پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا ہوتا ہے سب مجھے پتہ ہے
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کی پالیسیوں کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ہم عمران خان کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں، چند روز قبل پارلیمنٹ لاجز میں انصارالاسلام کے رضاکاروں کی گرفتاریوں پر مولانا فضل الرحمان شدید برہم تھے، مبشر لقمان نے جب مولانا فضل الرحمان سے ان گرفتاریوں بارے سوال کیا تو مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ حکومت جھوٹ بول رہی تھی،مرضا کار پاس لے کر آئے تھے جن کے پاس اجازت نامہ نہیں تھا وہ واپس چلے گئے، ان پر اسلام آباد پولیس نے دھاوا بول دیا لاجز کے دو یا تین کمروں کے اندر کتنے لوگ ہوں گے کہ اسلام آباد پولیس اندر گھس کر ان پر حملہ کرے کہ میزیں دراوزے توڑیں پارلیمنٹ کے اندر بغیر اجازت اندر نہیں آ سکتے وہاں شناختی کارڈ جمع کیا جاتا ہے آپ کو فون کیا جاتا ہے آپ کے بندے آئے ہیں اجازت ہے-
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن اس کوپراپیگنڈہ کیا گیا کوئی شرم حیا ہی نہیں ان لوگوں کو اس جھوٹ پر مجھے زیادہ افسوس ہے کہ ناجائز کام کیا گیا ایک سویلین آدمی لاجز میں پارلیمنٹ ممبر کی اجازت سے آتا ہے 70 نہیں صرف دس اور اگر پارلیمنٹ میں 165 اراکین ہمارے پاس ہوں اور ہر آدمی کہے مجھے ایک کی دو کی اجازت ہے پورے نہیں آتے وہاں پر کیا ہم قانون کو نہیں جانتے-
مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم اچھا جانتے ہو؟ انہیں قانون کا احترام نہیں ہے مجھے پتہ ہے تم ان لاجز کے کمروں میں کیا کردار ادا کرتے ہو تمہارے گند اور غلاظت تعفن اور بدبو کہاں کہاں تک پھیلتی ہے،وو ہاں سے وہ خاتون حریم شاہ جو وزیراعظم آفس میں داخل ہو کر دروازے کو ٹھڈے مارتی ہے وہاں تو کوئی کاروائی نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی حریم و محترم ہے لیکن ہمارے باریش نوجوان صرف اجازت سے اندر آئے ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہمارے اراکین کو اٹھا نا ہے ان کو تحفظ دینے کے لئے آئے تھے پھر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایسی کاروائی کرنی ہے پھر 70 کے 70 داخل ہو جاتے ہمیں پرواہ نہیں تھی ،
پی ڈی ایم کے سربراہ اور چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو غلط فہمی ہے کہ وہ 10 لاکھ لوگ اکھٹے کرلیں گے-
باغی ٹی وی : نجی ٹیو یو چینل کے پروگرام "کھرا سچ” میں میزبان مبشر لقمان کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے تحریک عدم اعتماد سمیت معروف ٹاک ٹاکر حریم شاہ اور حکومت کے تعلقات کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کئے-
پروگرام میں سینئیر صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ اگر کسی بھی اپوزیشن جماعت کو کوئی گارنٹی چاہیئے یا کچھ چاہیئے تو سب مولانا فضل الرحمان کے پاس آتے ہیں کو ئی مانے یا نا مانے اس وقت پاکستان میں حقیقی اپوزیشن کے طور پر ابھر کر آگے آئی ہے –
پروگرام میں مولانا نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی مہربانی ہے کہ وہ مجھے عزت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری کاوشوں کو قبول فرمائے-
میزبان کی طرف سے پوچھے گئے سوال کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک چلے گی؟ پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک رہنے والی بات تو رہی نہیں جب عدم اعتماد کی تحریک اسپیکر کے پاس جا کر جمع ہو جاتی ہے تو پھر ان کے اپنے قوانین و ضوابط ہیں کہ آپ کتنے دنوں کے اندر اندر نہیں لاسکتے ہیں اور کتنے دنوں کے اندر لانا لازمی ہے اس کا تعین بھی ہمارا آئین ہی کرتا ہے قانون اور رول اینڈ ریگولیشنز بھی کرتے ہیں اور اس وقت ہم نے ریکوزیشن بھی جمع کرائی ہے اس کی مدت کا تعین ہے کتنے دنوں کے اندر ریکوزیشن جمع ہو نے کے بعد اجلاس بلانا ہوتا یے اس حوالے سے فیصلہ اسپیکر نے کرنا ہے وہ کس وقت اجلاس بلاتے ہیں ظاہر ہے یہ تحریک ہم نے پیش کی ہے تو ہماری سو فیصد توانائیاں اس پر صرف ہوں گی کہ وہ ہر قیمت پر کامیاب ہو سکے-
10 لاکھ لوگ حکومت اور اپوزیشن بھی لوگوں کو ڈی چوک پر بلارہے ہیں کیا ہم انارکی کی طرف کسی لڑائی کی طرف جا رہے ہیں ؟
اس سوال کے جواب میں مولانا فضل ا لرحمان نے کہا کہ یہ بات تو ان کو نہیں کہنی چاہیئے تھی لیکن عمران خان کو شائد گھمنڈ ہے کہ شاید میں 10 لاکھ لوگ لا سکوں گا کیا 10 لاکھ لوگوں کے اکٹھے ہونے سے حالات پر اثر انداز ہو سکے گا کیا ٹرمپ نے اپنی ووٹنگ کے دن امریکا میں لاکھوں لوگوں کو اعلان نہیں کیا تھا کیا وہ کامیاب ہو گیا تھا پھر لوگوں کی رائے بدل گی ووٹ گننے والے دباؤ میں آگئے مرعوب ہو گئے ایسی صورتحال نہیں ہے-
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت عمران خان ہر صورت کوئی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے اگر تو بات رہی پبلک کی تو واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے بھی عوام کو اور اپنے کارکنوں کومتاثرہ طبقات کو جو اس وقت پاکستان کی نااہل حکومت کی وجہ سے برے حالات بھوک اور مہنگائی کا شکار ہیں اور بچوں کی فیسیں اور بجلی کا بل نہیں ادا کر سکتے یہ ساری چیزیں اس وقت ہمارے ہاں موجود ہیں تو اگر ہم نے بلا لیا لوگوں کو تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہاں پر کوئی کنٹرول کر سکےگا-
مولانا فضل الرحمان نے مبشر لقمان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کسی طرف سے بھی ہمیں انارکی کی طرف نہیں جانا چاہیئے اگر ہم اس طرف جانا چاہتے تو پھر ظاہر ہے آپ کو پتہ ہے ہماری ترجیح تو یہ تھی کہ ہم استعفے دے کر ایوانوں سے نکل آئیں لیکن پھر بھی چند دوستوں نے کہا کہ ہم ایوان کے اندر ہمارا جمہوری اور آئینی راستہ ہے عدم اعتماد کا اس کو اپنانا چاہتے ہیں جب ہم نے ان کو اپنا لیا ہے تو حکومت بھی اسی محاز پر مقابلہ کریں ا نارکی کی طرف تو انہوں نے اشارات دیئے ہیں اور اگر ملک میں حالات ایسے خراب ہوتے ہیں تو اس سے پہلے بھی کچھ چھوڑا تو نہیں ہے یا پھر کچھ بچا کھچا ہے امکان ہے کہ آنے والے لوگ سنبھال سکیں گے تو اس کا خیال ہے وہ بالکل نہیں سنبھال سکیں گے-
مبشر لقمان نے سول پوچھا کہ یہ نارمل الیکشن نہیں ہیں اس میں ووٹ اسپیکر نے گننے ہیں اسپیکر نیشنل اسمبلی کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ تو حکومت ک سا ئڈ لے چکی ہے اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے ووٹوں کو گننا نہیں وہ ڈس کوالیفائی کرلیں گے-
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہیں کرسکتا اس قسم کے جبر سے اسمبلی ختم ہو جائے گی پوری اپوزیشن کے ساتھ آپ نے یہ کھیل کھیل لیا تو پوری اپوزیشن استعفے دے دے گی نہ آپ کی پبنجاب اسمبلی نا وفاق میں قومی اسمبلی رہ سکے گی آپ کے آدھے سے زیادہ لوگ مستعفی ہو جائیں گے ملک کا نظام کیسے چلائیں گے یہ حماقت کبھی بھی اسپیکر نہیں کرے گا –
ایک سوال کے جواب میں سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بات کرنا بھی مذاق ہے باہر کے اشاروں پر اس طرح کے کام کرنا جو ہم کر رہے ہیں یہ بھی کہنا مذاق ہے تو مذاق کے ذریعے سے تو سیاست نہیں کر سکتے غیر سنجیدہ ہو کر جو چاہو کہہ دو کسی کے بارے میں گالیاں دے دو یہ روش ایک نارمل انسان کی نہیں ہوا کرتی عمران خان ایک نارمل حثیثت بھی کھو چکے ہیں اور ایسے ایسے گفتگو ان کی زبان سے نکل رہی ہے جو ایک شریف انسان کی نہیں ہو سکتی-
سوال کہ آپ کو کتنی امید ہے کہ جو اتحادی ہیں حکومت کے وہ آپ لوگوں کے ساتھ عنقریب مل جائیں گے؟ کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دو چیزیں ہیں ایک ہے ان کی اتحادی حکومت کی کرگردگی سے مطمن ہو اور وہ چاہتے ہوں ہم حکومت سے وابستہ رہیں اور دوسرا یہ کہ وہاں سے بالکل اطمینان ختم ہو چکا ہے لیکن نئے اتحاد کی طرف آنا اور اپوزیشن سائیڈ پر ایڈجسٹ کرنا اعتماد حاصل کرنا میرے خیال میں اصل پہلو یہی ہے ادھر سے میرے خیال میں وہ 100 فیصد کٹ چکے ہیں اور کسی قسم کا ان کا وہاں پر اعتماد والی کیفیت نہیں رہی ہے اور مایوسی کی آخری حدود تک پہنچے ہیں –
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت آپ ق لیگ پیر پگاڑا کی جماعت یا ایم کیو یم کی بات کریں یہ سب مجھے مل چکے ہیں ور ان سب کے خیالات و احساسات سے میں واقف ہوں اور اب یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ آ کر ملیں گے تو ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ تو بہت سے لوگوں کے تقاضے مطالبات ایڈجسٹمنٹ کے لئے کچھ شرائط چھوٹی موٹی سامنے آتی رہی ہیں میرے سامنے تو ایسی صورتحال نہیں میں کسی کو وزارت دوں اپنے صوبے میں تو میرے پاس اتنی تعداد نہیں کہ کسی کو کہوں منسٹر وزارت دوں گا پنجاب میں مسلم لیگ ن کی اور سندھ میں پی پی کی اپوزیشن ہے اگر ان سے کوئی رابطہ ہو اور ایسی بات یوئی تو میں نہیں کہہ سکتا میرے سامنے ایسا نہیں ہوا .
مشر لقمان نے پوچھا کچھ تو ناراض اراکین کو وعدہ کیا ہو گا نا پی پی نے مسلم لیگ ن نے جے یو آئی نے؟ مولانا نے کہا کہ ظاہر ہے ایک مرتبہ ہم نے نئی حکومت بنانی ہے اس میں ہم شامل ہوں گے نئے لوگ آئیں گے ہم نے بھی تو حکومت میں آنے کے بعد وزارتیں دینی ہیں بغیر وزارتوں کے نظام نہیں چلتا تو کچھ آپ کے نئے آنے والے لوگوں کو بھی ایڈجسٹ کر سکتے ہیں-
مولانا نے ایک سوال کے جواب میں کہا ک جہانگیر خان ترین یا علیم خان ہوں یہ ایک مستقل جماعت نہیں ہیں پی ٹی آئی کا حصہ ہیں ہم نے پی ٹی آئی کی حلیف جماعتوں کی بات کی ہے دونوں میں فرق تو ہے اور اس اعتبار سے اگر کسی اور جماعت سے ان کے روابط ہوں ہماری اپوزیشن کی لیکن میرے ساتھ تو کوئی رابطہ نہیں میں اس پر کوئی تبصریہ نہیں کر سکتا-
اس سوال پر کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو اپنی حکومت پر اعنبار نہیں ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جو مجھے معلومات ہیں جو مجھے رپورٹ کیا جاتا ہے تو اس لحاظ سے ان کی اپنی صفیں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہیں بس ایک یا دو وزیر ان کے دفاع کی کوشش کرتے ہیں -مولانا فض الرحمان نے کہا کی جو بھی شکل ہے اس کی بس دو تین ایسے ہیں جو گفتگو کر رہے ہیں انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جیسی لیڈر کی زبان ہو گی پیرو کاروں کی بھی وہی زبان ہو گی گالیاں دیں گے یہ بوکھلاہٹ ہے اس بوکھلاہٹ کا کوئی فائدہ نہیں-
مبشر لقمان نے پوچھا کی آپ نے کہا عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟
چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کی ایک سوال جو میں تقریباً دس بارہ سال سے اٹھا رہاہوں آپ اس کے ثبوت آج مجھ سے پوچھ رہے ہیں پہلے تو مجھے آپ جیسے باخبر آدمی سے توقع نہیں تھی ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس پر میں کافی کہہ چکا ہوں اور اب تو ہر مخالف وہ ہی باتیں کر رہا ہے مجھے زیادہ تر نہیں کہنی پڑ رہیں باقی لوگ اب اس کے لئے کافی ہو گئے ہیں کہ کس طریقے سے ان کے جو امریکا کے جے کیسنجتر جس زمانے میں ہمارے خارجہ سے واشنگٹن میں ملاقات کر رہے تھے اس میں گواسمتھ بھی بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ ہمارے لونڈے کا خیال رکھا کرو اس زمانے سے ہم جانتے ہیں پھر کہیں کہ یہ سب کچھ کہاں سے آرہا ہے کس کے کہنے پر ہو رہا ہے-
انہوں نے مزید کہا کہ 2013 کے الیکشن کے فورا بعد ایک وفد مجھے ملا اس نے مجھے کہا کہ ہم دو تین سال سے آپ کی تقریر نوٹ کر رہے ہیں آپ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے ہیں کیا ہم نے صحیح نوٹ کیا ؟ میں نے کہا ہاں آپ نے صحیح نوٹ کیا ہے-مولانا کے مطابق میری اس بات پر وفد نے کہا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں آپ نے صحیحح نوٹ کیا-اس پر مبشر لقمان نے بھی انکشاف کیا کہ مجھے کچھ لوگوں نے کہا لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا-
مولانا فضل الرحمان نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ووٹ دو اور کھڑے ہو جا ؤ یہ ان کا(عمران خان) ایک آئینی حق ہے جس کو ہم روک نہیں سکتے اگر فارن فنڈنگ کیس کی پٔزیشن یہ ہے کہ اگر الیکشن میں اس کے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ آتا ہے تو ملک پاک ہو جاتا ہے ایک گند سے ایک ایسی پارٹی سے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارا الیکشن کمیشن کس مصلحتوں کا شکار ہے کہ اتنے بڑے جرم پانامہ کا کیس ایک دم آتا ہے اور ایک دم آپ حکومت سے شخص کو نااہل کر کے باہر کر دیتے ہیں ایک کیس پڑا ہوا ہے اس کا مدعی دندنا رہا ہے اور کہہ رہا ہے میں گھر کے اندر سے گواہی دے رہاہوں گھر کے اندر سے گواہ تو بڑا زبردست قسم کا ہوتا ہے تو وہاں پر ہمارا ایک بڑا ادارہ جس کے پاس یہ کیس ہے وہ کیوں انصاف کے تقاضوں کو موخر کررہا ہے میرے سمجھ نہیں آ رہا-
ایک سول کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر عمران خان مصالحت کے لئے رابطہ کریں گے تو یا تو بُری چیز ختم کر دی جانے چاہیئے یا پھر مٹ جانا چاہئئے اور یہ بھی ایک بُری چیز ہے اس کا بھی نام و نشان مٹ جانا چاہیئے اس کو فنا ہو جانا چاہیئے-
مبشر لقمان نے کہا کہ اسلامی ریاست ہو نے کے باوجود مولوی لوگ پاپولر ووٹ کیوں نہیں لےسکتے ؟
جس پر مولانا نے کہا کہ یہ ایک لمبی بحث ہے میں علماء کو کہتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو انبیا ء کے وارث سمجھتے ہیں اگر انبیا کی وراثت محراب کا مصلہ ہے تو اس پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی اگر ممبر رسول وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت ہے تو وہاں پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی تو پھر سیاست بھی منصب انبیا ہے ار اس سیاست کے منصب پر علما اکرام کو کیوں کہا جاتا ہے اگر سیاست شریعہ ہو انبیا کی سیاست ہو آج بھی اس کے اصل وارث علما اکرام ہیں لیکن پھر یہ ہمیں خود عالم کو سوچنا ہو گا کہ ہم نے عام آدمی کو اس حوالے سے مطمن کیوں نہیں کیا –
انہوں نے کہا کی عام آدمی بہتر معشیت مسائل مشکلات کا حل چاہتا ہے ظلم سے نجات حاصل کرنا چہاتا ہے تھانے کچہری کے ظلم سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے کیوں آپ انتخابی سیات کرتے ہیں اور آپ کا ناقابل اجر کام ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی فضیلت بیان کی ہے اس کام کی لیکن شاید ہم اس طرخ سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں آج جمیعت علما اسلام کے ساتھ جو وابستہ علما ہیں 4 سے 5 لاکھ علما اکرام ہیں وہ عوام میں جاتے ہیں اگر جو ن لیگ کی پی پی کی بات کرتا ہے عوامی حوالے سے اس طرض جے یو آئی کی بھی بات کرتا ہے اس پر ہم نے کام کیا ہے بڑی محنت کی ہے پورے پاکستان کے مکاتب فکر کے ساتھ رابطے میبں ہیں ان کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں ہم نے پاکستان کے ساتھ جمہوری نظام کے ساتھ رہنا ہے –
عمران خان کو پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ عوام کا منتخب نہیں ہے ایک بدترین قسم کی دھاندلی کی گئی 25 جولائی 2018 کوجو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے وہ فوری مسعفی ہوں اور قوم کا مینڈینٹ اور امانت واپس کریں اگر نہیں کریں گے تو اس کے خلاف ہم ڈٹے رہیں گے-
انہوں نے کہا کہ 50 لاکھ لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت پولیس مہیا کر سکتی ہیں؟ اگر میرے رضا کار نہ ہوں تو پھر جھوٹ بولا گیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں رضا کار آ گئے 10 رضا کر آئے جن کا گیٹ پاس بنا باقی واپس چلے گئے ان پر اسلام آباد پولیس نے دھاوا بول دیا لاجز کے دو یا تین کمروں کے اندر کتنے لوگ ہوں گے کہ اسلام آباد پولیس اندر گھس کر ان پر حملہ کرے کہ میزیں دراوزے توڑیں پارلیمنٹ کے اندر بغیر اجازت اندر نہیں آ سکتے وہاں شناختی کارڈ جمع کیا جاتا ہے آپ کو فون کیا جاتا ہے آپ کے بندے آئے ہیں اجازت ہے-
لیکن اس کوپراپیگنڈہ کیا گیا کوئی شرم حیا ہی نہیں ان لوگوں کو اس جھوٹ پر مجھے زیادہ افسوس ہے کہ ناجائز کام کیا گیا ایک سویلین آدمی لاجز میں پارلیمنٹ ممبر کی اجازت سے آتا ہے 70 نہیں صرف دس اور اگر پارلیمنٹ میں 165 اراکین ہمارے پاس ہوں اور ہر آدمی کہے مجھے ایک کی دو کی اجازت ہے پورے نہیں آتے وہاں پر کیا ہم قانون کو نہیں جانتے-
انہوں نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم اچھا جانتے ہو؟ انہیں قانون کا احترام نہیں ہے مجھے پتہ ہے تم ان لاجز کے کمروں میں کیا کردار ادا کرتے ہو تمہارے گند اور غلاظت تعفن اور بدبو کہاں کہاں تک پھیلتی ہے ہوو ہاں سے وہ خاتون حریم شاہ جو وزیراعظم آفس میں داخل ہو کر دروازے کو ٹھڈے مارتی ہے وہاں تو کوئی کاروائی نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی حریم و محترم ہے لیکن ہمارے باریش نوجوان صرف اجازت سے اندر آئے ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہمارے اراکین کو اٹھا نا ہے ان کو تحفظ دینے کے لئے آئے تھے پھر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایسی کاروائی کرنی ہے پھر 70 کے 70 داخل ہو جاتے ہمیں پرواہ نہیں تھی –
انہوں نے مزید کہا کہ پھر آدھے گھنٹے کے اندر اند رمیں پہنچا ار پورا ملک جام ہو گیا پھر جا کر یہ نیچے آئے انہوں نے جو بدمعاشی کی ہے جو قانون توڑا ہے ریاست دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے مجھے اس پر احتجا ج ہے کہ میرے ساتھ بات کس بنیاد پر کرتے ہیں منہ بنا کر بات کر دینا دہشتگرد یہ اور وہ اس قسم کی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو ہم تم سے لاکھ درجے بہتر شریف اور آئین کے تابع اور قانون کا احترام کرنے والے لوگ ہیں تمہیں تو آئین کی سمجھ ہی نہیں قانون کی سمجھ ہی نہیں جہاں ایک بنیادی انسانی شرافت کی جگہ نہیں ہم پر بات کر رہے ہیں-
کپتان کے لیے مولانا کا خصوصی پیغام ۔ آج رات دس بجکر تین منٹ پر ۔صرف پی این این نیوز پر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے، سیاسی جماعتیں متحرک ہیں
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کی حکومت بننے کے ایک ہفتے بعد ہی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمان سے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے بے وفائیاں کیں لیکن ایک مرحلہ ایسا آیا کہ سب مولانا کی سیاست کو ماننے پر مجبو ہو گئے، مولانا فضل الرحمان کراچی سے آزادی مارچ لے کر لاہور آئے تو ن لیگ نے ساتھ چھوڑ دیا، اسلام آباد پہنچے تو سب غائب تھے تا ہم مولانا فضل الرحمان نے کامیاب آزادی مارچ کیا اور چودھری برادران سے ملاقات اور خاص یقین دہانی کے بعد مارچ ختم کیا تھا
کپتان کے لیے مولانا کا خصوصی پیغام ۔ آج رات دس بجکر تین منٹ پر ۔صرف پی این این نیوز پر pic.twitter.com/wwXct9hQGi
اب مولانا فضل الرحمان اپوزیشن جماعتوں کے امام ہیں، اور سب اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمان کی مشاورت سے ہی کام کر رہی ہیں، کب تحریک عدم اعتماد لانی ہے، کب کیا کرنا ہے، مولانا ہی فیصلہ کرتے ہیں،مولانا نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک بار پھر نہ صرف جمع کیا بلکہ اپنی سیاسی چال چلتے ہوئے حکومتی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطے اور ملاقاتیں کیں، اختر مینگل پہلے حکومتی اتحاد چھوڑ چکے تھے،اب ق لیگ اور ایم کیو ایم بھی حکومتی اتحاد سے الگ ہونیوالی ہیں، اسلام آباد میں ملاقاتوں کا موسم، تحریک عدم اعتماد، ڈی چوک میں جلسے کا اعلان ہو گیا، اپوزیشن بھی جلسہ کرے گی
ایسے میں پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کو ایک انٹرویو دیا ہے جس میں مولانا فضل الرحمان نے اہم انکشافات کئے ہیں اور مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کے نام خٰصوصی پیغام بھی بھجوایا ہے،انٹرویو آج پیر کی رات دس بجے پی این این پر نشر کیا جائے گا،
شہباز شریف نے مولانا سے ملاقات کر کے عمران خان کو وارننگ دے دی
صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) و قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی امیر جمیعت علما اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ان سے ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا اسعد محمود، اکرم درانی، کامران مرتضیٰ بھی شریک تھے ،ملاقات میں جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی صلاح الدین ایوبی، جمال الدین سمیت جمعیت علماء اسلام کے دیگر ارکان بھی شریک تھے
شہباز شریف نے کہا ہے کہ جے یو آئی کارکنوں کے ساتھ ظلم اور بربریت کی گئی پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والا واقعہ افسوس ناک تھا،عمران خان اب بھگوڑا ہو چکے ہیں تحریک انصاف کی حکومت ناکامی ہوگئی ہے، عمران خان اپوزیشن کو صرف چور اور ڈاکو کے لقب دیتے رہے،مگر ملا کچھ نہیں،عمران خان اپنے گریبان میں دیکھیں عمران خان بتائیں علیمہ خان کے پاس اربوں کی جائیداد کہاں سے آئی,
شہباز شریف نے عمران خان کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان اپنی زبان کو لگام دو،خواتین کے خلاف باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے،ہمیں کہا جاتا ہے کہ جوتے پالش کرتے ہیں تم کیا کرتے ہو؟ تم نے لندن میں بیٹھ کر فوج کو گالیاں دیں،مشرف نے نواز حکومت کو ختم کیا تو میں بھی نوازشریف کے ساتھ جیلوں میں تھا،اے ٹی ایم مشینیں تمہارے پاس ہیں ،وہ حرام کی کمائی ہے ان کے خلاف عدم اعتماد آچکا ہے تاریخ کی کرپٹ اور نااہل ترین حکومت سے جان چھڑانی ہے، گندم،چینی اور گیس کی قیمتوں میں اربوں کی کرپشن ہوئی ہمیں اعتماد ہے کہ تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت سے جان چھڑائیں گے، چینی اور آٹے میں جتنی کرپشن ہوئی اس کا ذمہ دار عمران خان ہے،فضل الرحمان نے انتہائی صبر اور قانونی راستہ اپنایا
مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کو باولا قرار دےدیا ،کہا عمران خان باولا ہو گیا ہے ،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بوکھلا کیوں گئے ہو ؟؟ گالیاں دینے پر کیوں آگئے ہو ؟ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی عمران خان سن لو ہم تمہیں جام کرنا جانتے ہیں،ہم نے شرافت کا راستہ لیا لیکن ان کی فطرت میں شرافت کا احترام نہیں ہے،آپ کی زبان بتا رہی ہے کہ آپ وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنے کے اہل نہیں ہیں،آپ کے وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنا اس منصب کی بے توقیری ہے،
ملک کے صدر اور وزیراعظم کے خلاف تحاریک آتی ہیں، بوکھلا کیوں گئے ہو، گھبرا کیوں رہے ہو، ہم پاکستان میں ایسی سیاست کو اجازت نہیں دیں گےہم آپ کے خلاف جہاد لڑ رہے ہیں، یاد رکھنا تحریک ناکام بھی ہو گئی تو تم حکومت نہیں کر سکو گے، جب عدم اعتماد پیش ہوچکی ہے وہ کس طرح عوام میں جارہاہے وہ کس طرح ڈی چوک پر لوگوں کو بلانے کی باتیں کررہا ہے؟ اسے لگام دی جائے اس کے گلے میں پٹہ ڈالا جائے واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں نے ملکر جمع کروائی ہے،گزشتہ روز اسمبلی سیکرٹریٹ میں عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد اپوزیشن قائدین مولانا فضل الرحمان، شہبا زشریف، آصف زرداری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی بعد ازاں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں ڈی چوک میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی
وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک اور بھتیجے احمد خٹک نے جمعیت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کرلی.مولانا فضل الرحمن کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا،
لیاقت خٹک کا کہنا تھا کہ نیا پاکستان بنانے کا وعدہ کیا گیا جو پورا نہیں ہوا ، نیا پاکستان کرپشن سے بھرپور ہے، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خا ن نے ملک اور معیشت کو تبا ہ کردیا،عمران خان نے ٹرمپ سے ملاقات کے بعد آکر خوشی کا اظہار کیا عمران خان کو فارن فنڈنگ اسرائیل،امریکہ اوربھارت سے ہوئی عمران خان کا چہرہ بےنقاب ہوچکاہے عمران خان دھمکیاں مت دیں ،ہم نے کوئی چوڑیاں نہیں پہنیں ہم بھی عمران خان کا وہ حال کریں گے ،جو اشرف غنی کا ہوا،عمران خان تقاریر میں غیر مناسب زبان استعمال نہ کریں عمران خان آئیں ہم مقابلہ کرنا جاتنے ہیں ،تہمت نہ لگائیں ،حقائق سامنے لائی جائیں
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک کے گھر پہنچ گئے
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ عمرا ن خان نے امریکی پالیسی پرعمل کرکے چین کو ناراض کیا عمران خان روس گئے اور جنگ چھڑ گئی ، عمران خان کے کردار پر بات نہیں کی ہم عمران خان کو لاس اینجلس سے ڈی چوک تک جانتے ہیں ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والوں نے نوجوانوں کو گمراہ کیا،عمرا ن خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آچکا ہے ہم کامیاب ہوں گے اورعمران خان کو ہٹانے میں فتح ہوگی،حیران ہوں فارنگ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن فیصلے میں تاخیرکیوں کرتاہے؟پی ٹی آئی کے اپنے لوگ ہی ہمیں عدم اعتماد کی تحریک میں کامیاب بنائیں گے عمران خان تو اب اپنے آقا پر بھی بوجھ بن گئے ہیں
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں نے ملکر جمع کروائی ہے،گزشتہ روز اسمبلی سیکرٹریٹ میں عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد اپوزیشن قائدین مولانا فضل الرحمان، شہبا زشریف، آصف زرداری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی بعد ازاں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں ڈی چوک میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی
شہباز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری، قائد حزب اختلاف شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کی ہے
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے،تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ کل کیا تھا کل ہماری مشاورت ہوئی تھی پی ٹی آئی حکومت نے ملکی معیشت کابیڑہ غرق کردیا،مہنگائی اوربے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے،آج ہرشخص مہنگائی اوربے روزگاری سے تنگ ہے،حکومت نے قرضے لیکرہماری نسلوں کوگروی رکھ دیا ہے ،خارجہ محاذ پربھی موجودہ حکومت ناکام ہوچکی ہے،سی پیک کو نشانہ بنایا گیا اور سی پیک کے حوالہ سے بعض وزرا نے وزیراعظم کو کیا کہاِ؟ کیڑے نکالے،کرپشن کی باتیں کی، الزامات لگائے، سب سے بڑی پریشانی کی بات مہنگائی بے روزگاری اور بیرونی قرضے ہیں ،اپنے سیکنڈل دبا لئے، فارن فنڈنگ، مالم جبہ ،کیسز کہاں ہیں، اپوزیشن کو صرف دبایا گیا اور بے بنیاد کیسز بنائے گئے،ہم نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا، یہ پاکستان کے عوام کی آواز ہے، تحریک سپیکرکے آفس جمع ہو چکی ہے،وزیراعظم نےحالیہ تقریرکےدوران یورپی ممالک کوبھی ناراض کردیا،یہ کہنا کہ میرے خلاف بیرونی سازشیں ہو رہی ہیں سراسر غلط ہے،کیا مہنگائی بیرونی سازش کی وجہ سے ہوئی،معیشت کا بیڑا غرق ہو گیا، کیا یہ بیرونی سازش ہے، یہ احتساب نہیں بد ترین انتقام کر رہے،
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب سے انہوں نے این جی اوز کے ذریعے سے مغربی تہذیب کو پروموٹ کرنے کی کوشش کی، ہم نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ پاکستانی نہیں کسی بیرونی ایجنڈے کے تحٹ ایجنٹ ہے، ہم اپنے نظریات ،پاکستان کی اساس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، 2018 میں جو الیکشن ہوا ہے ہم نے الیکشن کے بعد ایک ہفتے کے اندر اندر ایک متفقہ موقف تیار کر لیا تھا کہ الیکشن ناجائز ہوا ہے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے اسکے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے،. پھر اسکے بعد تحریک کا آغاز ہوا، ہر جماعت کا اپنا پلیٹ فارم، الگ سوچ،یہ جمہوری دنیا میں ہوتا ہے بنیادی موقف عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ،اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، اس پر کوئی جھول نہیں دکھائی، چودہ ملین مارچ، پھر آزادی مارچ، آج پیپلز پارٹی کا آزادی مارچ یہ ایک تسلسل ہے،ہم نے حکمرانوں کا اصل چہرہ قوم کے سامنے رکھا، ہم شرمندہ نہیں، جو کہا تھا وہی سامنے آ رہا ہے، ملک انحطاط کی طرف گیا ہے،معشیت کو مضبوط کیا تو عوام آپ پر اعتماد کرے گی،ہم نے معیشت کی رہی سہی ساکھ بھی ختم کر دی، ملکی معشیت کمزور ہو چکی ہے،
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے آج تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی ہے اور ان شاء اللہ انکے دن گنے جا چکے ہیں، انکی بساط لپٹ چکی ہے،جو تم نے کرنا تھا کر لیا، بلندو بانگ دعوے، قوم،نئی نسل سے کیا کچھ کہا تھا؟ دنیا کو نئی نسل کو دھوکہ دیا تھا، ایک کروڑ نوکریوں کا کہہ کرلاکھوں لوگوں کو بے روزگار کیاگیا،ہم نے اسوقت اس گفتگو کو دھوکہ سمجھا تھا آج بچے بچے نے تسلیم کر لیا، دھوکہ دھوکہ ہوتا ہے، اداروں کا سہارا مت لو، ہم سب جانتے ہیں،تمہاری اصلیت جانتے ہیں، تمہارے ذہن کے اندر جو ہے وہ بھی جانتے ہیں، آپ ہمیں دھمکیاں اور گالیاں دے رہے ہو، جس ظرف میں جو ہو گا اسی کی بو آئے گی، انکے ظرف میں یہی کچھ ہے،ہم نے چین کو ناراض کر دیا، امریکہ کی مخالفت اگر کسی موقع پر آئی تو ہم سے بڑھ کر کون امریکہ سے اختلاف کر سکتا ہے، اختلاف رائے سیاسی جمہوری اقدار کے ساتھ ہونا چاہے، ہم ملک، آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، اداروں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں لیکن فیصلوں سے اختلاف ہوتا ہے، ہم پاکستان کا استحکام چاہتے ہیں،قوم کے سامنے جو بات کی تھی آج وہ سچ ثابت ہوئی ہے، ہم کامیابی پر یقین رکھتے ہیں، عدم اعتماد کامیاب ہو گی، عنقریب نجات کی خوشخبری ملے گی
سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میں خوشخبری شیئر کرتا چلوں کہ آج حامد میر بحال ہو گیا ہے،میں نے پانچ سالہ دور صدارت میں برداشت کیا ،یہ جمہوریت ہے، سب دوستوں کو دعوت دیں گے، آنے والی نسل کو آزادی دلوائیں گے اس مشن سے ،اپوزیشن نے سوچا اب نہیں توکبھی نہیں ،
ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں بیٹھی ہوئی پارٹیز میں سے انکی پارٹیز کے لوگ بیزار ہیں، انہوں نے عوام میں جانا ہے کیا جواب دیںگے، عدم اعتماد کامیاب ہو گی،172سے بھی زیادہ ووٹ لیں گے،نمبرزاورنام بھی بتادوں کہ کتنے لوگ ہیں ہم نےبینظیربھٹوکے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنائی،اسحاق خان نے اسمبلی توڑدی ،اب صدرمملکت کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار ہی نہیں ،قدرت اچھا چاہتی ہے تو اچھا ہوتا ہے، ہم نے بسم اللہ کی، اللہ نے ہماری سنی، ہم آپس میں بات کر رہے تھے تو الحمد للہ ہم اس پہلے ہی اس پوائنٹ پر پہنچ چکے تھے کہ عدم اعتماد لانی ہے
شہباز شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ہم سب سے رابطہ کر رہے ہیں، جو بربادی ہوئی اس سفر کو ختم کر کے آگے بڑھنا ہے، ہمارا حق ہے کہ ہم ملاقاتیں کریں، سیاسی نطام میں یہ ہوتا ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں، بی اےپی کی مجھ سے بھی بات ہوئی ،زرداری صاحب سے بھی ہوئی ہے،بی اے پی سے کہا ہے کہ ہماراساتھ دیں،وزارت عظمیٰ اورآئندہ انتخابات سے متعلق متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ فیصلہ ہوگا،
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جس طرح آج ہم اعتماد کے ساتھ عم اعتماد کی منزل تک پہنچے ہیں، خفیہ دستاویز ہی سمجھ لیں کہ اہداف سے پہنچنے سے پہلے کوئی مباحثہ نہیں کرنا چاہتے جو سفر کو متاثر کر سکیں،ہم نے اپنے اہداف حاصل کر لئے تھے، کوئی تشدد نہیں کیا، کہا جا رہا تھا کہ تشدد والے آ رہے ہیں، کیا پندرہ لاکھ مدرسوں کے طالب علم ہوتے ہیں، بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جب رائے عامہ کو تیار کر رہے ہوتے ہیں،
قبل ازیں ن لیگی رہنما ،ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نااہل حکومت سے جان چھوڑوانے میں جنوبی پنجاب سے خان عبدالرحمن خان بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں میاں نواز شریف اور شہباز شریف نے عبدالرحمن خان کانجو کو اہم زمہ داری سونپ دی جنوبی پنجاب اہم کردار ادا کرے گے اور نا اہل حکومت سے عوام کو چھٹکارا ملے گا
خورشید شاہ،مولانا ملاقات کے بعد زرداری ہاؤس میں بڑی بیٹھک
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق زرداری ہاوس اسلام آباد میں اپوزیشن کی بڑی بیٹھک اپوزیشن جماعتوں کے بڑوں کی اہم ملاقات شروع ہو گئی ہے
آصف زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات شروع ہو گئی ہے پیپلزپارٹی کی طرف سے یوسف رضا گیلانی، خورشید شاہ اورمراد علی شاہ ملاقات میں موجود ہیں مسلم لیگ ن کی جانب سے ایاز صادق اور سعد رفیق ملاقات میں موجود ہیں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے متعلق مشاورت کی جا رہی ہے ملاقات میں اتحادیوں اور تحریک انصاف کے ناراض ارکان سے رابطوں سے متعلق بریفنگ دی جا رہی ہے بعض رہنماوں نے قومی اسمبلی اجلاس کے لیے جلد ریکوزیشن جمع کرانے کی تجویزدی ہے
صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) و قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ سابق صدر آصف زرداری سے وفد کی سطح پر اہم ملاقات۔
ملاقات میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال اور عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے اہم امور پر گفتگو pic.twitter.com/V9o1pFW9FH
— Shehbaz Digital Media (@ShehbazDigital) March 7, 2022
عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مختلف آئینی و قانونی آپشنز پر غور کیا گیا اجلاس میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے قانونی ماہرین نے بھی خصوصی شرکت کی ن لیگ کی جانب سے اشتر اوصاف اور زاہد حامد اجلاس میں شریک ہوئے ،پیپلزپارٹی سے فاروق نائیک اور مرتضیٰ وہاب، جے یو آئی کے کامران مرتضیٰ بھی شریک ہوئے، وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے سے متعلق قانونی نکات کا بھی جائزہ لیا گیا،تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے حمایت کرنے والے حکومتی ارکان کا جائزہ لیا گیا
قبل ازیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور ییپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ میں ملاقات ہوئی ہے ،ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ خورشید شاہ اور نوید قمر سے سیاسی صورتحال پر مشاورت ہوئی ،ہم نے حوصلہ افزامعلومات شیئرکی ہیں قومی امنگوں کے مطابق نتائج حاصل ہوں گے حالات کو دیکھ کر ماضی کو بھولنا پڑتا ہے سیاسی فیصلے کرتے ہیں، ان میں تناؤ بھی آ سکتا ہے، جو بات ہم کرتے ہیں اس میں کچھ چھپاتے بھی ہیں،جہانگیر ترین سے کوئی رابطہ نہیں ،جس کا جتنا ظرف ہو اتنی ہی بات کرتا ہے،ہم مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں، عمران خان ہوتا کو ن ہے جو ہم جیسے لوگوں کو دھمکیاں بھی دیتا ہے، ان کو پتا نہیں ہے کہ ہمارے کارکنوں گے گھروں میں لاٹھیاں تیل کے اندر پڑی ہیں اوروہ ہر مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔
پی پی رہنماء سید خورشید شاہ کی جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
دونوں رہنماؤں میں سیاسی صورتحال پر بات چیت اور تحریک عدم اعتماد پر مشاورت ہوگی ۔
ملاقات میں مولانا اسعد محمود ،اکرم خان درانی ،سید محمود شاہ ،مولانا انور ،مولانا عبدا لواسع شریک ۔اسلم غوری pic.twitter.com/an9rCvKQz6
— Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) March 7, 2022
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد 48 گھنٹے سے پہلے آجائے گی، حالات کی ضرورت کے مطابق ماضی کو بھولنا بھی پڑتا ہے،ہر سیاسی جماعت اپنے طور پر فیصلے کرتی ہے،جہانگیر ترین کا نواز شریف سے کوئی رابطہ نہیں ہوا،وزیراعظم نے اپوزیشن کو دھمکی دی اور بازاری زبان استعمال کی،ایک گھنٹے بعد لیڈر شپ کی ملاقات ہوگی 48 گھنٹوں سے پہلے تحریک لے آئیں گے،
پی پی رہنما سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو گھر بھیجنے کیلئے کوششیں کررہے ہیں،ہم نے کراچی سے اسلام آباد تک محنت کی ہے تحریک عدم اعتماد جلد پیش کی جائے گی لیڈر شپ کی میٹنگ میں آج فیصلہ ہوجائے گا،
مولانا شہباز شریف،آصف زرداری سے معاملات طے کر چودھری برادران کے پاس پہنچ گئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کا صوبائی دارالحکومت لاہور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری لاہور میں مقیم ہیں اور اہم ملاقاتیں کر رہے ہیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی لاہور پہنچ چکے ہیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن شہبازشریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹائون وفد کے ہمراہ پہنچ گئے، سابق صدر آصف زرداری کی شہبازشریف کی رہائش گاہ آمد ہوئی ہے بلاول بھٹو،یوسف رضا گیلانی اور حسن مرتضیٰ و دیگر بھی آصف زرداری کے ہمراہ ہیں شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان نے آصف زرداری اور بلال بھٹو کا استقبال کیا
اپوزیشن جماعتوں کی ملاقات ختم ،اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے اہم فیصلے کیے،مولانا فضل الرحمان شہباز شریف کی رہائشگاہ سے روانگی کے بعد چودھری برادران کی رہائش گاہ پہنچ گئے آصف زرداری نے چودھری برادران کو آج رات عشائیے پر مدعو کررکھا ہے مولانا فضل الرحمان چودھری شجاعت کی عیادت کریں گے مولانا فضل الرحمان چودھری برادران سے تحریک عدم اعتماد پر بات کریں گے، مولانا فضل الرحمان اپوزیشن کی اہم بیٹھک سے متعلق چودھری برادران کو اعتماد میں لیں گے، ملاقات میں سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا،
آج اپوزیشن قائدین کی شہبازشریف کی رہائش گاہ پر بڑی بیٹھک ھو گی ۔۔۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن شہبازشریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹائون وفد کے ہمراہ پہنچ گئے،
سابق صدر آصف علی زرداری بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی کا وفد کچھ دیر میں شہبازشریف کی رہائش گاہ پر پہنچے گا pic.twitter.com/dhEcG3YR8R
قبل ازیں مولانا فضل الرحمان کا سابق وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف نے حکومت مخالف تحریک کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کرلیا ہے مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کو آصف علی زرداری سے ملاقات اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالےسےاقدامات پراعتماد میں لیا
دوسری جانب تحریک عدم اعتماد سے متعلق خورشید شاہ نے اپوزیشن رہنماؤں کے سامنے نیا فارمولا پیش کردیا ،وزیراعظم سے پہلے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو ہٹایا جائے۔خورشید شاہ نے ایاز صادق سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اورفارمولا سے متعلق آگاہ کردیا ،اپوزیشن جماعتوں نے خورشید شاہ فارمولا پر غور شروع کردیا
پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری کا کہنا ہے کہ عوام کو مسلسل دیوار سے لگایا جارہا ہے ،حکومت عوام کو مسلسل دیوار سے لگا رہی ہے،عمران خان نے عوام کو سبز باغ دکھائے،ہم کراچی سے اسلام آباد کا رخ کررہے ہیںپاکستان صرف عمران خان کا نہیں ہم سب کا ہے،یہ جی ٹی روڈ کی ریلی نہیں عمران نیازی نے کہا تھا90روز میں کرپشن ختم کردینگے کہتے تھے ٹیکس بڑھنے کا مطلب حکمران چور ہے،اب عمران خان کو اس ملک کے ساتھ کھیلنے نہیں دے سکتے،سب جانتے ہیں پاکستان میں مہنگائی کا سونامی ہے،پہلے کہتا تھا کہ میرے پاس مکمل ٹیم ہے،اب کہتا ہے ہمارے پاس تو ٹیم ہی نہیں ہے،
پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا،عمران خان کی حکومت نے پارلیمان کی بے توقیری کی،صدر مملکت کے دفتر کو آرڈیننس فیکٹری بنا دیا،ہمارا ان سے کوئی ذاتی نہیں جمہوری اختلاف ہے،اسلام آباد میں بیٹھے حکمران لوگوں کے جمہوری حقوق سلب کررہے ہیں،ایم کیو ایم کے دوست فیصلہ کریں کہ آپ حکومت میں ہیں یا نہیں،پیکا آرڈیننس ایم کیو ایم کے وزیر قانون نے بنایا ہے،کابینہ میں ایم کیو ایم کے امین الحق بھی موجود ہیں،
سابق صدر آصف علی زرداری اورپی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے
ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کو 27 فروری کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کا مشورہ دے دیا اور کہا کہ الگ الگ لانگ مارچ کرنے سے حزب اختلاف کی تقسیم کا تاثر ملتا ہے، اسی لیے پیپلز پارٹی حزب اختلاف کے ساتھ لانگ مارچ میں شریک ہو سابق صدر آصف علی زرداری نے تجویز دی کہ پہلے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی چاہیے ،آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان اس بات پر اتفاق نہ ہو سکا کہ تحریک عدم اعتماد پہلے مرکز میں لائی جائے گی یا پنجاب میں ؟
نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد سے متعلق آصف علی زرداری آج صدر مسلم لیگ ن اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے بھی مشاورت کریں گے جبکہ مسلم لیگ ن اتحادیوں کے بجائے حکومتی ناراض ارکان کو ساتھ ملانے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے آصف زرداری نے کہا کہ ن لیگی رہنماؤں کے مطابق 20 سے 22 ناراض ارکان نے ن لیگ کو حمایت کا یقین دلایا ہے اور حکومتی ناراض ارکان کی حمایت سے تحریک عدم اعتماد متنازعہ ہوسکتی ہے
مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری کی رائے ہے کہ اتحادیوں کو ساتھ ملانا چاہیے جبکہ فضل الرحمان اور آصف علی زرداری نے حکومتی اتحادیوں سے بھی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ،ذرائع کے مطابق فضل الرحمان اور آصف علی زرداری نے تحریک عدم اعتماد اور لانگ مارچ پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا
قبل ازیں اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر بات چیت کرتے ہوئے سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن کی تیاری مکمل ہے اور حکومتی اراکین بھی رابطوں میں ہیں نا اہل اور نا لائق حکمرانوں کے جانے کا وقت آگیا ہے۔
ملاقات کے متعلق جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے گفتگو کی گی اور ملک کی سیاسی صورتحال پر مشاورت ہوئی۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق آصف زرداری نے بات چیت کے دوران کہا کہ عوام کی نظریں اپوزیشن کی طرف ہیں اور حکومت کے اتحادی بھی اس سے تنگ آچکے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ نا اہل اور نا لائق حکمرانوں کے جانے کا وقت آگیا ہے۔مہنگائی اور بیروزگاری سے لوگ تنگ آچکے ہیں سلیکٹڈ حکومت عوام میں اپنا اعتماد کھو چکی ہے اپوزیشن اس بار تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر میدان میں اترے گی۔
واضح رہے کہ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہبازشر یف کے درمیان ایک اور ملاقات طے پا گئی ہے آصف زرداری اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے درمیان منگل کو ایک اورملاقات ہو گی باخبر ذرائع کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات بلاول ہاؤس لاہور میں ہو گی ہونے والی ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت پر بات چیت کی جائے گی۔
دوسری طرف ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف نے بتایا کہ سابق صدر آصف زرداری 24 فروری کو جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق سے ملاقات کریں گے۔ سراج الحق سے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کیلئے تعاون مانگیں گے۔ 24 فروری کو تین بجے منصورہ میں ملاقات ہوگی۔
جمعیت علماء اسلام کے رہنما اور مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی ق علامہ راشد محمود سومرو پرنامعلوم افراد نے قاتلانہ حملہ کیا ،تاہم علامہ راشد خالد محمود سومرو حملے میں محفوظ رہے-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق علامہ راشد محمود سومرومیروخان میں کسی جلسے کی تقریب میں جارہے تھے تو راستے میں گنگہ شہر میں نامعلوم افراد نے مین ہائی وے کو لکڑیاں ڈال کر بلاک کیا گیا تھا اور مسلح افراد موقع پر موجود تھے جنہوں نے فائرنگ کی تاہم پولیس والوں کی جوابی فائرنگ سے ملزمان بھاگ نکلے
جے یو آئی کی مرکزی قیادت نے علامہ راشد سومرو پر حملے کی مزمت کی ہے ۔دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کر رہے ہیں جلد ملزمان کو گرفتار کر لیں گے۔
علامہ راشد محمود سومرو کے یو آئی کے مرکزی رہنما ہیں اور لاڑکانہ سے الیکشن لڑتے ہیں پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں وہ سندھ میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں ۔
جے یو آئی سندھ کے رہنما مولانا محمد عثمان کا کہنا ہے کہ مولانا راشد محمود سومرو پر حملہ غیر معمولی واقعہ ہے الحمدللہ مولانا راشد محمود سومرو خیریت سے ہیں، کارکن حوصلہ رکھیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت یہ نہ بھولے کہ علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی قاتل سندھ حکومت ہی تھی۔