نے منکی پوکس کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا

    وفاقی اور صوبائی حکام منکی پاکس مشتبہ کیسز کے حوالے سے ہائی الرٹ کر دیا گیا ملک کے داخلی راستوں بشمول ایئر پورٹس پر مسافروں کی نگرانی کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئیں،سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں کو بھی آئسولیشن وارڈ قائم کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کر دی گئی،ماہرین قومی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ دنیا میں منکی پاکس کے 92 کنفرم اور 28 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں،منکی پاکس جانوروں کے بعد اب انسانوں میں منتقل ہوگیا ہے،منکی پاکس متاثرہ شخص کو ہاتھ لگانے اور رطوبت لگنے سے لگتا ہے، اسپتالوں میں طبی عملے کو منکی پاکس کے مشتبہ مریضوں سے احتیاط سے پیش آنے کا مشورہ بھی دیا گیا،

    منکی پوکس مرض کے پھیلاؤ کاخدشہ،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے محکمہ صحت کو چوکس رہنے کا حکم دے دیا،حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت عالمی ادارہ صحت کی وضع کردہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو یقینی بنائے،منکی پوکس کے مرض سے بچاؤ کیلئے ضروری احتیاطی تدابیر فی الفور اختیار کی جائیں ائیر پورٹس پر مسافروں کی سکریننگ کا موثر میکنیزم وضع کیاجائے،مرض کا پھیلاؤ روکنے کیلئے پیشگی حفاظتی اقدامات بروقت اٹھائے جائیں،وزیراعلیٰ پنجاب نے منکی پوکس مرض کے حوالے سے مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کی ہدایت کر دی،

    قبل ازیں سندھ کے محکمہ صحت نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے ،محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹ میں کہا گیا ہے کہ منکی پاکس بیماری کے 111 کیسز انگلینڈ اور امریکہ میں رپورٹ ہوگئے پاکستان میں بھی منکی پاکس بیماری پھیلنے کا خدشہ ہے منکی پاکس کی علامات میں سر اور پٹھوں میں درد محسوس ہوتا ہے منکی پاکس سے چہرے اور جسم پر پھوڑے ظاہر ہو سکتے ہیں

    محکمہ صحت سندھ کی جانب سے منکی پاکس سے نمٹنے کے لیے ضرور ی اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ وبازدہ ممالک سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کی جانی چاہیے بیماری کے پھیلاؤ سے بچنے اور روک تھام کے لیے لیبارٹری اور سرویلنس کے عمل کو بڑھانے کے لئے حکم نامہ جاری کر دیا گیا

    اس بیماری میں مبتلا ہونے والے سارے افراد نوجوان مرد ہیں، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں یہ بیماری کیسی لگی ہے اب تک مونکی پاکس کے کیسز مغربی اور وسطی افریقہ سے واپس آنے والے مسافروں اور ان کے رشتہ داروں تک محدود تھے جہاں یہ وائرس عام ہے۔ لیکن ماہرین کو اب خدشہ ہے کہ یہ بیماری یورپ میں بھی پھیل رہی ہے۔

    واضح رہے کہ مونکی پاکس بہت کم پائی جانے والی لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے خطرناک بیماری ہے جو وسطی اور مغربی افریقہ کے علاقوں میں پائی جاتی ہے یہ بیماری نزلے جیسی علامات اور بغل کے نیچے سوجن کا باعث بنتی ہے۔ اس کے بعد مریض چکن پاکس جیسی خارش کا شکار ہو جاتا ہےیہ بیماری عام طور پر سانس کے ذریعے پھیلتی ہے لیکن اس خاص کیس میں محکمہ صحت کے حکام کا خیال ہے کہ مریض کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر افراد کو زیادہ خطرہ نہیں ہوتا-

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    ہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں

    ورپ اور مغرب میں‌ بندروں کی مہلک بیماری انسانوں میں پھیلنے لگی

  • آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو ایچ او

    آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں،ڈبلیو ایچ او

    عالمی ادارہ صحت( ڈبلیو ایچ او) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں مختلف ممالک میں منکی پاکس کے مزید کیسز بھی سامنے آسکتے ہیں یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ اب تک 12 ایسےممالک میں منکی پاکس کے کیسز سامنے آچکے ہیں جہاں اس سے پہلےیہ وائرس موجود نہیں تھارپورٹ ہونے والے کیسزمیں 92 مصدقہ اور 28 مشتبہ کیسز شامل ہیں خدشہ ہے کہ یہ وائرس دوسرے ممالک میں بھی پھیل سکتا ہے۔اس خدشے کے پیش نظر ان ممالک کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی ہے جہاں ابھی تک یہ بیماری رپورٹ نہیں ہوئی۔

    منکی پاکس یورپ کے بعد امریکا پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    ڈبلیو ایچ او نے انکشاف کیا ہے کہ اب تک کی معلومات کے مطابق یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں کو قریبی جسمانی رابطے کے باعث لاحق ہو رہا ہے۔

    متعدی بیماریوں کے ماہر ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈیوڈ ہیمن نے کہا ہے کہ اب یہ جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کی طرح پھیل رہا ہے اور دنیا بھر میں اس کی منتقلی کا خطرہ بڑھ گیا ہے انسانوں کا قریبی رابطہ اس وائرس کی منتقلی کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس بیماری کے بعد پیدا ہونے والے مخصوص گھاؤ متعدی ہوتے ہیں بیمار بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے والدین اور طبی عملے کے افراد خطرے میں ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق بہت سے کیسز کی نشاندہی جنسی صحت کے کلینکس میں کی گئی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں منکی پاکس کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق رہنمائی اور مشورے بھی فراہم کریں گے۔

    گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا تھا کہ منکی پاکس انفیکشن کے 11 ممالک میں 80 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور جن ممالک میں منکی پاکس انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں فرانس، بیلجیم، جرمنی، آسٹریلیا، اسپین، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

    خوراک کی شدید قلت کے باعث ہم بھوک سے مرنے والے ہیں، سری لنکن وزیراعظم کی دنیا سے…

    خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کےمطابق اس سے پہلے یہ وائرس صرف افریقی ممالک میں نظر آتا تھاپہلی بار یہ وائرس افریقی ممالک سے نکل کر دنیا میں بھی پھیل رہاہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات زیادہ تشویشناک ہےکہ منکی پاکس کی تشخیص ایسے افراد میں بھی ہوئی ہے جو کبھی افریقہ گئے ہی نہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ وائرس یورپ اور امریکہ کے اندر بھی پھیل چکا ہےتاہم ان کا کہنا ہے کہ اس وائرس سے کسی بڑی آبادی کو نقصان پہنچنے کا فی الحال امکان موجود نہیں۔

    ماہرین کے مطابق منکی پاکس جنگلی جانوروں خصوصاً چوہوں اور لنگوروں میں پایا جاتا ہے۔ اور جانوروں سے ہی انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ تاہم متاثر شخص کے قریب رہنے والے افراد میں بھی وائرس منتقل ہونےکا امکان ہےپہلی مرتبہ اس بیماری کی شناخت 1958 میں ہوئی تھی،ایک تحقیق کےدوران سائنسدانوں نے بندروں کے جسم پر کچھ پاکس یعنی دانے دیکھے تھے جنہیں منکی پاکس کا نام دیا گیا تھا انسانوں میں منکی وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص افریقی ملک کانگومیں 1970 میں ایک نو سالہ بچے میں ہوئی تھی۔

    سری لنکا میں ایمرجنسی کا نفاذ ختم کر دیا گیا

    منکی پاکس کا شکار ہونےوالے افراد میں بخار، سردی لگنا، تھکن اور جسم دردر کی شکایات نمایاں ہوتی ہیں وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کو شدید خارش اور جسم کے مختلف حصوں پر دانے نکلنے کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    منکی پاکس کے اثرات پانچ سے تین ہفتوں میں ظاہر ہوتے ہیں اور عام طور پر اس سے متاثرہ افراد دو سے چار ہفتوں کے درمیان صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جن میں سے اکثر کو اسپتال منتقل کرنے نوبت نہیں آتی۔یہ وائرس 10 میں سے ایک فرد کے لیے جان لیوا ثابت ہوتا ہے اوربچوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

    یورپین سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول نے دنیا بھر کے ماہرین کو یہ مشورہ دیا کہ منکی پاکس سے متاثرہ افراد کو آئسولیشن میں رکھا جائے اور زیادہ متاثرہ افراد کو سمال پاکس کی ادویات دی جائیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق تقریباً ایک درجن افریقی ممالک میں اس وائرس کے ہزاروں کیسز ہر سال رپورٹ ہوتے ہیں اور ان میں سے تقریباً 6000 کا کانگو اور 3000 کا تعلق نائیجیریا سے ہوتا ہےحالیہ لہر میں جن ممالک میں منکی پاکس انفیکشن کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں فرانس، بیلجیم، جرمنی، آسٹریلیا، اسپین، برطانیہ، امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

    سابق نائب افغان صدر رشید دوستم سمیت40جلا وطن افغان رہنماؤں کا قومی مزاحمت کونسل بنانےکا فیصلہ

  • منکی پاکس یورپ کے بعد امریکا پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    منکی پاکس یورپ کے بعد امریکا پہنچ گئی،پہلا کیس رپورٹ

    منکی پاکس کی بیماری یورپ کے بعد امریکہ میں بھی پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ ہو گیاامریکی ریاست میسا چوسٹس میں کینیڈا کے شہری میں منکی پاکس کی تصدیق ہوئی۔رواں سال امریکہ میں منکی پاکس کا یہ پہلا تصدیق شدہ کیس ہے-

    یورپ میں ایک اورخطرناک بیماری پھیلنا شروع

    اس سے قبل یورپ کے متعدد ممالک میں منکی پاکس کے کیسز سامنے آئے ہیں۔مونکی پاکس کے کیسز اسپین اور پرتگال میں سامنے آئے ہیں جبکہ برطانیہ میں بھی بیماری سے متعلق الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اسپین میں 8 افراد اس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں جب کہ پرتگال میں پانچ افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں اور کم از کم 15 مزید کیسز کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    کووڈ کےمریضوں میں بیماری کے 2 سال بعد بھی علامات ہوسکتی ہیں

    اس بیماری میں مبتلا ہونے والے سارے افراد نوجوان مرد ہیں، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں یہ بیماری کیسی لگی ہے اب تک مونکی پاکس کے کیسز مغربی اور وسطی افریقہ سے واپس آنے والے مسافروں اور ان کے رشتہ داروں تک محدود تھے جہاں یہ وائرس عام ہے۔ لیکن ماہرین کو اب خدشہ ہے کہ یہ بیماری یورپ میں بھی پھیل رہی ہے۔

    یورپ:کوویڈ سے اموات کی تعداد بیس لاکھ سے تجاوز کرگئی

    واضح رہے کہ مونکی پاکس بہت کم پائی جانے والی لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے خطرناک بیماری ہے جو وسطی اور مغربی افریقہ کے علاقوں میں پائی جاتی ہے یہ بیماری نزلے جیسی علامات اور بغل کے نیچے سوجن کا باعث بنتی ہے۔ اس کے بعد مریض چکن پاکس جیسی خارش کا شکار ہو جاتا ہےیہ بیماری عام طور پر سانس کے ذریعے پھیلتی ہے لیکن اس خاص کیس میں محکمہ صحت کے حکام کا خیال ہے کہ مریض کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر افراد کو زیادہ خطرہ نہیں ہوتا-

    پاکستان میں کورونا اموات تصدیق شدہ ہیں، وزارت صحت نے عالمی ادارے کوکھری کھری…