Baaghi TV

Tag: منی پور

  • بھارتی ریاست منی پور میں پولیس کی شہریوں پراندھا دھند فائرنگ

    بھارتی ریاست منی پور میں پولیس کی شہریوں پراندھا دھند فائرنگ

    مودی حکومت کی انتہا پسندانہ اور متعصبانہ پالیسیوں کے باعث خانہ جنگی کا شکار ریاست منی پور میں پولیس کی شہریوں پراندھا دھند فائرنگ سے متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے-

    بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق منی پورحکومت نے بشنوپور بم دھماکے میں 2بچوں کی موت اورخاتون کے زخمی ہونے پر5 اضلاع میں موبائل انٹرنیٹ بندکردیا، واقعہ کے بعد احتجاجی افراد نے تھانے کے سامنے ٹائرجلا کر چیک پوسٹ کو نقصان پہنچایا، مشتعل ہجوم نے پولیس کیمپ پر حملہ کیا جبکہ اہلکاروں کی جوابی فائرنگ میں کم ازکم 19افراد شدیدزخمی ہوگئے-

    مقامی جریدے منی پورپوسٹ کے مطابق احتجاج کے دوران غاصب بھارتی فوج نے عوام کیلئے تیل لے جانے والے 2 ٹینکر چھیننے کی کوشش کی اور مزاحمت پرخودہی انہیں جلاڈالا،مقامی افراد کی طرف سے منی پور میں جاری فسادات اور جانی و مالی نقصانات پر مودی حکومت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے.

    ماہرین کے مطابق ہندوستانی فوج اپنے مذموم مفادات کی خاطر عام شہریوں کے جان ومال کو نشانہ بنانے والی دہشت گرد تنظیم کا بھیانک روپ دھار چکی ہے،جبکہ منی پور کشیدگی پر مودی سرکار نہ صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے بلکہ سیاسی مقاصد کیلئے نسلی فسادات کو مزید ہوا دے رہی ہے

  • بھارت:منی پور میں اغوا اور اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون انتقال کر گئی

    بھارت:منی پور میں اغوا اور اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون انتقال کر گئی

    منی پور کی کُکی برادری کی ایک 20 سالہ خاتون، جو 2 سال قبل نسلی جھڑپوں کے دوران اغوا اور اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئی تھی، شدید صدمے اور جسمانی ز خمیو ں کے باعث جاں بحق ہو گئی-

    میڈیا رپورٹ کے مطابق منی پور کی یہ خاتون مئی 2023 میں مییتی اور کُکی برادری کے درمیان ہونے والی نسلی جھڑپوں کے دوران اغوا ہوئی تھی جولائی 2023 میں بھارتی ٹی وی سے گفتگو میں خاتون نے بتایا کہ اسے سفید بولیرو میں اغوا کیا گیا اور پھر 3 افراد نے باری باری زیادتی کی اس دوران اس نے شدید جسمانی اور نفسیاتی صدمہ برداشت کیا صبح کے وقت اسے موقع ملا اور وہ بینڈ فولڈ ہٹاکر فرار ہونے میں کامیاب ہوئی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق خاتون شدید زخمی ہونے، نفسیاتی صدمے اور رحم کے مسائل کے باوجود زندہ بچ گئی تھی، مگر علاج کے باوجود اس کی صحت بگڑ گئی اور 10 جنوری 2026 کو اس نے دم توڑ دیا اس کی والدہ نے بتایا کہ بیٹی سانس لینے میں مشکلات کا شکار تھی اور اس نے اپنی مسکراہٹ اور زندگی کی چمک کھو دی تھی۔

    خاتون نے اپنی پہلی پولیس رپورٹ میں الزام لگایا کہ اغوا کرنے والے 4 افراد میں سے 3 نے اسے ہراساں اور زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ کُکی تنظیموں نے الزام لگایا کہ بعض ’میرا پائی بی‘ افراد نے اسے مییتی افراد کے حوالے کیا یہ واقعہ منی پور میں جاری نسلی کشیدگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کی ایک تلخ یاد دہانی ہے، اور اس کا اثر متاثرہ خاندانوں اور کمیونٹی پر آج بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔

  • منی پور بحران بھارت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے،دی اکانومسٹ

    منی پور بحران بھارت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے،دی اکانومسٹ

    ریاست منی پور میں مرکز ی حکومت سے دوری خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے منی پور بحران بھارت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے حال ہی میں دی اکانومسٹ نے تہلکہ خیز رپورٹ جاری کی جس میں بتایا گیا کہ منی پور میں تین سال بعد بھی امن بحال نہ ہو سکا-

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ بی جے پی حکومت کے غیر سنجیدہ رویے نے منی پور کو عملی طور پر نسلی بنیادوں پر تقسیم کر دیا ہے- منی پور میں کُوکی اور میتی برادری کے درمیان بڑھتی دوریاں بی جے پی حکومت کی بالادستانہ سوچ کا نتیجہ ہیں، صدر راج کے نفاذ کے باوجود بی جے پی حکومت منی پور میں اعتماد بحال کر نے میں ناکام رہی ہے ،مرکز کے خلاف غصہ شدت اختیار کر گیا جبکہ 2023 میں ہندو میتئی کمیونٹی اور عیسائی کوکی کمیونٹی کے مابین بدترین “نسلی تشدد ” ہوا تھامتاثرین نے بی جے پی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے تنازع کو منظم کیا- بی جے پی حکومت وہ ضروری اقدامات لینے سے گریزاں رہی جو اس تشدد کو روک سکتے تھے۔

    ایوارڈ یافتہ بھارتی صحافی نے پاکستان کے دورے کا دلچسپ تجربہ شیئر کردیا

    پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا کہ یہ تنازع "ریاستی نااہلی” کے باعث شدت اختیار کر گیاہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تقریباً 50,000 لوگ (زیادہ تر کوکی عیسائی) آج بھی پناہ گزین کیمپوں میں رہتے ہیں بیروزگار 84 روپے (0.90 ڈالر) یومیہ حکومتی وظیفے پر گزارہ کر رہے ہیں کوکی کمیونٹی اپنے لیے نیم خود مختار علاقہ کا مطالبہ کرتی ہے منی پور میں سیکیورٹی کے نام پر جابجا چیک پوسٹوں نے زندگی کو جہنم بنا دیا ہے کوکی قبائل کو عدالتوں سے بھی انصاف نہیں ملا۔

    منی پور بحران بھارت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہا ہے بی جے پی کی بد انتظامی منی پور میں نسلی تقسیم کو مزید گہرا کر رہی ہے ناکام گورننس نے منی پور میں پرانی آزادی پسند تحریکوں کے دوبارہ ابھرنے کا خطرہ پیدا کر دیا۔

    مری میں سیاحوں اور شہریوں کے لیے مفت وہیکل ریکوری سروس کا آغاز

  • منی پور فسادات محض فرقہ وارانہ نہیں بلکہ منظم سیکیورٹی ناکامی کا نتیجہ ہیں،بھارتی لیفٹیننٹ جنرل

    منی پور فسادات محض فرقہ وارانہ نہیں بلکہ منظم سیکیورٹی ناکامی کا نتیجہ ہیں،بھارتی لیفٹیننٹ جنرل

    بھارتی ریاست منی پور مودی سرکار کی سیاسی نااہلی، سماجی غیر ذمہ داری اور سکیورٹی غفلت کا شکار ہے۔

    این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مئی 2023 سے منی پور میں شروع ہونے والی خونی جھڑپیں اب تک متعدد جانیں لے چکی ہیں، جس سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ مودی سرکار اپنی ریاستی رِٹ مکمل طور پر کھو چکی ہے بھارتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) نیشی کانتا سنگھ نے منی پور بحران کو محض فرقہ وارانہ نہیں بلکہ منظم سیکیورٹی ناکامی کا نتیجہ قرار دے دیا۔

    انہوں نے کہا کہ منی پور تصادم دو مرحلوں پر مشتمل تھا، پہلا مرحلہ 3 سے 10 مئی تک جاری رہا، جوکہ چھوٹے پیمانے کی جھڑپوں پر مبنی تھا، دوسرا مرحلہ 27 اور 28 مئی کو منظم حملوں کی صورت میں شروع ہوا وادی امفال کو چاروں اطراف سے گھیر کر بھارتی سکیورٹی فورسز کو مکمل طور پر بے بس کر دیا گیا، منی پور کے پولیس اسٹیشنوں سے چار ہزار سے زائد ہتھیار بھی چوری ہوئے۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق منی پور میں خواتین سے زیادتی، گھروں کی تباہی اور معصوم عوام کے قتل پر مودی سرکار کی مجرمانہ خاموشی ریاستی بے حسی کی واضح مثال ہے، اس تمام صورتحال کے باوجود، حکومت کی جانب سے نہ کوئی واضح پالیسی سامنے آئی اور نہ ہی کوئی ہنگامی سیکیورٹی پلان نافذ کیا گیا۔

    این ڈی ٹی وی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی ناکامی چھپانے کے لیے ریاست بھر میں انٹرنیٹ کی بندش اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، منی پور کے پچاس ہزار سے زائد شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر ریلیف کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں سرکاری اداروں کی غفلت کے نتیجے میں 180 سے زائد افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں دیہات مکمل طور پر خاکستر ہو چکے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق منی پور ایک ایسی ریاست بن چکی ہے جہاں حکومتی ادارے محض علامتی حیثیت رکھتے ہیں، یہ سارا منظرنامہ اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا بھارت واقعی ایک متحد اور محفوظ ریاست ہے؟، منی پور جیسے علاقے بھارتی نظام کی کھلی دراڑوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔

  • جب منی پور  کےعیسائیوں کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی،  بی جے پی اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی

    جب منی پور کےعیسائیوں کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی، بی جے پی اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہی

    3 مئی 2023 کو، شمال مشرقی ہندوستان کے ایک علاقے منی پور ریاست میں رہنے والے ہزاروں عیسائیوں کی زندگی ایک لمحے میں بدل گئی۔

    ان ماننے والوں میں سے ایک سیانگ موانگ ہیں، ایک پادری جو ریاست میں متعدد اجتماعات کی خدمت کرتا ہے۔ سیان کہتے ہیں، "میں علاقے میں 10 سے زیادہ گرجا گھروں میں پادری کرتا تھا "3 مئی 2023 کو، چرچ کی پانچ عمارتیں مکمل طور پر جل گئیں؛ باقی کو لوٹ لیا گیا اور شدید نقصان پہنچا ہم نے سب کچھ کھو جانے کے باوجود، میری بیوی اور میں نے اپنے مجرموں کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا، یہ یاد کرتے ہوئے کہ کس طرح مسیح نے ہمیں معاف کیا –

    سیان اور اس کا خاندان اس کی بیوی، جینی اور ان کی 2 سالہ بیٹی، ٹیا کچھ نہیں کر سکے کیونکہ انہوں نے منی پور ریاست میں ہزاروں کو بھاگتے، گرجا گھروں کو جلاتے اور توڑ پھوڑ ہوتے دیکھا۔

    تشدد کی جڑ ریاست منی پور میں نسلی اور مذہبی دونوں طرح کی کشیدگی میں تھی۔ کوکی لوگ (جو اکثریت عیسائی ہیں) ہندوستان میں ایک "شیڈولڈ قبیلہ” ہیں ہندوستانی قانون کے تحت ایک سرکاری حیثیت جو ان گروہوں کو حکومتی فوائد فراہم کرتی ہے جن کو اہم سماجی و اقتصادی نقصانات کا سامنا ہے وہ منی پور میں آبادی کی ایک اقلیت ہیں منی پور ریاست میں زیادہ تر لوگ میتی لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں ایک نسلی گروہ جو زیادہ تر ہندو ہے میٹی شیڈولڈ ٹرائب کی حیثیت کے لیے لڑ رہے تھے، جس کی وجہ سے کوکی کی جانب سے احتجاج کیا گیا یہ مظاہرے اپریل 2023 میں شروع ہوئے تھے اور شروع میں بڑے پیمانے پر پرامن تھے،لیکن وہ جلد ہی پرتشدد ہو گئے۔

    اور عیسائیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ میتی سے تعلق رکھنے والے گرجا گھروں پر بھی ہندو انتہا پسندوں نے حملہ کیا، اور کچھ انتہا پسند گروہ مییٹی کمیونٹیز میں گھر گھر جا کر مطالبہ کرتے رہے کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے یسوع میں اپنا عقیدہ ترک کر دیں۔

    سیان نے تشدد کے مذہبی عنصر کو پہلے ہاتھ سے دیکھا وہ پانچ سو سے زیادہ شدت پسندوں کے ہجوم کی وضاحت کرتا ہے، جو چرچ کی املاک کو نشانہ بناتا ہے اور نظر آنے والی ہر چیز کو توڑ دیتا ہے "انہوں نے بائبلوں کو جلایا اور مسیحی برادری کو گالی دی”انہوں نے گھروں پر چھاپے مارے اور گرجا گھروں کو جلایا، عیسائی باشندوں کو ان کے گھروں سے نکالنے پر مجبور کیا میرے خیال میں یہ انتہا پسندوں کی طرف سے منی پور ریاست سے عیسائیوں کو ختم کرنے کے لیے ایک جان بوجھ کر حملہ تھا، کیونکہ چرچ کی عمارتوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا-

    سیان اور اس کا خاندان بھی کوکی ہے اس لیے انہیں دوہرا خطرہ تھا وہ اور اس کے خاندان کو معلوم تھا کہ انہیں آسانی سے قتل کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’اگر وہ ہمیں مل جاتے تو وہ یقیناً ہم میں سے ہر ایک کو اور ہمارے بچوں کو قتل کر دیتے۔‘‘

    سیان اور اس کا خاندان درحقیقت اس وقت الگ ہو گیا جب حملہ شروع ہوا، جس سے خطرے کی ایک اور تہہ بڑھ گئی”جب حملہ شروع ہوا، میں اپنے گھر سے دور تھا، ایک مختلف گاؤں میں چرچ کے کچھ ممبروں کی خدمت کر رہا تھا، اس بات سے بے خبر تھا کہ کیا ہو رہا ہے کیونکہ حملہ آور اس جگہ نہیں پہنچے تھے، وہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں میں تھا، بہت بعد میں۔

    وہ کہتا ہے "مجھے اپنی بیوی کا فون آیا، اور میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ ایک ہجوم ہمارے پڑوس میں پہنچ گیا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ تباہ کر رہا ہے؛ وہ ہمارے بچے کے ساتھ بستر کے نیچے چھپی ہوئی تھی اس مختصر گفتگو کے بعد، اس نے اپنا فون بند کر دیا کیونکہ اسے حملہ آوروں سے ڈر لگتا تھا جو ممکنہ طور پر آس پاس تھے۔”

    جیسے ہی منی پور میں گرجا گھروں کو جلایا گیا اور عیسائی خواتین کو چھین لیا گیا، بی جے پی نے منہ موڑ کر دیکھا، مودی حکومت خاموش تماشائی بنی ہی پولیس خاموش کھڑی رہی، ہجوم نے اپنے جرائم کی فلم بندی کی، اور مسیحی حقوق اکثریت کے حوالے کر دیے گئے۔

    منی پور کے وزیر اعلیٰ این بیرن سنگھ، جو کہ خود میتی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، نے مجرموں کو کڑی سزائیں، بشمول سزائے موت، دینے کا وعدہ کیا ہے۔ مگر جب اس تنازع پر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میں اس میں نہیں پڑنا چاہتا، میرا کام امن قائم کرنا اور شرپسندوں کو سزا دینا ہے۔‘

  • مودی سرکار ناکام،منی پور میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال،،تھانے پر حملہ

    مودی سرکار ناکام،منی پور میں سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال،،تھانے پر حملہ

    منی پور میں حالات دن بدن بدتر ہوتے جا رہے ہیں، جہاں حالیہ دنوں میں جھڑپوں اور احتجاج کی وجہ سے سکیورٹی کی صورتحال نازک ہوگئی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، گزشتہ دنوں میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران بھارتی فوج کا ایک افسر زخمی ہوگیا، جس کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہوگئی۔

    مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے پولیس سٹیشن پر حملہ کیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، مظاہرین کا کہنا تھا کہ حکومت ان کے مطالبات کو تسلیم کرے، لیکن جب بھارتی افسران نے انہیں دھمکیاں دیں، تو جوابی کارروائی کے طور پر مظاہرین نے پولیس سٹیشن پر پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے۔دریں اثنا، بھارتی فوج کی جانب سے جاری جعلی انکاؤنٹرز کے خلاف کوکی قبیلے اور دیگر مقامی تنظیموں نے شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

    کانگریس کے رہنما ملک ارجن کھرگے نے بی جے پی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے منی پور میں فسادات نے شدت اختیار کی ہے اور پورا ریاستی نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "منی پور میں گاؤں کے گاؤں تباہ ہو چکے ہیں اور وزیر اعلیٰ کی نااہلی کی وجہ سے حالات بگڑتے جا رہے ہیں”۔اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ "نااہل اور بے شرم ہیں، جو افسوس کا اظہار کرنے کے باوجود غائب ہوگئے ہیں”۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ منی پور فسادات پر بی جے پی کی مسلسل خاموشی اس کی ہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    اپوزیشن رہنماؤں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت پر شدید تنقید کی ہے، اور کہا ہے کہ "مودی کے دور حکومت میں مذہبی عدم برداشت اور فرقہ واریت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے”۔ ان کا کہنا ہے کہ علیحدگی پسند تنظیموں کا منی پور پر قابض ہونا مودی کی ناکامی کا ایک اور ثبوت ہے۔اس کے ساتھ ہی، اپوزیشن نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ "جمہوریت کا دعویٰ کرتے ہوئے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے اور منی پور پر مکمل چپ سادھ رکھی ہے”۔

    منی پور کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ جھڑپوں، مظاہروں اور سیاسی الزامات نے پورے علاقے کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔ بھارتی فوج کی کارروائیاں، مقامی تنظیموں کا احتجاج، اور سیاسی جماعتوں کے سخت بیانات اس بات کا غماز ہیں کہ یہ بحران اب ایک نیا موڑ اختیار کر چکا ہے، اور اس کی شدت میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

    لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر تباہ

    متحدہ عرب امارات میں بسے افراد کے لیے نئے فیملی قوانین کا اعلان

    آزاد کشمیر میں شدید برفباری، پاکستان آرمی کا ریسکیو آپریشن، مسافروں کی جان بچا لی

  • 26 جماعتی اتحاد نےمودی کےخلاف پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی

    26 جماعتی اتحاد نےمودی کےخلاف پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی

    بھارت میں اپوزیشن کے 26 جماعتی اتحاد نے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف بھارتی پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق لوک سبھا میں نئے اپوزیشن اتحاد انڈین نیشنل ڈویلپمنٹل انکلوسیو الائنس اور جماعت بھارت راشٹر سمیتی کی جانب سے بدھ کو مودی حکومت کے خلاف دو الگ الگ تحریک عدم اعتماد پیش کی گئیں، اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد قبول کر لی، بحث کے لیے ابھی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔

    اپوزیشن کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کا مقصد منی پور میں جاری نسلی تشدد پر وزیراعظم کی خاموشی تڑوانا ہے جبکہ543 رکنی لوک سبھا میں اپوزیشن انڈیا کی114نشستوں کے مقابلے میں حکومتی اتحاد کی 331 اکثریتی نشستوں کی وجہ سے حکومت کو تحریک عدم اعتماد سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    بھارت کے 26 جماعتی اتحاد کا مودی کے خلاف عدم اعتماد لانے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ منی پور میں اکثریتی ہندو میتئی اور مسیحی قبائیلوں کے درمیان 3 مئی سے جاری تشدد میں اب تک ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک اور 50 ہزار سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیںھارتی اپوزیشن 2 ہفتے سے منی پور خانہ جنگی پر لوک سبھا میں بحث مطالبہ کر رہی تھی، تاہم مودی سرکار منی پور فسادات پر پارلیمنٹ میں بحث کروانے سے گریزاں رہی، اور منی پورخانہ جنگی کے خلاف قرارداد پیش کرنے پر اجلاس ہی برخاست کردیا گیا تھا۔

    اپوزیشن کو دباؤ میں لانے کیلئے مودی سرکار نے عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ کی پارلیمنٹ رکنیت بھی معطل کر دی۔ اپوزیشن رہنما ملیکارجن کھرگے کا کہنا ہے کہ مودی کا ذاتی انا سے بالاتر ہو کر ملک کا سوچنا چاہیے۔

    چینی وزیر خارجہ کوعہدے سے فارغ کر دیا گیا

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن کی 26 جماعتوں نے مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ٹکر دینے کے لیے اتحاد کا اعلان کیا ہے جس کا نام انڈین نیشنل ڈیولپمنٹ انکلیوسز الائنس (انڈیا) رکھا گیا ہے۔

  • بھارتی اخبار نے مگر مچھ کی تصاویر کے ساتھ نریندر مودی کی تصاویر شائع کر دی

    بھارتی اخبار نے مگر مچھ کی تصاویر کے ساتھ نریندر مودی کی تصاویر شائع کر دی

    منی پور: مگر مچھ کی تصاویر کے ساتھ نریندر مودی کی تصاویر شائع کر دیں-

    باغی ٹی وی :بھارتی اخبار ٹیلی گراف انڈیا نے بھارت کی شمال مشرقی ریاست منی پور تشدد پر 79 دن کی خاموشی کے بعد مگرمچھ کے آنسو بہانے والے وزیر اعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اور اپنے پہلے صفحے پر ایک مگرمچھ کی آنسو بہانے کی تصویر شائع کی ہے-


    بھارتی اخبار نے تصویر کے کیپشن میں لکھا ہے کہ ’56 انچ کے سینے کے درد اور شرمندگی کو دور کرنے میں 79 دن لگے، اور بھارتی وزیر اعظم اپنے 56 انچ کے سینے پر فخر کرتے ہیں۔

    جنوبی افریقا میں سڑک دھماکے سے پھٹ گئی،ایک شخص جاں بحق متعدد زخمی

    Modi
    https://twitter.com/IndiaObservers/status/1682292579180716032?s=20
    دوسری جانب منی پور میں 2 خواتین کو برہنہ پریڈ کروانے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعے میں ملوث مرکزی ملزم کے گھر کو آگ لگا دی گئی، پولیس کا کہنا ہے کہ مقامی خواتین کی جانب سے منی پور اجتماعی زیادتی کیس کے مرکزی ملزم کے گھر پر پتھراؤ کرتے ہوئے گھر کو آگ لگا دی گئی ہے۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ مئی کے مہینے میں کوکی قبیلے کے گھروں پر حملہ کرکے آگ لگانے سمیت 2 خواتین کو برہنہ کرکے سڑکوں پر پریڈ کروانے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کی ایک شکایت موصول ہوئی تھی، واقعے کے مبینہ مرکزی ملزم سمیت 4 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مزید 30 افراد کی تلاش جاری ہے۔

    کینیڈا:جنگلات کی آگ بجھانے والے ہیلی کاپٹر کو حادثہ ،پائلٹ ہلاک

    واضح رہے کہ منی پورمیں ہونے والے لسانی فسادات کے حوالے سے بھارتی میڈیا نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے تاہم سوشل میڈیا پر گاہے بگاہے اس حوالے سے دل دہلا دینے والی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں بھارتی ریاست منی پور میں 3 مئی کو ہندو عیسائی فسادات شروع ہوئے تھے، اور ان فسادات میں اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک اور 400 زخمی ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ کئی گرجا گھروں، سرکاری دفاتر اور گھروں کو بھی نذر آتش کیا جا چکا ہے جب کہ رواں ہفتے دو عیسائی خواتین سے اجتماعی زیادتی کے بعد ان خواتین کو برہنہ کرکے گلیوں میں گھمانے کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی، جس نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔

    ان تمام واقعات کے باوجود خاموش رہنے والے نریندر مودی نے 79 دنوں کے بعد گزشتہ روز اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا تھا کہ میرا دل ان واقعات پر غم اور غصے سے بھرا ہوا ہے۔ جس سے بھارت کی دنیا بھر میں تضحیک ہوئی۔

    واٹس ایپ کو اینڈرائیڈ اسمارٹ واچز میں متعارف کرا دیا گیا

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق خواتین سے زیادتی کی خبر کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ ویڈیو حکام کو معلوم تھی لیکن انہوں نے اسے جان بوجھ کر 2 ماہ تک خفیہ رکھا اور اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

    واضح رہے کہ بھارت کی ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے رہنما این بائرن سنگھ 2017 سے ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں اور ریاست میں 53 فیصد آبادی ہندو میٹی قبیلے کی ہے جبکہ ریاست میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے کوکی اقلیتی قبیلے کی شرح 16 فیصد ہے۔

    ہندی اور اردو ادب کی معروف افسانہ اور ناول نگار

  • بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس

    بھارت،خواتین کی برہنہ پریڈ کروانے والا گرفتار،سپریم کورٹ کا نوٹس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں دو خواتین کو ننگا کر کے برہنہ پریڈ کروائی گئی ہے، مشتقل افراد نے خاتون کو ساتھ اس موقع پر اجتماعی زیادتی بھی کی، واقعہ کے بعد خاتون کی حالت ایسی ہو گئی کہ اس سے بولنا بھی مشکل ہو گیا تھا

    واقعہ منی پور میں پیش آیا، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا، پولیس حکام کے مطابق 4 مئی کو یہ واقعہ ہوا، متاثرہ خاتون نے دو ہفتے بعد مقدمہ درج کروایا ہے،بھارت میں خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر اسمرتی کا کہنا ہے کہ منی پور میں خواتین کے ساتھ زیادتی اور برہنہ پریڈ قابل مذمت اور غیر انسانی واقعہ ہے،مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا

    خواتین کی برہنہ پریڈ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ہر طرف سے کاروائی کا مطالبہ کیا گیا،یہ واقعہ مپھال سے تقریباً 35 کلومیٹر دور کانگ پوکپی میں یش آیا۔ اس واقعے سے ایک روز قبل دو برادریوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون کی برہنہ پریڈ کے دوران مشتقل ہجوم اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے، خاتون روتی، چلاتی رہی لیکن کسی نے اسکی نہ سنی، خاتون کے ساتھ بعد ازاں زیادتی بھی ہوئی،

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزم کی شناخت کھوروم ہیراداس کے طور پر ہوئی، ملزم کے تھاوہل سے گرفتار کیا گیا ہے، وائرل ویڈیو میں ملزم نے سبز رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے، ملزم کی شناخت ویڈیو سے کی گئی، اسکی عمر 31 برس ہے

    بھارتی وزیراعطم مودی نے واقعہ پر کہا ہے کہ مجرموں کو نہیں بخشا جائے گا، جو کچھ ہوا وہ شرمناک ہے،یہ بھارت کو شرمندہ کرنے جیسا ہے، تمام وزراء اعلیٰ کو کہتا ہوں کہ ریاست کی ماؤں بیٹیوں کی حفاظت کے لئے چوکس رہیں،یقین دلاتا ہے کہ ملزمان کو سزا ملے گی، کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا،

    بھارتی سپریم کورٹ نے بھی خاتون کے برہنہ پریڈ کے واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور حکومت کو کہا ہے کہ ضروری کاروائی کی جائے، بھارتی چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ہم حکومت کو تحقیقات اور کاروائی کے لئے وقت دیں گے اگر حکومت نے کچھ نہ کیا تو ہم خود قدم اٹھائیں گے

    خواتین کی برہنہ پریڈ کے ھوالہ سے ویڈیو وائرل ہونے کے بعدبھارت کی تمام سیاسی جماعتیں مذممت کر رہی ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ اب تک اس معاملہ پر حکومت خاموش کیوں ہے

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    11 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر بھارتی فوجی اہلکار گرفتار

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • لینڈ سلائیڈنگ میں بھارتی فوج کا کیمپ تباہ، 21 ہلاک، کئی لاپتہ

    لینڈ سلائیڈنگ میں بھارتی فوج کا کیمپ تباہ، 21 ہلاک، کئی لاپتہ

    نئی دہلی: بھارتی فوج کا کیمپ تباہ، 21 ہلاک، کئی لاپتہ ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بھارتی فوج کے اہلکاروں سمیت 26 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے۔اس سلسلے میں یہ بھی بتایا جارہاہے کہ علاقے میں کئی اورمقامات پرلینڈسلائیڈنگ ہورہی ہے اورحفاظتی اقدامات تیز کردیئے گئے ہیں

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست منی پور میں پیش آیا ہے جہاں امپھال جریبام ریلوے پروجیکٹ کی حفاظت پر مامور بھارتی فوج کے اہلکاروں کیلئے قائم کی گئی چیک پوسٹ پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مٹی کا تودہ آن گرا، جس کے نتیجے میں ملبے تلے 100 سے زائد اہلکار دب گئے۔جن کو نکالنے کی کوششیں جاری ہیں

    ریسکیو ادارے کا کہنا ہے کہ امدادی کاموں کے دوران 26 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں جن میں سے 21 فوجی اہلکار ہیں۔ ریسکیو ٹیم کے انچارج نے کہا کہ ملبے تلے اب بھی 37 افراد دبے ہونے ہیں، جن کی تلاش کا کام جاری ہے تاہم موسم کی خرابی کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 13 فوجیوں اور 5 سویلین حکام کو ملبے سے زندھ نکال لیا گیا ہے۔

    وزارت دفاع کے پبلک ریلیشن آفیسر کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ریلوے پروجیکٹ کی حفاظت پر ان اہلکاروں میں زیادہ تر ریزرو فوجی تھے جو ریلوے کے ایک پروجیکٹ پر کام کررہے تھے۔