Baaghi TV

Tag: مودی

  • مودی کو بم سے اڑانے کی دھمکی،ادارے متحرک

    مودی کو بم سے اڑانے کی دھمکی،ادارے متحرک

    بھارتی وزیراعظم مودی کو دھمکی کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو گئے ہیں

    ممبئی پولیس نے ہفتہ کے روز ایک اہم اطلاع حاصل کی ہے، جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ یہ دھمکی آمیز پیغام راجستھان کے اجمیر سے ایک رجسٹرڈ نمبر سے بھیجا گیا تھا۔ پولیس نے فوری طور پر ملزم کی گرفتاری کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی ہے اور اس معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق واٹس ایپ پر بھیجے گئے پیغام میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ دو ایجنٹس بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنانے کے لیے ایک بم دھماکہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس پیغام میں دھمکی دی گئی تھی کہ مودی کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پیغام بھیجنے والا شخص ممکنہ طور پر ذہنی طور پر غیر مستحکم یا شراب کے نشے میں ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    اس دھمکی کے بعد، پولیس نے انڈین جسٹس کوڈ کی مناسب دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے اور ملزم کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔

    دوسری جانب، ممبئی ٹریفک پولیس کو گزشتہ 10 دنوں کے دوران سلمان خان کو جان سے مارنے کی دھمکی والے دو پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ جمعہ، 7 دسمبر 2024 کو بھیجے گئے ایک حالیہ پیغام میں کہا گیا تھا: "اگر سلمان خان اپنی جان بچانا چاہتے ہیں تو انہیں راجستھان کے بشنوئی برادری کے مندر میں جا کر معافی مانگنی ہوگی، یا پھر 5 کروڑ روپے دینا ہوں گے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم انہیں ختم کر دیں گے۔ بشنوئی گینگ ابھی بھی سرگرم ہے۔”

    اس دھمکی کے پیچھے بشنوئی گینگ کے ملوث ہونے کے شبہات بھی ہیں۔ سلمان خان کو پہلے بھی لارنس بشنوئی گینگ کی جانب سے دھمکیاں مل چکی ہیں۔ اس گینگ کے ارکان پہلے بھی سلمان خان کے خلاف کارروائیاں کر چکے ہیں، جن میں اپریل 2024 میں اداکار کے باندرہ میں واقع گھر کے باہر فائرنگ کی واردات شامل ہے۔ لارنس بشنوئی خود قتل اور بھتہ خوری کے کیسز میں احمد آباد کی سابرمتی جیل میں قید ہیں۔

    اداکار سلمان خان کی سیکیورٹی میں اضافے کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔ ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا، "یہ دھمکی بہت سنجیدہ نہیں لگتی، لیکن ہم کسی بھی قسم کی دھمکی کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔” پولیس نے سائبر ماہرین کے ساتھ مل کر پیغام بھیجنے والے کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ افسر نے مزید کہا، "ہم یہ بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ پیغام واقعی بشنوئی گینگ سے جڑا ہوا تھا یا یہ صرف مذاق کا حصہ تھا۔”

    سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات،پروپیگنڈہ،مزید 7 ملزمان پر مقدمہ

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک

    دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک

    دہلی چلو مارچ ، بھارت میں کسانوں کی تحریک ایک بار پھرمتحرک ہو گئی ہے

    ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کی اپنے حقوق کے لیے جاری جدوجہد کی دوبارہ متحرک ہو ئی ہے،کسان یونینوں اور حکومت کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد، پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے دہلی چلو تحریک 6 دسمبر سے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے،”دہلی چلو مارچ” کسان مزدور مورچہ اور کسان یکجہتی مورچہ کے زیر اہتمام ہو رہاہے،ہریانہ میں بی جے پی کی مزاحمت کے بعد، کسانوں نے ٹریکٹر کی بجائے چھوٹے جتھوں میں دہلی پیدل جانے کا فیصلہ کیا ہے،کسانوں کے ‘دہلی چلو’ مارچ کے پیش نظر دارالحکومت کی سرحدوں اور اس سے متصل پورے خطے میں سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں

    کسان رہنما سرون سنگھ پانڈھر کے مطابق،”مودی سرکار کسانوں کے جائز مطالبات کو نظرانداز کر رہی ہے، حالانکہ وہ پچھلے 10 مہینوں سے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں”ہم نے احتجاج دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور ہریانہ پولیس کو آگاہ کیا کہ ہمارا مارچ پرامن ہوگا،وزیر مملکت برائے ریلوے روینت سنگھ بٹّو اور ہریانہ کے وزیر زراعت نے کسانوں کو دہلی پیدل جانے کا اشارہ دیا، وقت آگیا ہے کہ وہ وعدوں کو پورا کریں،کسان رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دہلی جانے کی اجازت نہ ملی تو تصادم ہوگا

    فروری میں کسانوں کی دہلی جانے کی پہلی کوشش ہریانہ میں سیکورٹی فورسز کی سخت مزاحمت کا شکار ہوئی، جس میں کئی کسان جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے،”دہلی چلو مارچ” کسانوں کے اتحاد اور مودی سرکار کی زرعی پالیسی میں کی جانے والی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کی علامت بنی ہوئی ہے،مودی سرکار کسان مارچ تحریک اور آزادی حق رائے کا گلا گھو نٹ کر اپنی انتہا پسندانہ پالیسیوں کو پروان چڑھانا چاہتی ہے

    17 ملین سے زائد لائکس والی ٹک ٹاکر سومل کی بھی نازیبا ویڈیو لیک

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

  • مودی اور سیکولر بھارت

    مودی اور سیکولر بھارت

    بھارت میں ہندو قوم پرستی نے ہمیشہ ان اہم لمحات میں زور پکڑا جب سیاسی رہنماؤں نے جو خود کو سیکولر ظاہر کرتے ہیں، انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے مذہب کا سہارا لیا۔ گزشتہ صدی کے دوران یہ رجحان اپنے عروج پر پہنچ چکا ، جس کی ایک بڑی مثال بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ہیں، جنہوں نے سیکولرازم کو ترک کرتے ہوئے مذہب پر مبنی قومی شناخت کو ترجیح دی ہے۔

    1923 میں ونائیک دامودر ساورکر نے ایک جارحانہ ہندو مرکزیت پر مبنی ہندوتوا کا نظریہ پیش کیا۔ ہندو دھرم کی برابری کے روحانی اصولوں سے ہٹ کر، ساورکر نے لوگوں کو "دوستوں” اور "دشمنوں” میں تقسیم کیا۔ دوست وہ تھے جو نسب اور وفاداری کے ذریعے بھارت سے جڑے تھے، جبکہ دشمن وہ تھے جنہیں غیر ملکی یا غیر وفادار سمجھا جاتا تھا۔ لگ بھگ ایک دہائی بعد، جرمن نازی نظریہ ساز کارل شمٹ نے سیاست کو اسی طرح دوستوں اور دشمنوں میں تقسیم کیا۔

    1925 میں ساورکر سے متاثر ہو کر راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) قائم کی گئی جو اس تحریک کا عسکری ونگ تھا۔ آر ایس ایس نے نوجوانوں کو عسکری تربیت دی اور ایک مثالی ہندو ماضی پر فخر کرنے کا جذبہ پیدا کیا، جس کا مقصد ایک متنازع نظریہ کو فروغ دینا تھا۔ نریندر مودی، آر ایس ایس کے نمایاں ارکان میں سے ایک ہیں اور وہ اسی تحریک سے کھل کر سامنے آئے،

    دوسری جانب، انڈین نیشنل کانگریس، مہاتما گاندھی کی قیادت میں، ایک سیکولر اور متحدہ بھارت کی حمایت کرتی رہی، جس کا مقصد برطانوی تسلط سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ تاہم، ہندوتوا کے حامیوں نے گاندھی کے مذہبی ہم آہنگی کے پیغامات کو مسلمانوں کے لیے رعایت سمجھا۔جس کے نتیجے میں 1948 میں ساورکر کے نظریے کے پیروکار کے ہاتھوں گاندھی کا قتل ہوا۔

    آزادی کے بعد وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے بھارت کے لیے ایک سیکولر وژن کی وکالت کی، جو معاشی اور سماجی ترقی کی خواہشات پر مبنی تھا۔ لیکن نہرو کی 1964 میں وفات کے بعد، کمیونل نظریات کانگریس کے اندر اور باہر دونوں جگہ مقبول ہونے لگے۔ سیکولرازم کو ایک بڑا دھچکا 19 اپریل 1976 کو لگا، جب وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیٹے نے ایمرجنسی کے تحت مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔ اس دن دہلی کی جامع مسجد کے قریب جبری نس بندیوں سے آغاز ہوا اور ترکمان گیٹ پر مسلمانوں کے انخلاء اور قتل عام پر ختم ہوا۔1976 کے ترکمان گیٹ کے تشدد کے 16 سال بعد، 1992 میں بابری مسجد کی شہادت کے واقعے نے ایک اور لہر کو جنم دیا، جس سے بھارت کے سیکولر نظریات مزید کمزور ہو گئے۔

    آج، ہندوتوا،جو ہندو دھرم کی پرامن تعلیمات سے بہت مختلف ہے، اکثر بھارت کے ایلیٹس کی خاموش حمایت کے ساتھ سیاست اور ثقافت میں سرایت کر چکا ہے، مودی، جو ایک پجاری جیسا عوامی کردار اپناتے جا رہے ہیں، کے دور میں ایک سیکولر بھارت کا خواب ایک مذہبی طور پر متعین ریاست کے عروج سے دھندلا ہوتا نظر آ رہا ہے۔

  • امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    امریکہ میں اڈانی کے وارنٹ،وائٹ ہاؤس کا ردعمل

    اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی ایک بار پھر تنازعات کی زد میں آئے ہوئے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اربوں ڈالر کی رشوت دی اور سرکاری افسران کے ساتھ ساتھ امریکی سرمایہ کاروں کو دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے ان کے خلاف امریکی عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

    اڈانی کے وارنٹ جاری ہونے پر وائٹ ہاؤس کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے،وائٹ ہاؤس کی ترجمان، کرائن جین پیئر نے کہا ہے کہ "ہم اڈانی پر لگائے گئے الزامات سے آگاہ ہیں۔ ان الزامات کی مزید تفصیلات جاننے کے لیے ہمیں امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور محکمہ انصاف سے رجوع کرنا ہوگا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہیں اور یہ تعلقات مستقبل میں بھی برقرار رہیں گے۔

    نیویارک کی فیڈرل کورٹ میں ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی سمیت آٹھ افراد پر اربوں روپے کے فراڈ اور رشوت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ریاستہائے متحدہ کے اٹارنی کے دفتر کا کہنا ہے کہ اڈانی نے ہندوستان میں شمسی توانائی سے متعلق ایک معاہدہ حاصل کرنے کے لیے حکام کو 265 ملین ڈالر (تقریباً 2200 کروڑ روپے) کی رشوت دی۔

    اڈانی گروپ نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف الزامات ہیں اور جرم ثابت ہونے تک ملزمان بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔ گروپ کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے الزامات حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

    یہ مقدمہ اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ اور ایک دیگر کمپنی سے متعلق ہے، جو 24 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا۔ بدھ کو ہونے والی سماعت میں گوتم اڈانی اور ان کے بھتیجے ساگر اڈانی سمیت دیگر افراد پر الزامات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جھوٹ بول کر فنڈز اکٹھے کیے۔ عدالت نے گوتم اڈانی اور ساگر اڈانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

    امریکا میں کاروائی،اڈانی گروپ کا مؤقف بھی آ گیا

    راہول گاندھی کا اڈانی کی فوری گرفتاری کا مطالبہ

  • روس کیخلاف جنگ میں مدد،امریکہ نے بھارتی کمپنیوں،شہریوں پر لگائی پابندی

    روس کیخلاف جنگ میں مدد،امریکہ نے بھارتی کمپنیوں،شہریوں پر لگائی پابندی

    امریکہ نے روس کے خلاف جنگ میں مدد دینے پر 19 بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکہ نے بھارت کی 19 نجی کمپنیوں اور دو بھارتی شہریوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ یہ اقدام یوکرین میں روس کی جنگی کوششوں میں مدد دینے کے الزام میں اٹھایا گیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ,اس سے قبل بھی بھارتی کمپنیوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن اس بار کا اقدام خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں، خاص طور پر ایک بھارتی شہری کے حوالے سے ایک سازش کے الزام میں جو سکھ علیحدگی پسند رہنما پنن کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کی گئی تھی۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں بھارت کی تحقیقات سے "معنی خیز جوابدہی” تک مطمئن نہیں ہوگا۔

    امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا، "امریکہ آج تقریباً 400 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے تاکہ روس کی غیر قانونی جنگ میں اس کی مدد کو روک سکے۔” اس کے تحت 120 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جبکہ خزانہ کے محکمے نے 270 سے زیادہ افراد اور اداروں پرپابندی عائد کی ہے،امریکہ کی جانب سے یہ اقدام چین، ملائیشیا، تھائی لینڈ، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ساتھ بھارت میں بھی مختلف کمپنیوں کو نشانہ بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جنہوں نے روس کو اہم سامان فراہم کیا ہے۔

    بھارتی کمپنیوں جنہوں نے روس کی جنگ میں مدد کی اور ان پر پابندی لگائی گئی ان میں اسینڈ ایوی ایشن انڈیا پرائیویٹ، ماسک ٹرانس، ٹی ایس ایم ڈی گلوبل پرائیویٹ لمیٹڈ، اور فیوٹریوو و دیگر شامل ہیں،امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں اس کے عزم کا حصہ ہیں کہ وہ روس کی فوجی بیس کو کمزور کرنے اور جنگ کی مالی معاونت کے لیے بین الاقوامی مالیاتی نظام کا استحصال کرنے سے روکیں۔ امریکہ کا الزام ہے کہ اسینڈ ایوی ایشن نے مارچ 2023 سے مارچ 2024 کے دوران روسی کمپنیوں کو 700 سے زائد شپمنٹس بھیجی ہیں، جن میں 200000 ڈالر سے زیادہ مالیت کی اہم ترین اشیاء (کامن ہائی پرائیرٹی لسٹ یا سی ایچ پی ایل آئٹمز) شامل تھیں۔ماسک ٹرانس کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے جون 2023 سے اپریل 2024 کے دوران روس کو 300000 ڈالر سے زائد مالیت کی سی ایچ پی ایل اشیاء فراہم کی ہیں۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب امریکا نے بھارتی کمپنیوں پر پابندی عائد کی ہے، اس سے پہلے نومبر 2022 میں ایس آئی 2 مائیکرو سسٹمز پر بھی پابندی لگائی گئی تھی، اس کمپنی پر الزام تھا کہ یہ روسی ملٹری کو امریکی نژاد انٹیگریٹڈ سرکٹ فراہم کر رہی تھی، جو جنگ میں استعمال ہو سکتے تھے۔

    امریکا کی ان پابندیوں کا مقصد روس پر معاشی دباؤ ڈالنا ہے تاکہ اسے یوکرین پر حملہ روکنے پر مجبور کیا جا سکے، امریکا کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی امن کی پاسداری اور عالمی قوانین کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں،ان پابندیوں کے تحت ان کمپنیوں کا امریکی منڈی میں داخلہ، مالی وسائل تک رسائی اور دیگر تجارتی سرگرمیاں محدود کر دی گئی ہیں،امریکا کا کہنا ہے کہ جو بھی عالمی ادارہ روسی جنگ میں شامل ہوگا یا اس کی مدد کرے گا، اسے ایسی ہی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا،متعدد امریکی صدور نے روس پر پابندیاں سخت کی ہیں، جس کے نتیجے میں ماسکو نے بھارت، چین اور عالمی جنوبی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بڑھایا ہے۔ جب روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا، تو صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کی قیادت کرے گا تاکہ روس کے خلاف ایک اقتصادی جنگ شروع کی جا سکے، جس سے ماسکو کی معیشت متاثر ہو اور کریملن کی جنگی مشین رک جائے۔خزانہ کے شعبے کا دعویٰ ہے کہ حالیہ پابندیاں ماسکو کی معیشت پر اثرانداز ہونے والی اقتصادی جنگ کا نتیجہ ہیں۔

    مودی نے بھارتی فوج کی وردی پہن کر فوجی جوانوں کے ہمراہ منائی دیوالی

    اکھنور ،بھارتی فوج کا تربیت یافتہ کتا”فینٹم”مقابلے میں ہلاک

    بھارتی ایئر لائنز کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں،ہیکرزکا وی پی این کا استعمال

    ایک ہی دن میں انڈیا کے درجنوں مسافر طیاروں کو بم کی دھمکیاں موصول

    امریکن ایئر لائنز پھر بحران کا شکار،ملازمین نوکریوں سے فارغ

    کوکین سمگل کرنے کا جرم،امریکن ایئر لائن کے سابق مکینک کو سزا

    جہاز میں بم ہے،پرچی ملنے کے بعد ہنگامی لینڈنگ

    بم کی دھمکی ملنے کے بعد بھارتی ایئر لائن کا رخ موڑ دیا گیا

  • مودی نے بھارتی فوج کی وردی پہن کر فوجی جوانوں کے ہمراہ منائی دیوالی

    مودی نے بھارتی فوج کی وردی پہن کر فوجی جوانوں کے ہمراہ منائی دیوالی

    بھارت بھر میں دیوالی، جو روشنیوں کا تہوار ہے، دھوم دھام سے منایا جا رہا ہے۔

    دیوالی کی تیاریوں کا آغاز کئی ہفتے پہلے ہی ہو جاتا ہے۔ لوگ اپنے گھروں کی صفائی کرتے ہیں، نئے کپڑے خریدتے ہیں اور مختلف قسم کی مٹھائیاں تیار کرتے ہیں۔ بازاروں میں بھی خاص رونق ہوتی ہے، جہاں لوگ دیوالی کی خریداری کے لیے رش لگاتے ہیں۔ تہوار کے دن، لوگ اپنے گھروں کو روشنیوں سے سجاتے ہیں۔ دیاں، لائٹس، اور رنگ برنگی چیزیں ہر طرف نظر آتی ہیں۔ بچے پھلجڑیوں کا شوق بھی پورا کرتے ہیں، جس سے ماحول میں خوشی اور جوش و خروش پیدا ہوتا ہے۔ دیوالی کے دن لوگ اپنے گھروں میں خاص پوجا کرتے ہیں، اس دن لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر مٹھائیاں بانٹتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔ دیوالی کا تہوار نہ صرف روشنی اور خوشی کا پیغام ہے بلکہ یہ محبت، بھائی چارے اور امید کا بھی اظہار کرتا ہے۔ بھارت کے مختلف حصوں میں اس تہوار کی اپنی خاص روایات ہیں، جو اسے مزید دلچسپ بناتی ہیں۔اگرچہ اس سال دیوالی کی تقریبات میں کچھ مقامات پر فضائی آلودگی کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے، لیکن لوگ اس دن کی خوشیوں کو بھرپور طریقے سے منانے کی کوشش کر رہے ہیں۔دیوالی کی یہ تقریبات ہر سال کی طرح لوگوں کو خوشی، امن اور خوشحالی کی یاد دلاتی ہیں۔

    دیوالی کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے گجرات کے ضلع کچھ میں بھارتی فوج کے جوانوں کے ساتھ دیوالی منائی اور انہیں مٹھائی پیش کی،اس دوران بھارتی وزیراعظم مودی فوجی وردی میں نظر آئے،مودی نے دیوالی کے موقع پر ایکس میں جاری ایک پیغام میں کہا کہ ہم وطنوں کو دیوالی کی بہت بہت مبارکباد۔ روشنیوں کے اس تہوار پر میں سب کی صحت، خوشی اور خوشحال زندگی کی خواہش کرتا ہوں۔ قبل ازیں گجرات کے نرمدا ضلع کے ایکتا نگر میں خطاب کرتے ہوئے مودی کا کہنا تھا کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے اندر اور باہر کچھ عناصر ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ بھارت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو غلط پیغام دے رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ب آسام کے تیز پور میں 4 کور ہیڈ کوارٹر میں بھارتی فوجیوں کے ساتھ دیوالی منائی،اس موقع پر راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ دیوالی کے موقع پر آپ کے درمیان ہوں، مجھے توانگ جانا تھا، مگر شاید اوپر والا یہی چاہتا تھا کہ میں تیز پور میں آپ بہادر سپاہیوں کے ساتھ دیوالی مناؤں،ہم بہتر تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں، لیکن بعض اوقات حالات ایسے پیدا ہوتے ہیں کہ ہمیں اپنے مفادات کا تحفظ کرنا پڑتا ہے۔ حکومت امن کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، اور آپ کا یہاں رہ کر حفاظت کرنا بہت متاثر کن ہے۔، جب بھی میں آپ کے درمیان آتا ہوں تو مجھے نئی توانائی ملتی ہے۔ آپ لوگ اپنے خاندان سے دور رہتے ہیں تو گھر کی کمی محسوس ہونا فطری ہے۔ آپ کی لڑائیاں دنیا کو نظر آتی ہیں، مگر آپ کے اندر کی روزمرہ کی لڑائی بھی اہم ہے۔

    رقص کی برہنہ ویڈیو وائرل ہونے پرخواجہ سرا ڈولفن ایان نے جاری کیا ویڈیو پیغام

    بندوق کی نوک پر ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کا واقعہ،ہیومن رائٹس کونسل کی مذمت

    لاہور بیورو کیخلاف بغاوت کی خبر کیسےباہر آئی؟ اکرم چوہدری سیخ پا،ذاتی کیفے میں اجلاس میں تلخی

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

  • جرمن چانسلر کا دورہ بھارت،مودی سے ملاقات

    جرمن چانسلر کا دورہ بھارت،مودی سے ملاقات

    جرمن چانسلر اولاف شولز نے حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لئے ایک اہم موقع تھا۔

    جرمن چانسلر اولاف شولز نے 18ویں ایشیا پیسفک جرمن بزنس کانفرنس میں شرکت سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ان کی سرکاری رہائش گاہ لوک کلیان مارگ پر ملاقات کی، ملاقات کے دوران، شولز اور مودی نے تجارت، سرمایہ کاری، اور ماحولیاتی مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔جرمنی اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات میں حالیہ برسوں میں اضافہ ہوا ہے، اور دونوں رہنما اس بات پر متفق ہوئے کہ اس رفتار کو برقرار رکھا جائے۔ چانسلر شولز نے کہا، "ہمیں اپنی معیشتوں کے درمیان تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے، تاکہ دونوں ممالک کو فائدہ ہو۔”اس کے علاوہ، ماحولیات کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے گرین ٹیکنالوجیز اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔

    مودی نے شولز کے دورے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا، "یہ دورہ ہمارے دوطرفہ تعلقات کی نئی راہیں کھولے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور جرمنی کی دوستی عالمی سطح پر اہم ہے اور اس کا اثر بین الاقوامی مسائل پر بھی پڑتا ہے۔دورے کے دوران کئی اہم معاہدوں پر دستخط بھی کئے گئے، جن میں ٹیکنالوجی، تعلیم، اور صحت کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔ یہ معاہدے دونوں ممالک کے عوام کے لئے نئے مواقع فراہم کریں گے

    جرمن چانسلر بعد ہفتے کے روز گوا کا دورہ کریں گے، جہاں جرمن بحری جنگی جہاز ‘بیڈن-ورٹمبرگ’ اور جنگی امدادی جہاز ‘فرینکفرٹ ایم مین’ جرمنی کی انڈو پیسیفک تعیناتی کے حصے کے طور پر ایک نامزد بندرگاہ پر رکیں گےجرمن چانسلر اس سے پہلے دو بار بھارت کا دورہ کر چکے ہیں، پچھلے سال فروری 2023 میں دو طرفہ سرکاری دورے کے لیے اور ستمبر 2023 میں G-20 رہنماؤں کی سربراہی کانفرنس میں جرمن چانسلر شریک ہوئے تھے.

  • خواہش تھی کہ  مودی ایس سی او اجلاس میں شریک ہوتے،نواز شریف

    خواہش تھی کہ مودی ایس سی او اجلاس میں شریک ہوتے،نواز شریف

    سابق وزیراعظم ،مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ اچھا ہوتا مودی ایس سی او اجلاس میں شریک ہوتے.

    بھارتی صحافی برکھا دت کو نواز شریف نے انٹرویو دیا ہے، برکھا دت کا کہنا تھا کہ ایس ای او اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر شریک ہو رہے ہیں، وہ ایس سی او اجلاس میں خطاب کر رہے ہیں، میری سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات ہوئی ہے نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہوں ، میری خواہش تھی کہ بھارتی وزیراعظم مودی ایس سی او اجلاس میں شریک ہوتے، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بحالی کی راہ کھلنے کی امید ہے۔ امید کرتا ہوں ہم آپس میں جلد ملاقات کریں گے،

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور صدر مسلم لیگ ن نواز شریف کی بھارتی صحافی برکھا دت سے اہم ملاقات ہوئی ہے،بات چیت میں علاقائی استحکام اور سرحد پار تعاون پر گفتگو ہوئی۔ یہ ملاقات پاک بھارت مثبت تعلقات اور بات چیت کے فروغ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ برکھا دت اور مریم نواز شریف پرانے دوست ہیں، برکھا دت ایس سی او اجلاس کی کوریج کے لئے پاکستان آئی ہیں، اوراجلاس سے قبل برکھا دت کی نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات ہوئی ہے،

    آرمی چیف اور چینی وزیراعظم کا گرم جوشی سے مصافحہ

    ایس سی او سمٹ کانفرنس پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب

    چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے

    ایس سی او اجلاس،اسلام آباد میں صحت کے مراکز کھلے رکھنے کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس،کن کن ممالک کے وزرااعظم آ رہے پاکستان؟

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

  • خالصتانی رہنما کے قتل کی سازش،مودی سرکار کیخلاف امریکا میں مقدمہ دائر

    خالصتانی رہنما کے قتل کی سازش،مودی سرکار کیخلاف امریکا میں مقدمہ دائر

    خالصتانی رہنما گرپتوات سنگھ نے ہندوستانی حکومت کے اپنے خلاف قاتلانہ حملہ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ، انڈین نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈول کے خلاف بھی مقدمہ کی پیروی ہوگی ۔ ہندوستان کی مودی سرکار بین الاقوامی دہشت گرد بن کر ابھر رہی ہے

    نیو یارک کی ایک عدالت میں گرپتوات سنگھ نے مودی حکومت کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ سکھ علیحدگی پسندوں، خاص طور پر ‘ سکھ فار جسٹس’ سے وابستہ افراد کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے،یہ مقدمہ امریکی سرزمین پر سکھس فار جسٹس کے جنرل کونسلر اور امریکی شہری، گرپتونت سنگھ پنن کو قتل کرنے کی ناکام سازش سے بھی منسلک ہے،مبینہ سازش میں ایک بھارتی سرکاری ملازم اور دیگر شامل ہیں ،امریکی عدالت نے خالصتانی علیحدگی پسند گرپتوات سنگھ کو قتل کرنے کی مبینہ سازش پر بھارتی قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوول، را کے سابق سربراہ کو طلب کر رکھا ہے،واشنگٹن ڈی سی میں ہندوستانی سفارت خانے نے تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا ہے۔

    نجار کو سکھ گوردوارے کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا ،چار بھارتی شہریوں پر قتل میں فرسٹ ڈگری قتل اور سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔امریکی حکام نے اس کے بعد گزشتہ نومبر میں اعلان کیا کہ بھارتی شہری نکھل گپتا پر نیویارک میں پنن کے خلاف مبینہ طور پر کرایہ کے لیے قتل کی سازش کو ناکام بنانے کے بعد الزام عائد کیا گیا تھا۔

    پنون اور نجار بیرون ملک مقیم سکھوں کی آزادی کی تحریک میں نمایاں شخصیات ہیں جو ہندوستان کے اندر خالصتان کے نام سے ایک علیحدہ ریاست کے خواہاں ہیں۔اس تحریک نے بیرون ملک مقیم سکھ برادریوں میں متعدد غیر پابند ریفرنڈم کا انعقاد کیا ہے، جن میں بھارت میں سکھوں کے ایک آزاد وطن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    نجار کے قتل نے کینیڈا اور بھارت کے درمیان اس وقت سفارتی تنازع کھڑا کر دیا جب کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے 2023 میں پارلیمنٹ کو بتایا کہ قابل اعتماد انٹیلی جنس نے اس قتل کو بھارت کی حکومت سے جوڑا ہے۔ہندوستان، جو خالصتانی تحریک میں ملوث بہت سے لوگوں کو دہشت گرد، انتہا پسند اور عسکریت پسند علیحدگی پسند سمجھتا ہے، نے نجار اور پنن کے کیسوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ہندوستان کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کی طرف سے مطلع کیے جانے کے بعد اس نے پنون کیس کی اعلیٰ سطحی انکوائری شروع کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ کینیڈین حکام اور فائیو آئیز انٹیلیجنس ایجنسی نے مودی سرکار کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا، امریکہ میں بھی سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی 9 نومبر 2023 کو ہرپریت سنگھ اوپل کا کینیڈا میں قتل کر دیا گیا، واردات کے دوران 11 سالہ بیٹا بھی ہلاک ہوا کینیڈا میں گرفتار تینوں بھارتی شہریوں کا تعلق پنجاب اور ہریانہ سے ہےعلاوہ ازیں امریکی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا مودی سرکار نے گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی کوشش کی-

    مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کے پاس جدید اسلحہ،ڈرون،گوریلا وار،بھارتی فوج کی نیندیں حرام

    جموں کشمیر،آئی ایس آئی کیلئے کام کرنے کا الزام لگاکر5 سرکاری اہلکار برطرف

    جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ،من گھڑت کہانی،ریان گرم اور مرتضیٰ کیخلاف ہو گی قانونی کاروائی

    بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات

    سکھ یاتریوں کی بھارت میں ہی مودی کے خلاف نعرے بازی

    بھارتی ہٹ دھرمی، ایک بار پھرپاکستان آنیوالے سکھ یاتریوں کوروک دیا گیا

    خالصتانی ہوں،حکومت مودی کے دباؤ کا شکارہے، گوپال سنگھ چاولہ کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    سکھ برادی کا خالصتان بارے ریفرنڈم 2020، وینا ملک نے بڑا اعلان کر دیا

    آسٹریلوی حکومت نے میلبرن میں خالصتان ریفرنڈم رکوانے سے انکار کردیا۔

    الصتان کے حامی علیحدگی پسند گروپ سکھس فار جسٹس (SFJ) نے میلبورن آسٹریلیا میں خالصتان ریفرنڈم مہم کا آغاز کیا ج

    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارت کی درخواست مسترد کردی

    ٹورنٹو:کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کے حوالے سے تاریخ رقم ، خالصتان ریفرنڈم میں ایک لاکھ 10 ہزار سکھوں نے ووٹ کاسٹ کی

  • مودی سرکارکے 100 دن،خواتین کی عزتیں لٹتی رہیں،معیشت تباہ ،بے روزگاری بڑھ گئی

    مودی سرکارکے 100 دن،خواتین کی عزتیں لٹتی رہیں،معیشت تباہ ،بے روزگاری بڑھ گئی

    بھارتی وزیراعظم مودی کے تیسرے بار وزارت عظمیٰ کے سو دن مکمل ہونے پر کانگریس نے رپورٹ کارڈ جاری کیا ہے جس میں کانگریس نے مودی کو ناکام ترین وزیراعظم قرار دیا اور کہا کہ مودی کے سو دنوں میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات بڑھے،ریلوے تباہ ہوئی، بارشوں سے تباہی ہوئی لیکن مودی سرکار نے ریلیف نہ دیا، مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملے ہوئے مودی سرکار کچھ نہ کر سکی، مودی سرکار کے سو دن بھارتی خواتین، نوجوانوں بھر بھاری پڑے ہیں، بے روزگاری،کرپشن میں اضافہ ہوا ہے

    کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے مودی سرکار کے سو دن مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کی اور کہا کہ سو دنوں میں مودی سرکار نے ثابت کر دیا کہ انکے پاس کسی مسئلہ کا نہ حل ہے نہ ویژن،مودی نے انتخابی تشہیر میں سو دنوں کے منصوبوں کا ذکر کیا تھا ایک بھی پورا نہ ہوا، ریلوے تباہ ہو چکی ہے انفراسٹرکچر مخدوش حالت میں ہے، خواتین محفوظ نہیں ، بے روزگاری عروج پر ہے، سو دنوں میں بھارت میں ریلوے کے 38 حادثات ہوئے جن میں 21 افراد جان کی بازی ہار گئے، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ ریل پٹڑی سے نہ اتری ہو،مودی نے جن ایئر پورٹ کا افتتاح کیا ان کی چھتیں بارشوں سے ٹپکتی رہیں،نئی پارلیمنٹ کی عمارت بھی غیر محفوظ ہے وہ بھی بارشی پانی سے محفوظ نہ رہ سکی،ملک میں کئی بڑے پل گرے،چھترپتی شیواجی مہاراج کی مورتی 8 مہینے میں ٹوٹ کر گر گئی

    کانگریس ترجمان نے مقبوضہ کشمیر کے حالات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ جموں کشمیر میں 100 دنوں میں مجاہدین نے 26 بڑے حملے کئے،ان حملوں میں 21 جوانوں کی موت ہوئی، 30 فوجی زخمی ہوئے، 15 شہری بھی مارے گئے، اب زیادہ کاروائیاں جموں میں ہو رہی ہیں جو مقبوضہ کشمیر کا محفوظ ترین علاقہ ہے، مودی سرکار کے دور میں مجاہدین کے حملےبڑھ چکے ہیں.

    بھارت میں زیادتی کے واقعات پر کانگریس ترجمان کا کہان تھا کہ 100 دنوں میں خواتین کے خلاف 104 مقدمے رپورٹ ہوئے، جو رپورٹ نہ ہوئے وہ الگ ہیں،100 دنوں میں 157 خواتین سامنے آئیں جن کے ساتھ زیادتی ہوئی، 100 دنوں میں لگاتار پرچے بھی لیک ہوتے رہے، نیٹ پیپر لیک ہوا، نیٹ پی جی کا امتحان رد کیا گیا، یو جی نیٹ کا پیپر لیک ہوا ، جوائنٹ سی ایس آئی آر کا پیپر لیک ہوا۔سو دنوں میں‌بھارتی معیشت بھی تباہی کی جانب گامزن رہی، بے روزگاری بڑھی،ٹول ٹیکس میں اضافہ کیا گیا، سی این جی کی قیمت بڑھائی گئی،

    کانگریس ترجمان نے اس دوران مودی سرکار کے سامنے چار سوال رکھے اور کہا کہ بتایا جائے کہ بی جے پی کا 5 سال کا کوئی ویژن ہے؟پڑوسی ممالک سے تعلقات بہتر کرنے کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟سیبی اور اڈانی پر کب بولیں گے؟بدعنوانی، خواتین کے تحفظ، معیشت پر کب بولیں گے؟

    مقبوضہ کشمیر،مجاہدین کے پاس جدید اسلحہ،ڈرون،گوریلا وار،بھارتی فوج کی نیندیں حرام

    جموں کشمیر،آئی ایس آئی کیلئے کام کرنے کا الزام لگاکر5 سرکاری اہلکار برطرف

    جموں حملے،بھارت نے نااہلی تسلیم کر لی،دو افسران کو عہدے سے ہٹا دیا

    پاک فوج کیخلاف پروپیگنڈہ،من گھڑت کہانی،ریان گرم اور مرتضیٰ کیخلاف ہو گی قانونی کاروائی

    بھارتی میڈیا کا پاک فوج کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ بے نقاب

    جموں ،بڑھتے حملوں کے بعد بھارتی فوج کے خصوصی دستے تعینات