ایم کیو ایم کا ساتھ چاہیے،مولانا بہادرآباد پہنچ گئے
پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد آمد ہوئی ہے
مولانا فضل الرحمان کی ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی ودیگر ذمہ داران سے ملاقات ہوئی مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ایم کیو ایم کو اپوزیشن میں شمولیت کی دعوت دی گئی ،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے ایم کیو ایم کا ساتھ چاہیے ،جمہوریت کے لیے ایم کیو ایم کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے،ایم کیو ایم کے تمام خدشات دور کرنے کے لیے تیار ہیں ،مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ بھی وفد تھا
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوچکی ہے موجودہ حالات پر اپوزیشن اورایم کیوایم میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے،ایم کیوایم دفتر سے مطمئن ہوکرجا رہا ہوں ،عمران خان تنہا ہوچکے ہیں ،عمران خان اوران کے جماعت کے لوگ غیر مناسب تقاریر کرتے ہیں،پی ٹی آئی والے سر تا پا وں تک منکرات سے بھرے ہوئے یں عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی یقینی ہے،
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ایم کیو ایم بہادر آباد پہنچ گئے
مولانا فضل الرحمان کی ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی ودیگر ذمہ داران سے ملاقات جاری pic.twitter.com/8WKw5G1S5P
— Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan (@juipakofficial) March 22, 2022
قبل ازیں مولانا فضل الرحمان گزشتہ روز کراچی پہنچے تو انہوں نے نامور عالم دین مفتی تقی عثمانی سے ملاقات کی،شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ سے تعزیت علامہ شاہ اویس نورانی سے ملاقات حافظ عبدالقیوم نعمانی کی عیادت کی قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان نے سندھ کے جماعتی ذمہ داران کو اسلام آبادلانگ مارچ تیاریوں کی ہدایت کی، مولانا فضل الرحمان سے جے یو آئی سندھ کی قیادت اور کارکنان نے بھی ملاقات کی، مولانا فضل الرحمان نے کارکنان کو اسلام آباد جلسے کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوری ماحول نہیں، حکمرانوں کی ہر بات میں تضاد ہے، فتنے سے جان چھڑوانے تک جدوجہد جاری رہے گی
مولانا فضل الرحمان 25 مارچ کو ہکلہ سے مہنگائی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں گے، ڈی آئی خان، لکی مروت، بنوں، کوہاٹ، کرک،پشاور، ہزارہ ڈویژن، مالاکنڈ ڈویژن کے قافلے شام 5 بجے ہلکہ پہنچیں گے
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان آج ایم کیوایم کے مرکز بہادرآباد جائیں گے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور ایم کیوایم قیادت کے درمیان ملاقات ہو گی ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیاجائےگا مولانا فضل الرحمان ایم کیو ایم قیادت سے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد پر حمایت مانگیں گے۔
گزشتہ روز اپوزیشن کے وفد نے اسلام آباد کے پارلیمنٹ لاجز میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے اہم ملاقات کی ملاقات میں سیاسی صورتحال ، تحریک عدم اعتماد اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیاملاقات میں ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں میں ملاقاتوں اور پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
ترجمان ایم کیو ایم کے مطابق اپوزیشن وفد میں اختر مینگل ، احسن اقبال،ایاز صادق ، راناثنااللہ اور خواجہ سعد رفیق جبکہ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ اور سہیل انور سیال شریک ہوئے جبکہ ایم کیو ایم کے وفد میں سینیر ڈپٹی کنوینر عامر خان ، وسیم اختر اور امین الحق شامل تھے۔
گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک میں آمرانہ سوچ ہے،جمہوری ماحول ہی نہیں ہے ،جو حکومت عام آدمی کے حقوق کا تحفظ نہ کرسکے اس کا پھرکیا کہہ سکتے ہیں معلوم نہیں حکومت کو عوام کے سامنے آنے کی ہمت کیسے ہو رہی ہے؟امید ہے عدالت آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی ،حکومت کی ان گراؤنڈ کوئی کارکردگی نہیں ان کی تاریخ تضاد سے بھری ہوئی ہے،جب جہاز بھر بھر کے لائے جا رہے تھے تو ضمیر کی آواز کہاں تھی؟ اب جب ان کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ممبران ان سے منحرف ہورہے ہیں تو کہتے ہیں ہارس ٹریڈنگ ہورہی ہے۔
پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلی بار سپریم کورٹ آیا ہوں، سپریم کورٹ بھی ہمارا ادارہ ہے، میری نظر میں یہ حکومت ناجائز ہے ،قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس پر عدالت عظمی فیصلہ کرے گی،ہمارے وکلا نے بڑی محنت سے درخواست تیار کی ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جب جہاز بھر بھر کے لائے جا رہے تھے تو ضمیر کی آواز کہاں تھی؟
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں آمرانہ سوچ ہے،جمہوری ماحول ہی نہیں ہے ،جو حکومت عام آدمی کے حقوق کا تحفظ نہ کرسکے اس کا پھرکیا کہہ سکتے ہیں معلوم نہیں حکومت کو عوام کے سامنے آنے کی ہمت کیسے ہو رہی ہے؟امید ہے عدالت آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی ،حکومت کی ان گراؤنڈ کوئی کارکردگی نہیں ان کی تاریخ تضاد سے بھری ہوئی ہے،جب جہاز بھر بھر کے لائے جا رہے تھے تو ضمیر کی آواز کہاں تھی؟ اب جب ان کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ممبران ان سے منحرف ہورہے ہیں تو کہتے ہیں ہارس ٹریڈنگ ہورہی ہے۔
پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلی بار سپریم کورٹ آیا ہوں، سپریم کورٹ بھی ہمارا ادارہ ہے، میری نظر میں یہ حکومت ناجائز ہے ،قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کہنا تھا کہ صدارتی ریفرنس پر عدالت عظمی فیصلہ کرے گی،ہمارے وکلا نے بڑی محنت سے درخواست تیار کی ہے۔
سپریم کورٹ کے باہرپیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہم سیاسی بات نہیں کریں گے امید ہے فیصلے آئین کے مطابق ہوں گے پارلیمنٹ کوعدالتی دہلیز پر نہیںلائے، ہم سیاسی اورقانونی جدوجہد کررہے ہیں۔ اپوزیشن کی کسی جماعت نے سپریم کورٹ سے رجو ع نہیں کیا سپریم کورٹ بار نے پٹیشن دائرکی جس پر ہم پیش ہوئے ہیں،ہم عدالتی احترام میں آج پیش ہوئے حکومت عدم اعتماد سے بھاگ رہی ہے قانون معاملات عدالتوں میں ہوتے ہیں حکمران آئین توڑنے پر تلے ہوئے ہیں اسپیکر سے کہنا چاہوں گا حکمران آپ کو پھنسا ئیں گے ،اسپیکر نے 14 دن میں اجلاس نہ بلا کر پہلی غلطی کر لی
صدر سپریم کورٹ بار احسن بھون کا کہنا تھا کہ جمہوری ا سپیکر کو آئین کی پاسداری کرنی چائیے ہم بطور وکیل کہتے ہیں ملکی نظام جمہوری عمل کے تحت چلایا جائے وکلاغیر جانبدارہیں، ہم قانون اور آئین کی بالادستی چاہتے ہیں آئین کا آرٹیکل 63 اے واضح ہے،
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ہم مبصر کے طورپرکارروائی میں شریک ہوئے ،
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج ہم سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اٹارنی جنرل نے عدالت میں حکومتی موقف پیش کیا،21کی بجائے25 مارچ کو اجلاس بلانا آئین کی خلاف ورزی ہے،اسپیکر کو کیا مشکل تھی کہ وہ وقت پر اجلاس بلاتے ،اسپیکر نے اجلاس کی آڑ میں قانون شکنی کی اوآئی سی کانفرنس میں آنے والے ہمارے بھائی ہیں، اوآئی سی کیلئے لانگ مارچ مؤخر کردیا،امید ہے اٹارنی جنرل نے عدالت میں جوکہا اس پرقائم رہیں گے،اسپیکرنے 14 دن کی مدت کی خلاف ورزی کی جوآئین سے انحراف ہے،ہماری درخواست تھی کہ اسپیکر نےآئین شکنی کی،پٹیشن عوامی مفاد میں دائر کی گئی جس پر ان کے شکرگزار ہوں،
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لے رہےہیں
شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اپوزیشن 25مارچ کواسلام آباد آرہی ہے ،23مارچ کو جی ٹین سی فلائے کرنے جارہا ہے اپوزیشن کو عدم اعتماد کا حق حاصل ہے مولانافضل الرحمان پر حیرت ہے لاٹھیوں کی بات کررہے ہیں،مولانافضل الرحمان سے کہنا چاہتا ہوں ن لیگ اور پیپلزپارٹی نکل جائیں گی آپ دھر لیے جائیں گے مولانا فضل الرحمان کو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا پتہ ہے اسپیکرسے جا کے پوچھوں گا کس دن ووٹنگ ہورہی ہے،ہمارا ذاتی کسی سے کوئی مسئلہ نہیں کیا مولانا فضل الرحمان ملک کو انارکی کی طرف لے کر جارہے ہیں؟فضل الرحمان مولا جٹ کاکردار ادا کر رہے ہیں،
شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں خانہ جنگی ہوئی، تو ذمہ دار مولانا فضل الرحمان ہوں گےعمران خان جیتے یا ہارے فائدہ عمران خان کا ہی ہوگا،ہم اپوزیشن والوں کو مکمل تحفظ دیں گے مگر ملک میں اہم ایونٹ کے بعد،اسد عمر اور پرویزخٹک ق لیگ سمیت تمام اتحادیوں سےبات چیت کررہے ہیں 25مارچ کے بعد اتحادیوں اور دیگر کا پتہ چل جائے گا کس کے ساتھ ہیں، فضل الرحمان وحشی جٹ کاکردار ادا کر رہے ہیں،مجھے امید ہے ق لیگ اور اتحادی عمرا ن خان کا ساتھ دیں،عمران خان کو جیتے ہوئے دیکھ رہاہوں ،الیکشن کے بعد میں معاملات دیکھ لوں گا عمران خان کو بہت پہلے سے جلسے شروع کرنے چاہیے تھے،وزارت داخلہ اور اسٹیبلشمینٹ کا رابطہ رہتاہے،سیاست میں ان کا کردار نہیں اچھی بات ہے اسٹیبلشمینٹ کا کردار نہیں ورنہ کل کو یہ روئیں گے کہ ہارے کیوں 23مارچ کو جے ٹین سی فلائے کرنے جارہا ہے
شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ یہ نہ ہو عدم اعتماد ، ملکی عدم استحکام کی طرف منتقل ہو جائے اور اس کی سزا آپ کو ملے، ایسا کچھ ہوا تو پھر یاد رکھیں آپ دس سال تک چوکوں میں اذانیں دیتے رہیں گے ،پاکستان کے ادارے ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پوری صلاحیت رکھتے ہیں، ہم نے ایک ایک ہزار آدمی طلب کیا ضرورت پڑی تو ایک ایک ہزارکااوراضافہ کر دینگے، نہ ہم کسی کو چھیڑیں گےاورہ کوئی قانون کو چھیڑے، رنہ چھوڑیں گے نہیں بارہا کہہ چکا ہوں شکست اپوزیشن کا مقدر ہے اتحادی آج سے حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان شروع کردینگے عمران خان کیخلاف منفی ہتھکنڈے ناکام ہوں گے،عمران خان کی عوام میں مقبولیت پہلے سے بڑھ گئی، 25مارچ کو میدان عمران خان کے حق میں ہوجائے گا 25مارچ سے پہلے فیصلہ کرناہوگا کون کس کے ساتھ ہیں،
اسلام آباد کا سیاسی موسم مسلسل گرم ہو رہا ہے، گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ سیاسی پارٹیاں بھی متحرک ہو رہی ہیں تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی، قومی اسمبلی کا اجلاس 21 مارچ کو ہو گا، 28 کو عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی، 172 اراکین حکومت و اپوزیشن دونوں کو چاہئے، جس کو 172 مل گئے وہ کامیاب ٹھہرے گا تا ہم اس سے قبل حکومت و اپوزیشن دونوں نے ڈی چوک پر میلہ لگانے کا اعلان کیا ہے، تحریک انصاف نے 27 مارچ کو ڈی چوک پر جلسے کا اعلان کیا تو مولانا فضل الرحمان نے 25 مارچ کو ڈی چوک پر جلسے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ ہم کب تک بیٹھیں گے یہ فیصلہ اسی روز ہو گا
اپوزیشن جماعتوں کے قائدین،رہنماؤں کی ملاقاتیں جاری ہیں، ایک دوسرے کو یقین دہانیاں کروائی جا رہی ہیں حکومتی اتحادی بھی متحرک ہیں کبھی حکومت والوں سے مل لیتے ہیں تو چند لمحوں بعد اپوزیشن کے پاس پہنچے ہوتے ہیں،عجیب سی کیفیت ہے، کون کس کے ساتھ ہے کچھ واضح نہیں ہو رہا،
پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا کرتے ہو،مجھے سب پتہ ہے، مولانا فضل الرحمان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ لاجز کے کمروں میں کیا ہوتا ہے سب مجھے پتہ ہے
سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کی پالیسیوں کو نشانہ بنایا اور کہا کہ ہم عمران خان کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں، چند روز قبل پارلیمنٹ لاجز میں انصارالاسلام کے رضاکاروں کی گرفتاریوں پر مولانا فضل الرحمان شدید برہم تھے، مبشر لقمان نے جب مولانا فضل الرحمان سے ان گرفتاریوں بارے سوال کیا تو مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ حکومت جھوٹ بول رہی تھی،مرضا کار پاس لے کر آئے تھے جن کے پاس اجازت نامہ نہیں تھا وہ واپس چلے گئے، ان پر اسلام آباد پولیس نے دھاوا بول دیا لاجز کے دو یا تین کمروں کے اندر کتنے لوگ ہوں گے کہ اسلام آباد پولیس اندر گھس کر ان پر حملہ کرے کہ میزیں دراوزے توڑیں پارلیمنٹ کے اندر بغیر اجازت اندر نہیں آ سکتے وہاں شناختی کارڈ جمع کیا جاتا ہے آپ کو فون کیا جاتا ہے آپ کے بندے آئے ہیں اجازت ہے-
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن اس کوپراپیگنڈہ کیا گیا کوئی شرم حیا ہی نہیں ان لوگوں کو اس جھوٹ پر مجھے زیادہ افسوس ہے کہ ناجائز کام کیا گیا ایک سویلین آدمی لاجز میں پارلیمنٹ ممبر کی اجازت سے آتا ہے 70 نہیں صرف دس اور اگر پارلیمنٹ میں 165 اراکین ہمارے پاس ہوں اور ہر آدمی کہے مجھے ایک کی دو کی اجازت ہے پورے نہیں آتے وہاں پر کیا ہم قانون کو نہیں جانتے-
مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم اچھا جانتے ہو؟ انہیں قانون کا احترام نہیں ہے مجھے پتہ ہے تم ان لاجز کے کمروں میں کیا کردار ادا کرتے ہو تمہارے گند اور غلاظت تعفن اور بدبو کہاں کہاں تک پھیلتی ہے،وو ہاں سے وہ خاتون حریم شاہ جو وزیراعظم آفس میں داخل ہو کر دروازے کو ٹھڈے مارتی ہے وہاں تو کوئی کاروائی نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی حریم و محترم ہے لیکن ہمارے باریش نوجوان صرف اجازت سے اندر آئے ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہمارے اراکین کو اٹھا نا ہے ان کو تحفظ دینے کے لئے آئے تھے پھر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایسی کاروائی کرنی ہے پھر 70 کے 70 داخل ہو جاتے ہمیں پرواہ نہیں تھی ،
پی ڈی ایم کے سربراہ اور چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو غلط فہمی ہے کہ وہ 10 لاکھ لوگ اکھٹے کرلیں گے-
باغی ٹی وی : نجی ٹیو یو چینل کے پروگرام "کھرا سچ” میں میزبان مبشر لقمان کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے تحریک عدم اعتماد سمیت معروف ٹاک ٹاکر حریم شاہ اور حکومت کے تعلقات کے بارے میں تہلکہ خیز انکشافات کئے-
پروگرام میں سینئیر صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ اگر کسی بھی اپوزیشن جماعت کو کوئی گارنٹی چاہیئے یا کچھ چاہیئے تو سب مولانا فضل الرحمان کے پاس آتے ہیں کو ئی مانے یا نا مانے اس وقت پاکستان میں حقیقی اپوزیشن کے طور پر ابھر کر آگے آئی ہے –
پروگرام میں مولانا نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کی مہربانی ہے کہ وہ مجھے عزت دیتے ہیں اللہ تعالیٰ ہماری کاوشوں کو قبول فرمائے-
میزبان کی طرف سے پوچھے گئے سوال کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک چلے گی؟ پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک کب تک رہنے والی بات تو رہی نہیں جب عدم اعتماد کی تحریک اسپیکر کے پاس جا کر جمع ہو جاتی ہے تو پھر ان کے اپنے قوانین و ضوابط ہیں کہ آپ کتنے دنوں کے اندر اندر نہیں لاسکتے ہیں اور کتنے دنوں کے اندر لانا لازمی ہے اس کا تعین بھی ہمارا آئین ہی کرتا ہے قانون اور رول اینڈ ریگولیشنز بھی کرتے ہیں اور اس وقت ہم نے ریکوزیشن بھی جمع کرائی ہے اس کی مدت کا تعین ہے کتنے دنوں کے اندر ریکوزیشن جمع ہو نے کے بعد اجلاس بلانا ہوتا یے اس حوالے سے فیصلہ اسپیکر نے کرنا ہے وہ کس وقت اجلاس بلاتے ہیں ظاہر ہے یہ تحریک ہم نے پیش کی ہے تو ہماری سو فیصد توانائیاں اس پر صرف ہوں گی کہ وہ ہر قیمت پر کامیاب ہو سکے-
10 لاکھ لوگ حکومت اور اپوزیشن بھی لوگوں کو ڈی چوک پر بلارہے ہیں کیا ہم انارکی کی طرف کسی لڑائی کی طرف جا رہے ہیں ؟
اس سوال کے جواب میں مولانا فضل ا لرحمان نے کہا کہ یہ بات تو ان کو نہیں کہنی چاہیئے تھی لیکن عمران خان کو شائد گھمنڈ ہے کہ شاید میں 10 لاکھ لوگ لا سکوں گا کیا 10 لاکھ لوگوں کے اکٹھے ہونے سے حالات پر اثر انداز ہو سکے گا کیا ٹرمپ نے اپنی ووٹنگ کے دن امریکا میں لاکھوں لوگوں کو اعلان نہیں کیا تھا کیا وہ کامیاب ہو گیا تھا پھر لوگوں کی رائے بدل گی ووٹ گننے والے دباؤ میں آگئے مرعوب ہو گئے ایسی صورتحال نہیں ہے-
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت عمران خان ہر صورت کوئی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے اگر تو بات رہی پبلک کی تو واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے بھی عوام کو اور اپنے کارکنوں کومتاثرہ طبقات کو جو اس وقت پاکستان کی نااہل حکومت کی وجہ سے برے حالات بھوک اور مہنگائی کا شکار ہیں اور بچوں کی فیسیں اور بجلی کا بل نہیں ادا کر سکتے یہ ساری چیزیں اس وقت ہمارے ہاں موجود ہیں تو اگر ہم نے بلا لیا لوگوں کو تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہاں پر کوئی کنٹرول کر سکےگا-
مولانا فضل الرحمان نے مبشر لقمان کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کسی طرف سے بھی ہمیں انارکی کی طرف نہیں جانا چاہیئے اگر ہم اس طرف جانا چاہتے تو پھر ظاہر ہے آپ کو پتہ ہے ہماری ترجیح تو یہ تھی کہ ہم استعفے دے کر ایوانوں سے نکل آئیں لیکن پھر بھی چند دوستوں نے کہا کہ ہم ایوان کے اندر ہمارا جمہوری اور آئینی راستہ ہے عدم اعتماد کا اس کو اپنانا چاہتے ہیں جب ہم نے ان کو اپنا لیا ہے تو حکومت بھی اسی محاز پر مقابلہ کریں ا نارکی کی طرف تو انہوں نے اشارات دیئے ہیں اور اگر ملک میں حالات ایسے خراب ہوتے ہیں تو اس سے پہلے بھی کچھ چھوڑا تو نہیں ہے یا پھر کچھ بچا کھچا ہے امکان ہے کہ آنے والے لوگ سنبھال سکیں گے تو اس کا خیال ہے وہ بالکل نہیں سنبھال سکیں گے-
مبشر لقمان نے سول پوچھا کہ یہ نارمل الیکشن نہیں ہیں اس میں ووٹ اسپیکر نے گننے ہیں اسپیکر نیشنل اسمبلی کی باتوں سے لگ رہا ہے کہ وہ تو حکومت ک سا ئڈ لے چکی ہے اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے ووٹوں کو گننا نہیں وہ ڈس کوالیفائی کرلیں گے-
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہیں کرسکتا اس قسم کے جبر سے اسمبلی ختم ہو جائے گی پوری اپوزیشن کے ساتھ آپ نے یہ کھیل کھیل لیا تو پوری اپوزیشن استعفے دے دے گی نہ آپ کی پبنجاب اسمبلی نا وفاق میں قومی اسمبلی رہ سکے گی آپ کے آدھے سے زیادہ لوگ مستعفی ہو جائیں گے ملک کا نظام کیسے چلائیں گے یہ حماقت کبھی بھی اسپیکر نہیں کرے گا –
ایک سوال کے جواب میں سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ ریاست مدینہ کی بات کرنا بھی مذاق ہے باہر کے اشاروں پر اس طرح کے کام کرنا جو ہم کر رہے ہیں یہ بھی کہنا مذاق ہے تو مذاق کے ذریعے سے تو سیاست نہیں کر سکتے غیر سنجیدہ ہو کر جو چاہو کہہ دو کسی کے بارے میں گالیاں دے دو یہ روش ایک نارمل انسان کی نہیں ہوا کرتی عمران خان ایک نارمل حثیثت بھی کھو چکے ہیں اور ایسے ایسے گفتگو ان کی زبان سے نکل رہی ہے جو ایک شریف انسان کی نہیں ہو سکتی-
سوال کہ آپ کو کتنی امید ہے کہ جو اتحادی ہیں حکومت کے وہ آپ لوگوں کے ساتھ عنقریب مل جائیں گے؟ کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دو چیزیں ہیں ایک ہے ان کی اتحادی حکومت کی کرگردگی سے مطمن ہو اور وہ چاہتے ہوں ہم حکومت سے وابستہ رہیں اور دوسرا یہ کہ وہاں سے بالکل اطمینان ختم ہو چکا ہے لیکن نئے اتحاد کی طرف آنا اور اپوزیشن سائیڈ پر ایڈجسٹ کرنا اعتماد حاصل کرنا میرے خیال میں اصل پہلو یہی ہے ادھر سے میرے خیال میں وہ 100 فیصد کٹ چکے ہیں اور کسی قسم کا ان کا وہاں پر اعتماد والی کیفیت نہیں رہی ہے اور مایوسی کی آخری حدود تک پہنچے ہیں –
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت آپ ق لیگ پیر پگاڑا کی جماعت یا ایم کیو یم کی بات کریں یہ سب مجھے مل چکے ہیں ور ان سب کے خیالات و احساسات سے میں واقف ہوں اور اب یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ آ کر ملیں گے تو ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ تو بہت سے لوگوں کے تقاضے مطالبات ایڈجسٹمنٹ کے لئے کچھ شرائط چھوٹی موٹی سامنے آتی رہی ہیں میرے سامنے تو ایسی صورتحال نہیں میں کسی کو وزارت دوں اپنے صوبے میں تو میرے پاس اتنی تعداد نہیں کہ کسی کو کہوں منسٹر وزارت دوں گا پنجاب میں مسلم لیگ ن کی اور سندھ میں پی پی کی اپوزیشن ہے اگر ان سے کوئی رابطہ ہو اور ایسی بات یوئی تو میں نہیں کہہ سکتا میرے سامنے ایسا نہیں ہوا .
مشر لقمان نے پوچھا کچھ تو ناراض اراکین کو وعدہ کیا ہو گا نا پی پی نے مسلم لیگ ن نے جے یو آئی نے؟ مولانا نے کہا کہ ظاہر ہے ایک مرتبہ ہم نے نئی حکومت بنانی ہے اس میں ہم شامل ہوں گے نئے لوگ آئیں گے ہم نے بھی تو حکومت میں آنے کے بعد وزارتیں دینی ہیں بغیر وزارتوں کے نظام نہیں چلتا تو کچھ آپ کے نئے آنے والے لوگوں کو بھی ایڈجسٹ کر سکتے ہیں-
مولانا نے ایک سوال کے جواب میں کہا ک جہانگیر خان ترین یا علیم خان ہوں یہ ایک مستقل جماعت نہیں ہیں پی ٹی آئی کا حصہ ہیں ہم نے پی ٹی آئی کی حلیف جماعتوں کی بات کی ہے دونوں میں فرق تو ہے اور اس اعتبار سے اگر کسی اور جماعت سے ان کے روابط ہوں ہماری اپوزیشن کی لیکن میرے ساتھ تو کوئی رابطہ نہیں میں اس پر کوئی تبصریہ نہیں کر سکتا-
اس سوال پر کہ پی ٹی آئی کے لوگوں کو اپنی حکومت پر اعنبار نہیں ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ جو مجھے معلومات ہیں جو مجھے رپورٹ کیا جاتا ہے تو اس لحاظ سے ان کی اپنی صفیں مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہیں بس ایک یا دو وزیر ان کے دفاع کی کوشش کرتے ہیں -مولانا فض الرحمان نے کہا کی جو بھی شکل ہے اس کی بس دو تین ایسے ہیں جو گفتگو کر رہے ہیں انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جیسی لیڈر کی زبان ہو گی پیرو کاروں کی بھی وہی زبان ہو گی گالیاں دیں گے یہ بوکھلاہٹ ہے اس بوکھلاہٹ کا کوئی فائدہ نہیں-
مبشر لقمان نے پوچھا کی آپ نے کہا عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟
چئیرمین جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا کی ایک سوال جو میں تقریباً دس بارہ سال سے اٹھا رہاہوں آپ اس کے ثبوت آج مجھ سے پوچھ رہے ہیں پہلے تو مجھے آپ جیسے باخبر آدمی سے توقع نہیں تھی ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس پر میں کافی کہہ چکا ہوں اور اب تو ہر مخالف وہ ہی باتیں کر رہا ہے مجھے زیادہ تر نہیں کہنی پڑ رہیں باقی لوگ اب اس کے لئے کافی ہو گئے ہیں کہ کس طریقے سے ان کے جو امریکا کے جے کیسنجتر جس زمانے میں ہمارے خارجہ سے واشنگٹن میں ملاقات کر رہے تھے اس میں گواسمتھ بھی بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ ہمارے لونڈے کا خیال رکھا کرو اس زمانے سے ہم جانتے ہیں پھر کہیں کہ یہ سب کچھ کہاں سے آرہا ہے کس کے کہنے پر ہو رہا ہے-
انہوں نے مزید کہا کہ 2013 کے الیکشن کے فورا بعد ایک وفد مجھے ملا اس نے مجھے کہا کہ ہم دو تین سال سے آپ کی تقریر نوٹ کر رہے ہیں آپ عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے ہیں کیا ہم نے صحیح نوٹ کیا ؟ میں نے کہا ہاں آپ نے صحیح نوٹ کیا ہے-مولانا کے مطابق میری اس بات پر وفد نے کہا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں آپ نے صحیحح نوٹ کیا-اس پر مبشر لقمان نے بھی انکشاف کیا کہ مجھے کچھ لوگوں نے کہا لیکن میں ان کا نام نہیں لوں گا-
مولانا فضل الرحمان نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ووٹ دو اور کھڑے ہو جا ؤ یہ ان کا(عمران خان) ایک آئینی حق ہے جس کو ہم روک نہیں سکتے اگر فارن فنڈنگ کیس کی پٔزیشن یہ ہے کہ اگر الیکشن میں اس کے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ آتا ہے تو ملک پاک ہو جاتا ہے ایک گند سے ایک ایسی پارٹی سے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارا الیکشن کمیشن کس مصلحتوں کا شکار ہے کہ اتنے بڑے جرم پانامہ کا کیس ایک دم آتا ہے اور ایک دم آپ حکومت سے شخص کو نااہل کر کے باہر کر دیتے ہیں ایک کیس پڑا ہوا ہے اس کا مدعی دندنا رہا ہے اور کہہ رہا ہے میں گھر کے اندر سے گواہی دے رہاہوں گھر کے اندر سے گواہ تو بڑا زبردست قسم کا ہوتا ہے تو وہاں پر ہمارا ایک بڑا ادارہ جس کے پاس یہ کیس ہے وہ کیوں انصاف کے تقاضوں کو موخر کررہا ہے میرے سمجھ نہیں آ رہا-
ایک سول کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر عمران خان مصالحت کے لئے رابطہ کریں گے تو یا تو بُری چیز ختم کر دی جانے چاہیئے یا پھر مٹ جانا چاہئئے اور یہ بھی ایک بُری چیز ہے اس کا بھی نام و نشان مٹ جانا چاہیئے اس کو فنا ہو جانا چاہیئے-
مبشر لقمان نے کہا کہ اسلامی ریاست ہو نے کے باوجود مولوی لوگ پاپولر ووٹ کیوں نہیں لےسکتے ؟
جس پر مولانا نے کہا کہ یہ ایک لمبی بحث ہے میں علماء کو کہتا ہوں کہ آپ اپنے آپ کو انبیا ء کے وارث سمجھتے ہیں اگر انبیا کی وراثت محراب کا مصلہ ہے تو اس پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی اگر ممبر رسول وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وراثت ہے تو وہاں پر آپ کے بغیر قوم کسی کو قبول نہیں کرتی تو پھر سیاست بھی منصب انبیا ہے ار اس سیاست کے منصب پر علما اکرام کو کیوں کہا جاتا ہے اگر سیاست شریعہ ہو انبیا کی سیاست ہو آج بھی اس کے اصل وارث علما اکرام ہیں لیکن پھر یہ ہمیں خود عالم کو سوچنا ہو گا کہ ہم نے عام آدمی کو اس حوالے سے مطمن کیوں نہیں کیا –
انہوں نے کہا کی عام آدمی بہتر معشیت مسائل مشکلات کا حل چاہتا ہے ظلم سے نجات حاصل کرنا چہاتا ہے تھانے کچہری کے ظلم سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے کیوں آپ انتخابی سیات کرتے ہیں اور آپ کا ناقابل اجر کام ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنی فضیلت بیان کی ہے اس کام کی لیکن شاید ہم اس طرخ سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں آج جمیعت علما اسلام کے ساتھ جو وابستہ علما ہیں 4 سے 5 لاکھ علما اکرام ہیں وہ عوام میں جاتے ہیں اگر جو ن لیگ کی پی پی کی بات کرتا ہے عوامی حوالے سے اس طرض جے یو آئی کی بھی بات کرتا ہے اس پر ہم نے کام کیا ہے بڑی محنت کی ہے پورے پاکستان کے مکاتب فکر کے ساتھ رابطے میبں ہیں ان کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں ہم نے پاکستان کے ساتھ جمہوری نظام کے ساتھ رہنا ہے –
عمران خان کو پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ عوام کا منتخب نہیں ہے ایک بدترین قسم کی دھاندلی کی گئی 25 جولائی 2018 کوجو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے وہ فوری مسعفی ہوں اور قوم کا مینڈینٹ اور امانت واپس کریں اگر نہیں کریں گے تو اس کے خلاف ہم ڈٹے رہیں گے-
انہوں نے کہا کہ 50 لاکھ لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت پولیس مہیا کر سکتی ہیں؟ اگر میرے رضا کار نہ ہوں تو پھر جھوٹ بولا گیا کہ پارلیمنٹ لاجز میں رضا کار آ گئے 10 رضا کر آئے جن کا گیٹ پاس بنا باقی واپس چلے گئے ان پر اسلام آباد پولیس نے دھاوا بول دیا لاجز کے دو یا تین کمروں کے اندر کتنے لوگ ہوں گے کہ اسلام آباد پولیس اندر گھس کر ان پر حملہ کرے کہ میزیں دراوزے توڑیں پارلیمنٹ کے اندر بغیر اجازت اندر نہیں آ سکتے وہاں شناختی کارڈ جمع کیا جاتا ہے آپ کو فون کیا جاتا ہے آپ کے بندے آئے ہیں اجازت ہے-
لیکن اس کوپراپیگنڈہ کیا گیا کوئی شرم حیا ہی نہیں ان لوگوں کو اس جھوٹ پر مجھے زیادہ افسوس ہے کہ ناجائز کام کیا گیا ایک سویلین آدمی لاجز میں پارلیمنٹ ممبر کی اجازت سے آتا ہے 70 نہیں صرف دس اور اگر پارلیمنٹ میں 165 اراکین ہمارے پاس ہوں اور ہر آدمی کہے مجھے ایک کی دو کی اجازت ہے پورے نہیں آتے وہاں پر کیا ہم قانون کو نہیں جانتے-
انہوں نے حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم اچھا جانتے ہو؟ انہیں قانون کا احترام نہیں ہے مجھے پتہ ہے تم ان لاجز کے کمروں میں کیا کردار ادا کرتے ہو تمہارے گند اور غلاظت تعفن اور بدبو کہاں کہاں تک پھیلتی ہے ہوو ہاں سے وہ خاتون حریم شاہ جو وزیراعظم آفس میں داخل ہو کر دروازے کو ٹھڈے مارتی ہے وہاں تو کوئی کاروائی نہیں ہوتی لیکن وہ پھر بھی حریم و محترم ہے لیکن ہمارے باریش نوجوان صرف اجازت سے اندر آئے ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ ہمارے اراکین کو اٹھا نا ہے ان کو تحفظ دینے کے لئے آئے تھے پھر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے ایسی کاروائی کرنی ہے پھر 70 کے 70 داخل ہو جاتے ہمیں پرواہ نہیں تھی –
انہوں نے مزید کہا کہ پھر آدھے گھنٹے کے اندر اند رمیں پہنچا ار پورا ملک جام ہو گیا پھر جا کر یہ نیچے آئے انہوں نے جو بدمعاشی کی ہے جو قانون توڑا ہے ریاست دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے مجھے اس پر احتجا ج ہے کہ میرے ساتھ بات کس بنیاد پر کرتے ہیں منہ بنا کر بات کر دینا دہشتگرد یہ اور وہ اس قسم کی باتیں ہمارے ساتھ نہ کرو ہم تم سے لاکھ درجے بہتر شریف اور آئین کے تابع اور قانون کا احترام کرنے والے لوگ ہیں تمہیں تو آئین کی سمجھ ہی نہیں قانون کی سمجھ ہی نہیں جہاں ایک بنیادی انسانی شرافت کی جگہ نہیں ہم پر بات کر رہے ہیں-
کپتان کے لیے مولانا کا خصوصی پیغام ۔ آج رات دس بجکر تین منٹ پر ۔صرف پی این این نیوز پر
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا رکھی ہے، سیاسی جماعتیں متحرک ہیں
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کی حکومت بننے کے ایک ہفتے بعد ہی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، مولانا فضل الرحمان سے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے بے وفائیاں کیں لیکن ایک مرحلہ ایسا آیا کہ سب مولانا کی سیاست کو ماننے پر مجبو ہو گئے، مولانا فضل الرحمان کراچی سے آزادی مارچ لے کر لاہور آئے تو ن لیگ نے ساتھ چھوڑ دیا، اسلام آباد پہنچے تو سب غائب تھے تا ہم مولانا فضل الرحمان نے کامیاب آزادی مارچ کیا اور چودھری برادران سے ملاقات اور خاص یقین دہانی کے بعد مارچ ختم کیا تھا
کپتان کے لیے مولانا کا خصوصی پیغام ۔ آج رات دس بجکر تین منٹ پر ۔صرف پی این این نیوز پر pic.twitter.com/wwXct9hQGi
اب مولانا فضل الرحمان اپوزیشن جماعتوں کے امام ہیں، اور سب اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمان کی مشاورت سے ہی کام کر رہی ہیں، کب تحریک عدم اعتماد لانی ہے، کب کیا کرنا ہے، مولانا ہی فیصلہ کرتے ہیں،مولانا نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک بار پھر نہ صرف جمع کیا بلکہ اپنی سیاسی چال چلتے ہوئے حکومتی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطے اور ملاقاتیں کیں، اختر مینگل پہلے حکومتی اتحاد چھوڑ چکے تھے،اب ق لیگ اور ایم کیو ایم بھی حکومتی اتحاد سے الگ ہونیوالی ہیں، اسلام آباد میں ملاقاتوں کا موسم، تحریک عدم اعتماد، ڈی چوک میں جلسے کا اعلان ہو گیا، اپوزیشن بھی جلسہ کرے گی
ایسے میں پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کو ایک انٹرویو دیا ہے جس میں مولانا فضل الرحمان نے اہم انکشافات کئے ہیں اور مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کے نام خٰصوصی پیغام بھی بھجوایا ہے،انٹرویو آج پیر کی رات دس بجے پی این این پر نشر کیا جائے گا،
شہباز شریف نے مولانا سے ملاقات کر کے عمران خان کو وارننگ دے دی
صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) و قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی امیر جمیعت علما اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر ان سے ملاقات ہوئی ہے
ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری، مولانا اسعد محمود، اکرم درانی، کامران مرتضیٰ بھی شریک تھے ،ملاقات میں جے یو آئی کے رکن قومی اسمبلی صلاح الدین ایوبی، جمال الدین سمیت جمعیت علماء اسلام کے دیگر ارکان بھی شریک تھے
شہباز شریف نے کہا ہے کہ جے یو آئی کارکنوں کے ساتھ ظلم اور بربریت کی گئی پارلیمنٹ لاجز میں ہونے والا واقعہ افسوس ناک تھا،عمران خان اب بھگوڑا ہو چکے ہیں تحریک انصاف کی حکومت ناکامی ہوگئی ہے، عمران خان اپوزیشن کو صرف چور اور ڈاکو کے لقب دیتے رہے،مگر ملا کچھ نہیں،عمران خان اپنے گریبان میں دیکھیں عمران خان بتائیں علیمہ خان کے پاس اربوں کی جائیداد کہاں سے آئی,
شہباز شریف نے عمران خان کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان اپنی زبان کو لگام دو،خواتین کے خلاف باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے،ہمیں کہا جاتا ہے کہ جوتے پالش کرتے ہیں تم کیا کرتے ہو؟ تم نے لندن میں بیٹھ کر فوج کو گالیاں دیں،مشرف نے نواز حکومت کو ختم کیا تو میں بھی نوازشریف کے ساتھ جیلوں میں تھا،اے ٹی ایم مشینیں تمہارے پاس ہیں ،وہ حرام کی کمائی ہے ان کے خلاف عدم اعتماد آچکا ہے تاریخ کی کرپٹ اور نااہل ترین حکومت سے جان چھڑانی ہے، گندم،چینی اور گیس کی قیمتوں میں اربوں کی کرپشن ہوئی ہمیں اعتماد ہے کہ تاریخ کی کرپٹ ترین حکومت سے جان چھڑائیں گے، چینی اور آٹے میں جتنی کرپشن ہوئی اس کا ذمہ دار عمران خان ہے،فضل الرحمان نے انتہائی صبر اور قانونی راستہ اپنایا
مولانا فضل الرحمان نے عمران خان کو باولا قرار دےدیا ،کہا عمران خان باولا ہو گیا ہے ،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ بوکھلا کیوں گئے ہو ؟؟ گالیاں دینے پر کیوں آگئے ہو ؟ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگی عمران خان سن لو ہم تمہیں جام کرنا جانتے ہیں،ہم نے شرافت کا راستہ لیا لیکن ان کی فطرت میں شرافت کا احترام نہیں ہے،آپ کی زبان بتا رہی ہے کہ آپ وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنے کے اہل نہیں ہیں،آپ کے وزیراعظم کے منصب پر بیٹھنا اس منصب کی بے توقیری ہے،
ملک کے صدر اور وزیراعظم کے خلاف تحاریک آتی ہیں، بوکھلا کیوں گئے ہو، گھبرا کیوں رہے ہو، ہم پاکستان میں ایسی سیاست کو اجازت نہیں دیں گےہم آپ کے خلاف جہاد لڑ رہے ہیں، یاد رکھنا تحریک ناکام بھی ہو گئی تو تم حکومت نہیں کر سکو گے، جب عدم اعتماد پیش ہوچکی ہے وہ کس طرح عوام میں جارہاہے وہ کس طرح ڈی چوک پر لوگوں کو بلانے کی باتیں کررہا ہے؟ اسے لگام دی جائے اس کے گلے میں پٹہ ڈالا جائے واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں نے ملکر جمع کروائی ہے،گزشتہ روز اسمبلی سیکرٹریٹ میں عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد اپوزیشن قائدین مولانا فضل الرحمان، شہبا زشریف، آصف زرداری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی بعد ازاں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں ڈی چوک میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی
وزیر دفاع پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک اور بھتیجے احمد خٹک نے جمعیت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کرلی.مولانا فضل الرحمن کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا،
لیاقت خٹک کا کہنا تھا کہ نیا پاکستان بنانے کا وعدہ کیا گیا جو پورا نہیں ہوا ، نیا پاکستان کرپشن سے بھرپور ہے، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خا ن نے ملک اور معیشت کو تبا ہ کردیا،عمران خان نے ٹرمپ سے ملاقات کے بعد آکر خوشی کا اظہار کیا عمران خان کو فارن فنڈنگ اسرائیل،امریکہ اوربھارت سے ہوئی عمران خان کا چہرہ بےنقاب ہوچکاہے عمران خان دھمکیاں مت دیں ،ہم نے کوئی چوڑیاں نہیں پہنیں ہم بھی عمران خان کا وہ حال کریں گے ،جو اشرف غنی کا ہوا،عمران خان تقاریر میں غیر مناسب زبان استعمال نہ کریں عمران خان آئیں ہم مقابلہ کرنا جاتنے ہیں ،تہمت نہ لگائیں ،حقائق سامنے لائی جائیں
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پرویز خٹک کے بھائی لیاقت خٹک کے گھر پہنچ گئے
مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ عمرا ن خان نے امریکی پالیسی پرعمل کرکے چین کو ناراض کیا عمران خان روس گئے اور جنگ چھڑ گئی ، عمران خان کے کردار پر بات نہیں کی ہم عمران خان کو لاس اینجلس سے ڈی چوک تک جانتے ہیں ریاست مدینہ کا دعویٰ کرنے والوں نے نوجوانوں کو گمراہ کیا،عمرا ن خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آچکا ہے ہم کامیاب ہوں گے اورعمران خان کو ہٹانے میں فتح ہوگی،حیران ہوں فارنگ فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن فیصلے میں تاخیرکیوں کرتاہے؟پی ٹی آئی کے اپنے لوگ ہی ہمیں عدم اعتماد کی تحریک میں کامیاب بنائیں گے عمران خان تو اب اپنے آقا پر بھی بوجھ بن گئے ہیں
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں نے ملکر جمع کروائی ہے،گزشتہ روز اسمبلی سیکرٹریٹ میں عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد اپوزیشن قائدین مولانا فضل الرحمان، شہبا زشریف، آصف زرداری نے مشترکہ پریس کانفرنس کی بعد ازاں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ میں ڈی چوک میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی
شہباز شریف، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری، قائد حزب اختلاف شہبازشریف اور مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کی ہے
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی ہے،تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ کل کیا تھا کل ہماری مشاورت ہوئی تھی پی ٹی آئی حکومت نے ملکی معیشت کابیڑہ غرق کردیا،مہنگائی اوربے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے،آج ہرشخص مہنگائی اوربے روزگاری سے تنگ ہے،حکومت نے قرضے لیکرہماری نسلوں کوگروی رکھ دیا ہے ،خارجہ محاذ پربھی موجودہ حکومت ناکام ہوچکی ہے،سی پیک کو نشانہ بنایا گیا اور سی پیک کے حوالہ سے بعض وزرا نے وزیراعظم کو کیا کہاِ؟ کیڑے نکالے،کرپشن کی باتیں کی، الزامات لگائے، سب سے بڑی پریشانی کی بات مہنگائی بے روزگاری اور بیرونی قرضے ہیں ،اپنے سیکنڈل دبا لئے، فارن فنڈنگ، مالم جبہ ،کیسز کہاں ہیں، اپوزیشن کو صرف دبایا گیا اور بے بنیاد کیسز بنائے گئے،ہم نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا، یہ پاکستان کے عوام کی آواز ہے، تحریک سپیکرکے آفس جمع ہو چکی ہے،وزیراعظم نےحالیہ تقریرکےدوران یورپی ممالک کوبھی ناراض کردیا،یہ کہنا کہ میرے خلاف بیرونی سازشیں ہو رہی ہیں سراسر غلط ہے،کیا مہنگائی بیرونی سازش کی وجہ سے ہوئی،معیشت کا بیڑا غرق ہو گیا، کیا یہ بیرونی سازش ہے، یہ احتساب نہیں بد ترین انتقام کر رہے،
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب سے انہوں نے این جی اوز کے ذریعے سے مغربی تہذیب کو پروموٹ کرنے کی کوشش کی، ہم نے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ یہ پاکستانی نہیں کسی بیرونی ایجنڈے کے تحٹ ایجنٹ ہے، ہم اپنے نظریات ،پاکستان کی اساس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، 2018 میں جو الیکشن ہوا ہے ہم نے الیکشن کے بعد ایک ہفتے کے اندر اندر ایک متفقہ موقف تیار کر لیا تھا کہ الیکشن ناجائز ہوا ہے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے اسکے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے،. پھر اسکے بعد تحریک کا آغاز ہوا، ہر جماعت کا اپنا پلیٹ فارم، الگ سوچ،یہ جمہوری دنیا میں ہوتا ہے بنیادی موقف عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ،اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، اس پر کوئی جھول نہیں دکھائی، چودہ ملین مارچ، پھر آزادی مارچ، آج پیپلز پارٹی کا آزادی مارچ یہ ایک تسلسل ہے،ہم نے حکمرانوں کا اصل چہرہ قوم کے سامنے رکھا، ہم شرمندہ نہیں، جو کہا تھا وہی سامنے آ رہا ہے، ملک انحطاط کی طرف گیا ہے،معشیت کو مضبوط کیا تو عوام آپ پر اعتماد کرے گی،ہم نے معیشت کی رہی سہی ساکھ بھی ختم کر دی، ملکی معشیت کمزور ہو چکی ہے،
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے آج تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی ہے اور ان شاء اللہ انکے دن گنے جا چکے ہیں، انکی بساط لپٹ چکی ہے،جو تم نے کرنا تھا کر لیا، بلندو بانگ دعوے، قوم،نئی نسل سے کیا کچھ کہا تھا؟ دنیا کو نئی نسل کو دھوکہ دیا تھا، ایک کروڑ نوکریوں کا کہہ کرلاکھوں لوگوں کو بے روزگار کیاگیا،ہم نے اسوقت اس گفتگو کو دھوکہ سمجھا تھا آج بچے بچے نے تسلیم کر لیا، دھوکہ دھوکہ ہوتا ہے، اداروں کا سہارا مت لو، ہم سب جانتے ہیں،تمہاری اصلیت جانتے ہیں، تمہارے ذہن کے اندر جو ہے وہ بھی جانتے ہیں، آپ ہمیں دھمکیاں اور گالیاں دے رہے ہو، جس ظرف میں جو ہو گا اسی کی بو آئے گی، انکے ظرف میں یہی کچھ ہے،ہم نے چین کو ناراض کر دیا، امریکہ کی مخالفت اگر کسی موقع پر آئی تو ہم سے بڑھ کر کون امریکہ سے اختلاف کر سکتا ہے، اختلاف رائے سیاسی جمہوری اقدار کے ساتھ ہونا چاہے، ہم ملک، آئین کے ساتھ کھڑے ہیں، جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، اداروں کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں لیکن فیصلوں سے اختلاف ہوتا ہے، ہم پاکستان کا استحکام چاہتے ہیں،قوم کے سامنے جو بات کی تھی آج وہ سچ ثابت ہوئی ہے، ہم کامیابی پر یقین رکھتے ہیں، عدم اعتماد کامیاب ہو گی، عنقریب نجات کی خوشخبری ملے گی
سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ میں خوشخبری شیئر کرتا چلوں کہ آج حامد میر بحال ہو گیا ہے،میں نے پانچ سالہ دور صدارت میں برداشت کیا ،یہ جمہوریت ہے، سب دوستوں کو دعوت دیں گے، آنے والی نسل کو آزادی دلوائیں گے اس مشن سے ،اپوزیشن نے سوچا اب نہیں توکبھی نہیں ،
ایک سوال کے جواب میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں بیٹھی ہوئی پارٹیز میں سے انکی پارٹیز کے لوگ بیزار ہیں، انہوں نے عوام میں جانا ہے کیا جواب دیںگے، عدم اعتماد کامیاب ہو گی،172سے بھی زیادہ ووٹ لیں گے،نمبرزاورنام بھی بتادوں کہ کتنے لوگ ہیں ہم نےبینظیربھٹوکے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنائی،اسحاق خان نے اسمبلی توڑدی ،اب صدرمملکت کے پاس اسمبلی توڑنے کا اختیار ہی نہیں ،قدرت اچھا چاہتی ہے تو اچھا ہوتا ہے، ہم نے بسم اللہ کی، اللہ نے ہماری سنی، ہم آپس میں بات کر رہے تھے تو الحمد للہ ہم اس پہلے ہی اس پوائنٹ پر پہنچ چکے تھے کہ عدم اعتماد لانی ہے
شہباز شریف کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ہم سب سے رابطہ کر رہے ہیں، جو بربادی ہوئی اس سفر کو ختم کر کے آگے بڑھنا ہے، ہمارا حق ہے کہ ہم ملاقاتیں کریں، سیاسی نطام میں یہ ہوتا ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں، بی اےپی کی مجھ سے بھی بات ہوئی ،زرداری صاحب سے بھی ہوئی ہے،بی اے پی سے کہا ہے کہ ہماراساتھ دیں،وزارت عظمیٰ اورآئندہ انتخابات سے متعلق متحدہ اپوزیشن کا مشترکہ فیصلہ ہوگا،
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ جس طرح آج ہم اعتماد کے ساتھ عم اعتماد کی منزل تک پہنچے ہیں، خفیہ دستاویز ہی سمجھ لیں کہ اہداف سے پہنچنے سے پہلے کوئی مباحثہ نہیں کرنا چاہتے جو سفر کو متاثر کر سکیں،ہم نے اپنے اہداف حاصل کر لئے تھے، کوئی تشدد نہیں کیا، کہا جا رہا تھا کہ تشدد والے آ رہے ہیں، کیا پندرہ لاکھ مدرسوں کے طالب علم ہوتے ہیں، بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جب رائے عامہ کو تیار کر رہے ہوتے ہیں،
قبل ازیں ن لیگی رہنما ،ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نااہل حکومت سے جان چھوڑوانے میں جنوبی پنجاب سے خان عبدالرحمن خان بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں میاں نواز شریف اور شہباز شریف نے عبدالرحمن خان کانجو کو اہم زمہ داری سونپ دی جنوبی پنجاب اہم کردار ادا کرے گے اور نا اہل حکومت سے عوام کو چھٹکارا ملے گا