Baaghi TV

Tag: مودی سرکار

  • ہندو انتہا پسندوں کی باحجاب نہتی  مسلمان طالبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش، لڑکی کے اللہ اکبر کے نعرے

    ہندو انتہا پسندوں کی باحجاب نہتی مسلمان طالبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش، لڑکی کے اللہ اکبر کے نعرے

    سابق وزیراعلیٰ مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی نے خواتین طلبہ کو ہراساں کرنے کے واقعات کی مذمت کی ہے

    محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ مسلمان لڑکی کو ہراساں کرنےوالوں کو اقتدار والوں کی سرپرستی حاصل ہے، واقعات کو دیگر معاملات سے الگ کرکے نہیں دیکھنا چاہیے،بی جے پی سمجھتی ہے وہ اتر پردیش کے انتخابات میں ووٹرز کو تقسیم کر پائے گی،

    مودی سرکار نے بھارت کو جہنم بنا دیا، بھارتی ریاست کرناٹک میں طلبا پر حجاب کی پابندی کا تنازع شدت اختیار کرنے لگا، انتہا پسند ہندووں نے ایک نہتی تنہا مسلمان طالبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

    بھارتی شہر اوڈوپی میں انتہا پسند ہندو مسلم طلبا کااحتجاج بھی برداشت نہ کرسکے۔ نارنجی رنگ کے مفلر والے بھارتی انتہا پسند باحجاب طلبا کے خلاف احتجاج کرنے نکل پڑے۔

    کریش لینڈنگ کیوں کی ؟ بھارتی حکومت نے مسلمان پائلٹ کو85 کروڑ کا بل بھیج دیا

    انتہا پسندوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کالج انتظامیہ مسلم طلبا کو نارنجی شال پہننے یا پھر اسکارف اتارنے کا حکم دے یکن کالج جاتی باحجاب طالبہ مشتعل مجمع کے سامنے ڈٹ گئی، لڑکی نے اللہ اکبر کے نعرے بھی لگائے، انتہا پسندوں نے طالبہ کو گھیرنے کی کوشش بھی کی لیکن بہادر لڑکی کا مقابلہ نہ کر سکے۔

    بھارتی اسکالر اشوک سوائن نے بھارتی ریاست کرناٹک کی ویڈیو شئیر کی، جس میں انتہا پسند ہندووں کو ایک با حجاب لڑکی کو ہراساں کرتے دیکھا جا سکتا ہے اشوک سوائن نے لکھا کہ کرناٹک، بھارت میں اپنے کالج کے راستے میں ایک اکیلی مسلم لڑکی کو حجاب پہننے کی وجہ سے دائیں بازو کے ہندو ہجوم کی طرف سے ہراساں کیا جا رہا ہے اس دنیا میں کون اتنا بہادر ہے جو ایسے مجمع کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو سکے؟

    ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے ،وزیراعظم

     

    دوسری جانب مسلم طلبا کی جانب سے کرناٹکا ہائیکورٹ میں دائر درخواست پر سماعت آج ہوگی بھارتی ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے پر پابندی کے خلاف بڑی تعداد میں مظاہرین احتجاج کر رہے ہیں ۔ گزشتہ روز کرناٹک کے دو شہروں میں سینکڑوں کی تعداد میں افراد نے پابندی کے خلاف مظاہرہ کیا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کرناٹک کے ایک سرکاری سکول میں مسلمان طالبات کو حجاب پہننے سے روکا گیا تھا جس کے بعد دو اور تعلیمی اداروں میں بھی پابندی کے احکامات جاری کر دیے گئے تھے-

    یوم یکجہتی کشمیر: بھارتی مظالم کے خلاف بیلجئیم میں کارریلی

    رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا میں پیش آنے والے واقعات نے اقلیتی برادری میں خوف پیدا کردیا ہے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے تحت ظلم میں اضافہ ہوا ہے۔

    گرلز اسلامک آرگنائزیشن کرناٹکا کے صدر سمعیہ روشن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فطری طور پر امتیازی سلوک ہے اور حقوق کے بھی خلاف ہے جو بھارت کے آئین نے طالبات دیے ہیں پابندی شخصی آزادی کی خلاف ورزی ہے جو طالبات کا حق ہے اور اس سے کسی دوسرے کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا۔

    سوشل میڈیا میں زیرگردش فوٹیج میں دکھا جاسکتا ہے کہ کرناٹکا میں کم ازکم دو قصبوں میں سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور ہاتھوں میں بھارتی پرچم لے ہوئے ہیں بھارت میں حجاب پر پابندی کے خلاف کئی دنوں سے جاری احتجاج کا یہ نیا سلسلہ ہے۔

    بھارتی خاتون صحافی کو بی جے پی کارندوں کیجانب سے قتل اور ریپ کی دھمکیاں

    مقامی میڈیا کے مطابق ان میں سے ایک اسکول نے جزوی طور پر پابندی اٹھاتے ہوئے مسلمان طالبات کو حجاب کے ساتھ کلاس میں بیٹھنے کی اجازت دی لیکن انہیں الگ کلاس رومز میں بیٹھنے کی ہدایت کی حجاب پر پابندی عائد کرنے والے دیگر دو اسکولوں نے تعطیلات کا اعلان کیا اور پیر کو مذکورہ اسکول بند رہے۔

    ریاست کرناٹکا کی نریندر مودی کی دائیں بازو کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور دیگر معروف شخصیات نے حجاب پر پابندی کی حمایت کی، جس پر دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے تنقید کی گئی۔

    بھارت میں بجٹ پیش، عام آدمی کو نہ مل سکا ریلیف، کسان بھی دیکھتے رہ گئے

    بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے گزشتہ ہفتے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ طالبات کے تعلیم کی راہ پر حجاب لا کر ہم بھارتی بیٹیوں کا مستقبل چھین رہے ہیں-

    خیال رہے تین روز قبل ہی کرناٹکا کے ضلع اڈوپی کے ساحلی علاقے کنڈاپور میں 27 طالبات کو سرکاری کالج میں داخلے سے روک دیا گیا تھا سوشل میڈیا میں اس کی ویڈیو بھی گردش کر رہی تھی۔

    اس سےقبل 28 دسمبر 2021 کو کرناٹکا کی گورنمنٹ خواتین پی یو کالج کی 6 طالبات کو حجاب کرنے پر داخلے پر پابندی عائد کردی گئی تھی بعدازاں جن طالبات کو کالج میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی انہوں نے کئی دنوں تک احتجاج کیا تھا اور ان میں سے 5 افراد نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی اور استدعا کی ہے کہ انہیں حجاب کے ساتھ کلاس میں جانے کی اجازت دی جائے۔

    شادی سے انکارپر 24 سالہ لڑکی پر تیزاب پھینکنے والا ملزم گرفتار

  • مودی سرکار کے دباؤ پر ٹویٹر نے میرے فالوورز کی تعداد کم کردی،راہول گاندھی

    مودی سرکار کے دباؤ پر ٹویٹر نے میرے فالوورز کی تعداد کم کردی،راہول گاندھی

    نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ مودی سرکار کے دباؤ پر ٹویٹر نے میرے فالورز کی تعداد گھٹا دی ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس رہنما راہول گاندھی نے ٹویٹر انتظامیہ کو شکایتی خط لکھا ہے جس میں امتیازی سلوک کا شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ برس سے مسلسل کم ہوتے ہوتے نئے فالورز کی تعداد اب صفر ہوگئی ہے۔

    واٹس ایپ نے گروپس ایڈمنز کے لئے نیا فیچرمتعارف کرانے کا فیصلہ

    بھارتی اپوزیشن نے شکایتی خط میں لکھا کہ گزشتہ برس اگست سے میرے نئے فالوورز کی تعداد میں اضافہ اچانک بند ہوگیا بعد ازاں کچھ اضافہ ہونے لگا لیکن اس کے بعد پھر سے ہر ماہ فالوروز کی تعداد کم ہوتے ہوتے اب تقریباً صفر رہ گئی۔

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    اپوزیشن لیڈر رہول گاندھی کے بقول ٹویٹر انڈیا کے چند قابل اعتماد لوگوں نے بتایا کہ مودی حکومت کی طرف سے میری آواز کو خاموش کرنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ پہلے ان کا خیال تھا کہ ٹویٹر پر آزاد اور منصفانہ ٹویٹس کو روکنے میں نادانستہ پیچیدگی کا شکار ہے لیکن معاملہ برعکس نکلا۔

    بھارتی اپوزیشن لیڈر نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ بھارت میں آمریت کے فروغ میں حکومت کی مدد نہ کرے۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    خیال رہے کہ گزشتہ برس مودی سرکار نے سوشل میڈیا کے نئے قوانین متعارف کرائے تھے جن میں ملک کی خودمختاری، ریاستی سلامتی اور امن عامہ کو نقصان کے نام پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندیاں عائد کی تھیں جس پر سوشل میڈیا کمپنیوں نے مودی سرکار کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے قوانین کو عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

  • بھارت میں ہندوانتہاپسندمودی سرکارکی سرپرستی میں قابوسےباہرہوگئے،مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سےروکنےکا ایک اورواقعہ

    بھارت میں ہندوانتہاپسندمودی سرکارکی سرپرستی میں قابوسےباہرہوگئے،مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سےروکنےکا ایک اورواقعہ

    نئی دہلی: بھارت میں ہندوانتہا پسند ہندوؤں نے کرناٹک کے ایک سکول میں مسلمان طلبا کونماز جمعہ کی ادائیگی سے روک دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کرناٹک کے ایک سکول میں ہندوانتہا پسندوں کی جانب سے طلبا کوزبردستی نمازجمعہ کی ادائیگی سے روکنے کا واقعہ سامنے آگیا۔

    کرناٹک کے ایک سرکاری سکول میں ہندوانتہاپسندوں نے اس وقت دھاوا بول دیا جب 20 مسلمان طلبا نماز جمعہ ادا کررہے تھے۔ ہندوانتہاپسندوں نے طلبا کونماز پڑھنے سے روک دیا سکول میں توڑ پھوڑ کی اورپرنسپل کو برا بھلا کہا اوردھمکیاں دیں۔

    دھمکیوں کے بعد سکول پرنسپل نے نماز کی ادائیگی کی اجازت منسوخ کردی لیکن ہندوانتہا پسندوں کی سرپرست انتظامیہ نے پھربھی اسکول پرنسپل کے خلاف انکوائری شروع کردی۔

    اماراتی شہزادی کا بھارتی انتہا پسندوں پرشکنجہ کسنےکا فیصلہ،متعدد شکایتوں پردبئی کی…

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کی شہزادی شیخہ ہندہ بنت فیصل نے بھارتی انتہا پسندوں پر شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا ہے یو اے ای کی شہزادی نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی بھارتی انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف اور اسلام کے خلاف بات کرتا نظر آئے تو فوراً ہمیں رپورٹ کرے ہم ا س کے خلاف یو اے ای میں فوراً کاروائی کریں گے جس کے نتیجے میں ملک سے بے دخلی ویزا کینسلیشن اور دبئی میں داخلے پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے-

    سعودی عرب میں پاکستانی شہری فحاشی کا اڈہ چلانے کے الزام میں گرفتار

    یو اے ای کی شہزادی کے اعلان کے ساتھ ہی ہندو انتہا پسندوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور متعدد شکایتوں کے بعد دبئی کی پولیس نے بھارتی انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا ہے واضح رہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع کر دیا ہے گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ہو موبلنچنگ ہو یا لو جہاد یا کورونا جہاد کے نام پر مسلم مخالف مہم چلانا ہو تو ان سب پر دنیا بھر میں آ وازیں اٹھنے لگی ہیں یہاں تک کہ بھارتی مسلمانوں پر جمعے کی نماز پر پابندی کی مہم ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے-

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

  • کورونا وبا:حکومتی اقدامات نہ ہونےکی وجہ سے متھن چکرورتی مودی سرکار پر برس پڑے

    کورونا وبا:حکومتی اقدامات نہ ہونےکی وجہ سے متھن چکرورتی مودی سرکار پر برس پڑے

    ممبئی: بھارتی اداکار متھن چکرورتی نے کہا ہے کہ کورونا وبا کے دوران حکومتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی آمدنی بالکل ختم ہوگئی تھی۔

    باغی ٹی وی : بالی ووڈ کے لیجنڈری اور سینئر اداکار متھن چکرورتی نے حال ہی میں ایک ٹی وی شو میں شرکت کی اور کورونا وبا کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے کھل کر گفتگو کی کہا کہ کووڈ19 کے سبب ان کا ریسٹورنٹ کا کاروبار متاثر ہوا، ایک وقت ایسا تھا کہ کافی کا ایک کپ بھی فروخت نہیں ہوپاتا تھا، کاروبار ختم ہونے کی وجہ سے پیسے آنا بند ہوگئے تھے، جس کی وجہ سے شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    کورونا کا شکارحرامانی کی سابق مینجر کا اداکارہ پرسنگین الزام

    اداکار کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کورونا بحران تاحال برقرار ہے جبکہ بھارتی شہریوں کو وبا کی تیسری لہر کا سامنا ہے، ہر شعبہ اس سے متاثر ہوا ہے،گزشتہ دو سالوں کے دوران وبا سے کئی افراد کی اموات بھی ہوئیں۔

    متھن چکرورتی نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے مختلف پیشوں سے وابستہ ملازمین کو نوکریوں سے محرومی کا بھی سامنا کرنا پڑا، معاشی معاملات اس قدرمتاثر ہوئے کہ کئی لوگ امیر سے غربت کی لکیر کے نیچے چلے گئے، یومیہ اجرت کمانے والوں کا سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے۔

    سینئر اداکار نے کہا کہ کاروبار تباہ ہونے کی وجہ وبا کے دوران حکومت کے سیاحت کے لیے اقدامات نہ ہونے کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے ٹوررازم کے لیے اقدامات کیے جاتے تو اس قدر نقصان نہیں ہوتا۔

    ارجیت سنگھ اور ان کی اہلیہ کورونا کا شکار

    بھارتی میڈیا کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان میں اس وقت کورونا کی تیسری لہر چل رہی ہے، حالانکہ یہ درست ہے کہ اتار چڑھاؤ کے باوجود تیسری لہر پہلی اور دوسری لہر سے کم خطرناک ثابت ہوئی ہےلیکن پھربھی ایسا نہیں ہونا چاہیےوبا کو ہلکے میں لیاگیا اس دوران میکس ہیلتھ کیئر کی جانب سےکرائے گئے سروے میں کئی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ یہ بتاتا ہے کہ موجودہ کورونا کی لہر پہلی اور دوسری لہر سے کس طرح مختلف ہے۔

    گلوکارسونو نگم فیملی سمیت کورونا وائرس کا شکار

    دراصل میکس ہیلتھ کیئرنےاپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ گزشتہ سال اپریل سے مئی کے دوران کورونا سے متاثرہ چار میں سے تین کو آکسیجن کی ضرورت تھی پہلی لہر کے دوران اسپتال میں داخل ہونے والوں میں سے، 63 فیصد مریضوں کو آکسیجن کی سہولت فراہم کی گئی، جبکہ گزشتہ سال دوسری لہر کے دوران 74 فیصد مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت تھی پہلی اور دوسری لہر کے مقابلے اس بار صرف 23.4 فیصد مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت ہے۔ موجودہ لہر میں، کورونا سے مرنے والوں میں سے 60 فیصد نے یا تو ایک خوراک لی تھی یا انہیں ویکسین نہیں لگائی گئی تھی مرنے والوں میں سے زیادہ تر کی عمریں 70 سال سے زیادہ تھیں اور ان میں سے اکثر ذیابیطس، کینسر، گردے یا دل کی بیماریوں میں مبتلا تھے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے-

    امتحانی پرچے میں سیف اورکرینہ کے بیٹے کا نام پوچھے جانے پرسکول کو شوکاز

    بھارتی میڈیا کے مطابق میکس ہیلتھ کیئر کے گروپ میڈیکل ڈائریکٹر سندیپ بدھیراج نے کہا کہ مطالعہ سے دو اہم نکات دیکھے گئے ہیں ایک یہ کہ اس لہر کے دوران ہسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد بہت کم رہی ہے۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ دوسری لہر کے دوران ہسپتال میں داخل ہونے والے کل مریضوں میں سے تقریباً 70 سے 80 فیصد کو آکسیجن کی ضرورت تھی جبکہ اس لہر میں کل بھرتی ہونے والوں میں سے صرف 20 سے 30 فیصد کو آکسیجن کی مدد کی ضرورت تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ اس بار بھی متاثرہ افراد کی تعداد اتنی ہی ہے لیکن اسپتال میں داخل ہونے والوں کی تعداد پہلی اور دوسری لہر سے بہت کم ہے۔

    بھاری معاوضہ مانگنے والے اداکاروں کو کرن جوہر کا چیلنج

    دہلی میں دوسری اور تیسری لہر کے دوران روزانہ تقریباً 28 ہزار کیس سامنے آئے۔ اگر اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو دوسری لہر کے دوران یعنی گزشتہ سال ہسپتالوں میں روزانہ 2000 مریض آتے تھے جبکہ اس بار صرف 415 مریض ہسپتالوں میں داخل ہوئے کورونا کی پہلی لہر میں اموات کی شرح 7.2 فیصد تھی جو دوسری لہر میں بڑھ کر 10.5 فیصد ہو گئی۔ جبکہ موجودہ لہر میں یہ تعداد 6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ کورونا ویکسینیشن کی وجہ سے اموات میں کمی آئی ہے۔

  • پاکستان کشمیری طلبا کو تعلیم کے نام پر عسکریت پسند بنانے لگا،مودی سرکار کا ایک اور الزام

    پاکستان کشمیری طلبا کو تعلیم کے نام پر عسکریت پسند بنانے لگا،مودی سرکار کا ایک اور الزام

    پاکستان کشمیری طلبا کو تعلیم کے نام پر عسکریت پسند بنانے لگا،مودی سرکار کا ایک اور الزام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے پاکستان آئے طلبا پر مودی سرکار نے دہشت گردی کا الزام عائد کر دیا

    مودی سرکار جو ہمیشہ پاکستان پر الزامات لگاتی رہتی ہے، اب تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاژ کرنے کے لئے ایک اور الزام عائد کیا ہے ، جموں کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ کشمیر سے پاکستان ایم بی بی ایس کے لئے جانے والے طلبا کو پاکستان رقم دیتا ہے اور وہ رقم کشمیر میں استعمال ہوتی ہے ،خبر رساں ادارے کے مطابق جموں کشمیر پولیس اس حوالہ سے گزشتہ برس ماہ جولائی سے تحقیقات کر رہی تھی اور تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پاکستان ان لوگوں کو تعلیم کے لئے بلایا جاتا ہے جن کے گھر کا کوئی فرد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہو

    رپورٹ کے مطابق جموں کشمیر پولیس نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشمیریوں کی مدد کی اور ان طلبا کو رقم دے کر واپس کشمیر بھیج کر بھارتی فوج کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے عسکریت پسندی ختم نہیں ہو رہی کیونکہ نئی کمک مل جاتی ہے ، خبر رساں ادارے کے مطابق حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمیں ثبوت ملے ہیں، سی آئی ڈی، سی آئی کے بھی اس کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں،

    پولیس نے حریت کانفرنس کے گروپ سالویشن موومنٹ کے صدر محمد اکبر بھٹ عرف ظفر اکبر بھٹ کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ دائر کی ہے جس میں عبدالجبار، فاطمہ شاہ، الطاف احمد بھٹ قاضی یاسر، محمد عبداللہ شاہ، سبزار احمد شیخ، منظور احمد شاہ، سید خالد گیلانی ، محمد اقبال میر کے نام بھی شامل ہیں، اس چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر پولیس نے تحقیقات کے دوران زبانی اور دستاویزی ثبوت جمع کئے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ ان طلبا کو بھیجا جاتا ہے جو شہید ہونے والوں کے قریبی رشتے دار ہوتے ہیں، پھر انکو رقوم دے کر واپس بھیجا جاتا ہے اور کشمیر میں عسکریت پسندی کو فروغ دیا جاتا ہے،

    واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ کشمیری طلبا کو تعلیم سے روکنے کے لئے مودی سرکار نے ایسا حربہ استعمال کیا ہو، پہلے بھی ایسا ہوتا رہا اور کشمیری طلبا پر غداری کے مقدمے بھی مودی سرکار نے درج کئے ہیں،گزشتہ برس مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے طلبا پر آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی

    مودی سرکار کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے طلبا کو کہا گیا ہے آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے طلبا کے خلاف کاروائی ہو گی، کوئی بھی مقبوضہ کشمیر کا طالب علم آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں میں داخلہ نے لے کیونکہ آزاد کشمیر کے تعلیمی ادارے بھارت میں تسلیم شدہ نہیں ہیں

    آل انڈیا کونسل برائے ٹیکنیکل ایجوکیشن کی جانب سے ایک پبلک نوٹس جاری کیا گیا ہے جسے کشمیری اخبارات نے شائع کیا ہے، جس میں کشمیری طلبا کو کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تعلیمی اداروں بشمول یونیورسٹیز، میڈیکل کالجر، ٹیکنیکل اداروں میں داخلے لینے سے گریز کریں کیونکہ بھارت ان اداروں کو تسلیم نہیں کرتا

    واضح رہے کہ جموں کشمیر ہائیکورٹ میں ایک کیس آیا تھا جس میں ایک کشمیری طالبہ نے درخواست دائر کی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ آزاد کشمیر کے علاقے میر پور میں ایک یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لی تھی جسے بھارت سرکار تسلیم نہیں کر رہی، سری نگر سے تعلق رکھنے والی ھادیہ چشتی نے عدالت کا دروازہ اس وقت کٹھکٹھایا تھا جب انہیں نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشن نے فارن میڈیکل گریجویٹ ایگزامینیشن سکریننگ ٹیسٹ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

    پاکستان حملہ کر دے گا، بھارتی فضائیہ کو کہاں لگا دیا گیا جان کر ہوں حیران

    ہر سال 27 فروری کو آپریشن سوفٹ ریٹارٹ منایا جائے گا، پاک فضائیہ

    پلوامہ حملہ مودی کی سازش تھی، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھی بول پڑے

    پلوامہ،لشکر سے وابستہ عسکریت پسندوں کی 5 بار نماز جنازہ ادا،دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال

    مقبوضہ کشمیر، شہداء کے جنازوں کو عسکریت پسندوں کی سلامی، بھارتی فوج دیکھتی رہ گئی

    پلوامہ حملے میں ہلاک بھارتی فوجی کی اہلیہ کو کس کام کے لیے مجبور کیا جانے لگا؟

    پلوامہ حملے کے لئے کیمیکل کہاں سے خریدا گیا؟ تحقیقاتی ادارے کے انکشاف پرکھلبلی مچ گئی

    پلوامہ حملہ،عسکریت پسندوں نے کہاں سے منگوایا تھا حملے کیلئے سامان؟ بھارت کا نیا انکشاف

    چین سے شرمناک شکست کے بعد مودی سرکار کی ایک اور پلوامہ ڈرامہ کی کوشش ناکام

    بھارتی فوج کے کرنل نے کی سیاچین میں خودکشی

    بھارت کشمیر میں ہار گیا، اب کشمیری سنگبازوں کا مقابلہ کریں گے روبوٹ

    بھارت کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی، کہا سرحد پار سے عسکریت پسند آ رہے ہیں

    کشمیر میں رواں برس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت میں اضافے سے مودی سرکار پریشان

    پلوامہ حملے میں استعمال ہونیوالی گاڑی کے مالک کو کیا بھارتی فوج نے شہید

  • مودی سرکار کی کشمیر پالیسی انسانی حقوق کے منہ پر تمانچہ خیال احمد کاسترو

    مودی سرکار کی کشمیر پالیسی انسانی حقوق کے منہ پر تمانچہ خیال احمد کاسترو

    صوبائی وزیر ثقافت خیال احمد کاسترو کا یوم یکجہتی کشمیر پر خصوصی پیغام ۔آج دن کشمری بھائیوں کے حق خوداردیت کے لئے عہد نو کا دن ہے۔ کشمری میں جاری ظلم و جبر کے خلاف ہر فورم پر آواز اُٹھا رہے ہیں ۔ مودی سرکاری کے جابرانہ ہتھکنڈے جلد ناکام ہوں گے۔ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں۔مسئلہ کشمیر کا واحد حل علیدہ مملکت کا قیام ہے۔ کشمیری بھائیوں کے صبرو استقامت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔ پوری قوم کے دل کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ مودی سرکار کی کشمیر پالیسی انسانی حقوق کے منہ پر تمانچہ ہے۔ پاکستان کشمیری بھائیوں کی اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے گا۔ خیال احمد کاسترو

  • مودی حکومت نےشہریوں کا ڈیٹا اورڈیوائسز کی جاسوسی شروع کردی

    نئی دہلی : نام تمام شہریوں‌ کا اوراس کے ذریعے کام تمام کیا جائے گا مسلمانوں کا اوریہی وہ فارمولا ہے جو اسرائیلی ڈاکٹرائن کی عکاسی کرتا ہے ،جو اس نے فسلطین اوردیگر کئی ملکوں میں اپنا رکھا ہے، ایسے ہی اب بھارتی حکومت نے اپنے شہریوں کی ڈیوائسز(اسمارٹ فونز، کمپیوٹر وغیر)کی نگرانی، رابطے روکنے اور ڈیٹا حاصل کرنے کی صلاحیت رکھنے کا اعتراف کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ ماہ اسرائیلی کمپنی کے خلاف واٹس ایپ نے دنیا بھر میں حکومتی اداروں کو ہیکنگ میں مدد دینے پر مقدمہ دائر کیا تھا اور اس کے بعد بھارتی حکومت پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ سماجی رہنماﺅں اور صحافیوں کو وغیرہ کو اسرائیلی کمپنی کے نظام کی مدد سے ہدف بنائے ہوئے ہے۔

    وزیرمملکت برائے داخلہ جی کشن ریڈی نے اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی شق 69 اور ٹیلیگراف ایکٹ 1885 کی شق 5 کے تحت مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو ملکی خودمختاری، سیکیورٹی، دیگر ممالک سے دوستانہ تعلقات اور امن و امان بحال رکھنے کے لیے شہریوں کی تمام ڈیوائسز کا ڈیٹا حاصل کرنے یا ان پر نظر رکھنے کا اختیار حاصل ہے۔

    گزشتہ ماہ بھارتی حکومت نے انٹرنیٹ کے حوالے سے موجودہ قوانین پر نظرثانی کے منصوبے میں پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سوشل میڈیا ایپس اور دیگر کی بدولت صارفین جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے ایک ادارے سافٹ وئیر لا اینڈ فریڈم سینٹر کی نئی رپورٹ میں دریافت کیا گیا تھا کہ ہر سال وفاقی حکومت کی جانب سے ایک لاکھ سے زائد ٹیلیفون رابطے روکنے کے احکامات جاری ہوتے ہیں۔