Baaghi TV

Tag: مودی

  • امتحانی پرچے لیک ہونے کا معاملہ:مودی کا فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

    امتحانی پرچے لیک ہونے کا معاملہ:مودی کا فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے نوجوانوں کے شدید احتجاج کے بعد امتحانی پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کو سزا دینے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کردیا۔

    مودی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی فلاح اور ان کا مستقبل سب سے زیادہ اہم ہے،ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کو فوری اور سخت سزا یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کی جائیں گی، جو لوگ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں بخشا نہیں جائے گا۔

    دوسری جانب نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ترجمان نے بھارتی وزیراعظم مودی کے ڈیڑھ ماہ بعد نوٹس لینے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے وزیر تعلیم کے مستعفی ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

    ترجمان سی جےپی اشوتوش رانکا کا کہنا ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ ڈیڑھ ماہ تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد آخرکار وزیر اعظم نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ آخر پیپر لیک ہو ہی کیوں رہے ہیں؟ پیپر لیک اس لیے ہورہے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک وزیرتعلیم سمیت نااہل لوگ بیٹھے ہیں جو پیسہ بنارہےہیں، نظام چلانے والے لوگ نااہل ہیں، ہم یہاں سے اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک وزیر تعلیم دھر میندر پرد ھا ن استعفیٰ نہیں دے دیتے-

  • بھارت میں مودی حکومت کیخلاف احتجاج، بالی ووڈ کے کئی نامور فنکار بھی شریک

    بھارت میں مودی حکومت کیخلاف احتجاج، بالی ووڈ کے کئی نامور فنکار بھی شریک

    تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج میں بالی ووڈ کے کئی نامور فنکار بھی شریک ہو رہے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق آج احتجاج کا 49واں روز ہے جس میں بالی ووڈ کے کئی مشہور فنکاروں جیسے عمران خان، ہما قریشی، ساقب سلیم اور گلوکار میکا سنگھ نے شرکت کر کے طلبہ کی حمایت کا اظہار کیا،عامر خان کے بھانجے اور اداکار عمران خان بھی ممبئی میں ہونے والے احتجاج کے دوران طلبہ کے ہمراہ مارچ میں شریک ہوئے،انہوں نے کہا کہ وہ ان طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے آئے ہیں جن کی محنت کو نظر انداز کیا گیا ہےاور یہ ملک کے مستقبل کی لڑائی ہے-

    اداکارہ ہما قریشی اپنے بھائی ساقب سلیم کے ہمراہ نئی دہلی کے جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئیں اور طلبہ کے ساتھ مارچ کیا،جبکہ اسٹینڈ اپ کامیڈین ابیش میتھیو اور رونق راجانی بھی ممبئی احتجاج میں شریک ہوئے، جنہیں پولیس نے حراست میں لیا، تاہم بعد ازاں دونوں کو رہا کر دیا گیا۔

    گلوکار نے بھی پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ہر شہری کو پرامن احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے اور طلبہ پر طاقت کا استعمال، خصوصاً خواتین کے ساتھ غلط سلوک، ناقابل قبول ہے۔

    قبل ازیں ایکس پر جاری بیان میں سلمان خان نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک نہایت پُرامن تحریک تھی اور یہ دیکھ کر دل بہت دکھا کہ یہ پرتشدد رخ اختیار کر گئی, جن طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کو اس دوران تکلیف یا نقصان پہنچا، میری دلی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پرچہ لیک ہونا ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے اور یہ خوش آئند بات ہے کہ ملک بھر کے طلبہ بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے جبکہ والدین نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا,طلبہ نے اپنے مستقبل اور معیاری تعلیم کے لیے جس عزم، خلوص اور محنت کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ ستائش ہےیہ احتجاج مکمل طور پر پرامن تھا اور طلبہ نے انتہائی ذمہ داری کے ساتھ اپنے مطالبات پیش کیے جو ان کی بہادری اور تعلیم سے وابستگی کا ثبو ت ہے۔

    واضح رہے کہ سی جے پی کی قیادت میں جاری احتجاج تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کے سلسلے میں جاری ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد اس معاملے پر ملک بھر میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

  • طلبہ پر پولیس تشدد:کانگریس کا بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ ،مودی سے استعفے کا مطالبہ

    طلبہ پر پولیس تشدد:کانگریس کا بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ ،مودی سے استعفے کا مطالبہ

    طلبہ پر پولیس تشدد کیخلاف بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھارتی وزیراعظم کے گھر کےسامنےمظاہرہ کیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق صدرکانگریس ملکارجن کھڑگے بھی مظاہرہ میں شریک ہیں، کانگریس رہنما بھارتی وزیراعظم مودی، وزیرتعلیم دھرمیندرا پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں کانگریس رہنما اور بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے نہتے کارکنوں اور طالبعلموں پر پولیس کے بہیمانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس نے بھارت کے تعلیمی نظام پر قبضہ کر رکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نئی دہلی میں جو بچے اور بچیاں ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوئے وہ اپنے بہتر مستقبل اور تعلیم کے حوالے سے جائز مطالبات کر رہے تھے کیونکہ بھارت کا تعلیمی نظام بالکل بوسیدہ ہو چکا ہے اور آر ایس ایس نے بھارت کے تعلیمی نظام پر قبضہ جما لیا ہے پولیس کی جانب سے اپنے جائز مطالبا ت کے لیے جمع طالبعلموں پر شیلنگ کرنا اور لاٹھی چارج کرنا انتہائی شرمناک ہے اور یہ ایک غیر جمہوری عمل ہے۔

    دوسری جانب دہلی ہائیکورٹ نے گزشتہ روز احتجاجی مارچ کے دوران طلبہ پرپولیس تشدد کے خلاف دائر درخواست پرفوری سماعت سے انکار کردیا عدالت نے درخواست پرباقاعدہ سماعت بدھ کو مقرر کردی، عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو اس معاملے میں نہ گھسیٹا جائے۔

    واضح‌ رہے کہ گزشتہ روز بھارتی پولیس اور سول کپڑوں میں موجود افراد نے نئی دہلی میں اپنے حقوق کے لیے جنتر منتر پر جمع ہزاروں کی تعداد میں نوجوان لڑ کے اور لڑکیوں پر بدترین تشدد کیا جس کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے۔

    یہ تحریک مئی 2026 میں سوشل میڈیا پر شروع ہوئی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل کر چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو درپیش بڑے عوامی چیلنجز میں سے ایک بن گئی ہے احتجاج کی بنیادی وجہ حالیہ امتحانی اسکینڈلز ہیں، جنہوں نے بھار ت کے تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ ماہ تقریباً 22 لاکھ میڈیکل امیدواروں کو امتحانی پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ امتحان د ینا پڑا، جبکہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے آن لائن مارکنگ سسٹم پر بھی تنازع سامنے آیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں روزگار کے محدود مواقع اور بار بار سامنے آنے والے امتحانی تنازعات نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی اہم وجوہات بن رہے ہیں۔

  • مودی کو آسٹریلیا کے دورے کے دوران جان سے مارنے کی دھمکی

    مودی کو آسٹریلیا کے دورے کے دوران جان سے مارنے کی دھمکی

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو آسٹریلیا کے مجوزہ دورے کے دوران جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے-

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نریندر مودی 9 جولائی 2026 کو آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں واقع مارول اسٹیڈیم میں ایک کمیونٹی تقریب میں شرکت کرنے والے ہیں اسی تقریب سے متعلق فیس بک ایونٹ پیج پر ایک صارف کی جانب سے مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی۔

    رپورٹس کے مطابق دھمکی سامنے آنے کے بعد آسٹریلیا کی قانون نافذ کرنے والی اور سکیورٹی ایجنسیوں نے فوری طور پر واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیاآسٹریلوی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور تقریب کی سکیورٹی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا رہا ہے اس مقصد کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ تقریب کے شرکا اور اہم شخصیات کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

    سکیورٹی ماہرین کے مطابق عالمی رہنماؤں کے دوروں کے دوران سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی دھمکیوں کو معمولی نہیں سمجھا جاتا، اسی لیے متعلقہ ادارے ہر ایسے معاملے کی مکمل تحقیقات کرتے ہیں اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہیں فی الحال آسٹریلوی حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں اور مودی کے دورے کے سکیورٹی پلان کو مزید مؤثر بنانے پر کام کیا جا رہا ہے،دوسری جانب بھارتی حکام نے بھی صورتحال پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے، تاہم دھمکی دینے والے شخص کی شناخت اور اس کے ارادوں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

  • مودی کے لیے تخلیق کیے گئے ایوارڈز شرمناک کہانی ہیں،خواجہ‌آصف

    مودی کے لیے تخلیق کیے گئے ایوارڈز شرمناک کہانی ہیں،خواجہ‌آصف

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو دیے گئے ایک ایوارڈ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے "من گھڑت اور شرمناک” قرار دیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ مودی کی آمد سے چند روز قبل ہی یہ ایوارڈز تخلیق کیے گئے، ان کے سرٹیفکیٹس کسی سستے مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل کے ذریعے تیار کیے گئے تھے،سرٹیفکیٹس میں واضح املا کی غلطیاں موجود تھیں اور مودی اس اعزاز کے پہلے اور واحد وصول کنندہ بن گئے مودی کی سستی شہرت کے حصول کی یہ کوشش نہایت شرمناک ہے بھارتی وزیراعظم کی خود کو مقبول رہنما ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش نے بھارتی قوم کو شرمندہ کردیا ہے۔

  • مودی کا اقتدار میں رہنے کا جنون، بھارتی معیشت، اقلیتیں اور عوام بدحالی کا شکار

    مودی کا اقتدار میں رہنے کا جنون، بھارتی معیشت، اقلیتیں اور عوام بدحالی کا شکار

    مودی نے ہندوتوا سوچ اور جھوٹے دعوؤں سے بھارت کے عوام کو اپنا غلام بنا کر اقتدار کی کرسی سنبھال رکھی ہے۔

    بھارتی جریدے دی ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ مودی نے ہندوتوا سوچ اور جھوٹے دعوؤں سے بھارت کے عوام کو اپنا غلام بنا کر اقتدار کی کرسی سنبھال رکھی ہے ،بھارتی معیشت میں روپیہ کمزور، سرمایہ ملک سے باہر اور نجی سرمایہ کار تباہی کا شکار ہے،جنگ کے باعث ترسیلاتِ زر میں کمی سے بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار ہے-


    دی ٹیلی گراف نے کہا کہ خزانے سے بے پناہ رقم مودی کو عظیم انسان بنا کر پیش کرنے پر خرچ کی گئی، مودی حکومت الیکشن کمیشن سمیت دوسرے اداروں کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے
    ،مودی کی طرح امیت شاہ بھی ہندو راشٹرا بنا کر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتا ہے، مودی حکومت الیکشن کمیشن سمیت دوسرے اداروں کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے،مودی اورامیت شاہ کے حکومت میں رہنے میں پر یس پر دباؤ اور "گودی میڈیا” نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

    عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں امیروں کا نظام بن چکا ،بااثر افراد حکمرانوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں-

  • مودی کے قافلے کے روٹ سے دھماکا خیز موادبرآمد،6 پولیس اہلکار معطل

    مودی کے قافلے کے روٹ سے دھماکا خیز موادبرآمد،6 پولیس اہلکار معطل

    نئی دہلی: بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے قافلے کے روٹ سے دھماکا خیز مواد برآمد ہوا تھا اس سنگین سیکیورٹی غفلت اور ڈیوٹی میں لاپرواہی برتنے پر پولیس نے ایک سب انسپکٹر سمیت 6 اہلکاروں کو معطل کر دیا ہے-

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ 10 مئی کو بنگلورو کے علاقے کگلپورا میں پیش آیا جہاں وزیر اعظم ایک تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے وزیراعظم کی آمد سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل معمول کی چیکنگ کے دوران فٹ پاتھ پر ایک گتّے کا ڈبہ ملا، جس میں جیلاٹن اسٹکس، تاریں، بیٹاریاں اور ٹائمر موجود تھے۔

    سیکیورٹی میں اس بڑی خامی کے فوری بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر مواد کو قبضے میں لیا ابتدائی تحقیقات کے بعد بنگلورو ساؤتھ کے ایس پی نے غفلت کے الزام میں 6 پولیس اہلکاروں (بشمول ایک سب انسپکٹر) کو معطل کر کے انکوائری شروع کر دی ہے

    حکام کا کہنا ہے کہ 6 پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا اور واقعے کی تفصیلی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ دھماکا خیز مواد وزیراعظم کے روٹ کے قریب کیسے پہنچا اور آیا اس کے پیچھے کوئی دانستہ کارروائی تھی یا نہیں۔

  • معاشی طوفان سر پر منڈلا رہا ہے،آپ میلونی کو میلوڈی ٹافی کھلا رہے ہیں،راہول گاندھی مودی پر برس پڑے

    معاشی طوفان سر پر منڈلا رہا ہے،آپ میلونی کو میلوڈی ٹافی کھلا رہے ہیں،راہول گاندھی مودی پر برس پڑے

    بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے وزیرِاعظم نریندر مودی کی اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کے ساتھ ویڈیوز اور ’ٹافیاں‘ دینے پر شدید تنقید کی ہے۔

    راہول گاندھی نے کہا کہ ملک اس وقت سنگین معاشی دباؤ کا شکار ہے جبکہ وزیرِاعظم بیرونِ ملک سرگرمیوں میں مصروف ہیں انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ معاشی طوفان ہمارے سروں پر منڈلا رہا ہے اور وزیرِاعظم اٹلی میں ٹافیاں تقسیم کر رہے ہیں،وہ میلونی کو میلوڈی ٹافی کھلا رہے ہیں کہ انڈیا کے لوگوں کی بے عزتی ہے،موجودہ صورتحال میں عوامی مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یہ قیادت نہیں بلکہ تماشا ہے۔

    اس سے قبل بھی کانگریس کے ایک رہنما نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ’میلونی، میلونی، میلوڈی میلوڈی‘ یہ کیا ہورہا ہے، آپ ملک کے وزیراعظم ہیں، 140 کروڑ لوگوں کا لیڈر ہوکر آپ یہ کیسی حرکتیں کررہے ہو، کیا مذاق ہے-

    واضح رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہیں جہاں انہوں ںے اطالوی وزیراعظم کو ٹافیاں تحفے میں دیں میلونی نے بھی مودی کے ساتھ ٹافیوں کا پیکٹ دکھایا اور کہا کہ یہ ٹافیاں نریندر مودی نے تحفے میں دی ہیں۔

  • مودی سے سوال پوچھنے والی نارویئن خاتون صحافی کا انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹ معطل

    مودی سے سوال پوچھنے والی نارویئن خاتون صحافی کا انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹ معطل

    ناروے سے تعلق رکھنے والی صحافی ہیلے لِنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال پوچھنے کی کوشش کے بعد آن لائن تنقید کے باعث ان کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے ہیں۔

    ہیلے لِنگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ پورے دن وہ اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں اور بعد میں یہ اکاؤنٹ مکمل طور پر معطل ہو گیا –

    ایک اور پوسٹ میں ہیلے لِنگ نے ان صارفین کو جو میٹا کے زیرِ ملکیت پلیٹ فارمز کے ذریعے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے آگاہ کیا کہ ان کے انسٹاگرام اور فیس بک دونوں اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے ہیں میں چاہتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ ہندوستانیوں کے سوالات کے جواب دے سکوں، لیکن اب میرے جوابات میں تاخیر ہو گی امید ہے کہ مجھے اپنے اکاؤنٹس واپس مل جائیں گے،“ اور اس دوران میٹا کو ٹیگ بھی کیا۔

    helle ling

    واضح رہے کہ ناروے اور بھارت کے وزرائے اعظم کی مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران ہیلی لِنگ نے بھارتی وزیر اعظم سے سوال پوچھنے کی کوشش کی جب وزیر اعظم مودی ہال سے باہر جا رہے تھے تو ہیلی لِنگ نے اونچی آواز میں کہا کہ آپ دنیا کی سب سے آزاد پریس کے کچھ سوالات کیوں نہیں لیتے؟ اگرچہ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ بھارتی وزیر اعظم نے ان کی بات سنی یا نہیں، لیکن اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔

    ساہیوال :سی ٹی ڈی کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائی ،مبینہ تخریب کاری کا منصوبہ ناکام ، خطرناک دہشتگرد گرفتار

    بعد میں لِنگ نےایکس پر لکھا کہ مجھے مودی سے جواب کی امید نہیں تھی، لیکن دنیا میں صحافتی آزادی کے لحاظ سے ناروے پہلے نمبر پر ہے جبکہ بھارت کا نمبر 157واں ہےاس واقعے کے بعد ہیلے لِنگ کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جہاں بہت سے صارفین نے ان پر غیر ملکی ایجنٹ، جاسوس اور چینی پراکسی ہونے کے الزامات لگائے جبکہ دیگر نے کہا کہ یہ مشترکہ میڈیا بریفنگ تھی، رسمی پریس کانفرنس نہیں۔

    ان الزامات پر صفائی دیتے ہوئے ہیلے لِنگ نے ایک اور پوسٹ میں کہا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے یہ لکھنا پڑے گا لیکن میں کسی بھی غیر ملکی حکومت کی بھیجی ہوئی کوئی جاسوس نہیں ہوں، میرا کام صرف صحافت ہے۔

    تاہم اس تنازع کے بعد انٹرنیٹ پر ان کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا اور ان کے فالوورز کی تعداد چند سو سے بڑھ کر 45 ہزار سے زیادہ ہو گئی دوسری طرف اس معاملے پر سیاسی بحث شروع ہونے کے بعد ناروے میں موجود بھارتی سفارت خانے نے اسی دن ہیلے لِنگ کو ایک الگ بریفنگ میں مدعو کیا وہاں انہوں نے بھارت میں انسانی حقوق اور ساکھ کے حوالے سے دوبارہ سوالات اٹھائے۔

    سرکاری اور نجی ایئر لائنز کی گزشتہ تین سال کی آمدن، منافع، نقصان اور ادا کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

    اس کے جواب میں بھارتی وزارت خارجہ کے سیکرٹری سبی جارج نے بھارت کی ہزاروں سال پرانی تہذیب، شطرنج، یوگا اور کورونا وبا کے دوران دنیا بھر میں ویکسین پہنچانے جیسے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بھارتی موقف پیش کیا۔

  • نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل

    نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام سے ایک سال تک سونا نہ خریدنے کی اپیل کیے جانے کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے ملک میں سونے اور چاندی کی درآمد پر عائد ڈیوٹی کو 6 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا ہے۔

    بھارتی وزارتِ خزانہ کی جانب سے بدھ، 13 مئی 2026 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق سونے اور چاندی پر بنیادی کسٹمز ڈیوٹی 5فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد، جبکہ زرعی انفراسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ سیس کو ایک فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کر دیا گیا ہے اس فیصلے کا مقصد بڑھتے ہوئے درآمدی بل کو کم کرنا، غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کا تحفظ اور ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہوئے روپے کو سہارا دینا ہے۔

    یہ سخت پالیسی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیرِ اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ملکی مفاد میں ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز کریں اور غیر ضروری درآمدات میں کمی لائیں، وزیرِ اعظم مودی کا کہنا تھا کہ ”شہری ایندھن کا استعمال کم کریں، غیر ملکی دور ے موخر کریں اور قومی مفاد میں سونے کی خریداری میں تاخیر کریں-

    بھارت میں خام تیل کی قیمتیں مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کی وجہ سے پہلے ہی بلند سطح پر ہیں، جس سے معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو جائے گا، جس سے درآمدات میں کمی اور تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی صنعت سے وابستہ عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے زیورات کی طلب میں کمی آسکتی ہے اور سونا اسمگل کرنے والے نیٹ ورک دوبارہ سرگرم ہو سکتے ہیں۔

    بھارت دنیا میں سونے کا دوسرا بڑا صارف ہے، اور سال 2025-26 کے دوران سونے کی درآمدات پر ریکارڈ 71.98 ارب ڈالر خرچ کیے گئے، جو ملک کے مجموعی درآمدی بل کا تقریباً 9 سے 10 فیصد بنتا ہے۔ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے ماہرِ معاشیات وشرت رانا کا کہنا ہے کہ سونے کی درآمدات میں کمی سے بھارت کے کرنٹ اکاؤنٹ سے ہونے والے اخراج کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ یہ اخراج کافی زیادہ ہے-