اسلام آباد: لائسنس یافتہ موبائل فون اور ٹیلی کمیونی کیشن کمپنیاں جہاں چاہے آپٹیکل فائبر بچھاسکیں گی۔
قومی اسمبلی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل منظور سینیٹ میں پیش کرلیا ہے جس کے بعد یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا،نجی جائیداد کے مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کے لیے جگہ دینے کے پابند ہوں گے،
بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ موبائل فون یا ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو آپٹیکل فائبر بچھانے یا ٹاور نصب کرنے کے لیے جگہ فراہم نہ کرنے والے نجی گھر کے مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا،بل کے تحت ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کی توسیع اور جدید مواصلاتی سہولیات کی فراہمی کے لیے کمپنیوں کو انفرااسٹرکچر قائم کرنے میں آسانی فراہم کی جائے گی۔
ڈی چوک کے احتجاج کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا قیمتی سامان اسلام آباد کے کے پی ہاؤس سے غائب ہوگیا ہے
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، احتجاج کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا سامان غائب ہوا، جس میں 2 آئی فون 15 پرو میکس، ایک پرس، اہم دستاویزات اور لائسنس یافتہ اسلحہ شامل ہیں۔،وزیراعلیٰ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق موبائل فون گم ہونے کی وجہ سے علی امین گنڈا پور کے اہم نمبرز بھی ضائع ہوگئے ہیں، جس سے وہ پریشان ہیں۔ انہوں نے اسمبلی کے اراکین کے ساتھ ایک میٹنگ میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ،اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ خیبر پختونخوا، پختون یار نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ کے 2 موبائل، اہم دستاویزات اور دیگر سامان کے پی ہاؤس سے آئی جی اسلام آباد لے گئے۔ علی امین گنڈا پور کا سامان نقدی، کپڑے اور لائسنس یافتہ اسلحہ بھی شامل تھا۔ کے پی ہاؤس میں وزیراعلیٰ کی گاڑی کے شیشے توڑے گئے، جس کی ویڈیو بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں پولیس اہلکاروں نے گاڑی کے شیشے توڑے اور وزیراعلیٰ کا سامان لے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی جی کے خلاف مقدمہ درج کر کے وزیراعلیٰ کا سامان واپس کیا جائے۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا، بیرسٹر محمد علی سیف نے بھی مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ کے سامان کو فوری واپس کیا جائے، کیونکہ یہ غیر قانونی طور پر کے پی ہاؤس اسلام آباد سے غائب کیا گیا ہے۔
پرانے استعمال شدہ موبائل فون کو مارکیٹ میں فروخت کرنے سے قبل چند احتیاطی تدابیر آپ کی زندگی کو نقصان ہونے سے بچا سکتی ہیں۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیکڑوں کیسز سامنے آتے ہیں جن میں کسی صارف کی اجازت کے بغیر ان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کردی جاتی ہیں۔ایک حالیہ کیس منظر عام پر آیا جب ایک خاتون پرانے موبائل فون کو فروخت کر کے مشکلات سے دو چار ہوگئیں۔رپورٹ کے مطابق کراچی کی پرائیوٹ یونیورسٹی کی 24 سال کی طالبہ حنا ہمدانی نجی تصاویر لیکس کا شکار ہوگئیں۔ اس حوالے سے حنا کو ان کی دوست نے بتایا کہ کسی فیس بک اکائونٹ سے ان کی تصاویر اپ لوڈ کی گئی ہیں۔طالبہ نے فوری طور پر یہ اطلاع اپنی سینئرٹیچر کو دی جس کے بعد انہوں نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔حنا نے یہ معاملہ اپنے والد سے بھی شیئر کیا جس کے بعد انہوں نے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کرائی۔حنا کے والد اور ان کے اہل خانہ نے سائبر کرائم ونگ کی مدد سے تین ماہ کی محنت اور کوشش کے بعد اِس اکائونٹ کے بارے میں پتا لگا لیا۔معاملہ یہ ہوا تھا کہ حنا نے نیا موبائل فون خریدا اور پرانا فون اپنے بھائی کو دکان پر فروخت کرنے کیلیے بھیج دیا،انہوں نے موبائل سے تمام ڈیٹا ڈیلیٹ کردیا تھا اور موبائل فیکٹری ری سیٹ بھی کردیا تھا۔تاہم آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ملزم کے لیے موبائل فون سے ڈیلیٹ شدہ ڈیٹا ری کور کرنا مشکل کام نہیں تھا۔اس طرح موبائل میں موجود حنا اور ان کی دوستوں کی تصاویر اور ڈیٹا اس شخص کے ہاتھ لگ گیا اور اس نے ایک جعلی آئی ڈی بنا کر وہاں یہ تصاویر شیئر کردیں۔مشہور آئی ٹی ماہر شمیم ردا کے مطابق ڈیٹا ریکوری کے سوفٹ ویئر اس لیے بنائے گئے ہیں تاکہ ان کا مثبت استعمال کرتے ہوئے کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ بعض افراد اس کا غلط استعمال کرنے لگے ہیں۔ان کے مطابق کئی واقعات میں اس سوفٹ ویئر نے لوگوں کو بڑے نقصان سے بچایا ہے تو بعض واقعات ایسے بھی سامنے آئے ہیں کہ اس سے لوگوں کو پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ایک اور آئی ٹی کے ماہر تجویز پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ موبائل فون کو مارکیٹ میں فروخت کرنے کے بجائے اپنے استعمال میں ہی رکھیں،یا پھر انہیں ناقابل استعمال بنا کر پھینک دیں۔
جنازے میں بھی چور گھس آئے، احسن اقبال کا موبائل چوری کر لیا گیا
وفاقی وزیر احسن اقبال پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی رانا افضال حسین کے نماز جنازہ میں شیخوپورہ آئے، نماز جنازہ ادا کی، اس دوران نامعلوم چور نے وفاقی وزیر احسن اقبال کے جیب سے موبائل فون نکال لیا اور فرار ہو گیا،موبائل فون چوری ہونے کی اطلاع احسن اقبال نے پولیس کو دی جس پر پولیس کا کہنا ہے کہ موبائل فون ٹریس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جلد موبائل فون چور کو گرفتار کر لیا جائے گا
احسن اقبال کا موبائل فون چوری ہونے پر اہم ڈیٹا لیک ہونے کا بھی امکان ہے، پولیس حکام کے مطابق نماز جنازہ کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، نماز جنازہ کے موقع پر موبائل فون چوری ہونے پر شہریوں نے حیر ت کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا چوروں کو موت کا کوئی غم نہیں، نماز جنازہ پڑھنے آنے والوں کو بھی نہیں بخشتے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں سہولت کاری کرنیوالوں کے خلاف کاروائی جاری ہے، عمران خان کے پاس جیل میں بھی موبائل فون تھا اور وہ واٹس ایپ پر رابطے کرتے تھے، جمائما سے بھی انکا رابطہ تھا
گزشتہ چند دنوں سے عمران خان کے سہولت کاروں کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ تیز ہوا اور گرفتاریاں بھی ہوئیں عمران خان بظاہر تو جیل میں تھے لیکن انہیں سہولت کاروں کی وجہ سے تمام سہولیات میسر تھی، عمران خان کو موبائل فون بھی دیا گیا تھا جو انہوں نے جیل کے باتھ روم میں رکھا ہوا تھا، عمران خان پیٹ درد کا بہانہ بنا کر اپنا زیادہ وقت جیل کے باتھ روم میں گزارتے تھے، اس دوران وہ واٹس ایپ پر رابطے کرتے تھے،
سینئر صحافی و اینکر مزمل سہروردی نے مبشر لقمان ڈیجیٹل میڈیا پر انکشاف کیا کہ عمران خان کے پاس جیل میں موبائل فون موجود تھا، وائی فائی لگا ہوا تھا، واٹس ایپ میسج بھی کرتے تھے، باتھ روم سے میسج کرتے تھے، فون باتھ روم میں رکھا ہوا تھا کیونکہ وہاں کیمرے نہیں لگے ہوئے تھے، واٹس ایپ پر ہی وہ رابطے میں رہتے تھے، زیادہ وقت عمران خان باتھ روم میں گزارتے اور کمبوڈ پر بیٹھ کر میسج کال کرتے، اسی لئے تو پیٹ خرابی کا کہتے تھے اب انکا پیٹ ٹھیک ہو گیا ہے.
مزمل سہروردی کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال تو جیل تھی ہی نہیں عمران خان کو ، وہ اپنا پورا نیٹ ورک چلا رہےتھے اس کو جیل تھوڑا ہی کہتے ہیں ،کہتے تھے کرنل جیل پر قبضہ کیا ہوا ہے، کرنل کا جیل پر قبضہ ہوتا تو واٹس ایپ کا استعمال ہوتا، کرنل نے پہلے دن ہی سہولت کاروں کو پکڑ لینا تھا، عمران خان نے واویلا اسلئے کیا کہ ہم یہی سمجھیں کہ آئی ایس آئی نے جیل پر قبضہ کیا، عمران کے دور میں ایسا ہوتا تھا سیکٹر کمانڈر جیل ہوتا تھا، جیل میں عمران خان جمائما سے بھی بات چیت کرتے رہے ہیں،
نتائج میں تاخیر، وزارت داخلہ کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے
وزارت داخلہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنرل الیکشن 2024 کا مشکل ترین سیکورٹی حالات میں انعقاد ملک کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہونا چاہیے, اس الیکشن کے پر امن انعقاد کا سہرا قانون نافذ کرنے والے اداروں، افواج پاکستان، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور ریاستی اداروں کے سر ہے، انہی کی کاوشوں سے انتخابات کے دن دہشتگردی کے واقعات کے باوجود کامیاب انعقاد یقینی بنا، انتخابات سے صرف ایک دن قبل دہشتگردی کے واقعات میں 28 افراد کی ہلاکت اور 64 دیگر کے شدید زخمی ہونے نے ریاست کو اپنے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کرنے پر مجبور کیا،عام انتخابات کے روز مجموعی طور پر ملک بھر میں دہشتگردی کے 61واقعات رونما ہوئے۔دہشتگردی کے ان واقعات کے نتیجے میں 16افراد شہید جبکہ54افراد زخمی ہوئے،الیکشن 2024کا انعقادعام حالات میں نہیں ہوا بلکہ داعش، ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں دیگر دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے انتخابی عمل میں خلل ڈالنے اور عوام کو نشانہ بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی ، کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہترین حکمت عملی کے تحت جامعہ سیکورٹی پلان تشکیل دیا ، سیکورٹی پلان میں انتخابات کے انعقاد کے دوران سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تفصیلی تعیناتی، انتخابی عملے اور پولنگ کے مواد کو پولنگ سٹیشنوں تک اور واپس بحفاظت لے جانااس پلان کا حصہ تھا، اس کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کو مواصلات کے ذرائع اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات کے ساتھ موبائل فون سمز کے استعمال سے روکنے کے لیے موبائل فون سروس کی معطلی بھی شامل ہے، بڑے پیمانے پر پھیلے ہوئے پولنگ اسٹیشنوں اور خاص طور پر بلوچستان، کے پی کے اور یہاں تک کہ پنجاب کے دیہی علاقوں سے انتخابی نتائج کی ترسیل اور ان تمام حفاظتی اقدامات کے ساتھ ایک وقت طلب مشقت تھی،یہ تمام حفاظتی اقدامات پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ کے وسیع تر مفاد میں کیے گئے ہیں ، اس تاریخی الیکشن کے انعقاد میں شامل تمام ادارے، خاص طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان تنقید کے بجائے تعریف اور ستائش کے مستحق ہیں، ذاتی مفادات رکھنے والے عناصر تفرقے کو بھڑکاتے رہیں گے کیونکہ وہ انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، ہم شہریوں اور سیاسی رہنماؤں سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ انتخابی عملے کو بغیر رکاوٹ اپنے فرائض سرانجام دینے دیں، پولنگ سٹیشنز سے آر او آفس جانے والی سڑکوں کو بند کر کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے کام میں مزید تاخیر نہ کریں ، امید کرتے ہیں کہ یہ الیکشن قوم کے لئے خوش آئند ہو گا اور پاکستانی عوام کے لیے خوشحالی کا مرکز بنے گا،
واضح رہے کہ کل الیکشن کے روز ملک بھر میں موبائل سروس بند رہی، جس کی وجہ سے انتخابی نتائج تاخیر کا شکار ہوئے تھے، رات دو بجے تک نتائج نہیں آئے جس پر تحریک انصاف، پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا تھا،
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ الیکشن کے دن ہی موبائل فون سروسز بند کر دی گئی ،یہ دھاندلی نہیں تو اور کیا ہے
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ موبائل سروس بند کر کے 25 کروڑ پاکستانیوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے، وزیرِ داخلہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر موبائل سروس بحال کی جائے، وزیرِ داخلہ نے فون سروس بند کر کے کون سی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی ہے؟مختلف جگہ سے خبریں موصول ہو رہی ہیں کہ عملہ رکشے میں سامان لے کر پہنچ رہا ہے، اکثر مقامات پر سامان موجود ہے لیکن عملہ موجود نہیں ہے،نجی کمپنیوں، چوکیداروں اور ڈرائیوروں کو پریزائنڈنگ افسران بنا دیا گیا، الیکشن کمیشن بتائے کہ الیکشن کے نام پر کیا مذاق کیا جا رہا ہے، کارکنان گھر گھر جائیں اور ہر فرد سے رابطہ کریں اور ووٹ ڈالنے کے لیے لے کر آئیں، غیرجانبدار سروے کے مطابق جماعت اسلامی کراچی میں سب سے آگے ہے، کارکنان حالات پر نظر رکھیں اور ووٹ کا تحفظ کریں،زبردستی مسلط کرنے والوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی، جماعت اسلامی کے بغیر نہ وفاقی اور نہ ہی صوبائی حکومت بنے گی، صاف و شفاف الیکشن ہوں گے تو ہم خیر مقدم کریں گے، اگر دھاندلی ہوگی تو اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی، کراچی کے عوام کے پاس واحد آپشن صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی ہے.
دھاندلی ہی نہیں دھاندلے کا آغاز موبائل سروس کی بندش سے ہوا،جماعت اسلامی
جماعت اسلامی نے اسلام آباد میں موبائل فون سروس کی بندش پہ ردعمل دیا ہے، رہنما جماعت اسلامی نصر اللہ رندھاوار کاکہنا ہے کہ موبائل سروس بند کرنا دھاندلی کی طرف پہلا مضبوط قدم ہے، من پسند افراد کو ہیرا پھیری کے ذریعے مسلط کرنے کے لیے ایسے ہربے استعمال کیے جا رہے ہیں،موبائل سروس کی بندش سے رابطے کا ذریعہ ختم کر دیا گیا ،رابطے کے فقدان کے باعث کئی پولنگ سٹیشن پہ ایجنٹ ہی نہیں پہنچ پائے،8300 کی سروس بھی بند ہو گئی ،ووٹر اپنے پولنگ سٹیشن کو ڈھونڈتا پھر رہا ہے امیدواروں ، ووٹرز اور ایجنٹس کا آپس میں کوئی رابطہ نہیں ،موبائل سروس کی بندش سے شکایات کا اندراج کیسے ہو گا؟ دھاندلی ہی نہیں دھاندلے کا آغاز موبائل سروس کی بندش سے ہوا ہے،
واضح رہے کہ نگران حکومت اپنے وعدوں سے مکر گئی، کہا جا رہا تھا کہ انتخابات کے روزموبائل سروس کو بند نہیں کیا جائے گا تاہم ملک بھر میں موبائل سروس بند کر دی گئی، جس سے ووٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، پشاور اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ کی سروس بند ہو چکی ہے،ترجمان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،ملک میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا ہے،امن و امان قائم رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدامات ضروری ہیں
پشاور۔ حیات آباد میں قیمتی موبائل فونز چھیننے والا منظم راہزن گینگ بے نقاب ، ملوث ملزمان گرفتار کر لئے گئے
پوش اور رہائشی علاقہ میں سنیچنگ کی وارداتوں میں ملوث گرفتار ملزمان کا تعلق ہمسایہ ملک افغانستان سے ہے،دوران تفتیش ٹیم کو اہم کامیابی ملی، جس کے دوران سرگرم راہزن گروہ کے سرغنہ ہمت خان کا سراغ لگا کر گرفتار کیا گیا،گرفتار سرغنہ ہمت خان کی نشاندہی پر گروہ کے دیگر تین ارکان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے،گرفتار ملزمان میں ہمت خان (سرغنہ)، بلال، ادریس اور راج دار شامل ہیں ،تمام ملزمان ہمسایہ ملک افغانستان کے رہائشی ہیں ،ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران سنیچنگ کی متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے،کارروائی کے دوران ملزمان سے ابتدائی طور پر 19 عدد چھینے گئے قیمتی آئی فونز برآمد کر لئے گئے ہیں ،ملزمان سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا موٹر سائیکل اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے
،اے ایس پی حیا ت آباد نایاب رمضان کا کہنا ہے کہ ملزمان وادارتوں کے بعد موٹر سائیکل کے نمبر پلیٹس تبدیل کرتے تھے جن سے مختلف جعلی نمبر پلیٹس بھی برآمد کر لئے گئے ہیں ،گرفتار ملزمان نے چھینے گئے آئی فونز کی ایک کھیپ افغانستان سمگل کرنے کا انکشاف کیا ہے،ملزمان برآمد شدہ آئی فونز کی دوسری کھیپ افغانستان سمگل کرنے کی تیاری کر رہے تھے،ملزمان لوکل مارکیٹ میں چھینے گئے آئی فونز سپیر پارٹس کی شکل میں بھی فروخت کرتے تھے جن سے متعدد آئی فونز سپیر پارٹس کی شکل میں بھی برآمد کر لئے گئے ہیں ،برآمد شدہ فونز کے اصل مالکان کا سراغ لگایا جا رہا ہے جن میں سے ابتدائی طور پر ایک شہری کی شناخت ہو چکی ہے جس کو موبائل فون حوالہ کیا گیا،ملزمان کی نشاندہی پر متعدد دیگر افراد کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے جن میں چوری شدہ موبائل فونز کے لین دین کرنے والے ریسیورز بھی شامل ہیں ،گرفتار ملزمان کی سزا کے بعد ملک سے بیدخلی کے لئے متعلقہ حکام سے رابطہ قائم کیا جا رہا ہے،
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی کچہری میں موبائل فون وکیل کے کوٹ میں پھٹ گیا
وکیل اپنا موبائل فون کوٹ میں ڈال کر کچہری آیا تھا،کہ اچانک کوٹ کی جیب سے دھواں نکلنا شروع ہو گیا، وکیل نے کوٹ اتار کر پھینک دیا، کوٹ کے جس حصے میں موبائل تھا وہ مکمل طور پر جل گیا جبکہ موبائل بھی مکمل جل گیا، موبائل کیسے پھٹا اس بارے تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں تاہم وکیل کا کہنا ہے کہ رات کو موبائل مکمل چار ج کیا تھا، موبائل آن تھا، پاور بینک بھی نہیں لگا ہوا تھا، جیب سے دھواں اٹھا تو کوٹ اتار کر پھینکا، دیکھا تو موبائل اور کوٹ کا وہ حصہ جل چکا ہے،
موبائل فون ایک سہولت،پیغام رسانی کا آسان ذریعہ، تا ہم موبائل فون کے زیادہ استعمال کے حوالہ سے ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق زیادہ موبائل استعمال کرنے والے نوجوانوںکو تولیدی صحت متاثر ہوتی ہے،
صحت کے حوالہ سے کام کرنیوالے ایک جریدے میںتحقیق شائع کی گئی ، جس میں ماہرین نے کئی برسوں تک اس بات کا جائزہ لیا کہ موبائل کے زیادہ استعمال سے نوجوانوں کی جنسی صحت متاثر ہوتی ہے یا نہیں، ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ موبائل فون کے زیادہ استعمال سے مردوں کے اسپرم کم ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے انکی جنسی صحت متاثر ہوتی ہے،یورپی ملک سوئٹزرلینڈ کے ماہرین نے تحقیق میں 18 سے 22 برس کی عمروں کے نوجوانوں کا استعمال کیا، یہ تحقیق 2005 سے 2018 تک کی گئی،جو نوجوان تحقیق میں شامل ہوئے وہ مقامی تھے، ریسرچ کے دوران ان نوجوانوں کے اسپرم کاؤنٹ کو کئی بار دیکھا گیا، ماہرین نے اس دوران تمام نوجوانوں سے درجنوں سوالات بھی کئے اور انکے اسپرم کاؤنٹ کے ٹیسٹ بھی کئے
چونکا دینے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق جو نوجوان ہفتے میں بیس بار موبائل کا استعمال کرتے ہیں انکے اسپرم کاؤنٹ میں کمی دیکھنے میں آئی،اور جو نوجوان اس سے زیادہ فون استعمال کرتے انکی صورتحال کافی سنگین تھی، ماہرین نے موبائل فون پینٹ کی جیب اور کوٹ کے اوپر والے حصے میں رکھنے والے نوجوانوں میں بھی اسپرمز کی مانیٹرنگ کی،85 فیصد رضاکار جو اس تحقیق میں شامل ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ فون کو پینٹ کی جیب میں رکھتے ہیں، تا ہم اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ پینٹ کی جیب میں فون رکھنے سے انکے اسپرمز متاثر ہوئے،دوران تحقیق یہ بات بھی سامنے آئی کہ پرانے موبائل فونز کے استعمال سے اسپرم کاؤنٹ بڑی تیزی سے کم ہوتے ہیں
ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر موبائل فون کی برقی شعاعوں اور ان شعاعوں سے بننے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے مرد حضرات کی تولیدی صحت متاثر ہوتی ہے اور اس کا براہ راست اثر اسپرم کاؤنٹ پر پڑتا ہے،اسپرم کاؤنٹ کم ہونے کی وجہ سے مرد حضرات کے باپ بننے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے.