Baaghi TV

Tag: موبائل فون

  • موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    موجودہ عہد میں موبائل فونز لگ بھگ ہر فرد کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، مگر کچھ افراد کو ان ڈیوائسز کے باعث ایک عجیب مرض کا سامنا ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی:جرنل بی ایم سی سائیکاٹری میں شائع ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا بہت زیادہ استعمال نوجوانوں میں انحصار سنڈروم کی علامات کی نشوونما کا باعث بنتا ہے جو بالغوں کے مقابلے میں موبائل فون پر زیادہ انحصار کرتے ہیں کوویڈ وبائی مرض نے معاشرے کے متعدد گروہوں خصوصاً یونیورسٹی کے طلباء کی ذہنی صحت پر اثر ڈالا ہے اس مطالعے کا مقصد یونیورسٹی کے طلباء میں موبائل فون پر انحصار کے پھیلاؤ اور اس سے وابستہ عوامل کو تلاش کرنا تھا۔

    ماہرین نے ستمبر 2021 اور جنوری 2022 کے درمیان، اردن، لبنان، مصر، بحرین اور سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں آن لائن اور کاغذ پر مبنی خود زیر انتظام سوالنامے کا استعمال کرتے ہوئے ایک کراس سیکشنل مطالعہ کیا گیا،اس تحقیق میں یونیورسٹی کے کل 5,720 طلباء شامل تھے جن میں مصر کے 2813، سعودی عرب کے 1509، اردن کے 766، لبنان کے 432، اور بحرین کے 200 طلبا کو تحقیق میں شامل کیا گیا-

    روس نے جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سرحدوں پر نصب کر دیئے

    موبائل فون استعمال کرنے پر روزانہ کا اوسط تخمینہ 186.4 (94.4) منٹ تھا مصر سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طلباء کے لیے موبائل پر انحصار کا سب سے زیادہ سکور دیکھا گیا اور لبنان سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طلباء کے لیے موبائل پر انحصار کا سب سے کم سکور دیکھا گیا۔ مطالعہ کے نمونے میں انحصار کا سب سے عام معیار خراب کنٹرول 55.6 فیصد تھا اور سب سے کم عام نقصان دہ استعمال 25.1 فیصد تھا خواتین اور جن کی اطلاع ہے کہ اضطراب کا مسئلہ ہے یا اضطراب کا علاج استعمال کرتے ہیں ان میں بالترتیب 15فیصد اور 75 فیصد موبائل فون پر انحصار بڑھنے کا زیادہ خطرہ تھا۔

    ماہرین نے تحقیق میں پایا کہ مشرق وسطیٰ کے خطے کے عرب ممالک میں یونیورسٹی کے طلباء میں موبائل فون کا انحصار عام ہے موبائل فون پر انحصار کو کم کرنے کے لیے مفید اور نئے مشاغل اپنانے کی مستقبل کے مطالعے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    سونےکی کان سے سونا لے جانے والی ٹیم پر حملہ،دو چینی شہریوں سمیت 4 …

    تحقیق کے مطابق نو موبائل فون فوبیا (نو مو فوبیا) کی اصطلاح کا استعمال ایسی انزائٹی کے لیے کیا جاتا ہے جس کا سامنا کسی فرد کو اس وقت ہوتا ہے جب موبائل فون اس کی رسائی میں نہیں ہوتا، نو مو فوبیا سے موبائل فون کی لت کا اظہار ہوتا ہے،انزائٹی، غصہ، پسینے کا اخراج، سانس لینے کے انداز میں تبدیلیاں، دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جانا اور اردگرد کے ماحول کا احساس ختم ہو جانا اس مرض کی علامات ہیں نوجوانوں میں نو مو فوبیا زیادہ عام ہے مگر ہر عمر کے افراد کو اس کا سامنا ہو سکتا ہے موبائل فونز پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی وجہ سے لوگوں کو اس عارضے کا سامنا ہوتا ہے۔

    محققین کے مطابق موبائل فونز ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں کیونکہ وہ منی (mini) کمپیوٹر کا کام کرتے ہیں جن سے ہم کہیں بھی اپنا کام کر پاتے ہیں اور خاندان سے بھی جڑے رہتے ہیں مگر جب ہم اچانک موبائل فونز سے محروم ہوتے ہیں تو ذہنی بے چینی کے شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ زندگی میں کچھ کم ہوگیا ہے خود اعتمادی کی کمی، جذباتی انتشار اور انزائٹی کے قریب پہنچ جانے والے افراد میں نو مو فوبیا سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

    امریکا نے متحدہ عرب امارات میں اپنا سفیر مقرر کر دیا

    محققین نے بتایا کہ جب کوئی فرد موبائل فون پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگتا ہے تو اس کی زندگی کے متعدد پہلوؤں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کے نتیجے میں ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جبکہ روزمرہ کے کام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے اگر لوگ اس فوبیا سے بچنا چاہتے ہیں تو فارغ وقت میں موبائل فون کے بغیر رہنے کی کوشش کریں، اسی طرح روزانہ ایک گھنٹے کے لیے فون بند کر دیں یا فون کو گھر میں چھوڑ کر باہر نکل جائیں وقت گزارنے کے لیے نئے مشاغل کو اپنانے سے بھی فون پر انحصار کم ہوتا ہے۔

  • سرکاری عہدیداروں کی فون کالز اورحساس معلومات ہیک کرنے کی کوشش

    سرکاری عہدیداروں کی فون کالز اورحساس معلومات ہیک کرنے کی کوشش

    وزیر اعظم آفس نے بڑے سرکاری عہدیداروں کی فون کالز اور حساس معلومات ہیک کرنے کی کوشش کا باقاعدہ انکشاف کر دیا

    سیکیورٹی اداروں کی جانب سے کہا گیا کہ حکومت کے سینیئر سرکاری عہدیداران کے موبائل فون ہیک کرنے اور حساس معلومات کے حصول کی کوشش کا پتا چلا ہے۔ نگران حکومت نے تمام سرکاری افسران کو چوکنا رہنے اور اِیسے کسی بھی میسیج کا جواب نہ دینے کی ہدایت جاری کی ہیں۔

    جاری اعلامیہ کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے حکومت کے سینیئر سرکاری عہدیداران کے موبائل فون ہیک کرنے اور حساس معلومات کے حصول کی کوشش بے نقاب کی ہے، ملوث عناصر نے سینیئر سرکاری عہدیداران کے نام پر سرکاری افسران و بیوروکریسی سے حساس معلومات کے حصول کی مزموم کوشش کی،اس کے لئے واٹس ایپ پر موبائل ہیکنگ لنک بھیج کر معلومات کے حصول کی بھی کوشش کی،

    گھر میں گھس کر خاتون سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سابق پولیس ملازم گرفتار

    خواجہ سرا مشکلات کا شکار،ڈی چوک میں احتجاج،پشاورمیں "ریپ” کی ناکام کوشش

    30 بور پستول کا نام کیمرہ نائن ایم ایم کا نام میموری کارڈ، وقار ڈان کا گرفتاری کے بعد انکشافات

    حکومت نے تمام سرکاری افسران کو چوکنا رہنے اور ایسے کسی بھی میسیج کا جواب نہ دینے کی ہدایت کر دی، افسران کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ ایسا موبائل پیغام موصول ہونے پر فوری طور پر کابینہ ڈویژن کو اطلاع دی جائے.پاکستان کے سیکیورٹی ادارے اس معاملے میں پوری طرح الرٹ ہیں.

    آپ کے ہاتھ ہمارے نوجوانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں

    دنیا کے تیسرے بڑے ہیکر کا انٹرویو ہیکر پاکستانی نہیں ہے، سنئے اہم انکشافات

    پیسے نہیں مانگ رہا، جمعہ کو مزید آڈیو جاری کروں گا۔ ہیکر کا پیغام

    آڈیو لیکس، معاملے کی تہہ تک نہ پہنچے تو معاملات اس سے زیادہ بگڑجائیں گے

  • دنیا بھرمیں طلاق کی شرح میں نمایاں اضافہ کیوں؟ سائنسدانوں نے بڑی وجہ بتا دی

    دنیا بھرمیں طلاق کی شرح میں نمایاں اضافہ کیوں؟ سائنسدانوں نے بڑی وجہ بتا دی

    موجودہ عہد میں دنیا بھر میں طلاق کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب سائنسدانوں نے اس کی ایک بڑی وجہ بتائی ہے۔

    باغی ٹی وی: ترکیہ کی Niğde Ömer Halisdemir یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک اپنے شریک حیات پر توجہ دینے کی بجائے اپنا زیادہ وقت موبائل فون میں گم ہو کر گزارتا ہے تو اس سے شادی متاثر ہوتی ہےاس تحقیق کا مقصد شادی شدہ افراد کی ازدواجی اطمینان اور فوبنگ کے رجحانات کے درمیان تعلقات پر مواصلات کی مہارت کے ثالثی کردار کی جانچ کرنا ہے۔

    تحقیق میں اس عمل کے لیے Phubbing کی اصطلاح استعمال کی گئی،موجودہ عہد میں لوگ اپنے شریک حیات کی بجائے اسمارٹ فون پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں جس سے دیگر افراد کو برا محسوس ہوتا ہے،اس تحقیق میں ترکی کے وسطی اناطولیہ کے علاقے کے کچھ شہروں سے 712 جوڑوں کو شامل کیا گیا تھاجن کی اوسط عمر 37 سال تھی تحقیق کے دوران دیکھا گیا کہ موبائل فون میں گم رہنے اور رشتے سے اطمینان کے درمیان کیا تعلق موجود ہے۔

    برطانیہ : ڈاکٹرز میں خودکشیوں کی شرح حیران کن طور پر بڑھ گئی

    اس مقصد کے لیے ان جوڑوں سے تفصیلات حاصل کی گئیں اور ان سے سوالنامے بھروائے گئے تاکہ ان کی ذہنی صحت کا اندازہ ہوسکے اور یہ بھی معلوم ہو سکے کہ ان کی لوگوں سے بات چیت کی صلاحیت کتنی اچھی ہے اور کس حد تک موبائل فون ان کی زندگی کا حصہ ہے۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک جتنا زیادہ وقت موبائل فون پر گزارے گا، باہمی رشتہ اتنا زیادہ متاثر ہوگا تحقیق کے مطابق اب Phubbing کو کافی حد تک معاشرے نے قبول کرلیا ہے مگر پھر بھی شادی شدہ افراد کے لیے یہ تباہ کن عادت ہے محققین نے بتایا کہ نظر انداز کیے جانے کا تصور لوگوں کو اچھا محسوس نہیں ہوتا اور اس کے نتیجے میں جوڑوں کے درمیان جھگڑے بڑھ جاتے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کا شریک حیات توقعات پر پورا نہیں اتر رہا بات کرنے کی صلاحیت Phubbing کے منفی اثرات کو زائل کرتی ہے جبکہ شادی سے اطمینان بڑھتا ہے شریک حیات کی بات اور خیالات پر پوری توجہ مرکوز کرنے سے باہمی تلخیاں کم ہوتی ہیں۔

    ناسا نظامِ شمسی کے سب سے قیمتی سیارچے پر خلائی جہاز روانہ کرے گا

    محققین نے تسلیم کیا کہ تحقیق کسی حد تک محدود تھی کیونکہ نتائج کے لیے جوڑوں کی جانب سے خود بیان کی گئی باتوں پر انحصار کیا گیا یہی وجہ ہے کہ وہ اس حوالے سے مزید تحقیق کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں البتہ انہوں نے مشورہ دیا کہ ایک دوسرے سے بات چیت کی صلاحیت بہتر بنانا جوڑوں کی خوشگوار زندگی کے لیے بہت زیادہ اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

  • ہسپتالوں میں مر یضوں اور تیمارداروں سے موبائل فون  چوری کرنے والا ملزم گرفتار

    ہسپتالوں میں مر یضوں اور تیمارداروں سے موبائل فون چوری کرنے والا ملزم گرفتار

    پشاور کے ہسپتالوں میں تیمار داروں اور مریضوں سے موبائل فونز چوری کرنے والے گینگ کا سراغ لگا کر گروہ کے سرغنہ اور مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزم کا تعلق ضلع کوہاٹ سے ہے جو ہسپتالوں میں مریضوں سے موقع ملتے ہی موبائل چوری کرنے میں ملوث ہے ،جس نے ابتدائی تفتیش کے دوران متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے، ملزم کے قبضہ سے 7 عدد قیمتی موبائل فونز برآمد کر لئے گئے ہیں جن کے اصل مالکان کا سراغ لگایا جا رہا ہے، ملزم سے دوران تفتیش مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے
    پشاور ڈی ایس پی ٹاون سجاد حسین کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ ٹاون ابراہیم خان نے دوران تفتیش متعدد جرائم پیشہ اور مشکوک افراد کو شامل تفتیش کرنے کیساتھ ساتھ ہسپتال میں لگے کیمروں کی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا جس کے دوران واردات میں ملوث گروہ کا سراغ لگا کر مرکزی ملزم منظور احمد ولد تاج علی کو گرفتار کر لیا گیا جس کا تعلق ضلع کوہاٹ سے ہے، ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران ہسپتالوں میں مریضوں اور تیمارداروں سے موبائل فونز چوری کرنے کے بعد سستے داموں فروخت کرنے کا انکشاف کیا ہے جس کے قبضہ سے ابتدائی طور پر 7 عدد قیمتی موبائل فونز برآمد کر لئے گئے ہیں جن کے اصل مالکان کا سراغ لگا کر حوالہ کیا جائے گا، ملزم سے دوران تفتیش مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے،

  • لاہور ہائیکورٹ نے دہشتگرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے کو بری کر دیا

    لاہور ہائیکورٹ نے دہشتگرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے کو بری کر دیا

    لاہورہائیکورٹ، دہشت گرد تنظیم سے تعلق اور مواد پھیلانے کے الزام میں قید کی سزا پانے والا لاہورہائیکورٹ سے بری کر دیا گیا

    جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس امجد رفیق پر مشتمل بینچ نے شک کا فائدہ دے کر رحمت اللہ کو بری کرنے کا فیصلہ دیا ،سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے ملزم کو انسداددہشت گردی عدالت نے مجموعی طور پر دس سال کی سزا سنائی گئی تھی،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم یا مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر اسکے فون ڈیٹا نکلوانا آئین کے آرٹیکل 13 کے خلاف ہے۔ ہمیں تشویش ہے کہ کسی کے ذاتی فون کا ڈیٹا لینا اچھی روایت نہیں کیونکہ یہ پرائیویسی کے حقوق کے خلاف ہے۔ عدالت محسوس کرتی ہے کہ اگر ملزم راضی نہ ہو تو کم از کم مجسٹریٹ سے فون کا ریکارڈ لینے کے لئے اجازت طلب کرنی چاہیے۔اس جدید دور میں ہم اپنے قریبی اور پیاروں سے آڈیو اور ویڈیو کے زریعے بات کرتے ہیں۔ہمارے فونز ہمارے گھر سے کم نہیں۔ اپنے گھر کی چار دیواری میں رکھے جانے والے ہر تعلق کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ انسان کتابیں، گوگل، فیسبک، یو ٹیوب، ٹویٹر دیکھتا ہے جسکی قانون میں ممانعت نہیں۔جبتک انسان اپنی معلومات کو فون میں سیکریٹ رکھنا چاہیے ، اسکی اجازت یا قانونی ہدایات کے بغیر وہ معلومات نہیں نکالی جا سکتی۔

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ اگر معلومات کا حصول قانون کے خلاف ہے تو اسے قانون کے زریعے روکا جا سکتا ہے۔ قانون کے تحت اگر موبائل فون کا ڈیٹا کسی جرم کا لنک دے رہا ہے تو24 گھنٹے میں عدالت کے نوٹس میں لا کر اسے دیکھا جا سکتا ہے۔استغاثہ کی جانب سے مواد تقسیم کرنے کا الزام کسی شہادت سے ثابت نہیں ہوتا۔موبائل سے ملنے والا مبینہ مواد کسی بھی گواہ کے بیان کے وقت ملزم کے سامنے نہیں رکھا گیا۔

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

    شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

  • موبائل فون کی لت، 13 سالہ لڑکی نے  گھر والوں کو قتل کرنے کی سازش کرنا شروع کر دیں

    موبائل فون کی لت، 13 سالہ لڑکی نے گھر والوں کو قتل کرنے کی سازش کرنا شروع کر دیں

    آج کل بچہ ہو یا نوجوان، موبائل فون کے استعمال میں مصروف رہتا ہے جسے والدین کی جانب سے منع بھی کیا جاتا ہے لیکن پھر بھی سوشل میڈیا کے اس دور نے لوگوں کو موبائل کی ایسی لت لگوادی ہے جو چاہنے کے باوجود چھوٹ نہیں پاتی اہ کے پیش نظر بھارت میں ایک دل دہلا دینے والی کہانی سامنے آئی جس میں13 سالہ لڑکی نے گھر والوں کو قتل کرنے کی سازش کرنا شروع کر دی تھی-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے ” بی بی سی” کے مطابق بھارت کے شہر احمد آباد کے رہائشی 56 سال ایک شخص کا کہنا ہے کہ ان کی 13 سالہ بیٹی نے گھر والوں کو قتل کرنے کی سازش کرنا شروع کر دی تھی وہ چینی کےڈبے میں دوائی ملانے لگی تھی، اور روزانہ صبح جب ہمیں باتھ روم جانا ہوتا تو اس سے قبل وہ باتھ روم میں پھسلنے والی چیزیں پھینک دیتی تھی، وہ یوٹیوب پر ہر وقت قتل کی ویڈیوز دیکھا کرتی تھی۔

    بی بی سی کے مطابق جب حالات قابو سے باہر ہونے لگے تو انہوں نے گجرات حکومت کی طرف سے چلائی جانے والی 181 ہیلپ لائن ”ابھیام“ پر فون کرکے مدد طلب کی اہلکاروں نے ان کے گھر پہنچ کر والدین سے ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں جس میں معلوم ہوا کہ ان کی شادی کو 26 سال ہو چکے ہیں۔ شوہر کی عمر 56 سال تھی جبکہ اہلیہ 46 سال کی ہیں ان کے دو بچے ہیں، جن میں سے بیٹی کی عمر 13 سال اور بیٹے کی عمر سات سال ہے۔

    سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

    والد نے 181 ٹیم کو بتایا کہ ہماری ایک 13 سالہ بیٹی ہے، جو ہر روز ہماری تذلیل کرتی ہے، ہمارا کہنا نہیں مانتی۔ رات بھر جاگتی ہے، دن چڑھے تک سوتی ہے، سارا دن ٹی وی دیکھتی ہے، بغیر بتائے باہر چلی جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر ہمیں قتل کرنے کی دھمکی دیتی ہے وہ کہتی ہے کہ اسے گھر میں کوئی نہیں چاہیےوہ اکیلی رہنا چاہتی ہے وہ کہتی ہے تم یہ گھر میرے نام کر دو تم سب خودکشی کرو اور مر جاؤ میں یہ گھر بیچ کر بیرون ملک شفٹ ہونا چاہتی ہوں وہ گذشتہ 4 ماہ سے اسکول نہیں جا رہی۔ وہ اس وقت ساتویں جماعت میں ہے اتنی چھوٹی عمر میں بری صحبت میں پھنس گئی جب لاک ڈاؤن ہوا تو آن لائن تعلیم ہونے لگی اور آن لائن تعلیم کی وجہ سے میں نے اپنی بیٹی کو اسمارٹ فون دے دیا۔

    بلاول بھٹو آنے والے وقت میں وزیر اعظم ہونگے،عاجز دھامرہ

    انہوں نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف لڑکوں سے بات کرتی ہے چھپ چھپ کر لڑکوں سے ملنے بھی جاتی ہے۔ ہم سے بہت کچھ چھپاتی ہے۔ بہت سی چیزیں جو اس نے سیکھی ہیں وہ سیکھنے کے لیے نہیں۔ جب ہمیں اس بات کا علم ہوا تو میری بیوی نے اپنی بیٹی سے اسمارٹ فون لے لیا۔ آج دو ماہ سے اس کے پاس فون نہیں ہے۔ فون چھینے جانے کے بعد، اس نے گھر میں کھلے عام ہمیں دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور ہمیں مارنے کی سازشیں کرنا شروع کر دیں پتہ نہیں کہاں سے 100 اور 500 کے کرنسی نوٹوں کے بنڈل لاتی ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ اسے کون پیسے دیتا ہےوہ کہتی ہے کہ اپنی سہیلی کے گھر جا رہی ہے پانچ چھ گھنٹے بعد گھر لوٹتی ہے-

    کراچی پولیس نے عید الاضحیٰ کا سیکیورٹی پلان تیارکرلیا

    181 کی ٹیم کو 13 سالہ بیٹی کی کاؤنسلنگ کرتے ہوئے پتہ چلا کہ وہ پچھلے دو سال سے ایک لڑکے کی محبت میں مبتلا ہے، اس کی ملاقات سوشل میڈیا سائٹ انسٹاگرام ایپ کےذریعےہوئی ایپ پراس کے 13 سے 14 مختلف اکاؤنٹس ہیں وہ سوشل میڈیا کے ذریعے لڑکے کے ساتھ ہے اسے محبت اور جنسی تعلقات سے متعلق تمام چیزوں کی سمجھ ہے۔

    اس نے کونسلنگ کے دوران کہا کہ میں اس لڑکے کو اپنی مرضی سے بلا لیتی تھی میں اپنی سہیلی کے گھر جانے کے بہانے اس سے ملنے جاتی۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ مجھے یہ سب نہیں کرنا چاہیے،جب سے مجھے موبائل ملا مجھے سب کچھ معلوم ہونا شروع ہو گیا۔ میرے اسکول اور میری سوسائٹی میں میرے محلے میں رہنے والی لڑکیوں نے مجھے اس بارے میں مشورے دیئے اور سمجھایااس کی بنیاد پر میں نے لڑکے کے ساتھ محبت کا معاملہ آگے بڑھایا۔

    عمران خان اور ان کی اہلیہ کو نیب کا طلبی نوٹس

    181 کی ٹیم نے بتایا کہ کونسلنگ کے دوران 13 سالہ لڑکی نے اپنی سہیلی کے بارے میں بتایا۔ تو ہیلپ لائن ٹیم نے پڑوس سے اس کی دوست کو بلایااس کی دوست نے کہا کہ وہ لڑکی ایک لڑکے کے ساتھ تعلق میں ہے۔ دو تین سال پہلے وہ اس کے ساتھ رومانی تعلق میں تھا پھر ان کا بریک اپ ہو گیا اور پھر وہ لڑکا اس 13 سالہ لڑکی کے ساتھ تعلق میں آ گیا کونسلنگ کے دوران پتا چلا کہ دونوں لڑکیاں ایک 19 سالہ لڑکے سے رابطے میں ہیں جو انہی کے پڑوس میں رہتا ہے۔

    181 کی ٹیم نے لڑکے کی شناخت حاصل کی اور اسے کونسلنگ کے لیے بلایا اس لڑکے کی کونسلنگ کے دوران پتہ چلا کہ اس کا دونوں لڑکیوں کے ساتھ محبت کا رشتہ ہے اور دونوں لڑکیوں کو غلط طور پر اکسایا جا رہا تھا۔

    تمام تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ٹیم نے تینوں کی ایک ساتھ کونسلنگ کی۔ تینوں کی کونسلنگ کے بعد انہوں نے اپنی غلطی مان لی اور والدین سے معافی مانگی۔

    سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی اہلیہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

  • 100 سے زائد وارداتیں،300 سے زائد موبائل فون چھیننے والا گرفتار

    100 سے زائد وارداتیں،300 سے زائد موبائل فون چھیننے والا گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ) اور پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن سے منشیات فروشی اورڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ڈکیت گروہ کے2ملزمان امیرزیب اور فرحان کوگرفتار کرلیا۔ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ و ایمونیشن اور 2عدد چھینی ہوئی موٹرسائیکلیں بھی برآمد کرلی گئیں۔

    ملزمان اورنگی ٹاؤن اور گرد و نواح میں منشیات فروشی، ڈکیتی اور چھینا چھپٹی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں۔ملزمان گھر کے باہر بیٹھے ہوئے اور روڈ پر آنے جانے والے شہریوں سے گن پوائنٹ پر موبائل فون اور نقدی چھین کر فرار ہو جاتے تھے۔ملزم فرحان عادی مجرم ہے اور متعددبار جیل جا چکا ہے۔ دورانِ تفتیش ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اورنگی ٹاؤن،سائیٹ ٹاؤن اور گرد ونواح کے علاقوں سے ڈکیتی اور چھینا چھپٹی کی 100 سے زائد وارداتوں میں 300 سے زائد موبائل فون اورمبلغ 3لاکھ روپے سے زائد نقدی لوٹنے کا اعتراف کیا ہے۔ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    گرفتارملزمان کو بمعہ اسلحہ وایمونیشن اور موٹرسائیکلیں مزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    رہنماوں نے پارٹی قیادت سے ٹکٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے استعفیٰ کی دھمکی دے دی،

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

    اگر ٹکٹ کا میرٹ میرا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنتا ہے؟ عائلہ ملک پھٹ پڑی

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

    پنجاب انتخابات کے لئے مبینہ طور پر ٹارگٹ کلر کو ٹکٹ جاری

  • سرکاری افسر نےفون ڈھونڈنے کیلئے پورا ڈیم خالی کرادیا

    سرکاری افسر نےفون ڈھونڈنے کیلئے پورا ڈیم خالی کرادیا

    بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک سرکاری افسر کو سیلفی لینے کا شوق مہنگا پڑگیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق 32 سالہ فوڈ انسپکٹر راجیش وشواس جو ضلع کینکر کے شہر پاکھنجورمیں تعینات تھا سیلفی لیتے ہوئے وہ اپنا موبائل پانی میں گرا بیٹھا اور اس کی تلاش میں ڈیم ہی خالی کروادیا۔


    فوڈ انسپکٹر راجیش وشواس اپنے دوستوں کے ہمراہ سیر و تفریح کی غرض سے پرالکوٹ پہنچے تھے جہاں سیلفی لیتے ہوئے ان کا موبائل 10 فٹ گہرے پانی میں گرگیا پانی میں گرنے والا فون سام سنگ ایس 23 الٹر تھا جس کی قیمت 95 ہزار بھارتی روپے تھی پانی کو ڈیم سے خالی کرنے کا منگل کو شروع کیا گیا جو جمعرات مکمل کیا گیا –


    جب متعلقہ حکام کوعلم ہوا تو انہوں نے فوڈ انسپکٹر کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے ضلع کی کلکٹر پرینکا شکلا نےکہا کہ سرکاری افسر کےپاس ڈیم سے پانی کے نکالنے کا کوئی اختیار نہیں ہےیہ پانی سخت گرمی میں انسانوں اور جانوروں نے استعمال کیا جانا تھا۔ سرکاری افسر کے خلاف جاری حکم نامےمیں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ساتھ ہی بغیر اجازت پانی ضائع کیا جس پر ان کو فوری طور پر معطل کردیا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجیش وشواس نے بتایا کہ گاؤں کے کچھ غوطہ خوروں نے موبائل فون تلاش کرنے میں مدد کی لیکن دو دن تک کوشش کرنے کے بعد بھی نہی ملا تو انہوں نے ڈیم کو خالی کرنے کا مشورہ دیا میں نےان سےکہا کہ فون تو اب خراب ہوچکاہوگالیکن مقامی افراد کا ماننا تھا کہ شاید وہ ٹھیک ہو اور وہ میری مدد کے لئے آمادہ تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جب سب ڈویژنل افسر واٹر ریسورسز سے رابطہ کیا تو انہوں نے زبانی احکامات جاری کر دیئے تھے جس کے بعد ہی کرائے پر پمپ حاصل کرکے پانی نکالنا شروع کردیا تھا۔

  • میری ایجاد کردہ ڈیوائس اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہے،موبائل فون کے موجد کا اعتراف

    میری ایجاد کردہ ڈیوائس اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہے،موبائل فون کے موجد کا اعتراف

    پچاس سال قبل موبائل فون ایجاد کرنے والے امریکی انجینئر مارٹن کوپر نے اعتراف کیا کہ ان کی ایجاد کردہ یہ ڈیوائسز اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی : اے ایف پی کے مطابق موبائل فون کے موجد اور 94 سالہ امریکی انجینئر مارٹن کوپرنےکہا کہ ہم سب کی جیبوں میں جو صاف ستھرا آلہ ہے اس میں تقریباً لامحدود صلاحیت موجود ہے مجھے لگتا ہے یہ ایک دن بیماریوں پر قابو پانے کے لیے بھی مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔

    دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل

    تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی ایجاد کردہ یہ ڈیوائسز اب ایک مسئلہ کھڑا کر رہی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اس ڈیوائس کے استعمال میں بہت زیادہ وقت صرف کر رہے ہیں لیکن لوگ اسے ایک جنون کی طرح استعمال کررہےانہوں نے مزید کہا کہ اپنی ایجاد میں لوگوں کا جنون دیکھ کر دھچکا لگتا ہے مسئلہ یہ ہے کہ لوگ موبائل فون کی اسکرین کو بہت زیادہ دیکھتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ حیران رہ گئے جب انہوں نے ایک شخص کو سڑک پار کرتے ہوئے اپنے سیل فون کو دیکھتے ہوئے دیکھا یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لوگوں کے دماغ موبائل فون کی وجہ سےماؤف ہو چکے ہیں مارٹن کوپر نےطنزیہ انداز میں مزید کہا کہ کچھ لوگوں کے اوپر کاریں چڑھ جانے کے بعد انہیں سمجھ آ جائے گا۔

    خیال رہے مارٹن کوپر خود ایپل کا جدید ترین آئی فون ماڈل استعمال کرتے ہیں اور ایپل واچ اور ہیڈ فون بھی پہنتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ لاکھوں موبائل ایپس کا ہونا بہت زیادہ ہوسکتا ہے میں کبھی نہیں سمجھوں گا کہ سیل فون کا استعمال ایسے کیا جائے جس طرح میرے پوتے اور پڑپوتے کرتے ہیں۔

    اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    واضح رہے کہ دنیا کا پہلا موبائل فون موٹرولا کا ڈینا ٹیک 8000 ایکس تھا جسے 1983 میں اس کمپنی کے ایک سنیئر عہدیدار مارٹن کوپر نے تیار کیا تھا کوپر نے تاریخ میں سیل فون کا استعمال کرتے ہوئے پہلی کامیاب موبائل فون کال 3 اپریل 1973 کو اس وقت کی تھی جب وہ "Motorola” کمپنی میں کام کررہےتھےموٹرولا کمپنی نے اپنی حریف کمپنیوں کے قابلے میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔

    1970 کی دہائی کے اوائل میں مارٹن کوپر نے سیمی کنڈکٹرز، ٹرانزسٹرز، فلٹرز اور اینٹینا کے ماہرین کی ایک ٹیم کو اکٹھا کیا جو پہلا سیل فون دنیا کے سامنے لانے کے لیے تین ماہ تک چوبیس گھنٹے کام کرتے رہے تھے۔ اس فون میں صرف 30 نمبروں کو اسٹور کیا جاسکتا تھا جب کہ اس کا وزن 1.1 کلو گرام جس سے 30 منٹ تک بات کی جاسکتی ہے کوپر نے اپنی نئی ایجاد کا جشن اپنے حریف بیل سسٹم کے ڈائریکٹر جوئیل اینجل کو فون کر کے منایا تھا موٹرولا موبائل فونز کے پہلے تجارتی ورژن کی قیمت 5 ہزار ڈالر تھی۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

  • دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل

    دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل

    دنیا کی پہلی موبائل فون کال کو 50 سال مکمل ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 3 اپریل 1973 کو 50 سال قبل نیویارک کے شہریوں نے ایک درمیانی عمر کے شخص کو سڑک پر ایک اینٹ جیسے بڑے پلاسٹک فون ہر بات کرتے ہوئے دیکھا تھا یہ موٹرولا کے ملازم مارٹن کوپر تھے اور انہوں نےایک پروٹوٹائپ موبائل ڈیوائس سے پہلی کال کی تھی مارٹن کوپر نے مین ہیٹن کے وسط میں کھڑے ہو کر نیو جرسی میں بیل لیبز کے ہیڈ کوارٹر کو کال کی-

    اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    کوپر نیویارک شہر میں 53 اور 54 ویں اسٹریٹ کے درمیان سکستھ ایونیو پر 900 میگا ہرٹز بیس اسٹیشن کے قریب کھڑے ہوئے اور بیل کے ہیڈ کوارٹر کو کال کی قطع نظر، یہ کال موبائل ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک بڑا قدم تھا،اب مارٹن کوپر 94 سال کے ہوچکے ہیں اور انہیں پہلی فون کال کے بارے میں زیادہ تفصیلات یاد نہیں۔

    مارٹن کوپر کو موبائل فون کا بانی تصور کیا جاتا ہے اور 2 اپریل 1973 کو کال کے لیے پروٹوٹائپ موبائل ڈیوائس کو استعمال کیا گیا تھا مارٹن کوپر نے موبائل فون کو اس لیے تیار کیا تھا تاکہ ڈاکٹروں اور اسپتال کےعملے کے درمیان رابطوں کو بہتر بنایا جاسکےاس وقت انہیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ ڈیوائس کس حد تک دنیا کو بدل کر رکھ دے گی۔

    40 نوری سال کے فاصلے پر15کروڑ سال قبل وجود میں آنیوالا نیا سیارہ دریافت

    ڈینا ٹیک 8000 ایکس نامی اس ڈیوائس کی تیاری پر 10 کروڑ ڈالرز خرچ ہوئے تھے اور وہ اگلے 10 برسوں تک مارکیٹ میں پیش کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکی تھی جب اس فون کو 1983 میں پیش کیا گیا تواسےدنیا کا پہلا موبائل فون قراردیا گیا تھا جس کا وزن ایک کلوگرام سے زیادہ تھا۔

    اسے چارج کرنے کے لیے 10 گھنٹے لگتے تھے اور محض 30 منٹ تک بات کرنا ہی ممکن تھا جس کے بعد دوبارہ چارج کرنا پڑتا تھااس کی قیمت 4 ہزار ڈالرزرکھی گئی تھی جو موجودہ عہدکے 11 ہزار 500 ڈالرز(32 لاکھ پاکستانی روپے سےزائد) کے برابر ہےبیشتر کمپنیوں نے ہی اس فون کو خریدا تھا تاکہ عملے سے دفتر سے باہر بھی رابطہ کرنا ممکن ہو جائے۔

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    دنیا کا پہلا اسمارٹ فون 16 اگست 1994 کو معروف کمپنی آئی بی ایم نے متعارف کرایا تھا جس کا نام پہلے انیگلر رکھا گیا مگر بعد میں اسے سائمن پرسنل کمیونیکٹر کہا جانے لگا یہ مارکیٹ میں دستیاب پہلا ٹچ اسکرین فون تھا جسے اسٹائلوس یا انگلی کی مدد سے آسانی سے استعمال کیا جا سکتا تھا جبکہ اس میں کیلنڈر، کیلکولیٹر، ایڈریس بک اور نوٹ پیڈ جیسے فنکشن انسٹال تھے۔